"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"
(قسط نمبر43)
دوسرے مسالک سے قطع تعلق:
مسالک سے وابستہ کٹڑ لوگ اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ جو افراد ان کے خیال میں کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، ان سے وہ قطع تعلق کر لیں، ان سے رشتے ناطے توڑ لیں، ان سے اپنی مساجد الگ کر لیں، ان سے نفرت کریں اور ان سے الگ تھلگ زندگی گزاریں۔ بعض لوگ اس انتہا تک چلے جاتے ہیں کہ ان کے نزدیک مخالف مسلک کے کسی فرد سے ہاتھ ملانے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر پنجاب کا ایک سچا واقعہ پیش کرنا غیر مناسب نہ ہو گا۔ ایک مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک مولوی صاحب تک جب یہ بات پہنچی تو وہ اگلے جمعہ کے دن فتوی دینے والے صاحب کی مسجد کے باہر کھڑے ہو گئے اور ہر نمازی سے ہاتھ ملانے لگے۔ کسی نے استفسار کیا تو فرمایا: ان کے نکاح توڑ رہا ہوں۔
ماورائے مسلک حضرات اور مسالک سے وابستہ اعتدال پسند افراد بھی اس نقطہ نظر کو درست نہیں سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کو مل جل کر رہنا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہیں، مل کر نمازیں پڑھنی چاہیں اور اچھا رویہ رکھنا چاہیے۔
مسالک سے وابستہ حضرات کے دلائل
مسالک سے وابستہ افراد کی دلیل یہ آیات اور احادیث ہیں:
ترجمہ:
"اے اہل ایمان! تم سے پہلے کے اہل کتاب اور کفار میں سے جب لوگوں نے اپنے دین کو مذاق اور کھیل کود بنا لیا ہے، انہیں دوست مت بناؤ۔ اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ 5:57)
وحدثنی محمد بن عبداللہ بن نمیر وزھیر من حرب۔ قالا: حدثنا عبداللہ بن یزید۔ قال: حدثنی سعید من ابی ایوب۔ قال: حدثنی ابو ھانی، عن ابی عثمان مسلم بن یسار، عن ابی ھریرۃ، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، انہ قال، سیکون فی آخر امتی اناس یحدثونکم مالم نسمعو انتم ولاآباوکم۔ فایا کم اایاھم۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بعد کے زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو تم سے ایسی احادیث بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے۔ ان سے بچ کر رہنا۔ (مسلم۔ مقدمہ، حدیث 6)
حدثنا موسی بن اسماعیل، ثنا عبد العزیز بن ابی حازم، قال: حدثنی بمنی عن ابیہ عن ابن عمر، عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: القدریۃ مجوس ھذہ الامۃ: ان مرضوافلاتعودوھم، وان ماتوا فلا تشھدوھم۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قدریہ فرقے کے لوگ اس امت کے مجوس ہیں۔ اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت کے لیے مت جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں بھی شرکت نہ کرو۔ (ابوداؤد ، کتاب السنۃ، حدیث 4691)
ان دلائل کے جواب میں اعتدال پسند اور ماورائے مسلک حضرات یہ کہتے ہیں کہ ان آیات اور احادیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اسلام دشمنی کا رویہ رکھتے ہوں اور جان بوجھ کر مسلمانوں میں گمراہی پھیلا رہے ہوں۔ موجودہ مسالک کا یہ معاملہ نہیں ہے۔ ان سب میں جو اختلاف ہے وہ تاویل کا اختلاف ہے جس پر ان آیات اور احادیث کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اوپر بیان کردہ آیت میں بھی ذکر ہے کہ جب وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں تو ان کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم دوسرے کی بات کو غلط بھی سمجھتے ہوں، تب بھی ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنا چاہیے تا کہ ہم درست بات کو ان تک پہنچا سکیں۔
ماورائے مسلک حضرات کے دلائل:
ماورائے مسلک لوگ اپنے نقطہ نظر کے حق میں یہ آیات و احادیث پیش کرتے ہیں:
ترجمہ:"جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے، ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے اللہ نے تمہیں منع نہیں فرمایا ہے۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہے۔ اللہ تو تمہیں انہی سے دوستی سے منع فرماتا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی، تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج کے خلاف جتھہ بندی کی۔ جس نے انہیں دوست بنایا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔" (الممتحنہ 9-8-60)
حدثنا عبید بن اسماعیل: حدثنا ابو اسامۃ، عن ابیۃ، عن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما قالت: قدمت علی امی وھی مشرکۃ، فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، فاستفتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، قلت: ان امی قدمت وھی راغبۃ افاصل امی؟ قال: نعم، صلی امک
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں میری والدہ مجھ سے ملنے آئیں جبکہ وہ مشرکہ تھیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں پوچھا: "میری والدہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں جبکہ وہ دین سے بیزار ہیں؟ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان سے صلہ رحمی کرو۔ (بخاری، کتاب الہبہ حدیث 2477)
ماورائے مسلک حضرات کہتے ہیں کہ جب غیر مسلم مشرکین اور کفار کا یہ معاملہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک اور صلہ رحمی کرنی چاہیے تو پھر ان مسلمانوں کا معاملہ تو اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے جو ہمارے خیال میں کسی غلط عقیدہ یا عمل میں مبتلا ہیں۔ ہمیں ان کے بارے میں بدگمانی سے کام نہیں لینا چاہیے، ان سے محبت سے پیش آنا چاہیے اور مناسب موقع پر احسن انداز میں ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کر دینی چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ اچھے سلوک کی وجہ سے وہ اپنے غلط عقیدے یا عمل کو چھوڑ دیں لیکن اگر ہم نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا اور کفر و شرک کے فتوں سے ان کی تواضع کی تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہو گا کہ وہ اپنے غلط عقیدے یا عمل پر مزید پختہ ہو جائیں گے۔
منفرد آراء یا تفردات
بعض ماورائے مسلک علماء کا یہ معاملہ رہا ہے کہ انہوں نے کسی اجتہادی مسئلے (یعنی وہ مسئلہ جو قرآن و سنت کی واضح عبارتوں میں درج نہ ہو بلکہ اس میں کسی عالم کو اپنے غور و فکر اجتہاد کرنا پڑے یا پھر جس میں قرآن و سنت کی عبارت کے مفہوم میں اختلاف ہو) میں ایسا نقطہ نظر اختیار کر لیا جو باقی تمام مسالک کے متفقہ نقطہ نظر سے ہٹ کر تھا۔ اس کے نتیجے میں انہیں سب کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے امت کے اجماع یعنی اتفاق رائے کی مخالفت کی ہے۔
ان ماورائے مسلک علماء کہ کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجماع کو وہ بھی حجت مانتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جن مسائل میں اجماع کا دعوی کیا جاتا ہے ، وہ درست نہیں ہے۔ اجماع یا توعہد صحابہ کے اولین دور میں ممکن تھا جب دین کے سبھی عالم صحابہ مدینہ منورہ میں اکٹھے تھے یا پھر موجودہ دور میں ممکن ہے کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجادات نے دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے علماء کے تبادلہ خیال کو ممکن بنا دیا ہے۔ درمیان کے ادوار میں علماء پوری دنیا کے طول و عرض میں پھیل گئے تھے، اس وجہ سے پوری امت کا کسی مسئلے پر اجماع ناممکن تھا۔ اس دور میں کسی خاص علاقے کے مسلمانوں کا اجماع تو عملًا ممکن تھا مگر پوری امت کا اجماع ممکن نہ تھا۔
ماورائے مسلک علماء کے نزدیک کسی اجتہادی مسئلہ میں ایسا نقطہ نظر اختیار کرنا جو اس سے پہلے کسی عالم کی رائے نہ ہو، کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں ایسا معاملہ تھا کہ ان کے رائے بسا اوقات دوسرے صحابہ سے مختلف ہوا کرتی تھی مگر چونکہ وہ خود اپنے دلائل کی بنیاد پر مطمئن ہوتے تھے، اس وجہ سے اپنی رائے تبدیل نہ کیا کرتے تھے۔ ہاں اگر دوسرے عالم صحابی کے دلائل سے وہ قائل ہو جاتے تو اپنی رائے تبدیل کر دیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رائے باقی صحابہ سے کئی معاملات میں مختلف تھی۔ اس طرح تابعین بھی صحابہ کرام کی آراء سے اختلاف رائے کر لیا کرتے تھے۔ ایسا کرنے کو کسی صحابی نے غلط نہیں کہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس مسئلے پر تفصیلی بحث ماڈیول CS07 میں "تقلید" کے باب کے تحت ملاحظہ فرمائے۔جو کہ اس سلسلہ کے بعد شروع کیا جائے گا.....
جماعت المسلمین:
جو حضرات جو کسی بھی مخصوص فرقے یا مسلک سے تعلق نہیں رکھتے یہ دعویٰ ہے ان کا، ان میں ایک گروہ "جماعت المسلمین" کا بھی ہے۔ یہ پاکستان کا ایک گروہ ہے جس کے بانی مسعود احمد صاحب تھے۔ انہوں نے پہلے سے موجود تمام فرقوں پر کڑی تنقید کی اور ان سے علیحدہ ہو کر ایک گروہ بنا کر اس کے امیر کی بیعت کی دعوت دی۔ نمازوں کے لیے انہوں نے سب فرقوں کی مساجد سے الگ مساجد تعمیر کیں اور سب سے علیحدہ ہو کر اپنے دینی تشخص "جماعت المسلمین" پر زور دیا۔
جماعت المسلمین کا توحید و شرک اور تقلید وغیرہ کے ضمن میں وہی موقف ہے جو عام سلفی حضرات کا ہے مگر وہ اس بات پر سختی سے اصرار کرتے ہیں کہ انسان کو کسی فرقے سے منسلک نہیں سمجھنا چاہیے اور صرف ایک امام کی اطاعت کرنی چاہیے۔
جماعت المسلمین میں اور عام ماورائے مسلک حضرات میں فرق یہ ہے کہ عام ماورائے مسلک حضرات سبھی مسالک کے لوگوں کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان سے شادی بیاہ کا تعلق بھی قائم کر لیتے ہیں مگر جماعت المسلمین کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ اپنے نقطہ نظر کے حق میں جماعت المسلمین کے احباب یہ احادیث پیش کرتے ہیں:
حدثنا محمد بن المثنی: حدثنا الولید بن مسلم: حدثنا ابن جابر: حدثنی بسر بن عبید اللہ الحضرمی: انہ سمع ابا ادریس الخولانی: انہ سمع حذیفۃ بن الیمان یقول: کان الناس یسالون رسول اللہ ﷺ عن الخیر، وکنت اسالہ عن الشر، مخافۃ ان یدرکنی فقلت: یا رسول اللہ، انا کنا فی جاھلیۃ و شر، فجاء نا اللہ بھذا الخیر فھل بعد ھذا الخیر من شر؟ قال: تعم قلت: وھل بعد ذلک الشر من خیر؟ قال: نعم وفیۃ دخن۔ قلت و ما دخنہ؟ قال: قوم یھدون بغیر ھدیی، تعرف منھم وتنکر۔ قلت فھل بعد ذلک الخیر من شر؟ قال: تعم دعاۃ علی ابواب جھنم، من اجابھم الیھا قذفوہ فیھا۔ قلت: یا رسول اللہ صفھم لنا، قال: ھم من جلد تنا، ویتکلمون بالسنتنا۔ قلت فما تامرنی ان ادرکنی ذلک؟ قال: تلزم جماعۃ المسلمین و امامھم۔ قلٹ فان لم یکن لھم جماعۃ ولا امام؟ قال: فاعرزل تلک الفرق کلھا، ولو ان تعض باصل شجرۃ، حتی بدرکلک الوت و انت علی ذلک۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ سے اس اندیشے کے باعث شر سے متعلق سوال کرتا تھا کہ کہیں یہ مجھ تک آن نہ پہنچے۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ" ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ یہ خیر ہم تک لے آیا۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ فرمایا: جی ہاں۔ میں نے عرض کیا: کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں مگر اس میں کچھ دھواں سا ہو گا۔ عرض کیا: وہ دھوں کیا ہو گا؟ فرمایا: ایسی قوم جو میری ہدایت کی پیروی نہ کرے گی۔ ان میں سے بعض باتیں تو اچھی ہوں گی اور بعض بری ہوں گی۔
میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا؟ فرمایا: ہاں۔ بلانے والے جہنم کے دروازوں کی طرف جلائیں گے، جو ان کی پیروی کرے گا، وہ اسے اس میں پھینک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی صفات ہمارے لیے بیان فرما دیجیے۔ فرمایا: وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے۔ عرض کیا: تو اگر میں ان لوگوں کو پاؤں تو اس معاملے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہیے۔ میں نے عرض کیا: اگر ان کی جماعت اور امام نہ ہو تو پھر؟ فرمایا: ان سب فرقوں سے الگ ہو جائے، اگرچہ اس کے لیے آپ کو درخت کی جڑ چبانی پڑے یہاں تک کہ اسی حالت
میں فوت ہو جائیں۔ (بخاری کتاب الفتن حدیث 6673۔ مسلم کتاب الامارہ حدیث 1847)
اسی طرح متعد احادیث ہیں جن میں مسلمانوں کو جماعت اور امام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کی بنیاد پر جماعت المسلمین کے احباب کا موقف یہ ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان کی جماعت المسلمین میں شامل ہو کر ان کے امام کی اطاعت کرے۔
اس کے جواب میں عام مسلمان کہتے ہیں کہ ان احادیث سے واضح ہے کہ ان میں جماعت المسلمین سے مراد مسلمانوں کا نظم اجتماعی یعنی ان کی حکومت ہے۔ احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف گروہوں اور جماعتوں کی موجودگی میں صرف اور صرف حکومت کا ساتھ دینے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا تا کہ انارکی نہ پھیلے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جماعت المسلمین نامی کسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی جائے اور اس کے امیر کی بیعت کر لی جائے۔ جو مسلمان کسی منظم حکومت کے تحت رہتے ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں، وہ عین اس حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اپنے نقطہ نظر کے حق میں عام مسلمان یہ احادیث پیش کرتے ہیں۔
حدثنا مسدد، عن عبد الوارث، عن الجعد، عن ابی رجاء عن ابن عباس عن النبی ﷺ قال: من کرہ من امیرہ شیا فلیصبر فانۃ من خرج من السلطان شبرا مات میتۃ جاھلیۃ
سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے، کیونکہ جو شحص بھی حکومت سے بالشت بھر نکل گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (بخاری کتاب الفتین حدیث 6645 ، مسلم کتاب الامارہ)
حدثنا ابو النعمان: حدثنا حماد بن زید، عن الجعد ابی عثمان: حدثنیی ابو رجاء العطاردی قال: سمعت ابن عباسؓ عن النبی ﷺ قال: (من رای من امیرہ شیا یکرھہ فلیصبر علیہ فانہ من فارق الجماعۃ شبرا فمات، الا مات میتۃ جاھلیۃ)۔
سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص بھی جماعت سے بالشت بھر نکل گیا، وہ جاہلیت کی موت مر۔ (بخاری کتاب الفتن حدیث 6646۔ مسلم کتاب الامرہ)
عام مسلمانوں کے برعکس جماعت المسلمین کے احباب ان احادیث میں جماعت سے مراد اپنی جماعت المسلمین اور اس کے امیر سے مراد سے اپنی جماعت کا میر لیتے ہیں-
عام مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکومت کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اگرچہ حکمران میں کچھ ناپسندیدہ باتیں موجود ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر حکومت کی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کر دی جائے تو معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے، اس سے جرائم پیشہ گرہ منظم ہوتے ہیں اور پورا معاشرہ تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کی برائیوں کا اثر پھر بھی محدود رہتا ہے مگر اطاعت سے نکلنے کیا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر ہر شخص ڈاکہ زنی، ریپ اور قتل کا شکار ہونے لگتا ہے اور کسی کی جان، مال، اور عزت محفوظ نہیں رہتی۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ان احادیث میں جماعت المسلمین سے مراد تمام مسلمانوں کی جماعت اور ان کی حکومت ہے، کوئی مخصوص گروپ یا تنظیم یہاں زیر بحث نہیں ہے۔
اگر اس سے مراد کوئی مخصوص تنظیم لی جائے اور اس کے امیر کی اطاعت کا عزم کیا جائے تو پھر ریاست کے اندر ریاست وجود میں آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک شخص اپنی تنظیم بنا کر دوسروں کو اپنی اطاعت کی دعوت دے اور اس کے لیے انہی احادیث کو پیش کرے، تو پھر یہی کام دوسرا بھی کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تنظیموں اور جماعتوں کی کثرت ہوتی ہے اور وہ سب ایک دوسرے پر تنقید کر کے انہیں اطاعت امیر کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیتے ہیں۔ پھر ان میں لڑائیاں بڑھتی ہیں اور فرقہ واریت وجود میں آتی ہے۔ ان تفصیلات کے دلیل کے طور پر وہ پاکستان کے معاشرے کو پیش کرتے ہیں جو تادم تحریر اسی کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے۔
عام ماورائے مسلک حضرات کا کہنا یہ ہے کہ حکومت سے ہٹ کر کوئی بھی جماعت بنانے اور اس کے امیر کی اطاعت کی دعوت دینے کے نتیجے میں فرقہ واریت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ ایک نیا فرقہ وجود میں آ جاتا ہے۔ جیسے جماعت المسلمین کی دعوت کے نتیجے میں ایک الگ گروہ بنا، جس نے اپنی مساجد الگ کر لیں تو اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ جہاں پہلے مثلا پانچ فرقے موجود تھے، ان میں ایک چھٹے فرقے کا اضافہ ہو گیا۔
جاری ہے......
whatsapp:0096176390670
whatsapp:00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccentr
www.mubashirnazir.org
http://islam-aur-khanqahinizam.blogspot.com
طالب دعا: فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
----------------------------
Pages
Wednesday, 25 May 2016
مسلمانوں کے مذہبی مسالک، قسط43
مسلمانوں کے مذہبی مسالک، 42
Tarar:
"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"
(قسط نمبر42)
باب 11: ماورائے مسلک مسلمان اور ان کے نظریات:
اب تک ہم سلفی اور غیر سلفی حضرات کے اختلافات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اس باب میں ہم ماورائے مسلک مسلمانوں اور ان کے نظریات کا مطالعہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ وہ سلفی اور غیر سلفی حضرات سے کن امور پر اختلاف کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ ماورائے مسلک مسلمان سے ہماری مراد وہ لوگ ہیں جو کسی مخصوص مسلک پر یقین نہیں رکھتے ہیں بلکہ خود کو ان مسلکی حد بندیوں سے ماوراء سمجھتے ہیں۔ ہماری اس تعریف میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے یا حدیث و سنت کا انکار کرتے ہیں۔ اس میں وہ گروہ بھی شامل نہیں ہیں جو سبھی فرقوں کی تردید اور تکفیر کرتے کرتے خود ایک الگ فرقہ بن جاتے ہیں اور اپنی مساجد اور معاملات الگ کر لیتے ہیں۔
ماورائے مسلک مسلمان کوئی ایک منظم گروہ نہیں ہیں۔ اس میں متعدد انفرادی علماء اور ان کے معتقدین کے حلقے، بعض صوفی گروہ، اور ایسی تحریکیں شامل ہیں جو خود کو کسی ایک مسلک سے وابستہ نہیں سمجھتیں۔ اس کے علاوہ ہم ان عام دنیا دار لوگوں کا شمار بھی ان میں کر سکتے ہیں جنہیں مسلکی اختلافات کا زیادہ علم نہیں ہے۔ ماورائے مسلک مسلمانوں میں زیادہ تر جدید تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔جن کے نام سابقہ اقساط میں گزر چکیں ہیں-
تمام ماورائے مسلک مسلمانوں کے نظریات ایک جیسے نہیں ہیں، اس وجہ سے ان کا موازنہ دیگر مسالک سے بحیثیت ایک گروہ کے نہیں کیا جا سکتا ہے البتہ ان میں چند ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں مختلف مسالک سے وابستہ لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات کا تفصیلی جائزہ ہم قدامت پرست اور جدت پسند مسلمانوں سے متعلق ماڈیول میں لیں گے مگر یہاں ہم ان کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کریں گے جو انہیں مسالک سے وابستہ لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں۔
پہلا فرق یہ ہے کہ مسالک سے وابستہ لوگ اپنے اپنے مسلک اور ان کی اہم شخصیات سے شدید محبت و عقیدت کا تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی زندگیوں کو مسلک کی بقا کے لیے وقف کرتے ہیں۔ اپنے مسلک کے دفاع کو وہ اسلام کا دفاع اور اس کی بقا کو اسلام کی بقا سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماورائے مسلک مسلمان اسلام کو مسلک اور فرقے سے ماورا سمجھتے ہیں ۔ یہ کسی مخصوص مسلک کی تائید نہیں کرتے ہیں۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ مسالک سے وابستہ لوگ بلعموم اپنے سے مختلف نقطہ نظر کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان کے نزدیک مسلکوں کی جنگ، اسلام اور کفر کی جنگ ہوا کرتی ہے۔ دوسرے مسلک کے پھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک پھیل رہا ہے یا بدعات فروغ پا رہی ہیں۔ چنانچہ یہ ہر قیمت پر دوسرے مسلک کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے دین کی صحیح خدمت تصور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ماورائے مسلک مسلمانوں کی پالیسی "جیو اور جینے دو" کی رہی ہے۔ یہ لوگ پلورل ازم پر یقین رکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاملے میں ایک سے زائد نقطہ نظر موجود ہو سکتے ہیں اور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر جس نقطہ نظر کو چاہے اختیار کر لے۔
تیسرا فرق یہ ہے کہ ماورائے مسلک حضرات عام طور پر ان مسائل کو اپنی تقریر و تحریر کا موضوع نہیں بناتے ہیں جو کہ مختلف مسالک کے لیے کفر و ایمان اور زندگی و موت کا مسئلہ ہیں۔ ویسے زیادہ تر ماورائے مسلک حضرات، ان اختلافی عقائد میں سلفی نقطہ نظر کے قریب ہیں۔ یہ مانتے ہیں کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالی ہے، صرف وہی حاضر و ناظر ہے اور اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔ یہ لوگ مزارات پر جا کر وہ رسوم انجام نہیں دیتے جو کہ سلفی حضرات کے نزدیک شرک و بدعت کے دائرے میں آتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مگر افضل البشر مانتے ہیں-اولیاء کرام کو اپنی دعاؤں کی قبولیت کیلئے وسیلہ بهی نہیں بناتے-
ان سب کے باوجود ماورائے مسلک حضرات ایک جانب خود کو سبھی مکاتب فکر سے الگ رکھتے ہیں اور دوسری طرف سب سے ملتے جلتے ہیں، سبھی کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں، ان سے رشتہ داریاں کرتے ہیں، اور انہیں اپنا مسلمان بھائی سمجھتے ہیں۔
چوتھا فرق یہ ہے کہ عام طور پر ہر مسلک نے اپنی اپنی مساجد الگ بنا لی ہیں اور ان میں کسی اور دعوت و تبلیغ کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماورائے مسلک مسلمانوں کی اپنی الگ مساجد نہیں ہیں۔ یہ ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کر لیتے ہیں۔
پانچواں فرق یہ ہے کہ ماورائے مسلک حضرات نے زیادہ تر اپنی تقریر و تحریر کا موضوع ان مسائل کو بنایا ہے جو دین اسلام کو بحیثیت مجموعی درپیش ہیں جیسے مستشرقین کے اسلام پر اعتراضات اور ان کا جواب، قرآنی علوم، حدیث سے متعلقہ علوم، دور جدید میں پیدا ہونے والے فقہی مسائل، جدید اسلامی سیاسیات و معاشیات، جدید فلسفہ کے اسلام پر اعتراضات اور ان کا جواب، تاریخ اسلام وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس مسالک سے وابستہ افراد نے زیادہ تر ان موضوعات پر لکھا ہے جو ان کے مسلکی اختلافات پر مبنی ہیں۔ مسالک سے وابستہ بعض علماء نے بھی ان گلوبل مسائل پر لکھا ہے البتہ ان کی تعداد کم رہی ہے۔ اب اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
چھٹا فرق ان ماورائے مسلک حضرات کے تفردات ہیں۔ بعض ایسے مسائل ہیں جن میں تمام مسالک ایک نقطہ نظر پر متفق ہیں مگر ماورائے مسلک حضرات کے بعض لوگوں کی رائے ان سے کچھ مختلف اور منفرد ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام کے تمام مسالک مل کر ان افراد کی تردید کرتے ہیں۔
ساتواں فرق یہ ہے کہ مسالک سے وابستہ افراد اپنے اپنے اکابرین کا مانتے ہیں اور ان کے فیصلوں کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ ہر مسلک میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو اس مسلک کے بڑے علماء کہلاتے ہیں، بقیہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ماورائے مسلک حضرات میں ایسی کوئی متفق علیہ شخصیات نہیں ہیں۔ یہ لوگ سبھی مکاتب فکر کی شخصیات کا احترام کرتے ہیں، ان کے علمی کام سے استفادہ کرتے ہیں مگر اپنے ذہین سے سوچتے ہیں اور سابقہ علماء سے اختلاف رائے کر لیتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو ماورائے مسلک حضرات اور مسالک سے وابستہ افراد کے درمیان بنیادی اختلافی مسائل یہ ہیں۔
٭ کیا خود کو کسی مسلک سے وابستہ کرنا ضروری ہے؟
٭ جس شخص کے عقائد ہمارے نزدیک غلط ہوں، کیا اس پر کفر کا فتوی عائد کرنا ضروری ہے؟
٭ جن افراد کے عقائد و اعمال میں کوئی غلطی ہو، کیا ان کے ساتھ ملنا جلنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟
٭ کیا کسی مسئلے میں انفرادی رائے اختیار کی جاسکتی ہے؟
ان مسائل کے علاوہ ماورائے مسلک حضرات اور مسلک سے وابستہ مسلمانوں میں سب سے بڑا اختلافی مسئلہ اجتہاد اور تقلید کا ہے۔ اس کی CS07 تفصیل کا مطالعہ ہم ماڈیول میں کریں گے-
اوپر بیان کردہ مسائل کے بارے میں اس سطح کا لٹریچر موجود نہیں ہے جیسا کہ سابقہ مسائل میں موجود ہے، مگر جو کچھ جانبین کی تحریروں میں بکھرا پڑا ہے، اس کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔
مسلک اور فرقہ سے وابستگی:
ہر مسلک اور فرقہ سے وابستہ لوگوں کا یہ نقطہ نظر ہے کہ انسان جس مسلک کو درست سمجھے، اسے اس کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہو جانا چاہیے اور اس مسلک کا نام اپنا لینا چاہیے۔ مسالک سے وابستہ لوگ چونکہ اپنے مسلک کو حق اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں، اس وجہ سے ان کے ہاں اپنے مسلک سے وابستگی آخری درجے میں ہوتی ہے اور دوسرے مسالک کو بڑی مشکل برداشت کیا جاتا ہے۔ اگر ایک مسلک کو کسی مقام پر قوت و اقتدار حاصل ہو جائے تو وہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے کہ ہر اس مسلک کو جسے وہ غلط سمجھتا ہو، دبانے کی ہر ممکن کوشش کرے اور اس کے لیے حکومت کے تمام وسائل سے کام لے۔ مسالک سے وابستہ بعض حضرات تو دوسرے مسالک کے لوگوں کا قتل بھی جائز سمجھتے ہیں اور ان کی مساجد میں خود کش حملوں کو کار ثواب سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس ماورائے مسلک حضرات کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمیں وہی ٹائٹل اختیار کرنا چاہیے جو اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے یعنی کہ "مسلم"۔ مسلمان کوئی فرقہ یا گروہ نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کو مسلم کہا جائے گا جس نے اپنا سر اللہ تعالی کے حکم کے آگے جھکایا اور اس کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام پر وہ ایمان لے آیا۔ اگر کوئی شخص ہمارے خیال میں کسی غلط عقیدے یا عمل میں مبتلا ہے تو اسے خیر خواہی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ مان جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اس ضمن میں حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کسی پر اپنا مسلک مسلط نہ کرے بلکہ امر بالمعروف نہی عن المنکر کے تحت ایسی نیکیوں کو ترویج دے جسے تمام مسلمان نیکی مانتے ہیں جیسے نماز، زکوۃ، عدل وغیرہ اور ایسی برایئوں سے منع کرے جو تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہیں جیسے ناانصافی، ظلم وغیرہ۔
مسالک سے وابستہ افراد کے دلائل:
ترجمہ"جو شخص رسول کی مخالفت کرتا ہے بعد اس کے کہ ہدایت کو اس کے لیے واضح کر دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے ہم اسی جانب چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جگہ ہے۔ (النسا 4:115)
مسالک سے وابستہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان جس راہ پر چل رہے ہوں، سبھی کو اسی راہ پر چلنا چاہیے، جو ایسا نہ کرے وہ غلط اور گمراہ ہے۔ ماورائے مسلک لوگ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت گناہوں اور فسق و فجور میں پڑ جائے تو کیا اس آیت کا حکم یہ ہے کہ پھر بھی انہی کی پیروی کی جائے؟ ایسا نہیں ہو سکتا اس لیے یہ وضح ہے کہ آیت میں سبیل المومنین سے مراد دین ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اسی سے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت ہوتی ہے۔
ماورائے مسلک حضرات کے دلائل:
اپنے نقطہ نظر کے حق میں ماورائے مسلک حضرات یہ آیت پیش کرتے ہیں:
ترجمہ" اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہارا انتخاب کر لیا ہے اور دین میں تمہارے لیے کوئی تنگی نہیں چھوڑی۔ یہ تمہارے والد ابراہیم کا دین ہے۔ اس نے تمہارا نام اس سے پہلے بھی اور اب بھی مسلم ہی رکھا ہے تا کہ رسول تم پر گواہ ہو جائیں اور تم انسانوں پر گواہ ہو جاؤ۔ تو نماز قائم کرو، زکوۃ دو، اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھامے رہو، وہی تمہارا مولا ہے، کتنا ہی اچھا مولا اور کتنا ہی اچھا مددگار۔ (الحج 22:78)
ماورائے مسلک حضرات کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں اپنا نام "مسلم" ہی رکھنا چاہیے اور دوسرے مسلمانوں کے بارے میں اچھے گمان سے کام لینا چاہیے۔ اگر ان میں کوئی غلطی نظر آئے تو اس کی احسن انداز میں اصلاح کر دینی چاہیے اور دوسروں کی غلطیوں کی بجائے اپنی غلطیوں کی اصلاح کی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔
مسالک سے وابستہ لوگ ماورائے مسلک حضرات کی اس پالیسی پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ ایک نئے فرقے کا اضافہ کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وہ ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ فرض کیجیے کہ کسی مقام پر مسلمانوں کے تین فرقے موجود ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ ہم ان تینوں سے الگ ہیں اور خود کو صرف مسلمان کہلائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہاں عملاً چار فرقے بن جائیں گے، تین روایتی اور چوتھے وہ جو خود کو "صرف مسلمان" کہتے ہیں۔ ماورائے مسلکی حضرات اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ایسا اس وقت ہو گا جب خود کو صرف مسلمان کہلانے والے باقی سب کو گمراہ اور بے دین قرار دیں، ان سے اپنی مساجد الگ کر لیں، ان کی دن رات تردید کرتے رہیں اور ان سے رشتے ناطے توڑ لیں۔ اس کے برعکس اگر وہ سب سے ملیں گے، ان تک مثبت انداز میں اپنا پیغام پہنچائیں گے، ان کے ساتھ نماز پرھیں گے تو اس سے کسی نئے فرقے کا اضافہ نہ ہو گا۔
یہاں یہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ اسی آیت کی بنیاد پر "جماعت المسلمین" نامی ایک گروہ نے ہر طرح کی فرقہ بندی کو شرک قرار دیتے ہوئے ان تمام مسالک سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اس کتاب میں ہم نے ان کا شمار ماورائے مسلک افراد میں نہیں کیا کیونکہ وہ باقی سب مسالک سے الگ اپنی مساجد تعمیر کرتے ہیں اور الگ زندگی بسر کرتے ہیں۔
کفر کا فتوی:
تمام مسالک سے وابستہ افراد کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی شخص پر کفر کا فتوی عائد کرنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کو مسلمانوں کی برادری سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس سے متعلق ایک حدیث بھی ہے جس میں کسی مسلمان کو کافر قرار دینے پر شدید وعید سنائی گئی ہے۔ حدیث یہ ہے۔
حدثنا محمد و احمد بن سعید قالا: حدثنا عثمان بن عمر: اخبرنا علی بن المبارک، عن یحی بن ابی کثیر، عن ابی سلمۃ، عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: اذا قال الرجل لاحیہ یا کافر، فقد باء بہ احدھما۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو "اے کافر" کہہ کر پکارتا ہے تو وہ کفر ان دونوں میں سے ایک جانب پلٹ آتا ہے۔ (بخاری، کتاب الصوم، حدیث 1852)
اس حدیث سے معاملے کی نزاکت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص کو کافر کہا گیا ہے، اگر وہ کافر نہیں ہے تو پھر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے بیان کے سو طریقے سے توجیہ کی جا سکتی ہو، ان میں سے ننانوے توجیہات کفریہ مفہوم رکھتی ہوں اور صرف ایک توجیہ تیمان کے مطابق ہو تو اس شخص کو کافر نہ کہا جائے۔
اس احتیاط کے باوجود مسالک سے وابستہ بہتے سے لوگوں کے ہاں یہ عام معمول ہے کہ وہ خود سے مختلف رائے رکھنے والے کے لیے کافر، مشرک، بے دین، گمراہ، فاسق، فاجر اور بدمذہب کے الفاظ عام استعمال کرتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ دوسری جانب سے بھی پیش آتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جس شخص یا گروہ کے عقائد ان کے خیال میں غلط ہوں، وہ لازماً اس شخص یا گروہ کی غلطی کو واضح کر دیں تا کہ دوسرے لوگ گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے حق میں وہ سابق مسلم علماء کے طرز عمل کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جنہوں نے بعض افراد کو کافر قرار دیا۔
اس کے برعکس ماورائے مسلک حضرات کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کو کافر قرار دینے سے پرہیز کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے لیے اوپر بیان کردہ منفی القابات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے باہمی اختلافات تاویل کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ شرک کوئی بڑی اچھی چیز ہے یا شان رسالت میں گستاخی بڑا نیکی کا کام ہے۔ جو لوگ ایک فریق کے خیال میں شرک میں مبتلا ہیں، وہ اپنے عقائد و افعال کو شرک نہیں سمجھتے بلکہ ان کے خیال میں یہ عقائد و افعل توحید سے متصادم نہیں ہیں۔ اگر ان کی سمجھ میں یہ بات آ جائے یہ عقائد یا افعال شرک ہیں تو وہ فوراً انہیں چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح دوسرے فریق کے خیال میں جو لوگ شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب ہیں، وہ ان عبارات کی ایسی تاویل کرتے ہیں جس سے وہ عبارتیں گستاخانہ نہیں رہ جاتیں۔ اگر ان پر یہ واضع ہو جائے کہ یہ عبارتیں گستاخانہ ہیں تو وہ ان سے فوراً توبہ کر لیں۔
ماورائے مسلک حضرات کے نزدیک کفر کا فتوی عائد کرنے کا منصب صرف اور صرف حکومت کی اتھارٹی کے تحت ہونا چاہیے تا کہ اس کا نہ تو غلط
استعمال ہو سکے اور نہ ہی مسلمانوں میں پھوٹ پڑ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ماورائے مسلک حضرات کی غالب اکثریت پاکستانی پارلیمنٹ کے اس فیصلے کی توثیق کرتی ہے جس کے تحت احمدی حضرات کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا مگر وہ مختلف مسالک سے وابستہ انفرادی علماء کے ایک دوسرے پر جاری کردہ کفر کے فتاویٰ کی تائید نہیں کرتی ہے۔
جاری ہے....
www.islam-aur-khanqahinizam.blogspot.com
islamicstudies267@gmail.com
www.mubashirnazir.org
طالب دعا:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ
خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...
-
(جادو جنات اور علاج قسط نمبر22) *کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار* *مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*' *ترجم...
-
(جادو جنات اور خوف:قسط12) میں برصغیر کا باشندہ اوریورپ میں رہائش پزیرہوں ، میرا جادو سے متاثر ہونے والے لوگوں کا تعاون کرنے والے اہل علم ...
-
*محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور صومِ عاشوراء* تخریجی انداز میں بحث *انتخاب عمران شہزاد تارڑ،ماخوذ از محدث میگزین* مح...