Friday, 1 April 2016

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،4

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

شخصیات اور گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کے نظریات بیان کرتے ہوئے میں نے اس بات کی پوری کوشش کی ہے  کہ صرف اور صرف حقائق کو بیان کیا جائے اور ادنی درجے میں بھی کسی کے نظریات یا افعال پر محاکمہ(Judgment) نہ کیا جائے بلکہ جو بات جیسی ہے، اسے ویسا ہی بیان کیا جائے اور اس کے بعد صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔  اس کا مقصد یہ ہے کہ میں اس سلسلہ کو مکمل طور پر غیر جانبدار رکھنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ قارئین اپنے ذہن سے خود فیصلہ کریں اور میری کوئی بات ان کے اس فیصلے پر اثر انداز نہ ہو۔ اگر قارئین یہ محسوس کریں کہ کسی بھی مقام پر میں اس اصول کا خیال نہیں رکھ سکا ہوں تو وہ نشاندہی ضرور فرمائیں تاکہ اصلاح کی جا سکے۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب آپ خود رائے رکھتے ہیں تو پھر عین ممکن ہے کہ پوری کوشش کے باوجود لاشعوری طور پر آپ کا جھکاؤ اس موقف کی جانب ہو گیا ہو، جس پر آپ قائل ہیں۔ اس امکان کو میں تسلیم کرتا ہوں اور پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ رسک اس سلسلہ میں موجود ہے۔ تاہم اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس پہلو کو بھی کم سے کم کرنے کی پوری شعوری کوشش کی ہے اور اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ جس نقطہ نظر پر میں قائل نہیں ہوں، تھوڑی دیر کے لیے اس پر قائل ہو کر اسے پورے زور  کے ساتھ  بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسری کتب میں یہ کوشش بھی آپ کو نہ مل سکے۔ پھر بھی میں انسان ہوں اور غلطی کر سکتا ہوں۔ اس وجہ سے آپ سے گزارش  ہے کہ جہاں آ پ ہی محسوس کریں کہ میں نے کسی نقطہ نظر یا اس کے دلائل کو بیان کرنے  میں کوتاہی کی ہے، ضرور مطلع فرمائیے تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔
میں نے کوشش یہ کی ہے کہ جس کتاب کا کوئی اقتباس نقل کروں، اس کے پورے سیاق و سباق کے ساتھ کروں تاکہ کسی بات کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنے سے معنی میں جو تبدیلی ہو جایا کرتی ہے، اس سے محفوظ رہا جا سکے۔ اس کے علاوہ سلسلہ کے آخر میں ببلیو گرافی فراہم کر دی جائے گی تاکہ اگر کوئی صاحب تحقیق کرنا چاہیں تو ان کتب  کا براہ راست مطالعہ کر کے ان میں سے متعلقہ اقتباسات کو پورے سیاق و سباق میں پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی کوشش کی ہے کہ ہر مسلک کے نقطہ نظر کو اس کے اپنے بزرگوں کی کتب سے اخذ کیا جائے نہ کہ اس کے مخالفین کی۔ جہاں کسی فرقے کی کتب تک رسائی ممکن نہ ہو سکی، وہاں یہ کوشش کی ہے کہ غیر جانبدار ذرائع سے معلومات حاصل کی جائیں۔
میں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ سلسلہ کو تفصیلی اور ٹیکنیکل بحثوں سے ممکنہ حد تک بچاتے ہوئے سادہ ترین اسلوب میں مختلف فریقوں کے دلائل پیش کیے جائیں تاکہ قاری اطمینان سے ان دلائل کو سمجھ کر ان کا موازنہ کر سکے۔  جہاں کوئی ٹیکنیکل بحث کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، وہاں میں نے کوشش کی ہے کہ اسے جس قدر سادہ انداز میں بیان کرنا ممکن ہو، کر دیا جائے۔
یہ سلسلہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں موجود صرف اختلافات کے ذکر پر ہی مشتمل نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان جن معاملات میں اتفاق رائے ہے، اس کو بھی بیان کیا گیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں اور یہ اتفاقی امور امت کے مختلف گروہوں  میں پل کا کام کر سکیں۔  غلط فہمیوں کو دور کرنا، امت کے مختلف گروہوں کو قریب لانا، ایک دوسرے کے بارے میں منفی سوچ کو ختم کرنا، اور شدت پسندی اور تعصب سے اجتناب کی دعوت دینا ایسے امور ہیں جن کی ضرورت ہر دور میں تھی اور موجودہ دور میں کہیں زیادہ ہو سکی ہے۔ اختلافات سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ دین کی بنیادی باتوں میں امت کی غالب اکثریت متفق ہے اور محض گنتی کے چند مسائل ہی پر اختلاف ہے جو اتفاق کی نسبت کہیں کم ہے۔ دیگر مذاہب کی نسبت مسلمانوں کے فرقوں کی تعداد بھی بہت ہی کم ہے۔
مطالعہ کے دوران یہ بات ضرور پیش نظر رکھیے گا کہ علم کی دنیا میں اصل حیثیت دلیل کو حاصل ہوتی ہے۔ علم کی دنیا میں یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ کسی نقطہ نظر کے ماننے والے اگر اکثریت میں ہیں تو وہ لازماً صحیح ہوں گے اور اگر اس کے ماننے والے کم ہیں تو وہ غلط ہوں گے۔ انسانیت کی تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے پیروکار ان کے مخالفین سے کم رہے ہیں۔ علم کی دنیا میں کسی بات کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ دلیل پر ہوتا ہے۔ اگر کسی نقطہ نظر کو مثلاً 99 افراد بیان کر رہے ہوں اور اس کے مخالف نقطہ نظر کا صرف ایک آدمی قائل ہو، تو تب بھی دونوں فریقوں کے دلائل کا موازنہ کر کے ہی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ان 99 حضرات کی بات صحیح ہے یا اس ایک شخص کی۔ اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا دونوں کو یکساں حق حاصل ہو گا۔ اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ محض عددی اکثریت کی بنیاد پر اقلیت کو اپنی دلیل پیش کرنے کا حق دینے سے انکار کر دے۔
اس سیریز  میں آپ کو جنوبی ایشیا پر کچھ فوکس نظر آئے گا اور کچھ ایسا محسوس ہو گا کہ یہ جنوبی ایشیا کے تناظر میں یہ سلسلہ مرتب کیا گیا ہے۔  میں نے کوشش تو کی ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں میں موجود مختلف گروہوں اور فرقوں کے نظریات بیان کیے جائیں تاہم مجھے اعتراف ہے کہ ان کے بارے میں اس درجے کی معلومات ہمیں دستیاب نہیں ہیں ۔ پھر بھی کوشش کی ہے کہ جس حد تک ہو سکے،  دنیا کے دیگر خطوں کے گروہوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر کے سیریز کی اس خامی کو دور کیا جائے۔
اس سیریز  پر آپ کے تاثرات کا انتظار رہے گا۔  آپ کے ذہن میں کوئی سوال اگر پیدا ہو تو بلاتکلف ای میل یا واٹس اپ کیجیے۔ اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔
fatimapk92@gmail.com

مسلمانوں کے مذہبی مسالک۔3

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

یہ سلسلہ عام اسلوب سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ اختلافی مسائل پر لکھی گئی کسی بھی کتاب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے مسلک اور نقطہ نظر کا دفاع  کیا جائے اور مخالفین کی تردید کی جائے۔ مخالفین کے دلائل میں خامیاں تلاش کر کے انہیں اجاگر کیا جائے اور اپنے دلائل کی برتری کو ہر صورت واضح کیا جائے۔ اس سلسلہ کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہے۔  یہ سلسلہ کسی مخصوص مسلک نقطہ نظر کو ثابت کرنے یا کسی مخصوص مسلک کی تردید میں نہیں ترتیب دیا گیا۔ اس سلسلہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلم دنیا میں پائے جانے والے مختلف گروہوں، فرقوں اور مسالک اور ان کے دلائل کا ایک تفصیلی جائزہ قارئین کے سامنے مکمل غیر جانبداری سے پیش کر دیا جائے۔ ان کے نقطہ نظر کو، جیسا کہ وہ ہے، بیان کر دیا جائے اور ان کے دلائل کو پوری دیانت داری سے پیش کر دیا جائے۔ اس کے بعد فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ ان دلائل پر غور کر کے جس راہ کو درست سمجھتے ہیں، اپنا لیں۔ اس سلسلہ کی مثال ایک ایسے کمرہ عدالت کی سی ہے جس میں سب فریق اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں، مگر یہ کمرہ عدالت جج سے خالی ہے کیونکہ یہ جج آپ خود ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اپنا نقطہ نظر پیش کر کے آپ کے ذہن پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کروں۔ آپ  اپنے ذہن سے سوچیے، دلائل کو پرکھیے اور پھر جس مسئلے میں جو نقطہ نظر حق کے قریب معلوم ہو، اسے اختیار کر لیجیے۔
ہر ہر مسئلے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس سلسلہ کو مکمل طور پر غیر جانبدارانہ رکھنا چاہتا ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس سلسلہ کے قاری آزادانہ طریقے پر غور و فکر کر کے درست نتائج تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ان کی اس کوشش  پر میں اثر انداز ہو کر انہیں کسی کی فکری غلامی میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔ میری خواہش ہے کہ قارئین کو اپنا ذہن استعمال کرنے کی عادت پڑے اور دوسروں پر ان کے انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ  میں خود کسی معاملے میں کوئی رائے نہیں رکھتا۔  اس سلسلہ میں جن جن اختلافی مسائل سے میں نے تعرض کیا ہے، ان سب میں میری اپنی بھی ایک رائے ہے لیکن میں نے اپنی طرف سے یہ پوری کوشش کی ہے کہ اپنی اس رائے کو سلسلہ کے غیر جانبداری پر اثر انداز نہ ہونے دوں تاکہ اس سلسلہ کی افادیت برقرار رہے۔  مجھے اعتراف ہے کہ جس مذہبی ماحول میں میری تربیت ہوئی ہے، اس میں یہ ایک مشکل کام تھا۔ اس وجہ سے تمام مسالک کے قارئین سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ اگر کہیں یہ محسوس کریں کہ کسی مقام پر اپنے کسی تعصب کے باعث میں ان کے نقطہ نظر کو صحیح طور پر  بیان نہیں کر سکا یا ان کے دلائل کو درست طریقے پر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ بلاتکلف اس سے آگاہ کریں تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی کم علمی کے باعث میں کسی فریق کے دلائل سے بخوبی واقف نہ ہو سکا ہوں جس کے باعث انہیں بیان نہ کر سکا ہوں۔ اگر ایسا ہو تو مجھے ضرور آگاہ کر دیجیے تاکہ ان دلائل کو اس سلسلہ کا حصہ بنایا جا سکے۔
مختلف فریقوں کے نقطہ ہائے نظر کو بیان کرتے کرتے ہر ہر مسئلے میں جہاں پر میں نے بحث کو ختم کیا ہے، وہاں ایسا اس وجہ سے کیا ہے کہ مجھے اس ضمن میں کسی فریق کی کوئی مزید دلیل نہیں مل سکی ہے۔ تاہم اگر کسی مسلک کے پیروکار یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے پاس مزید کہنے کے لیے کچھ ہے، تو وہ اپنی بات مجھے لکھ بھیجیں، میں اسے اس سلسلہ میں شامل کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ اس میں پہلے سے بیان کردہ دلیل کو دوہرایا نہ گیا ہو بلکہ کوئی ایسی بات کہی گئی ہو، جو اس سلسلہ میں موجود نہیں ہے۔ میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں ہر مسلک کے تمام دلائل اکٹھے کر دیے گئے ہیں مگر  میری کوشش یہ رہی ہے کہ ہر مسلک اور گروہ کے کم از کم بنیادی دلائل درج کر دوں۔

اس موضوع پر بلا مبالغہ ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں جن میں ہر ہر فریق نے اپنے نقطہ نظر کو ثابت اور دوسرے کے نقطہ نظر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کتابوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا اسلوب بیان ہے۔ جب کوئی مصنف اپنے مسلک کی حمایت میں کتاب لکھتا ہے تو اس کی کوشش  ہوتی ہے کہ وہ اپنے مسلک کی ہر صورت اور ہر حالت میں حمایت کرے اور دوسرے کو ہر قیمت پر غلط ثابت کرے۔ فریق مخالف کے جن دلائل کا اس کے پاس جواب نہیں ہوتا، وہ انہیں خاموشی سے نظر انداز کر دیتا ہے اور جن باتوں کا اس کے پاس جواب ہوتا ہے، انہیں بڑھ چڑھ کر بیان کرتا ہے۔ کتاب میں فریق مخالف پر طنز، استہزا اور بسا اوقات گالی گلوچ تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ میں نے کوشش یہ کی ہے کہ اس اسلوب سے بچ کر خالصتاً دلائل کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ کسی بھی گروہ پر طنزو تشنیع کا ہلکا سا شائبہ بھی محسوس نہ ہو۔ اگر قارئین کو کہیں محسوس ہو کہ میں نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ مجھے مطلع کر کے  شکریہ کا موقع دے سکتے ہیں۔

جاری ہے....
اس سلسلہ میں شامل ہونے کیلئے اس نمبر پر رابطہ کریں

مسلمانوں کے مذہبی مسالک،2

"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

یہ 2010ء کی گرمیوں کی بات ہے جب میں ایک کتاب "مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی" کا مطالعہ کر رہا تھا۔ کتاب کا آخری باب اس نفسیاتی غلامی کے انسداد سے متعلق تھا۔ اس سے متعلق جو تجاویز ذہن میں آئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ لوگوں میں تقابلی مطالعہ کی عادت پیدا کی جائے۔ یہ سلسلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
جس طرح ہم نے کوئی بھی قیمتی چیز  جیسے فریج، کار وغیرہ خریدنا ہو تو ہم ایسا نہیں کرتے کہ جو دکان پہلے نظر آئی، اس کے سیلز مین کی شکل پر موجود بظاہر خلوص بھری مسکراہٹ کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے وہاں سے چیز خرید لی۔ اس کی بجائے ہم  کئی دکانوں پر جاتے ہیں، چیز کی کوالٹی کے بارے میں ڈھیروں سوال کرتے ہیں، قیمتوں کا تقابل کرتے ہیں، مال کو ٹھونک بجا کر دیکھتے ہیں، پھر جا کر جو چیز پسند آئے، اسے خریدتے ہیں۔ اس عمل سے ہم بڑی حد تک غلطی سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی غلطی ہو جائے تو اس کا نہ صرف ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں بلکہ اس سے سبق سیکھ کر آئندہ  مزید محتاط ہو جاتے ہیں۔
افسوس کہ دین، جو اس سے کہیں قیمتی متاع ہے، اس کے معاملے میں ہم  یہ احتیاط بالکل نہیں کرتے۔  جس فرقے کی مسجد ہمارے گھر کے پاس واقع ہو، جس  مسلک کے لوگوں سے ہماری پہلے ملاقات ہو جائے، جس فرقے کو اپنانے پر ہمارا خاندان اور ماحول ہمیں مجبور کر دے، ہم اسے اپنا لیتے ہیں اور اتنے کٹر پن سے ایسا کرتے ہیں کہ بقول شاعر
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے-
ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اس معاملے میں بھی احتیاط کا وہی رویہ اختیار کریں جو ہم کسی بھی قیمتی چیز کو خریدتے وقت کرتے ہیں۔ ہم مختلف مذاہب، مسالک، فرقوں اور مکاتب فکر کا مطالعہ کریں، ان کے دلائل کا موازنہ کریں، قرآن اور سنت کے ساتھ ان کا تقابل کریں، اپنی عقل کو استعمال کریں اور پھر جو بات درست معلوم ہو،  اسے اختیار کر لیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی ہم اس کے لئے تیار رہیں کہ اگر اس عمل میں ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہو اور کل کوئی اور بہتر بات ہمارے علم میں آ جائے تو اپنی غلطی مان کر ہم اس کا ازالہ کر لیں گے۔
انسان اللہ تعالی کی ایسی مخلوق ہے جو ذہن اور عقل رکھتی ہے۔  جیسے ہر شخص کی شکل، قد، لہجہ اور انداز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے، ویسے ہی ہر ایک کا زاویہ نظر اور سوچنے و سمجھنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔  دنیاوی معاملات میں ان اختلافات سے عام طور پر بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایک دوسرے سے بات کر کے، دلائل اور فکر کا تبادلہ کر کےاور کچھ کمپرومائز کر کے اتفاق رائے پر پہنچ جاتے ہیں اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اس اتفاق رائے پر نہ بھی پہنچیں تو اپنے اختلافات کو مختلف دائروں میں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔
دین اور مذہب کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس میں انسان  عام طور پر بہت جذباتی ہوا کرتا ہے۔ جیسے  ہی اسے اپنے سے کوئی مختلف بات نظر آتی ہے تو اس کا عام رد عمل یہ ہوتا ہے کہ  یہ گمراہی، بدعت، شرک، گستاخی، کفر، ارتداد اور نجانے کیا کیا ہونے کے فتوے لگا دیتا ہے۔ بعض حضرات فوری طور پر اس میں اغیار کی کوئی سازش تلاش کرتے ہیں اور بغیر کسی تحقیق کے فریق مخالف کو دشمن کا ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہی دلیل کافی ہوتی ہے کہ فلاں نے ہم سے اختلاف کر کے دین میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ فریق مخالف کی جانب سے ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ رکھنے کے بعد پھر دلائل کا تبادلہ کرنے اور مسئلے کو حل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔
درست طرز عمل یہ ہے کہ جذباتیت کو ایک جانب رکھ کر عقل سے سوچا جائے۔ دوسروں کی تردید کو زندگی کا مقصد بنانے کی بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ باہمی رابطہ کے لئے پل تعمیر کیے جائیں۔ سوچوں کا تبادلہ کیا جائے اور یہ سب مثبت اور ہمدردانہ رویے کے ساتھ ہو نہ کہ نظریہ سازش کے تحت۔
ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہو گاکہ ہر اختلاف برا نہیں ہوتا۔ اختلاف رائے بھی انسان کی شکل و صورت کے اختلاف کی طرح ہے جس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر دوسرا شخص ہم سے مختلف زاویہ نظر رکھتا ہے تو یہ برائی نہیں بلکہ ہمارے لئے ایک موقع ہے کہ اس کی روشنی میں ہم اپنی سوچ پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں ،اور اس سوچ سے اگر ہماری غلطی واضح ہو جائے تو ہم اپنی غلطی کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ یہی جذبہ اگر دوسری جانب ہو تو  وہ بھی اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔  جیسے آئن اسٹائن اگر نیوٹن سے اختلاف نہ کرتا تو طبیعات کے میدان میں جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ کبھی نہ ہوتیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی نہیں بلکہ دوسرے  کی اصلاح کرنا ہے۔ یہیں سے اصلاح کی بجائے فساد کا آغاز ہوتا ہے جو فرقہ واریت کی صورت میں امت کے وجود کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے۔
جو لوگ تلاش حق کی اس راہ کے مسافر بننا چاہیں۔۔۔۔ اور میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ کم نہیں ہیں- فرق اتنا ہے کہ ان کو تحقیق کرنے کا غیر جانبدارانہ اور آزادانہ پلیٹ فارم مہیا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ پوری زندگی اپنا قبلہ درست نہیں کر پاتے- اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے سنجیدہ قارئین کی خدمت کے لئے یہ سلسلہ کا ارادہ کیا۔اس سلسلہ کو ہم نے "اسلام اور خانقاہی نظام" سے پہلے ابتدا کا سوچا تها لیکن بعض قارئین کی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلسلہ کو ہم نے دوسرے نمبر پر رکھا ہے- اور راہ حق کی تلاش میں یہ سلسلہ قارئین کیلئے ممد و عاون ثابت ہو گا-ان شاء اللہ-
جاری ہے.....
اس گروپ میں غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے گا

مسلمانوں کے مذہبی مسالک,1


"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"

           بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اس پروگرام کا مقصد کیا ہے اور یہ کس کے لیے ہے؟
اس سلسلہ کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف گروہوں(فرقوں) اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کا ایک غیر جانبدارانہ (Impartial)مطالعہ کیا جائے اور ان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ بھی لیا جائے۔
اس پروگرام میں ہم نے  یہ کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو، جیسا کہ وہیں ہیں، بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دیے جائیں۔ ہم نے کسی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے کہ کون سا نقطہ نظر درست اور کون سا غلط ہے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔
یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو وسیع النظر ہوں-
مثبت انداز میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہتے ہوں-
منفی اور تردیدی ذہنیت کی رو سے مطالعہ نہ کرتے ہوں-
دلیل کی بنیاد پر نظریات بناتے ہوں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر-
اپنے سے مختلف نظریہ کو کھلے ذہن پڑھ سکتے ہوں اور اس میں کوئی تنگی اپنے سینے میں محسوس نہ کرتے ہوں-
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ  آپ میں یہ خصوصیات موجود ہیں، تو آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو، آپ اس پروگرام میں شامل سلسلہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ خصوصیات آپ میں موجود نہیں ہیں، تو پھر یہ سلسلہ ہائے کتب آپ کے لیے نہیں ہے۔
تعارف:
ایک جدید ذہن جب دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اسے اپنے سامنے  دین کے نام پر ڈھیروں اختلافات نظر آتے ہیں۔ اس موقع پر وہ اس کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے اور کون سا غلط اور میں کس کی بات مانوں اور کسے غلط قرار دوں؟ ہر فرقہ و مسلک اپنے نقطہ نظر کی تائید میں قرآن و سنت سے ہی دلائل پیش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص دین کی طرف مائل ہوا ہے، اسے جس فرقہ و مسلک کے لوگوں سے پہلے واسطہ پڑ جائے، وہ اسی مسلک کے دلائل کو پڑھتا ہے اور پھر اسے اپنا لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انہی دلائل کی روشنی میں دوسروں کو دیکھتا ہے۔اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ  خوش قسمتی سے تم درست جگہ آ گئے ہو، اب کسی اور جانب مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔اگر تمہیں دوسرے مسلک کا مطالعہ کرنا بھی ہے تو اپنے ہی علماء کی کتابوں کے ذریعے کرو جو اس فرقے کے رد میں لکھی گئی ہیں۔ اس طریقے سے وہ شخص تعصب اور تحزب کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اگر سبز شیشوں والی عینک پہن لے تو پھر اسے ہر چیز سبزی مائل نظر آئے گی، اگر شیشوں کا رنگ گلابی ہو تو ہر چیز اسی طرح نظر آئے گی اور اگر شیشوں کے اندر کچھ مسئلہ ہو تو پھر ہر چیز ٹیڑھی میڑھی نظر آئے گی۔ چنانچہ وہ شخص دوسرے فرقوں کو اپنے فرقے کی عینک سے دیکھتا ہے اور جیسا اس کے اپنے فرقے کے راہنما دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں، وہ انہیں ویسا ہی دیکھتا ہے۔ اپنے ذہن کو استعمال کرنے کی بجائے وہ دوسروں کے ذہن سے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اب سے پندرہ برس پہلے مجھ میں یہ شوق پیدا ہوا کہ حق کی تلاش کی جائے۔ اس ربع صدی میں میں نے میں مسلمانوں کے مختلف مسالک اور فرقوں کے نہ صرف لٹریچر کا تقابلی مطالعہ کیا بلکہ ان کے اجتماعات میں شرکت کی، ان کے لوگوں سے ملا، ان کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کی، ان کے دلائل کا جائزہ لیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہر مسلک اور فرقے کے لوگ دوسروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ ان کے دلائل کو کیسے دیکھتے ہیں؟
اس مطالعے کے دوران مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہمارے ہاں ایسا لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے جس میں مسلمانوں کے تمام قابل ذکر مسالک اور فرقوں کے ان مسائل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا ہو جن میں وہ اتفاق یا اختلاف رکھتے ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ "ہم" اور "اُن" کو ذہن میں رکھتے ہوئے کتاب لکھی جاتی ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ قاری "ان" کے گروہ سے باہر نکل آئے اور "ہم" میں شامل ہو جائے ۔ یہ مقصد شاید ہی کبھی حاصل ہوتا ہو کیونکہ دوسری جانب بھی ذہنیت "ہم" اور "ان" کے خانوں میں بٹی ہوتی ہے۔ دوسرے مسلک کے لوگ بھی بس اپنی کتابیں ہی پڑھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کسی اور کی کتابیں دیکھتا بھی ہے تو صرف تردید کے نقطہ نظر سے، حق کی تلاش کسی کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ پہلے سے یہ بات طے کر لی جاتی ہے کہ "ہم" حق پر ہیں اور "وہ" غلط ہیں اور باطل کے علمبردار ہیں۔ اس کے بعد جو تقریر وتحریر ہوتی ہے، اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ "اپنے" مسلک کی ہر ممکن طریقے سے تائید کی جائے اور "ان" کے مسلک کی تردید۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر انسان اپنے اپنے مذہب، فرقے، مسلک اور مکتب فکر کے راہنماؤں کا فکری غلام بن کر رہ جاتا ہے۔
جاری ہے.......
نوٹ:ہم اس سلسلہ کا مطالعہ غیر جانبداری انداز میں کریں گے........

Friday, 25 March 2016

اسلام اور خانقاہی نظام,110

"اسلام اور خانقاہی نظام"
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر 110)
تم سب پیچھے ہٹ جاؤ،بابا جانے اور وہابی جانیں-:
اہلحدیث:ذوالفقار علی بٹ کی میڈیا سے گفتگو:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے سلام کے بعد کہ ہمارا جس طرح بھائی غلام مصطفیٰ نے بیان کیا ہے ،بالکل اسی طرح معاہدہ ہوا ہے ،یہ زبانی کلامی نہیں ہوا بلکہ اشٹام لکھا گیا ہے،اور ہم الحمد للہ اپنی زبان پر قائم ہیں،باجوہ صاحب بھی ان شاء اللہ اپنی زبان پر قائم ہیں،ہمارے پاس بھائی اقبال صاحب مصطفیٰ باجوہ صاحب یہ روالپنڈی سے تشریف لائے ہیں ،صبح جب انہوں نے بتایا کہ ہمارا اس موضوع پر مباہلہ ہے ہم نے ان سے کہا کہ ہم ان شاء اللہ آپ کے ساتھ ہیں،یہ ہمارے مسلک کے ہیں،ہم نے ان سے کہا کہ بالکل اسی طرح ہی ہے بابے ،ولی اللہ جب زندہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو کرامات دیتا ہے،ان سے دعائیں کرائی جاتی ہیں،سچے اولیاء اللہ سے دعاؤں کے ہم بھی قائل ہیں ِولیوں کو ہم بھی مانتے ہیں،جو ولیوں کو نہیں مانتے ہم بھی ان کو مسلمان نہیں مانتے ،لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ ولی فوت ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں کر سکتے ،ہم یہ بھی کہتے ہیں:یہ مکھی بھی اپنی قبر سے نہیں اڑا سکتے ، اللہ تعالیٰ کہتا ہے:کہ یہ جو مکھی ان سے کھانا لے جاتی ہے اڑا کے یہ تو وہ بھی واپس نہیں کر سکتے،یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے جن کی تم پوجا پاٹ کرتے ہو،یہ بھی میرے پیدا کیے ہوئے ہیں،انہوں نے کوئی چیز نہیں بنائی ۔ہمارا ان شاء اللہ پُر امن یہ صرف اصلاحی مباہلہ ہے،یا ہم بریلوی ہو جائیں گے یا یہ اہلحدیث ہو جائیں گے ،جوبھائی بابوں کو ماننے کا مسلک رکھتا ہے ،اس کو بابے کا واسطہ وہ پل پر چلا جائے ۔جن بھائیوں کی ہم ڈیوٹی لگائیں گے وہ درخت کاٹیں گے ،ان شاء اللہ تعالیٰ فیصلہ حق اور سچ کا ہو گا،ان شاء اللہ یہ ٹاہلی کا درخت سب کے سامنے کاٹا جائے گا ،ہمارا یہ کام برائے اصلاح ہے،حق کی تلاش ہے،میں شکریہ ادا کرتا ہوں جو بھائی یہاں تشریف لائے ہیں،آپ نے دور ہٹ کر نظارہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا ساتھ دیتا ہے یا کوئی بابا ہمیں نقصان پہنچاتا ہے،اس کے بعد اہل حدیث حضرات نے آرے اور کلہاڑے لے کر درخت کو کاٹنا شروع کردیا ،اور آیت :جَاءَ الحَقُّ وَزَھَقَ البَاطِلُ اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ،سب سے پہلے کلہاڑا بھائی حبیب اللہ نے درخت پر مارا،اور مولانا محمد اسحاق خطیب جامع مسجد اہلحدیث باغ والی سانگلہ ہل کلہاڑے سے وار کیا ، اس کے بعد جن بھائیوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی سب نے مل کر آرے چلانے شروع کر دے اور درخت (شیشم)کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور ٹرالی پر لادنا شروع کر دیا،جب درخت ٹرالی پر لاد چکے تو دوبارہ انٹرویو اس طرح شروع ہوا۔
اہلحدیث:الحمد للہ ثم الحمد للہ ،اللہ تعالیٰ نے حق ،مسلک حق اہل حدیث کو فتح دی ہے،جو ہماری بات ہوئی تھی ،اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے یہ درخت کا ٹ دیا ہے،اور ماسٹر غلام مصطفیٰ باجوہ صاحب ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی ہیں،میں امید کرتا ہوں جو انہوں نے ہم سے زبان کی ہے ،یہ ساری دنیا کے سامنے مسلک حق کا اعلان کریں گے ،اور میں باجوہ صاحب اپنے بھائی سے کہوں گا کہ اپنے کمنٹ دیں!
بریلوی: درخت لے جانے کی میں نے ان کو بات کہی ہے ،یہ اپنا پورادرخت لے جائیں،ٹھیک ہے جی انہوں نے ٹہنیاں کاٹ کر لا د لی ہیں،باقی درخت بھی یہ کاٹیں ،آج نہیں کاٹ سکتے بے شک کل آکے کاٹ لیں،
اہلحدیث:نہیں !نہیں!ہم آج ہی ان شاء اللہ کاٹ کے لے کر جائیں گے،بریلوی:آج ہی کاٹ کر لے جاؤ ،آپ کاٹ رہے ہو اس میں کوئی شک نہیں،میں نے ان سے یہ بات کہی ہے کہ آپ درخت کاٹ لو ،درخت بھی آپ کا ،لاکھ روپیہ میں انعام بھی دوں گا،جو میں نے بات کی ہے،پنجاب ٹی وی کا نمائندہ کہتا ہے اور دوسری بات اہل حدیث ہونے والی...؟
اہلحدیث :اہلحدیث بھائی ٹی وی ٹیم سے مخاطب ہوتے ہوئے:جناب انہوں نے اہلحدیث ہونے والی بات مسجد میں کہی ہے،بریلوی :میں نے اہل حدیث ہونے والی کوئی بات نہیں کی ،لیکن میں نے اپنا مسلک تبدیل نہیں کرنا ،جناب عالی !میں نے مسلک تبدیل نہیں کرنا۔
اہلحدیث:میں باجوہ صاحب کو یاد کرانا چاہتا ہوں،باجوہ صاحب نے کام شروع کرنے سے پہلے انٹرویودیا تھا اور انہوں نے واضح طور پر کہا تھا ،اگر یہ درخت کاٹ لیں،لے جائیں ،درخت بھی ان کا ،لاکھ روپیہ بھی ان کا اور میں مسلک اہلحدیث بھی قبول کروں گا،
بریلوی :انٹرویو میں میں نے یہ کوئی بات نہیں کہی،
اہلحدیث:ہم نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر ہم درخت کاٹ کر نہ لے جاسکے تو ہم بریلویت اختیارکر لیں گے،اگرباجوہ بھائی کو اب یہ بات بھول گئی ہے یہ اس سے منحرف ہونا چاہتے ہیں،تو یہ میڈیا on The Recordبات ہے،کوئی پردے والی بات نہیں۔
(نوٹ:ہم نے یہ تمام گفتگو بغیر ردو بدل کے قارئین کے سامنے پیش کی ہے ،آپ اس واقعہ کی مکمل ویڈیو ،یو ٹیوب پراس لنک پر بھی دیکھ سکتے ہیں https://youtu.be/XzNd3IZcvo4 )اس کے بعد درخت کے ٹکڑے باغوالی مسجد کے سامنے کھلے صحن میں لا کر رکھے گئے،لوگ آکر ان ٹکڑوں کو دیکھتے اور تبصرے کرتے ،دوسرے دن باغوالی مسجد میں جلسہ رکھا گیا ،جس میں اسلام آباد سے سید طیب الرحمٰن زیدی نے شرک کے رد میں زبردست تقریر کی،دوسرے دن غلام مصطفیٰ باجوہ سے لاکھ روپیہ انعام کیلئے رابطہ کیا تو اس نے 24فروری جمعرات کو آنے کا کہا!جب ذوالفقار بٹ ابو دجانہ اور شیخ اقبال ان کے علاوہ چار ساتھی اور باجوہ کے پاس گئے اور لاکھ روپیہ وصول کر لیا،برصغیر کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے،جو ریکارڈ ہوا ہے جس کی ویڈیو بنی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے لوگوں کے اندر جو وہم پیدا ہو چکا تھا کہ بزرگ مرنے کے بعد دنیا میں کسی کو نفع ونقصان دے سکتے ہیں،اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد لوگ اس حقیقت کو جان لیں گے کہ مرنے کے بعد یہ بزرگ ،بابے ،پیر کچھ بھی نہیں کر سکتے بلکہ ان کو خود دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے،قبر والے بزرگ کو' سلام' کرتے ہو،جس کا مطلب ہے کہ اے بزرگ تجھ پر سلامتی ہو اللہ تجھے ہرقسم کے عذاب وپریشانی سے محفوظ رکھے،پھر بھی ان بزرگوں کی قبروں پر جا کر اپنی سلامتی کیلئے دعاؤں کی اپیل کرتے ہو ،جن کی قبروں کو اپنے دیے ہوئے چندے سے زیب و زینت سے مزین کرتے ہو ،پھر بھی ان سے دست سوال دراز کرتے ہو،،،شیطان کی یہی چال ہے کہ وہ انسان سے ایسا گناہ کروائے جس سے یہ ابدی جہنمی بنے،پہلے تو وہ گناہ کرواتا ہے،پھر گنہگار کو اللہ سے بد دل کرتا ہے اور حاجات کو بر لانے کیلئے غیر اللہ کے اڈے دکھا کر شرک کرواتا ہے،تو انسان مٹی ،شجر،حجر،قبر،انسان،نباتات،جمادات وغیرہ کو نفع بخش ماننا شروع کر دیتا ہے،اور قبر پر اُگے ہوئے درخت کو مشکل کشا ،حاجت روا خیال کر کے اس کی پوجا شروع کر دیتا ہے،اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والے کو ہر قسم کے نقصان کامستحق سمجھتا ہے،یعنی یہ خیال کرتا ہے کہ جس نے درخت کو کاٹنے کی کوشش کی یہ درخت اسے اذیت ناک سزا دے گا،اوردرخت کے بزرگ اس کا انجام عبرت ناک بنا دیں گے، یہی خیال رکھنے والوں نے پہاڑی پور میں اہل توحید کو چیلنج کیا ،جسے اہل توحید نے قبول کرتے ہوئے دنیا والوں کو بتا دیا کہ یہ درخت اور ٹہنیاں یہ بابے اور مزار نفع ونقصان کی تاثیر نہیں رکھتے ،بلکہ ہر قسم کے نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے،
(انتباہ:جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے انھوں نے شرک کے اڈے، آستانے اور معبود باطلہ کا رد کیا ،جس کی مختصر تفصیل آنے والی اقساط میں نشر ہو گی،ان شاء اللہ)جاری ہے....
www.ficpk.blogspot.com
تعاون:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

اسلام اور خانقاہی نظام,109

'اسلام اور خانقاہی نظام'
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر109)
تم سب پیچھے ہٹ جاؤ،بابا جانے اور وہابی جانیں:
تم سب پیچھے ہٹ جاؤ،بابا جانے اور وہابی جانیں:پہاڑی پوڑ تحصیل چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں ٹاہلی کاٹنے کا واقعہ:
اسلام آباد میں ایک علاقہ غوری ٹاون ہے ،وہاں ایک اہلحدیث محمد اکرم رہتے ہیں ،اسی علاقے میں گورنمنٹ ایف جی ماڈل سکول کا ایک ٹیچر ہے جس کا نام غلام مصطفیٰ باجوہ ہے،یہ غلام مصطفیٰ باجوہ کٹر قسم کا حنفی بریلوی ہے اور مرنے کے بعد بزرگوں سے نفع اور نقصان کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس عقیدے کی تبلیغ بھی کرتا ہے،ماسٹر غلام مصطفیٰ باجوہ کی اکرم بھائی کے ساتھ اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی،جس میں محمد اکرم بھائی ماسٹر باجوہ کو قرآن وحدیث سے دلائل دیتے رہتے تھے،جب وہ دلائل میں لا جواب ہو جاتا تھا تو وہ کہتا تھا کہ میرے پیر صاحب نے محکمہ نہر والوں کو درخت اٹھانے نہیں دیا اگر آپ کے دلائل درست ہیں تو پریکٹیکل کر کے دیکھ لیتے ہیں ،اگر تم وہ درخت اٹھا لو تو تم سچے اور اگر درخت نہ اٹھا سکو تو میں سچا اور میرے بزرگ سچے ،اگر تم وہ درخت اٹھا لو تو میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ انعام بھی دوں گا اور اہلحدیث عقیدہ بھی قبول کروں گا ،لیکن محمد اکرم بھائی کہتے ہیں کہ جب آپ کا قرآن وحدیث پر ایمان نہیں تو آپ درخت اٹھانے کے بعد بھی نہیں مانیں گے،کیونکہ اصل عقیدہ تو قرآن و حدیث پر ہونا چاہیے اور درخت والی بات کو ٹال دیتے ،جبکہ ماسٹر غلام مصطفیٰ درخت کے حوالے سے چڑھائی کر دیتا کہ میدان میں آؤ ،بھاگتے کیوں ہو ،لیکن بھائی محمد اکرم کے ایک بیٹے ہیں جن کا نام محمد عمر ہے اور وہ 9thکلاس میں پڑھتے ہیں،جو کہ غوری ٹاؤن میں ایک دودھ دہی کی دوکان پر دودھ پینے آتے تھے تو ماسٹر غلام مصطفیٰ اس سے کہتا ہے کہ تمہارا باپ بھاگ گیا ہے،10فروری بروز جمعرات کو اسی دودھ والی دوکان پر ماسٹر غلام مصطفیٰ، بھائی محمد اکرم کے بیٹے محمد عمر کے ساتھ اس طرح درخت کے بارے میں چیلنج کر رہا تھااور لاکھ روپیہ انعام کا اعلان کر رہا تھا کہ ایک اہلحدیث بھائی شیخ محمد اقبال بھی دودھ لینے آ گئے ،جب شیخ محمد اقبال نے ماسٹر غلام مصطفیٰ کو چیلنج کرتے سنا تو شیخ اقبال نے ماسٹر کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہارا چیلنج اسی وقت قبول کرتا ہوں،چلو سانگلہ ہل اور درخت دکھاؤ ،ہم درخت کاٹنے اور اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔رات 10بجے شیخ اور ماسٹر گاڑی پر سانگلہ ہل جانے کے لئے بیٹھ گئے اور صبح 5بجے سانگلہ ہل باغوالی مسجد میں پہنچ گئے ،وہاں ذوالفقار علی بٹ اور حبیب اللہ بھائی اور دیگر بھائیوں سے ملاقات کی ،مسجد کی انتظامیہ تیار ہو گئی،چنانچہ طے ہوا کہ ساری باتیں اشٹام پر لکھی جائیں گی ،مکمل ایگریمنٹ مابین فریقین ،اور ٹاہلی کٹ گئی ،مؤلف:محمد طیب محمدی کی کتاب صفحہ نمبر8 تا9پر ملاحظہ کر سکتے ہیں،الغرض یہ طے پایاکہ اگر فریق دوئم شیشم کا درخت اٹھانے میں کامیاب ہو گا تو فریق اول مسلک حق اہلحدیث میں شمولیت کا اعلان کر ے گا ،اور ایک لاکھ روپے بطور انعام دے گا۔اور اگر فریقین دوئم شیشم (ٹاھلی )کا درخت اٹھانے میں ناکام رہا تو فریق دوئم مسلک حق بریلوی اہل سنت میں شمولیت کا اعلان کر ے گا ،جب اشٹام لکھا جا چکا تو ماسٹر غلام مصطفیٰ باجوہ نے اشٹام کی نقلیں کرا کے بریلویوں کی تمام مساجد میں تقسیم کیں،تاکہ وقوعہ پر سینکڑوں لوگ جمع ہو جائیں،ماسٹر کو پیر باباواحد سرکار پر اتنا یقین تھا کہ اس نے مطالبہ کیا کہ میڈیا کو بھی بلایاجائے،اسی وجہ سے پنجابt.v.کی میڈیا ٹیم موقع پر پہنچی ،جب پولیس کو پتہ چلا تو پولیس نے مداخلت کی کوشش کی لیکن ماسٹر غلام مصطفیٰ نے پولیس کو مطمئن کر دیا کہ یہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہو گا ،میں اس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں،چنانچہ ماسٹر صاحب پنجاب ٹی وی کے نمائندے ندیم اختر بٹ کو اس طرح انٹرویو دینا شروع کیا،(جس کی مکمل ویڈیوآپ یوٹیوب پر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں https://youtu.be/XzNd3IZcvo4  )
جنابِ والا! عرض یہ ہے کہ مسلک کی ،مذہب کی بد عقیدگی کا عروج ہے،دنیا کو اس کا توڑ دکھانے کیلئے میرے بزرگ بابا جی واحد سرکار ؒ ،ان کو تقریباً45سال ہو گئے ہیں دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے،آندھی آئی یہ شیشم کا درخت جو بابا جی نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا گر گیا،اسے گرے ہوئے 35سال ہو گئے ہیں ،یہ درخت جناب والا محکمہ نہر کی ملکیت ہے ،محکمہ نہر والوں نے اس ٹاھلی کے درخت کو اٹھانے کی کوشش کی ،مگر اٹھایا نہیں گیا،نہر پکی بن رہی تھی انہوں اسے ہٹانے کی بھی کوشش کی لیکن ہٹا بھی نہیں سکے،کیونکہ بابا جی اس درخت کو ہٹانے نہیں دیتے۔میں نے چیلنج کیا ہے ،ایک لاکھ روپیہ انعام دوں گا ،جو بندہ اس درخت کو اٹھا لے جائے ،اس بندے کو کسی قسم کی کوئی مشکل دنیا کی طرف سے نہیں ہو گی،بابا جی واحد سرکار کا میں ذمہ دار نہیں،وہ جو بھی نقصان پہنچائے وہ ان کا اپنا مشن ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،البتہ یہاں جتنے بھی میرے بہن بھائی اکھٹے ہوئے ہیں ،یہاں ان شاء اللہ ان کو کسی قسم کا ان کے راستے میں خلل پیدا نہیں ہونے دیں گے،یہ اپنا درخت اٹھالے جانے میں کامیاب ہو جائیں ،میں ان کو لاکھ روپیہ بھی دوں گا اور اہل حدیث بھی ہو جاؤں گا ،ٹھیک ہے جناب!اگر یہ درخت اٹھانے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ سارے اہل حدیث بریلوی مسلک اختیار کر لیں گے،یہ لڑائی ہماری کسی قسم کی نہیں ،بلکہ حق کو تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے،اہل حدیثوں نے بھی یہ قبول کیا ہے کہ جو یہ ولی ہیں وہ زندگی میں ہیں ،زندگی کے بعد کچھ بھی نہیں کر سکتے ،لیکن میرا سو فیصد یقین ہے بابا واحد سرکار اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ کامیابی مجھے دے گا،بابا جی میرے اس جذبے کی لاج رکھتے ہوئے اس مشن کو قائم و دائم رکھے گا، جس طرح انہوں نے پہلے اس ٹاھلی کو ہلنے نہیں دیا یہ آپ کے سامنے یہاں نہر نکلنی تھی،محکمہ نہر کی کرینیں یہاں بے بس ہو گئی ہیں،انہوں نے پیچھے سے بھی نہر نکالی اور آگے سے بھی نکالی گئی ،آپ کے احاطے میں جہاں ہم کھڑے ہیں یہاں نہر نکالی جانی تھی ،لیکن بابا جی نے نہر نہیں نکالنے دی،اگلی بات یہ ہے کہ پورا دن ایک سانپ بابا جی کے گلے کے اوپر اپنا سر رکھ کر بابا جی کے روضے مبارک کے اوپر سارا دن جسم رکھ کر بیٹھا رہا،جس طرح دنیا آج اکھٹی ہوئی ہے اسی طرح اس دن دنیا اکھٹی ہوئی تھی ،جو کوئی پیسے ڈالتا تھا سانپ اپنا سر دوسری طرف کر لیتا تھا ،جب پیسے ڈال لیتا تھا سانپ پھر اپنا سر گلے کے اوپر رکھ لیتا تھا،میری سارے بھائیوں سے التجاء ہے کہ آرام سے اس پل پہ چلے جاؤ!ان بھائیوں کو جگہ دیں،یہ بھائی اپنا جناب والا درخت کاٹیں ،بابا جی جانے اور یہ جانیں ،کوئی بندہ نعرہ بازی نہیں کرے گا،آپ سب میرے مہمان ہیں،
(اہلحدیث بھائی کی گفتگو اگلی قسط میں پڑھیں۔جاری ہے....)
www.ficpk.blogspot.com

اسلام اور خانقاہی نظام,108

'اسلام اور خانقاہی نظام'
(گزشتہ سے منسلک قسط نمبر108)
یہاں میں ایک اپنی آپ بیتی ضرور بتانا چاہونگا کہ آج سے کافی عرصہ پہلے جب میری عمر بمشکل9-10 سال ہو گی ہمارے محلے میں ایک دو گھروں میں ٹی وی ہوا کرتا تھا میں بھی ان کے گھر اتوار کے دن انڈین فلم دیکھنے جاتا تھا اُس دن جو فلم دیکھی اس میں ہندو ہیرو  نے ہیرؤئین کو ایک میلے میں دیکھا بالکل ایسا ہی میلہ تھا جیسا ہمارے پاکستان میں درباروں پر میلہ لگتا ہے ایسے ہی گانے چل رہے تھے، عورتیں، مرد ڈانس کر رہے تھے، جوئے کے اڈوں پر جوا لگ رہا تھا سرکس اور موت کے کنوے چل رہے تهے وغیرہ وغیرہ جب فلم ختم ہوئی اور میں واپس گھر کی طرف جا رہا تھا تو راستے میں ہی میرے دل کو ایک بات پریشان کیئے جارہی تھی کہ اگر ہندؤ لوگ بھی میلے لگاتے ہیں جیسے ہم لوگ لگاتے ہیں تو ہم میں اور ہندؤوں میں کون صحیح ہے؟؟؟یعنی یا تو ہم اپنے دین کے خلاف کام کر رہے ہیں اور یا پھر ہندو اپنے مذہب کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اور یہاں ایک بات اور بھی بتا دوں کہ میں ۱۵ سال تک میلوں میں شرکت کرتا رہا ہوں اس کے بعد اللہ نے ہدایت عطاء فرمائی الحمدللہ۔اور جب بڑا ہوا تو اس معاملے میں تحقیق کی تو الحمدللہ، اللہ نے حق بات کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ یہ عرس و میلے اسلام میں بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ یہ اصل میں کفار ہندؤوں کی دیکھا دیکھی بعض جاہل قسم کے لوگوں نے اسلام میں داخل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے صرف اپنے پیٹ کی دوزخ بھرنے کے لئے۔ اللہ ان کو بھی ہدایت دے کہ وہ اصل دین قرآن و سنت کی طرف آ جائیں آمین۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ میلہ وغیرہ کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟نبی ﷺ کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں اورمیری قبر کو عید "خوشی کا دن" جمع ہونے کا دن"مت بنانا بلکہ مجھ پر درود بھیجنا تم جہاں بھی ہو گے وہیں سے تمھارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔سنن ابودائود:جلد۲:حدیث نمبر۲۰۲۴​اس میں نبیﷺ کا واضح ارشاد مبارک ہے کہ میری قبر کو میلہ گاہ یعنی جمع ہونے والی جگہ نہ بنانا، اگر ایسا عمل نبیوں کے امام محمدﷺ کی قبر مبارک پر منع فرما دیا گیا ہے تو کسی غیر نبی کی قبر پر تو کسی قیمت پر جائز نہیں ہوسکتا ہے مگر ہمارے ہاں بہت سے لوگ اس ممنوع عمل کو بڑی باقاعدگی سے بجا لاتے ہیں اور نام بھی اس کو اسلام کا دیتے ہیں مگر وہ اس پر کوئی ایک بھی قرآن و صحیح حدیث سے دلیل نہیں دے سکتے ہیں، میلہ کے متعلق ایک اور حدیث بھی ہے کہ
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرے گا۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میں نے بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا بوانہ میں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی وہاں پوجا کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں پھر آپﷺ نے پوچھا کیا وہاں کفار کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کیا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تو اپنی نذر پوری کر کیونکہ گناہ میں نذر کا پورا کرنا جائز نہیں ہے اور اس چیز میں نذر لازم نہیں آتی جس میں انسان کا کوئی اختیار نہ ہو۔سنن ابودائود:جلد۲:موضوع کتاب:قسم کھانے اور نذر (منت ) ماننے کا بیان: اس کا بیان کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے اس حدیث شریف سے واضح ہوا کہ یہ میلہ لگانا کفار اور مشرکین کا عمل ہے اور دوسرا ایک اور بات بھی معلوم ہوئی کہ کسی ایسی جگہ جہاں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہو وہاں اللہ کی عبادت کرنا بھی منع ہے کیونکہ نبیﷺ نے اس کو واضح ارشاد فرما کر پوچھا کہ کبھی وہاں کسی بت کی پوجا پاٹ تو نہیں ہوتی تھی؟جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب نفی میں دیا تو آپﷺ نے نذر پوری کرنے کی اجازت مرہمت فرمائی اور اگر جواب اثبات میں ملتا تو یقیناً آپﷺ نے نذر پوری کرنے کی اجازت نہیں دینی تھی کیونکہ کوئی یہ غلط فہمی سے سمجھ سکتا تھا کہ دیکھو جی فلاں بت کی یاد تازہ کی جارہی ہے۔اب ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں جس میں قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے (یعنی دوبارہ تندرست نہیں ہوئے) اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر آپ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر مبارک کو ظاہر کر دیتے سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔صحیح مسلم:جلد۱:باب:قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان.
ہمارے پیارے نبی محمدﷺ کا رُتبہ تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ بلند و بالا ہے امتیوں کی تو بات ہی نہ کی جائے مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے معاشرے میں قبروں پر سجدے  رکوع کیئے جا رہے ہیں  اور کوئی بھی ان کو روکنے والا نہیں ہے اگر ان کو روکا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تعظیمی سجدہ کرتے ہیں اور جب کہ اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی حرام ہے اس پر حدیث پیش کرتا ہوں۔
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حیرہ میں آیا (حیرہ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہاں کے لوگ اپنے سردار کو (تعظیم کے طور پر) سجدہ کرتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ ان کے مقابلہ میں تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (تعظیماً) سجدہ کیا جائے۔ پھر جب میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے کہا۔ میں حیران رہ گیا تھا اور میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکے مقابلہ میں اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا بھلا کیا تو جب میری قبر پر آئے گا تو سجدہ کرے گا؟ میں نے کہا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ (تو پھر زندگی میں بھی کسی کو سجدہ نہ کرو) (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا) اگر میں کسی کے لیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالی نے ان پر مقرر کیا ہے۔سنن ابودائود:جلد:۲:موضوع کتاب:نکاح کابیان،
عورت پر شوہر کا حق کیا ہےاس حدیث سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں ان میں سے دو یہ ہیں کہ ایک تو کسی کو بھی تعظیمی سجدہ نہیں کیا جاسکتا یہ قطعی حرام ہے اور دوسرا کسی قبر پر بھی سجدہ نہیں کیا جاسکتا بے شک وہ قبر نبیﷺ کی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس سے ہمیں نبیﷺ نے منع کیا ہے اگر ہم واقعی اللہ اور نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اللہ اور نبیﷺ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے اور جو ایسا کرے گا اس کا انجام اللہ کی ناراضگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالٰی سننے والا، جاننے والا ہے۔الحجرات:۱
اللہ اور رسولﷺ سے آگے بڑھنا یہی ہے کہ ان کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور اپنی من مانی کی جائے یا کسی غیر نبی کی بات کو اللہ اور نبیﷺ کی بات کے مقابلے پر قبول کیا جائے۔اللہ ہمیں صرف قرآن و سنت کی ہی پیروی کرنے کی توفیق دے آمین۔
جو کچھ خرافات شرک و بدعت میلوں میں سرانجام دی جاتی ہیں جو کہ مکمل طور پر قرآن و سنت کے خلاف امور ہیں اگر میں ان خرافات پر تفصیل سے بات لکھنے بیٹھ جاؤں تو مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اس لیے مختصر بات کر رہا ہوں۔اگر کسی بھائی ، بہن کو ان خرافات کے خلاف دلائل چاہیے ہوں تو وہ  مجھ سے میری اس ای میل پر رابطہ کرکے منگوا سکتا ہے۔ (fatimapk92@gmail.com) اور بعض لو گ کہتے ہیں کہ ہم وہاں ان گناہ والے کاموں کے لئے نہیں جاتے بلکہ ہم تو فاتحہ خوانی کے لیئے جاتے ہیں،اس کا حل یہ ہے کہ اگر فاتحہ خوانی ہی کرنی ہے تو میلہ کے دن سے پہلے یا بعد میں بھی جاکر کی جاسکتی ہے لازمی اس دن جاکر ایک برُائی کے کام کی رونق بڑھانی ہے اگراس وقت اللہ کا عذاب نازل ہوجائے تو وہ بھی انہی میں شمار نہیں ہوگا کیا؟اب ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکینِ مکہ کی عبادت کیسی ہوا کرتی تھی۔
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً ۭ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ
اور خود ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے، اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی، سو اب چکھو تم لوگ عذاب اپنے اس کفر کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے،(الانفال:۳۵)
اس آیت مبارکہ میں تالیاں بجاناں اور سیٹیاں مارنا عبادت بتایا گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے آجکل لوگ قوالی کو ثواب کا کام سمجھ کر سنتے ہیں اور میلوں میں ایسے ایسے بیہودہ کام کیئے جاتے ہیں کہ ایسے کام مشرکینِ مکہ نے بھی نہیں کیئے ہوں گے اس لیے بھائیو اور بہنوں اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ایسی سبھی رسومات و رواجوں کا بائیکاٹ کریں اور لوگوں کو بھی ان برُی رسومات سے روک کر اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ جزاکم اللہ خیرا
جاری ہے.....
www.ficpk.blogspot.com
تالیف:عمران شہزاد تارڑ'ڈئریکٹرفاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...