Pages
Sunday, 13 May 2018
*سوشل ویلفیئر*
ایمانداری
ایمانداری
(مصنف نا معلوم،انتخاب عمران شہزاد تارڑ )
اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بہت سے اصول ہیں۔ان میں سے ایک ایمانداری ھے۔
ایک ایماندار شخص کو ہمیشہ کامیاب شخص سمجہا جاتا ھے۔ کیونکہ یہ اصول اسکی رہنمائ صحیح اور درست رستے کی طرف کرتا ھے۔ اور اسے دنیا کے غم و آلام سے محفوظ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اسے اخروی زندگی میں بھی سکھھ اور آرام پہنچاتا ھے۔
میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری کو اختیار کرکے انسان ایک محفوظ راستے کا انتخاب کرتا ھے۔ کیونکہ اگر ہم روزمرہ زندگی کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ھے کہ ایمانداری کا ہمیشہ اچھا صلہ ملتا ھے۔ ایک ایماندار شخص کی ہمیشہ قدر کی جاتی ھے۔ اور اسے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔ ارد گرد کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ اسکے ساتھھ رابطے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ایک ایماندار شخص مینارہ نور کی طرح ھوتا ھے جو زندگی کے اندھیرے اور تنہائ میں رہنمائ کرتا ھے۔ لوگ اپنی مشکلات اور پریشانیاں اسکے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص ہی انکی مشکلات حل کر سکتا ھے۔ اور وہ اس پوزیشن میں ھوتا ھےکہ انکی مشکلات اور پریشانیوں کا صحیح اور درست حل تجویز کر سکے۔
میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری نہ صرف اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے بہترین پالیسی ھے بلکہ آخرت کے لیے بھی ھے۔
ایک ایماندار آدمی کو آخرت میں عزت و احترام سے رکھا جائے گا۔ اللہ تعالٰی ایسے شخص کو جنت الفردوس میں داخل کرے گا۔ اور روز قیامت اسے اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اس خاص دن کسی بھی چیز، عمارت یا درخت کا سایہ نہ ھو گا۔ کیونکہ تمام عمارتیں اور پہاڑ ھوا میں اڑا دئے جائیں گے۔ اور زمین کو برابر کر دیا جائے گا۔ لوگ بہت عظیم تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ھوں گے۔ سورج عین سر پہ چمک رہا ھو گا۔ اس دن عرش کے سایہ کے سواء کوئی سایہ نہ ھو گا۔ ایماندار اور نیک آدم زاد اور آدم زادیاں، مرد جن اور جننیاں عرش کے سایہ تلے ھوں گے۔ وہ تمام کے تمام بے خوف اور بے غم ھوں گے۔ انکے علاوہ باقی تمام مخلوق روز قیامت بہت پریشان اور مفلوک الحال ھو گی۔ اللہ تعالٰی اس دن سب پر رحم فرمائے۔
اب ہم اس نقطے پہ بحث کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص ایمانداری کو چھوڑ کے بے ایمانی اور بد دیانتی کو اختیار کرے تو کیا ھوگا۔
میں سمجھتا ھوں کہ دنیا کی بنیاد اللہ تعالٰی نے نیکی اور خیر پر رکھی ھے۔ کیونکہ بدی ہمیشہ دنیا سے مٹ جاتی ھے۔ یہ قانون قدرت ھے۔ اور اللہ تعالٰی کا اصول ھے۔ مختلف اقوام کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نیکی اور خیر کو برقرار رکھتا ھے۔ اور بدی اور برآئی کو مٹا دیتا ھے۔ بے ایمان اور بد دیانت شخص کو ہمیشہ سزا ملتی ھے۔ ملکی قانون کے تحت یا قدرت کے اصول کے تحت۔ کیونکہ بنی نوع انسان کی اجتماعی دانش اس بات کا تقاضا کرتی ھے کہ انہیں برائی اور برے طور طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے تاکہ دنیا میں امن و آشتی کو فروغ حاصل ھو۔ اور امن پسند لوگ اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ معاشرے کے لیئے ٹھیک نہیں وہ بغیر کسی خوف کے کام کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ تم برے کام اور برے طور طریقے چھوڑ دو اور امن و اخوت سے رھو۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ روز بروز طاقتور اور مظبوط بھی ھوتے چلے جاتے ہیں۔
دراصل یہ صورتحال کا اصل رخ نہیں ھے۔ ایسے لوگ درحقیقت خوف اور غم میں مبتلا ھوتے ھیں۔ ان کا ضمیر ہمیشہ انکے برے طور طریقوں اور برے اعمال کی وجہ سے انہیں ہر وقت ملامت کرتا رہتا ھے۔ وہ اپنے برے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ بےچین اوربے کیف رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھہ ساتھہ انکا اندرونی خلفشار اور پریشانی بڑھتی رہتی ھے۔ ایک وقت ایسا آتا ھے کہ ملکی قانون اور قانون قدرت ان پر لاگو ھوتا ھے۔ اور بالآخر وہ قادر مطلق کے سامنے جھک جا تے ہیں۔ اور برے کاموں اور طور طریقوں سے توبہ کر لیتے ہیں۔ یا باز نہ آنے پر سزا پاتے ہیں۔
زندگی ایک آیئنے کی طرح ھے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے صاف ستھرا اور شفاف رکھیں۔ ایمانداری
کا ئنات کا حسن ھے۔ ہمیں اس حسن میں مزید نکھار اور خوبصورتی پیدا کرنا چاہئیے۔ ہمیں زندگی کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ جو ہمیں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔
دوسری طرف اگر ہم قوانین قدرت اور اقدار پر عمل نہ کریں تو اس سے ہماری زندگی مشکل اور تکلیف دہ ھو جائے گی۔
ایمانداری کو ہم بعض اوقات ایمان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ھے کہ اگر آپ میں ایمان ھے تو آپ ایماںدار ھوں گے۔ کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہی ھے جو ہمیں زندگی میں ایمانداری اور دیانتداری سے رہنا سکھاتا ھے۔ اگر آپ ایک ایماندار شخص ہیں تو یہ بات آپکے شعوراور لاشعور میں ھو گی کہ خدا مجھے دیکھہ رہا ھے۔ اور میں ہر وقت اسکی نگاھوں کے سامنے ھوں۔ یہ عقیدہ آپکو ایک ایماندار شخص بنادے گا۔ آپ ہر وقت اسی عقیدے کو سامنے رکھیں گے۔ اور یہی عقیدہ آپکو بدی کی طاقتوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ آپکو نافرمانی ، سرکشی اور بےایمانی سے محفوظ رکھے گا۔
اب ہم ایمانداری کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔
پہلے پم انفرادی زندگی کو لیتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص ہمیشہ خوش و خرم رہتا ھے۔ اسکے والدین، بیوی، بچے اور بہن بھائی اس سے خوش رہتے ہیں۔ اور اسکا احترام کرتے ہیں۔ وہ اسکی خوبیوں اور اسکی ایماندار فطرت کی تحسین کرتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص اپنے خاندان اور تمام دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ھے۔
اپنی انفرادی زندگی میں وہ اپنے بیوی بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور آسانی بہم پہنچاتا ھے۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھاتا ھے۔ تاکہ وہ اچھے اور کارآمد شہری بن سکیں۔ اورملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ اور اسکا بھی بڑھاپے میں سہارا بنیں۔
اور اگر اسکے خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑ جائے تو وہ فوراً اچھے ڈاکٹر سے اسکا علاج کراتا ھے۔ اسکے علاوہ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالتا ھے۔ اور ہوم ورک میں انکی مدد کرتا ھے۔ اپنی بیوی اور بچوں کا بھی خیال رکھتا ھے۔
ان تمام اقدامات سے اسکی زندگی خوشی اور آرام سے گزرتی ھے۔
اجتماعی حوالے سے وہ مقامی، ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پرتمام بنی نوع کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتا ھے۔ مثلا" خیراتی کاموں اور اداروں کے ساتھہ وابستہ ھونا اور انکی مثبت سرگرمیوں میں شامل ھونا۔ وقت پڑنے پر رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔
یہ تمام امور اور سرگرمیاں اسکی اجتماعی زندگی کو بھی خوبصورت اور ہر کشش بنا دیتی ہیں۔
ایمانداری وقت میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں وقت کی پابندی کرنا چاہیئے۔ اور باقاعدگی سے اپنے دفتر یا کام پر جانا چاہیئے۔ اور وقت پر گھر واپس آنا چاہیئے۔ اسی طرح ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہیئے۔ بے شک فی زمانہ وقت ایک دولت ھے۔
ایمانداری روپے پیسے میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں روپیہ حلال اور جائز ذرائع سے کمانا چاہیئے۔ اور حلال اور جائز جگہ اور مواقع پر ہی خرچ کرنا چاہیئے۔ اسکے ساتھہ ساتھہ ہمیں بچت بھی کرنا چاہیئے تاکہ آڑے اور مشکل وقت میں کام آئے۔
ایمانداری کام میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں اپنا کام وقت پر اور درست طریقے سے کرنا چاہیئے۔ اور اس طرح سے کام کرنا چاہیئےکہ آجر ہم سے خوش اور ہمارے کام سے مطمئن ھو۔
میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری زندگی کا ایک بہترین طریقہ اور روشن راستہ ھے۔ ہمیں اسی روشن راستے پر چلنا چاہیئے۔ تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ھوں۔
Islamic services
www.dawatethid.blogspot.com
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913
Saturday, 14 April 2018
بچے کی پیدائش
بچے کی پیدائش
یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔
عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب Hafiرہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔
نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔
اگر میری کسی بات یا عمل سے کسی بھائی بہن کو تکلیف پہنچی ہو یا اسے کچھ ناگوار گزرا ہو تو نہایت ادب و احترام سے معذرت چاہتا ہوں ۔
لیکن!!
آپ جانتے ہیں کہ حقیقت یہی ہے۔
www.dawatetohid.blogspot.com
Tuesday, 10 April 2018
ہچاس ہزار وزیٹر
ہچاس ہزار وزیٹر
ھذا من فضل ربی۔۔الحمد للہ الحمد للہ! ہم اللہ سبحانہ وتعالی کے بے حد شکر گزار ہیں۔جس کے خاص فضل سے ہمارے بلاگ پر ڈیلی سینکڑوں قارئین وزٹ کرتے ہیں۔
اور نہایت ہی کم عرصہ میں اس وقت وزٹر کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔10/4/2018
ان شاء اللہ 2018 کے آخر تک ایک لاکھ تک پہچنے کی امید اور اللہ سے دعا کرتے ہیں ۔۔
یاد رہے یہ بلاگ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان کے زیر اہتمام آپریٹ کیا جاتا ہے جس کا ڈائریکٹر عمران شہزاد تارڑ ہے۔
ایک لاکھ وزٹر ہونے پر ہم ان شاء اللہ بلاگ کے ساتھ ساتھ ایک ویب سائٹ کے آغاذ کا ارادہ رکھتے ہیں۔جس میں مختلف موضوعات پر تفصیلی تحاریر پوسٹ کی جائیں گی۔
اللہ رب العزت سے خصوصی دعا ہے کہ ہمیں مزید اپنے دین کی خدمت کرنے والوں میں شامل فرما اور ہماری اس ادنی سی کوشش سے لوگوں کو خالص قرآن و حدیث سے مستفید فرما بالخصوص توحید کی نعمت سے سر شار فرما۔۔۔آمین
اور ان آحباب کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے ہمارے بلاگ کو وزٹ کیا یا کسی بھی انداز میں اپنا حصہ ڈالا۔
ان مصنفین اور علماء کرام کے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی تحاریر سے استفادہ حاصل کیا گیا۔
انتباہ:میرے بلاگ پر کوئی ایسی بات جو قرآن و حدیث کی ترجمانی نہ کرتی ہو یا جو قرآن و حدیث سے ٹکراتی ہو تو وہ میری کم فہمی اور کم علمی کی بنا پر ہے لہذا قارئین اس بات کو رد کرتے ہوئے قرآن و حدیث سے راہنمائی حاصل کریں ۔
کیوں کہ ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور ٹھکرائی بھی جا سکتی ہے ماسوائے سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے ۔آپ کی ہر بات من و عن مانی جائے گی۔اس لئے ہمارے اقوال کی تلقید نہ کریں بلکہ اتباع کریں۔۔۔
بلاگ وزٹ کے لئے مندرجہ ذیل لنک وزٹ کریں۔
www.dawawtetohid.blogspot.com
واٹس اپ +923462125913
Sunday, 8 April 2018
مـــــحروم کون؟؟؟
*مـــــحروم کون؟؟؟*
*آپ میں سے ہر وہ شخص؛*
*جو صحت مند ہے،*
*عقل اور شعور رکھتا ہے،*
*جو جوان بھی ہے،اور توانا بھی،*
*اور جسے فرصت بھی ہے،یا جو اپنی مصروفیات کو کم کر کے وقت نکال سکتا ہے؛*
پھر بھی اگر وہ اللہ عز و جل کی کتاب کے لئے وقت نہیں نکالتا ہے،نہ اس کو یاد کرنے کی جستجو کرتا ہے،نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے،تو:
*اللہ کی قسم!وہ محروم ہے*
*اللہ کی قسم!وہ محروم ہے*
*اللہ کی قسم!وہ محروم ہے*
کیا یہ سچ نہیں کہ آپ ہر وہ کام کرتے ہیں،جو آپ کو ضروری اور اہم لگتے ہیں۔
بچے کی دیکھ بھال بھی ہورہی ہے،گھر کے سارے کام بھی ہورہے ہیں،مکمل نیند بھی پوری کرنی ہے،مہمانوں کی تواضع بھی کی جارہی ہے،اچھے اور لذیذ کھانے کی ترکیبیں سیکھی جارہی ہیں،پھر پکائے بھی اور کھائے بھی جارہے ہیں،کاروبار بڑھانے کے لئے جی جان سے محنت بھی ہورہی ہے،صبح دفتر جانے کے لئے نیند بھی قربان ہورہی ہے،دوست احباب سے ملاقاتیں اور سیر و تفریح کے پروگرام بھی بنتے رہتے ہیں،یعنی:
ہر وہ کام یا مقصد جس کا آپ ارادہ کرتے ہیں،معمولی محنت و جد و جہد کے بعد اس کو پالیتے ہیں۔
ایک آپ ہی کیا،بلکہ یوں کہیں کہ اس دنیا میں ہر آدمی ایک مقصد کو لے کر محنت کررہا ہے،اعلی تعلیمی ڈگری،اچھی نوکری،پرکشش تنخواہ،خوبصورت محل نما بنگلہ،چمکتی کار،غرض ہر ایک کے پاس خواہشات اور تمناؤں کا ایک سلسلہ ہے،جس کی تکمیل میں وہ لگا ہوا ہے،دنیا کی زندگی کی خوب تعمیر ہورہی ہے۔
مگر:
*( قل هل انبئكم بالاخسرين اعمالا الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا و هم يحسبون أنهم يحسنون صنعا )* سورہ کہف
میں تم کو بتاوں؟کہ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کون ہیں؟وہ لوگ،جنکی ساری محنت دنیا کی زندگی کو بنانے میں کھو گئی ہے،اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے اور ٹھیک کام کررہے ہیں۔
آپ سے اگر کوتاہی ہوتی ہے،لاپرواہی ہوتی ہے،اور نظر انداز کی جاتی ہے تو وہ "اللہ کی کتاب" ہے؟
*(ما لكم لا ترجون لله وقارا)* سوره نوح
تمہیں کیا ہوگیا کہ اللہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہو؟؟؟؟
ایسا نہ ہو کہ کل قیامت کے دن آپ کو یہ کہنا پڑے کہ:
*(ياحسرتى على ما فرطت في جنب الله)* سوره زمر
مجھ پر افسوس کہ میں اللہ کے معاملہ میں بڑی کوتاہی کرتا رہا۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر چیز اور ہر خواہش اور ہر کام پر یہ کتاب مقدم ہوتی،آپ اسے صبح و شام پڑھتے،اس کے معانی پر غور کرتے،اس کے حکموں پر عمل کرتے،اس کے منع کردہ چیزوں سے پرہیز کرتے مگر آپ نے بڑی سخت کوتاہی کی ہے،آپ کو کچھ پتہ بھی ہیکہ آپ کا رب فرماتا ہے:
*(و إنه لذكر لك و لقومك فسوف تسألون)* سوره زخرف
یہ قرآن مجید آپ کے لئے بھی،آپ کے کنبہ کے لئے بھی سب کے لئے ایک نصیحت ہے،بہت جلد آپ سب سے اس کے بارے میں سوال کیا جائیگا۔
```آپ کے پاس کیا عذر ہے؟```
جو آپ کل اپنے رب کے سامنے پیش کریں گے؟؟؟
*ایک نظر ادھر بھی دیکھئے،*
*یہ خالد بن ولید ہیں!*
مجاہد اسلام.....مسلمان ہونے کے بعد کی ساری زندگی جہاد میں گذری ہے۔آپ جب بھی قرآن مجید کی تلاوت سے فارغ ہوتے تو زار و قطار روتے،اور فرماتے کہ:
*جہاد کی مصروفیت نے مجھے قرآن مجید کو یاد کرنے اور اس میں تدبر کرنے سے روکے رکھا ہے....*
یہ کتنا خوبصورت عذر ہے؟؟؟
ساری زندگی جہاد میں گذری ہے،جو فرائض کے بعد سب سے افضل عمل ہے...
*کیا آپ کے پاس بھی ایسا ہی کوئی عذر ہے؟؟؟*
اگر نہیں تو:
*(يايها الانسان ما غرك بربك الكريم )* سورہ انفطار
ائے انسان!اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے تجھے دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے؟؟؟
پس اٹھئے!
ابھی عہد کرئیے!
*آج ہی سے قرآن کے لئے وقت نکالیں گے۔*
*اس کی تلاوت کرینگے*
*اس کے معنی و مفہوم سمجھیں گے*
*اس کو یاد کرینگے۔*
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ:
فلموں کے مکالمے،سیریل اور ڈرامے،نصابی کتابیں،اخبارات کے مضامین سب ہی تو یاد ہو جاتے ہیں،
جہاں قرآن کی بات آئی تو فورا کہہ دیا کہ:
اتنے تیس پارے کیسے یاد کروں؟؟؟
میرے عزیز بھائی!
ٹھیک ہے،پورا قرآن حفظ نہ کرسکو تو کم سے کم جتنا ہو سکے،اتنا ہی حفظ کرلو،
*کیوں اپنے آپ کو خیر سے محروم کروگے؟*
کچھ پارے،اور کچھ بڑی سورتیں تو ضرور ہی یاد ہونی چاہئے، سیکھنے سکھانے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی،بس اب ہی اللہ کا نام لیں،اس سے مدد مانگیں،اور قرآن کے لئے وقت نکالیں۔جب آپ قرآن یاد کرنا اور سمجھنا چاہیں گے تو میرے رب کا وعدہ ہیکہ وہ اس کو آپ کے لئے آسان کردے گا۔
میرے عزیز بھائی!
سب سے سچی بات یہ ہیکہ،
اعلی تعلیم،بہترین تنخواہ،خوبصورت مکان،یہ سب خوش نصیبی کا معیار نہیں ہے،اصل خوش نصیب تو وہ ہے جو قرآن سے تعلق بناتا رہا،
اور جو دنیا کو پاکر بھی قرآن سے غافل رہا،وہ محروم ہے،
جو قرآن کے لئے وقت نہیں نکال سکا،وہ محروم ہے،
جو طاقت و استطاعت کے باوجود قرآن یاد نہ کرسکا وہ محروم ہے،
*(انها تذكرة،فمن شاء ذكره )* سورہ عبس
یہ ایک نصیحت ہے،جو چاہے اسے قبول کرلے۔
*کچھ دل ایسے ہیں،جو اللہ کا نام اور اس کا کلام سن کر،نصیحت کی باتیں سن کر پگھل جاتے ہیں، نرم پڑجاتے ہیں،اور کچھ دل پتھر جیسے سخت ہوتے ہیں،مگر نہیں!!!.....کبھی تو پتھر بھی اللہ کے خوف سے چشمہ بن کر پھوٹ جاتے ہیں،شاید کچھ دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں....!!!*
فیس بک نے صارفین کی جاسوسی کا اعتراف کرلیا
فیس بک نے صارفین کی جاسوسی کا اعتراف کرلیا
(پوسٹ بائی:عمران شہزاد تارڑ )
نیویارک: فیس بک کے صارفین خبردار ہوجائیں کیونکہ اس سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کا استعمال غیر محفوظ ہونے کی تصدیق ہو
گئی ہے۔لہذا آپ کے ڈٹا کو غلط مقاصد کے لئے کبھی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فیس بک کے بانی نے صارفین کی معلومات کی خفیہ جاسوسی کرنے کی تصدیق کردی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کے بانی و سربراہ مارک زکر برگ نے تمام پیغامات کو اسکین کیے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ صارفین ایسے پیغامات نہ بھیج سکیں جن سے فیس بک کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ برطانوی اخبار کے مطابق فیس بک پر پوسٹس ، تصاویر اور پرائیویٹ پیغامات بھی چیک کیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں فیس بک پر یہ الزامات بھی لگائے تھے کہ میانمار میں اس کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی گئی جس کے نتیجے میں تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا۔ انسانی حقوق تنظیم نے میانمار کے واقعات میں ملوث ہونے پر فیس بک کی مذمت کی تھی۔ فیس بک نے دعویٰ کیا کہ اس نے میانمار جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ڈیٹا بلاک بھی کیا۔
فیس بک کے بانی مارک زکر برگ 11 اپریل کو امریکی کانگریس کے پینل کے سامنے پیش ہوں گے اور صارفین کی معلومات امریکی الیکشن میں استعمال ہونے سے متعلق الزامات کی وضاحت کریں گے۔ فیس بک پر الزام ہے کہ ایک انتخابی مشاورتی کمپنی نے امریکی الیکشن کے دوران فیس بک کے کروڑوں امریکی صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی چلانے والوں کے حوالے کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیٹا کو استعمال کرکے امریکی الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔
البتہ مارک زکربرگ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کہا کہ فیس بک سے غلطیاں سرزد ہوئی جس کے نتیجے میں صارفین کے اعتماد کو نقصان پہنچا، تاہم اب شرپسند ایپلی کیشنز کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ مارک زکربرگ نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کررہے ہیں جس کے بعد ایپلی کیشنز کے لیے صارفین کا ڈیٹا جمع کرنا مشکل ہوجائے گا اور رسائی محدود ہو جائے گی۔
(بشکریہ:ایکسپریس نیوز)
www.dawatetohid.blogspot.com
Saturday, 7 April 2018
سعودی عرب کے مفتی عبدالقوی
سعودی عرب کے مفتی عبدالقوی
تحریر:فردوس جمال.
ترمیم:قاری محمدحنیف ربانی
شیخ عادل کلبانی سعودی عرب کے مشہور اور متنازعہ داعی ہیں،ان کی یہ تصویریں کچھ دوستوں نے مجھے انبکس کردی ہیں اور تصدیق یا تردید چاہی ہے.
یہ تصویریں ایک دن پہلے کی ہیں تصویریں فیک نہیں ہیں،یہ سعودی عرب کے کیپٹل الریاض کی ہیں،جہاں ایک روز پہلے تاش چمپئین شپ کا افتتاح ہوا تھا،شیخ عادل اس تقریب میں مدعو تھے،ایک تصویر شیخ عادل نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے بھی شئیر کی ہے،العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ عادل نے نہ صرف لہو و لعب کی اس محفل میں جانے کی تصدیق کردی ہے بلکہ اس بات کا بھی عزم کیا ہے کہ وہ تاش سیکھنا چاہیں گے.
شیخ عادل کلبانی کون ہے؟
یہ الریاض شہر میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم عصری علوم کی حاصل کی پھر چھ سال تک سعودی ائیرلائن میں ملازمت کرتا رہا،اسی دوران دین کی طرف ان کا رجحان پیدا ہوا،مختلف علماء سے چلتے پھرتے انہوں نے قرآت وغیرہ کا علم حاصل کیا،ان کی آواز اچھی تھی کچھ عرصہ یہ خانہ کعبہ میں نماز تراویح کے امام رہے.
پھر انہیں خانہ کعبہ کی امامت سے معزول کیا گیا،گانا بجانا اور مرد و زن کے اختلاط کے یہ قائل تھے،2010ء میں انہوں نے گانے بجانے کی حلت پر بقاعدہ فتوی بھی دے ڈالا جس کے بعد ان کے خلاف امام کعبہ شیخ عبدالرحمن سدیس،مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ، شیخ صالح اللحيدان وغیرہ کے فتاوی آئے ،امام کعبہ شیخ شریم نے عادل کلبی کے فتوی کے رد میں ایک شعری قصیدہ بھی "قصیدہ عتاب" کے نام سے لکھا.
لہذا شیخ عادل الکلبانی کی طرف سے تاش سینٹر کی افتتاحی تقریب میں حاضری کوئی غیر متوقع عمل نہیں ہے،جہاں تک تاش کھیلنے کا تعلق ہے یہ بھی سعودی عرب میں کوئی نئی بات نہیں ہے،جو یہاں مقیم ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سعودیز تاش کے شوقین ہیں،قہوہ خانوں میں یہ گیم دستیاب ہوتی ہے،ہم گذشتہ سات آٹھ سال سے اس چیز کا مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں،یہ سمپل تاش ہوتی ہے اس میں جوا وغیرہ نہیں ہوتا ہے.
آخری بات،ہمارا منہج اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ غلط کام امام کعبہ کرے یا عام مسلمان بہرحال اس کام کو جسٹیفائی نہیں کیا جائے گا،دین اسلام کسی فرد،خطہ اور ملک کی سوچ و فکر کا نام نہیں ہے،اسلام قرآن و حدیث کا نام ہے جو دائمی سرمدی اور ابدی ہے،ہم تو جلیل القدر آئمہ اربعہ میں سے کسی کا فتوی،کسی کی بات ،کسی کا عمل قرآن و سنت سے دلیل نہ کرتا ہو تو اسے دیوار پہ مارنے کے قائل ہیں کلبانی ولبانی کے خلاف شرع فتووں کی کیا حیثیت ہے.
ہر قوم میں مفتی عبدالقوی جیسے مفتی موجود ہوتے ہیں عربوں میں بھی ایسے کئی نمونے موجود ہیں،ان کا عمل قوم کی اجتماعی فکر کا ترجمان نہیں ہوتا ہے.
" ہمارےبھائی فردوس جمال صاحب نےبہت اچھےاندازمیں بات کو واضح کیاہے,کچھ باتیں میں مزیداس میں کرناچاہوں گا,
1: دین کسی مفتی کا محتاج نہیں ہے,اورمفتی بھی انسان ہی ہوتےہیں کہ شیطان انہیں بھی ورغلاسکتاہے,بلکہ زیادہ ہی ورغلاتاہےاس لیےکہ چور وہاں چوری کرتاہےجہاں مال ہو کنگال کےپاس اس نےکیاکرناہےجاکر, اسی طرح شیطان بھی وہیں حملہ کرتاہےجہاں علم ہو جاہل سےاسے کوئی دلچسبی نہیں ہوتی, ہاں البتہ جب کوئی عالم یا مفتی کوئی غلطی کرتاہےتواسلام اوراہل اسلام پر دھبہ ضرور لگتاہے, جبکہ اس کےمقابلے میں جاہل کوئی غلطی کرتاہےتواتنی پریشانی نہیں ہوتی, اورغلطی کرنی جاہل کوبھی نہیں چاہیے, جبکہ علماۓکرام کوتواورزیادہ احتیاط کی ضرورت ہے.
2: اس مفتی کی غلطی سےبہت سارے بدعتی اورمشرک قسم کےعلماء یاعلماۓسو البتہ بہت شورشرابا کریں گےعنقریب کہ دیکھوجی اب توامام کعبہ جیسےبھی جوا اورحرام کاموں کےسینٹرزکاافتتاح کرنےلگے, توان کی خدمت میں عرض ہےکہ کسی ایک کی وجہ سے سب ایک جیسےنہیں ہوجائیں گے,بلکہ اسلام کےماننےوالےاوراس کی خدمت کرنےوالےآج بھی زندہ ہیں اوراللہ کےفضل وکرم سےوہ اپنی جی جان سےاسلام کی نشرواشاعت میں مصروف ہیں,اس لیےبات کوغلط رنگ دینےکی بجاۓاورلوگوں کےزہنوں میں گمراہی پھیلانےسے پہلےاپنی اصلاح کریں,اوراسلام کی نشرواشاعت میں اپناکردار بہتربنائیں,
اللہ تعالی ہم سب کوہرقسم کی برائی سےمحفوظ فرماۓ اوراپنی اصلاح کرنےکی توفیق نصیب فرماۓ,
آمین یارب العالمین.
www.dawatetohid.blogspot.com
خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ
خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...