Sunday, 19 November 2017

خواتین نے دوپٹہ یا آنچل استعمال کرنا کیوں چھوڑ دیا ہے؟

خواتین نے دوپٹہ یا آنچل استعمال کرنا کیوں چھوڑ دیا ہے؟

(مولف:عمران شہزاد تارڑ، ڈائریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان )

اسلام نے نگاہ اور زنا کے فتنے سے بچنے کے لئے پردے کی پابندی لگائی ہے۔ عورت عفت و عصمت کی پیکر ہے۔ یہ حیا کی چادر ہے ۔اسلام نے حجاب کی شکل میں عورتوں کو اپنا علیحدہ تشخص عطا کیا ٗ انہیں اپنے مستقل وجود کا احسا دِلایا ٗ مردوں کی ہوس کا اسیر ہونے سے بچایا ٗ بلکہ وہ ہتھیار عطا فرمایا کہ جو ان کے تحفظ کا ضامن ہے۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
"حیاء اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے۔"
( راوی حضرت ابن عمر بہیقی فی شعب الاایمان140/6 حدیث 7727 )

آزادئ نسواں آخر صرف پردہ اتروانے تک کیوں محدود ہے ؟
آزادئ نسواں کا مطالبہ اس حد تک ٹھیک ہے کہ عورت کو تعلیم کا حق حاصل ہو ، ایک بہن، بیوی اور بیٹی کی صورت میں تحفظ حاصل ہو اور پیار و محبت ، شفقت کا سلوک میسر ہو ،
آزادئ نسواں کا مطلب اخلاقی بےراہ روی نہیں ہونا چاہئے!
مغرب کی نقالی میں یہ مت بھولیں کہ آپ ایک مسلمان بھی ہیں اور اسلام وہ پاک مذہب ہے جس نے عورت ذات کو اس وقت عزت دی جب پوری دنیا میں عورت کو پاؤں کی جوتی سے بھی بد تر سمجھا جاتا تھا ،
ایک وقت تھا دوپٹہ صنف نازک کی پہچان تھا مگر آج یہ صنف نازک کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔ بازار ہو یا شادی کا فنکشن یا کوئی ٹی وی چینل غرض جس جگہ بھی ملاحظہ فرمائیں خواتین دوپٹے سے جان چھڑاتی نظر آتی ہیں۔دوپٹہ عورت کے لباس کا ایک اہم جز ہے مگر بدن صنف نازک پر یہ ایک لاوارث لاش کی طرح پڑا نظر آتا ہے۔
پتا نہیں عورت ذات کو ڈوپٹہ سے کیا الرجی ہو گئی ہے؟ ایک وقت تھا کہ یہ رنگین ڈوپٹہ ماحول کو رنگین بناتے تھے۔ آنچل سے ماحول سات رنگی ہو جاتا تھا۔آج دوُپٹہ ایک فیشن ہے پردہ نہیں۔
آج کی صنف نازک چند نام نہاد آرڈیننس کا سہارا لیکر اپنے آپ کو ایکسپوز کروا رہی ہیں۔ایک طرف تو یہ خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں دوسری طرف اس قسم کے فیشن اور رسمیں (اللہ اکبر)۔ کوئی درمیانہ راستہ ہی اختیار کر لیں۔
دوپٹہ تو چلو گیا سو گیا اوپر سے قمیض کے بازو بھی غائب ہو رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی آگے پیچھے سے گلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اور رہی سہی کسر جدید فیشن نے پوری کر دی ہے کہ شلوار پنڈلیوں تک،قمیص کے چاک پسلیوں تک کھلے اور لباس اتنا تنگ کہ جسم کا ایک ایک اعضاء ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔ایک دن آئے گا کہ بدن پر چند برائے نام کپڑے ہی ہوں گے جو فیشن کہلائے گا۔
میڈیا اور یہ رئیس لوگ اس کام میں پیش پیش ہیں۔ خواتین میڈیا کی اندھا دھند نقالی کرتی ہیں بلکہ اس کو اختیار کرنا باعث فخر سمجھتی ہیں
آج مسلمانوں کو اسی فحاشی و بے حیائی میں ترقی نظر آرہی ہے ٗ وہ کہتے ہیں کہ انگریزوں اور مغرب کے لوگوں نے اتنی ترقی کی ہے ٗ ملاں کلچر نے ہمیں کیا دیا ہے ؟ آج یورپی معاشرہ جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ان کی تہذیب کا طلسماتی مینار جس طرح زمین بوس ہو رہا ہے اس کے پیچھے کار فرما عوامل میں بے حیائی ٗ فحاشی اور عورت کا مادر پدر آزاد ہونا ایک اہم عامل کی حیثیت رکھتا ہے۔
عورتوں کی اس حالت کے مرد بھی برابر کے ذمےدار ہیں جو پردے کے ذکر پر کہتے ہیں کہ ہماری بیوی نیک ہے ، ہمیں اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے اور پردہ تو نظر کا ہوتا ہے ، یہاں تک دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ بعض مردوں نے اپنی با پردہ بیوی کو مجبور کر کے برقعہ اتروا دیا .
اب کوئی ان مردوں سے یہ تو پوچھے کہ ان کی بیوی جتنی بھی نیک پارسا ہو ، امہات المؤمنين رضى الله عنها سے بڑھ کر تو نیک ، پارسا اور عبادت گزار تو ہر گز بھی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی، جب امہات المؤمنين رضى الله عنهاکو بھی پردے کا حکم تھا تو پھر آج کی عورت کو کیوں نہیں؟ اور پھر عورت کے لفظی معانی ہی پردے کے ہیں !
عورت وہ چاند نہیں ہونا چاہئے جس کو ہر کوئی بےنقاب دیکھےبلکہ عورت وہ سورج ہونی چاہئے
جسے دیکھنے سے پہلے ہی آنکھ جھک جاۓ !
الله تعالیٰ کا فرمان ہے...!
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں... (سورہ النور:31)
لہذا اللہ تبارک وتعالی کی عدالت میں کھڑے ہونے سے پہلے توبہ کیجئے ! اللہ کو آپ کی توبہ کا انتظار ہے .آپ کی توبہ سے آپ کے گناہ نیکیوں میں تبدیل ہو جائیں گے اللہ کا وعدہ ہے،
دیکھئے الله تعالیٰ کا یہ فرمان.....!
"...جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ(اللہ) بخشنے والا مہربان ہے۔"(الأنعام:54)
مزید فرمایا:
"مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور اللہ تو
بخشنے والا مہربان ہے۔"(الفرقان:70)
 
دوسری طرف مغرب کی عورت تو مکمل طور پر بے حجاب ہو چکی ہے ٗ تو کیا مردوں کے ہاتھوں اس کی عزت وعصمت محفوظ ہو چکی ہے کیا وہ اپنے آپ کو عفت مآب تصور کرتی ہے کیا یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات رہ گئی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عصمت دری انہی مغرب کی آزاد اور قلیل اللباس عورتوں کی جاتی ہے۔

اب بھی اگر ہماری مائیں بہنیں پردہ کرنے کا تہیہ کر لیں تو کبھی بھی عصمت دری کی نوبت نہ آئے ہمارے رسائل ٗ جرائد پر بے پردہ خواتین کی تصاویر بڑے اسٹائلش انداز میں پیش کرکے عورت کے دل سے پردے کی اہمیت کو بالکل ختم کِیا جاتا ہے۔ہماری خواتین اگر ماں ٗ بیٹی ٗ بہن اور بہو غرض کسی بھی رُوپ میں معاشرے میں مقام و عزت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ پردے کو کسی حالت میں نہ چھوڑیں اس کے برعکس اگر خواتین پردے کو اپنی توہین سمجھتی رہیں تو پھر اسی طرح ذلیل و رسواہوتی رہیں گی جس طرح آج ہو رہی ہیں۔مُسلمان عورت پردہ میں رہ کر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کرتعلیم و تربیت اور تبلیغ کا فریضہ انجام دے کر آزادی نسواں کا نعرہ لگانے اور مغربی تہذیب کو گلے لگانے والی خواتین کو شکست فاش دے سکتی ہیں اور اسلام کی فتح مبین اور اس کی سربلندی کا باعث بن سکتی ہیں۔ (ان شاء اللہ

نوٹ؛"پردہ کی شرعی حیثیت" کے اعنوان سے راقم الحروف کا ایک جامع مضمون عنقریب آ رہا ہے جس میں تفصیلی معلومات پیش کی جائے گی۔

بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
www.dawatetohid.blogspot.com

مکمل تحریر >>

Saturday, 18 November 2017

تحریر میں جملے کی اہمیت

کیا آپ ایک اچھا قلم کار(لکھاری) بننا چاہتے ہیں

(انتخاب:عمران شہزاد تارڑ )

تحریر میں جملے کی اہمیت

لکھنے کی ابتدا ایک جملے سے ہوتی ہے۔ اس لیے آج ہم اچھا جملہ لکھنے کے لیے چند بنیادی باتوں پر بات کیے لیتے ہیں۔ کسی بھی بات کو کہنے کے لیے آپ جن الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں، اور جو انداز اختیار کرتے ہیں وہ ایک جملے کی تشکیل کرتے ہیں۔

ایک اچھا جملہ وہ ہوتا ہے جس میں روانی، آسانی، اور اختصار ہو۔ ٹوٹے پھوٹے، طویل، اور مشکل الفاظ والے جملے تحریر کا تاثر خراب کر دیتے ہیں۔ اس لیے آپ سب سے پہلے اس بات کی کوشش کریں کے اپنے جملے ہمیشہ مختصر اور آسان رکھیں۔ بہت سے دوست سمجھتے ہیں کہ ادق اور مشکل الفاظ لکھنا ہی اصل ادیب کی نشانی ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے وہ شعوری طور پر کوشش کرتے ہیں کہ نئے نئے مشکل الفاظ ڈھونڈ ڈھانڈ کر اپنی تحریر میں شامل کریں۔ میرا انکو مشورہ ہوگا کہ جب تک کوئی مشکل لفظ خود سے انکی تحریر میں روانی میں نہ آجائے وہ اپنی اس کوشش کو چھوڑ دیں۔

اگر آپ کوشش کرنا ہی چاہتے ہیں تو جملے کو آسان بنانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیے، آسان مگر پر اثر لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ مگر دنیا کے مقبول ترین تحریروں کو اگر آپ پڑھیں گے تو انکی اکثریت اپنے موضوع کی باقی تحریروں سے مقابلتاً آسان دکھائی دیں گی۔

اپنے لکھنے کی ابتدا مختصر جملوں سے کیجیے۔ بہت سے دوست چاہتے ہونگے کہ وہ اچھا لکھنے کے لیے پہلے ہی دن چار صفحات کا مضمون لکھ ڈالیں۔ اور ممکن ہے آپ میں سے بہت سے دوست فیس بک پر لمبی لمبی تحاریر لکھنے کے عادی بھی ہوں۔ مگر میری پھر بھی آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ اپنی تحریر کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو جملوں کی مشق کیجیے۔ کسی بھی بات کو ایک جملے میں بیان کرنے کی کوشش کیجیے۔ پھر اس جملے کو بہتر بنانے پر توجہ دیجیے۔

چلیے اس کو کچھ مثالوں سے دیکھ لیتے ہیں۔

کل کے دن کچھ یوں ہوا

۔ صبح بادل بنے

۔ دوپہر کو تیز بارش ہوئی

۔ گلیاں پانی سے بھر گئیں۔

۔ سہہ پہر کو مطلع صاف ہو گیا

۔ تیز دھوپ نکل آئی، اور کچھ حبس ہو گیا۔

اس سارے معاملے کو آپ نے ایک جملے میں بیان کرنا ہے۔ تو آپ لکھیں گے کہ

کل صبح بادل بنے، دوپہر تک تیز بارش شروع ہو گئی اور گلیاں پانی سے بھر گئیں ، پھر سہ پہر کو مطلع صاف ہو گیا اور دھوپ نکل آئی جسکی وجہ سے کچھ حبس بھی ہو گیا۔

یہ بالکل ٹھیک ہے اس میں کوئی خامی نہیں۔ مگر یہ ایک خبر ہے۔ اگر آپ صحافی بن کر خبر دینا چاہتے ہیں تو یہیں رک جائیے اس سے آگے جانے کی ضرورت نہیں۔ مگر اگر آپ کو اچھا لکھنے اور اپنے لکھے سے دوسرے پر اثر کرنا ہے تو ابھی محنت کرنا پڑے گی۔

اس جملے کو تھوڑا مختصر کرنے کی کوشش کیجیے۔ خیال رہے کہ جملہ مختصر کرنے سے تفصیل حذف نہ ہو جائے۔

اگلا جملہ آپ کچھ اس طرح بناتے ہیں،

کل صبح کے بنے بادل دوپہر تک خوب برس کر مطلع صاف کر گئے اور دھوپ نکلنے سے گلیوں میں بھرے پانی نے حبس کا سماں بنا ڈالا۔

آپ نے جملہ مختصر کیا، لفظوں کے چناؤ سے بات کو واضح کرتے ہوئے تفصیل کو بیان کیا۔ نئے جملے میں پہلے جملے کی نسبت خبر کے ساتھ ساتھ آپ کی تخلیقی صلاحیت کا اظہار بھی ہے۔

اس جملے کو مزید مختصر کریں، تاثر زائل نہ ہو، تفصیل تقریباً وہی رہے۔

آپ نے لکھا،

کل صبح کے بنے بادل گلیاں بھر گئے تو دھوپ نکل آئی اور بارش کے بعد حبس ہو گیا۔

یا آپ نے لکھا،

کل صبح کے بنے بادل گلیاں بھر گئے تو دھوپ آنگن میں حبس لے آئی۔

اس سے آگے میں آپ کے حسن تخلیق پر چھوڑتا ہوں۔ آپ اس کو مزید مختصر بھی کر سکتے ہیں اور اس میں مزید تفصیل بھی ڈال سکتے ہیں۔ جیسے آخری جملے میں وقت کی بجائے مکان ڈال کر جملے کی ادبیت بڑھائی گئی ہے مگر خبریت کم ہو گئی ہے۔

آپ نے خبر لکھنا ہو، مضمون ، کہانی، یا کتاب۔ شروع آپ نے ایک جملے ہی سے کرنا ہے۔ اس کو اچھا ہونا چاہیے۔ ہر جملہ آپ کا اپنا ہونا چاہیے۔ جب آپ اپنا پہلا جملہ بنالیتے ہیں تو پھر وہی آپ کی تحریر کا انداز طے کرتا ہے۔ آپ کا جملہ ادبی تاثر لیے ہوئے ہوگا تو آپکی تحریر میں ادبی رنگ جھلکے گا۔ آپ کا جملہ خبری انداز میں ہوگا اور آپ کی تحریر بھی خبر کا تاثر ہی دے گی۔

اس مشق کو شروع کریں اور میری رائے میں آپ کو کم از کم پچاس سے سو جملے ایسے بنانا چاہیں جسکے بعد آپ پیراگراف یا اقتباس لکھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔ کوئی سی ایک کتاب لے لیں، یا اخبار کا کوئی صفحہ۔ اس کی تین چار سطروں میں سے ایک تاثر نکال کر اس کو ایک جملے میں بیان کرنے کی کوشش کریں۔ جس طرح میں نے اوپر پہلا، دوسرا ، اور تیسرا جملہ لکھا ہے اسی طرح لکھیے اور موازنہ کیجیے کہ آپ میں کتنی بہتری آئی ہے۔

ایک ہی ہلے میں جملے کو مختصر بنانے کی کوشش نہ کیجیے۔ پہلے اس کو تفصیل کے ساتھ ہی لکھیے۔ پھر اس کو مربوط رکھتے ہوئے مختصر کیجیے۔ پھر تیسری یا چوتھی کوشش میں اس کو اتنا مختصر کردیجیے کہ اس سے مختصر کرنا آپ کے ناممکن ہو جائے۔ جب آپ یہ مشق کر چکیں گے اور کچھ وقت گذرنے کے بعد یہ مشق ہمہ وقت آپ کے زہن میں خود بخود چالو رہے گی۔ اور آپ اپنے زہن میں آئے خیالات کو مربوط اور مختصر کرتے جائیں گے اور جملے کی مختصر اور آسان شکل ہی کو کاغذ یا اسکرین پر لکھیں گے۔ مگر اگر ایسا نہ بھی ہو تو اپنی تحریر کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے آپ یہی کام کرسکتے ہیں اور ہر ایسی تفصیل جو دو تین کی بجائے ایک جملے میں بیان کی جاسکتی ہو وہ آپ کی نظروں میں باآسانی آ جائگی۔

مجھے امید ہے آپ کا اگلا ہفتہ اس مشق کے ساتھ گذرے گا اور آپ اگلے مضمون کے شائع ہونے تک کافی جملے بنا چکے ہونگے۔ اگلی مرتبہ بشرط زندگی و استواری ہم ایک پیرا گراف لکھنے کی کوشش کریں گے اور دیکھیں گے کہ ایک پیرا گراف میں کسی کہانی یا مضمون کا کتنا حصہ سما سکتا ہے؟

پچھلے مضمون پر ایک دوست عمران احمد راجپوت صاحب نے ایک سوال کیا تھا کہ کالم اور بلاگ میں کیا فرق ہے؟

مختصر جواب حاضر ہے،

کالم کسی زمانے میں اخبار میں چھپنے والے مضامین کو کہا جاتا تھا اور بلاگ ویب سائیٹس پر چھپنے والی تحاریر کو۔ البتہ کالم کو زیادہ سنجیدہ ، رسمی اور باقاعدہ تحریر کا درجہ دیا جاتا تھا جبکہ بلاگ کو ایک غیر رسمی بات چیت یا اپنی روزانہ کی ڈائری نما تحریر سمجھا جاتا تھا۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق ختم ہوتا گیا، اور جب اخبارات بھی آن لائن آنے لگے تو یہ فرق بھی ختم ہوتا گیا کہ کالم صرف پرنٹ میڈیا میں ہی چھپتا ہے۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کئی آن لائن ویب میگزین اور اخبارات باقاعدگی سے کالم بھی چھاپ رہے ہیں۔

اب اگر کالم اور بلاگ میں فرق تلاش کیا جائے تو وہ صرف رسمی اور غیر رسمی تحریر کا ہی رہ جائے گا، یا پھر یہ کہ کالم رسمی بھی ہوتا ہے اور باقاعدگی سے شائع بھی ہوتا ہے، جبکہ بلاگ غیر رسمی ہونے کے ساتھ ساتھ دن میں دو بار بھی شائع ہو سکتا ہے اور دس دن کا وقفہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

رسمی کی تھوڑی وضاحت کر دوں، یہ تحریر کی رسمی ساخت کے لیے کہہ رہا ہوں۔ ایک کالم کے اندر عام طور پر ایک مروجہ ترتیب کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور شروع میں موضوع کا تعارف، پھر اس سے متعلق حقائق، اسکے بعد ان حقائق کا تجزیہ اور آخر میں مختصراً حاصل کلام بیان کیا جاتا ہے۔ جبکہ بلاگ میں ایسی کوئی رسمی ترتیب کی ضرورت نہیں ہوتی، لکھنے والا کسی بھی انداز کو اپنا سکتا ہے۔

ibnesufi.com/بشکریہ

بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
www.dawatetohid.blogspot.com

مکمل تحریر >>

" لفظ باجی کا غلط استعمال "

" لفظ باجی کا غلط استعمال "

(انتخاب:عمران شہزاد تارڑ )

ہمارے بادشاہوں کے ایک فرمان کا مفہوم ہے "جگہوں کی تبدیلی سے الفاظ کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں". جیسے لفظ گولی کا معنی اسلحہ کی دکان پہ مختلف اور میڈیکل سٹور پہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی لفظ گولی سائیکل کی دکان پر بولا جائے تو یکسر مختلف معنی ادا کرے گا. کبھی کبھی وقت کا بدلاؤ بھی الفاظ کے معانی بدل ڈالتا ہے. لفظ موبائل، موبائل فون کی ایجاد سے پہلے صرف متحرک کے معنوں استعمال ہوتا تھا آج کل اس کا معنی بالکل بدل چکا ہے. لفظ سکرین کبھی صرف پردے کےلیے استعمال ہوتا تھا اب دیگر معنی بھی رکھتا ہے.
یہ تو تھا الفاظ اور ان کے مفاہیم کا قصہ اب موجودہ مسئلے کی طرف آتے ہیں. وہ معاشرہ جو معتبر الفاظ کے معنی نیچ قسم کے متعین کر دیتا ہے دراصل اخلاقی اور فکری اعتبار سے زوال پزیری کا شکار ہوتا ہے. اور یہ بہت بڑا لمحہ ء فکریہ ہوتا ہے. لفظ استاد اپنے معنی اور مرتبے کے حساب سے کتنا معزز اور معتبر ہوا کرتا تھا. آج کے دور میں ہم لوگ استاد اس آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے اندر استرے جیسی صفات رکھتا ہو۔ یعنی جرم پیشہ یا مکار آدمی کےلیے ہم لفظ استاد استعمال کر کر کے اس کے معنی نیچ کر چکے ہیں. لفظ بچی کتنا معصوم اور پاکیزہ سا لفظ ہوا کرتا تھا جس کے معنی سوچ کر ہی دماغ میں ایک تقدس کا احساس جاگتا تھا. آج جس لڑکی کو اوباشوں نے تاڑنا ہو مخصوص اسی کےلیے یہ بچی کا لفظ استعمال ہوتا ہے. حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اس لفظ کے معنی اتنے گرا دیں گے کہ بالآخر اپنی بہن بیٹیوں کےلیے یہ لفظ ہی ترک کر دیں گے اور یہ ہماری اخلاقی پستی کی انتہا ہو گی. اب یہ لفظ باجی جس کے معانی بڑ ی بہن یا آپا ہے جو آہستہ آہستہ تقدس کھو رہا ہے. باجی دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے جو اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی استعمال ہوتا ہے. بھلے وقتوں میں گھروں کی ایک روایت تھی جو اب بھی کہیں کہیں لجپال گھرانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ کہ مرد جس خاتون کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا اسے بیٹی یا بہن کا درجہ مل جاتا تھا اور پھر وہ اس کی عزت کا ضامن ہوتا تھا، سگے بھائی کی طرح۔
غور کریں منہ سے کچھ کہے بغیر کسی کے سر پر ہاتھ رکھ دینے سے بھی مرد عورت کو بہن یا بیٹی کی طرح عزت دیتا تھا اور جسے منہ سے بہن کہہ دیا جاتا اس کےلیے لازم تھا کہ اسے بہن سمجھ کر عزت دی جائے۔ اب سوشل میڈیا یہ لفظ باجی کا تقدس ہم لوگ ختم کر رہے ہیں۔ فیس بک پر عام مشاہدے کی بات ہے جہاں کسی خاتون تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہو وہاں لفظ باجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز نہیں بلکہ قابلِ شرم بات ہے۔ پہلے باجی یا بہن کہہ کر ان باکس تک رسائی حاصل کرنی اور پھر اپنی اوقات پہ آ جانا۔
بیٹی ماں بہن وغیرہ جیسے لفظ آخری حد ہوتے ہیں۔ جب ایسے الفاظ کا تقدس ہی برقرار نہ رہے تو رشتوں کا تقدس کہاں برقرار رہتا ہے؟ رشتوں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچائیں جسے بہن اور بیٹی کہیں اسے بہن اور بیٹی ہی سمجھیں۔ بہ صورتِ دیگر آنے والے کل میں لفظ بہن اور بیٹی کا بھی وہی حال ہو گا جو ہم استاد اور بچی جیسے الفاظ کا دیکھ رہے ہیں۔ لفظ باجی اور بہن حد سے زیادہ احترام کا متقاضی لفظ ہے۔ جسے حد سے زیادہ احترام دے سکتے ہیں اسی کو بہن کہیں۔ اور کبھی بھی رشتوں کے تقدس سے خیانت مت کریں..!!

بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
www.dawatetohid.blogspot.com

مکمل تحریر >>

Friday, 17 November 2017

مردانہ شہوت اور جسم فروش عورت

مردانہ شہوت اور جسم فروش عورت

(ترمیم و حذف:عمران شہزاد تارڑ )

عورت کو رنڈی، گشتی، فاحشہ اور آوارہ کے القابات دینا بہت آسان ہے، مرد اپنی حوس پوری کرنے کو جرم نہیں سمجھتا، مگر عورت کا اپنی ضرورت پوری کرنا اس کو ناگوار لگتا ہے، اگر کسی جسم فروش کے پاس جائے تو اس کے جسم سے لطف اندوز تو ہوتا ہے مگر بعد ازاں اس کو گالی بھی دیتا ہے اور برے القاب سے بھی نوازتا ہے، اس کے وجود کو گناہ اور برائی کا باعث بھی سمجھتا ہے۔ جب مرد کا دماغ جنسی ہیجان سے نجات پاتا ہے تو مرد اپنے کئے پر پچھتاتا ہے، یہ بھول جاتا ہے کہ فاحشہ تو اپنا پیٹ پالنے کے لئے اپنا جسم بیچ رہی ہے، مگر یہ خود تو صرف اور صرف اپنی شہوت کے باعث اس کے پہلو میں آ کر سویا تھا۔ اسی لئے پدرانہ معاشرہ طوائف اور فاحشہ کے پہلو میں سوتا تو ضرور ہے مگر اپنی ندامت چھپانے کے لئے اس کو برا بھی ضرور کہتا ہے۔
بہت سے مرد طرح طرح کی عورتوں سے جسمانی و رومانوی تعلقات رکھتے ہیں، عورت کے حسن سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں، مگر خود پر مرنے والی عورتوں کو فاحشہ اور گھٹیا سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ عورتیں ان مردوں کی کسی خصوصیت سے حقیقی معنوں میں متاثر ہوتی ہیں۔ شاعروں، مصنفوں، ادیبوں، فنکاروں، گلوکاروں اور اس طرح کے بہت سے مردوں پر بہت سی خواتین فدا رہی ہیں اور وہ ان سےجنسی تعلقات استوار کرنے میں دیر بھی نہیں کرتا، مشاہیر ہمیشہ ہی عورتوں کی توجہ اور کرم فرمائی کا مرکز بنے رہے ہیں، مگر ان میں سے کچھ ایسے سطحی ذہن رکھنے والے بھی گزرے ہیں، جو اپنی مداح عورتوں کی عزت نہیں کر پائے۔
اس طرح کے مردوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایک عورت جو ان کی مداح ہے وہ تو ان کی کسی خوبصورت ادا کے باعث ہے، مگر یہ خود شہوت کے مارے ہوئے ہیں، ان معاملات میں بہت سی عورتوں کا مقصد صرف اپنے پسندیدہ شخص کے قریب آنا ہے، یہ ضروری نہیں کہ عورت واقعی اس کے ساتھ سونا چاہتی ہو، مگر جب اس مرد نے اصرار کیا تو اس نے اس کے ساتھ جسمانی تعلق بھی قائم کر لیا۔ فرق صاف ظاہر ہے ایک طرف ایک شخص کی قدر و منزلت ہے تو دوسری طرف ایک شخص کی شہوت۔
پدرانہ معاشرے نے عورت کو ایک انسان کے طور پر رد کیا ہے، یہ عورت کو صرف اور صرف ایک جنسی آلہ سمجھتا ہے، یعنی عورت کی کسی بھی مرد کی طرف پیش قدمی کو جنسی نوعیت میں لیا جاتا ہے، صرف اور صرف اس عورت کو عزت کے قابل سمجھا جاتا ہے، اور اس کے باکردار ہونے کی گواہی دی جاتی ہے جو اپنے وارث مردوں)باپ، بھائی، شوہر( کے ماتحت رہے، چاہے وہ اب تک رشتہ ازدواج میں نہ بندھی ہو۔ معاشرہ اپنی روش سے بغاوت کرنے والی عورت کو برا جانتا ہی ہے مگر اس سے تعلق استوار کرنے والا مرد بھی اس کو برا ہی سمجھنا دھرے معیار کی انتہا ہے ، خود تو شہوت کی خاطر فاحشہ کو مال و دولت  دیتے ہیں، خواتین کو شیشے میں اتارتے ہیں، اور ایسا کرنے پر فخر کرتے ہیں،اور دوستوں کو اپنے کارنامے بڑے مزے سے شئر کرتے ہیں ۔ مگر عورت کو اپنی مرضی کے مرد کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر گھٹیا سمجھتے ہیں۔ عورت کے کردار کو پرکھنے کا معیار کس طرح سے انسانیت کے تقاضوں پر پورا اتراتا ہے یہ میں آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں۔
عورت اور مرد کی جنسی فطرت میں بھی فرق ہے عورت اگر مجبور نہ ہو تو اس کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرتی ہے جسے وہ کسی نہ کسی صورت پسند کرتی ہو، جبکہ مردوں کی اکثریت جب شہوت کی مار کھاتی ہے تو کسی بھی عورت سے جنسی تعلق استوار کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
اس لئے خود پر مرنے والی خواتین کو گھٹیا سمجھنے والے مردوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو ان کے پیچھے آتی ہیں وہ گھٹیا نہیں، بلکہ وہ خود گھٹیا ہیں جو ہر عورت کو اس کی خصوصیات دیکھنے کے بجائے ایک جنسی لذت کا آلہ سمجھتے ہیں۔
جبکہ کہ اسلامی نکتہ نظر سے مرد و عورت دونوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا برابر حکم دیا گیاہے ۔
لہذا وہ برے القاب  رنڈی، گشتی، فاحشہ اور آوارہ وغیرہ جو عورتوں پر چسپاں کئے جاتے ہیں اتنے ہی مردوں پر صادر ہوتے ہیں۔

بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
www.dawatetohid.blogspot.com

مکمل تحریر >>

کیا آپ ایک اچھا قلم کار(لکھاری) بننا چاہتے ہیں

کیا آپ ایک اچھا قلم کار(لکھاری) بننا چاہتے ہیں

(انتخاب:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

مضمون یا تجزیہ

مضمون میں ایک موضوع کو بیان کیا جاتا ہے اور عموماً اس کے حق و مخالفت میں دلائل کو اکٹھا کیا جاتا ہے، ان دلائل کی بنیاد پر قاری کی رہنمائی مضبوط دلائل کی بنیاد پر موضوع کے حق یا مخالفت کی طرف کی جاتی ہے۔ مضمون میں عموماً انداز بیان قدرے خشک اور علمی ہوتا ہے۔ علمی اصطلاحات کا بکثرت استعمال نہ صرف جائز بلکہ بعض حالات میں مستحسن خیال کیا جاتا ہے۔ مضمون یا تجزیے کی عمومی شکل میں تین حصے ہوتے ہیں، اول ابتدائیہ یا تعارف ہوتا ہے جو پورے مضمون کے دس سے بیس فیصد تک ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ کا ارادہ آٹھ صفحات کا مضمون لکھنے کا ہے تو ابتدائیہ یا تعارف ایک آدھ صفحے سے زیادہ کا نہیں ہونا چاہیے۔

ابتدائیے میں موضوع کے مختصر تعارف، اور زیر نظر مضمون کی بنت پر بات کی جاتی ہے۔ قاری کا زہن تیار کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے صفحات میں کیا پڑھنے جا رہا ہے اور اس سے اس کو کیا حاصل ہونے جا رہا ہے۔ یعنی قاری کو بتایا جاتا ہے کہ زیر نظر مضمون کے آخر میں کیا ممکنہ نتیجہ نکلنے جا رہا ہے۔ یاد رکھیے مضمون ایک سنجیدہ صنف سخن ہے اس لیے اس میں تجسس، ابہام، اور طنز کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ اس میں سادہ اور سلیس انداز بیان ہی مناسب لگتا ہے۔

مثلاً اگر آپ پاکستانی سیاست میں فوجی مداخلت پر مضمون لکھ رہے ہیں تو ابتدائیے میں آپ نے صرف یہ بتانا ہے کہ پاکستانی سیاست میں فوجی مداخلت  کی اہمیت یا اثر کیا ہے، اور آپ نے اس سے متعلق کتنی معلومات اکٹھا کی ہیں، اور ان معلومات کو اس مضمون میں زیر بحث لاتے ہوئے آپ کس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔​

ابتدائیے کے بعد مضمون میں موضوع کے حق و مخالفت کے دلائل و معلومات کا بیان ہوتا ہے جو تحریر کی طوالت کے لحاظ سے سارے مضمون کا تیس سے چالیس فیصد تک ہو سکتا ہے۔ اس میں مضمون نگار موضوع سے متعلق تمام معلومات کو احسن انداز میں قاری تک پہنچاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ تمام متعلقہ حقائق و دلائل کو مختلف پیراگراف میں بانٹ دیا جائے اور اس طرح سے بیان کیا جائے کہ قاری کے زہن میں ایک کہانی سی بنتی چلی جائے۔

اوپر ہی کی مثال لے لیں تو آپ پاکستانی سیاست میں مختلف ادوار میں فوجی مداخلت سے متعلق حقائق کو سلسلہ وار بیان کریں گے اور کوشش کریں گے کہ قاری آگے بڑھنے سے پہلے پاکستان میں ہونے والی تمام فوجی مداخلتوں کے بارے میں آگاہ ہو جائے۔

اگلے پیراگراف میں آپ ان فوجی مداخلتوں سے متعلق عوامی، سیاسی اور دانشور طبقات کی آراء اور ملکی سطح پر جاری علمی و سیاسی بحثوں سے مختلف دلائل اپنے مضمون کے حق و مخالفت میں ترتیب وار پیش کریں گے۔اور قاری کو حقائق کے ساتھ ساتھ موضوع کے حسن و قبح کے بارے میں تعلیم دیں گے۔

مضمون کے تیسرے حصے میں حقائق و دلائل کے بعد مضمون نگار کا اپنا تجزیہ شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مضمون نگار کو اپنے علمی و تجزیاتی جوہر دکھانے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ مضمون کے پہلے حصوں میں بیان کردہ حقائق و دلائل کی روشنی میں مضمون نگار اپنے نتائج اخذ کرتا ہے اور پڑھنے والے کو اپنی اخذ کردہ رائے کی طرف مائل کرتا ہے۔ مضمون کا یہی حصہ کسی مضمون کی جانبداری، نفاست، علمیت اور مہارت کا فیصلہ کرتا ہے۔ ایک اناڑی مضمون نگار بہت سی غلطیاں کرکے اپنی ساری محنت کو ضائع کر دیتا ہے جبکہ ایک کہنہ مشق مضمون نگار اپنی محنت، دیانت، اور موضوع  سے انصاف کی بنا پر  قاری پر​ اپنی دھاک بٹھا دیتا ہے۔

زیادہ تفصیل بتانے کی جا نہیں ہے مگر مختصر طور پر ان غلطیوں کو دیکھے لیتے ہیں۔ پہلی غلطی لکھنے والا یہ کرتا ہے کہ وہ جو بات اپنے تجزیے میں کر رہا ہوتا ہے ، مضمون کے پہلے حصوں میں بیان کردہ حقائق ہی انکی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کافی خطرناک غلطی ہے کہ یہ فوراً ظاہر کر دیتی ہے کہ لکھنے والا اس زہنی سطح پر ہی نہیں ہے کہ وہ مختلف حقائق سے اخذ کردہ نتائج کو مربوط کر سکے۔ دوسری غلطی کسی موضوع کے حق یا مخالفت میں دلائل سے آگے بڑھ کر جذبات کے استعمال کی ہے۔ ایک خاص حد تک مشق کے بعد، یا کچھ تجربہ کار لکھاری بننے کے بعد آپ قاری کے جذبات سے کھیلنا سیکھ جاتے ہیں۔ مگر اپنی شروع کی تحریروں میں اگر آپ کسی موضوع پر مضمون لکھتے ہوئے جذباتی پیرائے اختیار کریں گے تو بہت زیادہ امکان ہے کہ قاری آپ کی گرفت سے نکل جائے اور آپ کو متعصب قرار دے دے۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا ہے کہ مضمون ایک سنجیدہ و علمی صنف ہے اس لیے جذبات کے اظہار کی گنجائش بہت کم ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ  کسی موضوع پر جذباتی ہیں تو ایک سنجیدہ مضمون کی بجائے بلاگ لکھ لیجیے جس میں اس کی کافی گنجائش موجود ہے۔

مضمون کا آخری حصہ خلاصہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی طوالت بھی ابتدائیے کی طرح دس سے بیس فیصد کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ اس میں آپ مضمون کی خلاصہ کرتے ہوئے ساری معلومات جو آپ نے پیش کیں، اور ان معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ جس نتیجے پر پہنچتے ہیں اس کا زکر کرتے ہیں اور قاری کو بتاتے ہیں کہ اس مضمون کے آخر میں اس کو کیا علمی فائدہ ہوا اور موضوع سے متعلق اس کی معلومات کیسے بہتر ہوئی ہیں۔ اچھا خلاصہ لکھنا بھی کافی مہارت کا کام ہے۔ اور ایسا صرف وہی لکھاری کر سکتا ہے جس کو اپنے نفس مضمون پر پوری گرفت ہو اور مضمون لکھتے وقت حاضر زہن کے ساتھ تمام بیان کردہ حقائق و تجزیے کو اپنی نظر میں رکھے۔ خلاصے کا ہرگز مطلب مضمون میں کی گئی باتوں کو من و عن دہرانا نہیں ہوتا، بلکہ ان باتوں کے تزکرے سے قاری کا زہن تازہ کرنا ہوتا ہے کہ مضمون کے آخر میں جو تاثر بن رہا ہے اس کے پیچھے مضمون میں بیان کردہ معلومات کس طرح کارآمد ہوئی ہیں۔

اگر زیر نظر مثال ہی کو زہن میں لائیں تو آپ خلاصے میں لکھیں گے کہ آپ نے پاکستان کے تمام سیاسی ادوار میں ہونے والی فوجی مداخلتوں کا جائزہ لیا، اور معروضی حالات، عوامی احساسات اور دانشورانہ بیانیے کی روشنی میں آپ فلاں نتیجے پر پہنچے۔ یہی اس مضمون کا خلاصہ ہوگا۔

باقی تفصیلات اگلے مضمون میں پڑھیں ۔۔۔

(بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
www.dawatetohid.blogspot.com

مکمل تحریر >>