Tuesday, 13 March 2018

فقہ اسلامی کے چند اہم اصول

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:5)
(مولف: عمران شہزاد تارڑ ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
فقہ اسلامی کے چند اہم اصولوں کو سامنے رکھ کر اگر استنباط کیا جائے تو "یوگا" کی ممانعت اور عدم ممانعت کی باتیں سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
1۔مبادیات کی تحقیق:-  
یوگا کے مبادیات کی تحقیق کریں تو اس کی دو بنیادی باتیں راست کفر اور ہندو (ویدی یا برہمنی) مذہب سے جا ملتے ہیں۔ اس کا مصدر گیتا کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ دوسرے یہ کہ یوگا پر رشیوں  اور آچاریوں کا مکمل کنٹرول ہے اور بطور عبادت اس کی مشق کی جاتی ہے۔ یوگا کے مبادیات کی تحقیق(تخریج مناط)   Means to derivation of the basis or   pacification of the basic Characteristics سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب یوگا بدھ مت مذھب کی تعلیمات کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔
اسی طرح یوگا کے اشلوکوں میں توحید، رسالت، کتاب ﷲ اور یوم آخرت کا انکار ہے۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ ہے۔ کفار کے ساتھ مشابہت ہے۔ غرض اس تخریج مناط کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یوگا ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
اسی طرح اگر آپ یو ٹیوب میں یوگا پرے(yoga pray)لکھیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں ہندو اور بدھ مت میں "یوگا"ایک باقاعدہ پوجا و پرستش کے طور پر کی جاتی ہے۔
ہم یہاں صرف ایک اقتباس پیش کر کے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔۔
بدھ  مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان(مراقبہ) میں مصرف ہو گئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت و مراقبہ  کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی۔
اس طرح روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کی خاطر ریاضت کا اہم طریقہ "يوگا" ایجاد کیا گیا جس پر ہندو مت، بدھ مت اور جین مت کے پیروکار عمل پیرا ہیں۔( مقدمہ ارتھ شاستر:129)
اجمالي طور پر اگر ديکھا جائے تو بدھ متوں کے نظريات ہندو مت سے مختلف نہيں کيونکہ يہ بھی قانون‘ جزاوسزا اور تناسخ ارواح کے قائل ہيں ۔ بار بار کی پيدائش اور جزاوسزا سے نجات پانے کی خاطر برائی اور بھلائی سے رکنے اورخواہشات پر قابو پانے کی مراقبہ کی کوشش کرتے ہيں
اس مذہب کی بنیاد ’’حصولِ نروان‘‘ ہے
بدھ مت ميں نروان مذہبی زندگی کا مقصود ہے۔ گوتم بدھ زندگی کے مسئلہ کا جو شافی وکافی حل تلاش کر رہا تھا‘وہ اسے درخت کے نيچے مراقبہ کی حالت ميں نروان کی صورت ميں ملا۔نروان ايک ايسی حالت ہے جو عام ذہنی سانچوں سے بالاتر ہو۔
گوتم بدھ کے با قول نروان ہی ميں انسان کو دکھوں سے مکمل چھٹکارا اور ابدی مسرت حاصل ہو سکتی ہے اور وہی انسان کا حقيقی مطلوب ہو سکتا ہے۔
نروان کی حقيقت گوتم بدھ کے اپنے الفاظ ميں
بھکشوؤ(پيروکارو)!ايسي کيفيت موجود ہے جہاں نہ تو خاک ہے نہ پانی‘ نہ آگ ہے نہ ہوا‘نہ لامکانيت ہے‘نہ شعور کی لا محدوديت‘ نہ تو عدم شعور ہے اور نہ شعور‘ نہ تو يہ دنيا ہے اور نہ دوسری دنيا‘ نہ سورج ہے وہاں اور نہ چاند، اور ہاں بھکشوؤ! ميں کہتا ہوں وہاں نہ آنا اور نہ جانا‘ نہ ٹھہرنا ‘نہ گزر جانا اور نہ وہاں پيدا ہونا ہے ۔بغير کسی سہارے‘ کسی حرکت يا کسی بنياد کے ہے۔ بے شک يہی دکھوں کاخاتمہ (نروان)ہے۔‘‘
(دنياکے بڑے مذاہب… عمادالحسن فاروقی)
گوتم بدھ کے اس بيان سے يہی سمجھ ميں آتا ہے کہ ايسی کيفيت کا نام ہے جہاں انسان دنيا سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن ميں کوئی دوسرا نقطۂ نہيں ہوتا۔ سوائے اس کے جو وہ اپنے ذہن ميں لے کر سوچتا ہے۔ اسے حالت ’’استغراق‘‘بھی کہتے ہيں ۔ ہميں زيادہ تفصيل ميں جانے کي ضرورت نہيں ۔ان کا يہ نظريہ جيسے بھی ہو اور جيسی کيفيت بھی ہو‘يہ اسلام کے فطری مزاج کے خلاف ہے۔ اس طريقہ سے خدا کی معرفت حاصل کرنا اور دنيا کے غموں سے نجات حاصل کرنا ۔ کوئی شريعت کا معاملہ نہيں ہے۔ دين اسلام نے ايسی تمام جاہلانہ حرکات وکيفيات کا سختی سے رد فرمايا ہے۔
دين اسلام نے دين کے ساتھ ساتھ دنيا بہتر بنانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی ترغيب بھی دی ہے۔
فرمايا:
رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْآَخِرَۃِ حَسَنَۃً۔(سورۃ البقرہ:201)
’’ا ے اللہ ہميں دنيا اور آخرت ميں بھلائی عطا فرما۔‘‘
مزيد فرمايا:وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَکَ مِنَ الدُّنْيَا۔(سورۃ القصص۔77)
’’اور دنيا سے اپنا حصہ لينا مت بھولو۔‘‘8
2۔ سدباب الذرائع :-
  الف: شریعت ہر دو زاویوں سے مسئلہ کا تجزیہ کرتی ہے ایک اگر کسی امر کے سلسلے میں اس کے سد باب ذرائع  closing of the gate of mean سے کفر و شرک، برائی و منکرات اور لادینیت اور طواغیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے ان ذرائع کے باب الداخلہ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ تا کہ بندہ مومن اللہ کی فرمانبرداری، اطاعت، اور تقویٰ و پرہیزگاری میں کوئی خلل نہ پیدا کرے اور نہ وہ کفر کے قریب پہنچ سکے۔
ب: فتح الباب ذرائع  
  Opening of the gate of means
اگر کسی مسئلہ میں ایسے ذرائع کے ابواب کھول دئیے جائیں۔جن سے توحید، حق، خیر، ثواب،نیکی و تقویٰ کو تقویت ملے اور شرک، شر،برائی کے پیدا ہونے کا کوئی خدشہ باقی نہ رہے اور تمام بند دروازوں کو کھول دینا جس سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر مستفید ہوں اور اپنی ضرورت کے مطابق منفعت حاصل کریں اور کوئی گناہ اور برائی ہونے کا خدشہ نہ ہو تو وہ فتح الباب ذرائع کہلاتا ہے۔جبکہ یوگا کے تمام ذرائع ہندو مذہب کی تعلیمات کفر و شرک سے بھرپور اور عقیدہ اسلامی کے خلاف ہیں اور یوگا کی بنیادی تعلیمات سے راست ٹکراتے ہیں اور ان ذرائع کے ابواب کھولنے سے اسلامی عقائد، ایمانیات اور تہذیب و تمدن پر راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کسی بھی نیکی اور خیر کی آخری امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یوگا کی اجازت سے ہندو مذہبی بنیادی تعلیمات سے راست تعلق یا بالواسطہ تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔؟اگر پیدا ہو بھی رہا ہے تو اس کی مقدار اس کی گہرائی کہاں تک پہنچے گی؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
3۔گناہ وجرم سے مُبرّا ہونا:
ایسے تمام افعال جس کے ظاہر وباطن میں کوئی ممنوع اور خلاف شرع بات نہ ہو اور اس کے کرنے سے کسی گناہ، شر اور منکر کے پیدا ہونے اور پھیلنے کاشبہ نہ ہو، فقہ میں ایسے اعمال کو گناہ سے مبرا قرار دیا جاتا ہے، جسے فقہ کی اصطلاح میں ارتفاع المسؤلیہ الجنائیہِ کہتے ہیں۔
عام کھیل کود اور تندرستی کے لیے ورزش وکسرت اصل کے اعتبار سے جائز اور مباح ہے۔ جب تک کہ کوئی منکر، شر اور گناہ کی چیز اس میں شامل نہ ہو اور کوئی دلیل ِحرمت اس میں نہ پائی جائے، مباح رہے گا۔
کسی شئے کو مباح قرار دینے سے قبل حسب ذیل چند سوالات کے تشفی بخش جوابات کا حاصل کرنا ضروری ہے۔
 ۱۔  جائز قرار دینے والی اصل شئے کون سی ہے؟۔
 ۲۔  اسے مباح قرار دینے کے لئے کن باتوں پر انحصار کیا جا رہا ہے؟۔
 ۳۔ کیا تحقیق و تجزیہ کے تمام مراحل طئے کئے جا چکے ہیں ؟جو مشروع قرار دینے کے لئے لازمی ہے۔
 ۴۔ کیا صرف قیاس analogy ، مفروضاتassumption ، ظاہر پسندیFormalism  کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی شئے کی عدم ممانعت کا فیصلہ کر لیں ؟
یوگا کا مسئلہ عام کھیلوں اور ورزش سے مختلف ہے۔ یوگا کو کھیلوں کے عام زمرے میں شامل رکھ کر اسے جائز قرار دینے سے کئی تقعدی مسائل پیدا ہوں گے۔ کیونکہ اس طریقہ ورزش میں ایسی کفریہ و مشرکانہ باتیں شامل ہیں جو اسے ناجائز قرار دینے کے لئے کافی ہے۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ نجی، عائلی، اجتماعی زندگی کو آفاقی دستور، روحانی، قانونی و اخلاقی ڈسپلن سے جوڑ رکھا ہے۔ ہر قدم اور موڑ پر چک اینڈ کنٹرول قائم ہے۔ شریعت اسلامی کی وسعت و آسانیوں کا استحصال کرنے یا تاویلات کے ذریعہ زندگی کے بڑے حصے کو اسلامی احکامات سے مستثنیٰ کر لینے کی کوئی عقل مند آدمی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا۔
بعض دانشور اور آزاد خیال تہذیب غیر سے متاثر حضرات کا یہ اصرار ہے کہ ’’ تمام اسپورٹس اور گیمس اور تفریحات کو بشمول یوگا کے مستقل طور پر مستثنیٰ قرار دینا چاہئیے تاکہ مبرا عام کے تحت مسلمان اپنے تعقد پسندی کے مطابق حصہ لیں۔ غیر ضروری کی پابندیاں روک ٹوک ان لوگوں کے نجی فیصلوں اور زندگی کی لذتوں و مشغولیات میں رکاوٹ نہ بنے۔‘‘
5۔   نصوص صریحہ  Clear text
یوگا کے سلسلے میں ہندو مذہبی(ویدی اور برہنمی) کتابوں میں مستند مواد میں نصوص صریحہ  clear text موجود ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یوگا کی بنیاد خالص کفر و شرک پر ہے۔ بھگوت گیتا میں یوگا کی سند موجود ہے اور یوگا میں پڑھے جانے والے سنسکرت کے اشلوک اس بات کی دلیل کے لئے کافی ہیں۔
خالق کائنات کا انکار، خودی، زندگی، عبادت وجود، کون و مکاں کا انکار، انسانی خداؤں کا اقرار یہ سب یوگا میں شامل ہے۔یوگا کے متعلق ارجن و سری کرشنا نے جو تعلیم دی ہے کہ ’’روحانی ارتقاء اور خواہشات ورگیا vargiya سے چھٹکارا و آزادی کے لئے یوگا ضروری ہے۔‘‘(ملاحظہ ہو صفحہ نمبر: light of yoga 1)
اسی طرح یوگا کے متعلق اگر شریعت اسلامی نصوص صریحہ کے متعلق سوال کیا جائے تو اس کی حرمت کا کوئی واضح حکم اصلین میں ہمیں نہیں ملتا اور نہ ہی  فقہاء نے کسی دور میں اس پر تحدیدات عائد کی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گذشتہ صدیوں میں یہ مسائل ملت کے سامنے درپیش نہ تھے اور لوگ یوگا سے لا علم تھے۔
ایک مرتبہ کفر کی مقدس کتابوں سے دلیل ثابت ہو جانے کے بعد یوگا کے خلاف شریعت اسلامی میں واضح نصوص صریحہclear text  کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بلا کسی اختلاف کے مذکورہ حقائق کی موجودگی میں ’’یوگا‘‘ جسمانی ورزش کے طریقہ کار کا بڑا حصہ غیر اسلامی قرار پاتا ہے۔ اس میں راست کفر اور انکار رب و اللہ جل شانہ پایا جاتا ہے۔
اگر یوگا کے متعلق من حیث کل شریعت اسلامی کا حکم معلوم کریں تو پھر یہ ناجائز اور ممنوع قرار پاتا ہے۔کیونکہ یہ ورزش و کسرت ایک مخصوص مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اس طریقہ ورزش کا نہج اور طریقہ کار اور اجزاء ترکیبی کفر خفی سے بھرے ہوئے ہیں۔ یوگا کی کسرت محض صحت کی تندرستی کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ روحانی و ہندو تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے کی جاتی ہے۔یوگا دراصل کفر و شرک کا علمبردار ہے۔
یوگا کی تمام بنیادی باتیں اور اصول راست اسلامی عقائد سے ٹکراتے ہیں۔
  ۱۔توحید، رسالت، کتاب اللہ اور یوم آخرت کا انکار۔
 ۲۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ و یقین۔
 ۳۔ تشبہ بالکفار۔
 ۴۔ہندو مذہبی کتابوں اور انسانی خداؤں کے ارشادات کی اطاعت اور فرمانبرداری۔
 ۵۔اپنے وجود و مخلوق کی پیدائش موت کا سراسر انکار۔
یوگا میں ہندو عقائد کے مطابق روحانی و جسمانی تربیت دی جاتی ہے۔ یوگا کی کسرت کا اصل نصب العین و مقصد ’’پر ماتما ‘‘خالق کل کی ذات میں اپنے آپ کو ضم کر دینا ہے۔ جسمانی صحت و تندرستی کا حصول ذیلی و ثانوی ہے۔
ایک مومن کا مضبوط عقیدہ یہ ہے کہ تمام صفات و کمالات، قدرت، طاقت اور کائنات کا مالک حکمراں و فرمانروا اللہ جل شانہ ہے۔ وہ زمین و آسمان، مشرق و مغرب کا رب ہے۔ وہ ابتداء سے ابد تک رہے گا۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کا کوئی ہمعصر اور نائب اور جز ہے۔
انسان کو ہدایت دینے کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔ نہج و ضابطے حیات، طریقہ زندگی کا اختیار صرف اللہ و رسول ؑ کو حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک اس کی اتباع و اطاعت کی جائے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت و قوت جمادات و نباتات اور کسی شئے و مافوق الفطرت ذات اور مخلوق پر عقیدہ رکھنا سراسر کفر ہے۔ یوگیوں کا عقیدہ اور فکر اسلام کے عقائد و تعلیمات کے خلاف ہے۔
یوگا کی افادیت کو اگر قبول بھی کر لیا جائے تو یوگا کیندر و کیمپوں کے موقع و محل کو دیکھیں تو  ماحول Atmosphere غلبہ کفر Domination of kufr  اور کافرانہ اعمال حرکات و سکنات سے بھرا نظر آئے گا۔
یوگی گرو مہاراج زعفرانی کپڑوں میں ملبوس جٹو و بٹو کے ساتھ تربیت کا آغاز پرنام و نمسکار سے کرتے ہیں۔ یوگا کرنے والے افراد کا ڈریس کوڈ زعفرانی ہوتا ہے۔ تدریب کروانے والے گرو جی منتر اور اشلوکوں کو پڑھنے کے بعد دوران مشق بار بار اوم ہری اوم کی آوازیں حلق کی گہرائیوں سے نکالتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقفہ وقفہ سے کئی طرح کے سری طور پر اشلوک INCANTATI   ONپڑھے جاتے ہیں۔ جس سے کفر کا ایک سماں بن جاتا ہے اور پھر سانس کو بار بار روک کر گیان و مراقبہ کروایا جا تا ہے۔
 یوگا کے متعلق سنجیدگی سے تین سوالات پوچھے جائیں تو اس کے جوابات سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جائے گی۔
  ۱۔یوگا کی تعلیمات اورسند کس مذہب کی ہیں ؟؟
 ۲۔یوگا کے مدرس اور داعی کون ہیں ؟
 ۳۔یوگا کی تحریک کے علمبردار اور اصل محرک و زعماء کون ہیں ؟
ان تینوں سوالات کے جوابات واضح ہیں۔ یوگا کے علوم، اس کے مدرس اور دعوت دینے والے علمبرداروں کی بنیادیں خالص ہندو شاستروں اور ویدوں پر ہے اور وہ سری کرشنا کی تعلیمات کے مطابق یوگا کی تبلیغ کا کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
جو بنیادی باتیں ایمان سے ٹکراتی ہیں وہ یوگا پر کفر کا غلبہ ہے۔یوگا کے عقیدہ اور تصورات میں صرف شرک کی ہی آمیزش نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر یوگا کی تمام تعلیمات کی عمارت کفر و باطل پر کھڑی ہیں۔
اضطراری و استثنائی صورتحال:-
  جن باتوں میں شدید جان و مال کے نقصانات کا خطرہ لاحق ہو۔ بھوک، افلاس، امراض شدید، غربت، ظلم و بربریت یا آفات سماوی جیسے طوفان، زلزلے، سیلاب، آتش فشاں اور متعدی امراض کا پھوٹ پڑنا، مصائب، ایمرجنسی میں ظالمانہ قوانین  و دہشت گردی، نقل مقامی کی اگر صورتحال پیدا ہو جائے تو ان حالات میں شریعت اسلامی میں اضطراری و استثنائی صورتحال میں فرائض، محرمات، ممنوعات اور ناجائز باتوں میں ضرورتوں کے مطابق کسی قدر چھوٹ دی جاتی ہے۔ اور کئی احکامات، اصول و ضوابط وقتی طور پر غیر نافذ اور غیر عمل ہوتے ہیں۔
عصری اور جدید بعض امور جو شرعی اعتبار سے مشتبہ ہوں جس میں ہلکے سے فرق سے جائز اور ناجائز کے احکام تبدیل ہو سکتے ہیں۔ فقہاء مصلحت  عامہInterest of the common good کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ شرعی فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
ایسی کوئی اضطراری و استثنائی صورتحال نہ ہی درپیش ہے اور نہ ہی مصلحت عامہ کے تحت یوگا کو جائز قرار دیا  جا سکتا ہے۔ کیونکہ عامۃ الناس کو کوئی بڑا فائدہ یا نقصان اس ورزش کو کرنے یا نہ کرنے سے ہونے والا نہیں ہے۔ صرف چند لوگوں کے شوق اور عادت کی خاطر یوگا کو مباح قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ کبھی مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت نہیں رہی۔
14صدیوں سے امت اسلامیہ الحمد للہ بغیر یوگا کی ورزش کے صحت مند ہشاش بشاش، فعال اور متحرک ہے۔ تاریخ میں کبھی نہ یوگا کی ضرورت پڑی اور نہ مستقبل کبھی پڑھے گی۔
معروف و معترف علماء دین اپنے اختیار شرعی کو اختیار کر کے اس ورزش کو جائز قرار نہیں دے سکتے۔ جس میں کفر کی قدم قدم پر ملاوٹ و رہبری ہو۔
اسلام نے بنیادی باتوں میں پسند، ناپسند اور رد کا اختیار مومن کو نہیں دیا۔بلکہ خود پسند اور من مانی زندگی کے راستوں کو کاٹ دیتا ہے۔ جو کوئی نفس کی خواہشات کی پیروی کرے گا اس کے لئے ہدایت کی تمام راہیں ختم ہو جائیں گی۔ کسی بھی زمانے کے رائج کردہ ایسے العاب sports & games  یا کسی بھی فیلڈ میں حصہ لینا جو اسلامی عقائد کے منافی ہیں۔ اسلام میں اس سے احتیاط اور اجتناب کو ترجیح دی گئی ہے۔
".. وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ۔(قصص: ۵۰)
اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
    
کسی خاص قسم کی ورزش سے جسمانی قوت حاصل بھی ہو جائے تو کل اس کا زوال اور کمزوری و بڑھاپے سے دوچار ہونا فطری و یقینی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یوگا کی پراکٹس محض صحت مندی، بلڈ پریشر، ذیابطیس وغیرہ جیسے امراض کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے تو ایک بندہ مومن کے لئے یہ سزاوار نہیں کہ وہ مشکوک عمل اور مشرکانہ طریقہ علاج کو اختیار کرئے۔بلکہ وہ کسی متبادل علاج کو اختیار کرے۔ توکل اور صبر سے کام لے اور اللہ پر کامل یقین رکھے۔
"وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ۔(شعراء: ۸۰)
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو (اللہ) مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔"
"وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(العنکبوت ۶۴)
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔"
 مومن کی زندگی کا مقصد دنیا میں کھیل تماشہ اور تفریح نہیں ہے بلکہ ایک نصب العین کے تحت دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔
دنیا میں انسان کی زندگی عارضی ہے۔ انسان دنیا میں لازوال بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ پیدائش سے لے کر موت تک کی مدت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ پیڑیوں پر پیڑیاں، نسلوں پر نسلیں تیزی سے گذرتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن زندگی کے ان چند سالوں میں ہی  ’’بماقدًمت لغد ‘‘ کل یعنی آخرت کے لئے زاد راہ (توشہ) تیار کرنا ہوتا ہے۔
 مومن کا مقصدِ زندگی صرف کسرت اور ورزش کے ذریعہ بہت بڑے Body Builder  بننا یا عظیم کھلاڑی بننا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے ایک طاقتور امت بنانا چاہتا ہے جو اللہ کی رضاء کے لئے حق کو غالب کرئے،کفر و شرک، باطل سؤ و منکرات کا خاتمہ کرئے اور اصلین، کتاب و سنت کے مطابق مضبوط معاشرہ تیار کرے۔  
جسمانی بیماری سے زیادہ مہلک کفر و شرک اور تشکیک قلب کی بیماری ہوا کرتی ہے۔
 جب کسی پر کفر کا رعب چھا جائے اور ان کے دل و دماغ میں مشرکانہ دلکش باتیں جاگزیں ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے قلب و ذہن کو نفاق،  کفر و شرک کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔
جسمانی ظاہری امراض کے کئی طرح کے علاج ممکن ہیں۔لیکن تعقدی امراض کا علاج ممکن نہیں ان کے دل و بدن میں ٹیڑھ پیدا ہونے لگتی  ہے۔ لوگ باوجود افہام و تفہیم کے اسے غیر اسلامی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق سورہ بقرہ آیت ۱۰میں فرمایا:
"فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا..۔البقرہ:۱۰)
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا۔"

 کفر،طغیان، شرک اور سوء و شر کے منظم و غیر منظم دائروں، اداروں، کیندروں اور کیمپوں و مندروں میں کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کے لئے بار بار جانا بھی دل کے مرض کی علامت ہے۔ حق و خیر سے دور باطل و شرک  سے زیادہ قریب ہونا ایمان و عمل صالح کو خطرہ میں ڈالنا اور اللہ کی ناراضگی کو مول لینا ہے۔
ہر فن اور علم کے پیمانوں کا تعین اس کے مستند قوانین، اس کے شارحین، اس کی ماہیت، دائرہ کار اور ہدف سے ہوتا ہے۔ یوگا پر تحقیقاتی نظر ڈالیں تو تمام دلائل و شواہد ہمیں مل جاتے ہیں۔
لیکن ہمیں سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئیے کہ کیا یوگا ہندو مت(ویدی یا برہنمی) کا حصہ ہے؟ اور کیا یوگا ہندو مذہبی عقیدہ کے مطابق ایک مقدس مذہبی عمل(عبادت)ہے یا نہیں ہے؟۔۔۔
ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے چھٹا باب فلسفہ یوگا میں سری کرشنا نے ارجن کو یوگا کے سلسلے میں تفصیل سے سمجھایا اور کہا کہ یوگا درد و الم سے چھٹکارہ دلاتا ہے۔ اور یوگا کی مشق کرنے والا یوگی روحانی الٰہیہ کی نعمت سے نفس کا اطمینان پا لیتا ہے۔
 ’’کرشنا آپ نے کہا کہ یوگا برہمن (آفاقی روح) کے ساتھ اپنے خیالات و احساسات کا تبادلہ ہے۔
ارجن نے سری کرشنا سے پوچھا تم نے یوگا کے متعلق بتایا،روح کے متعلق بتایا۔لیکن انسان کی عقل ہمیشہ بے چین اور مضطرب رہتی ہے۔ عقل مضبوط، ضدی اور پر مقصد ہوتی ہے۔اس کو ہوا کی طرح نہیں خارج کیا جا سکتا ہے۔کرشنا نے جواب دیا یقیناً عقل مضطرب ہوتی ہے اور اس پر گرفت مشکل ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تربیت ابھیاسا (Abhyasa) کے ذریعہ کی جا سکتی ہے اور خواہشات اور ورگیا Vargayaسے چھٹکارا اور آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘ (صفحہ نمبر light of yoga 20)
ہندو نظریات کے مطابق اگر ایک شخص اپنی عقل پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا ہے تو وہ خالق و آفاق میں ضم نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ نفس پر کنٹرول کرنے اور صحیح رخ پر سخت جدوجہد کرنے والا ہو تو اس کو پا لیتا ہے۔
 پتنگلیpatangali  کے مطابق یوگا کے 8  مدارج ہیں۔
۱۔یاماYAMA  عمومی اخلاقی احکامات
۲۔نیاماNIYAMA  ذاتی نفس کی تطھیر اور ڈسپلن
۳۔آسناASNA  جسم کی ساخت
۴۔پرانیماPRANAYAMA روح پر گرفت
۵۔پرتیھاراPRATYAHARA  احساسات کے غلبہ سے اجتناب کرنا
۶۔دھراناDHARANA  توجہ مرکوز کرنا
۷۔دھیانا DHAYANA  مراقبہ
۸۔سمادھیSAMADHI  گہرے غورو فکر اور مراقبہ جس کا مقصد پرماتما  آفاقی روح میں ضم ہو جانا۔
یوگا کی تشریح میں بھگوت گیتا میں ایک اور مقام پر لکھا ہے کہ :   ’’کرما یعنی یوگا وہ جو عمل کے ساتھ ہو۔یوگا ذاتی خواہشات و  خود غرضی سے چھٹکارا دلاتا ہے۔کامیابی و ناکامی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
مذکورہ بالا فقہ کے ان اصولوں کی روشنی میں یوگا کے مبادیات کفر وشرک سے ملتے ہیں۔ گناہ وشر سے مبرا بھی نہیں ہے۔ یوگا کے نصوص بھگوت گیتا سے ملتے ہیں۔ یوگا کے ذرائع کے دروازے کو کھول دینے سے اعتقادی کمزوریاں اور ایمانیات پر برے اثرات پیدا ہوں گے۔ تو صرف اصل کے اعتبار سے یوگا کی ورزشی والی کیفیت پر نظر رکھتے ہوئے اسے مباح اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے؛ بلکہ سد باب ذرائع کے پیش نظر یوگا کو بالکلیہ ممنوع اور مسلمانوں کے لیے ناجائز قرار دیا جائے گا۔(جاری ہے۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

یوگا میں کیے جانے والے ورد:

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:6)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

یوگا میں کیے جانے والے ورد:
یوگا کی سو(100) سے زیادہ ورزش کی ترکیبیں ہیں۔ یوگا کرنے والے شخص کو یوگی کہا جاتا ہے۔ یوگا کرنے والے اصل مشاق یوگی ابتداء میں، دوران یوگا اور ختم پر کئی اشلوک ورد کرتے اور گاتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم اور طویل ترین روحانی و مقدس اشلوک جو سنسکرت میں ہے اس کا اختصار کے ساتھ ترجمہ حسب ذیل ہے۔
"میں نہ آقا ہوں اور نہ وجبہ، میں نہ عقل ہوں نہ سونچ،  میں نہ سن سکتا ہوں اور نہ الفاظ میں بول سکتا ہوں، نہ سونگھ سکتا ہوں اور نہ دیکھ سکتا ہوں،میں روشنی اور ہوا میں اپنے آپ کو پاتا ہوں، نہ زمین پر، نہ آسمان میں، خیالات اور مسرت دوبارہ پیدا ہوتے ہیں،نعمتوں کا نعمت ہوں، میرا کوئی نام نہیں، میری کوئی زندگی نہیں، میں سانس نہیں لیتا،  کسی شئے نے مجھے ڈھالا نہیں، میرا کوئی جسمانی اخراج نہیں،ذہانت و حقیقت اور مزہ و درد میری میراث نہیں، نہ مقدس کلمات، نہ عبادت، نہ مقدس سفر،میں نہ غذا ہوں اور نہ کھانا اور کبھی میں نے کھایا ہے،خیالات اور مسرت ہوں اور میں آخر میں کرم میں مل جاؤں گا،نہ معلوم ہے اور نہ علم ہے، اور نہ کبھی علم رکھتا تھا میں غیر مجسم ہوں میں احساسات میں رہتا ہوں، لیکن وہ میرا مسکن نہیں۔"
ان روحانی اشلوک میں خودی اور خودی کا انکار اور تمام عبادات و مقدس کلمات کا انکار،  علم اور تعلیم کا انکار شامل ہے۔ اس میں اپنے آپ کو نعمت و کرم قرار دیا جاتا ہے اور آفاقی روح میں ضم ہو جانے کا اقرار کیا جاتا ہے۔ یوگا میں پڑھے اور کہے جانے والے سینکڑوں اشلوک اور سنسکرت کے الفاظ و جملوں کا اس مختصر مضمون میں ذکر ممکن نہیں ہے۔تفصیلات کے لئے آپ ہندو اور بدھ مت کی مذہبی کتب ملاحظہ کریں ۔
سوامی پربھاننداPrabhananda  کی کتاب ’’  پتنجلی یوگا سوتراس  ‘‘ Patanjali Yoga Sutras   ویدانتا سوسائٹی ساؤتھ کیلیفورنیا امریکہ کے توسط سے سری رام کرشنا مٹ چینائی کی جانب سے شائع کی گئی۔ جس میں سوامی جی نے بھگوت گیتا سے یوگا کے 143 سوتراؤں کی تشریح کی ہے۔جس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی ورزش کے ہر آسن اور حرکت کے ساتھ مکمل طور پر کفر کو شامل کیا گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل نیو یارک کی ایک ہندوستانی نژاد مسلم خاتون صحافی اسریٰ نعمانی نے اپنے دوسرے امریکی ساتھیوں کے ساتھ ہمالیہ کے دامن میں موجود مشہور آشرموں اور مٹوں و مندروں میں ہندوازم و بدھ مت کے مہارشیوں، آچاریوں اور یوگیوں سے اعلیٰ روحانی تعلیمات کے حصول  کے لئے کئی دن قیام کیا اور تربیت حاصل کی تھی۔ ہندو مذہبی روحانی تربیت پانے کے بعد اس نے ایک کتاب  تحریر کی۔اس نے ہندو راہبوں کے ساتھ فحش اور شیطانی حیوانی حرکات کو متبرک قرار دیتے ہوئے تمام چھوٹی بڑی تفصیلات درج کیں۔ شیوا لنگ کی پوجا اور شیوا اور شکتی کی آپسی محبت، ان کی کائنات میں روح کے حلول کر جانے کے متعلق لکھا ہے۔۔
اسریٰ کا شمار اگرچہ نہ ماہرین علوم ہندو مت میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ہندو مت کی اسکالر تسلیم کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی تحریروں کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔۔؟  ان کا کہنا ہے کہ
یوگا سنسکرت لفظ ’’یوج ‘‘سے نکلا ہے۔ جسکے معنی شامل ہونے و متحد ہونے کے ہیں۔
یوگا کے معنی ذہنی گہری سوچ کے ذریعہ وحدت کائنات کے پُر اسرار رازوں تک پہنچنا ہے۔ (اسریٰ نعمانی یوگی تربیت یافتہ ہندوستانی نژاد مسلم صحافی)
’’ شیوا ہندوستان کے جنگلوں میں یوگی کی حیثیت میں رہا کرتا تھا۔ وہ یوگا کی مشق کرتے کرتے کائنات کا عظیم خدا بن گیا۔‘‘( تانتریکا: صفحہ نمبر 5  )
حکومت انڈیا کی زیر نگرانی چلنے والی ایک بڑی ویب سائٹ پر یوگا سے متعلق کچھ اس طرح  ہے۔
کہ سنسکرت لفظ یوگا کے لغوی معنی 'یوک' ہے اس طرح یوگا انفرادی قوت اور خدا کی کائناتی قوت کو ساتھ ملانے کا ایک ذریعہ کہلایا جا سکتا ہے۔http://ur.vikaspedia.in
(انڈیا ڈیولپمنٹ گیٹوے اور مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا،MDNIY۔اور مرکزی یوگا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،CRIY)
اسی طرح ایک دوسری ویب سائٹ جس پر یوگا سے متعلقہ کافی مواد ہے میں درج ہے کہ
سنسکرت لفظ یوگ کا لغوی معنی ' یوک ' ہے۔ اِس لئے یوگ کو خدا کی عالمگیری جذبات کے ساتھ ذاتی روح کو متحد کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر تشریح  کی جا سکتی ہے۔ مہرشی پتنجلی کے مُطابق، یوگ مَن‌کی ترمیموں کا امتناع ہے۔
(مورارجی دیسائی قَومی یوگ ادارہ، نَئی دِلّی
http : // www.yogamdniy.nic.in
ان دلائل و شواہد کی موجودگی میں یوگا کی تعریف، اس کے ارکان اور اس میں کیے جانے والے اعمال و ورد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یوگا ایک خالص ہندو مذہب کا حصہ ہے اور اس کی جڑیں ہندو تعلیمات سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندومت کی دھارمک شخصیتیں ومذہبی پیشوا اور ہندو احیا پسند تحریکات در اصل یوگا کے توسط سے ورن آشرم کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ نسلی طبقاتی تفریق کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ ہندومت کو قومی وعالمی سطح پر ایک عظیم کامیاب نظام زندگی کے طور پر غالب کرنے کی کوشش میں ہیں۔
ایک مومن کفر کی باریکیوں کو سمجھنے میں غلطی کرکے چند فائدوں کی خاطر قلب وذہن کو بند کر کے دھوکہ کھاجائے تو ﷲ پاک نے ایسے موقع پر ایمان والوں کو وارننگ دی ہے۔ فرمایا: "وَدُّوا لَوْتَکْفُرُونَ کَما کَفَرْتُمْ فَتَکُوْنُونَ سَوَاء..
 ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وه ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو۔"(سورہ النساء:89)
ان واضح اور کھلے عام ثبوتوں کے باوجود اگر کوئی سکیولر ذہن ہندو مذہبی وثائق کو توڑ موڑ کر اسے محض ایک جسمانی ورزش کا طریقہ قرار دیتا ہے۔ تو یہ سراسر لاعلمی، دروغ گوئی اور حقائق سے اعراض کا نتیجہ ہے۔
یوگا کا باضابطہ طور پر ایسا زبردست پروپگنڈہ کیا گیا کہ اب ہر شخص اپنے یوگی ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ Space technology میں پہلے روس کو برتری حاصل تھی۔ پھر امریکہ نے فوقیت حاصل کر لی۔ 1984 اپریل میں روس کے اسپیس مشن میں ایک ہندوستانی  اسٹروناٹ Astronaut  راکیش شرما  بھی شامل تھے۔ انھوں نے 25 سال کے بعد اپریل 2009 میں یہ حیرت انگیز دعویٰ کیا کہ وہ فضاء میں 0 ڈگری  مقناطیسی کششgravity  پر رہنے میں اس لئے کامیاب ہوئے کہ وہ یوگا کی مشق مسلسل کرتے تھے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ’’انھوں نے اس کی تربیت روسی اسٹروناٹ کو بھی دی تھی۔ جس سے تمام اسٹرونائٹس کا فضائی سفر بھی آسان ہو گیا تھا۔‘‘اس بات کا دعویٰ اور اظہار نہ کبھی روسی اور نہ کبھی امریکی اسٹرونائٹس نے کیا کہ وہ  فضاء میں جانے سے قبل یوگا کی مشق کیا کرتے تھے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ قطر ائیرویز کی جانب سے  20 جون 2009ء کے تیسرے ہفتے میں مسافرین کی صحت اور تندرستی اور آرام دہ پرسکون سفر کے لئے Fly Healthy, Fly Fit نام سے پروجکٹ انچارج دیپک چوپڑا نے یوگا کی ایک خصوصی گائیڈ جاری کی۔ دیپک نے اپنی گائیڈ میں یوگا کے آسان اور موثر طریقے بتائے تاکہ طیارے کے اندر دوران سفر مسافر خود کو پرسکون محسوس کر سکیں اور تھکاوٹ، ذہنی دباؤ و تناؤ کو دور کر سکیں۔ یہ گائیڈ انگریزی عربی دونوں زبانوں میں تحریر کی گئی ہے۔ دنیا کی یہ پہلی ایر لائن ہے۔ جس نے فلائیٹ میں یوگا گائیڈ کو متعارف کروایا اور اسے مقبول عام کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ خود ہندوستان میں جہاں اکثریت ہندوؤں و غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ جہاں درجنوں ایر لائنز مختلف سیکٹرس پر ایروپلین(aeroplane) چلاتے ہیں وہاں ایک بھی ایسی ایر لائنز نہیں جس نے مسافرین کے لئے خصوصی یوگا گائیڈ کو جاری کیا ہو۔ قطر جیسے عرب مسلم ملک کی قطر ایر لائنز کو آخر یوگا نے اتنا کیوں متاثر کر دیا یا پھر کسی دوست نے انھیں اتنا مجبور کر دیا کہ یوگا گائیڈ کو  On board متعارف کروائیں۔ اب تو سیاستداں، سائنسداں، حکومت کے اعلیٰ عہدیدار، ماہرین اور فلمی ستارے یوگا کرنے کو فخر سمجھتے ہیں اور اس کی تائید میں وقتاً فوقتاً بیان دیتے رہتے ہیں۔
گذشتہ چند سالوں سے آئے دن نامور شخصیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے یوگا کے متعلق مسلسل بیانات الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوگیوں کی تحریک اب کافی منظم پیمانے پر کام کر رہی ہیں۔
مسلم سوسائٹی کے با شعور تعلیم یافتہ با اثر اور دین دار و اسلام پسند لوگوں کے درمیان یوگا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بعض تعلیم یافتہ مسلمان یہ سوال پیش کرتے ہیں کہ
۱۔  یوگا صحت کے لئے فائدہ مند ہے تو پھر اس کی ممانعت کے سلسلے میں اسلامی حلقوں سے کیوں آوازیں بلند کی جاتی ہیں۔؟
۲۔  کیا اسلام اتنا تنگ نظر ہے کہ اپنے پیروؤں کو جسمانی ورزش و کسرت  سے منع کر کے ان پر تحدیدات عائد کرتا ہے۔؟
بعض گوشوں سے یوگا کے متعلق فتوؤں پر تنقیدیں بھی کی جا رہی ہیں۔ جب ملاشیاء کے مفتی نے "یوگا" کے خلاف فتویٰ جاری کیا تو وہاں کے بادشاہ ناراض ہو گئے اور کئی آزاد خیال مسلم سیاست داں اور اسکالرس نے بھی اس طرح کے فتاویٰ کی مخالفت کی۔ اگر عام شخص صرف یوگا و ورزش کے چند طریقوں کے متعلق اصل سے علیٰحدہ کر کے شریعت کا حکم جاننے کی کوشش کرے تو یقیناً جواب صرف ورزش کے زمرے کی حد تک ملے گا اور اسے جائز قرار دیا جائے گا۔
یوگا کے ظاہری فائدوں کو پیش نظر رکھ کر مجرد حکم شرعی و اجازت نامہ  صرف کسرت کی حد تک فنی بنیادوں پر حاصل بھی کر لیا جائے تو پھر بھی بیشمار مخفی، مشتبہ، مشکوک باتوں اور مبین واضح دلائل کی موجودگی میں اس طرح کی عدم ممانعت کا حکم مہمل اور ناقص ثابت ہو گا اور ایسے تمام خود ساختہ اجازت نامے ہلکے و بے بنیاد قرار پائیں گے۔
ہندومت کی دھارمک شخصیتیں و مذہبی پیشوا اور ہندو احیاء پسند تحریکات دراصل ورن آشرم کی نشاط ثانیہ کرنا چاہتے ہیں اور نسلی طبقاتی تفریق کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ ہندومت کو قومی و عالمی سطح پر ایک عظیم کامیاب نظام زندگی کے طور پر غالب کرنے کی کوشش میں ہے۔ہندو کلچر میں حقوق کی اہمیت نہیں ہے۔ بلکہ پوجا پاٹ اور چند رسوم کی اہمیت ہے۔
ہمارے بعض روشن خیال تعلیم یافتہ اور نیم پڑھے لکھے لوگ اور نوجوان یوگا کے سلسلے میں سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انھیں یوگا کی معلومات ہی نہیں تو بیجا نہ ہو گا۔ بغیر مطالعہ اور تجزیہ کے وہ یوگا کو صرف  Method of physical exercise  یا ایک کسرت و ورزش کا طریقہ  قرار دیتے ہیں جو سراسر ایک مغالطہ اور لا علمی کا نتیجہ ہے۔
شریعت اسلامی میں حیات انسانی کے لئے بڑے واضح اور صاف دو ٹوک اصول دئیے گئے ہیں اور انسانیت کی فلاح و بہبود اور نشو نما و ترقی کے لئے وسعتیں فراہم کی گئیں۔ دنیا کے تمام بر اعظموں، قطعوں اور طبقات و اقوام کو زماں و مکاں، نسل و طبقات کی قیود سے نکال کر ایک اعلیٰ بلند و برتر زندگی کا بنیادی اصول اور نظام فراہم کیا گیا ہے۔
اسلام عقائد، معاملات، مامورات، مامولات میں تمام کلی و جزوی طور پر کفر و شرک کے عناصر کا باریک بینی سے خاتمہ کرتا ہے اور کسی بھی تہذیب و تمدن کے اجزاء کو کفر سے صاف و پاک کر کے ضم کرنے کی اپنے اندر وسعت رکھتا ہے۔اسلام دنیا کے مختلف قطعوں میں پھیلا اور جہاں بھی پہنچا وہاں کے مقامی معاشرہ کے تمام باطل لغو طور طریقوں اور عادات و اطوار کا خاتمہ کر کے مقامی سماج کو اپنے اندر ضم کر لیا۔
اسلام دور حاضر کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے اور قلب و ذہن کو متاثر کر دینے والی کسی بھی قدیم و جدید تہذیب کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے سے مسلمانوں کو منع کرتا ہے۔کیونکہ اس سے ایمان کی بنیادیں دہل جاتیں ہیں اور اسلامی تعلیمات و شریعت سے راست یا بالواسطہ ٹکراتی ہیں۔(جاری ہے۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
کتاب ڈاونلوڈ کے لئے مندرجہ ذیل لنک وزٹ کریں۔
https://drive.google.com/folderview?id=1FzYGPlYpfDHZx5r4iN7HQXXKm6ssybBY
معاون:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *
بشکریہ : مسلم گرلز اسوسی ایشن، حیدر آباد جن کی تحریر میں حذف و ترمیم کے ساتھ ایک جامع تحریر قلم بند کی گئی۔)

فقہ اسلامی کے چند اہم اصول

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:5)
(مولف: عمران شہزاد تارڑ ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
فقہ اسلامی کے چند اہم اصولوں کو سامنے رکھ کر اگر استنباط کیا جائے تو "یوگا" کی ممانعت اور عدم ممانعت کی باتیں سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
1۔مبادیات کی تحقیق:-  
یوگا کے مبادیات کی تحقیق کریں تو اس کی دو بنیادی باتیں راست کفر اور ہندو (ویدی یا برہمنی) مذہب سے جا ملتے ہیں۔ اس کا مصدر گیتا کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ دوسرے یہ کہ یوگا پر رشیوں  اور آچاریوں کا مکمل کنٹرول ہے اور بطور عبادت اس کی مشق کی جاتی ہے۔ یوگا کے مبادیات کی تحقیق(تخریج مناط)   Means to derivation of the basis or   pacification of the basic Characteristics سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب یوگا بدھ مت مذھب کی تعلیمات کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔
اسی طرح یوگا کے اشلوکوں میں توحید، رسالت، کتاب ﷲ اور یوم آخرت کا انکار ہے۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ ہے۔ کفار کے ساتھ مشابہت ہے۔ غرض اس تخریج مناط کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یوگا ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
اسی طرح اگر آپ یو ٹیوب میں یوگا پرے(yoga pray)لکھیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں ہندو اور بدھ مت میں "یوگا"ایک باقاعدہ پوجا و پرستش کے طور پر کی جاتی ہے۔
ہم یہاں صرف ایک اقتباس پیش کر کے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔۔
بدھ  مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان(مراقبہ) میں مصرف ہو گئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت و مراقبہ  کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی۔
اس طرح روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کی خاطر ریاضت کا اہم طریقہ "يوگا" ایجاد کیا گیا جس پر ہندو مت، بدھ مت اور جین مت کے پیروکار عمل پیرا ہیں۔( مقدمہ ارتھ شاستر:129)
اجمالي طور پر اگر ديکھا جائے تو بدھ متوں کے نظريات ہندو مت سے مختلف نہيں کيونکہ يہ بھی قانون‘ جزاوسزا اور تناسخ ارواح کے قائل ہيں ۔ بار بار کی پيدائش اور جزاوسزا سے نجات پانے کی خاطر برائی اور بھلائی سے رکنے اورخواہشات پر قابو پانے کی مراقبہ کی کوشش کرتے ہيں
اس مذہب کی بنیاد ’’حصولِ نروان‘‘ ہے
بدھ مت ميں نروان مذہبی زندگی کا مقصود ہے۔ گوتم بدھ زندگی کے مسئلہ کا جو شافی وکافی حل تلاش کر رہا تھا‘وہ اسے درخت کے نيچے مراقبہ کی حالت ميں نروان کی صورت ميں ملا۔نروان ايک ايسی حالت ہے جو عام ذہنی سانچوں سے بالاتر ہو۔
گوتم بدھ کے با قول نروان ہی ميں انسان کو دکھوں سے مکمل چھٹکارا اور ابدی مسرت حاصل ہو سکتی ہے اور وہی انسان کا حقيقی مطلوب ہو سکتا ہے۔
نروان کی حقيقت گوتم بدھ کے اپنے الفاظ ميں
بھکشوؤ(پيروکارو)!ايسي کيفيت موجود ہے جہاں نہ تو خاک ہے نہ پانی‘ نہ آگ ہے نہ ہوا‘نہ لامکانيت ہے‘نہ شعور کی لا محدوديت‘ نہ تو عدم شعور ہے اور نہ شعور‘ نہ تو يہ دنيا ہے اور نہ دوسری دنيا‘ نہ سورج ہے وہاں اور نہ چاند، اور ہاں بھکشوؤ! ميں کہتا ہوں وہاں نہ آنا اور نہ جانا‘ نہ ٹھہرنا ‘نہ گزر جانا اور نہ وہاں پيدا ہونا ہے ۔بغير کسی سہارے‘ کسی حرکت يا کسی بنياد کے ہے۔ بے شک يہی دکھوں کاخاتمہ (نروان)ہے۔‘‘
(دنياکے بڑے مذاہب… عمادالحسن فاروقی)
گوتم بدھ کے اس بيان سے يہی سمجھ ميں آتا ہے کہ ايسی کيفيت کا نام ہے جہاں انسان دنيا سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن ميں کوئی دوسرا نقطۂ نہيں ہوتا۔ سوائے اس کے جو وہ اپنے ذہن ميں لے کر سوچتا ہے۔ اسے حالت ’’استغراق‘‘بھی کہتے ہيں ۔ ہميں زيادہ تفصيل ميں جانے کي ضرورت نہيں ۔ان کا يہ نظريہ جيسے بھی ہو اور جيسی کيفيت بھی ہو‘يہ اسلام کے فطری مزاج کے خلاف ہے۔ اس طريقہ سے خدا کی معرفت حاصل کرنا اور دنيا کے غموں سے نجات حاصل کرنا ۔ کوئی شريعت کا معاملہ نہيں ہے۔ دين اسلام نے ايسی تمام جاہلانہ حرکات وکيفيات کا سختی سے رد فرمايا ہے۔
دين اسلام نے دين کے ساتھ ساتھ دنيا بہتر بنانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی ترغيب بھی دی ہے۔
فرمايا:
رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْآَخِرَۃِ حَسَنَۃً۔(سورۃ البقرہ:201)
’’ا ے اللہ ہميں دنيا اور آخرت ميں بھلائی عطا فرما۔‘‘
مزيد فرمايا:وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَکَ مِنَ الدُّنْيَا۔(سورۃ القصص۔77)
’’اور دنيا سے اپنا حصہ لينا مت بھولو۔‘‘8
2۔ سدباب الذرائع :-
  الف: شریعت ہر دو زاویوں سے مسئلہ کا تجزیہ کرتی ہے ایک اگر کسی امر کے سلسلے میں اس کے سد باب ذرائع  closing of the gate of mean سے کفر و شرک، برائی و منکرات اور لادینیت اور طواغیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے ان ذرائع کے باب الداخلہ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ تا کہ بندہ مومن اللہ کی فرمانبرداری، اطاعت، اور تقویٰ و پرہیزگاری میں کوئی خلل نہ پیدا کرے اور نہ وہ کفر کے قریب پہنچ سکے۔
ب: فتح الباب ذرائع  
  Opening of the gate of means
اگر کسی مسئلہ میں ایسے ذرائع کے ابواب کھول دئیے جائیں۔جن سے توحید، حق، خیر، ثواب،نیکی و تقویٰ کو تقویت ملے اور شرک، شر،برائی کے پیدا ہونے کا کوئی خدشہ باقی نہ رہے اور تمام بند دروازوں کو کھول دینا جس سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر مستفید ہوں اور اپنی ضرورت کے مطابق منفعت حاصل کریں اور کوئی گناہ اور برائی ہونے کا خدشہ نہ ہو تو وہ فتح الباب ذرائع کہلاتا ہے۔جبکہ یوگا کے تمام ذرائع ہندو مذہب کی تعلیمات کفر و شرک سے بھرپور اور عقیدہ اسلامی کے خلاف ہیں اور یوگا کی بنیادی تعلیمات سے راست ٹکراتے ہیں اور ان ذرائع کے ابواب کھولنے سے اسلامی عقائد، ایمانیات اور تہذیب و تمدن پر راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کسی بھی نیکی اور خیر کی آخری امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یوگا کی اجازت سے ہندو مذہبی بنیادی تعلیمات سے راست تعلق یا بالواسطہ تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔؟اگر پیدا ہو بھی رہا ہے تو اس کی مقدار اس کی گہرائی کہاں تک پہنچے گی؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
3۔گناہ وجرم سے مُبرّا ہونا:
ایسے تمام افعال جس کے ظاہر وباطن میں کوئی ممنوع اور خلاف شرع بات نہ ہو اور اس کے کرنے سے کسی گناہ، شر اور منکر کے پیدا ہونے اور پھیلنے کاشبہ نہ ہو، فقہ میں ایسے اعمال کو گناہ سے مبرا قرار دیا جاتا ہے، جسے فقہ کی اصطلاح میں ارتفاع المسؤلیہ الجنائیہِ کہتے ہیں۔
عام کھیل کود اور تندرستی کے لیے ورزش وکسرت اصل کے اعتبار سے جائز اور مباح ہے۔ جب تک کہ کوئی منکر، شر اور گناہ کی چیز اس میں شامل نہ ہو اور کوئی دلیل ِحرمت اس میں نہ پائی جائے، مباح رہے گا۔
کسی شئے کو مباح قرار دینے سے قبل حسب ذیل چند سوالات کے تشفی بخش جوابات کا حاصل کرنا ضروری ہے۔
 ۱۔  جائز قرار دینے والی اصل شئے کون سی ہے؟۔
 ۲۔  اسے مباح قرار دینے کے لئے کن باتوں پر انحصار کیا جا رہا ہے؟۔
 ۳۔ کیا تحقیق و تجزیہ کے تمام مراحل طئے کئے جا چکے ہیں ؟جو مشروع قرار دینے کے لئے لازمی ہے۔
 ۴۔ کیا صرف قیاس analogy ، مفروضاتassumption ، ظاہر پسندیFormalism  کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی شئے کی عدم ممانعت کا فیصلہ کر لیں ؟
یوگا کا مسئلہ عام کھیلوں اور ورزش سے مختلف ہے۔ یوگا کو کھیلوں کے عام زمرے میں شامل رکھ کر اسے جائز قرار دینے سے کئی تقعدی مسائل پیدا ہوں گے۔ کیونکہ اس طریقہ ورزش میں ایسی کفریہ و مشرکانہ باتیں شامل ہیں جو اسے ناجائز قرار دینے کے لئے کافی ہے۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ نجی، عائلی، اجتماعی زندگی کو آفاقی دستور، روحانی، قانونی و اخلاقی ڈسپلن سے جوڑ رکھا ہے۔ ہر قدم اور موڑ پر چک اینڈ کنٹرول قائم ہے۔ شریعت اسلامی کی وسعت و آسانیوں کا استحصال کرنے یا تاویلات کے ذریعہ زندگی کے بڑے حصے کو اسلامی احکامات سے مستثنیٰ کر لینے کی کوئی عقل مند آدمی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا۔
بعض دانشور اور آزاد خیال تہذیب غیر سے متاثر حضرات کا یہ اصرار ہے کہ ’’ تمام اسپورٹس اور گیمس اور تفریحات کو بشمول یوگا کے مستقل طور پر مستثنیٰ قرار دینا چاہئیے تاکہ مبرا عام کے تحت مسلمان اپنے تعقد پسندی کے مطابق حصہ لیں۔ غیر ضروری کی پابندیاں روک ٹوک ان لوگوں کے نجی فیصلوں اور زندگی کی لذتوں و مشغولیات میں رکاوٹ نہ بنے۔‘‘
5۔   نصوص صریحہ  Clear text
یوگا کے سلسلے میں ہندو مذہبی(ویدی اور برہنمی) کتابوں میں مستند مواد میں نصوص صریحہ  clear text موجود ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یوگا کی بنیاد خالص کفر و شرک پر ہے۔ بھگوت گیتا میں یوگا کی سند موجود ہے اور یوگا میں پڑھے جانے والے سنسکرت کے اشلوک اس بات کی دلیل کے لئے کافی ہیں۔
خالق کائنات کا انکار، خودی، زندگی، عبادت وجود، کون و مکاں کا انکار، انسانی خداؤں کا اقرار یہ سب یوگا میں شامل ہے۔یوگا کے متعلق ارجن و سری کرشنا نے جو تعلیم دی ہے کہ ’’روحانی ارتقاء اور خواہشات ورگیا vargiya سے چھٹکارا و آزادی کے لئے یوگا ضروری ہے۔‘‘(ملاحظہ ہو صفحہ نمبر: light of yoga 1)
اسی طرح یوگا کے متعلق اگر شریعت اسلامی نصوص صریحہ کے متعلق سوال کیا جائے تو اس کی حرمت کا کوئی واضح حکم اصلین میں ہمیں نہیں ملتا اور نہ ہی  فقہاء نے کسی دور میں اس پر تحدیدات عائد کی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گذشتہ صدیوں میں یہ مسائل ملت کے سامنے درپیش نہ تھے اور لوگ یوگا سے لا علم تھے۔
ایک مرتبہ کفر کی مقدس کتابوں سے دلیل ثابت ہو جانے کے بعد یوگا کے خلاف شریعت اسلامی میں واضح نصوص صریحہclear text  کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بلا کسی اختلاف کے مذکورہ حقائق کی موجودگی میں ’’یوگا‘‘ جسمانی ورزش کے طریقہ کار کا بڑا حصہ غیر اسلامی قرار پاتا ہے۔ اس میں راست کفر اور انکار رب و اللہ جل شانہ پایا جاتا ہے۔
اگر یوگا کے متعلق من حیث کل شریعت اسلامی کا حکم معلوم کریں تو پھر یہ ناجائز اور ممنوع قرار پاتا ہے۔کیونکہ یہ ورزش و کسرت ایک مخصوص مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اس طریقہ ورزش کا نہج اور طریقہ کار اور اجزاء ترکیبی کفر خفی سے بھرے ہوئے ہیں۔ یوگا کی کسرت محض صحت کی تندرستی کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ روحانی و ہندو تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے کی جاتی ہے۔یوگا دراصل کفر و شرک کا علمبردار ہے۔
یوگا کی تمام بنیادی باتیں اور اصول راست اسلامی عقائد سے ٹکراتے ہیں۔
  ۱۔توحید، رسالت، کتاب اللہ اور یوم آخرت کا انکار۔
 ۲۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ و یقین۔
 ۳۔ تشبہ بالکفار۔
 ۴۔ہندو مذہبی کتابوں اور انسانی خداؤں کے ارشادات کی اطاعت اور فرمانبرداری۔
 ۵۔اپنے وجود و مخلوق کی پیدائش موت کا سراسر انکار۔
یوگا میں ہندو عقائد کے مطابق روحانی و جسمانی تربیت دی جاتی ہے۔ یوگا کی کسرت کا اصل نصب العین و مقصد ’’پر ماتما ‘‘خالق کل کی ذات میں اپنے آپ کو ضم کر دینا ہے۔ جسمانی صحت و تندرستی کا حصول ذیلی و ثانوی ہے۔
ایک مومن کا مضبوط عقیدہ یہ ہے کہ تمام صفات و کمالات، قدرت، طاقت اور کائنات کا مالک حکمراں و فرمانروا اللہ جل شانہ ہے۔ وہ زمین و آسمان، مشرق و مغرب کا رب ہے۔ وہ ابتداء سے ابد تک رہے گا۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کا کوئی ہمعصر اور نائب اور جز ہے۔
انسان کو ہدایت دینے کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔ نہج و ضابطے حیات، طریقہ زندگی کا اختیار صرف اللہ و رسول ؑ کو حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک اس کی اتباع و اطاعت کی جائے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت و قوت جمادات و نباتات اور کسی شئے و مافوق الفطرت ذات اور مخلوق پر عقیدہ رکھنا سراسر کفر ہے۔ یوگیوں کا عقیدہ اور فکر اسلام کے عقائد و تعلیمات کے خلاف ہے۔
یوگا کی افادیت کو اگر قبول بھی کر لیا جائے تو یوگا کیندر و کیمپوں کے موقع و محل کو دیکھیں تو  ماحول Atmosphere غلبہ کفر Domination of kufr  اور کافرانہ اعمال حرکات و سکنات سے بھرا نظر آئے گا۔
یوگی گرو مہاراج زعفرانی کپڑوں میں ملبوس جٹو و بٹو کے ساتھ تربیت کا آغاز پرنام و نمسکار سے کرتے ہیں۔ یوگا کرنے والے افراد کا ڈریس کوڈ زعفرانی ہوتا ہے۔ تدریب کروانے والے گرو جی منتر اور اشلوکوں کو پڑھنے کے بعد دوران مشق بار بار اوم ہری اوم کی آوازیں حلق کی گہرائیوں سے نکالتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقفہ وقفہ سے کئی طرح کے سری طور پر اشلوک INCANTATI   ONپڑھے جاتے ہیں۔ جس سے کفر کا ایک سماں بن جاتا ہے اور پھر سانس کو بار بار روک کر گیان و مراقبہ کروایا جا تا ہے۔
 یوگا کے متعلق سنجیدگی سے تین سوالات پوچھے جائیں تو اس کے جوابات سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جائے گی۔
  ۱۔یوگا کی تعلیمات اورسند کس مذہب کی ہیں ؟؟
 ۲۔یوگا کے مدرس اور داعی کون ہیں ؟
 ۳۔یوگا کی تحریک کے علمبردار اور اصل محرک و زعماء کون ہیں ؟
ان تینوں سوالات کے جوابات واضح ہیں۔ یوگا کے علوم، اس کے مدرس اور دعوت دینے والے علمبرداروں کی بنیادیں خالص ہندو شاستروں اور ویدوں پر ہے اور وہ سری کرشنا کی تعلیمات کے مطابق یوگا کی تبلیغ کا کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
جو بنیادی باتیں ایمان سے ٹکراتی ہیں وہ یوگا پر کفر کا غلبہ ہے۔یوگا کے عقیدہ اور تصورات میں صرف شرک کی ہی آمیزش نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر یوگا کی تمام تعلیمات کی عمارت کفر و باطل پر کھڑی ہیں۔
اضطراری و استثنائی صورتحال:-
  جن باتوں میں شدید جان و مال کے نقصانات کا خطرہ لاحق ہو۔ بھوک، افلاس، امراض شدید، غربت، ظلم و بربریت یا آفات سماوی جیسے طوفان، زلزلے، سیلاب، آتش فشاں اور متعدی امراض کا پھوٹ پڑنا، مصائب، ایمرجنسی میں ظالمانہ قوانین  و دہشت گردی، نقل مقامی کی اگر صورتحال پیدا ہو جائے تو ان حالات میں شریعت اسلامی میں اضطراری و استثنائی صورتحال میں فرائض، محرمات، ممنوعات اور ناجائز باتوں میں ضرورتوں کے مطابق کسی قدر چھوٹ دی جاتی ہے۔ اور کئی احکامات، اصول و ضوابط وقتی طور پر غیر نافذ اور غیر عمل ہوتے ہیں۔
عصری اور جدید بعض امور جو شرعی اعتبار سے مشتبہ ہوں جس میں ہلکے سے فرق سے جائز اور ناجائز کے احکام تبدیل ہو سکتے ہیں۔ فقہاء مصلحت  عامہInterest of the common good کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ شرعی فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
ایسی کوئی اضطراری و استثنائی صورتحال نہ ہی درپیش ہے اور نہ ہی مصلحت عامہ کے تحت یوگا کو جائز قرار دیا  جا سکتا ہے۔ کیونکہ عامۃ الناس کو کوئی بڑا فائدہ یا نقصان اس ورزش کو کرنے یا نہ کرنے سے ہونے والا نہیں ہے۔ صرف چند لوگوں کے شوق اور عادت کی خاطر یوگا کو مباح قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ کبھی مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت نہیں رہی۔
14صدیوں سے امت اسلامیہ الحمد للہ بغیر یوگا کی ورزش کے صحت مند ہشاش بشاش، فعال اور متحرک ہے۔ تاریخ میں کبھی نہ یوگا کی ضرورت پڑی اور نہ مستقبل کبھی پڑھے گی۔
معروف و معترف علماء دین اپنے اختیار شرعی کو اختیار کر کے اس ورزش کو جائز قرار نہیں دے سکتے۔ جس میں کفر کی قدم قدم پر ملاوٹ و رہبری ہو۔
اسلام نے بنیادی باتوں میں پسند، ناپسند اور رد کا اختیار مومن کو نہیں دیا۔بلکہ خود پسند اور من مانی زندگی کے راستوں کو کاٹ دیتا ہے۔ جو کوئی نفس کی خواہشات کی پیروی کرے گا اس کے لئے ہدایت کی تمام راہیں ختم ہو جائیں گی۔ کسی بھی زمانے کے رائج کردہ ایسے العاب sports & games  یا کسی بھی فیلڈ میں حصہ لینا جو اسلامی عقائد کے منافی ہیں۔ اسلام میں اس سے احتیاط اور اجتناب کو ترجیح دی گئی ہے۔
".. وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ۔(قصص: ۵۰)
اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
    
کسی خاص قسم کی ورزش سے جسمانی قوت حاصل بھی ہو جائے تو کل اس کا زوال اور کمزوری و بڑھاپے سے دوچار ہونا فطری و یقینی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یوگا کی پراکٹس محض صحت مندی، بلڈ پریشر، ذیابطیس وغیرہ جیسے امراض کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے تو ایک بندہ مومن کے لئے یہ سزاوار نہیں کہ وہ مشکوک عمل اور مشرکانہ طریقہ علاج کو اختیار کرئے۔بلکہ وہ کسی متبادل علاج کو اختیار کرے۔ توکل اور صبر سے کام لے اور اللہ پر کامل یقین رکھے۔
"وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ۔(شعراء: ۸۰)
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو (اللہ) مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔"
"وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(العنکبوت ۶۴)
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔"
 مومن کی زندگی کا مقصد دنیا میں کھیل تماشہ اور تفریح نہیں ہے بلکہ ایک نصب العین کے تحت دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔
دنیا میں انسان کی زندگی عارضی ہے۔ انسان دنیا میں لازوال بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ پیدائش سے لے کر موت تک کی مدت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ پیڑیوں پر پیڑیاں، نسلوں پر نسلیں تیزی سے گذرتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن زندگی کے ان چند سالوں میں ہی  ’’بماقدًمت لغد ‘‘ کل یعنی آخرت کے لئے زاد راہ (توشہ) تیار کرنا ہوتا ہے۔
 مومن کا مقصدِ زندگی صرف کسرت اور ورزش کے ذریعہ بہت بڑے Body Builder  بننا یا عظیم کھلاڑی بننا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے ایک طاقتور امت بنانا چاہتا ہے جو اللہ کی رضاء کے لئے حق کو غالب کرئے،کفر و شرک، باطل سؤ و منکرات کا خاتمہ کرئے اور اصلین، کتاب و سنت کے مطابق مضبوط معاشرہ تیار کرے۔  
جسمانی بیماری سے زیادہ مہلک کفر و شرک اور تشکیک قلب کی بیماری ہوا کرتی ہے۔
 جب کسی پر کفر کا رعب چھا جائے اور ان کے دل و دماغ میں مشرکانہ دلکش باتیں جاگزیں ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے قلب و ذہن کو نفاق،  کفر و شرک کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔
جسمانی ظاہری امراض کے کئی طرح کے علاج ممکن ہیں۔لیکن تعقدی امراض کا علاج ممکن نہیں ان کے دل و بدن میں ٹیڑھ پیدا ہونے لگتی  ہے۔ لوگ باوجود افہام و تفہیم کے اسے غیر اسلامی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق سورہ بقرہ آیت ۱۰میں فرمایا:
"فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا..۔البقرہ:۱۰)
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا۔"

 کفر،طغیان، شرک اور سوء و شر کے منظم و غیر منظم دائروں، اداروں، کیندروں اور کیمپوں و مندروں میں کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کے لئے بار بار جانا بھی دل کے مرض کی علامت ہے۔ حق و خیر سے دور باطل و شرک  سے زیادہ قریب ہونا ایمان و عمل صالح کو خطرہ میں ڈالنا اور اللہ کی ناراضگی کو مول لینا ہے۔
ہر فن اور علم کے پیمانوں کا تعین اس کے مستند قوانین، اس کے شارحین، اس کی ماہیت، دائرہ کار اور ہدف سے ہوتا ہے۔ یوگا پر تحقیقاتی نظر ڈالیں تو تمام دلائل و شواہد ہمیں مل جاتے ہیں۔
لیکن ہمیں سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئیے کہ کیا یوگا ہندو مت(ویدی یا برہنمی) کا حصہ ہے؟ اور کیا یوگا ہندو مذہبی عقیدہ کے مطابق ایک مقدس مذہبی عمل(عبادت)ہے یا نہیں ہے؟۔۔۔
ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے چھٹا باب فلسفہ یوگا میں سری کرشنا نے ارجن کو یوگا کے سلسلے میں تفصیل سے سمجھایا اور کہا کہ یوگا درد و الم سے چھٹکارہ دلاتا ہے۔ اور یوگا کی مشق کرنے والا یوگی روحانی الٰہیہ کی نعمت سے نفس کا اطمینان پا لیتا ہے۔
 ’’کرشنا آپ نے کہا کہ یوگا برہمن (آفاقی روح) کے ساتھ اپنے خیالات و احساسات کا تبادلہ ہے۔
ارجن نے سری کرشنا سے پوچھا تم نے یوگا کے متعلق بتایا،روح کے متعلق بتایا۔لیکن انسان کی عقل ہمیشہ بے چین اور مضطرب رہتی ہے۔ عقل مضبوط، ضدی اور پر مقصد ہوتی ہے۔اس کو ہوا کی طرح نہیں خارج کیا جا سکتا ہے۔کرشنا نے جواب دیا یقیناً عقل مضطرب ہوتی ہے اور اس پر گرفت مشکل ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تربیت ابھیاسا (Abhyasa) کے ذریعہ کی جا سکتی ہے اور خواہشات اور ورگیا Vargayaسے چھٹکارا اور آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘ (صفحہ نمبر light of yoga 20)
ہندو نظریات کے مطابق اگر ایک شخص اپنی عقل پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا ہے تو وہ خالق و آفاق میں ضم نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ نفس پر کنٹرول کرنے اور صحیح رخ پر سخت جدوجہد کرنے والا ہو تو اس کو پا لیتا ہے۔
 پتنگلیpatangali  کے مطابق یوگا کے 8  مدارج ہیں۔
۱۔یاماYAMA  عمومی اخلاقی احکامات
۲۔نیاماNIYAMA  ذاتی نفس کی تطھیر اور ڈسپلن
۳۔آسناASNA  جسم کی ساخت
۴۔پرانیماPRANAYAMA روح پر گرفت
۵۔پرتیھاراPRATYAHARA  احساسات کے غلبہ سے اجتناب کرنا
۶۔دھراناDHARANA  توجہ مرکوز کرنا
۷۔دھیانا DHAYANA  مراقبہ
۸۔سمادھیSAMADHI  گہرے غورو فکر اور مراقبہ جس کا مقصد پرماتما  آفاقی روح میں ضم ہو جانا۔
یوگا کی تشریح میں بھگوت گیتا میں ایک اور مقام پر لکھا ہے کہ :   ’’کرما یعنی یوگا وہ جو عمل کے ساتھ ہو۔یوگا ذاتی خواہشات و  خود غرضی سے چھٹکارا دلاتا ہے۔کامیابی و ناکامی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
مذکورہ بالا فقہ کے ان اصولوں کی روشنی میں یوگا کے مبادیات کفر وشرک سے ملتے ہیں۔ گناہ وشر سے مبرا بھی نہیں ہے۔ یوگا کے نصوص بھگوت گیتا سے ملتے ہیں۔ یوگا کے ذرائع کے دروازے کو کھول دینے سے اعتقادی کمزوریاں اور ایمانیات پر برے اثرات پیدا ہوں گے۔ تو صرف اصل کے اعتبار سے یوگا کی ورزشی والی کیفیت پر نظر رکھتے ہوئے اسے مباح اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے؛ بلکہ سد باب ذرائع کے پیش نظر یوگا کو بالکلیہ ممنوع اور مسلمانوں کے لیے ناجائز قرار دیا جائے گا۔(جاری ہے۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

اسلام اور ورزش و کھیل کود:-

کتاب:یوگا کی حقیقت
قسط نمبر:4
(مولف: عمران شہزاد تارڑ ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
اسلام اور ورزش و کھیل کود:-
اسلام نے عقل و روح کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ جسمانی طاقت و قوت میں اضافے کے لئے جسمانی ورزش اور کھیل کود Sports, Games & Physical Exerciseکی اجازت دی ہے۔
اسلامی شریعت میں physical exercise  جسمانی ورزش، کسرت اور کھیل کود کی مختصر وقت میں مکمل اجازت ہے۔ جس کے کئی طریقے رائج ہیں کئی ورزشیں سائنسی طور پر ثابت ہیں جنہیں ڈاکٹر کہتے بھی ہیں اس پر نہ مسلمانوں نے کبھی اعتراض کیا اور نہ ہی علماء و فقہاء نے اس کی مخالفت کی ہے۔جسمانی صلاحیتوں کے لحاظ سے اچھے پیشہ وارانہ کھلاڑی بننے میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے۔جس کے لئے تقریباً بہت سے کھیل فی نفسہ جائز ہیں۔ جبکہ قرآن واسلامی شریعت  میں کئی مقامات پر لہو و لعب کی ممانعت آئی ہے اور اس میں مبتلا ہونے والوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔
کھیلوں کی نوعیت کے اعتبار سے6 زمروں کے کھیل ایسے ہیں جو ممنوع اور ناجائز قرار پاتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
1۔ایسے کھیل جس کے میدان اسٹیڈیم اور کورٹ کا ماحول منکرات سے بھرا ہوا ہو  اور برائیاں و سیاًت اس کا احاطہ کئے ہوئے ہوں۔
2۔ایسے کھیل جس میں شائقین کی دلچسپی جنون کی حد تک بڑھ جائے۔ دن و  رات گھنٹوں کھیل بینی میں وقت سرف کر رہے ہوں جس سے نجی اوقات، ملازمت،کاروبار، تعلیم و تربیت اور عبادات پر غلط اثرات مرتب ہو رہے ہوں۔

3۔ایسے تمام کھیل جس میں شرط جوا، منشیات، عریانیت اور فحش شامل ہوں۔
4۔ایسے تمام کھیل جس سے عقیدہ،اخلاق اور آداب مسلم بگڑنے کا قوی امکان  ہو اور کھیل و ورزش میں کفر و شرک طاغوت کے عناصر کی آمیزش ہو۔
5۔بچوں کے تمام الکٹرانک گیمس جس میں Barbi  باربی ڈول اور کارٹون وغیرہ کو نیم عریاں لباس میں دکھایا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے بچے آزاد اور شرم و حیاء سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں اور مغربی تہذیب کا رنگ ان پر چڑھنے لگتا ہے۔
6۔ ایسے تمام کھیل جس میں جانی نقصان یا ذہنی و جسمانی طور پر معذور و مفلوج ہو جانے کا خدشہ ہو جیسے ریسلنگ یا موذی بری بحری آبی آدم خور جنگلی جانوروں کے ساتھ کھیل کھیلنا۔
ایسے میجسٹک اور غیر مجسٹک کرتب جس میں جان جانے کا خطرہ ہو۔شریعت اسلامی اس کی اجازت ہر گز نہیں دیتی کہ محض کھیل و کرتب کے خاطر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں۔
کھیل کود کی اسلام میں کھلی اجازت ہے۔ لیکن بعض کھیل sports & games جو اسلامی احکامات سے راست یا بالواسطہ ٹکراتے ہیں ممنوع قرار دئیے جاتے ہیں۔
عصر حاضر میں مقامی و عالمی سطح پر جتنے کھیل Games  کھیلے جاتے ہیں بہت سے کھیلوں میں sports men کھلاڑیوں کے ستر کھل جاتے ہیں جس سے ستر کے تمام حدود و قیود ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسلام شرعی حدوں کو توڑنے کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ اس کے لئے بندہ مومن اللہ کے پاس جوابدہ ہے۔ مہنگے مہنگے ٹکٹ خرید کر یا دو دو مہینوں تک کرکٹ، باسکٹ بال،فٹ بال وغیرہ کے لیگ اور سیریل میچس کو پابندی سے دیکھتے رہنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے تماشہ بینوں کی زندگی کا قیمتی وقت لائیو یا ٹی وی پر دیکھنے سے ضائع  ہوتا ہے۔فقہاء نے ایسے کھلیوں سے منع فرمایا ہے جس سے نمازوں کے اوقات زائل کر دئیے جائیں یا جس کھیل سے عورتوں کے موجبات حجاب ٹوٹ رہے ہوں، یا پھر آزادانہ اختلاط مرد و زن ہوں۔ایسے تمام کھیل جس میں وقت، پیسہ اور صلاحیتیں برباد ہوتے ہیں منع کیا گیا ہے۔
مذہب اسلام عقائد، معاملات، مامورات، معمولات اور زندگی کے ہر شعبے میں کلی یاجزوی طور پر کفر وشرک کے عناصر کا باریک بینی سے خاتمہ کرتا ہے اور کسی بھی تہذیب وتمدن کے اجزا کو کفروشرک سے پاک صاف کر کے اپنے اندر ضم کرنے کی وسعت رکھتا ہے۔ اسلام دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلا اور جہاں بھی پہنچا وہاں کے مقامی معاشرہ، تمام باطل ولغو رسم ورواج اور طور طریقوں وعادات واطوار کا خاتمہ کر کے مقامی سماج کو اپنے اندر شامل کیا۔ دور حاضر کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے اور قلب وذہن کو ظاہراً متاثر کر دینے والی کسی بھی قدیم وجدید تہذیب جو اسلام سے متصادم ہو، اس کو اپنانے اور عمل کرنے سے منع کرتا ہے۔
"قرآن کریم نے حرام کاموں کے تدارک کے لیے ابتدائی مراحل میں ہی بندش لگا دی اور ڈانٹ کے ذریعہ پابندی عائد کردی۔ اہل ایمان کو کفر وشرک اور لغو وباطل سے بچانے کے لیے ﷲ تعالی نے مختلف انداز میں تحذیر کے ساتھ تخاطب فرمایا ہے: وَلاتَقرَبُوا (قریب بھی مت ہو) وَاجْتَنِبُوا (اجتناب کرو) اَلَمْ یَان الذِینَ اٰمَنوا (کیا ایمان والوں کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا۔ فَفِرُّوا اِلی اللّٰہ (دوڑو ﷲ کی طرف) وَسَارِعُوا اِلٰی مَغفِرۃٍ مِنْ رَبِّکُم (دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔) اِنّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہْ (یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہذا اسی کی اتباع کرو)۔ ﷲ تعالی نے دعوت، ترغیب، ترہیب، تنبیہہ اور نداء کا ولولہ انگیز مشفقانہ انداز اپنایا، لہو ولعب کی چھوٹی بڑی چیزوں اور بے فائدہ وحرام باتوں کے خاتمہ کا دوٹوک فیصلہ سنایا اور رجوع الی ﷲ، توبہ واصلاح، تقوی ومغفرت کی طرف بلا کسی توقف کے لپکنے اور دوڑنے کی ترغیب دی۔ محسن امت حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع فرمایا: تشبہ بالکفار، تشبہ بالنساء، تشبہ بالرجال۔ یعنی کوئی مومن کافر کی مشابہت اختیار نہ کرے، کوئی مرد کسی عورت کی مشابہت اختیار نہ کرے اور کوئی عورت کسی مرد کی مشابہت اختیار نہ کرے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے ایک دفعہ ایک عورت کو دیکھا جس کی چادر میں صلیب کے نقش ونگار بنے ہوئے تھے، دیکھتے ہی ڈانٹا کہ یہ چادر اتار دو، حضور ﷺ ایسے کپڑوں کو دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے۔ (مسند احمد) قرآن کریم میں ﷲ پاک کی ترغیب وترہیب، نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور صحابہ کرام کا عمل اس بات کی طرف مشیر ہے کہ کفار کے طور طریقے، رسم ورواج، مخصوص مذہبی اسٹائل وانداز کی تقلید کرنا اور کفر سے بھری اصل نوعیت کو بغیر زائل کیے کسی باتوں کی پیروی کرنا کفار کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔"(مفتی محمد فیاض قاسمی)
شریعت اسلامیہ میں کوئی شئے محض مشتبہ ہونے کی بناء پر مباح و حلت کے درجے میں شامل نہیں ہو جاتی بلکہ شکوک و مشتبہ چیزوں پر نوعیت، حالت، نتائج و دلائل، وجوہات و اسباب کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔جب کسی  گناہ، حرام و جرم میں ٹھوس قابل قبول گواہی نہ ملے لیکن علامتیں دستیاب ہوں تو یہ علامتیں خود شہادت بن جاتی ہیں۔ غلط تاویل سے اس کے خلاف حکم شرعی اور مقرر کردہ سزائیں معاف نہیں ہو سکتیں۔
شریعت اسلامی نے جدید مسائل میں بحث و تمحیص اور تنقید،رد و قبول کے دروازوں کو بند نہیں کیا۔ بلکہ تحقیق، بحث، مناقشہ اور استنباط کے ذریعہ اس کے حل کا طریقہ سکھایا۔ جس سے مسائل کو سلجھانے میں مدد ملتی ہے۔
محض جذباتی ذہنی وابستگی اور گروہی، جماعتی اختلاف کی بناء پر کوئی فکر، نہج و طریقہ کار اور طرز عمل کو ممنوع یا مشروع قرار نہیں دیا جا سکتا۔
"یوگا" کی عدم ممانعت کے قائل حضرات کی فکر و استدلال اور غور و تدبر کی سطح اتنی بلند نہیں کہ وہ شریعت کے معین فطری اصولوں کی گہرائی اور حکمتوں کو سمجھ سکیں اور صبر و تحمل کے ساتھ تعقدی خباثتوں پر بھی نظر ڈالیں جو "یوگا" سے پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایسا بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض علماء جو اسے پہلے ناجائز قرار دے چکے تھے۔ پھر کچھ دن بعد عوامی دباؤ میں آ کر اس کے جائز ہونے کا خیال ظاہر کرتے اور خود "یوگا" کے سلسلے میں شک اور تردد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فقہ اسلامی کے چند اہم بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر اصلین سے استنباط  Inference کریں تو انھیں "یوگا" کی ممانعت اور عدم ممانعت کی باتیں سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
اس کے علاوہ مسئلہ کی پیچیدگیاں، ممانعت، عدم ممانعت، اجازت، حلت و حرمت، حدود، تعداد مقدار، وقت، زمان و مکاں، حساب کتاب کو لازمی طور پر بنیاد بنا کر غور و فکر کیا جاتا ہے۔
"مفتی محمد فیاض قاسمی لکھتے ہیں کہ یوگا کی ہیئت کذائیہ یعنی ورزش کے معمولات ڈنڈ بیٹھک کی حد تک اس کی اصل سے علیحدہ کرکے شریعت کا حکم اگر معلوم کیا جائے، تو ظاہر سی بات ہے کوئی بھی مفتی وعالم یقینا ورزش کے زمرہ کی حد تک اسے جائز قرار دے گا۔ لیکن صرف ورزش کی حد تک فنی بنیادوں پر حاصل شدہ اجازت نامہ کی وجہ سے یوگا میں بے شمار مخفی، مشتبہ، مشکوک باتوں اور کفریہ وشرکیہ واضح دلائل کی موجودگی میں یوگا کی ممانعت کا حکم بھی ناقص اور مہمل نہیں سمجھا جائے گا۔
یوگا کی وکالت کرنے والوں کا استدلال یہ ہے کہ ہندو عقائد کی نفی اور اشلوک کے ورد کو چھوڑ کر صرف جسمانی ورزش ممنوع نہیں ہے، کیونکہ اسلام علاقائی اور بیرونی مفید کارآمد باتوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے لوگوں کی نیک نیتی کے پیش نظر یوگا کو جائز قرار دینے والوں نے یہ فیصلہ کیا ہو؛ لیکن یہ خیال رہے کہ کسی پیچیدہ مسئلہ کو کاٹ چھانٹ کر اس کے ٹکڑے اور ذرے ذرے کر کے ایک ہلکے عنصر کو لے کر جواز کا حکم صادر کرنا دور بینی سے الگ نجی فیصلہ قرار پائے گا۔
ٹھیک ہے کہ یوگا ورزش کی حد تک جائز ہے؛ تاہم یہ مُفْضِی اِلی الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ بھی ہے۔ دھیرے دھیرے یہی عمل یوگا سے الفت پیدا کردے گا، لوگ یوگا کے سارے ارکان سے دلچسپی لینا شروع کر دیں گے، یوگیوں کے مٹوں اور کیندروں میں جا کر یوگا کے ذریعہ سارے کفریہ اعمال انجام دیں گے، یہاں تک کہ آنے والی نسل جب مسلمانوں میں رائج یوگا کو پائے گی تو انھیں اس وقت یوگا ایک اسلامی کلچر کی شکل میں نظر آئے گا اور اس کے قبیح ومذموم ہونے کی طرف اس کی توجہ بھی نہیں جائے گی۔ غرض مسلم معاشرہ کا ایمان کفر وشرک کی پیروی میں تبدیل ہو جائے گا لیکن انھیں اس کا احساس بھی نہ ہو گا۔ اس وقت نہ کوئی داعی، عالم اور مصلح کی بات اثر کرے گی اور نہ خود کا ضمیر ملامت کرے گا۔ قلب وذہن پر کفر کے دبیز پردے پڑ جائیں گے۔ زہر چاہے تھوڑی مقدار میں ہی کیوں نہ لیا جاتا رہے وہ اپنا اثر ضرور دکھائے گا اور جسم میں خاموشی سے سرایت کرتے ہوئے موت کے منہ میں دھکیل دے گا۔ یہی معاملہ ایمان وکفر کا ہے۔ لاعلمی اور انجانے میں ایک مومن اگر کفر کی چند یا بعض باتوں کو قبول کرتے کرتے ردِکفر کے جذبہ کو کھو بیٹھے اور ایمان وکفر کے فرق کو اپنی فکرونظر سے اوجھل کر دے تو پھر ایمان پر کفر پوری طرح حاوی ہو جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں مومن کو ہر کافرانہ دعوت وعمل جاذب نظر آنے لگتے ہیں۔
مغلیہ سلطنت کے زوال کے دور میں ملک میں افراتفری اور بد امنی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ ہندو مسلم اہل علم ومذہبی پیشواؤں کا آپس میں رابطہ مضبوط ہو چکا تھا۔ اکبر بادشاہ نے ہندومت اور اسلام ودیگر مذاہب کو ملا کر ایک نیا مذہب ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے بنایا۔ درباری چمچے، شاہی امام اور پنڈتوں نے مل کر اسلامی مذہبی تعلمات کی بنیادوں کو ڈھانے کی کوشش کی اور کئی کافرانہ رسم ورواج حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کے درمیان پروان چڑھائے گئے۔ مولوی اور عامل حضرات سحر، جادو، بھوت پریت اور جنات کے اثرات کو زائل کرنے اور مصیبت زدہ کی آفتوں کو دور کرنے کے لیے ذکر ودعا اور شرعی تعویذوں سے کام لیا کرتے تھے،لیکن اس وقت کے بعض عاملوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ صرف پرانے طریقوں پر قرآنی آیات اور دعا وذکر سے عوام کے باطنی امراض ومصائب کا حل فوراً نہیں ہو سکتا، بلکہ سنسکرت کے اشلوکوں، ہندوؤں کے مقدس طور طریقوں اور پوجا پاٹ کے ذریعہ اس کا حل ممکن ہے۔آج بھی اگر کسی فرد کے پہنے ہوئے تعویز کو کھول کر دیکھا جائے تو اس میں شرک و کفر پر مبنی عبارات ملیں گی۔
اس وقت اسماعیل نامی جیسے کئی مسلم اشخاص نے آچاریوں، رشیوں اور سادھوؤں سے جادو، ٹونا، بھانامتی اور ہندوعملیات کی تعلیم وتربیت حاصل کی۔ وہ اسے سیکھ کر باطل شیطانی کافرانہ سفلی عملیات کے ماہر سمجھے جانے لگے اور اشلوکوں کو قرآنی آیات سے ملا کر خلط ملط کر کے ایک نیا سفلی علم تیار کیا۔ ان کے عملیات کی شہرت ہونے سے وہ یوگی کے نام سے مشہور ہو گے۔ اس سے دوسرے مولویوں یا صوفیوں نے بھی سفلی عمل کو سیکھا اور اس طرح ملت اسلامیہ ہند میں سفلی عمل کا سلسلہ چل پڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج دینی تعلیم سے دور مسلمانوں نے دین اور بے دینی میں فرق کو بھلا دیا، دیوالی، ناگ پنچھی، اماوس کے موقعوں پر بعض جاہل مسلم خواتین کی بڑی تعداد مندروں کے قریب نظر آتی ہے۔ ہندو تیوہاروں میں مانگ پر ٹیکہ لگانا، کلائی پر بدھی باندھنا، مزاروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہاتھ کے اشارہ سے چومنا، گھروں،گاڑیوں اور دوکانوں میں کسی بزرگ کی تصویر یا مزار کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول کی مالا چڑھانا چراغاں کرنا منت کے دھاگے اور قلاوے باندھنا اور تعویز وغیرہ بھی اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ یہ سادہ لوح مسلمان اس حد تک کیسے پہنچے، اس کا محرک کیا تھا․․․؟”اس کی تفصیلات مولف عمران شہزاد تارڑ کی کتاب"رزق میں فراخی اور مشکلات کا حل"میں پڑھیں۔“
یوگا کا معاملہ بھی ٹھیک اسی طرح ہے۔ محض صحت وتندرستی کی خاطر ایک ایسا عمل اور طریقہ کار جس کی جڑیں کفر وشرک سے ملتی ہیں، صرف نیک نیتی کی بنیاد پر اسے مباح قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔"
مذہب اسلام عقائد، معاملات، مامورات، معمولات اور زندگی کے ہر شعبے میں کلی یاجزوی طور پر کفر وشرک کے عناصر کا باریک بینی سے خاتمہ کرتا ہے اور کسی بھی تہذیب وتمدن کے اجزا کو کفروشرک سے پاک صاف کر کے اپنے اندر ضم کرنے کی وسعت رکھتا ہے۔ اسلام دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلا اور جہاں بھی پہنچا وہاں کے مقامی معاشرہ، تمام باطل ولغو رسم ورواج اور طور طریقوں وعادات واطوار کا خاتمہ کر کے مقامی سماج کو اپنے اندر شامل کیا۔ دور حاضر کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے اور قلب وذہن کو ظاہراً متاثر کر دینے والی کسی بھی قدیم وجدید تہذیب جو اسلام سے متصادم ہو، اس کواپنانے اور عمل کرنے سے منع کرتاہے۔
(جاری ہے۔۔۔۔)
نوٹ:۔
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

یوگا کی ترویج اور مودی سرکار:-

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:3)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
یوگا کی ترویج اور مودی سرکار:-
21جون عالمی یوگا ڈے(YOGA DAY) بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ یہ بات دماغ میں اتارنے کی کوشش کی گئی کہ یوگا صرف ایک ورزش ہے، مختلف طریقہ سے جب اس کی حقیقت سامنے آنے لگی تویہ کہا گیا کہ ’’اوم‘‘ پڑھنا ضروری نہیں ہے پھر اس کے بعد یہ کہا گیا کہ سوریہ آسن (سورج) جو نہ چاہیں نہ کریں پھر یہ کہا گیا کہ مختلف آسنوں میں اشلوک پڑھنا بھی ضروری نہیں ہے اس طرح تدریجاً یہ کوشش کی گئی کہ یوگا کو ان لوگوں کے دلوں میں اتارا جائے جو کسی بھی وجہ سے اس سے الگ رہنا چاہتے ہیں۔
 سادھوی پراچی اور مختلف لیڈروں نے یوگا نہ کرنے والوں پر الفاظ کے تیر چلائے اور یہاں تک کہہ دیا کہ "یوگا" قدیم ہندوستانی کلچر کا حصہ ہے جو لوگ نہیں کرنا چاہتے ہیں، وہ بھارت سے چلے جائیں۔یہ کہنا تو مشکل ہے کہ پراچی اور ان جیسے لوگ ایسے کتنے لوگوں کو ملک سے باہر بھیجیں گے جنہوں نے یوگا نہ کیا۔
1857ء ہندوستانی جمہور کے مقررہ آئین ودستور کے مطابق بھارت ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے، لامذہب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست اور ملک کسی ایک مذہب کا نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب اور ہر مذہب کے ماننے والے اس ریاست اور اسٹیٹ کے مالک ہیں اور ملک میں موجود جملہ مذاہب، ان کی مذہبی روایات وتعلیمات اور حقوق بغیر کسی فرق و امتیاز کے یکساں طور پر نافذ العمل ہیں۔ آئین بھارت کا پیش لفظ و دیباچہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ بہت سارے مذاہب جو اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس سیکولر اسٹیٹ اور لامذہبی ریاست میں نہ صرف باقی رہ سکتے ہیں؛ بلکہ اپنے طور پر ترقی بھی کر سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ صحیح طور پر سیکولرزم کا نفاذ ہو اور وہ اپنی حدوں سے تجاوز نہ کرے، اس ریاست کا نظام سیکولر بنیادوں پر اس لیے استوار کیا گیا ہے اور اسے سیکولر اور لامذہبی اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ کوئی مذہب اپنی عددی اکثریت اور غلبہ کی بناء پر راج گرو ہونے کے زعم میں نہ مبتلا ہو جائے۔
لیکن یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ملک کے اقتدار پر قابض طبقہ ملک کے آئین وقانون سے بے نیاز ہو کر اپنے مذہب کو راج گرو کے طور پر پیش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے، اس لیے ملک میں آباد مسلم اور عیسائی وغیرہ کو ہندو بنایا جا رہا ہے، ہندوستان کی ایک سو پچیس کروڑ آبادی پر  زبردستی یوگا مسلط کیا جا رہا ہے۔
مودی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے بابا رام دیو "یوگا" کے سب سے بڑے پیروکار ہیں اور انہی کی کوششوں سے اقوام متحدہ میں یوگا کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے پرچارک نے اہم کردار ادا کیا۔ مودی حکومت بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور یوگا کا عالمی دن منانے کے پیچھے بھی حکومت کا ہی مقصد کار فرما رہا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اقتدار کے پہلے سال میں 27 ستمبر 2014ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69ویں سیشن میں خطاب کیا جس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری سے عالمی یوگا کے انعقاد کی اپیل کی تھی۔ 11 دسمبر کو جنرل اسمبلی نے اس تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جبکہ 21 جون کو عالمی یوگا ڈے(YOGA DAY)منانے کی تجویز کو تسلیم کیا گیا۔
نریندر مودی نے نئی دہلی میں ایوان حکومت جسے راج پتھ کہا جاتا ہے ،کے سامنے لڑکیوں کے جھرمٹ میں ”یوگا” کی کچھ علامتی ورزشیں کیں۔
"یوگا" کا عالمی ریکارڈ بنانے کے لیے یہاں پہلی بار تقریبا 34 ہزار بھارتی شہریوں کو خصوصی طور پر جمع کیا گیا اور یہاں مودی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مشرق سے مغرب تک سورج کی پہلی کرن جہاں بھی پڑے گی اور 24گھنٹے بعد سورج کی کرن جہاں ختم ہو گی، ایسی کوئی جگہ نہیں ہو گی جہاں "یوگا" نہ ہو رہا ہو گا۔ پہلی بار دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ سورج یوگا مشق لوگوں کے لئے ہے اور یوگا مشق کا یہ سورج ڈھلتا نہیں ہے۔ بھارت سرکار کا فخریہ طور پر کہنا تھا کہ دنیا کے 192 ملکوں میں یوگا منایا جا رہا ہے۔جس میں 177 ممالک نے باقاعدہ بین الاقوامی یوگا دن منایا۔جس میں کئی مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ تمام سرکاری ملازمین کے ساتھ تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کو بھی یوگا کی مشق کرنا ہو گی، مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی نے مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے اسکولوں میں چھٹی سے دسویں کلاس تک کے طلبہ کیلئے یوگا کو لازمی قرار دے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ انڈیا کی وزیر سمیریتی ایرانی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ملک کی چھ بڑی یونیورسٹیوں میں یوگا کی تعلیم کی ترویج کے لیے شعبہ جات کھولے جائیں گے۔
سنٹرل یونیورسٹی راجستھان، اندرا گاندھی نیشنل یونیورسٹی امرکرناٹک،وسوا بھارتی یونیورسٹی،ہیمواتی نندن یونیورسٹی، سنٹرل یونیورسٹی آف کیرالہ اور یونیورسٹی آف اُتراکھنڈ میں یوگا ڈیپارٹمنٹ بنائے جائیں گے۔
جبکہ آئین ہند کی رو سے حکومت ہند کا کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ حکومت کسی مذہب یا تہذیب کی اشاعت کر سکتی ہے۔ اس لئے آئین ہند کے پیش نظر یوگ کی سرکاری سرپرستی غلط ہے اور اسے سرکاری تعلیم گاہوں میں رائج کرنا نصابی کتابوں میں شامل کرنا اور فنڈ مختص کرنا اس کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومتی سطح پر انعامات دینا ہندوستان کے آئین کے خلاف اقدامات ہیں۔
 بھارت میں ایک بہت بڑے طبقہ کا یہ ماننا رہا ہے کہ یوگا برہمنی دھرم اور ویدک کلچر کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے سکھوں،مسلمانوں، عیسائیوں اور بہت سے ہندوئوں نے یوگا ڈے سے دلچسپی نہیں لی ورنہ مرکزی حکومت بی جے پی اور آر ایس ایس کی زور آزمائی کے باوجود وزیراعظم مودی صاحب  کے ساتھ صرف تقریبا 34 ہزار افراد یوگا نہیں کرتے۔
اگر یہ یوگا محض ورزش ہی تھی تو مودی سرکار کو اتنی کیا پریشانی تھی کہ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے اقوام متحدہ پہنچ کر وہاں سے "یوگا" کا عالمی دن منظور کروایا...؟۔
بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کی اکثر وبیشتر مورتیاں اسی یوگ کی حالت میں نظر آتی ہے جسے دنیا بھر میں پھیلانے اور عام کرنے کا ٹھیکہ اب  مودی صاحب نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ یوگا میں ہندوئوں کے مقدس ترین لفظ "اوم" کی گردان اور منتروں کا جاپ ہوتا ہے۔ جو لوگ اسے ذہنی و جسمانی ورزش یا نشوونما کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یوگا درحقیقت ہندو ازم کا ایک فلسفہ ہے جس میں آتما (روح)پرماتما (بھگوان) اور شریر (جسم) کو مراقبے کے ذریعے ایک ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
(جاری ہے۔۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

ابتدائیہ:-

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر1)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
ابتدائیہ:-
سب تعریفیں اللہ تعالى کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اور درود و سلام ہو اس ذات گرامی پر جسے تمام انسانوں کے لئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا، جس پر نبیوں اور رسولوں کا سلسلۂ مبارک تمام ہوا، ہمارے نبی اور رسول محمد -صلی اللہ علیہ وسلم-، ان کی آل و اولاد، ان کے رفقاء و اصحاب اور روز قیامت تک ان کی بہتر اتباع کرنے والوں پر۔

دنیا میں "یوگا" کو مقبول عام کرنے کے لئے ہندو احیاء پسند تحریکات مغربی ممالک کے ساتھ عرب اور مسلم ممالک کی نئی نسل میں بھی ’’یوگا‘‘ کے متعلق جاذب نظر لٹریچر کی نشر و اشاعت کا کام بڑے پیمانے پر کامیاب کوشش جاری  ہے۔
جس سے متاثر ہو کر کئی مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز،انٹرنیٹ اور اخبارات و رسائل میں "یوگا" کے فضائل بیان کئے جا رہے ہیں۔ جس سے خواتین و حضرات میں "یوگا" کے متعلق شوق بڑھتا جا رہا ہے۔بلکہ بعض ٹی وی چینل تو صبح کا آغاذ(مارننگ شو) ہی "یوگا" سے کرتے ہیں۔
انسان کی صحت اور تندرستی کے لئے کھیل کود اور ورزش بےحد ضروری ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کئی قسم کی قدیم و جدید ورزش کے طریقے رائج ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شیر خوار بچے سے لے کر معمر افراد تک کو صحت مند زندگی گذارنے کے لئے جسمانی ورزش کرنا ضروری ہے۔
اسلام نے عقل و روح کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ جسمانی طاقت و قوت میں اضافہ کے لیے جسمانی ورزش اور کھیل کود کی اجازت دی ہے۔ قرآن کریم میں ﷲ تعالی نے اہل حق کو ایک طاقت ور قوم و ملت بننے کا حکم دیا اور انفرادی طاقت و قوت کی طرف اشارہ بھی کیا۔
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِه...(سورہ الأنفال:60)
اور تم ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو....۔
ارشاد نبویﷺ ہے۔
اَلْمُومِنُ القَوِیُ خَیرٌ وَاَحَبُّ اِلی اللّٰہِ مِنَ المُومِنِ الضَّعیفِ...۔ (صحیح مسلم:6774،سنن ابن ماجہ: 4168  حکم البانی صحيح)
"ﷲ تعالی کے نزدیک طاقت ور مومن بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن کے مقابلے میں۔"
نبی کریم ﷺ نے جب مسجد میں اہل حبشہ کو نیزوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا:ابوبکر ؓ نے انہیں ڈانٹا، لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” انہیں چھوڑ دو ، بنی ارفدہ تم بےفکر ہو کر کھیلو۔(صحیح بخاری:3530)
متعدد احادیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گھوڑ سواری، تیراکی اور تیر اندازی جیسے کھیل پسند تھے۔البتہ موجودہ زمانہ میں اس کی جگہ جدید آلات نے لے لی ہے۔
جسمانی ورزش کی ہیئت پر مشتمل "یوگا" موجودہ صورت حال میں ایک اہم موضوع بن کر ابھر رہا ہے۔اس تحریر میں "یوگا" کا مختلف پہلوؤں سے مطالعہ اور تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے اور "یوگا" کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوگا کے متعلق اسلامی مفکرین کے نئے نئے علمی تحقیقات و مباحث مستقبل میں ان شاء اللہ آتے رہیں گے۔اس نشست میں جو حق بات دلیل کے ساتھ اخذ کی گئی ہے وہ قارئین کے استفادہ کے لئے قلمبند کر دی گئی ہے۔ اس سلسلہ کو فتوے کی حیثیت سے نہیں بلکہ یوگا کے متعلق ایک مکمل خالص اسلامی موقف کی حیثیت سے دیکھنے اور مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالی سے امید ہے کہ یہ سلسلہ داعیان، مصلحین، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کے لئے ان شاء اللہ کار آمد ہو گا۔ (جاری ہے۔۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

Thursday, 8 March 2018

یوگا بطور پوجا و پرستش:-

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:2)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
یوگا بطور پوجا و پرستش:-
"یوگا" محض ایک ورزش نہیں بلکہ اس کی مذہبی حیثیت رہی ہے۔یوگا ایک برہمنی عبادت و ریاضت ہے، یہ ملک کا نہیں بلکہ ایک خاص طبقہ کا کلچر ہے، جس کی مضبوط جڑیں ہندو دھرم میں پائی جاتی ہیں۔ ہندوؤں کی مقدس کتابوں،ویدوں اور بھگوت گیتا وغیرہ میں یوگا کی تعلیمات ہمیں ملتی ہیں۔
جسے ہندوؤں کے مذہبی پیشوا، رشی منی، سادھوسنت اپنے مٹھوں میں برہمنی مذہبی عقیدہ کے مطابق اپنے چیلوں کے ساتھ بطور فرض روزانہ انجام دیتے ہیں۔ "یوگا" جسے غلط طور پر ورزش کا نام دیا جا رہا ہے۔یوگا کے مہاگرو  یوگی بڑے ہی جاذب اور دلکش انداز سے اس کی تبلیغ و ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔مہا یوگی "یوگا" کے کئی جسمانی و روحانی فوائد کی پر زور تبلیغ کرتے ہیں،خود ہندو مذہبی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پانچ امور پر مشتمل ہے:
(۱)آسنا :جسم کو خاص ساخت میں ڈھالنا۔
(۲)دھرنا :کسی خاص چیز پر دھیان دینا۔
(۳)دھیانا :آنکھیں بند کر کے مراقبہ کرنا۔
(۴)پرانیا :روح پر گرفت حاصل کرنے کی سعی کرنا۔
(۵)سوریہ نمسکار :دونوں ہاتھ جوڑ کر سورج کو آداب بجا لانا۔
آخر دنیا کی وہ کون سی ایسی ورزش ہے جس میں ان مذکورہ امور کا التزام ہے؟
یوگ کے دوران مذہبی اشلوک کی ادائیگی بھی اس کا حصہ ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہزاروں کی تعداد میں آشرم قائم ہیں اور مزید قائم کیے جا رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں سرکاری امداد دی جاتی ہے۔اور اس وقت حکومت ہند بڑے زور شور سے مختلف زبانوں میں"یوگا" کی نشرو اشاعت میں مصروف عمل ہے۔جس کی تفصیلات آگے آ رہی ہیں۔
برہمنی دھرم کی اصطلاح میں انسان اس کی روح اور پر ماتما کے جوڑ کو یوگ کہتے ہیں، وِدّوانوں (ماہرین) کی رائے ہے کہ ’’جیو،آتما پرماتما کے مل جانے کو یوگ کہتے ہیں‘‘ شری کرشن جی نے ارجن جی کو یوگ کی تعلیم دی، بھاگوت گیتا کا چھٹا باب یوگا پر مشتمل ہے اور اس باب کا نام بھی یوگا ہے ساڑھے تین سو صفحے کی کتاب بھاگوت گیتا میں تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر چھٹا باب مشتمل ہے کرشن جی نے ارجن جی کو جہاں یوگا کی تعلیم دی وہی یہ نصیحت بھی کی کہ "یوگا" "کرمسو کو شیلم" کرم (عبادت) کو مہارت کے ساتھ کرنا یوگا ہے۔ کرشن جی کی یہ نصیحت کا مفہوم یہ ہے کہ یوگی کا یوگا یوگ اس وقت بنتا ہے جب اس میں مہارت ہو۔
 برہمنی دھرم میں شروع زمانے سے "یوگا" کو بہت اہم مقام حاصل ہے، شیوجی کو "یوگا" کرتے دکھایا گیا ہے اور گیتا مہا بھارت اپنشد وید جیسی بنیادی دھارمک کتابوں میں "یوگا" کی اہمیت کو بہت مفصل انداز میں بیان کیا گیا ہے، پتنجلی نے "یوگا" کو ایک فن کی حیثیت دی اور اس کے بڑے فوائد گنوائے ہیں، یوگا کی بڑی اہم خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں دھیان کے ذریعہ گیان کی پراپتی ہوتی ہے اور منوش اپنی آتما اور اپنے اندر چھپے ہوئے پرماتما کو پا لیتا ہے اس میں یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ غیب کی چیزوں کو جان لیتا ہے۔
یوگا کا ایک بڑا مقصد دنیا کی تمام تکلیفوں اور آشائشوں سے الگ ہو جانا اور پیدائش اور موت کے چکر سے چھٹکارا پا لینا بھی ہے، مہابھارت میں یوگ کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ منوش برہما کی دنیا میں پرویش کر سکتا ہے (داخل ہو سکتا ہے) یوگا کے جو فوائد بنیادی دھارمک کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ یوگا روح کو پاک کرتا ہے یوگی کو روحانی ہدایت حاصل ہوتی ہے روحانیت میں ترقی ہوتی ہے پرماتما خوش ہوتا ہے یوگی میں ایک غیبی طاقت سما جاتی ہے، یوگی آگ پانی ہوا پر کنٹرول کر سکتا ہے، یوگی کو پچھلے جنموں کی باتوں کا پتہ چل جاتا ہے، اور وقت سے پہلے ہونے والے واقعات کا علم ہو جاتا ہے، یوگی کو اپنی موت کے وقت کی خبر ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
یہ ساری خصوصیتیں جو یوگ کی بیان کی گئیں ہیں ان کا اثر عقیدہ اور عمل پر پڑتا ہے،
 لفظ "اوم" سے یوگا کی ابتدا ہوتی ہے اور ہر مرحلے میں "اوم" کا جاپ ہوتا ہے لفظ اوم برہمنی عقیدہ کے مطابق پرمیشور(برہما وشنو، مہیش) کو پکارنے کیلئے بولا جاتا ہے،
یوگا کی یہ شناخت اور پہچان خود بتا رہی ہے کہ یہ ایک مذہبی طریقہ عبادت ہے، بالفرض اگر اس سے ورزشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے تو یہ اس کی ثانوی حیثیت ہے، اس کی اصل حقیقت تو عبادت و ریاضت ہی کی ہے۔
ابوریحان بیرونی جو قدیم برہمنی مذہب کا ایک مستند مسلم عالم ہے، اس نے بھی اپنی کتاب ”ما للہند“ عربی برہمنی مذہب کی کتابوں کے حوالے سے "یوگا" پر مفصل بحث کی ہے۔
اس وقت بھی انٹر نیٹ پر بے شمار کتب و رسائل اور ویبسائٹ موجود ہیں جس میں یوگا کو بطور مذہبی حیثیت پیش کیا جا رہا ہے۔
ان سب حوالوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ "یوگا" برہمنی رسومِ عبادت پر مبنی ایک عبادت ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یوگا صرف ایک ورزش ہے عقیدہ، دھرم اور تہذیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یا تو یہ لوگ "یوگا" کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، یا جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں، اور اس جھوٹ کے ذریعہ وہ اپنے نظریہ کو سب پر تھوپنا چاہتے ہیں۔
(جاری ہے۔۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان۔
* * * * *

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...