Monday, 4 April 2016

اسلام اور خانقاہی نظام,111

"اسلام اور خانقاہی نظام"
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر111)
-انسان کی جانوروں کی عبادت-
 پیروں‌ کے قصے ویسے تو بے شمار ہیں‌۔پر میں نے سوچا اس بار آپکو کچھ الگ معلومات دوں! اور اندازہ کریں کہ انسان کس طرح سر کشی کرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالی کی با برکت ذات کو چھوڑ کر جانوروں کی پوجا کر رہا ہے..اس میں حیران ہونے کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارا کافی عرصہ ہندووں کے ساتھ گزرا ہے.شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی خدا کی مخلوق ہو جس کی ہندو پوجا نہیں کرتے، بندر، گائے، سانپ ،ہاتھی، شیر، سورج، چاند، آگ،انسان وغیرہ وغیرہ۔اب ان میں چوہوں کا بهی اضافہ کر لی جیئے بھارتی ریاست راجستھان میں ”کرنی ماتا“ (معروف ہندو دیوی)کا ایک مندر ہے ہے جہاں 20ہزار سے زائد موٹے تازے چوہے رہتے ہیں اور لوگ انہیں ختم کرنے کی بجائے انہیں کھلاتے پلاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ان چوہوں کے متعلق پجاریوں اور یہاں کے مقامی افراد نے عجیب و غریب قسم کی کہانیاں گھڑی ہوئی ہیں۔لوگ ان چوہوں کو دیکھنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا اپنے لیے باعثِ ”خیروبرکت“ سمجھتے ہیں۔جو شخص مندر میں پوجا کے لیے آتا ہے چوہوں کے لیے دودھ، مٹھائی یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء لے کر آتا ہے۔دوسری طرف مسلمان بهی مختلف قسم کے جانوروں ،درختوں ، انسانوں کی پوجا میں ہندووں  کے شانہ بشانہ کهڑے ہیں. لسبیلہ سے کراچی کی طرف سفر اختیار کریں تو راستے میں منگا پیر کا دربار آئے گا- جہاں پر مگرمچھوں کی پوجا کی جاتی ہے.اور ان مگر مچهوں کے بارے میں بهی عجیب و غریب قسم کی کہانیاں گھڑی ہوئی ہیں. میلے کے موقع پر لوگ یہاں بکروں کی قربانی کرتے ہیں اور پھر اس کا گوشت مگر مچھوں کے سردار مگر مچھ کے منہ میں ڈالتے ہیں-پھر اسے پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور جب ان میں سے کوئی مگر مچھ مرجاتا ہے تو اسے باقاعدہ غسل دیا جاتا ہے -خوشبوئیں لگائی جاتی ہیں اور غسل دے کر منگھو پیر کی قبرکی چادر کا کفن پہنایا جاتا ہے ‘ اور پھر تالاب کے خشک حصے میں اس کی تدفین کردی جاتی ہے -اب تو پاکستان میں باقاعدہ گھوڑوں کو دفن کرنے کا سلسلہ بهی شروع ہو چکا ہے. چکوال میں گھوڑے کو دفن کیا گیا اور کفن پر قرآنی آیات لکھیں گئیں ، آنے والے وقت میں حسب روایت ممکن ہے گھوڑے شاہ سرکار کا مزار بن جائے ، پوجا پاٹ شروع ھو جائے کبھی آپ نے کسی گھوڑے کو دیکھا ہے جو کسی گھوڑے کے مزار پر گیا ہو اور سر ہلا کر کہا ہو:یا گھوڑا المدد بلکہ ایک زندہ گھوڑا دوسرے زندہ گھوڑے کے آگے نہیں جھکتا! لیکن ایک انسان اپنے جیسے انسان کے آگے تو جھکتا ہی ہے اب گھوڑے پر مزار بنا کر بھی ہندووں کی طرح گائے کی جگہ گھوڑے کی پوجا کرنے لگ گئے ہیں۔
ہندو مت میں اعضاء تناسل بھی قابل پرستش سمجھے جاتے ہیں. شوجی مہاراج کی پوچا اس کے مردانہ عضو تناصل کی کی جاتی ہے اور شکتی دیوی کی پوجا اس کے زنانہ عضو تناسل کی کی جاتی ہے-اور بعض جانوروں کے پیشاب کو باعث متبرک سمجھا جاتا ہے....
اور عقل کے اندھے مسلمانوں نے کہا ہم ہندووں سے پیچهے کیوں رہیں.کمالیہ میں بابا جمعن والی سرکار کا دربار ہے۔ اگر کسی عورت کو اولاد نہ ہو تو اس دربار پر لکڑی کے بنے مرد کے عضو تناسل(penis) رکهے ہوئے ہیں تو عورتیں حصول اولاد کیلے انکو اپنے جسم پر پهیرتی ہیں.البتہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ عضو خاص صرف جسم پر ہی پهیرتی ہیں یا کہیں اور بهی......-انا للہ وانا الیہ راجعون.-
ہندوں مذہب میں ایک اور شرم ناک پوجا کا طریقہ کہ ان کے بزرگوں کو سادھو‘سنیاسی‘یوگی‘تیاگی‘ گرو اور باوا کہا جاتا ہے-اسی طرح ان سادھوں میں بعض ایسے سادھو ہوتے ہیں جو بالکل مادر زاد ننگے پھرتے ہیں-ان مادر زاد ننگے سادھوں کو”ڈگمبر“ بهی کہا جاتا ہے -ان سادھوں کا ایک میلہ ہر بارہ سال بعد انڈیا میں الہ آباد کے قریب”پریاگ “ کے مقام پرشمالی ہندوستان میں منعقد ہوتا ہے.
دوسری طرف مسلمان بهی بے حیائی اور بے غیرتی کی حدوں کو پهلانگتے ہوئے ہندووں کی اس گنہونی حرکت میں ہندووں کے ساتھ قدم با قدم کهڑے ہوتے ہوئے ننگ دهڑنگ مجذوب بزرگوں کی پوجا شروع کر دی جس کی مثالیں تو بے شمار ہیں لیکن ہم اختصار کے ساتھ ایک ہی کا ذکر کرتے ہیں....
کشمیر سو پور کا پیر نانگے شاہ جو مکمل ننگا رہتا ھے اور اسکے آس پاس مسلم عورتوں اور مردوں کا مرادیں پوری کروانے کیلئے ایک غفیر مجمع  لگا رہتا ہے. اب یہ تمام عورتیں صرف مرادوں کی تکمیل کیلئے آتی ہیں یا شاہ جی کے عضو خاص(penis) کی زیارت کیلئے.......(واللہ اعلم)۔
اسلام کو اتنا بدنام کسی غیر مسلم نے نہیں کیا جتنا آج کے خانقاہی مسلم نے کیا ہے....
پچھلے دنوں ایک اور خبر پڑهنے کو ملی جو کہ راقم کے شہر کی ہے خبر کچھ اس طرح تهی کہ ضلع گجرات کی معروف روحانی شخصیت پیر سید حسین شاہ المعروف نانگے شاہ کا 36 واں سالانہ عرس مبارک آج بعد نماز عشاء دربار غوثیہ محلہ چاہ بیری والا گجرات میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ جس کا اہتمام اراکین مجلس امور مذہبیہ ڈسٹرکٹ مینجر اوقاف کر رہے ہیں۔ (گجرات جیو اردو 7/12/2015)
اہل ہنود دریائے گنگا کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس میں نہانے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں اور اس پانی کو باعث متبرک سمجھتے ہیں۔اور مسلمان بهی پیرمنگا کراچی اورلال شہباز قلندر سہون شریف وغیرہ کے مزار پر پانی کے بنے تالاب میں بیماریوں سے نجات کیلئے نہاتے ہیں اور پانی کو بطور شفاء استعمال کرتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس تالاب(کنواں) کا پانی باعث برکت ہے اور گناہوں کی بخشش کیلئے بابا فرید گنج شکر پاکپتن کے دربار پر بنے مصنوعی بہشتی دروازے سے گزرتے ہیں.... تاہم اس مضمون میں ہمارا بنیادی موضوع جانوروں کی پوجا ہے. 
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بزدل ہے طلب کرنے والا اور بڑا بزدل ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور و قوت والا اور غالب و زبردست ہے۔(الحج: 73-74) 
حضرت انسان کی گدھوں کی بهی پوجا:ہدایت کار سید کمال نے ستر کی دہائی میں ''انسان اور گدھا'' کے نام سے ایک فلم بنائی تھی جس میں رنگیلا نے ہیرو کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم اُس دور میں کافی مشہور ہوئی، کیونکہ اِس میں انسان اور گدھے کی کچھ ملتی جلتی عادات کی بنیاد پر مزاح پیدا کیا گیا تھا۔ اگر ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کا موازنہ کریں تو ہمیں بھی انسان اور گدھے کی بہت سی عادتیں مشترک نظر آتی ہیں بلکہ دونوں میں فرق صرف اتنا رہ گیا ہے کہ اگر انسان غلطی کرے تو گدھا کہلاتا ہے جبکہ یہی غلطی گدھا کرے تو لاٹھی کھاتا ہے لیکن انسان کہلانا پسند نہیں کرتا۔ آج انسان اور گدھے میں کچھ ہی دوری رہ گئی ہے ورنہ خر مغز اور خر دماغ بے حیائی جیسی اصطلاحات ہرگز ایجاد نہ ہوتیں بلکہ بات اس حد تک آگے نکل چکی ہے کہ لوگ گدھے کو معبود تک بنانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔کیونکہ گدها بهی گالیاں کهانے کو برا محسوس نہیں کرتا  اور آج کا انسان اپنے روحانی پیشواؤں سے  بهی گالیاں کهانے کو برا محسوس نہیں کرتا بلکہ اس غیر مہذب رویے کو فیض اور خیرو برکت سمجھتا ہے.گدها بهی اپنے ستر(شرم گاہ) کو کهولنے کا لحاظ نہیں رکھتا اور حضرت انسان بهی اپنے ستر(شرم گاہ) کو کهول کر ولایت کے دعوے کرتا ہے اور جاهل عوام اسکو اس بے شرمی کی سزا دینے کی بجائے ولی اللہ کا لقب عطا  کر دیتی ہے....گدھا اپنے ہم جنس کو دیکھ کر هینگنا(شور) شروع کر دیتا ہے...اور انسان بهی اپنے پیروں/بزرگوں کے سامنے دهمال، قوالی اور نعرہ بازی شروع کر دیتا ہے..گدھا صرف بوجھ ہی نہیں اُٹھاتا بلکہ سیاست میں بھی اس کا کافی عمل دخل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ گدھے بھی سیاسی ہوتے ہیں۔ آپ نے یہ کہانی تو سُنی ہوگی کہ پرانے زمانے میں ایک آدمی کے پاس گدھا ہوا کرتا تھا اور وہ روزانہ اِس پر بے انتہا نمک لاد کر دریا پار کرتا۔ ایک دن گدھے کو سیاست سُوجھی اور اُس نے دریا میں اُترتے ہی اپنا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے پانی میں ڈبکی لگا دی جس سے سارا نمک بہہ گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ گدھا زمانہ قدیم سے ہی سیاست کی باریکیوں سے واقف تھا۔لیکن انسان کا سیاسی ہونے میں بهی شک نہیں -کوئی پیری مریدی کے نام پر تو کوئی ملک و قوم کے نام پر لوگوں کو لوٹ رہا ہے. لیکن ہر گدھا اس قدر خوش قسمت نہیں ہوتا کہ وہ مرنے کے بعد بھی یاد کیا جائے لیکن کچھ گدھے ایسے بھی گزرے ہیں.جسے نہ صرف انسانوں کی طرح دفنایا گیا بلکہ اُن کے نام سے گاؤں اور پوجا گاہیں  بھی موجود ہیں۔ آپ راولپنڈی سے مانسہرہ جائیں تو راستے میں حویلیاں کے قریب ایک جگہ ''کھوتا قبر'' کے نام سے مشہور ہے اور حقیقت میں وہ ایک کھوتے (گدھے) کی ہی قبر ہے۔ چند سال قبل اس گائوں کا نام تبدیل کرکے مسلم آباد رکھ دیا گیا ہے لیکن علاقہ کے مکین اب بھی اِس جگہ کو پُرانے نام سے ہی جانتے ہیں۔ اس کھوتا قبر کے بارے میں بہت سی روایتیں بھی زبان زدِعام ہیں۔گدھے اور گهوڑوں کی پوجا کے قصے ویسے تو بے شمار ہیں لیکن سند کی عدم موجودگی سے ہم قلم بند کرنے سے قاصر ہیں- البتہ ایک گدھے سے فیض حاصل کرنے والی بات شاید آپ کیلئے انہونی ہو-البتہ مصر کی تاریخ سے ایک مردہ گدھے کی پوجا کا واقع ملتا ہے.....
جاری ہے....
www.islam-aur-khanqahi-nizam.blogspot.com

Friday, 1 April 2016

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،10

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

سلفی اور غیر سلفی ہونے کے اعتبار سے جنوبی ایشیا کے اہل سنت کے مسالک:
جنوبی ایشیا سے ہماری مراد بنیادی طور پر وہ ممالک ہیں جو بر صیغیر پاک و ہند کا حصہ ہیں۔ ان میں ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل ہیں۔ جن مسلک کا ہم اس سلسلہ میں ذکر کریں گے، ان کی غالب آبادیاں پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں آباد ہیں۔ بقیہ ممالک کے مسلمانوں میں مسالک کی تقسیم بہت زیادہ گہری نہیں ہے۔ بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کے سنی مسالک کی تعداد چار ہے۔
*سنی بریلوی-
*سنی دیوبندی-
*اہل حدیث یا سلفی-
*وہ حضرات جو کسی خاص فرقہ سے تعلق نہیں رکهتے وہ بهی شامل ہیں-
(اس کے علاوہ چهوٹے چهوٹے مسالک و مکاتب فکر بهی موجود ہیں-جن کا ذکر ہم آخر پر کریں گے)
برصغیر کے اہل سنت تین فرقوں میں تقسیم ہیں: اہل حدیث، دیو بندی اور بریلوی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل حدیث ایک جانب بریلوی دوسری جانب۔ دیو بندی حضرات نے ان کے درمیان کا راستہ اختیار کیا ہے اور ان میں سے بعض اہل حدیث کے قریب ہیں اور بعض بریلویوں کے قریب ہیں۔ ان تینوں مسالک سے ہٹ کر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو خود کو ان تینوں مسالک سے وابسطہ نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے اس تالیف  میں ہم نے ماورائے مسلک یا فرقوں سے ماوراء حضرات یا کسی جرقہ سے تعلق نہ رکھنے والے حضرات کی اصطلاح اختیار کی ہے۔ جس کا مختلف مسائل میں ان گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا تفصیلی جائزہ ہم اگلے ابواب میں لیں گے۔ اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں، مناسب ہو گا کہ ان مکاتب فکر اور ان کی شخصیات کا ایک اجمالی تعارف پیش کر دیا جائے۔
*سنی بریلوی مکتب فکر:
سنی بریلوی مکتب فکر روایتی دین کا علمبرار ہے۔ ان کا طرہ امیاز رسول اللہ ﷺ اور بزرگان دین سے عقیدت و محبت ہے اور تصوف ان کا خاص میدان ہے۔ لفظ بریلوی کی نسبت مولانا احمد رضا خان بریلوی (1921-1856) سے ہے جنہوں نے 1906 میں بعض علمائے دیوبند پر کفر کا فتوی لگایا جس کے نتیجے میں بریلوی اور دیو بندی مکاتب فکر علیحدہ ہوئے۔ مولانا بریلوی کا تعلق، یوپی انڈیا کے شہر بانس بریلی سے تھا۔ واضح رہے کہ اوپر بیان کردہ سید احمد بریلوی 1831-1786 کا تعلق بوپی ہی کے ایک اور شہر رائے بریلی سے تھا اور وہ بریلوی حضرات کی بزرگ شخصیات میں شامل نہیں ہیں۔
سنی بریلوی حضرات عام طور پر خود کو بریلوی کہلوانا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے لیے سنی کا لقب اختیار کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے اسی لقب کا دعوی دیو بندی اور اہل حدیث بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں ان کے لیے سنی بریلوی کی اصطلاح
استعمال کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بر صغیر کے مسلمانوں کی اکثریت ان کی ہم مسلک ہے۔ پاکستان میں سنی بریلوی زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں اکثریت میں ہیں۔ دیوبندی ، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات سبھی کے لیے سنی بریلویوں کے ہاں عام طور پر ’’وہابی’’  کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
سنی بریلوی مکتب فکر کی اہم تحریکوں اور جماعتوں میں جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اہل سنت، دعوت اسلامی، منہاج القرآن اور انجمن طلباء اسلام شامل ہیں۔ ان کی اہم ترین شخصیت مولانا احمد رضا خان بریلوی (1921-1856) ہیں جن کے لیے ’’اعلی حضرت ’’ کا لقب اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بیٹے حامد رضا خان (1943-1875) اور مصطفی رضا خان (1981-1892)، مولانا امجد علی (1948-1878)، مولانا نعیم الدین مراد آبادی (1948-1882) ، مولانا عبد العلیم صدیقی (1954-1892) پیر جماعت علی شاہ (1951-1840) مفتی احمد یار خان نعیمی (1971-1906) اور مولانا احمد سعید کاظمی (1986-1913) شامل ہیں۔ حالیہ مشہور شخصیات میں مفتی اختر رضا خان بریلوی (1943۔ب)، پیر محمد کرم شاہ الازہر ی (1998-1917)،  مولانا شاہ احمد نورانی (2003-1926) مولانا محمد الیاس قادری (1950-ب)، علامہ غلام رسول سعیدی (1937-ب) اور ڈاکٹر طاہر القادری (1951-ب) شامل ہیں۔ واضع رہے کہ حالیہ مشہور شخصیات میں سب کی سب سنی بریلوی حضرات کے ہاں متفق علیہ نہیں ہیں۔
*سنی دیوبندی مکتب فکر:
دیوبندی مکتب فکر کی نسبت بھی یوپی کے ایک قصبے دیوبند سے ہے جہاں 1867 میں مولانا محمد قاسم نانوتوی (1880-1832) نے دارالعلوم قائم کیا۔ یہ لوگ بھی تصوف کے قائل ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے بالعوم روایت اور سلفیت کے بیچ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ بعض معاملات میں ان کا نقطہ نظر بریلوی اور بعض میں اہل حدیث کے قریب ہے۔ اسی طرح دیو بندی مسلک کی مختلف شخصیات کا رحجان بھی مختلف ہے اور اپنے عقائد و نظریات میں ان کے بعض لوگ بریلوی اور بعض اہل حدیث مسلک کے زیادہ قریب ہیں۔ شروع میں بریلوی اور دیوبندی مکاتب فکر میں بہت زیادہ اور گہرا اختلاف نہ تھا مگر جب 1906 میں مولانا احمد رضا خان بریلوی نے چوٹی کے بعض علمائے دیوبند پر کفر کا فتوی عائد کیا، تو اس کے نتیجے میں یہ دونوں گروہ الگ ہو گئے۔ اس اختلاف کی تفصیل کا مطالعہ ہم اگلے ابواب میں کریں گے۔
پاکستان میں سنی دیوبندی زیادہ تر صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں اکثریت میں ہیں۔اور سندھ میں شہر کراچی میں بهی کافی تعداد موجود ہے- اس کے علاوہ افغانستان میں انہیں فیصلہ کن اکثریت حاصل ہے۔ مشہور زمانہ طالبان تحریک کا تعلق بھی دیوبندی مکتب فکر سے ہے۔ علمائے دیوبند ایک جانب بریلوی حضرات سے ان مسائل پر اختلاف کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنی بریلوی حضرات انہیں اہل حدیث کے ساتھ نتھی کر کے وہابی قرار دیتے ہیں جبکہ اہل حدیث حضرات انہیں بریلوی حضرات کے ساتھ شامل کر کے مقلد صوفی سمجھتے ہیں۔
سنی دیوبندی حضرات کی اہم تحریکوں اور جماعتوں میں جمعیت علمائے ہند، جمعیت علمائے اسلام، تبلیغی جماعت ،تحریک طالبان اور انجمن سپاہ صحابہ اور دیگر شامل ہیں۔ تبلیغی جماعت کا اگرچہ آفیشل موقف یہ ہے کہ یہ کسی خاص مسلک کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی جماعت ہے البتہ جنوبی ایشیا کی حد تک ان کے کارکنان کی اکثریت دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ عالم عرب اور دیگر علاقوں میں البتہ ان کی ممبر شپ گلوبل ہے۔ سنی دیوبندی حضرات کی اہم ترین شخصیات میں بانی دارالعلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی (1880-1832) رشید احمد گنگوہی (1905-1829) خلیل احمد سہارن پوری (1927-1852) اشرف علی تھانوی (1943-1863) مولانا محمود الحسن (1920-1851)، علامہ شبیر احمد عثمانی (1949-1886) مولانا حسین احمد مدنی (1957-1879) مولانا انور شاہ کشمیری (1933-1875)، مولانا محمد الیاس کا ندھلوی (1944-1885) اور مفتی محمد شفیع (1976-1896) شامل ہیں۔ ان میں سے پہلے چار وہ حضرات ہیں جب پر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے کفر کا فتوی عائد کیا تھا۔ علمائے دیوبند کی حالیہ مشہور شخصیات میں جسٹس محمد تقی عثمانی (1943-ب) مولانا سرفراز خان صفدر (2009-1914) مولانا اطعام الحسن (1995-1918) مولانا سمیع الحق (1937-ب) مولانا طارق جمیل (1953-ب) مولانا فضل الرحمن (1953-ب) اور ملا محمد عمر (1959-ب) مشہور ہیں۔
ان کے علاوہ بعض ایسی شخصیات بھی ہیں جو کہ بریلوی اور دیوبندی دونوں کے نزدیک محترم مانی جاتی ہیںَ ان میں مولانافصل حق خیر آبادی (1861-1797) حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (1899-1817) اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی (1937-1859) نمایاں ہیں۔
 شاہ ولی اللہ (1762-1703) اور ان کے بیٹے شاہ عبدالعزیز(1823-1745) بریلوی ، دیوبندی اور اہل حدیث تینوں مکاتب فکر کے نزدیک بالعموم محترم سمجھے جاتے ہیں۔
جاری ہے....

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،9

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

باب 1: اہل سنت کے ذیلی گروہوں کا ایک تعارف:

اہل تشیع کے بر عکس اہل سنت کے ہاں  مستقل عالمی فرقے تو پیدا نہیں ہوئے البتہ مختلف عوامل کے تحت ان کے ہاں مختلف گروہ وجود میں آتے رہے ہیں۔کھبی یہ گروہ محض ایک رحجان کی نمائندگی کرتے رہے، کہیں انہوں نے ایک مکتب فکر کی شکل اختیار کی، کبھی یہ ایک مسلک کی صورت میں ڈھل گئے اور تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ انہوں نے ایک مستقل فرقہ کی شکل اختیار کر لی ہو، یہ فرقے بالعموم مقامی نوعیت کے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ پیدا ہوتے اور ختم ہوتے رہے ہیں۔
ایک دور میں قرون وسطی کے علم الکام کی بحثوں کے نتیجے میں اہل سنت تین بڑے گروہوں معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ میں تقسیم ہوئے۔ جب ان مسائل کی اہمیت ختم ہو گئی تو یہ گروہ بھی بس کتابوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے۔ اسی طرح فقہ کے میدان میں ان کے ہاں بہت سے فقہی مکتب فکر پیدا ہوئے جو ان میں سے چار بڑے مکاتب فکر حنفی، مالکی، شافعی، اور حنبلی اب بھی باقی ہیں۔ اہل حدیث ان کے علاوہ ہیں جو تقلید کے قائل نہیں ہیں۔ تصوف کے میدان میں ان کے ہاں متعد سلسلے وجود پزیر ہوئے جن میں تقشبندی، قادری، چشتی اور سہروردی سلسلے زیادہ مشہور ہوئے۔ ان میں سے بہت سے گروہ کسی زمانے میں کسی مخصوص علاقے میں باقاعدہ فرقے کی شکل اختیار کر گئے تھے اور ان کی دوسرے گروہوں سے محاذ آرائی شروع ہو گئی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کر لیا اور اس طرح سے اب ان کی حیثیت ایک مسلک یا مکتب فکر کی ہے۔
موجودہ دور میں اہل سنت کے جو گروہ پائے جاتے ہیں، انہیں ہم ان کے رحجان کے اعتبار سے متعدد انداز میں تقسیم کر سکتے ہیں:
*روایتی اور سلفی گروہ-
*تصوف سے تعلق کی بنیاد پر صوفیاء کے مختلف گروہ اور ان کے ناقدین-
*جدید و قدیم کی بنیاد پر جدت پسند، روایت پسند اور معتدل گروہ-
فقہی مسالک کی بنیاد پر بننے والے گروہ جیسے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری وغیرہ
ان سب گروہوں کا مطالعہ ہم اگلے ماڈیولز میں کریں گے البتہ سلفی اور غیر سلفی گروہوں کا مطالعہ ہم اسی ماڈیول میں کریں گے۔ یہ گروہ کسی مقام پر فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں اور کہیں ان کی حیثیت ایک مسلک یا مکتب فکر کی ہے۔
سلفی اور روایتی گروہ کم و بیش ہر مسلم ملک میں پائے جاتے ہیں۔ روایتی گروہوں سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ گروہ جو اس دینی روایت کی حمایت کرتا ہو جو اسے اپنے سے پچھلی نسلوں سے ملاہو۔ عام طور پر تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ جب اسلام کسی خاص علاقے میں پہنچا تو وہاں مسلمانوں کا سامنا مقامی باشندوں سے پڑا۔ ان مقامی باشندوں میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے، وہ اپنی مذہبی روایت، رحجانات اور کلچر ساتھ لائے۔ اس علاقے میں چلنے والی مذہبی نوعیت کی تحریکیں اس عمل پر اثر انداز ہوئیں۔ پہلے سے مسلمان لوگوں کے ساتھ ان نو مسلموں کا تعلق بڑھا، آپس میں کارو بار'شادی بیاہ ہوئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مذہب اسلام کا ایک علاقائی یا روایتی ورژن وجود میں آ گیا۔ چونکہ ایک بچہ عام طور پر مذہبی تعلیم عام طور پر دین کے اصلی مآخذ سے کم اور اپنی کلچرل روایت سے زیادہ اخذ کرتا ہے، اس وجہ سے دین کا یہ روایتی ورژن اگلی نسلوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔
یہ عمل کم و بیش دینا کے ہر خطے میں وقع پذیر ہوا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا یعنی بر صغیر کے مسلمانوں کی مذہبی روایت، اہل عرب سے کچھ مختلف ہیں۔ اسی طرح وسطی ایشیا، شمال مغربی افریقہ اور مشرق بعید کے مسلمانوں کے مذہب میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ اِس فرق کے باوجود یہ سب کے سب خود کو مسلم اہل سنت کہلاتے اور سمجھتے ہیں۔ اِن کے مذہبی عقائد ، عبادت کے طریقے اور دین کے بنیادی اعمال یکساں ہیں، البتہ بعض اُمور میں اِن کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس ہر دور میں اور ہر خطے میں ایک طبقہ ایسا رہا ہے جس نے اِس روایتی مذہب پر تنقید کی ہے اور دین کو اِس کے اصل مآخذ یعنی قرآن و سنت اور دور ِ اول کے مسلمانوں یعنی صحابہ اور تعابعین کے عمل سے اخذ کرنے پر زور دیا ہے۔چونکہ صحابہ کرام اور تابعین کو "سلف" پہلے دور کے لوگ کہا جاتا ہے، اِس نسبت سے یہ لوگ عام طور پر خود کو سلفی کہلاتے آئے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سلفی ازم دین کو خالص کرنے کی تحریک (Puritanism ) کا نام ہے- جس نے مختلف ادوار اور خطوں میں مختلف شکلیں اختیار کی ہیں۔ چوتھی صدی ہجری کے عراق کے حنبلی ہوں یا ساتویںٰ صدی ہجری کے شام میں ابن تیمہ (1327-1263/728-661) کے پیروکار،یا بارہویں صدی ہجری کے عرب میں محمد بن عبدالوہاب (1792-1703) کی تحریک ہو یا تیرہویں صدی ہجری میں سید احمد بریلوی (1831-1786) ہندوستان کی تحریک جہاد، ان سب تحریکوں میں ایک عنصر مشترک ہے اور وہ ہے دین کو مذہبی روایت کی بجائے اس کے اصل مآخذ یعنی قرآن و سنت سے سمجھنے کا عزم۔بارہویں صدی ہجری یا اٹھارہویں صدی عیسوی کے عرب میں شیخ محمد بن عبد الوہاب نے شرک اور بدعات سے معاشرے کو پاک کرنے کی جو مہم چلائی، اس کا نتیجہ ان کی فتوحات کے بعد عالمگیر نوعیت کا نکلا۔ اسی سے ملتی جلتی تحریکیں عالم اسلام کے دوسرے علاقوں ہندوستان، سوڈان، شمالی افریقہ، وسط ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں پیدا ہوئیں۔ روایتی مذہب کے ساتھ ان کے تصادم کے نتیجے میں تین مستقل فرقے بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث وجود میں آئے۔ دوسرے ممالک میں یہ عام طور پر فرقوں کی شکل تو اختیار نہ کر سکے البتہ سلفی اور روایتی گروہ موجود ہیں- جن کی حیثیت دو متوازی مکاتب فکر کی ہے-
روایتی اور سلفی نقطہ ہائے نظر میں بنیادی اختلاف
اگر دنیا کے مختلف ممالک میں روایتی اور سلفی نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مابین اختلاف دو بنیادی امور پر ہے:
پہلا معاملہ: ان عقائد اور رسوم و آداب کا ہے جو تصوف کے زیر اثر روایتی نقطہ ہائے نظر میں داخل ہو گئی ہیں۔ ان میں رسول اللہ ﷺ اور بزرگان دین کے ساتھ عقیدت کا معاملہ ہے جس کے اظہار کی مختلف شکلیں عقائد و رسوم کی شکل میں موجود ہیں۔ ان میں اکثر سلفی حضرات کے نزدیک شرک کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہیں اور ان کے نقظہ نظر کے مطابق ائمہ اور علماء کو پیغبر، اور بیغمبر کو خدا کے درجے پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ اس سے متعدد اختلافی مسائل جنم لیتے ہیں جس میں عقیدہ علم غیب، حاضر و ناظر کی بحث، غیر اللہ سے مافوق الاسباب طریقے سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا، نور و بشر کا مسئلہ اور تقلید شامل ہیں۔
دوسرا معاملہ: ان رسموں کا ہے جو مقامی آبادیوں کے کلچر سے مسلمانوں میں داخل ہو کر دین کا درجہ پا گئی ہیں۔ سلفی حضرات کے نزدیک یہ سب بدعت اور دین میں اضافہ ہیں۔ ان میں مرنے کے بعد ایصال ثواب سے متعلق رسمیں، عید میلاد النبی، مزارات کی تعمیر، ان کی تعظیم اور ان پر عرس و میلا کا انعقاد، مزارات کی زیارت کا سفر، بزرگوں کے نام پر نذر و نیاز وغیرہ شامل ہیں۔ اگلے ابواب میں ہم ان تمام اہم مسئلوں کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ اپنے نقطہ نظر کے حق میں جانبین کے دلائل کیا ہیں۔
روایتی اور سلفی نقطہ ہائے نظر میں اتفاق رائے:
روایتی اور سلفی نقطہ ہائے نظر میں ان اختلافات سے قطع نظر ان کے مابین بنیادی امور میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ دین کا بنیادی ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ احادیث کے مجموعے اور احادیث کو پرکھنے کا طریقہ کار بھی ان کے ہاں یکساں ہے۔ اس کے علاوہ ذیلی مآخذ اجماع اور قیاس کے معاملے میں بھی ان کے ہاں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ دین کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں ان کے ہاں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ دین کے اخلاقی احکام یعنی اخلاص، عجز و انکسار، محبت الہی ، تزکیہ نفس اور تعلق باللہ کو سبھی مانتے ہیں اور اخلاقی رذائل جیسے تکبر، ریاکاری ، حسد ، کینہ وغیرہ کو سبھی برا سمجھتے ہیں۔ شریعت کے بنیادی احکام نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور جہاد کے بارے میں ان کے ہاں کوئی اساسی نوعیت کا اختلاف نہیں ہے۔
جاری ہے.........

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،8

مسلمانوں کے مذہبی مسالک'

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف ِراقم

الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃوالسلام علیٰ اشرف الانبیاءوالمرسلین ،اما بعد:

اللہ رب العزت نے انسان کی رشدوہدایت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایااور آپ کی حیات مبارکہ کو لوگوں کے لیے معیار بنا دیا،فرمایا:تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی )بہترین نمونہ ہے،(الاحزاب 21)

اللہ تعالیٰ نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو حرف ِ آخر قرار دے دیاہےکہ جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں ،اس پر عمل پیرا ہوا جائے اور جس چیز سے روک دیں،اس سے قطعی طور پر دُور رہا جائے،بلکہ فرمایا:جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی ،تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی (النساء80)

مؤلف محترم قارئین سے گزارش کرتا ہے کہ میں نے ایمانداری اور غیر جانبداری کےساتھ جو کچھ تحقیق کے دوران پڑھااور سمجھا اُس کو سپرد قلم کر دیا ۔اس سلسلہ میں تحریر کو غیر جانبدار نہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔میں نے اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بات خلاف ِواقعہ اور کوئی حوالہ غلط درج نہ ہو ،میں نے مختلف کتابوں سے اقتباسات لیے ہیں،جن میں تین کتب اہم ہیں،پاکستان کے دینی مسالک از قلم ثاقب اکبر،ہندوپاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلوپیڈیا از قلم نعیم اختر سندھومسیح،مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ از قلم ڈاکٹر مبشر نذیر،اس طرح سوشل میڈیاپر میرا یہ سلسلہ تصنیف نہیں بلکہ تالیف ہے۔

میری غرض اس تالیف سے مصنفین کی قطار میں شامل ہونے کی نہیں ہے۔اور نہ ہی کسی فرد سے صلہ چاہتا ہوں، میری بساط ہی کیا ہے کہ میں ایسے اہم مطالب کا بیڑا اٹھاتا ۔مطالعہ کا دل میں شوق پیدا ہوا اور سوچا کیوں نہ اپنے دوست احباب کو بھی اس تقابلی مطالعہ میں شامل کروں۔اس تحقیق و کوشش میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں یہ توآپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔

معززقارئین خطا ونسیان خاصہ انسان ہے اور نقصِ علم کا اعتراف عین انصاف ہے،اس لئے اہل علم اس ادنیٰ کاوش کو ملاحظہ فرما کر بے دریغ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس سے کوئی تحسین وآفرین یا کوئی ذاتی مفادمطلوب نہیں بس اہل علم بے تکلف ہر نقص و کوتاہی سے آگاہی بخشیں تو راقم الحروف خلوص ِ دل کے ساتھ اپنی کم علمی کی بناء پر  اپنی غلطیوں کو قبول کر کے ممنون وشکر گزار ہو گا ۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے غلطی کو درست کرکے اللہ تعالیٰ سےطلب معافی اوراپنی اصلاح کرے گا،

میں نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ کا مشکور و ممنوںہوں،علم و فضل یقیناًاس کی عنایت ہے،میں اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان مند ہوں کہ اس نے اپنی حکمت کے خزانوںمیں سے مجھ حقیر کو اپنے فضل سے نوازا اور درکار فہم و دانش عطا کی۔میری اس کاوش کا اصل مقصد یہ ہے کہ آج کے زمانہ میں جہاں اسلام کے نام پر  بیسیوں گروہ پیدا ہو چکیں ہیں اور ہر کوئی خود کوحق پر اور دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے، اس افراتفری کے عالم میں اب ضرورت  اس امر کی ہے کہ غیر جانبدرانہ انداز میں تمام مکاتب فکر اور گروہوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے ،اورچھان بین کی جائے کہ کس کی دعوت عین قرآن و سنت کے مطابق ہے،کیونکہ اصل کامیابی و کامرانی اتباع  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے،آج اہل اسلام و ایمان کی خوش نصیبی ہے کہ احادیث نبویہ بالکل محفوظ موجود ہیں۔اور ہر شخص بآسانی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کر کےعند اللہ سرخروہو سکتا ہے،

راقم الحروف کا مکمل نام عمران شہزاد تارڑہے ،جو کہ خود عالم نہیں لیکن محدثین ،فقہا اور علماءکی کتب پڑھنے کی لگن موجود ہے،انہی محترم شخصیات کی کتب سے مواد حاصل کر کے انہیں یکجاء و ترتیب دے کر قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہے،میری ہر تحریر میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ مستند احادیث پیش کرنے والے مصنفین سے استفادہ کروں،اور دوران ِ مطالعہ اگر کوئی بات مجھے سمجھ نہ آئے تو وہ میں ارباب علم کی تصدیق کے بعد ہی نشر کرتا ہوں،

اور میں اپنے محترم اساتذہ  کرام حافظ محمد  شارق ،ڈاکٹر مبشر نذیر اور قاری محمد اختر صدیق صاحب اور تمام دوستوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں ،جنہوں نے میری اس کاوش کے حوالے سے میری خصوصی معاونت کی،اس کے علاوہ میں تمام قارئین کرام کا نہایت شکر گزار ہوں،اور آخر میں میں اُن سب مصنفین کا احسان مند اور مشکور ہوں جن کی نگار شات سے میں نے استفادہ حاصل کیا ،

میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام قارئین کرام کو اس تحریر کے وسیلہ سے حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اور مجھےکتاب و سنت کی اشاعت کرنے میں مزید ترقی عطا فرمائے۔آمین

نوٹ:واٹس اپ پر آپ ہماری دیگر سروس حاصل کرنے کیلئے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں ،(اسلام اور خانقاہی نظام)(مسلمانوں کے مذہبی مسالک)(طبی مسائل)(لاسلام سوال و جواب)(دعوت  ِقرآن و سنہ)وغیرہ،

دعا گو !

عمران شہزاد تارڑ ،ڈئریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر ،

چھوہر انوالہ منڈی بہاوالدین پاکستان،

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،7

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

جدید اور قدیم علم الکلام میں فرق جدید اور قدیم علم الکلام میں جوہری نوعیت کا فرق پیدا ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرون وسطی میں علم الکلام کے مسائل کچھ اور تھے، اب یہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔  مثال کے طور پر قرون وسطی میں قدیم (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے موجود رہنے والا) اور حادث (بعد میں کسی وقت وقوع پذیر ہونے والا) سے متعلق مسائل بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ محدثین  اور معتزلہ کے درمیان جب یہ اختلاف درپیش ہوا کہ قرآن قدیم ہے یا حادث تو ان میں بڑے معرکے برپا ہوئے۔ بادشاہ وقت مامون الرشید (reign 197-217/813-833) معتزلہ کے نقطہ نظر کا حامی تھا۔ اس نے  محدثین جن کے سرخیل امام احمد بن حنبل (164-241/780-855) تھے، کو کوڑوں سے پٹوایا اور قرآن کے حادث ہونے کو ماننے پر انہیں زبردستی  مجبور کیا۔ بعد میں معتزلہ ہی میں سے امام ابو الحسن اشعری(260-324/874-936)پیدا ہوئے جنہوں نے معتزلہ کے عقائد سے تائب ہو کر ان کی اپنی زبان  اور اصطلاحات میں ان کی تردید کی۔
دور جدید میں یہ مسائل زندہ نہیں رہے اور ان مسائل کی وجہ سے جو فرقے ظہور پذیر ہوئے، وہ بھی باقی نہ رہے۔ اس دور میں جو فرقے زندہ ہیں ، علم الکلام کا انحصار بھی انہی کے گرد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں ہم نے قرون وسطی کے علم الکلام کی بجائے جدید علم الکلام سے بحث کی ہے۔  ہمارے دینی مدارس میں عام  طور پر قرون وسطی کے علم الکلام کی کتب جیسے شرح عقائد نسفی وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں۔ اس سے طلباء اس دور کے مسائل اور ان کے دلائل سے واقف تو ہو جاتے ہیں مگر جب وہ عالم دین بن کر میدان عمل میں اترتے ہیں تو لوگ ان سے بالکل ہی مختلف سوالات کرتے ہیں جن کے جواب دینے کے لئے انہیں پوری تیاری نہیں کروائی گئی ہوتی۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ اس سیریز کے ذریعے یہ کمی پوری کر دی جائے۔
تقابلی مطالعہ کا طریق کار:
ہمارے ہاں عام طور پر تقابلی مطالعہ کے طریق کار کی تربیت نہیں دی جاتی ہے۔ اگر یہ تربیت فراہم کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقابلی مطالعہ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن سے آپ کو تقابلی مطالعہ میں مدد مل سکے گی۔
*جب آپ کسی فرقہ کے نقطہ نظر کا مطالعہ کر رہے ہوں تو کچھ دیر کے لیے خود کو اسی میں شامل سمجھ لیجیے۔ خود کو اس فرقہ کے لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس مسلک کو مان لیں مگر اس طریقے سے آپ کو ان کے استدلال (دلائل پیش کرنا) سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے گی۔
*اس کے بعد جب آپ مختلف رائے رکھنے والے دوسرے فرقے کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی یہی طریقہ اختیار کیجیے کہ آپ ان میں شامل ہیں۔
*فریقین کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اب خود کو غیر جانبدار کر لیجیے۔ غور کیجیے کہ پہلے فریق نے کیا دلائل پیش کیے اور دوسرے فریق نے ان کا جواب کیا دیا۔ پھر اس پر غور کیجیے کہ دوسرے فریق کے دلائل کیا تھے اور پہلا فریق ان کا کیا جواب پیش کرتا ہے۔
*فریقین کے دلائل میں مضبوط اور کمزور نکات نوٹ کر لیجیے۔
*آخر میں جس فریق کے دلائل مضبوط نظر آئیں، اس کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیجیے۔
*کوئی نقطہ نظر اختیار کر لینے کے بعد بھی اپنا ذہن کھلا رکھیے اور اس بات کے لیے تیار رہیے کہ اگر مستقبل میں آپ کے سامنے درست بات واضح ہو گئی تو آپ اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ اپنی وابستگی حق کے ساتھ رکھیے نہ کہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ۔
*اگر دونوں فریقوں کے دلائل آپ کو مضبوط نہ لگیں تو اس ضمن میں توقف کیجیے اور کسی تیسرے نقطہ نظر کی تلاش کیجیے۔
* یہ بهی یاد رکهیے کہ فریقین کے تمام دلائل کو صرف قرآن و سنہ کی روشنی میں ہی پرکهیے-اور اگر کسی فریق کے دلائل میں تضاد پایا جائے تو پهر یہ نہ دیکھا جائے کہ کون کتنے مقام و مرتبہ پر فیض ہے-بلکہ اس کے قول و فعل کو رد کر دیا جائے-
●پروگرام میں استعمال ہونے والے رموز و علامات:
قرآن و حدیث کے حوالہ جات:
*اس سلسلہ میں قرآن مجید آیات کا حوالہ"البقرۃ 2:124" کے فارمیٹ میں دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے سورۃ نمبر 2 کی آیت نمبر 124۔
*احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے ٹیکسٹ "مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ" کا استعمال کیا ہے اور اس کی درستگی کی ذمہ داری انہی کی ہے۔ ہم نے متعلقہ کتاب، اس کے اندر متعلقہ کتاب (جیسے کتاب الایمان وغیرہ) اور حدیث نمبر کا حوالہ دیا ہے۔ یہ نمبر مکتبہ مشکاۃ کی نمبرنگ کے مطابق ہیں۔
● تواریخ کے فارمیٹ:
* اس سلسلہ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ جن اہل علم کا ذکر ہو ، ان کے  سن پیدائش اور سن وفات کو بھی بیان کر دیا جائے تاکہ ان کے زمانہ کا اندازہ ہو سکے۔  اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کو اس کے زمانے کے ماحول (Ethos) کے پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہم نے یہ فارمیٹ استعمال کیے ہیں:
*
 عام طور پر اہل علم اور دیگر شخصیات کے سامنے مثلاً (40-150/660-750) کے اسلوب میں تاریخیں لکھیں ہیں جو متعلقہ شخصیت کے سن پیدائش اور سن وفات کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں بائیں جانب والی تواریخ ہجری کیلنڈر کی ہیں اور دائیں جانب والی تواریخ عیسوی کیلنڈر کی۔ اس مثال میں دی گئی شخصیت 40 ہجری میں پیدا ہوئی اور 150 ہجری میں فوت ہوئی۔ اگر عیسوی کیلنڈر کا اعتبار کیا جائے تو وہ شخصیت 660 عیسوی میں پیدا ہو کر 750 عیسوی میں فوت ہوئی۔
* اگر کسی شخص کی تاریخ پیدائش نہیں مل سکی تو محض تاریخ وفات بیان کرنے کے لیے (d. 380/990) کا فارمیٹ استعمال کیا ہے۔ اسی طرح زندہ شخصیات کے لیے (b. 1950) کا فارمیٹ استعمال کیا ہے جو ان کے سن پیدائش کو ظاہر کرتا ہے۔
* اگر کسی کتاب کا سن طباعت بیان کیا ہے تو اسے (p. 1986) کے فارمیٹ میں بیان کیا ہے۔
* اگر کسی حکمران کا دور بیان کیا تو اسے (reign 13-23/635-645) کے فارمیٹ میں بیان کیا ہے۔
* ان تمام تواریخ میں ہجری اور گریگورین کیلنڈر معلوم کرتے وقت ایک سال کی غلطی کی گنجائش موجود ہے۔
*اگر کوئی تاریخ صحیح تعین کے ساتھ موجود نہیں تھی اور اندازہ موجود تھا تو (c. 380/990) کا فارمیٹ اختیار کیا گیا ہے۔
*اگر کوئی تاریخ ہجری کیلنڈر کے آغاز سے پہلے کی ہے، تو اسے بیان نہیں کیا گیا۔ خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ پیدائش میں یہ معاملہ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہم نے (599-661/40H) کا فارمیٹ اختیار کیا ہے۔ اس میں بائیں جانب کی تواریخ عیسوی کیلنڈر کی ہیں اور دائیں جانب ہجری کیلنڈر کی۔
* ماضی قریب کی تواریخ میں طوالت سے بچنے کے لیے ہجری کیلنڈر کا اہتمام نہیں کیا گیا اور مثلاً (1950-2010) کے فارمیٹ میں سن پیدائش اور سن وفات بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم جو لوگ ہجری کیلنڈر کی تواریخ جاننا چاہیں، وہ بآسانی اس لنک سے ان تواریخ کو ہجری کیلنڈر میں تبدیل کر سکتے ہیں: http://www.islamicfinder.org/dateConversion.php
●اہم نوٹ: ان تمام تواریخ کا ماخذ مختلف ویب سائٹس خاص کر "وکی پیڈیا" ہے جس کی صحت کے بارے میں گارنٹی دینا مشکل ہے۔ اگر قارئین ان میں کوئی غلطی دیکھیں تو برائے کرم اصلاح فرما دیں۔
●کوٹیشن کا فارمیٹ:
اس کتاب میں جہاں ہم نے کسی اور کتاب کی کوٹیشن دی ہے، تو اسے چھوٹے فانٹ میں لکھا ہے اور دائیں بائیں سے کچھ جگہ (Indent) چھوڑ دی ہے۔ اس کوٹیشن کے اندر اگر ہم نے کوئی وضاحتی الفاظ یا جملے لکھے ہیں تو بڑی بریکٹ [   ] استعمال کی ہیں تاکہ  متعلقہ مصنف کی بات میں وہ شامل نہ سمجھی جائے۔  اس کوٹیشن میں اگر کہیں چھوٹی بریکٹ (  ) میں الفاظ ہیں ، وہ متعلقہ مصنفین کے اپنے ہیں۔
ہم نے کوشش کی ہے کہ حوالہ دیتے وقت "شکاگو مینوئل آف اسٹائل"، جو کہ دنیا بھر کی تحقیقی تحریروں میں رائج ہے، کے مجوزہ فارمیٹ کو اختیار کریں لیکن بہت سے مقامات پر ایڈیشن، ناشر وغیرہ سے متعلق معلومات نہ ہونے کے سبب آپ کو اس کی مکمل پابندی نہ مل سکے گی۔ یہی معاملہ ہر کتاب کے آخر میں دی گئی ببلیو گرافی کا ہے۔
●ایڈمیشن کی شرائط اور کورس کا طریقہ کار

اس کورس کا مقصد آپ کو ذاتی سطح پر (Personalized) تعلیمی خدمت فراہم کرنا ہے۔  ایڈمیشن کا طریقہ کار بالکل سادہ ہے۔ نیچے دیے گئے ای میل یا موبائل نمبر پر واٹس اپ کر سکتے ہیں
 fatimapk92@gmail.com
0096176390670
روزانہ بنیاد پر آپ کو ایک سے دو قسط کا از خود مطالعہ کرنا ہو گا اور اس ضمن میں جو سوالات پیدا ہوں، انہیں بذریعہ ای میل
یا واٹس اپ پر پرسنل پیش کر سکتے ہیں-  
●اگر آپ ضرورت محسوس کریں تو آپ بذریعہ Skype یا whatsApp آن لائن رابطہ کر کے بھی اپنے سوالات ڈسکس کر سکتے ہیں-اس صورت میں آپکو قابل اعتماد اساتذہ کرام کی طرف منتقل کر دیا جائے گا-
● البتہ مجموعہ هذا میں کسی قسم کی پوسٹ یا کمنٹ کرنے کی صورت میں وارننگ دیے بغیر ریموو کر دیا جائے گا-

●پروگرام کی فیس:
اس پروگرام میں شرکت کی فیس یہ ہے کہ اگر آپ ہمارے کام سے مطمئن ہوئے تو پهر خود مستفید ہونے کے ساتھ پوسٹ کردہ اقساط کو اپنے دوست احباب کو ضرور بھیجیں-شکریہ
طالب دعا:عمران شہزاد تارڑ، ڈئریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
جاری ہے........

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،6

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

 فرقوں،مسالک اورگروہوں کی تقسیم کی بنیادیں
وہ لوگ جو خود کو "مسلم" کہتے ہیں، ان کے مختلف گروہوں کو مختلف مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان بنیادوں میں مذہبی عقائد، امتیازی مذہبی اعمال، مذہبی تحریک اور فقہی مسلک شامل ہیں۔
مذہبی عقائد اور اعمال کی بنیاد پر تقسیم:
مذہبی عقائد اور مخصوص اعمال کی بنیاد پر امت مسلمہ کے بنیادی فرقے دو ہیں: اہل سنت اور اہل تشیع۔ اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کے ذیلی فرقے اور گروہ ہیں۔
1.  اہل سنت: انہیں بنیادی طور پر تین طریقے سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1.1.سلفی اور غیر سلفی گروہ: برصغیر میں یہ تقسیم بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کی شکل میں نظر آتی ہے اور بقیہ عالم اسلام میں یہ سلفی اور غیر سلفی گروہوں کی صورت میں موجود ہے-
1.2.صوفی اور غیر صوفی گروہ: صوفی گروہوں میں ان کے مختلف سلسلے شامل ہیں، ان کے علاوہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو مروجہ تصوف کو  اسلام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھتا ہے
1.3.روایت پرست اور جدت پسند گروہ: اس میں متعدد گروہ پائےجاتے ہیں۔
2.  اہل تشیع: ان کے متعدد گروہ ہیں۔
2.1.    اثنا عشری-
2.2.   اسماعیلی یا آغا خانی-
2.3.     زیدی-
2.4.   علوی، دروز اور دیگر فرقے-
3.  اباضی: یہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں سے ہٹ کر ہیں۔
4.  منکرین سنت و حدیث؛
5.  دیگر مذہبی گروہ جو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں مگر مسلمان انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں جیسے احمدی، بہائی وغیرہ۔
مذہبی تحریکوں کی بنیاد پر بننے والے گروہ
امت مسلمہ کی تاریخ اصلاحی تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔  ان میں سے بہت سی تحریکیں مختلف ادوار میں پیدا ہوئیں اور تاریخ میں اپنا کردار ادا کر کے ختم ہو گئیں۔ پچھلے دو سو برس میں مسلم دنیاکے زوال کے نتیجے میں ان میں زبردست رد عمل پیدا ہوا جس نے جلد ہی تحریکوں کی شکل اختیار کر لی۔ اس سلسلہ میں امت مسلمہ کی تاریخ کی تمام تحریکوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں ہے۔ یہاں ہم صرف موجودہ دور میں موجود تحریکوں کا جائزہ پیش کریں گے۔ اس وقت مسلم دنیا میں موجود تحریکوں کو  اس طریقے  سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1.  احیائے اسلام کی تحریکیں اور جماعتیں
1.1. انقلابی تحریکیں جیسے انقلاب ایران کی تحریک، قدیم اخوان المسلمون، حزب التحریر  وغیرہ
1.2.موجود نظام کے اندر رہ کر کام کرنے والی سیاسی تحریکیں جیسے مصر اور لیوانٹ (شام، اردن، فلسطین اور لبنان) کی جدید اخوان المسلمون،  برصغیر کی جماعت اسلامی ، ترکی کی اسلامی تحریک، انڈونیشیا کی محمدی تحریک  وغیرہ
1.3. مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والی عسکری تحریکیں جیسے افغانستان و پاکستان کے طالبان، انڈونیشیا اور فلپائن کے مسلح گروہ، چیچنیا کی تحریک  وغیرہ
2.  تبلیغی و دعوتی تحریکیں جیسے برصغیر کی تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی وغیرہ
3.  علمی ، فکری اور تعلیمی تحریکیں جیسے برصغیر میں تحریک علی گڑھ، ندوۃ العلماء، مدرسۃ الاصلاح وغیرہ
فقہی مسالک کی بنیاد پر بننے والے گروہ:

 البتہ یہ مختلف مکاتب فکر ہیں جو تاریخ کے مختلف ادوار میں فرقہ کی شکل اختیار کر گئے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اکٹھے رہنا سیکھ لیا۔  آج کل یہ فرقہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ مکتب فکر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے اختلافات میں بہت زیادہ شدت نہیں ہے۔ ابتدائی صدیوں میں بہت  سے  فقہی مسالک پیدا ہوئے اور ختم ہو گئے۔ موجودہ دور میں یہ فقہی مکاتب فکر ہیں جو اپنے اپنے علاقے میں موجود ہیں۔ ان میں سے پہلے پانچ کا تعلق اہل سنت سے ہے جبکہ بقیہ اہل تشیع اور اباضی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں-
1.  حنفی-
2.  مالکی-
3.  شافعی-
4.  حنبلی-
5.  ظاہری-
6.  جعفری-
7.  زیدی-
8.  اباضی-
انہی گروہوں کی بنیاد پر ہم نے اس پروگرام کے مختلف ماڈیولز کو ترتیب دیا ہے۔ ان گروہوں کے اختلافی امور پر یہ بحثیں ویسے تو بلا مبالغہ ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ انہیں اس سلسلہ میں سمونا ایک مشکل کام تھا، جس سے اس سلسلہ کے غیر معمولی  طور پر طویل ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اس وجہ سے اس سلسلہ کو ہم نے مختلف ماڈیولز میں تقسیم کر دیا تاکہ جو صاحب جس ماڈیول میں دلچسپی رکھتے ہوں، وہ اسی کا مطالعہ کر لیں۔ ماڈیولز کی تقسیم کچھ اس طرح ہے:
1· ماڈیول CS01: اہل سنت، اہل تشیع اور اباضی مسلک-
2· ماڈیول CS02: سلفی (اہل حدیث) اور غیر سلفی(جیسے سنی بریلوی اور سنی دیوبندی)-
3·ماڈیول CS03: اسلام کا دعوی کرنے والے مخصوص اقلیتی مذہبی گروہ-
4· ماڈیول  CS04: فقہی مکاتب فکر-
5· ماڈیول CS05: اہل تصوف اور ان کے ناقدین-
6· ماڈیول CS06: مسلم دنیا میں سیاسی ، عسکری، دعوتی اور علمی و فکری تحریکیں-
7· ماڈیول CS07: روایت پسندی، جدت پسندی اور معتدل جدیدیت ۔۔۔ فکری، ثقافتی،معاشی، قانونی  اور سماجی مسائل-
نوٹ:ہم سب سے پہلے ماڈیول نمبر CS02 کو اپنے سلسلہ کا حصہ بنائیں گے،اگر قارئین کو ہمارا غیر جانبدارانہ  یہ پروگرام پسند آیا تو پهر ہم دوسرے ماڈیول بهی پیش کریں گے.البتہ ان تمام ماڈیول کی pdfفائل حاصل کرنے کیلئے بهی رابطہ کر   سکتے ہیں-جو کہ آپ ای میل یا واٹس اپ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں
0096176390670
-00923334124172-
fatimapk92@gmail.com
اوپر بیان کردہ تمام گروہوں میں سے ہر ایک کے اندر اعتدال پسند اور انتہا پسند دونوں اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں۔  انتہا پسند اپنے نقطہ نظر کو شدت سے پیش کرتے ہیں اور اس سے اختلاف کو برداشت نہیں کرتے جبکہ اعتدال پسند اپنے نقطہ نظر پر قائم رہتے ہوئے دوسرے نقطہ ہائے نظر کے وجود کو برداشت کر لیتے ہیں اور دوسرے گروہوں سے مکالمہ جاری رکھتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ہی گروہ کے اعتدال پسند اور انتہا پسند آپس میں ایک دوسرے کی تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
اس سلسلہ میں ہم مختلف مذہبی گروہوں اور فرقوں کے عقائد، امتیازی اعمال ، طرز فکر اور دلائل کا تقابلی مطالعہ کریں گے اور ان کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیں گے  لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم علم الکلام سے متعلق چند اساسی مباحث کا مطالعہ کریں۔
علم الکلام یا تقابلی مطالعہ کا تعارف امت مسلمہ کے تقریباً تمام فرقوں، مسالک اور مکاتب فکر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دین اسلام کا ماخذ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک ہے۔ آپ سے یہ دین ہمیں دو صورتوں میں ملا ہے، ایک قرآن مجید اور دوسری آپ کی قائم کردہ مثال جسے سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کم از کم قرآن مجید پر سبھی فرقوں کا اتفاق ہے۔ سنت کی تفہیم اور تحقیق سے متعلق ان کے ہاں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر بعض فرقے دین کے کچھ اور مآخذ بھی مانتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی راہیں مین اسٹریم مسلمانوں سے جدا ہو جاتی ہیں۔ انہی مذہبی فرقوں کے عقائد و نظریات اور دلائل کے مطالعے  کے علم کو علم الکلام کہا جاتا ہے۔
علم الکلام وہ علم ہے جس میں مختلف گروہوں کے مذہبی عقائد اور ان کے دلائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔  قرون وسطی میں اس علم کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اپنے سے مختلف گروہوں کے نظریات اور ان کے دلائل کا جائزہ لیا جائے، پھر ان کی تردید کر کے اپنے نقطہ نظر کو ثابت کیا جائے۔ علامہ سعد الدین تفتازانی (722-792/1322-1390) لکھے ہیں:
هو العلم بالعقائد الدينية عن الأدلة اليقينية.
"یہ یقینی دلائل سے دینی عقائد کا علم ہے۔ " (تہذیب الکلام)
مشہور ماہر عمرانیات و بشریات، ابن خلدون (732-808/1332-1406) اپنے مشہور زمانہ "مقدمہ" میں لکھتے ہیں:
هو علم يتضمن الحجاج عن العقائد الإيمانية بالأدلة العقلية و الرد على المبتدعة المنحرفين في الاعتقادات عن مذاهب السلف و أهل السنة.
"(علم الکلام) وہ علم ہے جو عقائد ایمانیہ کو عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے والی حجتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں اسلاف اور اہل سنت کے نقطہ نظر کے اعتقادات سے منحرف ہونے والے بدعتی فرقوں پر رد بھی شامل ہوتا ہے۔"
چونکہ اپنے عقائد کو ثابت کرنے کے لئے بحث و مناظرہ کیا جاتا تھا، جس میں بہت زیادہ گفتگو ہوتی تھی، اس وجہ سے اس علم کا نام ہی "علم الکلام" پڑ گیا۔  اس کے برعکس انگریزی میں اسے Theology کہا گیا جس کا ترجمہ اردو اور فارسی میں "الہیات" کے نام سے کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور اس سے متعلق امور سے متعلق بحث ہے۔  واضح رہے کہ مسلمانوں کے ہاں تھیالوجی یا الہیات اب علم الکلام کا محض ایک حصہ ہے ورنہ اس میں اور بھی بہت سے مضامین شامل ہو گئے ہیں۔
علم الکلام کے دائرے میں آنے والے مباحث:
علم الکلام میں جو مسائل زیر بحث آتے ہیں، وہ بنیادی طور پر دو اقسام کے ہیں:
ا·مختلف مذاہب اور فلسفوں کے درمیان پیش آنے والے اختلافی مسائل: جیسے کیا اس کائنات کا کوئی خدا موجود ہے؟ کیا آخرت کا وجود ہے؟ کیا ہماری موت کے بعد کوئی اور زندگی ہے؟ کیا نبوت و رسالت برحق ہے؟ کون سچا نبی ہے اور کون جھوٹا؟  کیا نبوت ختم ہو چکی ہے یا اب بھی جاری ہے؟ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟  مذہب ضروری ہے یا نہیں؟ اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ  تو اصلاً مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے تحت آنا تھا مگر چونکہ مسلمانوں کے اندر بھی ایک طبقہ ان سوالات پر  غور کرتا ہے، اس وجہ سے ہم نے ان مسائل کو ماڈیول CS07 میں بیان کیا ہے۔

· ایک ہی مذہب مثلاً اسلام کے مختلف فرقوں  کے مابین اختلافات: جیسے مسلمانوں کے مابین یہ سوالات کہ کیا قرآن اور سنت ہی دین کا ماخذ ہیں یا ان کے علاوہ کوئی اور ماخذ بھی ہے؟ کیا اللہ کے سوا کسی اور سے مافوق الفطرت طریقے سے مدد مانگی جا سکتی ہے؟ کیا اللہ تعالی کے نیک بندوں کو بعد از وفات کوئی اختیارات حاصل"ہوتےہیں؟ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کا باہمی تعلق کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔  ان سوالات کا مطالعہ ہم ماڈیول CS01 اور CS02 میں کریں گے۔
مآخذ دین کی بنیاد پر اختلافات: بعض گروہوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ سنت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسی طرح بعض گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخصیت کو بھی نبی مانتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کا اسلام سے تقابل ہم ماڈٰیول CS03 میں کریں گے۔

ب· فقہی اور فروعی اختلافات: یہ زیادہ فقہی امور ہوتے ہیں جیسے نماز میں رفع یدین کیا جائے یا نہیں؟ قیاس اور استحسان کا استعمال درست ہے یا نہیں؟ ان کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS04 میں کریں گے۔
ت·روحانی امور سے متعلق اختلافات: جیسے کیا انسان کا روحانی رابطہ براہ راست اللہ تعالی کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ شریعت اور طریقت کا باہمی تعلق کیا ہے؟  ان امور کا مطالعہ ہم ماڈیول CS05 میں کریں گے۔

ث· دینی تحریکیں: دین کی روشنی میں ایک معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جدوجہد کیسے کی جائے؟ بعض مفکرین کا خیال تھا کہ اس کے لیے سیاسی جدوجہد کرنا اہم ہے۔ بعض کے نزدیک عسکری، بعض کے نزدیک دعوتی اور بعض کے خیال میں فکری و علمی جدوجہد زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ ان کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS06 میں کریں گے۔

ج· روایت و جدیدیت کی بنیاد پر اختلافات: دور جدید کو اسلام سے کس طرح ہم آہنگ کیا جائے؟ اس سوال کے جواب میں مختلف مکاتب فکر بنے، جن کا تفصیلی مطالعہ ہم ماڈیول CS07 میں کریں گے۔
مسلمانوں کے مختلف گروہوں اور فرقوں کےمابین مختلف دینی مسائل میں اختلافات کے نتیجے میں  مسلمانوں کا اندرونی علم الکلام وجود میں آیا۔ یہی معاملہ عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں، بدھوں اور دیگر مذاہب کے اندرونی فرقوں کا ہے۔ ان سب کا اپنا اپنا علم الکلام ہے جو ان کے مذہبی نصاب کا حصہ ہے۔ اس سیریز میں ہم مسلمانوں کے اندرونی اختلافات کا مطالعہ کریں گے جبکہ بین المذہبی علم الکلام کا مطالعہ انشاء اللہ ہم ایڈوانسڈ لیول پر کریں گے۔
جاری ہے.....

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،5

 "مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں انسان اللہ تعالی کی ایسی مخلوق ہے جو ذہن اور عقل رکھتی ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی اس صلاحیت کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔  جب مخصوص نقطہ نظر رکھنے والے لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایک  حلقہ یا گروہ تشکیل پاتا ہے۔ اس گروہ کو اگر کوئی اچھا لیڈر مل جائے جو اس گروہ کے خیالات اور تصورات کو منظم اور مربوط انداز میں پیش کر دے تو یہ غیر منظم گروہ "مکتب فکر" کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو بعض امتیازی مسائل کی وجہ سے دوسرے مکاتب فکر سے مختلف ہوتا ہے۔ مختلف مسائل کی مزید تحقیق و تنقیح کے نتیجے میں مکتب فکر، مسلک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر اس مسلک کے لوگ دوسروں کے ساتھ اختلاف میں شدت برتیں تو بالآخر اس مسلک کے بطن سے فرقہ جنم لیتا ہے۔ اگر کسی فرقے یا مسلک میں شدت پائی جائے تو رد عمل کی نفسیات کے تحت دوسرے فرقے کے لوگوں میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہمی نفرتیں جنم لیتی ہیں۔
مسلم فرقوں کی مختصر تاریخ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فوراً بعد روم اور ایران کی سلطنتیں اسلام کی قوت کے سامنے ٹھہر نہ سکیں اور خلفاء راشدین کے زمانے میں ہی اسلامی حکومت موجودہ بلوچستان سے لے کر مراکش تک پھیل گئی۔ یہ سارا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد صرف پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں مکمل ہو گیا۔
مسلمانوں کی تلواروں نے روم و ایران کی فوجوں کی قوت توڑ دی مگر ظاہر ہے کہ تلوار سے ان علاقوں کے بسنے والے انسانوں کے دل فتح نہ کیے جا سکتے تھے۔ اس کی وجہ خود قرآن مجید کا یہ حکم تھا کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ یعنی "دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں" (البقرۃ 2:256) اہل عرب کی تقریباً سو فیصد آبادی نے  اسلام قبول کر لیا مگر دیگر علاقوں کی ایک بہت بڑی آبادی نے اتنی جلدی اسلام قبول نہ کیا۔ ظاہر ہے کہ ان علاقوں کے رہنے والے صدیوں سے جن مذاہب کو مانتے تھے، وہ اپنے مذہب کو آسانی سے نہ چھوڑ سکتے تھے اور مسلمان بھی انہیں زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کر سکتے تھے۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ اپنے سابقہ مذاہب کے بہت سے تصورات ساتھ لائے جس کے نتیجے میں عہد صحابہ ہی میں مختلف زاویہ ہائے نظر سامنے آنے لگے اور فرقے بننے کا عمل شروع ہو گیا۔ ابتدا میں یہ عمل سیاسی نوعیت کا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی فرقے بننے کا عمل شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خوارج، کرامیہ، مرجئہ، مجسمہ، قدریہ، جبریہ اور نجانے کتنے گروہ بنے اور تاریخ کے عمل میں منظر عام سے غائب ہو گئے۔
اس دور کے تین  فرقے اب بھی باقی ہیں۔ ان میں سے ایک شیعہ یا اہل تشیع کا گروہ ہے جو مسلمانوں کی کل آبادی کے تقریباً 10 فیصد افراد پر مشتمل ہے اور دوسرا  گروہ مسلمانوں کا سواد اعظم یا مین اسٹریم مسلمان جو خود کو اہل السنۃ والجماعۃ یا اردو میں اہل سنت و جماعت کہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں  کی کم و بیش 90 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔  ان دونوں کے علاوہ خوارج کے گروہ سے الگ ہونے والا ایک چھوٹا سا فرقہ بھی اب تک موجود ہے جو کہ "اباضی" کہلاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سبھی فرقوں کے اندر مزید ذیلی فرقے بنتے چلے گئے۔ خوارج کے اندر یہ عمل بہت زیادہ ہوا، اہل تشیع کے اندر اس سے کچھ کم جبکہ اہل سنت میں سب سے کم جن کے ذیلی فرقے نسبتاً مقامی رہے۔
ان فرقوں کی تاریخ کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ عہد بنو امیہ اور بنو عباس میں یونانی کتب کے تراجم عربی میں ہوئے۔ ان کتب میں جہاں یونان کی سائنس اور سماجی علوم شامل تھے، وہاں مذہب اور الہیات کے میدان میں انہوں نے جو کچھ سوچا اور لکھا تھا، وہ  بھی عربی میں منتقل ہو گیا۔  اس کے نتیجے میں نئی افکار پیدا ہوئیں اور نئے انداز میں سوچا جانے لگا جس کے نتیجے میں مختلف فرقے معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ پیدا ہوئے۔  وقت گزرنے کے ساتھ جب ان کے وہ مسائل  ہی زندہ نہ رہے جن میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے تو پھر ان مسالک کی اپنی افادیت ہی ختم ہو گئی اور ان کی بحثیں ان کتابوں میں دفن ہو گئیں جن کا مطالعہ اب صرف چند ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے فرقے پیدا ہوئے اور ختم ہوتے چلے گئے۔
اب سے دو سو برس پہلے جب مسلم دنیا سیاسی طور پر زوال پذیر ہوئی اور ان کے علاقے کے بڑے حصے پر مغربی طاقتوں نے قبضہ کر لیا تو  انہوں نے Divide and Rule کی پالیسی اختیار کی۔ دوسری طرف زوال کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں اخلاقی انحطاط پیدا ہوا۔ اس کے نتیجے میں بہت سے فرقے اور گروہ پیدا ہوئے جو اب بھی باقی ہیں۔ مغربی طاقتوں کے غلبے کے نتیجے میں رد عمل کی بہت سی سیاسی، عسکری، دعوتی اور علمی و فکری تحریکیں پیدا ہوئیں جن کے نتیجے میں بہت سے گروہ پیدا ہوئے۔ انہیں  فرقہ کہنا تو غلط ہو گا مگر چونکہ یہ منظم گروہوں کی شکل اختیار کر گئے، اس وجہ سے انہیں امت کے اندر "امتیازی گروہ" کی حیثیت سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں ہم موجودہ مسلم دنیا میں موجودہ دور کے  زندہ فرقوں کے عقائد و تصورات اور دلائل تک ہی خود کو محدود رکھیں گے۔
جاری ہے.....

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...