Saturday, 30 January 2016

اسلام اور خانقاہی نظام،92


*اسلام اور خانقاہی نظام*
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر92)
قرب قیامت کی ایک علامت'لکڑی کے بتوں کی پرستش:اجازت پا کر جب میں اندر گیا تو وہاں قبریں ہی قبریں تهیں.جنہیں میں نے گنا تو وہ تقریبا انیس تهیں.ان قبروں میں سے بعض پر لکڑی کے بت رکهے ہوئے تهے.یہ بت بهی خواتین کے تهے .ایک بت کی ہیئت یوں تهی کہ عورت نے بچہ اٹهایا ہوا ہے....یہ منظر دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ یہ کمرہ خاص طور پر عورتوں کے مسائل کیلئے  کیوں وقف کر رکها ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ ضعیف الاعتقاد واقع ہوئی ہیں.اولاد عورتوں کی ایک بہت بڑی فطری خواہش اور کمزوری ہے .چنانچہ اس کیلئے وہ دربدر بهٹکتی پهرتی ہیں.یہاں تک کہ حصول اولاد کیلے دیگر خرافات کے ساتھ ساتھ
اگر اپنی عزت و آبرو کی نیلامی بهی کرنی پڑهے تو اس کی بهی پرواہ نہیں کرتیں .خاص طور پر یہاں عورت کے جس بت کو بچہ اٹهائے ہوئے دکهایا گیا ہے اس کا مقصد ہی عورتوں کو اولاد مہیا کرنا ہے.چنانچہ یہاں جو عورتیں آتی ہیں وہ لکڑی کے جو کهلونے یہاں پاتی ہیں ان کے ساتھ دهاگے باندهتی ہیں ، قبروں پر سجدہ ریز ہوتی ہیں ، نزریں  چڑهاتی ہیں اور گڑ گڑا کر اولاد مانگتی ہیں .....یوں بت پرستی کا یہاں خوب چلن ہے، جسے زندگی میں پہلی بار میں نے ملاحظہ کیا.یہاں ایک عورت تهی اس نے لکڑی کا کهلونا پکڑا اسے وہ اپنے جسم پر پهیرنے کے بعد اپنے بچوں کے جسم پر پهیرنے لگی....حقیقت یہ ہے کہ قبرپرستی تو بہت پیچهے رہ گئی ہے اب تو درخت کی پوجا کی ، لکڑی کی پرستش اور بتوں کی عبادت بهی اس امت میں ابتدا کر چکی ہے اور قرب قیامت کی یہ وہ علامت ہے جس سے اللہ کے رسولﷺ نے یوں با خبر فرمایا ہے:
 اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے نہ مل جایئں(ابو داود:4252)
اور ایک روایت میں یہ الفاظ بهی ہیں:
حتی کہ میری امت کے بہت سے لوگ بت پرستی اختیار کر لیں(ابن ماجہ:3952)
بت پرستی پر تقدس کا پردہ:
میں سوچ رہا تها کہ ان لوگوں نے بت پرستی پر کس قدر نام نہاد تقدس کا پردہ ڈال رکها ہے کہ عورتوں کی قبروں پر مردوں کا جانا ممنوع قرار دے رکها ہے.دربار اور خانقاہ کے اس کوچے میں عقل کا کوئی کام نہیں .وگرنہ تقدس کا یہ سوانگ رچانے والوں سے کوئی پوچهے کہ عورتیں جو ولایت کے مقام پر فائز ہیں کیا وہ مشکل کشائی مردوں کی نہیں کرتی ہیں ؟
اور یہ کہ جو آپ نے ان قبروں کو مردوں کی نگاہوں سے بهی چهپا رکها ہے تو اس میں کون سا فلسفہ کار فرما ہے ؟اگر مرد ان بیبیوں کی قبروں پر نہیں جا سکتے تو پهر عورتوں کو بهی مردوں کی قبروں پر نہیں جانا چاہیے...؟..
اگر آپ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ غیروں کی نگاہیں ان پاک بیبیوں کی قبروں پر نہ پڑیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ فوت ہوئیں تو کیا اس وقت ان کا جنازہ نہ پڑها گیا تها...کیا کفن میں ملفوف میت پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑی تهی ....چار پائی کے پیچهے پیچھے لوگ نہ چل رہے تهے....گورکن نے قبر نہ کهودی تهی اور لوگوں نے قبر پر مٹی نہ ڈالی تهی ...؟؟ مگر یہ کیا بات ہے کہ یہ سارا عمل ہوا مگر اس کے بعد محض اپنی دوکان چمکانے کیلئے ان لوگوں نے بت پرستی کا احیاء کر کے اس پر تقدس کا پردہ ڈال دیا..لا محالہ تقدس کا یہ اس قدر کڑا پردہ ان لوگوں نے اس لیے ڈالا ہے تا کہ کاروبار خوب چمکے ، وگرنہ یہ بیبیاں اللہ کے رسولﷺ کی ازواج مطہرات اور مومنوں کی ماوں سے تو بڑھ کر پاک نہیں ....! مومنوں کی وہ مائیں کہ جن کے پاک ہونے کا تزکرہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یوں کیا ہے،
ترجمہ:اللہ تعالی کو منظور یہی ہے کہ وہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور رکھ کر تمہیں خوب خوب پاک رکهے (الا حزاب:33)
اب مومنوں کی ان ماوں کی قبریں بقیع کے قبرستان میں موجود ہیں، اللہ کے رسولﷺ کی بیٹیوں اور صحابیات کی قبریں بهی وہاں موجود ہیں، یہ قبریں عام قبرستان میں ہیں ، ان پر کوئی عمارت بهی نہیں، سب مسلمان وہاں جاتے ہیں، یہ قبریں دیکهتے ہیں اور ان کے دراجات کی سر بلندی کیلئے دعائیں بهی  کرتے ہیں....اور عام حالات میں بهی جب ان صحابیات کا کوئی نام مبارک لیتا ہے تو ہر مسلمان دعا کی صورت میں ان ازواج مطہرات کیلئے ایک بہترین ہدیہ پیش کرتا ہے یعنی " رضی اللہ عنہا"کہتا ہے 'جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی ان سیدہ صحابیات سے راضی ہو ان پر اپنی رحمت خاص کرے ان کے دراجات کو بلند کرے اور ان کو جنت میں اعلی مقام و مرتبہ عطا کرے....دوسری طرف ان درباروں پر دفن بیبیاں (نعوذ باللہ)
نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور صحابیات سے بهی بڑھ کر ہیں کہ ان کی قبروں پر غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے ....نہیں نہیں!!.....ایسی کوئی بات نہیں 'حقیقت تو یہ ہے کہ روحانیت کے نام پر یہ ایک درباری اور خانقاہی کاروبار ہے جس کا مقصد کاروبار کو چمکانا ہے چاہے وہ جس طرح بهی چمکے......
ایسا ہی کاروبار ضلع شیخوپورہ کے معروف قصبہ خانقاہ ڈوگراں میں بهی ہو رہا ہے .یہاں حاجی دیوان کی خانقاہ ہے اور اس خانقاہ کے نام سے ہی اس شہر کا نام خانقاہ ڈوگراں مشہور ہو گیا ہے.یہاں حاجی دیوان کی بیٹیوں کی قبروں پر عمارتیں بنائی گئی ہیں.جو بالکل بند ہیں.ان کے بارے معروف ہے کہ ساری عمر ان بیبیوں کا نکاح نہیں ہوا.انہیں کسی نے دیکها نہیں اور اسی حالت میں یہاں مر گئی ہیں.اب ان قصوں کی بنا پر خوب پوجا اور عوام کا استحصال ہو رہا ہے....
جاری ہے...

اسلام اور خانقاہی نظام،91


⁠⁠⁠⁠⁠*اسلام اور خانقاہی نظام*
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر 91)
یہودی عقیدہ سے مشابہت تالاب اور بیری کا درخت:دربار کے سامنے ہم نے ایک تالاب دیکها! اس تالاب میں پانی پر نوٹ تیر رہے تهے،اس تالاب کے ارد گرد جنگلا تها.اس جنگلے کے ساتھ بے شمار دهاگے بندهے ہوئے تهے.لوگ اپنی حاجات لے کر یہاں  آتے  ہیں   اور آتے ہی دهاگہ باندهتے ہیں ، پیسے تالاب میں پهنکتے ہیں  اور جب ان کی حاجات پوری ہو جاتی ہیں تو دوبارہ یہاں آ کر دھاگہ کهول دیتے ہیں .اور پیسے اس تالاب میں پهینک جاتے ہیں اور اس تالاب کا پانی بطور شفاء پیا جاتا ہے.کئی لوگ اس پانی کو بوتلوں میں بهر کر بهی لے جاتے ہیں.اسی طرح دربار کے پیچھے بیری کا ایک درخت ہے، اس درخت کے نیچے مرد اور عورتیں جهولیاں اور دامن پهیلا کر بیٹھے  ہوتے ہیں ، جس کی جهولی میں پتا گر جائے وہ سمجهتا ہے مجهے بیٹی مل گئی ، جس کے دامن میں پهل لگنے کے موسم میں بیر گر گیا وہ سمجهتا ہے لڑکا مل گیا.لوگ یہاں اس مقصد کیلئے ساری ساری رات اور دن بهر بیٹھے  رہتے ہیں .ایک شخص جو یہاں اپنا دامن پهیلا کربیٹھا  تها' نہ جانے وہ کب سےبیٹھا تها.دامن جهاڑ کر اٹھ بیٹھا میں نے پوچها-! کچھ ملا کہ نہیں ؟ کہنے لگا ابهی تو کچھ  نہیں ملا .....اور پهر وہ اداس اور مرجهائے ہوئے چہرے کےساتھ سلطان باہو کی قبر کی طرف چل دیا .اب وہاں روئے گا فریاد کرے گااور پهر یہاں آ کر بیٹھ جائے گا .....بیری کے اس درخت پر بهی دهاگے بندھے ہوئے تهے.تو جس کے دامن میں کچھ نہ گرے وہ آخر کار یہاں دهاگہ باندھ کر چلا جاتا ہے.اس امید پر کوئی بیٹا یا بیٹی ہی مل جائے......غرض میں بیری کے درخت کی پوجا کے مناظر دیکھ رہا تها اور مغموم ہو رہا تها کہ یہ قوم تو یہود کے نقشے قدم پر چل نکلی ہے....مجهے جنگ حنین کے دوران پیش آنے والا واقعہ یاد آ گیا وہ واقعہ کیا تها اور سلطان باهو کے دربار پر اس درخت کے واقعہ کے ساتھ مشابہت اور مناسبت کس طرح ہے...؟ یہ اللہ کے رسولﷺ کی زبان مبارک سے سنیے-! حضرت ابو واقرلیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم جنگ حنین کے موقع پر مقام حنین کی طرف جا رہے تهے اور ہمارا کفر کا زمانہ ابهی نیا نیا گزرا تها کہ راستے میں ایک جگہ پر بیری کا درخت آیا جسے' ذات انواط '(یعنی تلواریں یا دهاگے وغیرہ لٹکانے کی جگہ )کہا جاتا تها .مشرک لوگ اس درخت کے پاس بیٹھنا  باعث برکت خیال کرتے تهے اور اپنا اسلحہ بهی وہاں لٹکایا کرتے تهے .چنانچہ ہم نے آپ سے عرض کی:اے اللہ کے رسولﷺ-! جیسے ان مشرکوں کیلئے ذات انواط ہے.آپؐ ہمارے لئے بهی ایک  ذات انواط مقرر کر دیجئے-!یہ سن کر اللہ کے رسولﷺ نے اللہ اکبر کہا....اور فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم بالکل وہی بات کہہ رہے ہو جو یہودیوں نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہی تهی کہ اے موسیٰؑ ! ہمارے لئے بهی کوئی ایسا کرنی والا ، مشکل کشا بنا دیجئیے جیسے ان لوگوں کے ہیں.اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم بهی اگلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے.(ترمذی:2180.مسند احمد5/ 218)قارئیں کرام! غور فرمایے! یہ بیری کا درخت اور اس پر دهاگوں وغیرہ کا باندھنا.اسے متبرک خیال کرنا، وہاں سے امیدیں لگانا، یہ یہودیوں کا چلن ہے اور مشرکوں کا لچهن ہے.جو اللہ کےرسول ﷺکے مخالف تهے اور ان میں سے جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تهے انهوں نے اپنے سابقہ چلن اور اسلام سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسا مطالبہ کیا تها.مگر غور کیجئیے ! کس سختی کے ساتھ اللہ کے رسولﷺ نے انهیں ایسا سوال کرنے سے منع کر دیا اور پهر پیش گوئی بهی کر دی کہ اس امت کے لوگ بهی پہلی امتوں یعنی یہودیوں 'عیسائیوں کے لچهن اختیار کریں گے....سو آج وہ لچهن میں اپنی آنکهوں سے   اس دربار پر دیکھ رہا ہوں.
خبر دار ! اندر جانامنع ہے....یہاں پاک بیبیاں ہیں!!
بیری کے اس درخت کے سائے میں گدی نشین خاندان کی اور بهی بہت سی قبریں ہیں .جن کی پوجا ہو رہی تهی .ان قبروں کے ساتھ ایک برآمدہ ہے 'میں اس میں چلا گیا .اس برآمدے میں ایک دروازہ تها ، جس کے سامنے پردہ لٹک رہا تها.میں اس پردے کو سرکا کر اندر داخل ہونے لگا تو اس دروازے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے بلند آواز سے مجهے کہا 'خبر دار! اندر جانا منع ہے ، یہاں پاک بیبیاں ہیں ....میں فورا ًپردے کو چهوڑ کر بزرگ کے پاس بیٹھ گیا اور اس سے پوچها ! کیا اندر کوئی پردہ دار خواتین ہیں ..؟ تو وہ کہنے لگا :اندر پاک بیبیوں کے مزارات ہیں .وہاں صرف عورتیں ہی جا سکتی ہیں . مرد نہیں جا سکتے .میں نے اس بزرگ سے کہا :بابا جی ! میں لاہور سے یہاں حاضر ہوا ہوں،ایک رسالے  کا ایڈیٹر ہوں  اور اس مزار کے بارے میں معلومات اس  رسالے میں لکھنا  چاہتا ہوں،چنانچہ با با نے اندر جانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔
جاری ہے 

اسلام اور خانقاہی نظام,90



*اسلام  اور خانقاہی  نظام *
(گزشتہ سے پیوستہ قسط نمبر90)
سلطان باہو:
ضلع جھنگ کے شہر شور کوٹ میں سلطان باہو کا مشہور دربار ہے،ان کے مریدوں کا عقیدہ ہے کہ حق باہو کا نام ہی لے لیں 'بس فوری جنت مل جاتی ہے،اور یہ کہ اللہ تعالی تو لوگوں کو بخشنے کیلئے حق باہو (کا مرید اور ان سے نسبت والا ہونے)کا بہانہ ڈهونڈتا ہے .....چنانچہ میں  (امیر حمزہ) نے اس دربار کو بهی دیکهنے کا پروگرام بنا لیا.اور یہاں کی معلومات کیلئے شاہ کوٹ شہر سے محمد ارشد صاحب کو اپنے ہمراہ لیا-ارشد صاحب آبائی طور پر گدی کے مرید رہے ہیں اور وہ سالہا سال تک یہاں حاضری دیتے رہے ہیں -پهر اللہ نے انهیں توفیق دی اور توحید کی نعمت سے ان کے دامن کو بهر دیا-ہم کل چار ساتهی تهے -رات شور کوٹ میں گزارنے کے بعد صبح ہم تهانا گڑھ مہارجا کے راستے اس دربار پر پہنچے-
اس دربار پر محرم کے پہلے دس دن عرس لگتا ہے ملک بهر سے لاکهوں لوگ یہاں شرکت کرتے ہیں-وہ یہاں کیا کرنے آتے ہیں اس کی ادنی سی جهلک ہم آپ کو دکهائے دیتے ہیں.....محض اس لیے کہ جنهیں اللہ تعالی نے توحید جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے ،اللہ کی محبت میں ان کی غیرت جاگے کہ پاکستان میں بول و براز ' ننگ درنگ اور نہایت ہی کمزور مخلوق کے خاکی مجسمے کس طرح اللہ تعالی کے مد مقابل بن کر اپنے آپ کی پوجا کروا رہے ہیں.اور سادہ لوح عوام جاہلوں کی طرح اس فانی عاجز مخلوق کی پوجا کرنے میں مگن ہیں،اور اللہ تعالی کا بے پنہا اور خصوصی شکر بجا لائیں وہ مبارک لوگ  جن کو اللہ تعالی نے توحید کی عظیم و جلیل نعمت کی سعادت جاویدسے نوازا ہے......
مزاروں اور آستانوں پر دین کے نام پر ہونے والے یہ خرافاتی  مناظر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل توحید محض روایتی طریقوں کو ہی نہ اپنائے رہیں بلکہ قرآن کی دعوت کے اس انقلابی طریق کار کو بهی اپنائیں کہ جس سے اللہ کی یہ مخلوق زندہ اور مردہ بندوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے اپنے پیدا کرنے والے پروردگار 'احسن الخالقین کے حضور سر جکائیں-اور وہ لوگ بهی جان جائیں جو ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو چهوڑ کر  بے بس مخلوق کے در پر جهکتے ہیں.
دربارکے ارد گرد:جیسا کہ دیگر درباروں کے باہر بازار لگے ہوتے ہیں ایسے ہی اس دربار کے باہر بھی بازار لگاہواتھا ۔جہاں نذریں چڑھانے کیلئے چادریں ،ہاتھوں میں پہننے کیلئے کڑے ،برکت کیلئے سجادد نشینوں کی تصویریں ،پمفلٹ،کھانے پینے   اورخریدنے کیلئے دیگر اشیاء موجود  تھیں ، ایک پمفلٹ خرید کر ہم آگے چل دیے ،یہاں ایک کنواں ہے جس پر ٹیوب ویل لگا یا جا  رہا تھا اور نہانے کی جگہ بنی ہوئی تھی جو پرانے غسل خانوں پر مشتمل تھی،اس کنویں کو 'حضوری کھوئی'کہا جاتا ہے۔لوگ یہاں اس نیت سے نہاتے ہیں کہ یہاں نہانے سے دنیا کے سب دکھ درد دُور ہو جاتے  ہیں ۔ذرا آگے چلے تو ارشد صاحب بتلانے لگے ۔کہ یہ جو مکانا ت ہیں ،یہاں زائرین ٹھہرتے ہیں ۔ہم بھی یہاں کئی کئی ہفتے ٹھہرا کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ایک مزار ہے جس کا نام 'بابا پیر جمے شاہ 'ہے۔اس  کے بارے میں مشہور ہے کہ آندھیاں اسی کے حکم سے چلتی ہیں ۔اس کے بعد ایک قبرستان  ہے جہاں ایک جگہ چار  چارپانچ پانچ من کے وزنی پھتر پڑے ہیں ۔ان پَھتروں کے بارے مشہور ہے کہ حضرت سلطان باہوصاحب بچپن میں ان پھتروں سے فٹ بال کا کھیل کھیلتے تھے اور اوپر پھینک کر کیچ بھی کیا کرتے تھے!یہ کچھ بیرونی مناظر دیکھنے کے بعد ہم دربار کے بیرونی مرکزی دروازے پر آپہنچے۔
گستاخ دروازہ:اس دروازے کے ارد گرد سنگ مر مر پر بہت کچھ لکھا ہوا تھا،مگر اس کے اوپر تین ناموں کو جس ترتیب کے ساتھ لکھا گیا تھا اس میں گستاخی کا ایسا گھٹیا انداز تھا کہ اسے وہی شخص محسوس کر سکتا جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ سچی محبت ہو اور اللہ کے رسول ﷺکی مبارک زندگی کا طرز عمل ہر وقت اس کا رہنما ہو ۔۔۔تو اس دروازے پر ایک لائن میں دائیں طرف 'حق باہو'لکھا ہوا تھا ،اس کے بعد یعنی درمیان میں 'یا اللہ 'اور آخر پر بائیں طرف 'یا محمد 'لکھا ہوا تھا ،،،اس گستاخی کو دیکھ کر آپ ﷺکے نامہ مبارک کا وہ نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا جس کا مضمون بخاری شریف کتاب بدءالوحی الیٰ رسول ﷺ میں موجود ہے۔یہ خط آج اصل شکل میں بھی موجود ہے اور اس کی نقلیں گھر گھر موجود ہیں،اس خط پر جو اللہ کے رسول ﷺنے شاہ روم ہر قل کو لکھا تھا۔اسے اسلام کی دعوت دی تھی،تو اس کے آخر پر آپﷺ نے جو مُہر لگائی تھی تو وہ مہر اسی ترتیب کے ساتھ آج بھی اس خط پر موجود ہے،اسی طرح سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سنت کی پیروی کرتے ہوئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو جو دستاویز لکھ کر دی تو اس میں بھی یہی انداز تھا ،ترتیب اس طرح ہے:انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی (تو مجھے بحرین کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا )اور ایک دستاویز لکھ کر دی اور اس  پر مہر ثبت کی۔مُہر میں تین سطریں نقش تھیں ۔ایک سطر میں لفظ 'محمد 'دوسری میں سطر میں لفظ'رسول ' اور تیسری سطر میں لفظ'اللہ'(کا نقش تھا)(بخاری:5878)یعنی' محمد رسول اللہ 'لکھتے وقت سب سے اوپر 'اللہ 'کا عالی نام ہے ،اس کے نیچے مقام رسالت یعنی 'رسول 'کا مبارک لفظ ہے اور اس سے نیچے یعنی آخر میں آپ ﷺکا اپنا اسم گرامی 'محمد 'ہے،یہ نقشہ اس طرح ہے:اللہ ۔رسول ۔محمد ،کیسا با ادب انداز ہے یہ حقیقت کا آئینہ دار طرز عمل ہے یہ کہ جسے  رسول اللہ ﷺ نے اپنایا اور اپنی امت کو اللہ کی عظمت کا سبق سکھلایا،مگر ۔۔۔۔۔آہ!اس درباری دروازے پر ایک امتی کا نام دائیں طرف اور اس کے بائیں طرف خاتم المرسلین کا نام لکھ دیا گیا ۔اور اس دروازے سے لوگوں نے ایسے ایسے عجیب وغریب اور توحید شکن عقائد وابستہ کر رکھے ہیں کہ جسے ایک موحد پڑھ کر کانپ جا ئے ،
گستاخ دروازے پت تثلیثی فلسفہ:توحید کا عقیدہ بالکل سادہ ہے ،جس کے مطابق نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے،مگر یہ صاف سادہ اور بالکل صحیح    عقیدہ اس وقت لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے،جب وہ اپنے عقیدے اور مذہب کو ایک فلسفہ بنا لیتے ہیں ۔عیسائیوں نے ایسا ہی کیا ،انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہا ،اب بیٹا باپ کے جسم کا حصہ ہوتا ہے ،وہ باپ کی نسل سے ہوتا اور اس میں باپ کی خصوصیت موجود ہوتی ہیں ۔چنانچہ بیٹا بھی رب بن گیا ،اب عیسیٰ ؑکی ماں حضرت مریم ؑرہ گئی تھیں ،سوال پیدا ہواہے کہ آخر سیدنا عیسیٰ ؑ  جنھیں اللہ وحدہ لا شریک لہ کا بیٹا بنایا گیا ہے،انھوں نے جنم لیا تو حضرت مریم ؑ کے بطن ہی سے لیا ہے تو حضرت مریم ؑ کا کیا مقام ٹھہرا ؟چنانچہ عیسائیوں نے انھیں بھی اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں حصہ دار بنا دیا اور یوں انھوں نے تین رب بنا ڈالے ۔مگر تین کہنے کے باوجود وہ یہ بھی کہتے تھے کہ رب ایک ہے اور یہ کہ ایک میں تین ہیں اور تین میں ایک۔۔۔۔اب فلسفہ کسی کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا ،اسے تو خود بنانے والے سمجھنے سے قاصر ہیں ،کسی کو  وہ کیا سمجھائیں گے ،چنانچہ ایسا ہی فلسفہ اس دربار کے گستاخانہ دروازے پر دکھائی دیا،ملاحظہ فرمایے !
 "ھو                 ھو                               الحق                         ھو.....یا                                   باھو                     حق .....حق                                 ھو                          اللہ                             ھو "
اب 'ھو 'کی تکرار پر مشتمل فلسفے کو سمجھنے کیلئے میں نے اس کتاب کو کھو لا جس کا نام 'سوانح  حیات حضرت سخی سلطان باھو 'ہے،اور اسی دربار سے میں نے اسے خریدا،اس کتاب کے باب دوم کی فصل اول میں لفظ 'باھو'کی تشریح یوں مرقوم ہے:لفظ باھو کے معنی (ساتھ اللہ جل  شانہ کے)جو آپ اول ،آخر،ظاہر،باطن ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہیں ۔یہاں حضرت کا نام اس طرح تحریر کیا گیا ہے:'حضرت شیخ سلطان باھو فنا فی اللہ  بقا فی ہو  '
یعنی یہ حضرت نہ صرف یہ کہ اول و آخر اللہ  کے ساتھ ہیں بلکہ یہ اللہ ہی میں فنا ہو گئے ہیں  اور اللہ ہی وہ باقی  ہیں ۔۔۔تو جب وہ اللہ ہی میں مل گئے تو پھر وہ اللہ ہی ھو گئے،
(نعوذ باللہ )
عیسائیوں  نے اللہ کے پیغمبر عیسیٰ ؑکو اللہ میں شامل کرنے  کا شرکیہ فلسفہ گھڑا تو اللہ  نے قرآن میں ان کے اس فعل کو کفر کہا!اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ ،ترجمہ ،یقیناًلوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں ایک ہے ،حالانکہ ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے(المائدہ :73)یعنی  جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ ؑ کو اللہ میں داخل کیا اسی طرح سلطان باھو کو بھی' ھو ھو '  کی تکرار کے ساتھ اللہ میں داخل کر دیا گیا ۔'حق باھو سچ باھو 'کے نعروں کے ساتھ سلطان باھو کو اپنا معبود ماننے میں بھی کوئی شک نہیں چھوڑا ،حتیٰ کہ جس طرح کم و بیش اللہ کے نناوے (99)نام ہیں ،اسی   طرح  سلطان باھو کے نناوے نام گنوائے  گئے  ہیں ،پھر جس طرح رب تعالیٰ کا ذاتی نام 'اللہ'ہے ،اسی طرح حضرت سلطان  کا  ذاتی نام 'باھو'بتلایا گیا ہے،اور اس سے  بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ آپ کا صفاتی نام 'حق'ہے۔پھر سوانح حیات حضرت سخی سلطان  باھو  ہی کے صفحہ پچیس   پر یوں لکھا ہوا ہے:(ان دونوں  ناموں ) کو ملا کر 'حق  باھو 'بلند آواز سے پڑھنے کا وظیفہ بھی   نہایت مجرب  ہے ،جو ایک دو نہیں لاکھوں طالبوں کا آزمایا ہوا ہے،
اب اللہ کا فرمان ملاحظہ کیجئے کہ' حق ھو 'کو ن ہے؟
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّهَ هُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيْرُ ،ترجمہ:حقیقت یہ ہے کہ 'حق ھو'اللہ ہی ہے اور وہ سب باطل ہیں  جنھیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور بے شک اللہ ہی کبریائی اور بڑائی والا ہے(الحج:62)غرض یہ دروازہ تو گستاخ تھا ہی مگر جب ہم نے اس کی ڈیوڑی(برآمدہ)میں قدم رکھا  تو وہ دروازے سے کہیں بڑھ کر گستاخ دکھائی دی۔وہاں گستاخیاں  تو بہت ساری تھیں مگر ایک گستاخی  ایسی تھی کہ جس کے سامنے باقی سب گستاخیاں ہیچ تھیں ۔وہ ایک شعر کی شکل میں کچھ یوں تھی!' ہم غریبوں کے لیے وہ تھے پناہ دو جہاں ۔اس جہاں میں اب ہمارا آسرا کوئی نہیں '
یہ شعر کہ جس میں اللہ مالک الملک کی مکمل طور پر نفی کر دی گئی ہے،یہ معبود سجادہ نشین کے بڑے بھائی سلطان کے بارے  میں ہے جو اپنی سجادہ نشینی کے دن پورے کر کے درباری زبان میں پردہ فرماچکے ہیں اور قرآنی زبان میں مر گیا ہے،
جاری ہے ۔۔۔۔۔

اسلام اور خانقاہی نظام,89


*اسلام اور خانقاہی نظام*
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر89)
۔مائی جو گوٹھ :یہ ایک مختصر سی آبادی پر مشتمل ایک گائوں ہے۔ اس کے نام کی وجہ ایک مائی ہے جو منتیں مانگنے والوں کو دھاگوں پر پھونک کر انہیں گنڈے دیا کرتی تھی تاکہ انکی مرادیں پوری ہو جائیں۔حالانکہ یہ سادہ لوح سیاح یہ نہیں سوچتے کہ اس مائی نے اپنی غریبی اور لا چاری  دور کرنے کے لئے کوئی گنڈا کیوں نہیں بنالیا۔
اور اب اندهیرا چها رہا تها اور اب خوف کا ماحول بن رہا تها دور دور تک کوئی روشنی بهی نظر نہیں آ رہی تهی .....  شاید اسی خوف کی بنا پرماضی اور حال کے لوگ شرک کی جانب مائل ہوئے۔ انہوں نے بزرگوں، روحوں، قبروں اور دیگر پر اسرار چیزوں کو طاقت کا منبع سمجھا اور ان کو خوش کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ اندیکھی ارواح انہیں ان جانے خطرات سے محفوظ کرسکیں۔ چونکہ اللہ کا وجود نظروں سے اوجھل تھا لہٰذا لوگ اس مفروضے پر مبنی دیومالا میں الجھ کر رہ گئے ۔ حالانکہ اللہ ان کی رگ جاں سے بھی زیادہ قریب تھا اور وہ اگر اس کو پکارتے تو اپنی مرادیں پالیتے۔ بہرحال میں نے تو تنہا رب ہی کو پکارا کہ مجھے اس خوف سے نجات دے اور اس نے  میری مدد کی۔ اور وہ وقت بھی کٹ گیا یہاں تک کہ صبح ہوئی اور جان میں جان آئی۔
لاہوت لامکاں“لاہوت لامکاں “ہماری اگلی منزل تھی۔لاہوت لامکاں تصوف کی ایک مشہور اصطلاح ہے جس کا مطلب اس مادی دنیا سے ماورا ایک ایسی روحانی دنیا ہے جہاں وقت اور مکان نہیں ہوتا ۔لیکن بہرحال نورانی میں یہ ایک بڑےسے غار کا نام ہے جہاں مقامی لوگوں کی کئی زیارتیں ہیں جو انکی روایات کے مطابق نورانی بابا اور دیگر بزرگوں سے منسوب ہیں۔اور ان تمام مقامات پر شرک و خرافات عام ہیں...
 ۔جب ہم ایک بڑهی سی غار میں داخل ہوئے تو دیکھا وہاں ڈھلان میں ایک طویل اور تنگ سی سرنگ تھی جو غار سے باہر جانے کا متبادل راستہ تھا۔سرنگ کی تنگی کی بنا پر اس میں سے ایک آدمی بھی بمشکل نکل پاتا۔اس کے بارے میں بھی یہ روایت مشہور تھی کہ جو کوئی اس میں داخل ہو اور نکل جائے تو وہ اپنے ماں باپ کی جائز اولاد ہے اور اگر کوئی پھنس جائے تو وہ ناجائز اولاد  ہے۔سب سے دلچسپ چیز ایک چھوٹا سا پتھر کا ٹیلا تھا ۔ اس کو دیکھ کر یوں لگتا گویا کہ کوئی اونٹ بیٹھا ہو۔ اس کا اگلا حصہ اونٹ کے منہ سے مشابہ تھا جس پر اصلی اونٹ کی کی طرح کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔اس کا پچھلا حصہ ایک بیٹھے ہوئے اونٹ کے دھڑ سے ملتا جلتا تھا ۔ لوگو ں کی روایت کے مطابق یہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی تھی جو پتھر کی بن گئی تھی۔ لیکن کسی نے یہ نہ سوچا کہ کہ حضرت صالح علیہ السلام تو عرب کے علاقے میں تھے وہ اور انکی اونٹنی یہاں کس طرح آ گئی۔شاید وہاں موجود لوگوں کو اس قسم کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بلکہ ان میں سے کوئی  چراغ کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور کوئی اونٹنی کے سامنے عجز کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ یہ سب کچھ روایات پر مبنی تھا۔ لیکن کسی کو جاننے کی فرصت نہ تھی کہ حقیقت تک پہنچ جائے اور دیکھے کہ وہ درست کر رہا ہے یا غلط۔ ۔اس غلطی میں شاید  ان پڑھ لوگوں کا اتنا قصور نہ تھا جتنا مذہبی طبقے اور مصلحین کا تھا۔ ان راہنمائوں کی مجرمانہ خاموشی اور اصلاح میں غفلت کی بنا پر معاملات اس نہج تک پہنچ گئے تھے۔ماضی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قریش کا یہی استدلال تھا کہ ہم ان صدیوں سے رائج رسوم و رواج اور شرک کی علامات کو کیسے چھوڑ دیں جبکہ ہم نے ان پر اپنے آبا و اجداد کو ان پر چلتے ہوئے پایا ہے۔ان سے پوچھا جاتا کہ اگر آبا و اجداد اور بڑے بزرگان غلط تھے تب بھی کیا باطل کی پیروی کی جائے گی؟۔ تو اس بات کا جواب ان کے پاس کچھ نہ ہوتا سوائے ہٹ دھرمی کے۔ آج ہمارے مذہبی حلقوں میں بھی یہ آبا پرستی پوری طرح سرایت کر گئی ہے۔ آج رسم و رواج کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے دین کو بدعات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اس کی دلیل یہی دی جاتی ہے کہ اگر یہ کام غلط تھا تو فلاں بزرگ نے کیوں کیا؟۔غار میں ایک مقام پر صفیں بچھی ہوئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے لیکن کسی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور لوگ اس کونے میں رش لگا کر کھڑے تھے جہاں نورانی بابا نے چلہ کاٹا تھا۔ یعنی اللہ سے زیادہ اللہ کے بندے کی اہمیت ہو گئی تھی۔ قریش کے لوگ بھی جب اپنی کھیتی یا گوشت نذر کرتے تھے تو کچھ حصہ اپنے شرکا اور کچھ حصہ اللہ کے لئے نکالتے تھے۔ اگر تولتے وقت اس میں سے کچھ نیچے گر جاتا تو وہ کسی کا بھی ہو، اسے شریکوں کے حصے میں شامل کردیا جاتا تھا ۔ یعنی اللہ پس پشت اور اس کے فرضی شرکا ء زیادہ اہم ہوگئے تھے۔
اب لوگوں کی تعداد میں  آہستہ آہستہ اضافے کی بنا پر گھٹن بڑھ رہی تھی۔اور اب ہم نے واپس   آنے کیلئے سفر شروع کیا واپسی کا سفر بهی کافی دشوار تها البتہ لوگوں کے مسلسل چلنے کی وجہ سے زمین پر مخصوص نشان بنے ہوئے تهے. چنانچہ لوگ انہی نقش قدم پر چلتے ہوئے  اپنی منزل تک پہنچنے میں رواں دواں تهے ۔ زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر آپ پیغمبروں کے نقش قدم پر چلیں گے تو منزل تک پہنچ جائیں گے جبکہ ابلیس کی شاہراہیں جہنم کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔
بہرحال کافی مشکل اور تهکان کے ساتھ ہم  بسوں کے اڈے تک پہنچ گئے۔شام پانچ بجے روانہ ہونا تھا اور اس وقت ڈھائی بج رہے تھے۔ہم نے نماز پڑھی۔ واپسی کا سفر کچھ اچھا نہ تھا کیونکہ تھکان بہت زیادہ تھی۔ اسی لئے وہ مناظر جو آتے ہوئے دل کو بھا رہے تھے جاتے وقت اچھے نہیں لگ رہے تهے۔ وقت وقت کی بات ہے کبھی آدمی کسی چیز پر فدا ہوتا ہے لیکن بعد کے حالات اس کی دلچسپی کو ختم کر دیتے ہیں۔ہم نے اس رب کا شکر ادا کیا جس نے ہمیں خیریت کے ساتھ یہ سفر اور ایڈوینچر طے کروایا۔ اللہ کا بے پایاں شکر ہے کوئی رسمی شکریہ نہیں بلکہ یہ اپنی کمزوری، کم علمی اور بے بسی کا درست ادراک ہے اس ہستی کے سامنے جو طاقت کی مالک ہے، جو علم کا منبع ہے ، جو سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ اسکی مدد نہ ہوتی تو ہم وہیں پہاڑیوں میں بھٹکتے ہوئے فنا ہو جاتے، پہاڑوں سے پھسل کر ہڈیاں تڑوا لیتے۔ وہ اللہ ہی ہے جو تمام تعریفوں کے لائق ہے کیونکہ ہر بھلائی اور اچھائی اسی کی جانب سے ہے۔سبحان اللہ و الحمد للہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر......
جاری ہے....

اسلام اور خانقاہی نظام,88


*اسلام اور خانقاہی نظام*
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر88)
محبت فقیر:
نماز پڑھنے کے کے لئے ایک مسجد تلاش کی جو ویران پڑی ہوئی تھی۔ مسجد سے کچھ فاصلے پر محبت فقیر صاحب کا مزار تھا۔ یہ صاحب مشہور روایات کے مطابق نورانی بابا کے خاص مرید اور خادم تھے۔اور آپ بابا کے پاس آنے والے زائرین کی خاص خدمت کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کا مزار زائرین کے لئے پہلی سلامی کا مقام سمجھا جاتا ہے۔رات گذارنے کے لئے ایک ہوٹل کا قصد کیا ۔وہاں ہوٹل کی چھت چھپراور فرش چٹائیوں کا بنا ہو تھا اور ان ہوٹلوں کا معمولی سا کرایہ تها۔ بہر حال سامان رکھ کر ہم چاروں دوست باہر چہل قدمی کیلئے نکلے۔ اور چہل قدمی کے بعد ہم واپس اپنے ہوٹل میں آئے تو کچھ حضرات تاش کی بازی جمائے بیٹھے تهے تو کچھ گپ شپ میں مصروف تهے..۔رات کافی ہو چکی تهی ہم سو گئے اور جب صبح آنکھ کھلی تو دنیا بدل چکی تھی۔ارد د گرد عظیم الشان پہاڑ ، دیو ہیکل دراڑیں، ایستادہ پتھر اور غاریں خدا کی صناعی کا اظہار کر رہی تھیں۔یہ سب مل کر اس ماحول میں بھی اپنے رب کی پاکی بیان کر رہے تھے کہ اللہ پاک ہے اس بات سے کہ کوئی اس کا شریک ہو، ساجھی ہو، مددگار ہو۔
اور مقامی لوگوں کو بھی اجالے میں دیکھنے کا اتفاق ہوا ..
حضرت نورانی شاہ کا مزارمحبت فقیر کے ڈیرے سے اگلی منزل نورانی شاہ بابا کا مزار تھا۔ مزار تک پہنچنے کے کئی طریقے تھے ۔ایک اونٹ کی سواری، دوسر جیپ کی سواری اور تیسرا پیدل مارچ۔ ۔ بہرحال ہم سب اپنی دانست میں جوان ہی تھے لہٰذا پیدل ہی کا قصد کیا۔قریب ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ایک جگہ پہنچے جو “علی کا قدم ” کے نام سے مشہور ہے۔یہاں ایک بڑا سا قدم بنا ہے جسکے بارے میں مشہور ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔کچھ اور آگے بڑھے تو ایک درگاہ نما جگہ پر بڑا سا پتھر رکھا دیکھا جس میں شگاف تھا۔ دریافت کرنے پر لوگوں نے بتایا کہ نورانی بابا نے اس پتھر پر اپنی مسواک ماری تھی جس کی وجہ سے یہ ٹوٹ گیا۔یہ سب سن کر شاہنواز نے کہا ” زمانہ قدیم سے لے کر آج تک بگڑے ہوئے مذہبی لوگوں نے عوام کو انہی مافوق الفطرت داستانوں سے بے وقوف بنایا اور ان کا استحصال کیا ہے”۔ایک چشمہ بھی راستے میں آیا لیکن اس کا پانی کثرت استعمال کی بنا پر گدلا ہو چکا تھا۔ اس سے علم ہوا کہ محض عقیدت سے کام نہیں چلتا، دنیا میں ترقی کیلئے  مادی قوانین کو بروئے کار لانا لازم ہے۔ بالآخر مزار آ ہی گیا۔ مزار چاروں اطراف پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔اسکے دروازے کے باہر بڑی تعداد میں پھول اور چادر بیچنے والوں کی دوکانیں تهیں۔ اس مزار کا منظر کچھ یوں ہے کہ اردگرد صوفیانہ کلام گانے والے بیٹھے ہیں۔ ایک جگہ دھمال کے لئے مختص کر دی گئی ہے۔ستار پر ایک لوک دھن سنائی جارہی ہے ۔ کچھ ہی دور ایک ملنگ اپنے ہاتھ میں رسی باندھ کر بیٹھا خلائوں میں گھور رہا ہے۔یہ رسی اس بات کی علامت ہے کہ وہ نورانی بابا کا غلام ہے۔بہر حال میں اور سلمان مزار کے اندر داخل ہوئے۔ قبر ایک سبز رنگ کی چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور اسکے سرہانے پر ایک تاج موجود تھا جبکہ کتبے پر ایک براون رنگ کا عمامہ باندھ دیا گیا تھا۔ اندر کا منظر عام مزاروں جیسا ہی تھا۔ کچھ عورتیں جالیوں سے لپٹی رو رہی تھیں۔قبر کے ارد گرد چند مرد زائرین قبر کو بوسہ دے رہے تھے۔اور کچھ لوگ گم سم کهڑے تهےاور کچھ دعاوں میں محو تهے....
 پریوں کا تالاب :
مزار سے اگلی منزل کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارا اگلا پڑائو “لاہوت لامکاں “تھا لیکن اس سے پہلےابھی کئی طلسماتی کہانیوں سے گذرنا تھا۔انہی میں سے ایک داستان پریوں کا تالاب تھا جہاں ہم ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد پہنچ چکے تھے۔چاروں طرف پہاڑوں میں گھری ایک چھوٹی سی وادی تھی جس کے بیچوں بیچ ایک چشمہ ابل رہا تھا۔پانی نسبتا شفاف تھا۔اردگرد تھوڑا بہت سبزہ بھی تھا جس سے تالاب کافی خوبصورت معلوم ہونے ہی والا تھا کہ اچانک پریوں کے تالاب پر ایک شریر جن کی کارستانی نظر آئی جو یہاں پر غلاظت ڈال کر فرار ہوگیا تھا۔سامنے پہاڑ پر قریب پندرہ فٹ کی بلندی پر ایک غار دکھائی دیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ لطیف جی کی کھوئی کے نام سے مشہور ہے اور روایات کے مطابق شاہ عبدالطیف بھٹائی نے یہاں بیٹھ کر چلہ کشی کی تھی۔ سلمان ، سیماب اور شاہنواز نے اس غار میں داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ پہلے شاہنواز اوپر چڑھا اور اندر کچھ پتھر پھینکے تاکہ کوئی جانور اندر ہو تو وہ باہر آ جائے ۔جب کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا تو وہ اندر داخل ہو گیا۔ اسی کی تقلید میں دیگر ساتھی بھی پہنچ گئے۔ غار کوئی چھ فٹ لمبا اور چار فٹ اونچا تھا۔وہاں لکڑیاں جلی ہوئی پڑی تھیں جو اس بات کی علامت تھی کہ کسی نے یہاں کھانا پکانے کی کوشش کی ہے۔کچھ دیر بعد وہاں سے واپس آئے تو ایک عجیب و غریب شخص نظر آیا۔ اس نےاحرام باندھا ہوا تھا اور ساتھ ہی وہ برہنہ بھی تھا۔لوگوں نے بتایا کہ کچھ لوگ جنہیں “ذکری “کہا جاتا ہے وہ اس مقام پر حج کرنے آتے ہیں۔ اسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک سیدھا راستہ اور واضح شریعت عطا کی لیکن انسان ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے دین کے مزید ایڈیشن نکالنے میں مصروف ہے۔اس کی بنیادی وجہ خواہشات کی پیروی اور شارٹ کٹ کی تلاش ہے۔بہر حال یہ بدعت حج کو مکہ سے اٹھا کر بلوچستان لے آئی تھی۔دھوپ خاصی تیز تھی اور آنتیں بھوک سے تڑپ رہی تھیں، لیکن سفر لمبا اور دشوار تھا چنانچہ چند بسکٹ اور پانی پر ہی گذارا کیا۔
لاہوت لامکاں جانے کے لئے ہمیں مائی جو گوٹھ سے گذرنا تھا۔وہاں پہنچنے کے دو رستے تھے ایک تو پیچھے پلٹ کر مزید ایک گھنٹے کی مسافت طے کرکے منزل تک پہنچنا تھا ۔ دوسرا راستہ شارٹ کٹ مگر پرخطر تھا کیونکہ اس کو طے کرنے کے لئے ایک بلند اور پر خطر پہاڑ پر چڑ ھ کر دوسری سمت اترنا تھا۔ ہمارے گروپ لیڈر سلمان نے بد قسمتی سےشارٹ کٹ راستہ اختیار کرلیا۔مقامی لوگوں نے بتا دیا تھا کہ صحیح راہ پر قائم رہنے کے لئے چونے کے نشان زدہ پتھروں والی پگڈنڈی پر چلنا ضروری ہے۔اللہ کا نام لے کر چلنا شروع کیا ۔ پہاڑ توقع سے زیادہ عمودی اور مشکل ثابت ہوا۔ چنانچہ ہم لوگ ہر دو قدم بعد رکتے، سانس بحال کرتے اور پھر سفر شروع کرتے۔جوں جوں ہم اوپر پہنچے تو حبس بڑھتا گیا اور سانس لینا دشوار ہوگیا۔جب اوپر چوٹی پر نظر ڈالتے تو معلوم ہوتا کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔اور جب نیچے نگاہ کرتے تو واپسی کی راہیں مسدود نظر آتیں۔ مجھے خیال آیا کہ ایک بندہ مومن کی زندگی بھی پہاڑ کی چڑھائی کے مانند ہے جس میں شیطانی اور نفسانی محرکات کو شکست دیتے ہوئے رب کی رضا کی طرف بڑھنا اور دشواری کی صورت میں گناہوں کی زندگی میں لوٹنے سے گریز کرنا ناگزیر ہے۔بہرحال یونہی رک رک کر چلتے ہوئے چوٹی تک پہنچ ہی گئے۔ وہاں ایک تازہ ہوا کے جھونکے نے ہمارا استقبال کیا۔اب ہم نے جوش کے عالم میں اترنا شروع کیا لیکن جب دامن تک پہنچے تو دیکھا کہ ایک اور پہاڑ منہ کھولے ہمارا استقبال کر رہا ہے۔ چاروناچار اس کو بھی پار کیا تو ایک کھائی منتظر تھی۔مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق اسے بھی کراس کیا اور بالآخر تین گھنٹے سے زائد یہ مسافت ایک پہاڑ کی چوٹی پر اختتام پذیر ہوئی جس کے دوسری جانب مائی جو گوٹھ نظر آرہا تھا۔مجھے یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ زندگی بھی کچھ ایسا ہی پرخطر اور پیچیدہ راستوں سے بھرا سفر ہے اور اس کی کامیابی کا راز ہمت ہار بیٹھنا نہیں بلکہ چلتے رہنا ہے۔
جاری ہے...

اسلام اور خانقاہی نظام,87


اسلام اور خانقاہی نظام

(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر87)
شاہ نورانی: 

یہ بات دسمبر ۲۰۰۳ کی ہے جب ہم چار دوستوں نے فیصلہ کیا بلاول شاہ نورانی کے مزار کا سفر کیا جائے۔ مزار پر جانے کی بنیادی وجوہات اس علاقے کے رسم و رواج کا مطالعہ، زرعئی دور کا مشاہدہ اور پہاڑوں پر چند تفریحی لمحات گذارنا تھے۔ وگرنہ ہم چاروں میں سے کسی کا بھی مزار پر منت مانگنے یا چڑھاوے چڑھانے کا ارادہ قطعی نہیں تھا۔سفر کی ابتدا ہم چاروں دوستوں میں سلمان شاہد، سیماب قدیر ، شاہنواز اور میں یعنی محمد عقیل شامل تھے۔ سفر کے لئے ہم نے کچھ کپڑے اور سفری سامان رکھ لیا۔ پھر ۲۸ دسمبر کی صبح لی مارکیٹ پہنچ گئے جہاں نورانی جانے کے لئے ایک بس تیار تھی۔ اس بس کی ٹوٹی پھوٹی شکل بتا رہی تھی کہ واقعی وہ نورانی کا ایک وسیع تجربہ ہے، ہم چاروں بس کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ ان سیٹوں پر آٹے ، دال اور چینی کے بڑے بڑے بورے رکھے ہوئے تھے۔ ۔ بس کے ماحول کا جب جائزہ لیا تو تمام ہی مسافر غریب طبقے سے تعلق رکھتے نظر آئے۔ اندر ایک شور بپا تھا اور وقفے وقفے سے کوئی مست بابا نعرہ لگاتا” بولو بولو بولو جئے شاہ”۔ سب اس کا جواب دیتے ” جبل میں شاہ”۔ ۔ کبھی کوئی من چلا آواز لگاتا ” نورانی نور ہے ہر بلا دور ہے” اور لوگ اس دھن میں مست ہوکر جھومنے لگتے۔میں وہاں بیٹھا سب سن تو رہا تھا لیکن میرا ذہن نورانی کی تاریخ میں کھویا ہوا تھا حضرت بلاول شاہ نورانی کی تاریخ نورانی کا علاقہ کراچی سےقریب ۱۲۰ کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع خضدارمیں واقع ہے۔ یہ مقام چاروں اطراف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔یہاں حضرت بلاول شاہ نورانی کا پانچ سو سالہ پرانا مزار اس مقام کی وجہ شہرت ہے۔ حضرت بلاول شاہ نورانی کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات مستند ذرائع سے نہیں ملتیں البتہ ان کے بارے میں ڈیلی ٹائمز اخبار [اشاعت ۱۷ اکتوبر، ۲۰۰۸]میں سلمان راشد صاحب نے ایک آرٹیکل لکھا ہے جس سے کچھ مستند معلومات تک رسائی ہوتی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق سن ۱۹۰۷ء کے لسبیلہ ڈسٹرکٹ کے گزٹ میں بلاول شاہ نوارانی کا ذکر ملتا ہے۔ وہ ۱۴۹۵ میں سندھ سے اس مقام پر تشریف لائے اور گوکل نامی ایک ہندو سیٹھ کے باغ میں قیام کیا۔جبکہ حضرت نورانی کے بارے میں ایک اور قدیم ذریعہ تحفتہ الکرام ہے جو ٹھٹہ میں ۱۷۶۷ ء میں لکھی گئی۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ شاہ نورانی اپنے علاقے کے ایک مجذوب شخص تھے اور اسی جنوں کی بنا پر علاقے کے لوگوں نے انہیں ولی ماننا شروع کیا اور ان سے منتیں اور مرادیں ماننے لگے۔ روایات کے مطابق گوکل نامی ہندو سیٹھ نے انہیں پناہ دی اور ان کا خیال رکھا۔ گوکل کے مرنے کے بعد بلاول شاہ نورانی وہیں مقیم رہے اور ان کے انتقال کے بعد وہیں انکی تدفین ہوئی۔ان مستند معلومات کے علاوہ باقی بے شمار کہانیاں حضرت نورانی بابا سے منسوب کی جاتی ہیں۔ ایک مشہورروایت یہ ہے کہ بلوچستان کے اس مقام پر ایک ظالم دیو گوکل کی حکومت تھی اور لوگ اس سے تنگ تھے۔ ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی تو ایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنہوں نے اس دیو کو شکست دے کر لوگوں کو اس کے ظلم سے آزاد کروایا۔
چرس: میرے ذہن میں ابھی تاریخ چل ہی رہی تھی کہ بس سفر کا آغاز کرنے لگی۔ میں نے اور سیماب نے سفر کی دعا پڑھ لی ۔یہ سفر کی دعا کوئی منتر نہیں کہ اس کے دہرا لینے سے سفر کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ اس کا مقصد سفر میں اللہ کو شریک سفر کرنا اپنے عجز کا اظہار کرنا اور آخرت کے سفر میں اللہ سے ملاقات کا اعادہ کرنا ہے۔بس کراچی کی مضافاتی حدود میں داخل ہوگئی۔راستہ ہمدرد یونی ورسٹی کے روڈ سے گذرتا تھا جو اس وقت کچا اور دشوار تھا۔ہمدرد یونی ورسٹی سے پہلے بس نورانی ہوٹل پر لنچ کے لئے رکی۔ یہاں ہم نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا ۔ میں نے ایک شخص سے باتھ روم کی بابت دریافت کیا تو اس نے لوٹا تھما کر جنگل کی جانب اشارہ کردیا ۔ یہ غیر تمدنی زندگی کی ابتدا کی علامت تھی ۔ یوں مجھے باتھ روم کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔بلکہ کسی صاحب نے یہ بتایا کہ انسانی تمدن میں سب سے اہم پیش رفت سیوریج لائن کے ذریعے ہی ہوئی ہے۔ بہر حال نماز پڑھی اور کھانا کھایا۔ سفر کی دوبارہ ابتدا ہوئی تو ارد گرد کالے اور مٹیالے پہاڑوں کو سلسہ شروع ہوگیا۔اس قسم کے پہاڑ میرے لئے نئے تھے کیونکہ میں کشمیر، سوات اور کا غان وغیرہ کے سبزے سے ڈھکے پہاڑ دیکھنے کا عادی تھا۔ آس پاس کا علاقہ میدانی تھا البتہ کہیں کہیں جھاڑیاں اور اجڑے ہوئے درخت نظر آرہے تھے۔ شام کا سورج اپنی آخری کرنیں بکھیرتا ہوا رخصت ہو رہا تھا ۔ کالے پہاڑ مزید سیاہ ہوتے جا رہے تھے۔ میں اللہ کی خلاقی کے ساتھ ہی اسکی بے نیازی کو بھی دیکھ رہا تھا ۔ اتنے عظیم پہاڑ، وسیع آسمان، عریض زمین اور خوبصورت مناظر اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دئے اس بات سے قطع نظر کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے ، کوئی تعریف کرے یا نہ کرے۔مجھے خیال آیا کہ کہ اللہ تو اپنی ذات میں غنی ہے انہیں دوسروں کی کوئی ضرورت نہیں حتیٰ کہ تعریف کے لئے بھی ۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک بس کی چھت پر سے ایک شخص اترا ۔ ا س کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی ۔اس نے چورن بیچنے والوں کی طرح آواز لگائی” چرس لے لو، چرس لے لو”۔ میں بھونچکا رہ گیا ۔زندگی میں پہلی بار چرس کو دیکھا اور جس شان سے دیکھا اس کی توقع نہ تھی۔ چرس یا دیگر نشہ آور اشیاء انسان سکون کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن بد قسمتی سے اس کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو جاتا ہے۔اندھیرا بڑھتا جارہا تھا اور مناظر نگاہوں سے اوجھل ہو رہے تھے۔ جب بس کے اندر نگاہ ڈالی تو وہاں بھی خاموشی ہوچکی تھی۔ کوئی اونگھ رہا تھا تو کوئی خلائوں میں گھور کر وقت کاٹ رہا تھا۔ایک بوڑھا شخص جو سارے راستے جئے شاہ کے نعرے لگاتا رہا وہ بھی مضمحل قویٰ کے ساتھ چپ ہو کر بیٹھ گیا تھا۔ اسی طرح بس ہچکولے لیتی رہی ۔ یہاں تک کہ منزل آ گئی۔ اس وقت رات کے سات بج رہے تھے چونکہ سردیوں کے دن تھے لہٰذا سورج غروب ہوئے دو گھنٹے سے زائد ہو چکے تھے۔ البتہ سردی بالکل نہ تھی ۔اردگرد کا ماحول تاریکی کی وجہ سے مشاہدے کا قابل نہیں تھا۔ البتہ کچھ جانوروں کے چلنے کی آوازیں آرہی تھیں اور زمین پر چلنے سے اندازہ ہورہا تھا کہ سطح ہموار نہیں ہے۔جاری ہے.....

اسلام اور خانقاہی نظام,86


*اسلام اور خانقاہی نظام*
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر86)
حُبِ الہی:- کسی کا ایمان اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک اسکی تمام تر محبتیں اللہ کے لئے نہ ہو جائیں، اللہ کا فرمان ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت آئے تو صرف اور صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران: 102]
اللہ کی محبت ایمان کے لوازمات میں سے ہے، عقیدہ توحید اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک انسان اپنے رب کو ہر اعتبار سے محبوب نہ بنا لے ، اس سے بڑھ کر محبت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ اللہ کے سوا کو ئی چیز ایسی نہیں ہے جو انسان کو ہر اعتبار سے محبوب ہو، یہ ہی وجہ ہے کہ الوہیت، اور عبادت کے لائق صرف وہ اکیلا ہی ہے، اور وہی کمال عاجزی انکساری اور محبت کا حقدار ہے۔ اللہ کی محبت کا معاملہ ہی کچھ اور ہے؛ دل کو جتنی اپنے خالق سے ہوتی ہے کسی سے نہیں، اور کیوں نہ ہو!؟ وہی اسکا خالق ، معبود، ولی، مولا، پروردگار، کارساز ، رازق، مارنے اور زندہ کرنے والا ہے، جسکی محبت میں نفسانی شائستگی، روحانی زندگی، دلوں کی غذا، ذہنی سکون، آنکھوں کی ٹھنڈک، اور تعمیرِ باطن ہے۔
 قلبِ سلیم ، پاکیزہ ارواح ، اور عقلمندوں کے ہاں اللہ کی محبت، اور اسکی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز نہ تو انہیں لذت دیتی ہے اور نہ ہی محظوظ کرتی ہے۔ اسکی معافی اتنی وسیع ہے کہ تمام گناہوں کو بہا لے جائے ؛تو اسکی رضا کا کیا حال ہوگا!؟ اسکی رضا تمام امیدوں پر غالب آسکتی ہے؛ تو اسکی محبت کا کیا حال ہوگا!؟، اسکی محبت میں عقل دنگ ہے؛ تو اسکی مودت کا کیا حال ہوگا!؟، جبکہ اسکی مودت ہر چیز بھلا دے گی؛ تو اسکی لطافت کا کیا حال ہوگا!؟"
انسان جتنی اللہ کی محبت اکٹھی کریگا اسے اتنی ہی ایمان کی مٹھاس اور لذت ملے گی، اسی لئے جو اپنے دل کو حُبِ الہی میں غرق کر دے؛ اللہ اسے غنی کردیتا ہے، پھر اسے کسی سے ڈرنے یا کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی ، چنانچہ حُبِ الہی ہی ایک ایسی چیز ہے جو دل کی پیاس بجھا سکے اور اسکے بعد کسی کی اسے ضرورت پیش نہ آئے۔
 اگر انسان اپنے دل کیلئے دنیا جہان کی آسائشیں اکٹھی کر لے پھر بھی اسے حقیقی سکون ملے گا تو وہ صرف حُبِ الہی میں ، اگر دل سے اسکا چین و سکون -حب الہی- چھین لیا جائے تو اسے آنکھ ، کان ، زبان کے ضائع ہونے بھی زیادہ تکلیف ہو، بلکہ اگر اس بدن سے روح پرواز کر جائے تواتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا حُبِ الہی سے دل کے عاری ہونے پر ہوتا ہے۔
 حقیقتِ محبت کیا ہے؟ محبت اس بات کا نام ہے کہ آپ اپنا سب کچھ اپنے محبوب کے نام پر قربان کردو، اور اپنے لئے کچھ نہ چھوڑو، اسی لئے تو اللہ کی محبت سب محبتوں پر غالب رہتی ہے، تو کامیاب شخص بھی اپنی تمام تر محبتوں کو اپنے رب کی محبت کے تابع رکھتا ہے کہ اسی میں اسکی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
 محبت کے سب مدعی آپس میں برابر نہیں ؛ اسی لئے اللہ تعالی نے مؤمنوں کو شدید محبت کرنے والا کہا، فرمایا: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں[البقرة: 165]
لفظِ أَشَدُّ دعوی محبت میں درجہ بندی کی دلیل ہے، جسکا مطلب ہے: ایک سے بڑھ کر ایک محبت کرنے والا۔
 حُبِ الہی : اللہ تعالی کی ذات اور اسکے پسندیدہ اعمال کو اپنی جان ، روح، اور مال پر ترجیح دینے کا نام ہے، جسکا تقاضا ہے کہ خلوت وجلوت ہر حالت میں اسکے فرامین کی پیروی کی جائے،  ہمہ وقت اپنے آپ کو محبوب کی یاد میں مشغول کر دیں، اس پر اپنی جان نچھاور کردیں، اور دل میں محبوب کی چاہت کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، زبان ہمیشہ اسی کی یاد سے تر رہے، اسی لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: «وأسألُك حبَّك، وحبَّ من يُحبُّك، وحبَّ عملٍ يُقرِّبُ إلى حُبِّك» یا اللہ! تجھ سے محبت کا سوال کرتا ہوں، اور تیرے محبوب کی محبت کا ، اور ہر ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب تر کر دے۔
 مُحِب کے دل میں محبت شدت اختیار کر جائے تو یہ فرمانبرداری میں تبدیل ہو جاتی ہے، اسی صفت سے متصف ہو کر اللہ کی عبادت کرنا ہی حُبِ الہی اور حُبِ شریعت کا اعلی درجہ ہے، اس "محبت "کی "غذا "سے زیادہ لوگوں کو ضرورت ہے، کیونکہ غذا کی عدم دستیابی سے جسم کو نقصان ہوگا، جبکہ حُبِ الہی کی عدم موجودگی میں روح برباد ہو جائے گی جو زیادہ نقصان دہ ہے۔مؤمن اپنے رب کو پہچان لے تو اس سے محبت کرنے لگتاہے ، جب محبت ہو جائے تو اسکی جانب متوجہ رہنے کی کوشش کرتا ہے، اور جب اسے چاشنی اور لذت ملنے لگے تو دنیا کو شہوت کی نگاہ سے اور آخرت کو کاہلی اور سستی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ حُبِ الہی انسان کو اسکے ذمہ واجب کام کرنے اور تمام ممنوعہ کاموں سے دور رہنے پر ابھارتی ہے، اور اس سے بڑھ کر مستحبات پر ترغیب ، اور مکروہات سے انسان کو دور رکھتی ہے۔
 حُبِ الہی انسانی دل کو حلاوتِ ایمان سے بھر دیتی ہے، فرمانِ رسالت ہے: (جو شخص اللہ کو رب مانے، اسلام کو اپنا دین جانے، محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- کو اپنا رسول مانے تو اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا)
حقیقی حُبِ الہی دل سے اللہ کی تمام نا فرمانیوں کو باہر نکال کر انسانی جسم کو اطاعت پر مجبور کر دیتی ہے، جس سے نفس مطمئن ہو جاتا ہے، حدیث قدسی ہے (جب میں کسی بندے سے محبت کرنے لگوں تو میں اسکے کان، آنکھ ، ہاتھ، اور پاؤں کو اپنےکنٹرول میں کر لیتا ہوں)
محبت کی لذت سے انسان آنیوالی تمام مصیبتوں کو بھول جاتا ہے، اور دوسروں کی طرح اسے تکلیف بھی نہیں ہوتی، اسی لئے حُبِ الہی گناہوں سے بچنے کیلئے انتہائی مضبوط ترین ڈھال ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنے محبوب کی بات مانتا ہے۔
 یہ ہی وجہ ہے کہ دل میں جتنی مضبوط محبت ہوگی انسان اتنی ہی اللہ کی اطاعت کریگا اور نافرمانی سے بچے گا، اور جیسے جیسے محبت کمزور پڑتی جائے گی؛ نافرمانیوں کی گرفت مضبوط ہو جائے گی۔
 سچے مُحِب پر اللہ کی جانب سے ایک نگہبان مقرر کیا جاتا ہے جو اسکے دل و اعضاء کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ خالی دعوں کی محبت اسوقت تک ان سہولیات سے عاری ہوتی ہے، جب تک وہ محبت میں سچا نہ ہو جائے، چنانچہ جیسے ہی محبت میں سچائی پیدا ہو تو انسان برائیوں سے دور رہتے ہوئے اطاعت گزاری کرتا ہے، جبکہ جھوٹی محبت سے انسان اپنے تئیں تو بڑا خوش باش نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اسکے اثرات سے بالکل عاری ہوتا ہے، اس لئے انسان کبھی اپنے دل میں اللہ کی محبت تو پاتا ہے لیکن یہ محبت اسے برائیوں سے نہیں روک پاتی۔
 اسکی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ محبت میں سچائی نہیں، اللہ کی تعظیم اور جلالت اس میں شامل نہیں، جبکہ محبت کے ساتھ ساتھ اللہ کی عظمت اور جلالت مل جائے تو یہ اللہ کی بہت بڑی اور افضل ترین نعمت ہے ، وہ جسے چاہے یہ نعمت عنائت فرماتاہے۔
 جب محبت عاجزی ، انکساری سے عاری ہوتو وہ صرف زبانی جمع خرچ ہے؛ جسکی کوئی وقعت نہیں، یہی حال ہے ان محبت کے دعوے داروں کا جو اپنے دعوے کے مطابق اللہ کے احکامات کی پاسداری نہیں کرتے، اور نہ ہی اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ، اور سنت کے مطابق ڈھالتے ہیں۔
 لہذا جس شخص نے اپنی زندگی میں آئیڈیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا بنایا ؛ اس نے اللہ سے محبت ہی نہیں کی، اس طرح تو یہود و نصاری دعوے کیا کرتے تھے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں [المائدة: 18]
دعوی کرنے میں تو ہر کوئی شیر ہے، جبکہ اللہ تعالی نے ان تمام زبانی دعوں کی جڑ اکھیڑ کر رکھ دی ، اور سب پر حقیقت عیاں کردی فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ آپ کہہ دیجئے: کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے [آل عمران: 31]محبت ِ الہی کی علامت یہ ہے کہ ، اسکے نیک بندوں سے محبت کی جائے ، اولیاء اللہ سے تعلق قائم کیا جائے،مگر اسلامی اصولوں کے مطابق،  بدکاروں سے دوری اختیار کی جائے، فرائض کی ادائیگی میں مکمل جد و جہد کی جائے، اللہ کے دین کی مدد کرنیوالوں کا ہاتھ بٹایا جائے، جس قدر دل میں حُبِ الہی کی جڑیں مضبوط ہونگی یہ کام بھی اسی قدر زیادہ ہونگے۔
 یہاں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کونسے اسباب ہیں جو اللہ کی محبت دل میں پیدا کرتے ہیں؟
1) سب سے پہلے اللہ کی لا تعداد و بے شمار انعام کردہ نعمتوں کو جانیں، فرمانِ باری تعالی ہے : وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا [١٩] چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے [النحل: 18]، وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے [القصص: 77]
 2) اللہ کے اسماء و صفات کے بارے میں علم حاصل کیا جائے؛ جس نے اللہ کو پہچان لیا اس نے محبت شروع کردی، اور جو محبت شروع کر دے اسکی اطاعت بھی کریگا، اور جواسکی اطاعت کرے اس پر اپنی کرم نوازی بھی کریگا، اور جس پر کرم نوازی ہوگئی ؛ اسے اپنے قریب جگہ دے گا، اور جسے اللہ کے قریب جگہ مل جائے اسکے تو وارے نیارے ہونگے۔
3) اہم ترین سبب یہ ہے کہ اللہ کی آسمان و زمین پر بادشاہت اور ان میں موجود مخلوقات وغیرہ پر غور و فکر کیا جائے جنہیں اللہ تعالی نے اپنی قدرت، جلالت،کمال ، کبرئیائی، رحمت و لطافت کی نشانی بنایا ہے، غور و فکر کے باعث جتنا معرفتِ الہی میں اضافہ ہوگا؛ اسی قدر محبت سے بھرپور اطاعت میں بھی اضافہ ہوگا۔
4) اسی طرح اگر اللہ کے ساتھ تعلق مکمل سچائی اور اخلاص پر مبنی ہو اور نفسانی خواہشات انسان کی راہنما نہ ہوں تو اللہ کی محبت حاصل ہو سکتی ہے۔
5) کثرت سے ذکرِ الہی میں مشغول رہنے سے بھی اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ محبوب کی یاد محبت کی علامت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ غور سے سنو! اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ملتا ہے[الرعد: 28]اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
جاری ہے....

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...