Showing posts with label تصوف اور ناقدین. Show all posts
Showing posts with label تصوف اور ناقدین. Show all posts

Saturday, 6 May 2017

پیری مریدی یا جہالت و خرافات اور ملکی تاریخ کا خوفناک ترین واقعہ

پیری مریدی یا جہالت و خرافات اور ملکی تاریخ کا خوفناک ترین واقعہ

(تالیف:عمران شہزاد تارڑ ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

اخبارات ، سوشل میڈیا ٹیلی چینلز ہر روز ان اشتہارات سے بھرئے ہوتے ہیں کہ ہر تمنا پوری ہوگی۔ کالے جادو کی کاٹ کے ماہر۔ استخارہ ۔اولاد حاصل کرنے کے تعویز،مال و دولت میں فراخی کے وظائف،اور ہر وہ جملہ جو انسان کو اپنی طرف کھینچیں وغیرہ

دین سے چونکہ انسان کو جذباتی لگاؤ ہوتا ہے اِس لیے دین کے ساتھ منسلک کر کے ہوس پرستی اور پیری مریدی کا گھناؤنا کاروبار جاری ہے۔
جعلی پیروں کے کرتوت اور فراڈ۔۔۔ پورا ملک ان جعلی پیروں کے چنگل میں بری طرح پھنسا  ھوا ھے۔۔ پیر چاہے گلی کوچے کا ھو یا سیاسی جماعت کا یا حکومتی ایوانوں میں بیٹھا ھوا۔۔ سب کے سب اپنے اپنے اختیار کے مطابق قوم اور ملک کے ساتھ فراڈ کر رھا ھے ۔۔ ان کے خلاف کب جہاد ھوگا ان کے خلاف کب ضرب عضب ھوگا۔۔ یہ قوم کے وہ ناسور ہیں جو قوم کی بھولے پن سے ھر ممکن طریقے سے فراڈ کر رھے ھیں ۔۔
اِس کاروبار کو ختم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اِس سارے معاملے میں علماء اکرام ، مشائخ عظام  اور قلم نگار بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔عورتوں کی عزتیں نیلام ہو رہی ہیں۔
عوام اپنا مال و جان اور ایمان لٹا رہے ہیں ۔ آستانوں و مزاروں پر نشہ و خرافات  عام  ہیں ۔ دین کے نام پر ان خرافات و توھم پرستی سے ﷲ کی پناہ۔اگر موجودہ گدی نشین مزارات پر ہونے والی خرافات اور غیر اسلامی حرکات کو بند نہیں کروا سکتے تو پھر یہ گدی نشینی کیا ہے۔ اصل میں کسی بھی بزرگ کی تعلیمات پر عمل درآمد کروانا اِن کے پیروکاروں کا ہی فرض ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں گدی نشیی ایک کاروبار کی شکل اختیار چکا ہے۔ نوے فیصد سے زائد مزارات حکومت کے کنٹرول میں ہیں ۔ حکومت کیوں نہیں مزارات پر ہونے والی خرافات کو روکتی۔ جرائم کا تعلق اولیا اکرام کی تعلیمات سے نہیں۔ جرائم تو معاشرے میں ویسے بھی بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے جرائم اگر مزارات و آستانوں کی آڑ میں ہو رہے ہوں تو اُس کا قلع قمع کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گدی نشینی تو محض ایک کاروبار بن چکا ہے۔بندے کا اپنے رب سے تعلق بہار کی طرح کا ہوتا ہے پھول جب تک بہار کے مزے لوٹ رہا ہوتا ہے وہ مہکتا رہتا ہے جیسے ہی خزاں وارد ہوتی ہے پھول کی پتیاں بکھر جاتی ہیں۔ انسان جب تک اپنے رب سے امید باندھے رکھتا ہے تب تک اُس کے من کی دنیا آباد رہتی ہے جیسے ہی وہ اپنے رب سے ناامید ہوتا ہے اور یاسیت اُس سے روحانی قوت چھین لیتی ہے جس لمحے بھی بندے کے دل میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ اُس کا یہ کام نہیں ہونا تو گویا وہ اپنے رب کی ربوبیت کوغیر ارادی طور پر ماننے سے انکاری ہو جاتا ہے یوں پھر امید کی کمزوری اُس کے ایمان کو اعتقاد کو اُس کے یقین کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وہ پھر رب کی رحمتوں کے ہالے سے نکل کر وسوسوں کے جال میں پھنس جاتا ہے بلکل اِسی طرح جیسے مکڑا جال میں پھنسا ہوتا ہے۔ نہ تو امید بَر آتی ہے اور نہ وسوسے چین لینے دیتے ہیں۔عبادت گاہوں میں خاص اہتمام ہوتا ہے کیا رب کا صرف وہیں قیام ہوتا ہے گھر میں بازار میں دفتر میں کیا ایمان کا کام نہیں ہوتا ہے یونہی مذہب کا نام لے لے کے عقیدتوں کا دم بھر بھر کے عبادت کی رسم ادا ہوتی ہے علم و عمل سے رشتہ محال ہے زر کی ہوس نے اندھا کیا ہوا۔پاکستان میں مروجہ خانقاہی نظام ملوکیت میں ڈھل چکا ہے؟ آستانے روپے پیسے کی ریل پیل میں اور مرید بھوک کے مارے ہوئے غلام ابنِ غلام ایک رب پر ایمان کی بجائے ناسمجھی میں کم علمی کی وجہ مرید بھی استحصال شکار ہیں اور اُن کے نذرانے ایسے جگہ جاتے ہیں کہ کاروباری انداز میں چلائی جانے والی خانقاہیں پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنیوں کا روپ دھار چکی ہیں۔جاگیردار، سرمایہ دار، وڈیرے کے ساتھ نام نہاد پیر بھی اُس دائرے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں پیسہ ہی ایمان، لوٹ مار استحصال کے لیے نام نہاد پیر بھی روایتی سیاست میں حصہ لے کر اپنے کاروبار چمکاتے ہیں۔ پاکستان میں خانقاہی نظام کی تباہی کی وجہ ہی یہ ہے کہ خود کو سوادِاعظم کہنے والوں کی آواز کہیں بھی نہیں۔ اگر کسی پیر یا مذہبی رہنماء نے رویتی سیاست کا ہی حصہ بننا ہے تو پھر سات دہائیوں سے جو چلا آ رہا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا۔
یہاں باقاعدہ پیری مریدی کا نظام چل رہا ہے وہاں بالکل صورتحال عجیب ہو چکی ہے۔ دین سے محبت رواج و روایات کی نذر ہوچکی ہے۔آستانوں اور درگاہوں پہ ایسی ایسی خرافات در آئی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ہندوانہ رسم رواج عجیب و غریب انداز میں جاری ہے۔

پاکستان کو تو اولیا کا فیضان کہا جاتا ہے لیکن اِن اولیاء اکرام کی خانقاہوں کو جس انداز میں بے حیائی اور شرک و بدعت کا کاروبار بنا دیا گیا ہے یہ سلسلہ بہت تکلیف دہ ہے جن درگاہوں سے دعوت توحید ادا ہونا تھی وہاں گدیوں کی لڑائیاں جاری ہیں۔ اور شرک و خرافات کا بازار گرم ہے۔
اِن حالات میں اُمت کو جہاں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور پوری امت مسلمہ ہمہ گیر زوال و انحطاط کا شکار ہے اِن خانقاہوں سے تو علم وہدائت کے سرچشمے پھوٹنے چاہیے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں  ہو پا رہا۔دوسری جانب شرک و خرافات ستارہ پرستی(علم نجوم) پر پاکستان کے ہر اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینل پیش پیش ہیں ۔کہ ستاروں کی روشنی میں آپ کا دن کیسا گزرے گا۔جس کی تفصیلات کے لیے راقم الحروف کے زیر تالیف کتاب"رزق میں فراخی کے اسباب اور مشکلات کا حل "کا مطالعہ کریں ۔جو عنقریب اس لنکwww.dawatetohid.blogspot.com پر اپلوڈ کر دی جائے گی ان شاء اللہ ۔
ویسے تو پاکستان میں آئے دن جعلی پیر اور عامل عوام کا مال و جان ،ایمان اور عزتیں لوٹنے کا کاروبار اپنے عروج پر ہے ۔لیکن ہم فی الحال تمام واقعات کو چھوڑ کر حالیہ بدترین واقعہ کی طرف
آتے ہیں جو سرگودھا کے نواحی گاؤں چک نمبر 95 شمالی پکا ڈیرہ میں دربار کی گدی نشینی کے تنازعہ پر مخالف گروپ کے 20 افراد کو ڈنڈوں، خنجروں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا پر مختصر ضمیمہ پیش کرتے ہیں ۔
نام عبدالوحید تھا‘ وہ الیکشن کمیشن میں لیگل اسسٹنٹ تھا‘ گرین ٹاؤن لاہور کا رہائشی تھا‘ وہ پانچ سال ایف آئی اے میں لاء آفیسر بھی رہا‘ وہ 2005ء میں الیکشن کمیشن میں واپس آیا‘ کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کا الزام لگا‘ انکوائری ہوئی اور ثابت ہوگیا عبدالوحید نے 60 ہزار روپے لے کر ایک ایسے شخص کا ووٹ ٹرانسفر کر دیا تھا جس نے بعد ازاں ٹاؤن ممبر کا الیکشن لڑا‘ سزا سے بچنے کے لیے اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی‘وہ 24 برس الیکشن کمیشن میں ملازم رہا‘ ساتھیوں نے  ان 24 برسوں میں اسے کبھی نماز اور روزے کی پابندی کرتے نہیں دیکھا‘ وہ اسلامی شعائر کا مذاق بھی اڑاتا تھا تاہم وہ روحانیت اور طریقت کا بے انتہا قائل تھا۔

وہ مرشد پرست بھی تھا اور وہ تعویز دھاگے پر بھی یقین رکھتا تھا‘ وہ ملازمت کے دوران علی محمد گجر نام کے ایک شخص سے ملا‘ وہ فیصل آباد کے گاؤں چنن کا رہنے والا تھا اور وہ سائیں مستی سرکار کہلاتا تھا‘ وہ اسلام آباد اور لاہور میں تعویز‘ دھاگہ اور گنڈا کرتا تھا‘ سیکڑوں لوگ اس کے مرید تھے‘ عبدالوحید بہت جلد علی محمد گجر کا مرید بن گیا‘ پیر صاحب بھی شریعت کے پابند نہیں تھے‘ وہ سمجھتے تھے انسان گناہوں کا پتلا ہے‘ یہ پتلا اگر زندگی میں اپنے گناہوں کا ازالہ کر دے تو یہ پاک ہو جاتا ہے‘ علی محمد گجر نے انسانوں کو گناہوں سے پاک کرنے کا ایک طریقہ بھی وضع کر رکھا تھا‘ وہ ’’گناہگار‘‘ مرد اور عورت کو ننگا کرتا تھا اور اس کے ننگے جسم پر چھڑی سے ہلکی ہلکی ضربیں لگاتا تھا‘ یہ ضربیں گناہوں کا ’’ازالہ‘‘ ہوتی تھیں اور یوں ’’گناہگار‘‘ چند ضربوں میں نومولود بچے کی طرح پاک ہو جاتا تھا۔

علی محمد گجر روزانہ دس بیس گناہ گاروں کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دیتا تھا‘ عبدالوحید مستی سرکار کا مرید بنا اور وہ روحانیت میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا حضرت صاحب کا خلیفہ بن گیا‘ حضرت صاحب جب گناہ گاروں کو پاک کرتے کرتے تھک جاتے تھے تو وہ اپنی چھڑی عبدالوحید کے ہاتھ میں دے دیتے تھے اور گناہ گاروں کے گناہ جھاڑنے کا باقی فریضہ خلیفہ صاحب ادا کرتے تھے ‘ حضرت صاحب اس دوران دور بیٹھ کر گناہ گاروں کے ننگے بدن کا معائنہ کرتے رہتے تھے‘ سرگودھا کے چک نمبر 95 شمالی میں علی محمد گجر کے مرید رہتے تھے‘ یہ سارا علاقہ پیر صاحب کا معتقد تھا‘ پیر صاحب اس علاقے میں چوہدری علی محمد قلندر کہلاتے تھے‘ پیر صاحب اور خلیفہ صاحب اکثر اس گاؤں کا چکر لگاتے رہتے تھے‘ لوگ عقیدت سے ان کے پاؤں چومتے تھے۔

سائیں مستی سرکار چوہدری علی محمدگجر قلندر تین سال پہلے انتقال کر گئے‘ مریدوں نے انھیں چک نمبر 95 شمالی میں دفن کیا اور قبر پر چھوٹا سا مزار بنا دیا‘ عبدالوحید اس مزار کا متولی بن گیا‘ وہ اکثر مزار پر بیٹھا رہتا تھا‘ وہ الیکشن کمیشن سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس مزار تک محدود ہو کر رہ گیا‘ وہ اس وقت تک گناہ جھاڑنے کا ایکسپرٹ بھی ہو چکا تھا‘ لوگ آتے تھے‘ وہ انھیں ننگا کر کے گناہوں کا تخمینہ لگاتا تھا اورگناہوں کی شدت کے مطابق ان کے جسم پر چھڑیاں اور ڈنڈے برساتا تھا‘ گناہ کم ہوں تو چھوٹی چھڑی اور چھوٹی ضرب اور گناہ بڑے اور شدید ہوں تو بڑا ڈنڈا اور بھاری ضرب‘ یہ دنیا کی اس جدید ترین سائنس کا واحد فارمولا تھا‘ لوگ دور دور سے سائیں مستی سرکار چوہدری علی محمد گجر قلندر کی درگاہ پر آتے ‘ مزار کو سلام کرتے اور خلیفہ سرکار سائیں عبدالوحید قلندر سے اپنے گناہ جھڑواکر گھر واپس چلے جاتے ‘ سائیں نے حکم دے رکھا تھا وہ جب گناہ گاروں کو ڈنڈا مارے گا تو وہ منہ سے حق حق کی آواز نکالیں گے چنانچہ درگاہ سے اکثر اوقات حق حق کی صدائیں آتی رہتی تھیں۔

سائیں عبدالوحید کو اس دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے (نعوذ باللہ) سگنل بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ خود کو امام مہدی (نعوذباللہ) بھی کہنے لگا‘ مریدین نے اس ہرزہ سرائی پر بھی یقین کر لیا‘ سائیں عبدالوحید شراب کا پرانا عادی تھا‘ وہ ’’خلافت‘‘ کے دوران دیگر نشوں سے بھی متعارف ہو گیا اور وہ اب زیادہ وقت مخمور رہنے لگا‘ وہ خود نماز روزے کو پسند کرتا تھا اور نہ ہی مریدوں کو اس طرف جانے دیتا تھا‘ وہ کہتا تھا آپ جی بھر کر گناہ کریں اور آخر میں مجھ سے اپنے گناہ جھڑوا لیں‘ بات ختم۔ وہ ہر جمعرات کو اپنے مرشد کا ختم بھی کراتا تھا‘ دیگ پکواتا تھا‘ چاول تقسیم کرتا تھا اور گناہ گاروں کو ڈنڈے مار کر پاک صاف کرتا تھا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 2017ء اپریل کی یکم تاریخ آ گئی۔

سائیں عبدالوحید نے اپنے دوساتھیوں آصف اوریوسف کو ساتھ ملایا اور اپنے آخری روحانی تجربے کا اعلان کر دیا‘ اس نے دعویٰ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے (نعوذ باللہ) مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت دے دی ہے‘ وہ پہلے سیاہ کاروں کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کرے گا اور پھر انھیں دوبارہ زندہ کردے گا اور یہ لوگ معصوم بچوں کی طرح پاک صاف ہو کر نئی زندگی گزاریں گے‘ عبدالوحید نے یکم اپریل ہفتہ کی شب یہ تجربہ شروع کر دیا‘ وہ مریدوں کو بلاتا‘ انھیں نشہ آور مشروب پلاتا اور انھیں ڈنڈے مارمار کر ہلاک کرتا رہا ۔

عبدالوحید نے اس عمل کے دوران  20 مریدوں کی جان لے لی‘ ان میں 16 مرد اور چارخواتین شامل تھیں جب کہ چارلوگوں نے بھاگ کر جان بچالی‘ بات پھیلی‘ لوگ اکٹھے ہوئے‘ پولیس آئی اور عبدالوحید گرفتار ہو گیا‘ گرفتاری کے بعد عبدالوحید نے تین متضاد بیان دیے‘ اس کا پہلا بیان تھا‘ یہ لوگ مجھے زہر دے کر مارنا اور گدی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے‘ میں نے انھیں مار دیا‘ دوسرا بیان تھا‘ یہ میرے بچے تھے اور میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان کو قربان کر دیا اور تیسرا بیان ’’جج صاحب آپ میرے ساتھ درگاہ چلیں‘ میں ان سب کو دوبارہ زندہ کر دوں گا بس ایک شرط ہے پولیس ساتھ نہیں ہونی چاہیے‘‘۔

یہ ملکی تاریخ کا خوفناک ترین واقعہ تھا‘ سائیں عبدالوحید سو فیصد فراڈ اور جرائم پیشہ شخص ہے‘ یہ نفسیاتی بیماری ’’ہائیپو کانڈریا‘‘ کا مریض ہے‘ اس مرض میں انسان اپنے دماغ میں ایک غیر حقیقی دنیا آباد کر لیتا ہے اور یہ اس غیر حقیقی دنیا کو ایمان کی حد تک حقیقی سمجھ بیٹھتا ہے‘ دنیا کے زیادہ تر جعلی نبی اور جعلی ولی ’’ہائپو کانڈریا‘‘ کے مریض ہوتے ہیں‘ سائیں عبدالوحید اور علی محمد گجر قلندر دونوں اس مرض کا شکار تھے‘ یہ بات اگر یہاں تک رہتی تو شاید اتنی خطرناک نہ ہوتی لیکن یہ اس وقت انتہائی خطرناک ہو گئی جب لوگوں نے ان ذہنی مریضوں کو ولی تسلیم کر لیا چنانچہ ایشو مرشد نہیں ہیں ایشو مرید ہیں‘ ہمارا معاشرہ اس حد تک زوال پذیر ہو چکا ہے کہ لوگ ہر اس شخص کو ولی مان لیتے ہیں۔

جس کی پشت پر مٹی لگی ہوتی ہے‘ سر میں خاک ہوتی ہے اور اس کی داڑھی سے رالیں ٹپک رہی ہوتی ہیں،جو برہنہ رہتا ہو‘ ہم لوگ ہائیپوکانڈریا کے مریضوں کو صرف ولی نہیں مانتے بلکہ ہم نعوذ باللہ ان کے درجات حضرات ابراہیم  ؑ ‘ حضرت موسیٰ  ؑ  اور حضرت عیسیٰ  ؑ سے بھی بلند کر دیتے ہیں‘ ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں یہ لوگ واقعی حضرت موسیٰ  ؑ کی طرح (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتے ہیں اور یہ حضرت عیسیٰ  ؑ کی طرح مردوں کو زندہ کر دیتے ہیں‘ ہم لوگ یہ بھی سمجھ لیتے ہیں جو شخص اپنی رالیں صاف نہیں کر سکتا وہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر بدل دے گا اور جن گناہوں کی معافی کا اولیاء کرام ؒ‘ صحابہ کرامؓ اور انبیاء کرام کو بھی یقین نہیں تھا وہ گناہ سائیں عبدالوحید کا ڈنڈا دھو دے گا چنانچہ میں سمجھتا ہوں مسئلہ سائیں عبدالوحید یا سائیں مستی سرکار علی محمد گجر قلندر نہیں ہیں مسئلہ ان لوگوں کو ماننے والے لوگ ہیں لہٰذا ہمیں جعلی پیروں کے جعلی مریدوں کو جوتے مارنے چاہئیں‘ دوسرا مسئلہ حکومت ہے۔

ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ کسی بھی قبر پر جھنڈا لگا کر عرس شروع کر دے‘ حکومت نوٹس تک نہیں لے گی‘کیوں؟ حکومت کی اس عدم توجہی کے نتیجے میں بیس بیس لوگ جان سے گزر جاتے ہیں اور ریاست تماشہ دیکھتی رہتی ہے‘ کیوں؟ آپ ملک میں حکومت کی اجازت کے بغیر اسکول اور ڈسپنسری نہیں بنا سکتے لیکن آپ دس بیس ایکڑ کا مزار بنا لیں آپ کو کوئی نہیں روکے گا‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ ہماری ریاست کب جاگے گی؟ ہماری ریاست ڈرون نہیں روک سکتی نہ روکے لیکن یہ سائیں عبدالوحید جیسے لوگوں کو تو روک لے۔

یہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس سے نہیں بچا سکتی نہ بچائے لیکن یہ معاشرے کو علی محمد گجر قلندر جیسی بیماریوں سے تو بچا لے اور یہ عوام کو دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتی یہ نہ رکھے لیکن یہ انھیں سائیں مستی سرکار جیسے روحانی دہشت گردوں سے تو بچا لے‘ ریاست عوام کو ان درندوں سے کیوں نہیں بچا پا رہی‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ اورہمارے عوام بھی یہ کیوں نہیں سمجھتے انسان نبی بھی ہو تو بھی انسان ہی رہتا ہے وہ خدا نہیں بن سکتا اور علی محمد گجر جیسے لوگ تو پورے انسان بھی نہیں ہیں‘ آپ ان کی قبروں سے کون سا خدا تلاش کر رہے ہیں‘ آپ کیوں نہیں سمجھتے وہ انسان جو خود قبر میں پڑا ہے وہ آپ کو زندگی کیسے دے سکتا ہے‘ جو انسان خود گناہوں کے کیچڑ میں لت پت ہے وہ آپ کو گناہوں سے پاکی کا سر ٹیفکیٹ کیسے دے سکتا ہے؟اور جو شخص پولیس سے نہیں بچ سکتا وہ شخص آپ کو اللہ کے قہر سے کیسے بچائے گا‘ آپ کیوں نہیں سمجھتے‘ کیوں‘ آخر کیوں؟۔

یہ مضمون مختلف اخبارات سے حاصل کردہ اقتباس سے تیار کیا گیا ہے۔
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان۔
www.dawatetohid.blogspot.com

Sunday, 9 April 2017

*کفر اور اسلام کیسا؟ آپ اور ھم ایک ھیں؟*

 

*کفر اور اسلام کیسا؟ آپ اور ھم ایک ھیں؟*

(جمع و ترتیب:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

( ھندو شاعر شنکر دیال شرما)

برصغیر پاک و ھند میں جس بری طرح شرک و بدت کے واقعات اور فعل مسلمانوں کی جانب سے ادا ھو رھے ھیں۔ جس پر ھندوستان کے ھندو شاعر حضرات بھی یہ بولنے پر مجبور ھو گئے ھیں کہ کفر اور اسلام کیسا؟ آپ اور ھم ایک ھیں۔ ایسے ھی جذبات کا اظھار شاعر شنکر دیال شرما اس طرح سے کر رھے ھیں۔

ایک ھی پربھو کی پوجا ھم اگر کرتے نھیں ایک ھی درگاہ پر سر آپ بھی دھرتے نھیں۔

ھم اگر دیوی کے استھانوں پہ ھیں سجدہ گزار آپ کے سجدوں کے مرکز بھی ھیں پیروں کے مزار۔

جتنے کنکر، اتنے شنکر، یہ اگر مشھور ھے اتنی ھی قبروں پہ سجدے آپ کا دستور ھے۔

اپنے دیوی دیوتاوں کو ھے گر کچھ اختیار آپ کے ولیوں کی طاقت کا نھیں ھے کچھ شمار۔

وقت مشکل اپنا ھے نعرہ، جے بجرنگ بلی ...،،آپ کا بھی نعرہ ھے یا غوث یا مولا علی۔

جس طرح سے ھم بجاتے مندروں کی گھنٹیاں ،،،،آپ کو بھی دیکھا مزاروں پر بجاتے تالیاں۔

ھم بھجن گاکر سنائیں دیوتا کی خوبیاں ،،،آپ بھی قبروں پر گائیں جھوم کر قوالیاں۔

منقلبت کے آپ رسیا اور بھجن کے ھم اسیر،،، دیوتا خوش ھو ھمارے، آپ کے قبروں میں پیر۔

ھم چڑھاتے ھیں بتوں پر دودھ اور پانی کی دھار،،، ھے مزاروں پر چڑھاوا، مرغ و چادر شاندار۔

بت کی پوجا ھم کریں، ھم کو ملے نار ستھر؟ آپ قبروں پر جھکیں، پھر بھی ملے جنت میں گھر؟۔

تم بھی مشرک، ھم بھی مشرک، معاملہ جب صاف ھے جنتی تم، دوزخی ھم، یہ کوئی انصاف ھے؟۔

ھم کو بھی جنت ملے گی، آپ ھیں گر جنتی،،،
ورنہ دوزخ میں ھمارے ساتھ ھونگے آپ بھی۔

کفر اور اسلام کیسا؟ آپ اور ھم ایک ھیں؟

سید المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عقیدہ توحید کی عظمتوں سے مالا مال کیا آپ نے اپنی امت پر بھی لازم کیا کہ وہ اس نور کو آگے بانٹتی رہے یہ امت مسلمہ کا طرہ امتیاز ہے کہ اس نے اتنی صدیوں کا طویل سفر مکمل کر لیا ہے اور اب تک عقیدہ توحید کی امین ہے۔ 
لیکن مادہ پرستی اور ہوس زر کا ماحول اس عقیدہ کی چمک پر اثر انداز ہو رہا ہے نیز عقیدہ توحید اور عقیدہ رسالت کے باہمی ربط کے لحاظ سے کچھ شکوک وشبہات پیدا کیے جا رہے ہیں ایک طرف سے امت توحید کو صحیح ا لعقیدہ ہونے کے باوجودقدم قدم پر شرک کے بھیانک فتنوں کا سامنا ہے اور دوسری طرف کچھ جہال اور فریب خوردہ لوگ امت توحید کو خرافات کی وادیوں میں دھکیلنے پرتلے ہوئے ہیں ۔اس حساس اور خطرناک موڑ پر عقیدہ توحید کی قرآن و سنت کی روشنی میں جامع تشریح کی از حد ضرورت ہے ۔یہ بات بالکل واضح ہے جس کا رب ذوالجلال کی وحدانیت پر کامل یقین ہو گا وہ عقیدہ رسالت کا اور آداب رسالت کا بھی محافظ ضرور ہو گا اور اس کے دل میں مقبولان بارگاہ ایزدی کا احترام بھی ضرور ہو گا ۔ 
ایک اللہ کے ماننے والے تمام مسلمانوں سے
نہایت ادب و احترام سے گذارش ھے کہ اللہ تعالی سے اپنی خطاوں کی معافی مانگ کر صرف ایک اللہ کے آگے اپنے سروں کو جھکاو، خالق و مالک اور رازق صرف اور صرف اللہ کی ذات ھے۔ شرک و بدعت سے بچو اب تو غیر مسلم بھی ھمارے اعمالوں کو تختہ مشک بنا رھے ھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
www.dawatetohid.blogspot.com

Thursday, 6 April 2017

*صوفیت یا ہندومت*

*صوفیت یا ہندومت*

انتخاب:عمران شہزاد تارڑ،

دین اسلام کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے لیکن صوفیاء کے نزدیک ان دونوں کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اس کا اندازہ ایک مشہور صوفی عفیف الدین تلمسانی کے اس ارشاد سے لگائيے:
"قرآن میں توحید ہے کہاں؟ وہ تو پورے کا پورا شرک سے بھرا پڑاہے، جو شخص اس کی اتباع کرے گا وہ کبھی توحید کے بلند مرتبے پر نہیں پہنج سکتا"
شریعت و طریقت ص:152، امام ابن تیمیہ از کوکن عمری ص:321

حدیث شریف کے بارے میں جناب بایزید بسطامی کا یہ تبصرہ پڑھ لینا کافی ہوگا کہ:
"تم (اہل شریعت) نے اپنا علم فوت شدہ لوگوں (یعنی محدثيں) سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم اسی ذات سے حاصل کیا ہے جو ھمیشہ زندہ ہے (یعنی براہ راست اللہ تعالی سے) ہم لوگ کہتے ہیں میرے دل نے اپنے رب سے روایت کیا اور تم کہتے ہو فلاں (راوی) نے مجھ سے روایت کیا (اور اگر سوال کیا جائے کہ) وہ راوی کہاں ہے؟ جواب ملتا ہے مرگیا (اور اگر پوچھا جائے کہ) اس (فلاں) راوی نے (فلاں) راوی سے بیان کیا تو وہ کہان ہے/ جواب وہی کہ مرگیا"
شریعت و طریقت ص؛152، امام ابن تیمیہ از کوکن عمری ص:321

قرآن وحدیث کا یہ استہزاء اور تمسخر اور اس کے ساتھ ہوائے تنفس کی اتباع کے لیے "حدثنی قلبی عن ربی" میرے دل نے میرے رب سے روایت کیا (فتوحات مکیہ از ابن عربی ج1، ص:57) کا پر فریب جواز کس قدر جسارت ہے اللہ اور اس کے رسول ۖ کے مقابلے میں؟ امام ابن الجوزی اس باطل دعوای پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جس نے حدثنی قلبی عن ربی کہا اس نے درپردہ اس بات کا اقرار کیا وہ رسول اللہ ۖ سے مستغنی ہے، پس جو شخص ایسا دعوای کرے وہ کافر ہے
تلبیس ابلیس ص:374

عبادت و ریاضت

یہاں ہم صوفیا کی عبادت اور ریاضت کے بعض ایسے خود ساختہ طریقوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنہیں صوفیاء کے ہاں بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے لیکن کتاب و سنت میں ان کا جواز تو کیا شدید مخالفت پائی جاتی ہے- چند مثالیں ملاحظہ کریں:

پیران پیر (حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی) پندرہ سال تک عشاء کے بعد طلوع صبح سے پہلے ایک قرآن شریف ختم کرتے آپ نے یہ سارے قرآن پاک ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر ختم کیے، نیز خود فرماتے ہیں میں 25 سال تک عراق کے جنگلوں تنہا ایک سال تک ساگ گھانس اور پھینکی ہوئی چيزوں پر گزارا کرتا رہا اور پانی مطلقانہ پیا پھر ایک سال تک پانی پیتا رہا پھر تیسرے سال صرف پانی پر گزارہ کرتا رہا پھر ایک سال تک نہ کچھ کھایا، نہ پیا نہ سويا۔ غوث الثقلین ص:83، شریعت و طریقت ص:431/

حضرت بایزید بسطامی 30 سال تک شام کے جنگلوں میں ریاضت و مجاہدے کرتے رہے ایک سال آپ حج کو گئے تو ہر قدم پر دوگانہ ادا کرتے یہاں تک کہ 12 سال میں مکہ معظمہ پہنچے صوفیاء نقشبندی ص:155، شریعت و طریقت ص:591

حضرت معین الدین چشتی اجمیری کثیر المجاہدہ تھے 70 برس تک رات بھر نہیں سوئے- مشائخ چشت از مولانا زکریا ص:155، شریعت و طریقت ص:591

حضرت فرید الدین گنج شکر نے 40 روز کنویں میں بیٹھ کر چلہ کشی کی مشائخ چشت از مولانا زکریا ص:178، شریعت و طریقت ص:340

حضرت جنید بغدادی کامل 3 سال تک عشاء نماز پڑھنے کے بعد ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر اللہ اللہ کرتے رہے۔صوفیاء نقشبندی ص:79، شریعت و طریقت ص:491

خواجہ محمد چشتی نے اپنے مکان میں ایک گہرا کنواں کھدوا رکھا تھا جس میں الٹے لٹک کر عبادت الہی میں مصروف رہتے- سیرت الاولیاء ص:46، شریعت و طریقت ص:431

حضرت ملا شاہ قادری فرمایا کرتے تھے "تمام عمر ہم کو غسل جنابت اور احتلام کی حاجت نہیں ہوئی کیونکہ یہ دونوں غسل، نکاح اور نیند سے متعلق ہیں، ہم نے نہ نکاح کیا ہے نہ سوتے ہیں- حدیقۃ الاولیاء ص:57، شریعت و طریقت ص:271

عبادت و ریاضت کے یہ تمام طریقے کتاب و سنت سے تو دور ہی ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جس قدر یہ طریقے کتاب و سنت سے دور ہیں اسی قدر ہندو مذھب کی عبادت اور ریاضت کے طریقوں سے قریب ہیں، نیچے کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوگا کہ دونوں مذاھب میں کس کس قدر ناقابل یقین حد تک یگانت اور مماثلت پائی جاتی ہے-

جزا وسزا

فلسفہ وحدۃ الوجود اور حلول کے مطابق چونکہ انسان خود تو کچھ بھی نہیں بلکہ وہی ذات برحق کائنات کی ہر چيز (بشمول انسان) میں جلوگر ہے لہذا انسان وہی کرتا ہے جو ذات برحق چاہتی ہے انسان اسی راستے پر چلتا ہے جس پر وہ ذات برحق چلانا چاہتی ہے-

"انسان کا اپنا کوئی ارادہ ہے نہ اختیار" اس نطریے نے نے اہل تصوف کے نزدیک نیکی اور برائی، حلال اور حرام، اطاعت اور نافرمانی، ثواب وعذاب، جزاء و سزا کا تصور ہی ختم کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر صوفیاء حضرات نے اپنی تحریروں میں جنت اور دوزح کا تمسخر اور مذاق اڑایا ہے-

حضرت نظام الدین اولیاء اپنے ملفوظات فوائد الفوائد میں فرماتے ہیں:
" قیامت کے روز حصرت معروف کرخی کو حکم ہوگا بہشت میں چلو وہ کہیں گے "میں نہیں جاتا میں نے تیری بہشت کے لیے عبادت نہیں کی تھی" چنانچہ فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ انہیں نور کی زنجیروں میں جکڑ کر کھینچتے کھینچتے بہشت میں لے جاؤ-"
شریعت و طریقت ص:500

"حضرت رابعہ بصری (آدھی قلندر) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک روز داہنے ہاتھ میں پانی کا پیالہ اور بائيں ہاتھ میں آگ کا انگارہ لیا اور فرمایا یہ جنت ہے اور یہ جہنم ہے، اس جنت کو جہنم پر انڈیلتی ہوں تاکہ نہ رہے جنت نہ رہے جہنم اور خالص اللہ کی عبادت کریں-"
بحوالہ سابقہ

کرامات

صوفیاء کرام، وحدۃ الوجود اور حلول کے قائل ہونے کی وجہ سے خدائی اختیارات رکھتے ہیں، اس لیے زندوں کو مارسکتے ہيں، مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں، ہوا میں اڑ سکتے ہین، قسمتیں بدل سکتے ہیں، چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

ایک دفعہ پیران پیر حصرت عبدالقادر جیلانی نے مرغی کا سالن کھاکر ہڈیاں ایک طرف رکھ دیں، ان ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا قم باذن اللہ وہ وہ مرغی زندہ ہوگئی
سیرت غوث ص:191

ایک گوئیے کی قبر پر پیران پیر نے قم باذنی کہا قبر پھٹی اور مردہ گاتا ہوا نکل آیا-
تفریح الخاطر ص:19

خواجہ ابو اسحاق چشتی جب سفر کا ارادہ فرماتے تو 200 آدمیوں کے ساتھ آنکھ بند کرکے منزل مقصود پر پہنچ جاتے-
تاریخ مشائخ چشت از مولانا زکریا ص:192

سید مودود چشتی کی وفات 97 سال کی عمر میں ہوئي آپ کی نماز جنازہ اول رجال الغیب (فوت شدہ بزرگ) نے پڑھائی پھر عام آدمی نے، اس کے بعد جنازہ خودبخود اڑنے لگا اس کرامت سے بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیا
-تاریخ مشائخ چشت از مولانا زکریا ص:160

خواجہ غثمان ہارونی نے وضو کا دوگانہ ادا کیا اور ایک کمسن بچے کو گود میں لے کر آگ میں چلے گئے اور دو گھنٹے اس میں رہے آگ نے دونوں پر کوئی اثر نہیں کیا اس پر بہت سے آتش پرست مسلمان ہوگئے
-تاریخ مشائخ چشت از مولانا زکریا ص:124

ایک عورت خواجہ فریدالدین گنج شکر کے پاس روتی ہوئی آئی اور کہا بادشاہ نے میرے بے گناہ بچے کو تختہ دار پر لٹکوادیا ہے آپ اصحاب سمیت وہاں پہنچے اور کہا" یا الہی اگر یہ بے گناہ ہے تو اسے زندہ کردے" لڑکا زندہ ہوگیا اور ساتھ چلنے لگا یہ کرامت دیکھ کر (ایک) ہزار ہندو مسلمان ہوگئے
اسرار الاولیاء ص:110-111

ایک شخص نے بارگاہ غوثیہ میں لڑکے کی درخواست کی آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی اتفاق سے لڑکی پیدا ہوگئی آپ نے فرمایا اسے گھر لے جاؤ اور قدرت کا کرشمہ دیکھو جب گھر تو اس لڑکی کے بجائے لڑکا پایا-
سفینہ الاولیاء ص:17

"پیران پیرغوث اعظم مدینہ سے حاضری دے کر ننگے پاؤں بغداد آرہے تھے راستے میں ایک چور ملا جو لوٹنا چاہتا تھا، جب چور کو علم ہوا کہ آپ غوث اعظم ہیں تو قدموں پر گر پڑا اور زبان پر "یا سیدی عبدالقادرشیئنا للہ" جاری ہوگیا آپ کو اس کی حالت پر رحم آگیا اس کی اصلاح کے لیے بارگاہ الہی میں متوجہ ہوئے غیب سے ندا آئی "چور کو ھدایت کی رہنمائی کرتے ہوئی قطب بنادو چنانچہ آپ کی اک نگاہ فیض سے وہ قطب کے درجہ پر فائز ہوگيا-"
سیرت غوث ص:640

میاں اسماعیل لاھور المعروف میاں کلاں نے صبح کی نماز کے سلام پھیرتے وقت جب نگاہ کرم ڈالی تو دائيں طرف کے مقتدی سب کے سب حافظ قرآن بن گئے اور بائيں طرف کے ناظرۃ پرھنے والے-
حدیقہ الاولیاء ص:176

خواجہ علاؤالدین صابر کلیری کو خواجہ فرید الدین گنج شکر نے کلیر بھیجا ایک روز خواجہ صاحب امام کے مصلے پر بیٹھ گغے لوگوں نے منع کیا تو فرمایا "قطب کا رتبہ قاصی سے بڑھ کر ہے" لوگوں نے زبردستی مصلی سے اٹھادیا حضرت کو مسجد میں نماز پڑھنے کی لیے جگہ نہ ملی تو مسجد کو مخاطب کرکے فرمایا " لوگ سجدہ کرتے ہیں تو بھی سجدہ کر" یہ بات سنتے ہی مسجد مع چھت اور دیوار کے لوگوں پر گر پڑی اور سب لوگ ہلاک ہوگئے-
حدیقہ الاولیاء ص:70

باطنیت

کتاب و سنت سے براہ راست متصادم عقائد وافکار پر پردہ ڈالنے کے لیے اہل تصوف نے باطنیت کا سہارا بھی لیا ہے- کہا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث کے الفاظ کے دو دو معانی ہیں' ایک ظاہری اور دوسری باطنی (یا حقیقی) یہ عقیدہ باطنیت کہلاتا ہے' اہل تصوف کے نزدیک دونوں معانی ک وآپس میں وہی نسبت ہے جو چھلکے کو مغز سے ہوتی ہے' یعنی باطنی معنی ظاہری معنی سے افضل اور مقدم ہیں- ظاہری معانی سے تو علماء واقف ہیں لیکن باطنی معانی کو صرف اہل اسرار و رموز ہی جانتے ہیں اس اسرار و رموز کا منبع اولیاء کرام کے مکاشے' مراقبے' مشاہدے اور الہام یا پھر بزرگوں کا فیض و توجہ قرار دیا گیا جس کے ذریعے شریعت مطهرہ کی من مانی تاویلیں کی گئيں مثلا قرآن مجید کی آیت:" واعبد ربک حتّی یاتیک الیقین"

"اپنے رب کی عبادت اس آخری گھڑی تک کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے (یعنی موت)"(سورۃ الحجرات آیت99)

اہل تصوف کے نزدیک یہ علماء (اہل ظاہر) کا ترجمہ ہے اس کا باطنی یا حقیقی ترجمہ یہ ہے کہ:"صرف اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرو جب تک تمہیں یقین (معرفت) حاصل نہ ہوجائے"

(یقین یا معرفت سے مراد معرفت الہی ہے یعنی جب اللہ کی پہچان ہوجائے تو صوفیاء کے نزدیک نماز، روزہ، زکواۃ، حج اور تلاوت وغیرہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی

اسی طرح بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 میں ہے کہ:" وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ"(یعنی تیرے ربّ نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر اس کی)یہ علماء کا ترجمہ ہے اور اہل اسرار و رموز کا ترجمہ یہ ہے:" تم نہ عبادت کرو گے مگر وہ اسی (اللہ) کی ہوگی جس چيز کی بھی عبادت کرو گے"

اس کا مطلب یہ ہے کہ تم خواہ کسی انسان کو سجدہ کرو یا قبر کو یا کسی مجسمے اور بت کو وہ درحقیقیت اللہ ہی کی عبادت ہوگی' کلمہ توحید: " لاالہ الااللہ" کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ " اللہ کے سوا کوئی چيز موجود نہیں" صوفیاء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ "لا موجود الا اللہ"یعنی دنیا میں اللہ کے سوا کوئی چيز موجود نہیں- الہ کا ترجمہ موجود کرکے اہل تصوف نے کلمہ توحید سے اپنا نظریہ وحدۃ الوجود ثابت کردیا لیکن ساتھ ہی کلمہ توحید کی کمہ شرک میں بدل ڈالا:" فبدّل الذین ظلمو قولا غیر الذی قیل لھم"( جو بات ان سے کہی گئي تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیاسورہ بقرہ آیت 59

باطنیت کے پردے میں کتاب و سنت کے احکامات اور عقائد کی من مانی تاویلوں کے علاوہ اہل تصوف نے کیف، جذب، مستی، استغراق، سکر (بے ہوشی) اور صحو (ہوش) جیسی اصطلاحات وضع کرکے جسے چاہا حلال کردیا جسے چاہا جرام ٹھرادیا، ایمان کی تعریف یہ کی گئی یہ دراصل عشق حقیقی (عشق الہی) دوسرا نام ہے اس کے ساتھ ہی یہ فلسفہ تراشا گیا کہ عشق حقیقی کا حصول عشق مجازی کے بغیر ممکن ہی نہیں چنانچہ عشق مجازی کے لوازمات، غنا، موسیقی، رقص وسرور، سماع، وجد، حال وغیرہ اور حسن و عشق کی داستانوں اور جام و سبو کی باتوں سے لبریز شاعری مباح ٹھری-

"شیخ حسین لاہوری المعروف مادھو لال جن کے ایک برہمن لڑکے کے ساتھ عشق کے بارے میں "خزینتہ الاصفیاء" میں لکھا ہے کہ "وہ بہلول دریائی کے خلیفہ تھے 36 سال ویرانے میں ریاضت و مجاہدہ کیا رات کا داتا گنچ بخش کے مزار پر اعتکاف میں بیٹھے- آپ نے طریقہ ملامتیہ اختیار کیا چار ابروکا صفایا، ہاتھ میں شراب کا پیالہ، سرور و نغمہ،چنگ و رباب، تمام قیود شرعی سے آزاد جس طرف چاہتے نکل جاتے"
(شریعت و طریقت، ص:204)

یہ ہے وہ باطنیت کہ جس کے خوشنما پردے میں اہل ہوا و ہوس دین اسلام کے عقائد ہی نہیں اخلاق اور شرم و حیا کا دامن بھی تار تار کرتے رہے اور پھر بھی بقول مولانہ الطاف حسین حالی رحمہ اللہ:"نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے"

قارئین کرام! فلسفہ وحدۃ الوجود اور حلول کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گمراہی کا یہ مختصر سا تعارف ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو الحاد اور کفر و شرک کے راستہ پر ڈالنے میں اس باطل فلسفہ کا کتنا بڑا حصہ ہے؟

ہندو پاک کا قدیم مذھب' ہندومت

1500 سال قبل مسیح، جہاں گرد آرین اقوام وسط ایشیاء سے آکر سندہ کے علائقے ہڑپہ اور موہنجوڈارو میں آباد ہوئيں- یہ علاقے اس وقت برصغیر کی تہذیب و تمدن کا سر چشمہ سمجھے جاتے تھے- ہندوؤں کی پہلی مقدس کتاب "رگ وید" انہی آرین اقوام کے مفکرین نے لکھی جو ان کی دیوی دیوتاؤں کی عظمت کے گیتوں پر مشتمل ہے- یہیں سے ہندو مذھب کی ابتداء ہوئی- ( مقدمہ ارتھ شاستر،ص:59)

جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندو مذھب گوشتہ ساڑھے تین ھزار سال سے برصغیر کی تہذیب و تمدن، معاشرت اور مذاھب پر اثرانداز ہوتا چلا آرہا ہے-

ہندو مت کے علاوہ بدھ مت اور جین مت کا شمار بھی قدیم ترین مذاھب میں ہوتا ہے بدھ مت کا بانی گوتم بدھ 483 ق-م میں پیدا ہوا اور 563 ق-م میں 80 سال کی عمر میں فوت ہوا جبکہ جین مت کا بانی مہاویر جین 527 ق-م میں پیدا ہوا اور 72 سال کی عمر میں 599 ق-م میں فوت ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں مذاھب بھی کم از کم 4 یا 500 سال قبل مسیح سے برصغیر کی تہذیب و تمدن، معاشرت اور مذاھب پر اثر انداز ہورہے ہیں-

ہندو مت، بدھ مت اور جین مت تینوں مذاھب وحدۃ الوجود اور حلول کے فلسفہ پر ایمان رکھتے ہیں- بدھ مت کے پیروکار گوتم بدھ کو اللہ تعالی کا اوتار سمجھ کر اس کے مجسموں اور مورتیوں کی پوجا اور پرستش کرتے ہیں، جین مت کے پیروکار مہاویر کے مجسمے کے علاوء تمام مظاہر قدرت مثلا سورج، چاند، ستارے، حجر، شجر، دریا، سمندر، اگ اور ہوا وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں، ہندو مت کے پیروکار اپنی اپنی قوم کی عظیم شخصیات (مرد و عورت) کے مجسموں کے علاوہ مظاہر قدرت کی پرستش بھی کرتے ہیں ہندو عتب میں اس کے علاوہ جن چيزوں کو قابل پرستش کہا گیا ہے ان میں گائے (بشمول گائے کا مکھن، دودھ، گھی، پیشاب اور گوبر) بیل، آگ پیپل کا درخت، ہاتھی، شیر، سانپ، چوہے، سور اور بندر ھبی شامل ہین ان کے بت اور مجسمے بھی عبادت کے لیے مندروں میں رکھے جاتے ہیں عورت اور مرد کے اعضاء تناسل بھی قابل پرستش سمجھے جاتے ہیں چنانچہ شوجی مہاراج کی پوچا اس کے مردانہ عصو تناصل کی پوجا کرکے کی جاتی ہےاور شکتی دیوی کی پوجا اس کے زنانہ عضو تناسل کی پوجا کرکے کی جاتی ہے-

برصغیر میں بت پرستی کے قدیم ترین تینوں مذاھب کے محتصر تعارف کے بعد ہم ہندو مذھب کی بعض تعلیمات کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے کہ برصغیر پاک و ہند میں شرک کی اشاعت اور توریج میں ہندومت کے اثرات کس قدر گہرے ہیں۔ ان شاءاللہ

ہندومذھب میں عبادت اور ریاضت کے طریقے

ہندو مذھب کی تعلیمات کے مطابق نجات حاصل کرنے کے لیے ہندو دور جنگلوں اور غاروں میں رہتے اپنے جسم کو ریاضتوں سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے- گرمی ، سردی، بارش اور رتیلی زمینوں پر ننگے بدن رہنا اپنی ریاضتوں کا مقدس عمل سمجھتے جہاں یہ اپنے آپ کو دیوانہ وار تکلیفیں پہنچا کر انگاروں پر لوٹ کر، گرم سورج میں ننگے بدن بیٹھ کر، کانٹوں کے بستر پر لیٹ کر، درخت کی شاخوں پر گھنٹوں لٹک کر اور اپنے ہاتھوں کو بے حرکت بناکر، یا سر سے اونچا لے جاکر اتنے طویل عرصے تک رکھتے تاکہ وہ بے حس ہوجائيں اور سوکھ کر کانٹا بن جائيں-

ان جسمانی آزار کی ریاضتوں کے ساتھ ہندومت میں دماغی اور روحانی مشقتوں کو بھی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا چنانچہ ہندو تنہا شہر سے باہر غور وفکر میں مصروف رہتے اور ان میں سے بہت سے جھونپڑیوں میں اپنے گرو کی رہنمائی میں گروپ بناکر بھی رہتے- ان میں سے کجھ گروپ بھیک پر گزارہ کرتے ہوئے سیاحت کرتے ان میں سے کچھ مادرزاد برہنہ رہتے اور کچھ لنگوٹی باندھ لیتے- بھارت کے طول و عرض میں اس قسم کے چٹادھاری یا ننگ دھڑنگ اور خاکستر میلے سادھوؤں کی ایک بڑی تعداد جنگلوں، دریاؤں اور پہاڑوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے، اور عام ہندو معاشرے میں ان کی پوجا تک کی جاتی ہے- (مقدمہ ارتھ شاستر:99)

روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کی خاطر ریاضت کا اہم طریقہ "يوگا" ایجاد کیا گیا جس پر ہندو مت، بدھ مت اور جین مت کے پیروکار بھی عمل کرتے ہیں اس طریقہ ریاضت میں یوگی اتنی دیر تک سانس روک لیتے ہیں کہ موت کا شبہ ہونے لگتا ہے دل کی حرکت کا اس پر اثر نہیں ہوتا- سردی گرمی ان پر اثر انداز نہیں ہوتی يوگی طویل ترین فاقے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں- ارتھ شاستر کے نامہ نگارکا اس طرز ریاضت پر تبصرہ کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ یہ ساری باتیں مغربی علم الاجسام کے ماہرین کے لیے تو حیران کن ہوسکتی ہے لیکن مسلمان صوفیاء کے لیے چنداں حیران کن نہیں، کیونکہ اسلامی تصوف کے بہت سے سلسلوں بالخصوص نقشبندی کے سلسلے فنا نی اللہ یا فنا فی الشیخ یا ذکر قلب کے اوراد میں حبس دم کے کئے طریقے ہیں جن پر صوفیاء عالم ہوتے ہیں-( مقدمہ ارتھ شاستر:129)

يوگا عبادت کا ایک بھیانک نظاوہ سادھوؤں اور يوگیوں کا دہکتے ہوئے شعلہ نشاں انگاروں پر ننگے قدم چلنا اور بغیر جلے سالم نکل آنا، تیز دھار نوکیلے خنجر سے ایک گال سے دوسرے گال تک اور ناک کے دونوں حصوں تک اور دونوں ہونٹوں کے آرپارخنجر اتاردینا اور اس طرح گنٹوں کھڑے رہنا' تازہ کانٹوں اور نوکیلے کیلوں کے بستر پر لکٹے رہنا یا رات دن دونوں پیروں یا ایک پیر کے سہارے کھڑے رہنا یا ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ کو اس طویل عرصہ تک بے مصروف بنادیا کہ وہ سوکھ جائے یا مسلسل الٹے لٹکے رہنا، ساری عمر ہر موسم اور بارش میں برہنہ رہنا، تمام عمر سنیاسی یعنی کنوارا رہنا یا اپنے تمام اہل خانہ سے الگ ہوکر بلند پہاڑوں کے غاروں میں گیان کرنا وغیرہ بھی يوگا عبادت کے مختلف طریقے ہیں- اسے ہندو يوگی ہندو دھرم یا دیدانت یعنی تصوف کے مظاہر قرار دیتے ہیں-(مقدمہ ارتو شاستر:130)

ہندو مت اور بدھ مت میں جنتر منتر اور جادو کے ذریعے عبادت کا طریقہ بھی رائج ہے، عبادت کا یہ طریقہ اختیار کرنے والوں کو " تانترک" فرقہ کہتے ہیں یہ لوگ جادوئی منتر جیے آدم منی :پدمنی او: يوگا کے انداز میں گیان دھیان کو نجات کا ذریعہ سمجتھے ہیں قدیم ویدھ لٹریچر بتاتا ہے کہ سادھو اور ان کے بعض طبقات جادو اور سفلی عملیات پر مہارت حاصل کرنے کے عمل دھرایا کرتے تھے اس فرقہ میں تیز بے ہوش کرنے والی شرابوں کا پینا، گوشت اور مچھلی کھانا، جنسی افعال کا بڑھ چڑھ کر کرنا، غلاظتوں کو غذا بنانا مذھبی رسموں کے نام پر قتل کرنا جیسی قبیح اور مکروہ حرکات بھی عبادت سمجھی جاتی ہیں- (مقدمہ ارتھ شاستر:117)

ہندو بزرگوں کے مافوق الفطرت اختیارات

جس طرح مسلمانوں کے غوث، قطب، نجیب، ابدال، ولی۔ فقیر اور درویش وغیرہ مختلف مراتب اور مناصب کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں، جنہیں مافوق الفطرت قوت اور اختیارات حاصل ہوتے ہیں اسی طرح ہندوؤں میں رشی، منی، مہاتما، اوتار، سادھو، سنیاسی، یوی، گیانی، شاستری اور چتھرویدی وغیرہ مختلف مراتب اور مناصب کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں جنہیں مافوق الفطرت قوت اور اختیارات حاصل ہوتے ہیں- ہندوؤں کی مقدس کتابوں کے مطابق یہ بزرگ ماضی، حال اور مستقبل کو دیکھ سکتے ہیں، جنت میں دوڑتے ہوئے جاسکتے ہیں، دیوتاؤں کے دربار میں ان کا بڑے اعزاز سے استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ اتنی زبردست جادوئی طاقت کے حامل ہوتے ہیں کہ اگر چاہیں تو پہاڑوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں، یہ ایک نگاہ سے دشمنوں کو جلا کر خاکستر کر سکتے ہیں، تمام فصلوں کو برباد کرسکتے ہیں، اگر خوش ہوجائيں تو تو پورے شہر کو تباہی سے بچالیتے ہیں، دولت میں زبردست اظافہ کرسکتے ہیں، قحط سالی سے بچاسکتے ہیں، دشمنوں کے حملے روک سکتے ہیں- (مقدمہ ارتھ شاستر:99-100)-

منی وہ مقدس انسان ہیں جو کوئی کپڑا نہیں پہنتے، ہوا کو بطور لباس استعمال کرتے ہیں، جن کی غذا ان کی خاموشی ہے، وہ ہوا میں اڑ سکتے ہیں اور پرندوں سے اوپر جاسکتے ہیں، یہ منی تمام انسانوں کے اندر پوشیدہ خیالوں کو جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے وہ شراب پی ہوئی ہے جو عام انسانوں کے لیے زہر ہے- (بحوالہ سابق)

شیو جی کے بیٹے لارڈ گنیش کے بارے میں ہندوؤں کا عقیدہ ہےکہ وہ کسی بھی مشکل کو آسان کرسکتے ہیں اگر چاہیں تو کسی کے لیے بھی مشکل پیدا کرسکتے ہیں اس لیے بچہ جب پڑھنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو سب سے پہلے اسے گنیش کی پوجا کرنا ہی سکھایا جاتا ہے-(بحوالہ سابق: 98)

ہندو بزرگوں کی بعض کرامات

ہندوؤں کی مقدس کتب میں اپنے بزرگوں سے منسوب بہت سی کرامات کا تذکرہ ملتا ہے ہم یہاں چند مثالوں پر ہی اکتفا کریں گے-

1/ ہندوؤں کی مذھبی کتاب رامائن میں رام اور راون کا طویل قصہ دیا گیا ہے کہ رام اپنی بیوی سیتا کے ساتھ جنگلات میں زندگی بسر کررہا تھا کہ لنکا کا راجہ راون اس کی بیوی اغوا کرکے لے گیا راو نے ہنو مان (بندروں کے شہنشاہ) کی مدد سے خونی جنگ کے بعد اپنی بیوی واپس حاصل کرلی لیکن مقدس قوانین کے تحت اسے بعد میں الگ کردیا گیا- سیتا یہ غم برداشت نہ کرسکی اور اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے لیے آگ میں کود گئی، اگنی دیوتا جو مقدس آگ کے مالک ہیں انہوں نے آگ کو حکم دیا کہ بجھ جائے اور سیتا کو نہ جلائے اس طرح سیتا دہکتی آگ سے سالم نکل آئی اور اپنے بے داغ کردار کا ثبوت فراہم کردیا- (مقدمہ ارتھ شاستر: 101-102)

2/ ایک بار بدھ مت کے درویش (بھکشو) نے یہ معجزہ دکھایا کہ ایک پتھر سے ایک ہی رات میں اس نے ھزاروں شاخوں والا آم کا درخت پیدا کردیا-

3/ محبت کے دیوتا (کاما) اور اس کی دیوی (رتی) اور ان دونوں دیوی دیوتاؤں کے دوست خاص طور سے موسم بہار کے خدا جب باہم کھیلتے تو "کاما دیوتا" اپنے پھولوں کے تیروں سے "شیو دیوتا" پر بارش کرتے اور شیو دیوتا اپنی تیسری آںکھ سے ان تیروں پر نگاھ ڈالتے تو تو یہ تیر بھجی ہوئی خاک کی شکل میں تباہ ہوجاتے اور وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہتا کیونکہ وہ جسمانی شکل سے آزاد تھا- (مقدمہ ارتھ شاستر:90)

ہندو مت کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ایک بڑے فرقے 'اہل تصوف" کے عقائد اور تعلیمات ہندو مذھب سے کس قدر متاثر ہیں عقیدہ وحدۃ الوجود اور حلول یکساں- عبادت اور ریاضت کے طریقے یکساں- بزرگوں کے مافق الفطرت اختیارات یکساں اور بزرگوں کی کرامات کا سلسلہ بھی یکساں- اگر کوئی فرق ہے تو وہ ہے صرف ناموں کا- تمام معاملات میں ہم آہنگی اور یکسانیت پالینے کے بعد ہمارے لیے ہندوستان کی تاریخ میں ایسی مثالیں باعث تعجب نہیں رہتیں کہ ہندو لوگ، مسلمانوں پیروں فقیروں کے مرید کیوں بن گئے اور مسلمان ہندو سادھوں اورجوگیوں کے گیان دھیان میں کیوں حصہ لینے لگے- اس اختلاط کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جس اسلام پر آج عمل پیرا ہے اس پر کتاب و سنت کی بحائے ہندو مذھب کے نقوش کہیں زیادہ گہرے اور نمايا ہے۔

اس سلسلہ میں چند صوفیوں کی مثالیں ملاحظہ کیجیے:

1/ ذھدۃ العارفین قدوۃ السالکین حافظ غلام قادر اپنے زمانے کے قطب الاقطاب اور غوث الاغواث اور محبوب خدا تھے جن کا فیض روحانی ہر عام و خاص کے لیے اب تک جاری ہے یہی وجہ تھی کہ ہندو، سکھ، عیسائی، ہر قوم اور فرقہ کے لوگ آپ سے فیض روحانی حاصل کرتے تھے، آپ کے عرس میں تمام فرقوں کے لوگ حاضر ہوتے تھے آپ کے تمام مریدان با صفا فیض روحانی سے مالا مال اور پابند شرع شریف ہیں- (ریاض السالکین ص:272 بحوالہ شریعت و طریقت ص:477)

2/ اسماعیلیہ فرقہ کے پیر شمس الدین صاحب کشمیر تشریف لائے تو تقیہ کرکے اپنے آپ کو یہاں کے باشندوں کے رنگ میں رنگ لیا ایک دن ہندو دسہرے کی خوشی میں گربا رقص کررہے تھے پیر صاحب بھی اس رقص میں شریک ہوگئے اور 28 گربا کیت تصنیف فرمائے-

3/ پیر صدر الدین صاحب (اسماعیلی) نے ہندوستان میں آکر اپنا ہندووانہ نام "ساہ دیو" (بڑا درویش) رکھ لیا اور لوگوں کو بتایا کہ وہ وشنو کا دسواں اوتار حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکل میں ظاہر ہوچکا ہے، اس کے پیرو صوفیوں کی زبان میں محمد اور علی کی تعریف کے بھجن گیا کرتے تھے- (اسلامی تصوف میں غیر اسلامی تصوف کی آمیزش، ص:32-33)

یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ۔

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...