Monday, 24 October 2016

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ


* تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 9)
تصوف کے دیگر امور
اہل تصوف کو دوطرح کے امور سے واسطہ پڑتا ہے: ایک توابع اور دوسرے موانع۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
توابع
توابع سے مراد وہ امور اور کیفیات ہیں جن سے ایک سالک (راہ تصوف میں سفر کرنے والا) کو واسطہ پڑ سکتا ہے۔  ان میں بعض امور ایسے ہوتے ہیں، جن میں سالک یا کسی اور کو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اور بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن میں نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ امور یہ ہیں: وحدت الوجود ؛ سکر اور صحو؛ کشف  اور الہام؛ استغراق؛ تصرف؛ قبض و بسط؛ کرامت؛ مشاہدہ؛  وجد؛ دعاؤں کا قبول ہونا اور فہم و فراست؛ اچھے خواب؛ فناء و بقاء؛ عملیات۔
اب ہم انہیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں:
*وحدت الوجود (Pantheism)*
وحدت الوجود ایک فلسفہ ہے  جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود حقیقی ہے اور وہ اللہ تعالی کی ہستی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی کائنات ہمیں نظر آتی ہے، یہ سب محض ایک وہم اور دھوکہ ہے۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ فلسفہ درست ہے تو پھر نہ تو انسان کا کوئی حقیقی وجود ہے اور نہ ہی شیطان کا۔ اس کے بعد نہ تو دین کا کوئی تصور باقی رہ جاتا ہے، نہ رسالت کا  اور نہ آخرت کی جزا و سزا کا۔  اس کے بعد نعوذ  اللہ رحمان اور شیطان بھی ایک ہو جاتے ہیں اور  تمام کے تمام انسان، حیوانات، جمادات سبھی اسی ایک وجود باری تعالی کا حصہ بن جاتے ہیں اور نہ کوئی خالق رہتا ہے اور نہ مخلوق۔ اکثر ہندوؤں کا بھی یہی عقیدہ ہے جس کے باعث وہ بہت سے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں اور انہیں بھگوان ہی ایک شکل (Incarnate) قرار دیتے ہیں۔ اسلام کے ساتھ اس کھلے تصادم کے باوجود صوفیاء کے ایک بڑے حلقے میں اس فلسفے کا بڑا زور رہا ہے اور اب تک ہے۔
بعض صوفی بزرگ اس نظریے کی توجیہ یہ کرتے ہیں  کہ جب ایک سالک صوفیانہ طریق پر فنا فی اللہ کے مقام پر پہنچتا ہے تو پھر اس پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ معاملہ حقیقت نہیں ہوتا بلکہ محض اس سالک کی کیفیات ہوتی ہیں۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحقیقت ان تمام مخلوقات کا اپنا ایک وجود ہے اور یہ اللہ تعالی کی تخلیق ہیں۔ سالک پر فنا فی اللہ کے  مقام پر پہنچ کر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ اسے اللہ تعالی کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا ہے مگر فی الحقیقت وہ سب موجود ہوتا ہے۔ اس تصور کو مشہور صوفی بزرگ شیخ احمد سرہندی معروف مجدد الف ثانی (971-1034/1564-1624) نے "وحدت الشہود" کا نام دیا۔ بعض صوفیاء کہتے ہیں کہ یہ دونوں اصطلاحات ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔حقیقت ان کی ایک ہی ہے-
وحدت الوجود کے بارے میں صوفیاء کے ہاں دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ان کا ایک گروہ تو وحدت الوجود پر ایمان رکھتا ہے اور  یہ سمجھتا ہے  کہ فی الواقع صرف ایک ہی وجود ہے۔ یہی تصور ان کی تحریروں و افکار  میں چھلکتا ہے۔
دوسرا گروہ وحدت الشہود پر یقین رکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ معاملہ صرف ایک سالک کی کیفیات کا ہے، فی الحقیقت  ایک وجود کا یہ گروہ قائل نہیں ہے۔زمانہ قدیم سے نظریہ وحدۃالوجود کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہا ہے ۔ البتہ اس کو پوری شرح و بسط کے ساتھ ابن عربی نے پیشں کیا-
جبکہ ناقدین کا کہنا ہے؛مولانا اقبال کیلانی لکھتے ہیں:بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان عبادت وریاضت کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جاتاہے کہ اسے کائنات کی ہر چیز میں اللہ نظر آنے لگتا ہے یا وہ ہر چیز کو اللہ کی ذات کا جزء سمجھنے لگتا ہےاس عقیدے کو وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ عبادت اور ریاضت میں ترقی کرنے کے بعد انسان اللہ کی ہستی میں مدغم ہوجاتی ہے، اور وہ دونوں(خدا اور انسان) ایک ہو جاتے ہیں، اس عقیدے کو “وحدت الشہود“ یا فنا فی اللہ کہاجاتاہے، عبادت اور ریاضت میں مزید ترقی سے انسان کا آئینہ دل اس قدر لطیف اور صاف ہوجاتاہے کہ اللہ کی ذات خود اس انسان میں داخل ہوجاتی ہے جسے حلول کہا جاتا ہے۔ ان تینوں اصطلاحات کے الفاظ میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے لیکن نتیجہ کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں اور وہ یہ ہے کہانسان اللہ کی ذات کا جزء اور حصہ ہے یہ عقیدہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا، ہندومت کے عقیدہ اوتار بدھ مت کے عقیدہ نرواں اور جین مت کے ہاں بت پرستی کی بنیاد یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے۔ (یہودی اسی فلسفہ حلول کے تحت عزیر کو اور عیسائی عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا (جزء) قرار دیا دیکھیں [سورۃ التوبۃ:30) اہل تصوف کے عقائد کی بنیاد بھی یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے۔ (مولانا اقبال کیلانی:کتاب التوحید اور شریعیت و طریقت-)
امام ابن تیمیہ وحدت الوجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کا استدلال یہ تھا کہ یہ نت نئی چیزیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کے دور میں نہ تھیں۔ لہٰذا پیروان ابن عربی کے متعلق ایک جگہ پر فرمایا۔ ان لوگوں کے عقائد اس بنیاد پر قائم ہیں کہ تمام مخلوقات عالم جن میں شیطان، کافر، فاسق، کتا، سور وغیرہ خدا کا عین ہیں۔ یہ سب چیزیں مخلوق ہونے کے باوجود ذات خدا وندی سے متحد ہیں اور یہ کثرت جو نظر آرہی ہے فریب نظر ہے۔ (رسالہ حقیقۃ مذہب الاتحادین ، ص 160)
وحدۃالوجود اور وحدۃ الشھود:وحدۃالوجود کی سادہ اور آسان تعریف کریں تو اس سے مراد "ایک ہو جانا" ہے یعنی اللہ تعالی کی ہستی میں گم ہو جانا۔اور وحدۃالشہود سے مراد "ایک دیکھنا ہے"یعنی چاروں طرف" تو ہی تو "ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے-
عقیدہ وحدۃالوجود اور وحدۃ الشھود تفصیلی بحث آگے آرہی ہے-
سکر اور صحو
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک سالک جب فنا کے مقام پر پہنچتا ہے تو اس پر بے خودی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اسے "سکر" کہا جاتا ہے۔ سکر سے باہر نکل کر نارمل ہونے کو "صحو" کہا جاتا ہے۔ اگر سکر کی حالت مستقل رہے تو ایسا صوفی "مجذوب" کہلاتا ہے۔ مجذوب حضرات دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتے ہیں، کبھی برہنہ ہو کر گلیوں میں گھومتے ہیں اور پوشیدہ اعضاء کی نمائش بھی کر دیتے ہیں، کبھی سخت گرمی میں آگ کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، کبھی غلیظ گالیاں دیتے ہیں اور کبھی  ایسی گفتگو کرتے ہیں جو کسی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسے مواقع پر بعض صوفیاء خدا ہونے کا دعوی بھی کر بیٹھتے ہیں۔ صوفیاء کا وہ گروہ جو وحدت الوجود کا قائل ہے، اس بات کو حقیقی سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کے خدائی کے دعوے کو درست سمجھ بیٹھتا ہے۔ 
مشہور صوفی منصور حلاج  (244-309/858-922)نے انا الحق یعنی "میں خدائے حق ہوں" کا نعرہ لگایا جس  کی پاداش میں انہیں موت کی سزا دی گئی لیکن یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ حالت سکر میں نہیں تھے ورنہ انہیں یہ سزا نہ دی جاتی کیونکہ اس حالت میں تو بے شمار صوفیاء نے ایسے دعوے کیے ہیں۔ ایک صوفی بزرگ ابو یزید بسطامی (188-260/804-874) کے بارے میں صوفیاء کی کتب میں لکھا ہے کہ انہوں نے "سبحانی ما اعظم شانی" یعنی "میں پاک ہوں، میری شان کیا بلند ہے!" کا اعلان کر دیا۔ جب ان کی کیفیت درست ہوئی تو انہوں نے ان کلمات سے اظہار براءت کیا۔
جو گروہ وحدت الشہود کا قائل ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ وحدت الوجود میں اگر کوئی شخص بے خودی یا سکر کی کیفیت میں ہو، تو اسے معذور سمجھنا چاہیے اور اس کی باتوں کو محض "دیوانے کی بڑ" سمجھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بے خودی کے عالم میں وحدت الوجود کی کیفیت کو مضر سمجھتے ہیں، ہاں اگر بے خودی کی کیفیت نہ ہو، تو پھر اس کیفیت میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔
کشف اور الہام
کشف الہی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اور صفات سے متعلق علوم، اسرار و معارف کا انسان کے قلب پر وارد ہونا۔ کشف کونی سے مراد یہ ہے کہ ایسی چیزوں کو حالت کشف یا خواب میں دیکھنا جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتیں جیسے مستقبل کا کوئی واقعہ، ماضی کا کوئی پوشیدہ راز وغیرہ۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ باطن کی آنکھ سے کچھ چیزوں  کا مشاہدہ کر رہا ہے یا پھر ہاتف غیبی سے آنے والی آواز اس کی راہنمائی کر رہی ہے۔ اسے حالت بیداری یا خواب میں مستقبل کے واقعات دکھائے جا رہے ہوتے ہیں، اور غیبی آواز اس سے کلام کر رہی ہوتی ہے۔
بہت سے صوفیاء کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کشف کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بھی اپنے دعوی نبوت کی بنیاد کشف پر ہی رکھی تھی۔جس طرح احمدی مذہب برصغیر کے اندر اہل سنت کے اندر پیدا ہوا اسی طرح بہائی مذہب ایران میں اہل تشیع کے اندر پیدا ہوا-جیسے احمدی مذہب کا آغاز 1891ء مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت(نبوت)سے ہوا ، بالکل اسی طرح بہائی مذہب کا آغاز 1863ء میں بہاء اللہ صاحب کے دعویٰ نبوت سے ہوا-
مزید اسی طرح اٹھارویں صدی میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی جو ڈیڈھ دو سو برس کی جدوجہد کے بعد 1860ء کے عشرے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی 1930ء کے عشرے میں عظیم معاشی ڈپریشن کے نتیجے میں امریکہ میں غربت کا اضافہ ہوا-ویلس ڈی فرڈ محمد(c.1877- 1934 )ایک سیاہ فام سیلز مین تهے جنہوں نے اس زمانے میں سیاہ آبادی کو اکهٹا کیا اور انہیں منظم کر کے ان کی اصلاح کی طرف توجہ کی-ویلس ڈی فرڈ محمد 1934ء میں اچانک غائب ہو گئے -کہا جاتا ہے کہ امریکی ایجنسیوں نے انہیں ہلاک کر دیا تها-ان شاگرد علی جاہ محمد (1995-1897ء) نے 1935ء میں نیشن آف اسلام (NOI)کی بنیاد رکهی-انہوں نے خود کو اللہ کا پیغمبر قرار دیا-اور دعویٰ کیا کہ عیسائی اور یہودی جس مسیحا کے منتظر ہیں وہ میں ہی ہوں-NOI کے حلقوں میں احمدیوں کے لاہوری فرقہ کا بانی مولانا محمد علی کا ترجمہ قرآن ، مجموعہ حدیث اور دیگر کتب ذوق و شوق سے پڑهی جاتی ہیں-
ان تینوں گروہوں کی شخصیات کا دعویٰ نبوت کی بنیاد کشف اور الہام ہی تهی-(جس کی مکمل تفصیلات کے لئے کتاب؛بہائیت اور معتقدات مصنف پروفیسر نذیر احمد بهٹی اور انکار سنت ، انکار ختم نبوت اور اسلام مصنف محمد نذیر کا مطالعہ کریں)
پابند شریعت صوفیاء کشف کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اس بات کو مانتے ہیں کہ کشف کو تبھی درست مانا جائے گا جب یہ شریعت کے مطابق ہو۔ سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
کشف کسی پردے والی چیز کے ظاہر ہونے کو کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بہت ساری چیزیں پیدا کی ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں یا بہت سارے واقعات ہوئے ہیں، ہو رہے ہیں یا ہوں گے اور ان پر پردے پڑے ہوئے ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو کسی پر ظاہر کردیں تو یہ "کشف کونی" کہلاتا ہے۔اس میں کافر و مسلمان کی بھی تخصیص نہیں۔کیونکہ یہ دنیا کی چیزیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ بعض کی نظر تیز اور بعض کی کم رکھتے ہیں اسی طرح کسی پر زیادہ چیزوں اورواقعات کو ظاہر کرتے ہیں کسی پر کم۔ اس طرح بہت سے علوم و معارف اور اسرار ہیں جو عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں اور بعض خوش قسمتوں کو ان میں سے کچھ عطا فرما دیتے ہیں۔اس کو "کشف الٰہی" کہتے ہیں۔ یہ البتہ ایک عظیم نعمت ہے لیکن غیراختیاری ہونے کی وجہ سے کوئی اس کے بھی درپے نہ ہو کیونکہ قبولیت کا دارومدار معلوم چیزوں میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے پر ہے۔ پس جتنا علم ضروری ہے اس کا تو حاصل کرنا ضروری ہے اور وہ کسبی اور اختیاری ہے اور جو غیر اختیاری ہے اس کے بارے میں فیصلہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیئے۔
عمل شریعت کے مطابق ہونا چاہیئے، چاہے اس کو کشف ہو یا نہ ہو کیونکہ شریعت وحی سے ہے اور ہمارے کشف کا کوئی اعتبار نہیں۔ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ۔پس یقینی کے مقابلے میں ظنی کی کیا حیثیت ہے!
استغراق:
استغراق ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں سالک خود کو اور اپنے ماحول کو فراموش کر کے  اپنےصوفیانہ مشاہدات میں غرق ہوتا ہے۔ ایک صوفی بزرگ عبدالقدوس گنگوہی (d. 943/1537) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اتنے مستغرق رہا کرتے تھے  کہ انہیں نماز کے اوقات کا علم بھی نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک خادم کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ہر نماز کے وقت ان کے کان میں "حق، حق" کہے۔ اسے سن کر وہ استغراق سے باہر آتے اور نماز ادا کرتے۔ "تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
www.dawatetohid.blogspot.com

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ

* تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 8)
یاد رہے فکر اور تفکر  بهی مراقبہ ہی کا نام ہے۔ ابتدائی مراقبہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے ذہن کو کسی ایک نقطہ پر یکسو کیا جاتا ہے اور عارفین کا مراقبہ یہ ہے کہ کھلی آنکھوں سے ہر چیز کا نظارہ کرتے ہیں جیسا کہ حضرت بایزید بسطامی کا فرمان ہے کہ میں چالیس سال تک اللہ تعالیٰ سے محو کلام رہا لوگ یہ سمجھتے رہے کہ میں ان سے باتیں کر رہا ہوں۔(شمس الفقرا)حضرت سخی سلطان باھو  نے اپنی تصنیفات میں غور و فکر کے بارے میں بہت سی اصطلاحیں استعمال فرمائی ہیں۔مثلاً1۔مراقبہ2۔فکر 3 ۔ تفکّرمراقبہ تفکّر ہی کی ایک قسم ہے لیکن مراقبہ اور تفکّر میں فرق صرف یہ ہے کہ مراقبہ کے لیے خلوت کا ہونا، آنکھیں بند کرکے قلب کو ایک نکتہ پر یکسو کرنا ضروری ہے۔ جب اس طریقہ سے تفکّر پختہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ راز اس شخص پر عیاں کر دیتا ہے جس کے بارے میں تفکّر کیا جارہا ہوتا ہے لیکن فکر یا تفکّر کے لیے خلوت کا ہونا یا آنکھیں بند کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس میں طالب ہر لمحہ ہر آن، تنہائی میں، ہجوم میں، دنیا کے معاملات کے وقت ایک ہی بات پر غور و فکر یا سوچ بچار کر رہا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس پر وہ راز عیاں کرتا چلا جاتا ہے جس کے بارے میں وہ تفکّر کرتا رہتا ہے۔ یعنی کھلی آنکھوں سے ہر شے کو دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رازوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ مراقبہ سے اعلیٰ مرتبہ ہے آپ یوں کہہ سکتے ہیں مراقبہ ابتدا ہے اور تفکّر انتہا ہے۔ فقر کا راستہ تفکّر ہی کا راستہ ہے۔ تفکّر سے ہی اس راہ کے راز کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے طالبِ مولیٰ ہر لمحہ تفکّر میں گم رہتا ہے ۔ اور ہر لمحہ نئی منزل تفکّر کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔مراقبہ میں استغراق یا غیب کی کیفیت بظاہر خواب سے ملتی جلتی ہے اور عام طور پر احوال بھی یکساں ہوتے ہیں۔ البتہ خواب میں دل کی نگہبانی و حفاظت میں اس قدر احتیاط نہیں رہتی اس لئے مراقبہ خواب سے زیادہ قوی اور کہیں زیادہ غالب ہوتا ہے۔حضرت سخی سلطان باھو  فرماتے ہیں :خواب و مراقبہ کی کیفیت ایک جیسی ہوتی ہے بلکہ مراقبہ خواب سے زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ صاحبِ خواب تو شورو غوغا سے بیدار ہو جاتا ہے لیکن جس پر مراقبہ غالب آ جاتا ہے وہ نورِ وحدانیتِ ذات کے مشاہدہ میں غرق ہو کر اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی تن سے اس کا سر بھی اڑا دے تو اسے خبر نہیں ہوتی۔ لیکن موت کی مثل ہوتے ہوئے بھی صاحبِ مراقبہ میں شعور بیدار رہتا ہے اور جواب باصواب پاتا رہتا ہے۔ مراقبہ سے عارفوں کو نورِ معرفت کی سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔
تصور شیخ:
تصور شیخ کا مطلب ہے آنکھیں بند کر کے شیخ کا اس طریقے سے تصور کرنا کہ گویا انسان شیخ کی مجلس میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا ہے۔ عام طور پر صوفیاء کے ہاں اس کا جو طریقہ رائج ہے، اسے بیان کرتے ہوئے مشہور صوفیانہ تحریک "دعوت اسلامی" کے مقالہ نگار مولانا احمد رضا خان بریلوی (1856-1921) کے حوالے سے لکھتے ہیں:
خلوت [یعنی تنہائی] میں آوازوں سے دور، رو بہ مکان شیخ [یعنی مرشد کے گھر کی طرف منہ کر کے]، اور وصال ہو گیا ہو تو، جس طرف مزار شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے۔ محض خاموشی، باادب، بکمال خشوع و خضوع، صورت شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو ان کے حضور جانے، اور یہ خیال جمائے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے انوار و فیض، شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں۔ اور میرا قلب، قلب شیخ کے نیچے، بحالت دریوزہ گری [یعنی گداگری] میں لگا ہوا ہے۔ اور اس میں سے، انوار و فیوض، ابل ابل کر، میرے دل میں آ رہے ہیں۔
اس تصور کو بڑھائے، یہاں تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے۔ اس کی انتہا پر، صورت شیخ [یعنی پیرومرشد کا چہرہ مبارک] خود متمثل ہو کر مرید کے ساتھ رہے گی۔ اور ان شاء اللہ عزوجل [اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی عطا سے] ہر کام میں مدد کرے گی۔ اور اس راہ میں جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائے گی۔
بریلوی مکتب فکر کے صوفی حلقوں میں تصور شیخ سے بالعموم کام لیا جاتا ہے اور اسے بڑی برکت کا باعث سمجھا جاتا ہے البتہ دیوبندی مکتب فکر کے حلقوں میں اس سے پرہیز کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ موجودہ حالات میں تصور شیخ بعض خطرات کا باعث ہے، اس وجہ سے اس سے بچنا چاہیے۔ سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
اس میں خطرہ شیخ کو حاظر ناظر سمجھنے کا ہے۔کیونکہ سالک اپنے محبوب شیخ کے ساتھ محبت میں بہت کچھ وابستہ کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب سالک کے اخلاص اور طلب کی وجہ سے کسی موقعہ پر مدد کرتا ہے تو سالک اس کو شیخ کی طرف سے سمجھنے لگتا ہے جو آہستہ آہستہ شرک کی طرف چلا جاتا ہے۔تصویر کو بھی تو اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ آہستہ آہستہ شرک میں بدلنے لگتی ہے۔ یہ محبت ایسی چیز ہے کہ عقل کو سلب کردیتی ہے اور شیخ کے ساتھ محبت فطری ہے اس لیے اگر اس کی تصویر دل میں بسا لی جائے تو یہ بھی آہستہ آہستہ خطرے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے نزدیک یہ شغل خواص کے لیے تو مفید ہے لیکن عوام کے لیے سخت مضر کیونکہ اس میں صورت پرستی تک بات جا سکتی ہے جو کہ شرک کا زینہ ہے۔ کثرت تصور سے بعض اوقات کوئی صورت مثالیہ  ظاہر ہو سکتی ہے جو بعض اوقات محض خیال ہوتا ہے اور بعض دفعہ کوئی لطیفہ غیبی اس شکل میں متمثل ہو جاتا ہے جس کا بسا اوقات شیخ کو پتہ بھی نہیں ہوتا، لیکن سالک اس کو حاضر ناظر سمجھ کر اپنا نقصان کر سکتا ہے، اس لیے اس سے بچنا اولی ہے۔ اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ شیخ کے ملفوظات اور کتابیں پڑھے یا پھر اپنے پیر بھائیوں [اپنے پیر کے دوسرے مرید] سے اس کا تذکرہ کرے۔
عشق مجازی:
بعض اہل تصوف کے ہاں یہ تصور موجود ہے کہ عشق مجازی، عشق حقیقی کی سیڑھی ہے۔ عشق مجازی سےمراد وہ عشق ہے جو انسان کو کسی اور انسان سے ہو جاتا ہے اور عشق حقیقی سے مراد وہ عشق ہے جو انسان کو اللہ تعالی سے ہوتا ہے۔ عام طور پر عشق مجازی صنف مخالف سے ہوتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی جنس کے دوافراد کے مابین ایسا عشق ہو جائے۔ اپنے پیرومرشد سے سبھی صوفی عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ صوفی خانقاہوں میں  ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ آتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بڑی عمر کا کوئی شخص کسی کم عمر خوبصورت لڑکے پر عاشق ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے شیخ کے لیے ایک مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیانہ تربیت میں امرد پرستی
(خوبصورت لڑکوں سے عشق) کی مذمت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔
بعض صوفی بزرگوں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ کسی خاتون یا لڑکے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے زبردست قسم کی شاعری کر دی۔ بعض صوفی بزرگوں سے عشق مجازی کی تعریف میں اشعار بھی منقول ہیں جیسے مولانا جامی کا شعر ہے: متاب از عشق رد گرچہ مجازیست۔۔۔۔ کہ آن بہر حقیقت کارساز یست۔ یعنی عشق سے اعراض نہ کرو چاہے مجازی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ عشق حقیقی کے لیے سبب ہے۔ اس کے متعلق سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
ان بزرگوں کا عشق مجازی کی تائید سے صرف اتنا مراد ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کو عشق مجازی ہو جائے تو پھر اس سے کام لینا چاہیے تاکہ اس کو ہی عشق حقیقی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس مردار [معشوق] کے ساتھ تو بالکل تعلق نہ رکھا جائے بلکہ ہو سکے تو تعلق توڑ دیا جائے اور اس سے جو سوز و گداز پیدا ہو، اس کو عشق حقیقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ سب سے بہتر طریقہ تو اس میں یہ ہے کہ اگر شیخ کامل ہو تو اس کی راہنمائی حاصل کی جائے، ورنہ وضو کر کے خوشبو لگا کر خوب دل کے ساتھ 500 سے ایک ہزار تک ذکر نفی اثبات اس طرح کرے کہ لا الہ کے ساتھ سوچے کے میں نے اس مردار کی محبت کو دل سے نکال دیا اور الا اللہ کے ساتھ یہ تصور کرے کہ اپنے دل میں اللہ تعالی کا محبت داخل کیا۔  اس میں ضرب بھی ہو ۔
سماع
اہل تصوف بالخصوص چشتی اور سہروردی سلسلے کے صوفیاء میں سماع کو غیر معمولی حیثیت حاصؒل ہے۔ سماع کا مطلب ہے اچھی آواز میں گانا اور رقص کرنا۔ اس کی مختلف شکلیں رائج ہیں جیسے برصغیر میں سماع عام طور پر قوالی کی شکل میں ہوتا ہے جس میں سازوں کےساتھ موسیقی بھی ہوتی ہے۔ دعوت اسلامی کے حلقوں میں یہ اجتماعی نعت خوانی کی شکل میں رائج ہے۔  اس سماع میں لوگ بے حال ہو کر رقص بھی کرنے لگتے ہیں اور کبھی بے خود ہو کر تڑپنے لگتے ہیں۔ اسے "حال کھیلنا" کہتے ہیں۔ ترکی کے صوفی درویش لمبے لمبے فراک پہن کر باقاعدہ  گردش کرتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔جبکہ یہ طریقہ برصغیر کی خانقاہوں پر بهی دیکها جا سکتا ہے-
مشہور صوفی بزرگ امیر خسرو  (650-725/1253-1325) کو کئی سازوں  جیسے ستار وغیرہ کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔
سازوں والی موسیقی کے ساتھ سماع کے معاملے میں پابند شریعت صوفیاء کے دو  نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ان میں سے جو لوگ سازوں کو مطلقاً حرام سمجھتے ہیں، وہ سازوں کے ساتھ قوالی کو بھی حرام ہی قرار دیتے ہیں۔ جن اکابر صوفیاء سے سماع ثابت ہے، ان کے اقوال کی وہ یا تو تاویل کرتے ہیں یا پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ان اقوال و افعال کو ان کی جانب غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس صوفیاء کا دوسرا گروہ، جس میں زیادہ تر چشتی سلسلہ کے صوفی علماء شامل ہیں، موسیقی کے ساتھ(طبلہ، سرنگی، ڈهول، گٹار،تالی وغیرہ موجودہ دور کے جدید آلات) سماع کو جائز سمجھتے ہیں۔
جس کی وہ دلیل بخاری ، کتاب الاشربہ ، حدیث 5268-بخاری کتاب العیدین، حدیث 907-بخاری کتاب المغازی، حدیث نمبر3779-ان احادیث سے موسیقی کے جواز کے قائلین  یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کی اگر موسیقی میں فحاشی یا کوئی اور برائی نہ ہو تو سازوں کا استعمال جائز ہے-جس میں صوفیاء اور معتدل جدید علماء کا طبقہ شامل ہے-
جبکہ ناقدین سورہ لقمان:31:6-بخاری کتاب الاشربہ ،حدیث 5268-ترمذی ،کتاب التفسیر، حدیث3195-وغیرہ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں-مفسرین
نے اس سے مراد ہر وہ چیز لی ہے جس میں انسان مگن ہو کر غافل ہو جائے-گانا قوالی اس کی مثال ہے-اس پر تفصیلی تقابلی بحث مبشر نذیر کی کتاب فکری،ثقافتی،معاشی اور قانونی مسائل ماڈیول CS07 میں موسیقی کی بحث میں ملاحظہ کریں۔
وہ مزید کہتے ہیں  کہ خواجہ معین الدین چشتی (535-627/1141-1230) اور ان کے مریدین نے سماع کی مدد سے بڑی تعداد میں ہندوؤں کو اسلام کی جانب راغب کیا کیونکہ ان کے ہاں موسیقی کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔
رقص اور موسیقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، وہ علماء و صوفیاء جو موسیقی کے جواز کے قائل ہیں وہ ایسے رقص کے جواز کے بهی قائل ہیں-جبکہ ناقدین اس کی بهی پر زور مذمت کرتے ہیں-جس کی تفصیلی بحث آگے آ رہی ہے-
قسط نمبر 7اور8کے حوالہ جات:  سید شبیر احمد کاکا خیل۔ فہم التصوف۔ ص 147۔ راولپنڈی: خانقاہ امدادیہ۔  www.tazkia.org (ac. 24 Apr 2011)
    حوالہ بالا۔ ص 180
    حوالہ بالا۔ ص 199-203
    حوالہ بالا۔ ص 204-206
   حوالہ بالا۔ ص 220-221
    حوالہ بالا۔ ص 221
   مجلس علمی۔ آداب مرشد کامل۔ حصہ 3، ص 9۔  www.dawateislami.net
   سید شبیر احمد کاکا خیل۔ تصوف کے بارے میں عام پوچھے جانے والے سوالات۔  www.tazkia.org (ac. 24 Apr 2011)
    سید شبیر احمد کاکا خیل۔ فہم تصوف۔ ص 224
   حوالہ بالا۔ ص 224-225.
مراقبہ تفکر کی مزید تفصیلات www.sultan-bahoo.com
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے....

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ


*تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 7)
شغل
شغل سے مراد کچھ روحانی نوعیت کی مشقیں ہیں جن کی مدد سے ذہن کو ایک نکتے پر مرکوز کرنے کی مشقیں کی جاتی ہیں تاکہ انسان کو اپنے ذہن پر کنٹرول حاصل ہو اور اس کی توجہ ادھر ادھر نہ بھٹکے۔ یہ مشقیں بڑی حد تک یوگا سے مشابہت رکھتی ہیں۔ اس کی بعض مثالیں بیان کرتے ہوئے سید شبیر احمد لکھتے ہیں:
شغل کی حقیقت اتنی ہے کہ اگر ذکر میں وساوس تنگ کریں اور کسی طرح دور نہ ہوں تو دل کو کسی تدبیر سے جب کسی ایسی چیز کی طرف مائل کیا جائے کہ اس سے یکسوئی حاصل ہو اور وساوس دور ہوں شغل کہلاتا ہے ۔ یاد رکھیئے کہ یہ مقصود نہیں لیکن معاون فی المقصود ہوسکتا ہے ۔اس کی اصل نماز میں نظر کا محبوس کرنا ۔بکاء کی کیفیت کو ضبط کرنا اور سترہ وغیرہ ہے۔حبس کی دم بھی اس کی ایک قسم ہے ۔یہ گو کہ جوگیوں سے لیا گیا ہے لیکن یہ ان کا کوئی مذہبی شعار نہیں تھا اس لئے ایک تدبیر کے طور پر اس کا لینا جائز تھا جیسا کہ جنگ خندق میں خندق کا کھودنا۔
شغل اسم ذات
کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دل کی تصویر بنا کر اس پر لفظ ’’اللہ ‘‘ خوبصورت لکھا جائے اور پھر اس کو بغور مسلسل دیکھا جائے حتی ٰ کہ اس کا نقش دل پر جم جائے ۔یا دل پر ایک خیالی قلم سے لفظ اللہ لکھنے کی کوشش کی جائے ۔عموماً اس میں پہلا طریقہ آسان اور دوسرا مشکل ہوتا ہے۔
سلطان الاذکار
اس کے کئی طریقے ہیں ۔ایک طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے سے حجرہ میں جہاں شور و غل نہ ہو داخل ہو کر درود شریف اور استغفار اور اعوذ باﷲ پڑھ کر "اللهم اَعْطِیْ نُوْراً وَّ اجْعَل لِّي نُوْراً وَّ اَعْظِمْ لِي نُوْراً وَّ اجْعَلْنِي نُوْراً" تین بار حضور قلب وتصور کے ساتھ کہے پھر خواہ لیٹ کر یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر بدن کو ہلکا کرے اور مردہ تصور کرے اور پورا متوجہ اور باہمت ہو جاوے اس کے بعد سانس لیتے وقت اللہ کا اور سانس باہر نکالتے وقت ہو کا تصور کرے اور خیال کرے کہ سانس لیتے وقت اور باہر نکالتے وقت ہر بال بال سے ہو نکل رہا ہے ۔یہاں تک مشغول ہو کے کہ اپنا خیال تک بھی جاتا رہے اور "هو الْحَي الْقَيّومْ" کا ہر وقت تصور قائم ہو جاوے انشاء اللہ تعالیٰ اس طرح سے کچھ عرصہ بعد جسم کا ہر رواں رواں ہر ہر بال ذاکر ہو جائے گا ۔اور انوار تجلی سے منور ہو جائے گا ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حواس خمسہ کو روئی سے یا انگلیوں سے اس طرح بند کرے کہ دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے سوراخوں میں دے اور دونوں انگلیاں شہادتین کی دونوں آنکھوں کے پپوٹے پر رکھے اور دونوں انگلیاں بیچ کی دونوں نتھنوں پر رکھے اور دونوں انگلی چھنگلی کے پاس کی اوپر کے ہونٹ پر اور چھنگلی نیچے کے ہونٹ پر رکھے اوراکڑوں بیٹھ کر یا جس طرح بیٹھنے کی سہولت ہے بیٹھ کر زبان کو تالوے سے لگائے اور آہستہ آہستہ سانس لے کر حبسِ دم کرے یعنی سانس کو روکے اور لفظ اللہ خیال سے بلا حرکت لسان ناف سے کھینچ کر ام الدماغ یعنی بیچ سر میں روکے ۔جب تک بلا تکلف رک سکے اور وہاں سے دل مُدَوَّر میں لے جا کر اسم ذات ’’اللہ ‘‘خیال سے کہتا رہے ۔جب سانس لینے کا تقاضا ہو تو صرف نتھنوں سے انگلیاں ہٹا کر ناک سے آہستہ سانس چھوڑے تین سانس لے کر پھر حبس دم کرے اور پھر ایک ایک سانس بڑھا کر تحمل کی مقدار کو پہنچا دے ۔
شغل سلطاناً نصیراً
اس کا طریقہ یہ ہے کہ صبح شام رو بقبلہ دونوں زانوں بیٹھے اور اطمینان خاطر سے دونوں آنکھیں یا ایک آنکھ بند کر کے دوسری آنکھ سے ناک کے نتھنے پر نظر ڈالے اور بغیر پلک جھپکائے جس طرح چراغ یا ستارہ کی روشنی کو دیکھتا ہے غیر معین نور کا تصور کرے اور استغراق ایسا ہو کہ وہ محو ہو جائے ۔ ابتداء میں تو آنکھوں میں ضرور تکلیف ہو گی اور پانی بہے گا لیکن چند دن کے بعد جب عادت ہو جائے گی تو یہ تکلیف جاتی رہے گی اور اس کو اپنی صورت جس طرح آئینہ میں نظر آتی ہے نظر آنے لگے گی اور نور الٰہی سے منور ہو جائے گا ۔خواجہ معین الدین چشتی نے فرمایا ہے کہ اس شغل کے فوائد بہت ہیں خصوصاً خطرات کے انسداد میں عجیب و غریب تاثیر رکھتا ہے ۔
شغل سلاطاناً محموداً
اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح سلطاناً نصیراً کے ذکر میں نتھنوں پر نظر رکھتے ہیں اسی طرح اس شغل میں دونوں بھنوؤں کے بیچ نظر رکھتے ہیں ۔ اس شغل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذاکر کو اپنا سر نظر آنے لگتا ہے اور جب سر نظر آنے لگتا ہے تو عالم بالا کے حالات سے مطلع ہو جاتا ہے ۔
شغل سہ پایہ
شغل سہ پایہ "ﷲُ سَمِیْعٌ " "ﷲُ بَصِیْرٌ" "ﷲُ عَلِیْمٌ" کا ذکر ہے ۔طریقہ اس کا یہ ہے کہ چار زانو بیٹھ جائے اور سلطاناً نصیراً کا تصور کرے اور سانس روک کر ناف سے لے کر ام الدماغ تک پہنچائے جب سانس ام الدماغ میں پہنچے تو "ﷲُ سَمِیْعٌ" کہے اور " بِیْ یَسْمَعُ" کا تصور کرے پھر "ﷲُ بَصِیْرٌ " کہے اور " بِیْ یَبْصُرْ " کا تصور کرے پھر ناف پر "ﷲُ عَلِیْمٌ " کہے اور " بِیْ یَنْطِقُ " کا تصور کرے پھر اس کے بعد اس طرح شروع کرے کہ ام الدماغ میں "ﷲُ عَلِیْمٌ " اور ناف پر "ﷲُ سَمِیْعٌ " عروج و نزول کے طریقہ پر کہے یہاں تک کہ ایک سانس میں ایک سو ایک بار شغل سہ پایہ کرنے لگے ۔
تحقیق: یہ شغل لکھ دئے ہیں جس کی صحت عمدہ ہو ،اعصاب میں ضعف نہ ہو اور سالک چاہے تو کرے لیکن شیخ کی تجویز ہر حالت میں ضروری اور مقدم ہے ،اطلاع اور اتباع اصل ہے ۔ ذکر و شغل یک ضربی ،چہار ضربی ،پنج ضربی شش ضربی اور ہفت ضربی بھی ہے ۔ لیکن اب بس یک ضربی اور دو ضربی پر کفایت ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ حسب بیانِ سابق کافی و وافی ہے ۔
ان اشغال سے متعلق فاضل مصنف نے چھ لطائف کا ذکر بھی کیا ہے۔ لطیفہ سے مراد یہاں ہنسی مذاق والا لطیفہ نہیں بلکہ جسم انسانی کے وہ مخصوص مقامات ہیں جہاں ذکر و شغل کے دوران ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ ان میں ناف کے نیچے، عین دل کا مقام،  دماغ کا درمیانی حصہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان مقامات پر توجہ کرنے اور ضربیں لگانے سے انسانی  ذہن کی پروگرامنگ میں مدد ملتی ہے۔ زیادہ مشقوں کے نتیجے میں ان مقامات کی جلد پر کچھ رنگ بھی ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں۔
مراقبہ
ذکر اور شغل کے علاوہ اہل تصوف مراقبہ بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی ذہن کو کسی مخصوص نکتے پر مرکوز کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ مراقبے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے مقام پر بیٹھا جائے جہاں سالک کو کوئی چیز ڈسٹرب نہ کر سکے۔ مراقبوں کی بعض مثالوں کو سید شبیر احمد کاکا خیل اس طرح بیان کرتے ہیں:
جب ذکر ضربی یا سری [ذکر جلی یا خفی] کی تکثیر سے سالک منور ہو جاتا ہے اور اس کی رگ رگ ،رونگٹے رونگٹے میں ذکر سرایت کر جاتا ہے اور ایک محویت کی سی حالت پیدا ہو جاتی ہے تب مراقبات کی تعلیم کی نوبت آتی ہے ۔اصل یہی ہے ۔ لیکن اب عوارض کے سبب ذکر کے ساتھ ساتھ ہی مراقبات بھی تعلیم کر دیئے جاتے ہیں۔کسی ایسے مضمون کو سوچنا جواللہ جلّ شانہُ تک پہنچانے والی ہو اس کے خیال رکھنے کو مراقبہ کہتے ہیں ۔لہٰذا مراقبہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مد نظر رکھنے کو کہتے ہیں۔
اور مراقبہ خاص یہ ہے کہ خدا کی ذات میں اس قدر فکر کرے کہ اپنے سے بے فکر و بے خبر ہو جاوے ۔کبھی یاد دل سے نہ اترے خواہ جمال کے لحاظ سے ہو یا جلال کے لحاظ سے ہو ۔انس کے طور پر ہو یا خشیت کے ساتھ ہو ،خوف کے ساتھ ہو یا رحمت کے ساتھ ،محبت کے ساتھ ہو یا اس کے ساتھ ملنے کے شوق کے ساتھ۔
طریقہ اس کا یہ ہے کہ دو زانو نمازی کی طرح سر جھکا کر بیٹھے اور دل کو غیر اللہ سے خالی کر دے اور اللہ جل شانہ کی حضوری میں حاضر کر دے اور اعوذ و بسم اﷲ پڑھ کر تین بار ﷲُ حَاضِریْ ،ﷲُ نَا ظِرِی اور ﷲُ مَعِیْ زبان سے کہہ کر ان کے معنوں کو دل میں ملاحظہ کرے ،تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ حاظر و ناظر ہے اور میرے پاس ہے ،اس جاننے اور تفور کرنے خیال کرنے میں اس قدرر محو ہو کہ غیر حق کا تصور نہ رہے حتیٰ کہ اپنی بھی خبر نہ رہے ۔
مراقبہ کی قسمیں
مراقبہ کے متعدد طریقے ہیں جس طریقے سے جس قسم سے طالب کو نفع ہوا ہو ،منزل مقصود تک پہنچائے ،اس کے ساتھ کوشش کرے ۔چند اہم قسمیں یہ ہیں ۔ مراقبہ رویت، مراقبہ معیت، مراقبہ اقربیت، مراقبہ وحدت، مراقبہ فناء۔
مراقبہ رویت
خدا کی رویت کا تصور کرے "اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ ﷲَ يَریٰ" [کیا نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ۔] اس پر غور کرے اور اس پر مواظبت [یعنی مسلسل ] کرے اور یہاں تک مشغول ہو کہ یہ مراقبہ پکا ہو جائے ۔
مراقبہ معیت
"هو مَعَکُمْ أيْنَمَا کُنْتُمْ" [تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے ]اس کے معنی کے ساتھ تصور اور یقین کرے کہ خلوت اور جلوت ،بیماری تند رستی ہر حالت میں اللہ میرے ساتھ ہے ۔اسی خیال سے مستغرق ہو جاوے ۔
مراقبہ اقربیت
"نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَيه مِنْ حَبْلٍ الْوَرِيد" [ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں] اس آیت پر معنی کے ساتھ غور کرے اور اس خیال میں محو ہو جاوے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریب ہے ۔
مراقبہ وحدت
"ھُوَ الْاَوَّلُ وَالاٰخِرْ [اس کا وجود ہر جگہ جلوہ فرما ابتداء اور انتہا میں وہی ہے] اس کو زبان سے کہے اور تصور کرے کہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے اسی خیال میں مستغرق ہو جاوے ۔
مراقبہ فناء
"کُلُّ مَنْ عَلَيهَا فانٍ" [دنیا کی تمام چیزیں فانی ہیں اور اللہ بزرگ و برتر باقی رہے گا ۔] اس کے معنی کا تصور کرے کہ تمام چیزیں فناء ہو جائیں گی اور ذات باری ہی ہمیشہ رہے گی اور دل کی آنکھ سے دیکھے اور اس خیال میں محو ہو جائے تاکہ اس کے معنی خوب منکشف ہو جائیں اور اپنے وجود کو فنا اور علم و عقل کو اضمحلال  [کمزوری] ہو ۔
ذکر، شغل اور مراقبہ کے دوران جب سالک اپنے ذہن کو مخصوص  نکات پر مرکوز کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اسے کچھ انوار و تجلیات نظر آتے ہیں۔  یہ انوار اللہ تعالی کی جانب سے بھی ہو سکتے ہیں اور شیطان کی طرف سے بھی۔ ان سے متعلق فاضل مصنف لکھتے ہیں:
جب ذاکر باہتمام تقویٰ خدا کا ذکر کرنے لگتا ہے اور ذکر تمام اعضاء میں سرایت کر جاتا ہے اور غیر خدا سے دل پاک و صاف ہو جاتا ہے اور روحانیت سے تعلق خاص پیدا ہو جاتا ہے تو انوار الٰہی کا ظہور ہونے لگتا ہے اور وہ انوار کبھی خود اپنے میں دکھائی دینے لگتے ہیں اور کبھی اپنے سے باہر ۔اچھے انوار وہی ہیں جن کو سالک دل سینہ و سر یا دونوں طرف اور کبھی تمام بدن میں پائے یا کبھی داہنے بائیں کبھی سامنے سر کے پاس ظاہر ہوں وہ بھی اچھے ہیں لیکن ان کی طرف توجہ نہ کرنا چاہئے کہ کہیں لطف اندوز و متلذذ ہو کر خسارہ اٹھائے ۔
اس کے بعد انہوں نے متعدد علامات ایسی بیان کی ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ انوار اللہ تعالی کی جانب سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ ان علامات کی بنیاد صوفیاء کے تجربات ہیں۔
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے....

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ



*تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 6)
تصوف کے ذرائع
جیسا کہ ہم پچھلی اقساط میں بیان کر چکے ہیں کہ تصوف کا مقصد "وصول الی اللہ" یعنی اللہ تعالی تک پہنچنا ہے۔ ذرائع سے مراد وہ عملی اقدامات اور تدابیر ہیں جنہیں اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اہل تصوف کا کہنا یہ ہے کہ وصول الی اللہ کے راستے تین قسم کے ہیں:
طویل ترین: نماز روزے کی کثرت، تلاوت قرآن مجید، حج، جہاد یعنی شریعت کے احکام کے نتیجے میں انسان اللہ تعالی تک پہنچ جاتا ہے مگر یہ راستہ طویل ترین ہے۔ یہ راستہ اخیار (اچھے لوگوں) کا ہے۔
اوسط: اس راستے میں سفر جلدی طے ہو جاتا ہے مگر شرعی احکام کے علاوہ کچھ اور مجاہدات کرنا پڑتے ہیں۔ یہ راستہ ابرار (نیک لوگوں) کا ہے۔
اقل و اقرب: یہ طریق عشق ہے جس میں سالک دنیا کو چھوڑ کر خلق سے دور چلا جائے اور اپنی زندگی ذکر، فکر، درد، شوق اور محبت الہی میں گزار دے۔ اس راستے سے سالک بہت جلد اللہ تعالی تک پہنچ جاتا ہے ۔
اس تصور کو سمجھانے کے لیے اہل تصوف ٹرین کی مثال دیتے ہیں۔ بعض ٹرینیں تیز رفتار ہوتی ہیں اور بعض نارمل رفتار سے چلتی ہیں۔ سالک اگر تیز رفتار ٹرین پر سوار ہوجائے تو اس کا سفر جلدی طے ہو جاتا ہے مگر اس کا ٹکٹ زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر سالک اوسط یا مختصر راستے پر سفر کرتا ہے تو اسے اس کی اضافی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
وصول الی اللہ کے لیےجو ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں، وہ بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں:
مجاہدہ اور فاعلہ۔  مجاہدے سے مراد نفس کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے اذیت دینا ہے اور فاعلہ سے مراد کچھ اضافی تراکیب ہیں جو روحانی قوتوں میں اضافہ کے لیے صوفیاء سر انجام دیتے ہیں۔ ان میں ذکر، شغل اور مراقبہ سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ سماع، تصور شیخ اور عشق مجازی بھی انہی میں شامل ہیں۔ ان سب کی تفصیل یہ ہے:
مجاہدہ
مجاہدہ کا مطلب  یہ ہوتا ہے کہ اپنے جسم کو اذیت دی جائے تاکہ نفس قابو میں آ جائے۔ تمام برائیوں کا منبع چونکہ انسانی نفس اور شیطان ہیں اور یہی دونوں انسان کو برائیوں پر اکساتے ہیں، اس وجہ سے ضروری ہے کہ  انہیں کنٹرول کیا جائے۔  انسانی نفس کی خواہشات اندھی ہوتی ہیں، اس وجہ سے یہ آسانی سے شیطان کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ انسانی نفس کی تہذیب کر کے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے تاکہ شیطان اس نفس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔
نفس کو کنٹرول کرنے سے متعلق اہل تصوف گھوڑے کو سدھانے کی مثال پیش کرتے ہیں۔  جیسے گھوڑا اگر اڑیل ہو اور انسان کے قابو میں نہ آ رہا ہو تو اس کی تربیت کی جاتی ہے۔ کبھی اسے پیار کیا جاتا ہے تو کبھی مارا جاتا ہے، کبھی دانہ دیا جاتا ہے اور کبھی بھوکا رکھا جاتا ہے، کبھی اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور کبھی اس پر بوجھ لادا جاتا ہے  تاکہ  یہ مالک کے اشاروں پر چلنے لگے۔ بالکل اسی طرح جب نفس قابو میں نہ آئے تو اسے قابو میں لانے کے لیے اسے اذیتیں بھی دی جاتی ہیں اور کبھی اس کی بات مان بھی لی جاتی ہے۔ اسے صوفیاء کی اصطلاح میں "مجاہدہ" کہا جاتا ہے۔
مختلف صوفی سلسلوں میں مجاہدے کی متعدد شکلیں ہوتی ہیں: کبھی نفس کا پسندیدہ کھانا بند کر دیا جاتا ہے، کبھی طویل عرصے تک روزے رکھے جاتے ہیں، کبھی چپ کا روزہ رکھ لیا جاتاہے، کبھی نیند کم کر دی جاتی ہے، کبھی جنسی تعلق کو منقطع کر دیا جاتا ہے، کبھی ساری ساری رات عبادت کی جاتی ہے، کبھی لاکھوں کی تعداد میں ذکر و درود  کا ورد کیا جاتا ہے، کبھی جوتا پہننا چھوڑ دیا جاتا ہے، تو کبھی گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں ٹھنڈے علاقے میں بے سرو سامانی میں وقت گزارا جاتا ہے۔کبهی لباس اتار کر مختصر لباس پہنا جاتا ہے-کبهی جسم کے مختلف وہ حصے  جو بڑهتے ہیں مثلاً بال ناخن وغیرہ ان کو کئی کئی سال تک کاٹا نہیں جاتا-کبهی کئی کئی سال غسل نہیں کیا جاتا-کبهی کئی کئی سال کسی سے ملا نہیں جاتا وغیرہ
بعض صوفی بزرگ مجاہدے کے تین اصول بیان کرتے ہیں: تقلیل طعام، تقلیل منام (سونا) اور تقلیل کلام۔  ان کا موقف یہ ہے کہ ان چیزوں سے نفس نرم پڑ کر قابو میں آ جاتا ہے۔
صوفیاء کی کتب میں ان کے واقعات پڑھے جائیں تو ان کے ہاں بڑے غیر معمولی مجاہدوں کا ذکر ملتا ہے۔  امام غزالی کی تصانیف  ایسے مجاہدوں کے ذکر سے بھری  ہوئی ہیں۔ بعض صوفی کئی کئی سال تک سوئے نہیں تو کئی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ایک عرصے تک کبھی بات نہیں کی۔ ایک صوفی ساری عمر ننگے پاؤں رہے۔ ایک اور صوفی کا واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے  اپنا پسندیدہ کھانا ترک کر دیا اور ساتھ ہی اپنے نفس سے وعدہ کر لیا کہ اگر وہ انہیں تنگ نہ کرے تو  وہ دس سال بعد اسے کھانے کو وہی پسندیدہ کھانا دیں گے۔  دس سال بعد جب وہ اپنا وعدہ پورا کرنے لگے تو نفس نے کہا کہ میں آخر دس سال بعد جیت ہی گیا۔ انہوں نے وہیں اس کھانے کو پھینک دیا اور نفس کی خواہش پوری نہ کی۔
مجاہدات کے ضمن میں صوفیاء کا کہنا یہ ہےکہ سالک کو مجاہدہ خود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے اپنے مرشد سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ مرشد کو بھی چاہیے کہ وہ سالک کی جسمانی صحت، نفسیاتی حالت اور سماجی و معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مناسب مجاہدہ تجویز کرے۔
مجاہدے کا یہ تصور دیگر مذاہب کے تصوف میں بھی ہے بلکہ عیسائی، بدھ اور ہندو راہبوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے ہاں اس معاملے میں غیر معمولی شدت پائی جاتی ہے۔ کئی کئی سال نہ سونا، خارش کر دینے والا لباس پہنے رکھنا، ہمہ وقت زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے رہنا،  چالیس چالیس دن تک بغیر افطار کیے روزہ رکھنا، سالوں کسی دوسرے شخص کا منہ نہ دیکھنا-پوری زندگی برہنہ رہنا-جسم کے بعض اعضاء کو حرکت نہ دینا-سر داڑھی کے بالوں کو اپنے ہاتھ سے نوچنا یعنی کهنیچ کھینچ ختم کر دینا وغیرہ جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے- اور اس قسم کے بے شمار مجاہدات ان کے ہاں ملتے ہیں۔ مسلم صوفیاء کے حالات زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بعض حضرات کے ہاں اسی درجے کے مجاہدات کا ذکر ملتا ہے مگر کئی صوفیاء کے ہاں اس معاملے میں اعتدال پایا جاتا ہے۔
فاعلہ
فاعلہ سے مراد وہ تراکیب ہیں جن میں اہل تصوف روحانی قوت میں اضافہ کے لیے مشغول رہتے ہیں۔ ان میں ذکر، شغل اور  مراقبہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض طریقے اور بھی ایسے ہوتے ہیں  جن کا شمار فاعلہ میں کیا جاتا ہے مگر ان کے بارے میں پابند شریعت صوفیاء  کا کہنا یہ ہے کہ ان سے نقصان بھی ہو جاتا ہے، اس وجہ سے ان کا استعمال مرشد کے حکم سے ہی کرنا چاہیے۔ ان میں  سماع، عشق مجازی اورتصور شیخ شامل ہیں۔  مناسب ہو گا کہ انہیں تفصیل سے بیان کیا جائے۔
ذکر
عام علماء کے نزدیک نماز، تلاوت قرآن مجید اور وہ اذکار جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے، ذکر میں داخل ہیں۔ ناقدین تصوف کے نزدیک یہی اذکار کافی ہیں۔کیونکہ محدثین کا ان اذکار پر ہی عمل اور اجماع رہا ہے اس کے علاوہ کسی نئے اذکار کی ضرورت نہیں ہے-
صوفیاء بھی انہیں "ذکر مسنون" کہتے ہیں مگر ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ تمام اذکار انسان کے لیے غذا کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم جو شخص اپنا تزکیہ نفس کرنا چاہے، اسے اضافی اذکار کرنے چاہییں۔ یہ اذکار اس کے لیے دوا کی حیثیت رکھتے ہیں۔  ان اذکار میں ذکر کے ساتھ ساتھ کچھ خاص روحانی نوعیت کی مشقیں کی جاتی ہیں۔  یہاں ہم سید شبیر احمد صاحب کی کتاب فہم تصوف میں سے کچھ اذکار کا طریقہ درج کر رہے ہیں:
ذکر کا مقصد چونکہ بندے کا نفس کی غلامی سے نکل کر نفس کے مالک کا بندہ بننا ہے اس لئے اس میں ترتیب کے ساتھ بندے کو نفس سے نکالنے اور اس کو حق کے پاس لے جانے کا خیال رکھا جاتا ہے جس کے چار مرحلے ہیں ۔ بعض حضرات کے نزدیک اول مرحلہ نفی و اثبات لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲ، دوسرا اثبات اِلاَّ ﷲ،تیسرا ﷲ،اور چوتھا ھو ہے۔ پہلے کو ناسوتی ، دوسرے کو ملکوتی تیسرے کو جبروتی اور چوتھے کو لاہوتی کہتے ہیں۔ جیسا کہ عالم بھی چار ہیں ۔ (1) ناسوت (2)ملکوت (3)جبروت (4)لاہوت
بعض مشائخ کے نزدیک پہلے دو ذکر تو اسی طرح ہیں لیکن تیسرا ذکر اللہُ اللہ (پہلے لفظ ذکر کے آخر میں پیش ہے اور دوسرے کے آخر میں جزم )اور چوتھا صرف اسم ذات بسیط بلاتکرار اللہ(جزم کے ساتھ) ہے ۔ بعض نے ذکر لسانی کو ناسوتی ،ذکر قلبی کو ملکوتی ،ذکر روح کو جبروتی اور ذکر سر کو لاہوتی کہا ہے۔ بعض نے ذکر لسانی کو جسمی، فکر کے ذکر کو نفسی، مراقبہ کو ذکر قلبی ، مشاہدہ کو ذکر روحی اور معائنہ کو ذکر سرّی کہا ہے۔
ذکر ناسوتی لآ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ ہے کہ اس میں ناسوتی اُمور ،شہوات و لذات و خواہشات یعنی جو جو عالم دنیا سے متعلق ہیں اور نفس کو خود میں مشغول رکھتے ہیں ،سے نفی ہے ۔اس سے نکل جانا اوراللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہونا ہے یعنی لا الہ کی تلوار سے غیر اللہ کو فنا کرنا اور الااللہ کی ضرب سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا حاصل کرنا ہے۔ ذکر ملکوتی یعنی اِلاَّ ﷲ سے اس حقیقت کا ادراک حاصل کرنا ہے کہ ہم تو صرف اللہ کے لئے ہیں جیسا کہ فرشتے صرف اللہ تعالیٰ کے امر کے مطابق سب کچھ کرتے ہیں اور ان کا کسی اور طرف دھیان ہی نہیں ہوتا تو اس طرح ہمارا بھی دھیان صرف اللہ کی طرف ہو اور غیر اللہ کی طرف التفات کا شائبہ بھی نہ ہو حتی کی اس کی نفی کی طرف بھی خیال نہ ہو۔
ذکر جبروتی ﷲُ ﷲْ سے مراقبہ ذات مع صفات عظمت و احسان و رحمت و شفقت وغیرہ ہو یعنی حق کا ادراک دما دم ایسا ہو کہ ہر دم اس ادراک میں ترقی ہو اور قلب و ذہن اس میں مشغول ہو۔ ذکر لاہوتی ﷲ کا مقصد محض اللہ کی ذات کی طرف ایسی توجہ ہے کہ اس کی صفات کی طرف بھی دھیان نہ ہو ۔ بعض حضرات ذکر جبروتی "اللہ " کے ذکر کو اور ذکر لاہوتی  "ہو " کے ذکر کو قرار دیتے ہیں۔ پہلا طریقہ عموماً اہل چشت کے ہاں ہوتا ہے اس کو بارہ تسبیح بھی کہتے ہیں ۔یہ حضرات پہلے دو سو بار ذکر ناسوتی ،چار سو بار ذکر ملکوتی ،چھ سو بار ذکر جبروتی اور سو بار لاہوتی کراتے ہیں لیکن ذکر لاہوتی میں سالک کی استعداد کے مطابق روز افزوں ترقی کراتے کراتے اس کو بعض اوقات 24 ہزار تک بھی لے جاتے ہیں۔
دوسرا طریقہ عموماً قادریہ حضرات کے نزدیک چلتا ہے ۔ ذکر علاجی میں اجتہاد جاری ہے ۔ ایک انتہائی ضروری امر کی تشریح یہاں پر کرنا ضروری ہے کہ یہ تمام طریقے اجتہادی ہیں ۔جیسے طب میں ہر حکیم مجتہد ہوتا ہے اس طرح طب روحانی یعنی تصوف میں ہر شیخ مجتہد ہوتا ہے یعنی وہ تصوف کے مسلمہ قواعد سے کام لے کر وقت اور سالک کی استعداد کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے جو مفید سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے اس لئے اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں البتہ یہ شیخ کے اپنے فائدے کی بات ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو اچھی طرح پوری کرنے کے لئے اگر دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے تو اس سے فائدہ ممکن ہے ۔اسی مقصد کے پیش نظر کتابیں لکھی جاتی ہیں جس میں یہ کتاب بھی ہے۔
ذکر نفی و اثبات یعنی لاالہ الا ﷲ کا طریقہ:کتابوں میں جو طریقہ لکھا ہے وہ یہ ہے کہ لآ اِلٰہَ کے لآ کو ناف سے ذرا طاقت سے کھینچ کر لفظ اِلٰہَ کو داہنے بازو تک لے جا کر سر کو پیٹھ کی طرف تھوڑا سا جھکا کر یہ خیال کرے کہ میں نے غیر سے اپنے دل کو پاک کر کے تمام اغیار کو پس پشت ڈال دیا پھر اِلاَّ ﷲْ کی ضرب ذرا زور سے دل پر لگائے یہ دو سو بار کہے اس طرح کہ ہر دس بار یا سانس ٹوٹنے پر محمد الرَّسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہے ۔آج کل کے حالات کے پیش نظر ہمارے شیخ مولانا محمد اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس میں یہ ترمیم فرماتے تھے کہ لا کو ناف سے طاقت کے ساتھ کھینچ کر الا اللہ سے دل کو دائیں بائیں یوں ہلائے کہ جس سے نفی کی قلبی کیفیت پیدا ہوجائے یعنی اس کے ساتھ ہی یہ سوچے کہ میرے دل سے غیر اللہ کی محبت نکل گئی اور الا اللہ سے دل پرسینے کی اندرون سے ایسی ضرب لگائی جائے کہ اس سے یہ کیفیت پیداہوجائے کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوگئی۔حضرت فرماتے تھے کہ آج کل لوگ خارجی ضرب کے متحمل نہیں۔
وضاحت
لآ اِلٰہَ کہتے وقت مبتدی [آغاز کرنے والا] لا معبود سوچے، متوسط [درمیانے درجے کا سالک] لا مقصود یا لا مطلوب سوچے اور منتہی کامل [جو اپنے روحانی سفر کی آخری اسٹیج پر ہو] لا موجود کا تصور کرے اور تھوڑی دیر مراقب ہو کر خیال کرے کہ فیوضات الٰہیہ قلب میں مسلسل حاصل ہو رہے ہیں اور تصور کرے کہ فیضان الٰہی عرش سے میرے سینہ میں آ رہاہے خواہ چوکڑی بھر کر بیٹھے یا دو زانو جس میں سہولت ہو،ذوق کے مطابق کرے ۔
ذکر الاّ ﷲ کا طریقہ : کتابوں میں اِلاَّ ﷲ کے ذکر کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی بار لآ اَلٰہَ کہتے وقت ناف سے کھینچ کر سر کو دائیں شانہ کی طرف لے جا کر اِلاَّ ﷲ کی ضرب دل پر لگائے ۔اور پھر دل پر ہی بائیں جانب ضرب لگاتا رہے ۔ یہ ذکر چار سو بار کرے پھر نفی و اثبات کی طرح مراقبہ کرے ۔آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ مناسب ہے کہ الااللہ کہتے ہوئے ضرب دائیں شانے کی جانب سے لیکن سینے میں دل کے قریب سے دل پر ضرب لگائی جائے ۔اس میں مراقبہ ملکوتی ہی مناسب ہے کہ ہم تو اللہ ہی کے بندے ہیں ۔اس طریقے سے نہایت آسانی کے ساتھ مطلوبہ کیفیت حاصل ہوجاتی ہے ۔اس لئے بہت زور دار ضرب لگانے کی آج کل ضرورت نہیں بلکہ اس میں نقصان کا اندیشہ ہے۔
ذکر اسم ذات دو ضربی
ﷲُ ﷲْ اول "ہ" پیش کے ساتھ اور دوسری "ہ" جزم کے ساتھ۔اس کا کتابوں میں لکھا ہوا طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں بند کر کے سر داہنے کندھے کی طرف لے جا کر ﷲُ پیش کے ساتھ دل پر ضرب لگایا جائے اور دوسرے لفظ ﷲْ (جزم کے ساتھ) سے بھی دل پر ضرب لگایاجائے ۔ یہ چھ سو بار ہے ۔پھر اس طرح مراقبہ کرے کہ ہر دس یا زائد کے بعد  ﷲُ نَاظِرِي ﷲُ حَاضِرِي ﷲُ مَعِي کہتا رہے تاکہ کیفیت و لذت اس کی حاصل ہو ۔اس میں بھی آج کل بہتر یہی ہے سر کو ہلائے بغیر جہاں سے الا اللہ کے ضرب کا بتایا گیا وہیں سے یعنی سینے میں دائیں شانے کی جانب سے مگر قریب سے دل پر ضرب لگائی جائے ۔
ذکر اسم ذات یک ضربی
اس کا طریقہ کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ لفظ اﷲْ جزم کے ساتھ سر کو بائیں جانب لے کر دل پر ضرب کرے ۔یہ سو بار ہے ۔پھر مراقب ہو کر اس طرح کہے ، ﷲُ نَاظِرِي [اللہ مجھ کو دیکھ رہا ہے ]، ﷲُ حَاضِرِي [اللہ میرے پاس ہے ]، ﷲُ مَعِي [اللہ میرے ساتھ ہے ]۔اور معنی کا خیال کرے ۔ آج کل اس کے لئے بھی مناسب یہ ہے کہ یہ مراقبہ کرے میرا اللہ میرے دل کو محبت کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور میرا دل بھی اس کی طرف متوجہ ہے اور میری زبان کے ساتھ مل کر اللہ اللہ شوق میں کررہا ہے ۔ اس میں اوپر کے مراقبے بھی آگئے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ قلبی بھی حاصل ہوگئی۔جو تصور ذات بخت کا پیش خیمہ بنے گا انشاء اللہ۔
ایک اور تشریح
بعض مشائخ نے اس کی تشریح یوں بھی کی ہے کہ سالک ذکر نفی و اثبات لآ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ میں اس قدر مشغول ہو کہ سوائے ذکر کے کچھ نہ رہے ۔کوئی سانس بغیر ذکر نہ نکلے ۔جب اس حالت کو سالک پہنچ گیا تو عالم مادیت ،عالم اجسام سے تجاوز کر کے مرتبہ لطیفہ پر پہنچ جائے اور اب بجز اِلاَّ ﷲ کے اثبات کے تمام کی نفی ہو جاتی ہے ۔ اب یہ مرتبہ نفس سے نکل کر لطیفہ قلب کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے ۔چونکہ یہ ذکر اِلاَّ ﷲ دل کا ذکر ہے اس لئے اب اِلاَّ ﷲ کا تصور بحضور قلب چاہئے کہ اپنی ذات و صفات کو اللہ کی ذات و صفات کے ساتھ ربط ہو جاوے ۔جب سالک اس مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے تو مرتبہ دل سے گذر کر مرتبہ روح پر پہنچ جاتا ہے۔اور روح کا ذکر اسم ذات اللہ کا ذکر ہے اس واسطے اس ذکر اسم ذات میں اس طرح انہماک ہو کہ الف لام جو اللہ پر داخل ہے باقی نہ رہے صرف ھو رہ جائے ۔اس مرتبہ پر پہنچنے سے سالک سراپا ذکر ہو جائے گا اور روح سے ترقی کر کے مرتبہ سر پر پہنچ جائے گا اور مقام فناء الفناء پر فائز ہو جائے گا۔
اب سالک کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ اب وہ مصداق حدیث شریف "بِيْ يَسْمَعُ وَبِي يبْصر" ہو گا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب وہ میرے ساتھ سنتا ہے میرے ہی ساتھ دیکھتا ہے "وَبِیْ يَبْطِشُ" میرے ہی ساتھ پکڑتا ہے "وَبِيْ يَمْشِیْ" میرے ہی ساتھ چلتا ہے یعنی اس کا ہر حرکت و سکون خدا کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے ۔ [دیکھنے میں بشر ہے لیکن بے شر ہے ،سراپا نور ہے ]اب اس کو لا الہ الا اللہ کی خوب معرفت ہو جائے گی، عبدیت کاملہ حاصل ہو جائے گی، عبدیت میں درجہ کمال اور بصرف ہمت عبادت میں مشغول ہو گا، حفظ مراتب اور احکام شریعت کا امراً و نہیا  اُمتثال کرے گا۔
صوفیاء عام طور پر ان اذکار کی انفرادی یا اجتماعی طور پر مشقیں کرتے ہیں۔ ذکر کرتے ہوئے عام طور پر ذہن کو ایک خاص نکتے پر مرکوز کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی سر کو گھما  کر اس کی ضرب دل پر لگانے سے اس نکتے میں غیر معمولی زور پیدا ہو جاتا ہے۔ 
مثال کے طور پر جیسے فاضل مصنف نے بیان کیا کہ ابتدائی درجے کا سالک "لا الہ" کہتے وقت ، "لا معبود" سوچے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے ذہن میں پوری توجہ سے  "کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے" کی تکرار کر رہا ہو گا۔  اس تکرار کے ساتھ ساتھ دل پر ضرب لگانے سے اس نکتے کی پروگرامنگ اس کے ذہن میں ہوتی چلی جائے گی۔ جب وہ طریقت کے سفر میں کچھ آگے بڑھے گا تو  "کوئی مطلوب نہیں سوائے اللہ کے" کی تکرار کرنے لگے گا۔ اعلی لیول پر پہنچ کر وہ "کوئی موجود نہیں سوائے اللہ کے" کی تکرار کرے گا۔ یہ ایک قسم کا ذہن کی پروگرامنگ کا ایک طریقہ ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اعلی سطح پر پہنچ کر  سالک کا ذہن اللہ کے سوا ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو "وحدت الوجود" یا "وحدت الشہود" کا نام دیا جاتا ہے۔
ذکر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک کو ذکر خفی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو ذکر جلی یا ذکر بالجہر۔  ذکر جلی بلند آواز میں ہوتا ہے۔ لا الہ کہتے ہوئے سر کو دائیں جانب سے گھما کر بائیں جانب لایا جاتا ہے اور الا اللہ کی ضرب دل پر لگائی جاتی ہے۔ ذکر خفی میں ذہن کو لا الہ الا اللہ پر مرکوز کرتے ہوئے زبان نہیں ہلائی جاتی بلکہ سانس کی آمد و رفت سے وہی کام لیا جاتا ہے اور سانس باہر نکالتے ہوئے دل پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ قادری اور چشتی سلسلوں میں بالعموم ذکر بالجہر رائج ہے اور نقشبندی سلسلے میں ذکر خفی-
(راقم الحروف ان تمام اذکار کی مجالس میں شرکت کر کے یہ ذکر کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر چکا ہے-)
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے....

تصوف اور ناقدین، تقابلی مطالعہ

*اسلام اور تصوف' تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 2 )
تصوف کا تعارف:
تصوف یا صوفی ازم بالعموم اس فن اور طرز زندگی کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق روحانیت سے ہو۔  تصوف سے وابستہ حضرات "صوفی" کہلاتے ہیں۔
اس  پروگرام کو ہم نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے تصوف کے مقاصد کیا ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے  کیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے؟ اہل تصوف کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟  صوفی حضرات کن امور اور مشاغل میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو کس طریقے سے منظم کیا جاتا ہے؟  اس کے بعد دوسرے حصے میں ہم یہ دیکھیں گے کہ تصوف سے متعلق کیا کیا نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں اور ان کے دلائل کیا ہیں؟  اس کا دین اسلام سے کیا تعلق ہے؟ لیکن ایک بات یاد رہے ہم اہل تصوف اور ناقدین  کے نقطہ نظر کو ویسے ہی بیان کریں گے جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں-
تصوف کیا ہے؟
تصوف کی تعریف:
تصوف کی ایک جامع و مانع تعریف ممکن نہیں ہے۔ شام کے ایک بڑے صوفی عالم شیخ عبدالقادر بن عیسی (1919-1991) نے اپنی عربی کتاب "حقائق عن التصوف" میں  اس لفظ کے متعدد ماخذ بیان کرتے ہوئے متعدد تعریفیں بیان کی ہیں جو کہ یہ ہیں:
تصوف اور صوفی، "صفت" سے نکلے ہیں کیونکہ تصوف وہ علم ہے جس میں اچھی صفات پیدا کرنے اور بری صفات دور کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
امام ابو القاسم القشیری (376-465/986-1072) لکهتے ہیں۔
تصوف کا لفظ "صفوت" سے نکلا ہے جس کا معنی ہے بہترین لوگ۔
مسلم و غیرمسلم محققین نے اسلام میں تصوف کے آغاز کی وجوہات و اسباب پر متعدد نظریات پیش کئے ہیں جن میں خاصی حد تک مشترکہ باتیں پائی جاتی ہیں۔مناسب ہو گا کہ اس پر بهی روشنی ڈال دی جائے-
فرانسیسی لوئی ماسینیؤن (Louis Massignon) عہد بمطابق (1883ء تا 1962ء) نے تصوف کو داخلیتِ اسلام قرار دیا ہے ، یعنی اسلام کو اپنے آپ میں داخل کرلینا- اس کے مطابق قرآن کی مسلسل تلاوت (تکرار)، مراقبہ، اور تجربے سے تصوف پیدا ہوا یا ہوئی اور بڑھی-
تصوف کا قرآن میں لغوی طور پیوست ہونے کا یہ نظریہ ، باطنیتِ کلام ، سے بہت مختلف بھی نہیں کہا جاسکتا؛ صوفیاء بھی اسی ظاہریت اور باطنیت کی تقسیمِ اسلام کے قائل ہیں، یعنی قرآن کے الفاظ کا مسلسل ورد اور ان میں وہ معنی (باطنی) تلاش کرنا کہ جو ظاہر میں نظر نہیں آتے یا پوشیدہ ہیں، صوفیاء کے نزدیک تصوف کی بنیاد ہیں-
مشہور پروفیسر نکلسن کا کہنا ہے کہ تصوف یونانی فلسفہ کے زیر اثر پیدا ہوا۔ نکلسن نے اپنی رائے کو بڑے وثوق کے ساتھ اپنی تصانیف میں پیش کیا ہے اور صوفیاء و حکماۓ یونان کے خیالات پیش کر کے ان میں باہم تطبیق کی کوشش کی ہے۔ ڈوزی اور فان کریمر کی رائے ہے کہ تصؤف ویدانیت سے ماخوذ ہے۔ کچھ لوگ اسے بدھ مذہب سے اخذ کردہ بتاتے ہیں۔
تصوف سے شغف رکھنے والے علماء اکرام ، لفظ صوفی کی اصل الکلمہ ، اصحاب صفہ سے منسلک کرتے ہیں۔ صفۃ اصل میں عربی کا لفظ ہے جس میں ص پر زیر اور ف پر زبر (صِفَة) کے ساتھ صفت یا اہلیت کے اور ص پر پیش اور ف پر تشدید (صُفَّة)کے ساتھ چبوترے کے معنی آتے ہیں۔ یہ بعدالذکر معنی ہی اختیار کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ لفظ صوفی اسی صفہ سے اخذ ہے کہ مسجد نبوی کے شمال میں واقع صفہ (چبوترے یا سائبان) میں جو اصحاب رہا کرتے تھے ان کو اصحاب صفہ کہا جاتا ہے اور اصحاب صفہ چونکہ ، فقراء ، تارکِ دنیا اور بالکل صوفیوں کے حال میں ہوتے تھے اس لئے یہی لفظ صوفی کی اصل الکلمہ ہے۔ امام ابن تیمیہ کے مطابق اصحاب صفہ اسلام کے مہمان تهے،
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے گهر میں جو کچھ میسر ہوتا انہیں بهیج دیا جاتا-رہا لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنا تو اس بارے میں ان کا طریقہ کار وہی تها جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کی تربیت کی تهی-بلکہ ایسی اپنی وضع بنانا یا ایسی زندگی اختیار کرنا کہ جسے دیکھ کر لوگ خواہ مخواہ دیں-یہ طریقہ بهی سوال میں داخل ہے-اصحاب کو سوال کرنے سے بالکل منع کردیا گیا تھا یعنی اصحاب صفہ ، عام فقراء کی مانند دست سوال دراز نہیں کرتے تھے۔ نا ہی ان میں کوئی صوفیانہ کیفیات (حال ، وجد وغیرہ) پائی جاتی تھیں اور نا ہی اصحاب صفہ نے خود کو تارک الدنیا کیا تھا بلکہ وہ دیگر اصحاب کی طرح جہاد میں بھی شریک ہوا کرتے تھے-
مزید یہ کہ علم لسانیات کے مطابق ، لفظ صفہ سے صوفی مشتق کرنا قواعد کے لحاظ سے غلط ہے کہ اوپر بیان کردہ اعراب کی رو سے لفظ صفہ سے صُفّی (suffi) مشتق ہوگا نا کہ صوفی (soofi یا sufi) مشتق کر لیا جائے-
بعض صوفیاء کے خیال میں یہ لفظ صوفی اصل میں صف اول کی صف سے ماخوذ ہے کہ صوفی تمام دیگر انسانوں کی نسبت اپنا دل خدا کی جانب کرنے اور اس سے رغبت رکھنے میں پہلی صف میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی دیگر متعدد ماخذ کی طرح لسانی قواعد کی پیچیدگی پیش آتی ہے کیونکہ اگر صوفی ، صف سے اخذ کیا گیا ہوتا تو پھر اس لفظ کو صَفّی (saffi) ہونا چاہئے تھا نا کہ صوفی (sufi) جو مروج ہے۔
ابو محمد عبدالغنی بن سعید الحافظ نے فرمایا ‫:جب ولید بن قاسم سے لفظ ’صوفی‘ کی نسبت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ ‫:زمانہ جاہلیت میں ایک شخص تھا جس کا نام غوث بن مرّ اور لقب ’صوفا‘ تھا ۔ اس کا کام ایامِ حج میں لوگوں کو حج کرانا اور ان کو عرفات سے منٰی اور منٰی سے مکہ جانے کی اجازت دنیا تھا ۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری اس کی اولاد میں منتقل ہوگئی ۔ ان سے عدوان نے لے لی اور کافی عرصہ عدوان کی اولاد میں یہ ذمہ داری باقی رہی ۔ پھر ان سے یہ منصب قریش نے حاصل کر لیا۔ غوث بن مرّ پہلا فرد ہے جیسے اس کی ماں نے بیت اللہ کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا ۔ ابن سائب الکلبی کا بیان ہے کہ اس کی ماں کا کوئی لڑکا نہیں جیتا تھا ۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اس کا فرزند زندہ رہا تو اس کے سرپر ’صوف‘ باندھ کر اس کو کعبہ کی خدمت کے لئے وقف کردے گی ۔ چنانچہ اس نے نذر پوری کی ۔ بعد میں اس لڑکے کا نام ’صوفہ‘ پڑ گیا اور اس کی اولاد بھی ’صوفہ‘ کہلائی ۔ اس کے بعد سے جو لوگ بھی اللہ کے واسطے دنیا چھوڑ کر کعبہ کی خدمت سے منسلک ہوگئے انہیں بھی لوگ اسی مناسبت سے ’صوفیہ‘ کہنے لگے ۔ بحوالہ : تلبیس ابلیس، علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ، باب 10 ، صوفیوں پر تلبیس ابلیس کا بیان 2۔
گو عربی قواعد کی رو سے لفظ ’’صوفہ‘‘ سے ’’صوفی ‘‘ نہیں بلکہ ’’صوفانی‘‘ بنتا ہے لیکن بعض ماہرین اس اشتقاق کو درست مانتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر ’’کوفہ‘‘ سے’’کوفانی‘‘ کے بجائے ’’کوفی‘‘ بن سکتا ہے تو ’’صوفہ‘‘ سے’’صوفی‘‘ کا اشتقاق بھی ممکن ہے۔ اس دلیل کے باوجود اس اصل الکلمہ کے خلاف متعدد دیگر وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں-قوم صوفہ ایک غیر معروف قوم تھی جس کی جانب صوفیاء کی توجہ مرکوز ہونا یا اسکے نام سے تشبیہ کا امکان قوی نہیں۔اگر بالفرض یہ اصل الکلمہ درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر صوفی کا لفظ خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ اکرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے موجود ہونا چاہئے تھا نا کہ دوسری صدی (ابو ہاشم 140)ہجری میں- اور ویسے بهی یہ نسب زمانہ جہالت کی طرف ہوتی ہے جس کی بنا پر تصوف کو ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا-
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صوفی ’صوفانہ‘ سے لیا گیا جو ایک خوشنما اور خود رو جنگلی ساگ ہے جو چھوٹے چھوٹے پتوں کی شکل کا ہوتا ہے ۔ اہل تصوف بھی جنگل کے ساگ پات پر گزارہ کر لیتے ہیں اس لئے انہیں صوفی کہا جاتا ہے ۔ مگر یہ بھی غلطی ہے ، کیونکہ اگر اس طرف نسبت ہوتی تو ’صوفانی‘ کہا جاتا ۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ صوفی منسوب ہے ’صوفۃ القضا‘ کی طرف یعنی وہ چند بال جو گدی کے آخر میں جمتے ہیں گویا صوفی حق کی طرف متوجہ اور خلق کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہے ۔ (تلبیس ابلیس، علامہ ابن جوزی ، باب 10 ، فصل :2)
ابوریحان البیرونی کا خیال ہے کہ ’صوفی‘ کا مادۂ اشتقاق ایک یونانی لفظ ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے :سوفی بمعنی فلاسفر ہے کیونکہ یونانی لفظ ’سوف‘ بمعنی فلسفہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی زبان میں ’فیلسوف‘ کو ’فلاسفا‘ کہا جاتا ہے ، یعنی فلسفہ کا دلدادہ ۔ چونکہ اہل اسلام میں ایک جماعت ایسی تھی جو ان کے مسلک سے قریب تھی اس بناء پر ان کا نام بھی ’صوفی‘ پڑ گیا ۔(بحوالہ : کتاب الہند ، ابوریحان البیرونی ، صفحہ 16)
فقہی امام، احمد بن حنبل کے استاد بشر ابن الحارث (767ء تا840ء) جنہیں بشر الحافی بھی کہا جاتا ہے کہ مطابق؛ صوفی وہ ہے کہ جس کا دل اللہ کی جانب مخلص (صاف) ہو۔ اگر لفظ الصفاء کو اخلاص ، پاکیزگی اور صفائی کے معنوں میں لے کر اسی کو صوفی کی بنیاد یا اصل الکلمہ تسلیم کیا جائے تو پھر قواعدی طور پر لفظ صوفی کے بجائے صفوی یا صفاوی اخذ ہونا چاہیے تھا۔
لفظ صوف کے معنی اون کے آتے ہیں اور گمان غالب ہے کہ یہ لفظ کوئی آٹھویں صدی عیسوی سے دیکھنے میں آ رہا ہے جب ابن سیرین (وفات 729ء) سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس لباس کی حضرت عیسی کی جانب نسبت سے پہنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔ ابن خلدون کے مطابق صوف (اون) کے کپڑے پہننے کا رجحان دنیا پرستانہ زندگی کی جانب رغبت کے ردعمل کے طور پر ہوا ،جب بزرگ اور نیک انسانوں نے قیمتی اور ریشمی لباسوں کی نسبت سادہ صوف کے لباس کو ترجیح دینا شروع کی-
علامہ ابن جوزی کا بیان ہے کہ شروع میں صوفیاء کتاب و سنت پر اعتماد کرتے تھے اور کوئی فعل ایسا کرنا ان کے نزدیک جائز نہ تھا جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہو۔ حضرت سری سقطی کا قول ہے کہ جو شخص ظاہر میں احکام شریعت کی پیروی چھوڑ کر باطن کا دعوٰی کرے وہ غلطی پر ہے۔ جنید بغدادی کہتے ہیں کہ ہمارا تصوف کتاب و سنت سے مقید ہے اور ہمارا علم کتاب و سنت سے بندھا ہوا ہے جس شخص کو کتاب اللہ یاد نہیں، حدیث نہیں لکھتا اور فقہ سے نابلد ہے اس کی پیروی نہ کی جائے۔ ابو بکر سقاف کہتے ہیں کہ جو شخص ظاہر میں امرونہی کی حدود ضائع کر دے وہ باطن میں مشاہدہ قلبی سے محروم رہے گا۔ بایزید بسطامی کا قول ہے کہ جو شخص قرآن مجید کی تلاوت، شریعت کی حمایت، جماعت کا التزام، جنازے کے ساتھ چلنا اور مریضون کی عیادت چھوڑ دے اور ثناء شان باطنی کا دعوٰی کرے وہ (بدعتی) ہے۔ (تلبس ابلیس، علامہ ابن جوزی صفحہ ٢٣٢)
تصوف کی تعریف مختلف بزرگان دین سے اس طرح نقل کی گئی ہے کہ التصوف ھو علم یعرف بہ احوال تزکیۃ النفوس و تصفیۃ الاخلاق و تعمیر الظاھر والباطن لنیل السعادۃ الابدیۃ(شرح شیخ الاسلام ابی یحییٰ زکریا الانصاری)”یعنی تصوف ان کیفیات کا علم ہے جن کے ذریعہ نفس کا تزکیہ اور اخلاق کا تصفیہ اور ظاہر و باطن کی تعمیر ہوتی ہے، تاکہ انسان ابدی سعادت حاصل کرسکے۔“
حضرت ابوالحسن نوری فرماتے ہیں التصوف ترک کل حظ للنفس”تصوف تمام لذات نفسانی کو ترک کردیتے کا نام ہے۔“
حضرت ابو علی قزوینی کا ارشاد گرامی ہےالتصوف ھو الاخلاق المرضیۃ”تصوف پسندیدہ اخلاق (کو اختیار کرنے) کا نام ہے۔“ابومحمد جریری کا فرمان ہےالتصوف الدخول فی کل خلق سنی والخروج من کل خلق دنی”تصوف ہر اخلاق حمیدہ کو اختیار کرنے اور ہر اخلاق (شنیعہ) رذیلہ کو ترک کرنے کا نام ہے۔“
حضرت کتانی فرماتے ہیں کہ التصوف خلق فمن زاد علیک فی الخلق فقد زاد علیک فی الصفا”تصوف اچھے اخلاق کا نام ہے، سو جس کے اخلاق تیرے اخلاق سے زیادہ عمدہ ہیں وہ صفا (تصوف و قلبی صفائی) میں بھی تجھ سے زیادہ ہے۔“   
ہر کسی نے اپنے ذوق کے مطابق جیسے محسوس کیا، تصوف کو الفاظ کے پیرہن میں مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی اور تعبیر اختیار کی،
تاہم تصوف کی آج تک کوئی جامع مانع تعریف سامنے نہ آسکی-
پروفیسر خلیق نظامی اپنی کتاب (تاریخ مشائخ چشت) میں لکھتے ہیں جب کوئی انسانی تحریک اپنے مولد سے نکل کر دوسرے علاقوں میں پھیلتی ہے تو وہاں کی ذہنی آب و ہوا مخصوص اقتصادی اور جغرافیائی حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ ہر تحریک نئے ملک اور نئے ماحول میں پہنچ کر اس جگہ کے ہم آہنگ عناصر کو ساتھ لینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اس کو تقویت حاصل ہو اور نشو ونما کا صحیح موقع ملے۔ جب تصوف کی تحریک وسطی ایشیاء پہنچی تو ناگزیر تھا کہ بُدھ مذہب کے کچھ اثرات قبول کئے جائیں۔ حضرت علی ہجویری نے اپنی کتاب (کشف المحجوب) میں کچھ صوفی گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ غور سے پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ بدھ مذہب کے کتنے اثرات اس طبقے نے قبول کر لئے تھے۔ جب ہندوستان میں یہ تحریک پہنچی تو ناممکن تھا کہ یہاں کے ان قدیم مذہبی اصولوں کو جذب نہ کر لیتی جو اس کے بنیادی اصولوں سے نہ ٹکراتے ہوں۔ حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری شطاری نے (بحرالحیات) میں اور شہزادہ داراشکوہ نے (مجمع البحرین) میں اسلامی تصوف اور ہندو فلسفہ کا اسی نظر سے مطالعہ کیا ہے۔(تاریخ مشائخ چشت، پروفیسر خلیق احمد نظامی صفحہ ٢٢، ٢٣)پروفیسر نظامی اپنی کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں۔کوئی انسانی تحریک خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو جب افراط و تفریط اورعمل درعمل کا بازیچہ بنتی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ فقہ اسلامی کی تدوین نے مسلمانوں کی دینی اور سماجی زندگی کو سنوارنے میں عظیم الشان کام کیا لیکن جب اس کو حیلہ بازیوں اور مکاریوں کا ذریعہ بنایا گیا تو مسلمانوں کی عملی زندگی بے روح ہو کر رہ گئی۔
متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کے زد سے بچانے میں بڑی خدمت انجام دی لیکن جب علم کلام نے شکوک و شبہات پیدا کرنا مقصد بنا لیا تو مسلمانوں کی ذہنی زندگی میں بڑا انتشار پیدا ہوگیا۔ یہی حال تصوف کا بھی ہوا۔ جب باطنی زندگی کو ظاہری سے الگ کر لیا گیا تو شریعت و طریقت کی تفریق پیدا ہوگئی۔ دنیا پرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دے دی گئی۔ مجاز پرستی، پیر پرستی، قبر پرستی، نغمہ و سرور کو روحانی ترقی کا لازمی جزء قرار دیا گیا۔ بیشک یہ سب گمراہیاں تصوف سے پیدا ہوئیں۔ ( تاریخ مشائخ چشت، پروفیسر خلیق احمد نظامی صفحہ ١١)،(ماخوذ: اسلام میں بدعت و ضلالت کے محرکات، ڈاکٹر ابوعدنان سہیل)
دیوبند کے ایک صوفی عالم  اشرف علی تھانوی صاحب کے خلیفہ کہلائے جانے والے محمد مسیح اللہ خان ، تصوف کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں کہ ؛ اعمالِ باطنی سے متعلق شریعت کا شعبہ تصوف اور سلوک کہلاتا ہے اور، اعمالِ ظاہری سے متعلق شریعت کا شعبہ فقہ کہلاتا ہے ایک اور دیوبندی عالم قاری محمد طیب کے الفاظ میں؛ مذہبی طور پر علمائے دیوبند مسلم ہیں، تفرقاتی طور پر یہ اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں، بطور مقلد یہ حنفی ہیں، طریقت میں صوفی ہیں، مدرسی طور پر یہ ماتریدی اور سلوک میں چشتی ہیں۔برصغیر میں دیوبندیوں کے ساتھ ساتھ بریلوی بھی تصوف میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور اس فرقے کے بانی احمد رضا خان کو، قادریہ سمیت تصوف کے تیرہ دیگر فرقہ جات کی جانب سے خلافت حاصل تھی۔یہاں ایک دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے تصوف پر عمل پیرا دونوں (بریلوی اور دیوبندی) امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اور تصوف میں بلند درجے پر تسلیم کیئے جانے والے ایک صوفی جلال الدین رومی نے خود اس بات کا تذکرہ کیا کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔
اہل تشیع کے مطابق تصوف ، عملی معرفت کا نام ہے اور عرفان سے مراد ایسے علوم کی لی جاتی ہے کہ جو حواس اور تجربات سے نہیں بلکہ باطنی کشف سے حاصل ہو۔ فی الحقیقت یہ esoteric اور exoteric والا فلسفہ ہی ہے جس کے لیئے ایرانی علاقوں میں عرفانِ نظری کی اصطلاح بھی مروج ملتی ہے، شیعہ اور سنی تصوف میں مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور ان کو مدغم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔
مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے افراد کی جانب سے تصوف کی مختلف تعریفیں بیان کی جاتی ہیں۔ سیدھے سادھے الفاظ میں تو تصوف کی تعریف یوں بیان کرسکتے ہیں کہ تصوف ، اس طریقۂ کار کو کہا جاتا ہے کہ جس پر صوفی عمل پیرا ہوتے ہیں۔جبکہ خود صوفیا، تصوف کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں کہ؛ تصوف ، اسلام کی ایک ایسی شاخ ہے کہ جس میں روحانی نشوونما پر توجہ دی جاتی ہے۔ صوفیا تصوف کی متعدد جہتوں میں؛ اللہ کی ذات کا شعور حاصل کرنا، روحانی کیفیات اور ذکر (رسماً و جسماً) اور شریعت بیان کرتے ہیں۔
-اہل تصوف نے تصوف کی بنیاد جن ستونوں پر قائم کی ہے اور جن کے بغیر تصوف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہیں: صدق و صفا ، اخلاص و محبت،احسان، عبادت، خشوع و خضوع، فقر، توکل، صبرو رضا اور شکر وغیرہ اہل تصوف نے تصوف کی بنیاد کے لیے اقوال رسول کو سر چشمہ ہدایت بنایا ہے اور یہ بھی امر واقع ہے کہ آئمہ تصوف نے اپنے اعمال اور احوال و مقامات کے لیے سنت نبوی سے استناد و دلائل فراہم کرنے کی کامیاب کوشش فرمائی ہے ----
جبکہ ناقدین حضرات کی تصوف کی تعریف دیکھی جائے تو ان کے مطابق؛ تصوف،سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام میں پیدا ہونے والی ایک بدعت ہے اور مروجہ تصوف، قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے اور نہ ہی سلف صالحین کے ادوار میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔بات یہ نہیں ہے کہ تصوف کی بنیاد یا اہمیت کن کن عناصر پر قائم ہے یا یہ نام قدیم ہے یا جدید،محدثین کے دور میں رائج تها یا نہیں ؟بلکہ حقیقی جوابِ مطلوب یہ ہے کہ دین اسلام کے ہوتے ہوئے ایک علحدہ فلسفے یا نظریے کی ضرورت کیوں درپیش ہے ؟سوال یہ نہیں ہے کہ  دینِ تصوف یا دینِ طریقت کی کون سی اہم بنیادیں ہیں ؟ بلکہ یہ ہے کہ دینِ اسلام میں وہ کیا کمی تھی کہ ایک علحدہ فلسفہ یا نظریہ ایجاد کرنا ضروری سمجھا گیا ؟ اگر دینِ طریقت ( یا تصوف) پورا کا پورا وہی ہے جو قرآن و حدیث میں درج ہے تو اس کو دینِ اسلام ہی کہا جائے گا ، کوئی دوسرا نام دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔منطقی اعتبار سے یہ معاملہ اس لیے بھی زیرِ بحث آئے گا کہ ۔۔۔ فرقے فرقے بننے والی چیزوں سے قرآن واضح طور پر منع فرماتا ہے ۔اگر احباب کو ناگوار خاطر نہ گزرے تو عرض ہے کہ ایک فرقہ وہ بھی ہے جس کا کلمۂ توحید وہی ہے جو تمام مسلمانوں کا ہے اور اسلام کے پانچ ارکان پر بھی اس کا ایمان ہے ۔۔۔ اس کے باوجود اس کی انفرادیت ختمِ نبوت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انکار کے سبب واضح ہوئی اور اس کو اسلام سے علحدہ ایک الگ مذہب قرار دیا گیا ۔ یہ فرقہ بھی تو وہی راگ الاپتا ہے کہ ہمارا کلمہ ، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہی کلمہ ہے ۔ پھر بھی یہ اپنی شناخت علحدہ بتانے پر مصر ہے ۔ایک دنیاوی مثال سے یوں بھی سمجھئے کہ بچوں کے دودھ کا پاؤڈر نیڈو بھی بناتا ہے اور اینکر بھی ۔ دونوں اقسام کے پاؤڈر کے اجزائے ترکیبی تقریباََ ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ پھر بھی مقابلہ ہوتا ہے کہ ہمارا پراڈکٹ سب میں بہترین ہے ۔ اور دعویٰ کے ثبوت میں اجزائے ترکیبی کوئی بھی بیان نہیں کرتا بلکہ وہ خصوصیات بتائی جاتی ہیں جو دوسرے میں نہیں ہوتیں ۔ یعنی یہ سارا نام کا کھیل ہے ۔ یعنی دنیا میں بس ہم خالص ہیں ۔دینِ اسلام کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ ہر کوئی ایک نیا فلسفہ یا نظریہ لے آتا ہے اور اس کی بنیاد قرآن و سنت کو بتاتا ہے ۔ لیکن کن باتوں سے اس کی خصوصیات ، قرآن و سنت کی تعلیمات سے الگ ہٹ کر واضح ہوتی ہیں ؟ یہ کوئی نہیں بتاتا ۔ اگر پوچھا جائے کہ نام کیوں الگ ہے تو جواب ملے گا کہ نام سے کیا ہوتا ہے ، کام تو سارا ہی وہی ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے ۔بھائی جب آپ قرآن و سنت کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں تو نئے نام گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟مسئلہ اخلاق و سلوک کا نہیں بلکہ ان بناوٹی طور طریقوں کا ہے جو روحانی ریاضتوں سے متعلق خالص عجمی اختراعات جو اسلام میں داخل کر دی گئی ہیں-
اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب شریعتِ اسلامیہ مسلمانوں کے لئے مکمل اور کافی ہے اور کتاب و سنت میں بھی زندگی گزارنے کے لئے مہد سے لحد تک ایک ایک لمحہ کے لئے ہدایات موجود ہیں تو پھر اس میں ’طریقت‘ یا ’تصوف‘ کے نام سے اضافہ کی گنجائش کہاں سے پیدا کر لی گئی ؟؟؟اگر طریقت اخلاص فی العبادت کا نام ہے تو کیا شریعت میں پہلے یہ عنصر موجود نہیں تھا ؟اگر اسلام میں اخلاص فی العبادت کا عنصر مفقود تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم طریقت اور اس کے اصطلاحی اوراد اور وظائف کا سہارا لئے بغیر اپنے اعمال میں اخلاص کیسے برتتے تھے ؟؟؟
کیا وہ دین کافی نا تها جس کی تکمیل کی گواہی یوں دی گئی کہ: اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا-
آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو پسند کیا (المائدہ:3)
ہم اس صوفیت کے متعلق بحث نہیں کریں گے جو ماضی کا حصہ تھیں جیسا کہ کہا جاتا ہے-بلکہ ہم موجود رائج تصوف پر تقابلی مطالعہ کریں گے-جب ہم صوفیت سے متعلق گفتگو کریں گے تو اس سے ہمارا مقصد صوفیت کا اصطلاحی معنی ہے، یعنی وہ تصوف جو مخصوص کتب اور مخصوص اصلاحات کا نام ہے اور جس پر آج بهی ایک خاص طبقہ بڑے زور شور سے عامل ہے-
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے......

Sunday, 23 October 2016

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ


*تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 5)
تصوف سے متعلق نقطہ ہائے نظر
تصوف سے متعلق بنیادی طور پر دو نقطہ ہائے نظر کا ہم مطالعہ کریں گے۔ ایک اہل تصوف اور دوسرے ان کے ناقدین۔ اہل تصوف کو بھی ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایک وہ صوفی حضرات جو شریعت کو مانتے ہیں اور اس کے بغیر کسی تصوف کے قائل نہیں ہیں۔ دوسرا گروہ ان صوفیاء کا ہے جو شریعت کو نہیں مانتے اور شرعی احکام کو بسا اوقات نظر حقارت سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ ان دونوں گروہوں کا تصوف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے، اس وجہ سے ہم ان دونوں گروہوں کے نظریات اور اعمال کا تقابلی مطالعہ بھی کریں گے اور اس کا ان حضرات کے نقطہ نظر سے موازنہ کریں گے جو تصوف پر تنقید کرتے ہیں۔ اس طرح سے ہمارا مطالعہ اس سلسلہ میں تین گروہوں کے عقائد و افکار پر محیط ہو گا:
مخالف شریعت صوفی
پابند شریعت صوفی
ناقدین تصوف
اب ہم ان گروہوں کا کچھ تفصیل سے تعارف کرواتےہیں۔
مخالف شریعت صوفی
اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو تصوف کا دعوی تو کرتے ہیں اور خود کو اللہ تعالی کا نمائندہ قرار دیتے ہیں مگر شریعت کی پابندی نہیں کرتے ہیں۔ ان میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں: ایک وہ غیر مخلص ہوتے ہیں اور تصوف کو محض دنیا داری کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ چونکہ صوفی اور پیر فقیر عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں  اور لوگ ان کے پاس دعا کروانے اور مرید ہونے کے لیے آتے ہیں، اس وجہ سے یہ حضرات تصوف کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور مریدوں کی آمدنی پر عیش کرتے ہیں۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی صوفیت میں مخلص تو ہوتے ہیں مگر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اصل دین باطنی اعمال ، چلے اور مراقبے ہیں جن سے "سیر فی اللہ" میں مدد ملتی ہے اور شرعی احکام محض عام لوگوں کے لیے ہیں۔ یہ حضرات شریعت کے احکام کو "ظاہر" کا نام دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ظاہری احکام عام لوگوں کے لیے ہیں اور جو شخص تصوف کی منازل طے کرلے، اسے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے اس نقطہ نظر کے حق میں یہ اکابر صوفیاء کی کچھ عبارتوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جن میں سے بعض عبارات صراحتاً قرآن و سنت کے خلاف ہوتی ہیں۔
چونکہ نیت کا حال اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہےاور ہم کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، اس وجہ سے اس تحریر میں ہم مخلص اور غیر مخلص کی بحث میں پڑے بغیر سبھی گروہوں کے نقطہ ہائے نظر اور دلائل کا مطالعہ و موازنہ کریں گے ۔
پابند شریعت صوفی
یہ وہ صوفیاء ہوتے ہیں جو شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔ ان میں بھی مخلص اور غیر مخلص دونوں قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ غیر مخلص لوگوں کا مقصد تو محض دنیا کمانا ہوتا ہے۔ جہاں وہ اس کے لیے اور طرح کے ڈھونگ رچاتے ہیں، وہاں کچھ ظاہری شرعی احکام کی پیروی بھی کر لیتے ہیں۔ مخلص افراد شریعت کی  نہ صرف پیروی کرتے ہیں  بلکہ اسی کو مدار تصوف قرار دیتے ہیں۔ یہ حضرات مخالف شریعت صوفیاء پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور انہیں گمراہ قرار دیتے ہیں۔  ایک جانب یہ قرآن و سنت اور اکابر صوفیاء کی کتب کی بنیاد پر مخالف شریعت صوفیوں پر تنقید کرتے ہیں اور دوسری جانب یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ناقدین تصوف کے دلائل کا جواب دیتے ہیں۔
امت کی تاریخ کے بہت سے دینی علماء  کا شمار اسی گروہ میں ہوتا ہے۔ مشہور صوفی علماء میں امام غزالی (450-505/1058-1111)، شیخ احمد سرہندی (971-1034/1564-1624) اور شاہ ولی اللہ (1703-1762) وغیرہ شمار ہوتا ہے۔  برصغیر جنوبی ایشیا میں دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر دونوں اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیوبندی حضرات، بریلویوں سے کچھ امور پر اختلاف رائے رکھتے ہیں اور ان کے بعض معمولات کو بدعت قرار دے  کر ان سے اجتناب کرتے ہیں۔ بریلوی حضرات ان امور کو بدعت حسنہ قرار دیتے ہیں۔
بریلوی حضرات کے ہاں تصوف کے حوالے سے دو بڑے گروہ پائے جاتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی (1856-1921) کے سلسلہ بیعت سے تعلق رکھنے والے حضرات خود کو "رضوی" کہلاتے ہیں اور دوسرے مکاتب فکر سے متعلق  معاملات میں بہت کٹڑ ہوتے ہیں۔  ان میں بعض حضرات سماع اور قوالی کو حرام سمجھتے ہیں اور اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں جبکہ بعض سماع و قوالی جائز بهی سمجھتے ہیں۔  دوسرا گروہ چشتی سلسلہ سے تعلق رکھنے والے ان صوفی خانوادوں سے وابستہ ہے جن کا مرکز شمالی پنجاب کا علاقہ ہے۔ ان میں گولڑہ، سیال اور بھیرہ کے آستانوں سے وابستہ حضرات پائے جاتے ہیں۔  ان کی مشہور علمی شخصیات میں پیر مہر علی شاہ صاحب(1859-1937)، خواجہ قمر الدین سیالوی (1906-1981) اور پیر محمد کرم شاہ الازہری  (1917-1998)شامل ہیں۔ اس دوسرے گروہ کی بعض شخصیات  نے دوسرے مکاتب فکر کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیے رکھا ہے۔ سماع اور قوالی کو بھی یہ جائز سمجھتے ہیں تاہم شریعت کی پابندی کے معاملے میں ان کا موقف بھی دو ٹوک ہے۔
دوسری جانب دیوبندی مکتب فکر  کی اکثریت بھی برصغیر کی صوفی روایت سے وابستہ ہے۔  دارالعلوم دیوبند کے بانی  مولانا محمد قاسم نانوتوی (1832-1880) صوفی بزرگ تھے اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (1817-1899)  کے صوفی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ حاجی صاحب کا احترام بریلوی اور دیوبندی دونوں حلقوں میں کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور کے دیوبندی صوفیوں کی بہت بڑی تعداد مولانا اشرف علی تھانوی (1863-1943) کے حلقہ ارادت سے  وابستہ ہے۔ ان کے صوفی علماء میں مولانا احمد علی لاہوری (1887-1961) ، مفتی محمد حسن(d. 1961)  اور مولانا محمد تقی عثمانی (b. 1943)وغیرہ مشہور شخصیات ہیں۔ دیوبندی حلقوں کے ہاں مولانا تھانوی کو تصوف کا مجدد کہا جاتا ہے۔
ناقدین تصوف
جو لوگ تصوف پر تنقید کرتے ہیں، ان میں  بھی مخلص اور غیر مخلص دونوں طرز کے افراد پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ان میں مخلص افراد وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف کے کچھ اصول ، نظریات اور اعمال، دین اور شریعت سے متصادم ہیں۔ یہ حضرات ان امور پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی تنقید صرف مخالف شریعت صوفیاء کے اقوال و افعال تک ہی محدود رہتی ہے اور بعض اوقات اس کی زد میں پابند شریعت صوفیاء کے تصورات بھی آ جاتے ہیں۔
ناقدین تصوف زیادہ تر اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماورائے مسلک حضرات کی اکثریت بھی تصوف کی ناقد ہے۔ جن حضرات نے خاص طور پر تصوف کو موضوع بنا کر ان پر تنقید کی ہے، ان میں مولانا عبدالرحمن کیلانی(d. 1995)، علامہ احسان الہی ظہیر(1945-1987)، پیر محمد بدیع الدین راشدی، مولانا ابو الکلام آزاد (1888-1958)ِ، سید ابو الاعلی مودودی(1903-1979) اور مولانا امین احسن اصلاحی (1904-1997)وغیرہ شامل ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود صوفی حلقوں میں  بعض ناقدین تصوف پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں مولانا ابو الکلام آزاد اور پیر بدیع الدین راشدی صاحبان کو بطور مثال  پیش کیا جا سکتا ہے جو کہ صوفی خانوادوں کے چشم و چراغ تھے۔
امور تصوف
تصوف چونکہ ایک عملی نوعیت کی چیز ہے، اس وجہ سے اس پر کتابیں کم لکھی گئی ہیں اور زیادہ تر
امور کو عملی صورت میں صوفی حلقوں اور خانقاہوں میں جاری کیا گیا ہے۔ اگلی اقساط  میں ہم ان امور کا ذکر کریں گے جو کہ اہل تصوف  کے علم اور عمل کا موضوع ہیں۔ یہ امور بنیادی طور پر متعدد انواع پر مشتمل ہیں جو کہ یہ ہیں:
تصوف کا مقصد
ذرائع: مقصد کے حصول کے لیے جو طریقے اختیار  کیے جاتے ہیں، وہ ذرائع کہلاتے ہیں۔
توابع: اس سے مراد وہ عارضی یا مستقل کیفیات ہیں جو غیر اختیاری طور پر ایک سالک کو لاحق ہو جاتی ہیں۔
موانع: یہ وہ امور ہیں، جو مقصد کے حصول میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
تصوف کے مقصد پر ہم اوپر بحث کر چکے ہیں۔ بقیہ معاملات کو ہم علیحدہ علیحدہ کر کے ان کی تفصیل بیان کریں گے۔ اس معاملے میں ہماری بنیادی معلومات  کا ماخذ سید شبیر احمد کاکا خیل کی کتاب "فہم التصوف" اور امام قشیری کی "الرسالۃ القشیریہ" وغیرہ ہے
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے....

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ



*تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ*
(قسط نمبر 4)
صوفی سلسلے:
تصوف میں پیر اور مرید کا رشتہ اساسی نوعیت کا حامل ہے۔ اہل تصوف کے نزدیک  نسبت اور تعلق کی اہمیت بہت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ ایک مرید اپنے مرشد سے وابستہ ہوتا ہے، وہ اپنے مرشد سے، اور وہ اپنے مرشد سے۔ اس طرح یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسے تصوف کی اصطلاح میں "سلسلہ" کہا جاتا ہے۔ ہر سلسلے کو اپنے کسی مشہور بزرگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے صوفیاء میں زیادہ تر چار سلسلے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور سلسلہ چشتیہ ہے جو خواجہ معین الدین چشتی (535-627/1141-1230)سے منسوب ہے۔ اس کے علاوہ نقشبندی، قادری اور سہروردی سلسلے بھی پائے جاتے ہیں جو بالترتیب خواجہ بہاء الدین نقشبند(717-791/1318-1389)، شیخ عبدالقادر جیلانی (470-561/1077-1166) اور شیخ شہاب الدین سہروردی (543-632/1148-1234) سے منسوب ہیں۔چشتی، قادری اور سہروردی سلسلوں کا کہنا یہ ہےکہ وہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وساطت سے اپنا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قائم کرتے ہیں جبکہ نقشبندی سلسلہ کے شیوخ کا موقف یہ ہے کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایسا کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ وسطی ایشیا اور ترکی میں بھی پھیلا ہوا ہے۔
ان میں سے ہر سلسلے کی پھر متعدد شاخیں ہیں۔ مثلاً چشتی سلسلے کی دو بڑی شاخیں ہیں جو صابری اور نظامی کہلاتی ہیں۔ صابری، شیخ صابر کلیری  (592-690/1196-1291)سے اور نظامی حضرت نظام الدین اولیاء  (635-725/1238-1325) سے منسوب ہیں۔ نقشبندی سلسلے کی مشہور ترین شاخ مجددی ہے جو شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی (971-1034/1564-1624)سے منسوب ہے۔ برصغیر کے زیادہ تر نقشبندی حضرات کا تعلق مجددی شاخ سے ہوتا ہے۔ وسطی ایشیا میں اس کی اور شاخیں بھی پائی جاتی ہیں۔
جنوبی ایشیا سے باہر متعدد سلسلے پائے جاتے ہیں جن میں رفاعی، شاذلی، تیجانی، بختاشی،  مولوی، سنوسی، تیجانی، نعمت اللہی، قلندری، نور بخشی سلسلے مشہور ہیں۔ شام، لبنان، کویت  اور مصر میں بالعموم رفاعی اور شاذلی  سلسلے زیادہ پھیلے ہوئے ہیں۔  ترکی میں زیادہ تر مولویہ سلسلہ پایا جاتا ہے جو مولانا روم  (603-671/1207-1273) سے منسوب ہے۔ شمالی افریقہ میں سنوسی  اور تیجانی ،  ایران میں نعمت اللہی، مشرقی یورپ میں بختاشی اور انڈونیشیا میں  نقشبندی اور قادری سلسلے زیادہ پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض سلسلے، مشہور سلسلوں ہی کی شاخیں ہیں۔
ان معروف سلسلوں کے علاوہ ایک سلسلہ اویسیہ بھی ہے جس میں شامل شیوخ کا کہنا یہ ہے کہ وہ  براہ راست حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی روح سے فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں جو کہ ایک تابعی بزرگ تھے۔ دیگر سلسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد بالعموم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اویسی سلسلے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک مرید ، صدیوں پہلے کے کسی شیخ سے براہ راست تعلق قائم کرنے کا دعوی کر سکتا ہے جبکہ باقی سلسلوں میں یہ ضروری ہے کہ مرید کسی ایسے شیخ سے تعلق رکھے، جو اس کے زمانے میں موجود ہو۔
ان صوفی سلسلوں میں تصوف کے بنیادی مقاصد کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ بعض امور جیسے اوراد و اشغال، ذکر کے طریقے اور روحانی مشقوں کے بارے میں ان میں کچھ فرق پائے جاتے ہیں مگر ان تمام سلسلوں کےلوگ دوسرے سلسلوں کا احترام کرتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے اپنے سلسلوں ہی کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔اور اسی کے متعلق تعلیمات کو فروغ دیتے ہیں-
تصوف کے مآخذ اور امہات کتب:
اہل تصوف کی غالب اکثریت کا موقف یہ ہے کہ  ان کے عقائد و نظریات اور اعمال کا ماخذ قرآن و سنت ہی ہے۔ اس کے علاوہ صوفیاء، سابق صوفی بزرگوں کی کتب ، حالات زندگی، واقعات، عمل اور ملفوظات (اقوال) کو بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔
صوفیاء کے ہاں کتابیں لکھنے کا رواج کم ہی رہا ہے تاہم بعض بڑے صوفی بزرگوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان میں سے بعض کتب کو امہات فن (یعنی کسی فن کی اساسی کتب) کا مقام حاصل ہے۔ ان میں سے مشہور یہ ہیں:
قوت القلوب
یہ چوتھی صدی ہجری کے بڑے صوفی بزرگ ابو طالب مکی (d. 386/996) کی تصنیف ہے۔ مصنف نے  اس کتاب کو قُوت القلوب یعنی دلوں کی غذا قرار دیا ہے۔ کتاب کے شروع کے ابواب میں فاضؒ مصنف نے تفصیل سے صوفیاء کے اشغال کا ذکر کیا ہے جن میں نفلی نمازیں، روزے، ذکر اور اوراد شامل ہیں۔ بعد کے ابواب میں انہوں نے صوفیانہ سفر کے مقامات، مراقبہ، عقائد، گناہ کبیرہ، شریعت کی پابندی، اخلاص، ترک دنیا وغیرہ جیسے امور پر روشنی ڈالی ہے۔  آخری ابواب میں انہوں نے دنیاوی زندگی کے اہم امور پر بحث کی ہے جن میں شادی، حمام میں نہانا، خرید و فروخت اور حلال و حرام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ یہ کتاب تصوف کی بنیادی کتب میں سے ایک ہے۔
رسالہ قشیریہ
یہ پانچویں صدی ہجری کے ایک بہت بڑے صوفی بزرگ ابو القاسم القشیری (376-465/986-1072) کی تصنیف  ہے۔  انہوں نے کتاب کا آغاز توحید کے مباحث سے کیا ہے، پھر شریعت کی اہمیت کو بیان کیا ہے اور اس کے ضمن میں بہت سے صوفی بزرگوں کے احوال درج کیے ہیں جنہوں نے شریعت کو اپنی زندگی میں اہمیت دی۔ اس کے بعد ایک باب میں انہوں نے تصوف کی اصطلاحات کی شرح و وضاحت کی ہے۔ بعد کے ابواب تزکیہ نفس سے متعلق ہیں جن میں توبہ، مجاہدہ، تقوی، زہد، خوف، رجاء، حسد، غیبت، توکل،فنا ،بقا ،قبض ،بسط ،وقت ،حال ،وجد ،وجود ،بے خودی ،اثبات ،تجلی ، محاضرہ ،کشف ،تکوین ،حقیقت وغیرہ سے متعلق ابواب ہیں۔ کتاب کے آخر میں  انہوں نے اہل تصوف کے آداب بیان کیے ہیں جن میں فقر، ترک دنیا، سماع، کرامات اور شیوخ کے ساتھ تعلق سے متعلق مباحث شامل ہیں۔ یہ کتاب فن تصوف میں بنیادی کتاب مانی جاتی ہے۔
کشف الْمحجوب
یہ لاہور میں مدفون مشہور بزرگ حضرت علی ہجویری (c. 379-465/990-1072) کی تصنیف ہے جو کہ داتا گنج بخش کے لقب سے مشہور ہیں۔ اصل کتاب فارسی زبان میں ہے۔ یہ تصوف کی مشہور ترین کتب میں سے ایک ہے اور اس میں وہ تمام امور زیر بحث لائے گئے ہیں جن کی ایک صوفی کو ضرورت پڑتی ہے۔
منازل السائرین
یہ عبداللہ انصاری الہروی (d. 481/1088) کی تصنیف ہے جو کہ شرعی علوم کے ایک بڑے عالم تھے اور شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے۔  مصنف نے کتاب کو دس حصوں میں تقسیم کیا ہے جن کے لیے وہ "قسم" کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کتاب کا آغاز "قسم البدایہ" نامی حصے سے ہوتا ہے جس میں مصنف توبہ، محاسبہ، تفکر، ریاضت، ذکر جیسے مباحث زیر بحث لائے ہیں۔ دوسرے حصے "قسم الابواب" میں مصنف حزن، خوف، خشوع، زہد جیسےمعاملات پر بحث کرتے ہیں۔ پھر "قسم المعاملات" ہےجس میں مراقبہ، اخلاص، استقامت اور توکل جیسے مضامین پر گفتگو ہے۔ اس کے بعد "قسم الاخلاق" ہے جس میں صبر، شکر، حیاء، صدق، تواضع وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔  بقیہ اقسام میں متعدد نفسی امور زیر بحث آئے ہیں۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ بعض ناقدین تصوف کے ہاں بھی مقبول رہی ہے اور مشہور ناقد تصوف علامہ ابن قیم (691-751/1292-1350) نے اس کی شرح "مدارج السالکین" کے نام سے لکھی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شیخ ہروی، علوم شرعیہ کے بھی بہت بڑے عالم تھے۔
احیاء العلوم الدین
یہ مشہور ترین صوفی عالم ، ماہر نفسیات اور فلسفی امام غزالی (450-505/1058-1111)کی تصنیف ہے اور اس درجے کی تصنیف ہے کہ بعد کی صدیوں میں پورے ایک ہزار برس تک امت مسلمہ کے ذہین ترین افراد کے طرز فکر پر یہ کتاب چھائی رہی ہے۔ مصنف ایک اعلی درجے کے ماہر نفسیات تھے، اور ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے انسانی نفسیات سے متعلق اپنے علم کو تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیا ہے۔ بعد کے صوفی حلقوں میں جہاں جہاں علم نفسیات کو تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیا گیا، اس کی بنیاد اسی کتاب میں ملتی ہے۔ اس کتاب میں غالباً پہلی مرتبہ کسی مصنف نے دین اسلام کو ایک مکمل  عقلی نظام کے طور پر پیش کیا۔
فاضل مصنف اپنی کتاب کا آغاز علم کی اہمیت سے کرتے ہیں اور اس سے متعلق مباحث کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلامی عقائد پر گفتگو کرتے ہیں۔ پھر دین کے ایک ایک حکم جیسے نماز، زکوۃ وغیرہ کو لے کر نہ صرف ان کے احکام بیان کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اسرار اور حکمتیں بیان کرتے ہیں۔  کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی علمی تاریخ میں غزالی غالباً پہلے عالم ہیں جنہوں نے احکام کی عقلی حکمتوں اور وجوہات کو باقاعدہ موضوع بنا کر اس پر کتاب لکھی۔  اس کے بعد مصنف اپنی کتاب کو فقہ کی کتابوں کے ابواب پر ترتیب دیتے ہوئے زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق ایسی ہی تفصیلات بیان کرتے چلے جاتے ہیں جن میں نماز، زکوۃ، روزہ، حج، نکاح و طلاق، امر بالمعروف، تجارت، معیشت، سیاست، حکومت، احتساب، خور و نوش وغیرہ  تمام معاملات شامل ہیں۔  یہ موضوعات کتاب کی پہلی دو جلدوں پر محیط ہیں۔ مصنف نے ان امور سے متعلق محض فقہی مسائل ہی بیان نہیں کیے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے فلسفہ، علم مکاشفہ روح اور ان کی اخلاقی حدود و قیود پر بھی بحث کی ہے۔ اس اعتبار سے اس کتاب کا درجہ فقہ کی عام کتابوں سے کہیں بلند ہے۔
کتاب کا تیسرا حصہ  غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور نفسیات  سے متعلق مصنف کے علم کا شاہکار ہے۔ مصنف نہایت تفصیل کے ساتھ قلب انسانی کی بیماریوں کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کا علاج تجویز کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس میں وہ تفصیل سے ان روحانی امراض پر بھی گفتگو کرتے ہیں جن میں  ان کے دور کے مذہبی علماء گرفتار تھے۔ ان امراض میں تکبر، حسد، غیبت، اقتدار کی خواہش، مال کی محبت، ریاکاری وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ معاشرے کے دیگر طبقات جیسے امراء و سلاطین، تاجروں وغیرہ میں پائی جانے والی بیماریوں کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان روحانی امراض کے بیان تک ہی خود کو محدود نہیں رکھتے بلکہ ان امراض کی نفسیاتی وجوہات، علامات، اثرات اور نتائج سبھی پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔ کتاب کا چوتھا حصہ انسانی شخصیت میں مثبت قوتوں کے فروغ سے متعلق ہے۔ ان میں صبر، شکر، خوف خدا، امید، زہد، توکل، اخلاص، محاسبہ اور غور و فکر جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
احیاء العلوم کو جہاں علمی حلقوں میں غیر معمولی فروغ حاصل ہوا، وہاں اس پر شدید تنقید بھی ہوئی۔جس کی تفصیل آگے آئے گی، غزالی کے بعض ہم عصر علماء نے تو ان پر کفر کا فتوی تک عائد کیا۔ تاہم بعد میں یہ رجحان کم ہوا اور اس کتاب کو اس درجہ کی مقبولیت عامہ حاصل ہوئی کہ یہ مسلمانوں کی فکری قیادت کے دل و دماغ پر ایک ہزار برس سے چھائی رہی ہے۔  احیاء پر یہ اعتراض اب بھی کیا جاتا ہے کہ اس میں بہت کثیر تعداد میں ایسی احادیث موجود ہیں جنہیں محدثین نے "ضعیف" یعنی غیر مستند قرار دیا ہے۔ان میں بعض روایات "موضوع" یعنی جعلی بھی ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض طالع آزماؤں نے اس میں کئی عبارات اپنی طرف سے ملا دی تھیں جس کے نتیجے میں کتاب میں بعض تضادات پیدا ہو گئے ہیں۔  اس کی مثال جلد دوم میں حلال و حرام کی بحث ہے۔ ایک جانب غزالی مشتبہ مال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بیان کر دیتے ہیں کہ وسوسوں سے بچنا چاہیے اور ان کی بنیاد پر وہم میں نہیں پڑ جانا چاہیے۔ دوسری  طرف وہ بعض بزرگوں کے ایسے واقعات کو بطور آئیڈیل بیان کرتے ہیں جو خود اس قسم کی وسوسوں کا شکار تھے۔
عوارف المعارف
یہ سہروردی سلسلہ کے امام شیخ شہاب الدین سہروردی (543-632/1148-1234) کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے تفصیل سے صوفیاء کے اخلاق پر بحث کی ہے اور دینی احکام کے اسرار پر گفتگو کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ صوفیاء کے مخصوص معاملات جیسے سماع، صحبت اور روحانی احوال کو زیر بحث لائے ہیں۔
فصوص الحکم
یہ ساتویں صدی ہجری کے بہت بڑے صوفی محی الدین ابن عربی (558-638/1164-1240) کی تصنیف ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے بعد کی صدیوں کے اہل تصوف کے عقائد و نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور کم و بیش سات سو برس تک اہل تصوف کے دل و دماغ پر چھائی رہی۔ یہ ایک نہایت ہی متنازعہ کتاب رہی ہے اور اس کی بعض عبارتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف ختم نبوت کا انکار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابن عربی پر بعض بڑے علماء، جن میں امام ابن تیمیہ (661-728/1263-1327)بھی شامل ہیں، نے کفر کا فتوی عائد کیا۔  ابن عربی کے عقیدت مند ان عبارات کو "الحاقی" قرار دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان عبارات کو بعد میں کسی شخص نے مصنف کی کتابوں میں شامل کر دیا ہے۔ ابن عربی اور بھی بہت سی کتب کے مصنف تھے۔ انہوں نے ہی وحدت الوجود کا وہ نظریہ پیش کیا جو کہ اہل تصوف پر تنقید کا باعث بنا۔ اس کی تفصیل کا مطالعہ ہم اگلے اسباق میں کریں گے۔
مثنوی مولانا روم
یہ تصوف کی مقبول ترین کتاب ہے جو کہ مولانا جلال الدین رومی (603-671/1207-1273) نے فارسی زبان میں تصنیف کی۔ پوری کتاب ہزاروں اشعار پر مشتمل ایک طویل نظم پر مشتمل ہے۔  مصنف ترکی کے ایک بہت بڑے صوفی اور عالم تھے۔ انہوں نے نہایت خوبصورت اسلوب میں صوفیانہ نکات کو چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی صورت میں بیان کر دیا ہے۔  بہت کم کتابوں کو اس درجے کی مقبولیت حاصل ہوئی ہو گی جو مثنوی کے حصے میں آئی۔ مصنف کے زمانے سے لے کر آج تک اہل تصوف اس کتاب کا درس دیتے چلے آئے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ غزالی کی احیاء العلوم اور مولانا روم کی مثنوی ، پچھلے آٹھ سو برس سے امت مسلمہ کی فکری قیادت کے دل و دماغ پر راج کرتی چلی آ رہی ہیں۔
مکتوبات امام ربانی
یہ شیخ احمد سرہندی (971-1034/1564-1624) کے خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں اور مریدوں کو وقتاً فوقتاً لکھے۔  شیخ احمد "مجدد الف ثانی" کے نام سے معروف ہیں۔ اس میں تصوف کے بہت سے دقیق مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ مصنف ابن عربی کے وحدت الوجود کے مقابلے میں ایک الگ مسلک "وحدت الشہود" کے بانی تھے، اس وجہ سے ان کی اہل تصوف میں ایک خاص اہمیت ہے۔ ان کی کاوشوں سے تصوف کی دنیا میں ایک غیر معمولی انقلاب برپا ہوا اور وحدت الوجود سے ہٹ کر ایک نئے طرز تصوف کی بنیاد پڑی۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے صوفیاء کے طرز فکر پر اس کتاب کے اثرات غیر معمولی ہیں۔اور اس وقت بهی برصغیر وغیرہ میں عقیدہ واحدت الوجود اور عقیدہ واحدت الشہود پر ایک بہت بڑا طبقہ کاربند ہے-جس کی بهی آگے آ رہی ہے-
شاہ ولی اللہ (1703-1762) نے تصوف کے موضوع پر پانچ کتابیں لکھیں  جس میں انہوں نے تصوف کے اہم مباحث اور اور اس کی تاریخ کا خلاصہ کر دیا ۔  ان کے پوتے شاہ اسماعیل  (1779-1831)نے "عبقات" کے  نام سے ان کی تمہید لکھی۔ ان کتب نے بھی برصغیر کے شریعت پسند صوفیاء  کی فکر پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ان کتب کے علاوہ اہل تصوف کے ہاں تقریباً ہر اہم صوفی شیخ کے حالات و واقعات پر مبنی تذکروں کی کتابیں ملتی ہیں۔ ان میں ان بزرگ کے حالات زندگی اور کرامات وغیرہ درج ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شیوخ کے مریدین ان کی محفلوں میں ان کے قول و فعل کو نوٹ کر لیتے ہیں اور پھر اسے کتاب کی شکل میں شائع کر دیتے ہیں۔ انہیں "ملفوظات" کہا جاتا ہے۔ اہل تصوف عام طور پر اپنے سلسلے کے بزرگوں کے تذکروں اور ملفوظات کی کتب سے عام استفادہ کرتے ہیں۔ برصغیر کے چشتی سلسلہ کے صوفیاء میں حضرت نظام الدین اولیاء (635-725/1238-1325)کے ملفوظات پر مشتمل کتاب "فوائد الفوائد" کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور اسے دیگر سلسلوں کے صوفیاء بھی تصوف کی امہات کتب میں شمار کرتے ہیں۔
ابو عبدالرحمن السلمی نے تصوف پر ایک کتاب "کتاب السنن" کے نام سے لکهی جس میں تصوف کی سنتوں، اس کے فرائض اور اس کے طریق کار کے بارے میں بحث کی گئی ہے-
ابو نصرالسراج نے بهی ایک کتاب "لمع الصوفیہ"کے نام سے لکهی جس میں مختلف قسم کے عقائد لکهے گئے جس کی تفصیل آگے آئے گی-
ابو طالب مکی نے "قوت القلوب"کے نام سے ایک کتاب لکھی اس کتاب کو بهی ناقدین نے تنقید کا نشانہ بنایا-اس کتاب میں حضرت ابوبکر،حضرت عثمان،حضرت عمر،حضرت علی رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام کو صوفی کہا گیا ہے-
محمد بن طاہر الممدسی نے ایک کتاب "صفوہ التصوف"کے نام سے لکهی-
عبدالوہاب شعرانی اہل تصوف میں ایک سند کا درجہ رکهتے ہیں جو بہت سی کتب کے مصنف ہیں جن میں "طبقات کبری"بڑی مشہور کتاب ہے-
اس کے علاوہ بے شمار کتب اور بهی ہیں لیکن یہ ذکر کردہ کتب اہل تصوف کی بنیادیں ہیں ان اقوال کی بنیاد پر اہل تصوف کی عمارت کهڑی ہے-
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
جاری ہے....

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...