Monday, 26 June 2017

نام کتاب:الحاد کا علمی تعاقب (نظریہ ارتقاء؟)

نام کتاب:الحاد کا علمی تعاقب
        (نظریہ ارتقاء؟)

(تالیف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان )

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے،
درودوسلام ہو اشرف المرسلین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر،اس  کی آل پر اور اس کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر،
حمد و صلوٰۃ کے بعد عرض ہے:
اللہ تعالیٰ کا بے پنہاں فضل و احسان ہے جس نے مجھے توفیق دی کہ میں 'الحاد کا علمی تعاقب'  کے موضوع پر لکھوں معلومت جمع کروں اور انہیں کتابی شکل میں ڈھال کر قارئین کی خدمت میں پیش کروں۔
میں نے جو کچھ اپنے ذرائع سے تحقیق و مطالعہ کیا اس کو سپرد قلم کر دیا۔اس امر کی میں نے پوری کوشش کی ہے کہ کوئی بات خلاف واقعہ اور کوئی حوالہ غیر صحیح درج نہ ہو۔اس سلسلہ  میں نے مختلف کتب کی ورق گردانی اور سوشل میڈیا سے استفادہ حاصل کیا
۔
میری غرض اس تالیف سے مصنفین کی قطار میں شامل ہونے کی نہیں ہے ،اور نہ میری اتنی  بساط ہے کہ میں ایسے اہم کام کا بیڑا اٹھاوں۔ایک دوست نے واٹس اپ پر"  الحاد " کے حوالہ سے  کچھ معلومات کی درخواست کی ،تو میں نے خیال کیا کہ کیوں نا! اس پر ایک سلسلہ چلایا جائے۔
اگرچہ یہ انتخاب محض سوشل میڈیا کے لئے  ہے۔تو میرے ناتوں ہاتھوں میں اتنی قوت نہیں کہ میں وضاحت سے 'الحاد 'کے وجود کو بیان کروں۔
یہ تالیف دراصل مختلف کتب کے چند منتخب ابواب کا خلاصہ اور ویب سائٹ و بلاگز سے استفادہ کردہ معلومات ہے ،جسے حک واصلاح  اور حذف واضافہ کے ساتھ انٹرنیٹ کی دنیا کے لیے تیار کیا گیا ہے۔چونکہ آج کی سریع الحرکت دنیا اختصار کی طلب گار ہے۔اس لیے اس کی تیاری میں اختصار سے کام لیا گیا ہے ،تفصیل طلب قارئین اصل کتب اور اس موضوع پر لکھی گئی دیگر کتابوں کی طرف رجوع کریں، جن کے نام ہر مضمون  کے آخر پر درج کر دئے جائیں گے۔

اس تالیف میں کوئی ایسا حوالہ  جو غیر سند یا جو اسلام کی طرف  غلط منسوب کیا گیا ہو جس کی اصل نہ ہو ،وہ میری کم علمی اور کم فہمی کی بنیاد ہو گی ۔

خطاو نسیان خاصہ انسان ہے اور نقصِ علم کا اعتراف عین انصاف ہے اس لئے ارباب علم میری اس ادنیٰ سی کاوش کو ملاحظہ فرما کر بے دریغ اپنی رائے اور غلطی سے مطلع فرمائیں اور اللہ گواہ ہے اس سے کوئی تحسین و آفرین مطلوب نہیں بس اہل علم بے تکلف ہر نقص وسُقم سے آگاہی بخشیں تو راقم خلوصِ دل کے ساتھ اپنی غلطیوں کو قبول کر کے ممنون و مشکور ہو گا۔

الحاد:
الحاد کا لغوی معنی: ”میلان اور انحراف“ کا ہے ۔

”الحاد اصل میں ”مطلقاً اعراض وانحراف“ کے معنی میں آتا ہے، اسی لئے بغلی قبر کو بھی لحد کہا جاتاہے، کیونکہ وہ بھی ایک طرف مائل کرکے بنائی جاتی ہے“۔
اصطلاحی معنی: 
اصطلاح کے اندر ”الحاد“ سے ”الحاد فی الدین“ کا معنی ومفہوم مراد لینا شائع وذائع ہے، چنانچہ عرف میں اس لفظ کو ”الحاد فی الدین“ کے ساتھ ہی خاص کر دیا گیا ہے، لہذا جب یہ لفظ بولا جائے تو اس سے دین کے اندر الحاد مراد ہوگا۔ نہ کہ مطلق الحاد،

جیساکہ تفسیر کبیر میں مذکور ہے:
”ملحد“ اصل میں ”انحراف کرنے والے“ کو کہا جاتا ہے اور عرف میں اس لفظ کا استعمال ”حق سے باطل کی طرف انحراف کرنے والے“ پر ہوتا ہے “
یعنی ان لوگوں پر اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے جو دین کی درست راہ سے پھر جاتے ہیں“۔
ظاہر میں تو قرآن اور اس کی آیات پر ایمان وتصدیق کا دعویٰ کرے، مگر اس کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن وسنت کی نصوص اور جمہور امت کے خلاف ہوں اور جس سے قرآن و احادیث کا مقصد ہی الٹ جائے۔
اس طرح  ملحد دین سے انحراف اور آیات قرآنی کو غلط معانی پر محمول کرکے کفر کی وادی میں داخل ہوجاتا ہے۔
دنیا کے تمام کافر اپنے کفر کی تاویل کرتے ہیں، ہر تاویل معتبر مان لی جائے تو پھر تو دنیا میں کوئی بھی کافر نہ رہے گا، کیونکہ مشرکین مکہ کی تاویل تو خود قرآن میں مذکور ہے کہ ”ہم ان بتوں کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں“۔
بعض بے دین اور ملحد ”صلوٰة“ کے لفظ کو عربی کے لفظ ”مُصَلِّی“ (بمعنی دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والے گھوڑے) سے مشتق مان کر ”صلوٰة“ کو ایک جسمانی ورزش قرار دیتے ہیں اور اسی قبیل سے قادیانیوں کی ”ختم نبوت“ کے مفہوم میں تاویل بھی ہے، یہ سب کفرِ محض ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو آسمانی ہدایت اس دنیا کو عطا فرمائی وہ بنیادی طور پر تین عقائد پر مشتمل تھی: یعنی توحید،نبوت و رسالت اور آخرت۔ اس کا خلاصہ یہ ہے اس کائنات کو ایک اللہ تعالی نے تخلیق کیا ہے۔ تخلیق کرنے کے بعد وہ اس کائنات سے لا تعلق نہیں ہو گیا بلکہ اس کائنات کا نظام وہی چلا رہا ہے۔ اس نے انسانوں کو اچھے اور برے کی تمیز سکھائی ہے جسے اخلاقیات (ethics)  یا دین فطرت کہتے ہیں۔ مزید برآں اس نے انسانوں میں چند لوگوں کو منتخب کرکے ان سے براہ راست خطاب کیا ہے اور انہیں مزید ہدایات دی ہیں جن کے مطابق انسانوں کو اپنی زندگی گزارنا چاہئے۔ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے دوبارہ ایک نئی دنیا میں پیدا کیا جائے گا جہاں اس سے موجودہ زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب لیا جائے گا۔ جس نے اس دنیا میں دین فطرت اور دین وحی پر عمل کیا ہوگا، وہ اللہ تعالی کی ابدی بادشاہی یا جنت میں داخل ہوگا اور جس نے اس سے اعراض کیا ، اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
الحاد کا لفظ عموماً لادینیت اور اللہ پر عدم یقین کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اوپر بیان کئے گئے تینوں (عقائد توحید،نبوت و رسالت اور آخرت) ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا انکار یا اس سے اعراض باقی دو کو غیر موثر کردیتا ہے اس لئے ان میں کسی ایک کا انکار بھی الحاد ہی کہلائے گا۔ چنانچہ اس تالیف میں ہم جس الحاد کی تاریخ پر گفتگو کریں گے وہ وجود اللہ تعالی، نبوت و رسالت اور آخرت میں سے نظریاتی یا عملی طور پر کسی ایک یا تینوں کے انکار پر مبنی ہے۔ ہماری اس سلسلہ میں الحاد کی تعریف میں مروجہ Atheism, Deism   اور Agnosticism  سب ہی شامل ہیں۔

اس تالیف میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ وہ کیا عوامل تھے جن کی بنیاد پر الحاد کو اس قدر فروغ حاصل ہوا ؟ دنیا بھر میں الحاد کی تحریک نے کیا کیا فتوحات حاصل کیں اور اسے قبول کرنے والے ممالک اور اقوام کی سیاست، معیشت اور معاشرت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ تاریخ کے مختلف ادوار میں الحاد کی تحریک نے کیا کیا رنگ اختیار کئے اور دور جدید میں الحاد کی کونسی شکل دنیا میں غالب ہے؟ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو چکے ہیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟
******
نظریہ ارتقاء؟؛

کچھ لوگوں کےلئے نظریہ ارتقاءیا نظریہ ڈارون کا مفہوم صرف سائنسی ہے جس سے ان کی زندگی پرکوئی خاص یا براہِ راست اثر نہیں پڑتا۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ نظریہ ارتقاءصرف ایک حیاتیاتی سائنس کے دائرے میں رہنے والا مسئلہ نہیں بلکہ مادّیت جیسے پر دھوکہ فلسفہ کی بنیاد ہے جو لاکھوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہا ہے۔ مادیت فلسفہ صرف مادے کو پہچانتا ہے اور انسانی وجود کو صرف مادے کا ڈھیر تصور کرتا ہے۔ اس فلسفے کے حساب سے انسان ایک جانور سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔
مادّیت کو اگرچہ ایک ترقی یافتہ سائنسی فلسفے کے طور پر فروغ دیا گیا ہے لیکن دراصل مادیت ایک قدیم اور غیر سائنسی عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کی تخلیق قدیم یونان میں ہوئی تھی اور اس کو اٹھارویں صدی کے دہریہ فلسفہ دانوں نے بازیافت کیا۔ یہ عقیدہ انیسویں صدی میں کئی سائنسی شاخوں میں کارل مارکس، چارلس ارون اور سگمنڈفرائڈ جسے مفکروں نے داخل کر دیا۔ لیکن یہ داخلہ ہرگز انسانی فلاح کے لئے نہیں تھا بلکہ ان مفکروں کے اپنے خیالات کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ سائنس کو مسخ کر کے مادّیت کے لئے جگہ بنائی گئی تھی۔

پچھلی دو صدیاں مادّیت کے ہاتھوں ایک خونی اکھاڑہ بنی رہیں ہیں۔ مادّیت پر مبنی عقیدوں نے دنیا بھر میں سر اٹھانا شروع کردیا۔ ان میں مسابقتی نوعیت کے وہ عقیدے بھی تھے جو کہ بظاہر تو مادّیت کے مقابلے پر تھے لیکن جن کے بنیادی اصول مادّیت پر ہی مبنی تھے۔ ان عقیدوں کے ہاتھوں دنیا نے عظیم جنگوں، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا سامنا کیا۔ لوگوں کی سوچ مادّیت کے نعرے ’ زندگی ایک جدوجہد ہے‘ سے گمراہ ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں لوگوں نے اپنی زندگی کو ایک انسان کی دوسرے انسان کے ساتھ کشمکش کی صورت میں جانچنا شروع کردیا اور نتیجتاً دنیا میں ایک طرح کا جنگل کا قانون رائج ہوگیا۔ اس فلسفے کے اثرت پچھلی دو صدیوں میں انسانی تخلیق کردہ تباہیوں اور ان کے پیچھے عقیدوں میں با آسانی تلاش کئے جاسکتے ہیں ۔

ہم نے سلسلہ" الحاد کا علمی تعاقب"کو سوشل میڈیا پر مختلف گروپس پیجز بلاگز اور ویب سائٹ وغیرہ پر قسط وار پیش کیا،جو قارئین نے الحمدللہ! ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہوئےکافی پسند کیا۔
اس لئے ہم نے کچھ قارئین کی خصوصی درخواست پر اس سلسلہ کو پی ڈی ایف(pdf) اور ورڈ فائل (docx)میں مرتب کر دیا ہے۔

آخر میں ان سب مصنفین و مولفین کا احسان مند اور مشکور ہوں جن کی نگارشات سے میں نے استفادہ حاصل کیا۔جن کے نام مضمون کے  آخر پر درج کر دئے جائیں گئے  ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو ہر خاص وعام کیلئے نافع بنائے ،اس کے مرتب اور اس کی نشرواشاعت میں معاون ہر فرد کو جزائے خیر سے نوازے ۔آمین

  بلاگز اور پیجز کے ایڈمن حضرات  کا بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مشکور ہوں ۔ جنہوں نے مجھ نا چیز کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے یہ سلسلہ پیش کرنے کی اجازت فرمائی اور ان قارئین  کرام کا بھی شکریہ جو ہمارے سلسلہ کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔
اس سلسلہ کی ترقی و ترویج کے لئے جس کسی نے جس انداز میں اپنا کردار ادا کیا اللہ تبارک وتعالی اسے دین و دنیا میں اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے۔آمین۔
اس وقت جن جن پیجز گروپس میں یہ سلسلہ جاری ہے ان میں سے چند ایک کے نام  اور لنک مندرجہ ذیل ہیں قارئین ان گروپس اور پیجز کو جوائن کر کے دیگر دوست احباب کے علم سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔چند ایک گروپس اور پیجز کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

https://www.facebook.com/groups/747905965359409/

https://www.facebook.com/groups/jawabat/
 
https://www.facebook.com/groups/mantiqgroup/

https://www.facebook.com/BeautifulNameofAllah/

https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter

https://www.facebook.com/groups/1527641317252910/

https://www.facebook.com/groups/oifd1/

https://www.facebook.com/groups/OperationAtheism/

https://www.facebook.com/groups/rejectliberalism/

https://www.facebook.com/groups/190022134726511/

WhatsApp:0096176390670
00923462115913
 
www.dawatetohid.blogspot.com

http://ur.harunyahya.com

http://ilhaad.com

اس کے علاوہ دیگر کئی گروپس ،پیجز اور بلاگز و ویب سائٹ شامل  ہیں ۔

اس سلسلہ یا تالیف میں سینکڑوں مضامین شامل ہیں ۔جس کی تفصیلات آپ تالیف یا سلسلہ میں ہی ملاحظہ فرمائیں گے البتہ چند ایک مضامین  مندرجہ ذیل ہیں۔

1 ڈارون کا نظریۂ ارتقاء - ایک دھوکہ ایک فریب۔

2۔کیا انسان بندر کی اولاد ہے؟

3۔ ارتقائی انسان کتنی مدت میں وجود میں آیا؟

4۔زندگی کی ابتدا ء کیسے ہو گئی؟

5۔ انسان کا ڈی این اے کیڑے، مچھر اور مرغی سے بھی مماثل ہے؟

6۔ارتقاء پسندوں کی جعلسازیاں ( تصویروں کے ذریعے دھوکے بازی)

7۔نظریہ ارتقاء کی مقبولیت کے اسباب۔

 8۔نظریہ ارتقاء کی برصغیر میں درآمد اور منکرین قرآن۔

9۔نظریہ ارتقا کیا ہے؟

10۔نظریہ ارتقاء کی بابت اسلام کیا کہتا ہے؟۔

11. قبل از اسلام عرب میں حنیفیت (دین ابراھیمی )

12. کیا قرآن نے امراؤالقیس یا امیہ بن ابی الصلت کے اشعار کی نقل کی ہے ؟

13۔ ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاسبہ

14۔چڑیوں اور ممالیہ حیوانات کا تصوراتی ارتقائی۔

15۔مشرق و مغرب میں الحاد کا پھلاو
وغیرہ وغیرہ

اگر آپ یہ سلسلہ ویب سائٹ،بلاگز،پیجز، گروپس یا کسی رسالہ و مجلہ وغیرہ پر نشر کرنے کے خواہش مند ہیں تو رابطہ کریں۔
whatsApp:00923462115913
0096176390670
یا الحاد سے متعلقہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو ہمیں ای میل کریں!
fatimapk92@gmail.com

سابقہ اقساط پڑھنے یا اپنے موبائل میں سیو کرنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں ۔
https://drive.google.com/folderview?id=0B3d1inMPbe7WQktUQmdBb1phMlU
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

مکمل تحریر >>

Sunday, 25 June 2017

انسانی ارتقاءکا منظر نامہ

انسانی ارتقاءکا منظر نامہ

 سلسلہ:الحاد کا علمی تعاقب#49(حصہ دوم)

(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

ہوموہابلس: وہ گوریلا جو انسان بناکر پیش کیا گیا

آسٹرالوپتھیسینز اور چمپانزی کے درمیان ڈھانچے اور کھوپڑی کی مشترک قدریں اور اس دعویٰ کی منسوخی نے کہ یہ مخلوق سیدھی چلتی تھی ، ارتقاءپسند ماہرِ قدیم بشری رکازیات کو شدید مشکلات کا شکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خیالی ارتقائی ترتیب کے حساب سے ہوموارکٹس اسٹرالوپتھیکس کے بعد آتے ہیں جیسے کہ اس کے نام ہومو یعنی انسان سے واضح ہے کہ ہومو ارکٹس ایک انسانی نسل ہے اور اس کا ڈھانچہ سیدھا ہے۔ اس کی کھوپڑی کا حصہ اسٹرالو پتھیکس کا دوگنا ہے۔آسٹرالوپتھییکس جیسے گوریلا نما چمپانزی سے ہومو ارکٹس جیسے دورِ حاضر کے انسان جیسا ڈھانچہ رکھنے والی مخلوق تک براہِ راست جست کا سوال ارتقائی دعوﺅں کے حساب سے بھی ناممکن ہے۔ اسی لئے ان دو نسلوں کو جوڑنے کے لئے کڑیوں کی ضرورت پڑی۔ اسی ضرورت کے تحت ہومو ہابلس کو بنانا لازمی ہوگیا۔

وموہابلس: ایک اور معدوم گوریلا

ارتقاءپسند لمبے عرصے تک یہ بحث کرتے رہے کہ ہوموہابلس نامی مخلوق مکمل طور پر کھڑے قد کے ساتھ چل سکتی تھی۔ ان کے خیال سے اس مخلوق کی شکل میں ان کو گوریلے اور انسان کے درمیان کی کڑی مل گئی ہے لیکن ۶۸۹۱ ءمیں ٹم وائٹ کے دریافت OH شدہ نئے ہوموہابلس کے 62 نامی فوصلوں نے ان مفروضوں کی تردید کردی۔ ان فوصلوں میں ہوموہابلس کے لمبے بازو اور چھوٹی ٹانگیں نمایاں تھیں جوکہ دورِ حاضر کے گوریلوں کے عین مشابہہ ہےں۔ اس فوصل سے اس مفروضے کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا کہ ہوموہابلس عمودی طور پر کھڑا قد چلنے والا دوپایہ تھا۔ درحقیقت ہوموہابلس گوریلوں کی ہی ایک نسل تھی۔امیج میں تصویر نمبر ایک دیکھیں ۔

سیدھے ہاتھ پر نظر آنے والا فوصل ہوموہابلس کا ہے جس میں OH7Homohablis کی نسل ہومو ہابلس نسل کے جبڑوں کی ساخت واضح ہے۔ اس جبڑے کے فوصل میں بڑے بڑے نکیلے دانت نمایاں ہیں۔ اس کے ڈاڑھ چھوٹے اور جبڑے کی عمومی شکل چوکور ہے۔ یہ جبڑا ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہومو ہابلس ایک گوریلا ہی تھا۔
امیج میں تصویر  نمبر 2 دیکھیں ۔

ہوموہابلس کی گروہ بندی ۰۶۹۱ءکے سالوں میں لیکی خاندان کے فوصلی شکاریوں نے تجویز کی۔ لیکی خاندان کے حساب سے اس نئی نسل کا نام ہوموہابلس تھا اور اس کی کئی نمایاں خصوصیات تھیں جن میں بڑی کھوپڑیاں، سیدھا چلنے کی صفت اور پتھر اور لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں کو استعمال کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ اس لئے انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ گروہ انسان کا پرکھا ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔ لیکن اس نسل کے ۰۸۹۱ءکے آخری سالوں میں ملنے والے نئے فوصلوں نے اس منظر کو مکمل طور پر بدل دیا۔ ان نئے فوصلوں پر انحصار کرنے والے تحقیق دانوں برنارڈ وڈ او ر سی۔ لورنگ برلیس نے بیان دےاکہ ہوموہابلس (جس کا مطلب ہے کہ کاریگر آدمی یا وہ آدمی جو اوزار استعمال کرنا جانتا ہو) کو اسٹرالوپتھیکس ہابلس یا ہنر مند جنوبی گوریلا کا خطاب دیا جائے کیونکہ ہوموہابلس اور آسٹرالوپتھیسین گوریلوں کے درمیان کئی قدریں مشترک تھےں۔ ہوموہابلس کے بھی اسٹرالوپتھیکس کی طرح لمبے بازو، چھوٹی ٹانگےںاور گوریلا نما ڈھانچہ تھا۔ اس کی بھی انگلیاں اور پیر چڑھنے کے لئے موزوں تھے اور ان کا جبڑا دورِ حاضر کے گوریلے کے مشابہ تھا۔ ان کی CC600کی کھوپڑی کی اوسطاً پیمائش بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ دراصل گوریلے ہی تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہو موہابلس کو گو کہ ارتقاءپسندوں نے ایک مختلف نسل کے طور پر پیش کیا لیکن حقیقتاً وہ دوسرے تمام اسٹرالاپتھیسین کی طرح گوریلوں کی ہی ایک قسم تھے۔

وڈاور برلیس کے کام کے بعد کی جانے والی تحقیق نے مزید ثابت کیا کہ ہوموہابلس اسٹرالوپتھیکس سے بالکل مختلف نہیں تھے۔ ٹی وائٹ کو ملنے والا OH62 نامی کھوپڑی اور ڈھانچے کا فوصل ظاہر کرتا ہے کہ اس نسل کی کھوپڑی کا حصہ چھوٹا تھا اور اس کے باز لمبے اور ٹانگیں گڈی تھیں جن سے وہ با آسانی دورِ حاضر کے گوریلوں کی طرح درختوں پر چڑھ سکتا تھا۔ ۴۹۹۱ءمیں امریکی ماہر ِبشریات ہولی اسمتھ کی تفصیلی تحقیق نے ثابت کیا کہ ہوموہابلس دراصل ہوموتھے ہی نہیں یعنی کووہ انساننہےں تھے بلکہ وہ بلا اشتہباہ گوریلے تھے۔آسٹریلوپتھیکس، ہوموہابلس، ہوموارکٹس اور ہومو نیانڈر تھالنسس کے دانتوں کے اوپر کی گئی تحقیق کے بارے میں ہولی اسمتھ کہتی ہے:

”مخصوص حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے جب آسٹرالوپتھیسنز اور ہوموہابلس کے دانتوں کی ترتیب کا معائنہ کیا جاتا ہے تو ان نسلوں کی درجہ بندی صرف افریقہ کے گوریلوں کے ساتھ ہی کی جاسکتی ہے۔ ہوموارکٹس اور نیانڈرتھال کی درجہ بندی انسای گروہ میں ہوتی ہے۔“ ۴۷

اس سال کے دوران ماہر ِ تشرےح البدن فریڈ اسپور، برنارڈوڈ اور فرانززونیولڈ ایک مختلف طریقے سے اسی مشترک فیصلے پر پہنچے۔ ان کا طریقہ کار انسان اور گوریلوں کے اندرونی کان میں موجود نیم دائرے کی شکل کی نالیوں کی موازنی تحقیق تھی۔ سپور، وڈ اور زونیولڈ کا نتیجہ یہ تھا کہ:

”انسان کے فوصلوں میں سب سے جدید انسانی شکل پیش کرنے والا نمونہ ہوموارکٹس کا ہے۔ اس کے مقابلے میں جنوبی افریقہ کے خطے کی مخصوص کھوپڑی کی نیم دائرہ نالیاں جوکہ آسٹرالوپتھیکس اور پرانتھروپس کا خاصہ ہیں وہ معدوم بڑے گوریلوں سے مشابہ ہیں۔“75

اسپور، وڈ اور زونیولڈ نے STW53 نامی ہوموہابلس کے نمونے کا بھی مطالعہ کیا اور اس کے بارے میں کہا کہ ”STW53 کا انحصار اپنے دوبازوﺅں پر آسٹرالوپتھیسینز سے کم تھا۔“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہومو ہابلس نمونہ آسٹرالوپتھیکس نسل سے بھی زیادہ گوریلا نما تھا۔ ان تینوں تحقیق دانوں کا خلاصہ یہ تھا کہ:

”STW53 اسٹرالوپتھیسینز اور ہوموارکٹس کی ہےتوں کے درمیان ایک ناممکن کڑی ہے۔“ اس تمام تحقیق سے دو اہم نتائج سامنے آئے۔

۱۔ ہوموہابلس نامی فوصل جنس ہومو یا انسانی جن کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق آسٹرالوپتھیکس یا گوریلوں کے گروہ سے تھا۔

۲۔ ہوموہابلس اور آسٹرالوپتھیکس آگے جھک کر چلنے والی مخلوق تھے یعنی کہ ان کے ڈھانچے گوریلوں کے تھے۔ ان کا انسان کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔

ہوموروڈالفنسس : غلط طریقے سے جوڑا گیا چہرہ

۲۷۹۱ءمیں چند فوصلی ٹکڑوں کی دریافت کو ہوموروڈ ولفنسس کا نام دیا گیا۔ یہ فوصل جس نسل کی نشاندہی کرتے تھے اس کا نام ہوموروڈولفنسس اس لئے رکھا گیا کیونکہ یہ فوصل کینیا کی جھیل روڈالف کے آس پاس کے علاقے میں دریافت کئے گئے۔ بہت سے ماہرِ قدیم بشری رکازیات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ فوصل کسی مخصوص نسل کے فوصل نہیں ہےں اور ہوموروڈولفنسس نامی مخلوق ہوموہابلس سے ناقابل امتیاز ہے۔ یہ فوصل رچرڈ لیکی نے دریافت کئے تھے اور اس نے KNM-ER 1470 نامی ایک کھوپڑی پیش کی جو کہ اس کے بیان کے مطابق ۸۲ لاکھ سال پرانی اور علمِ بشر کی تاریخ کی سب سے اہم دریافت تھی۔

گوریلوں اور انسانوں کے اندرونی کان کی تین قوسی مائع دار نالیوں کے درمیان موازناتی جانچ نے ثابت کردیا ہے کہ جس مخلوق کوانسان کا پرکھا سمجھا جاتارہا ہے وہ گوریلے ہی تھے۔ آسٹرالوپیتھییکس اور ہوموہابلس نسلوں میں گوریلوں کے اندرونی کان کی ساخت موجود تھی جبکہ ہومو ارکٹس نسل کے کان انسانی تھے۔

لیکی کے حساب سے یہ مخلوق اپنی آسٹرالوپتھیکس کی طرح کی چھوٹی کھوپڑی اور دورِ حاضر کے انسان سے ملتے جلتے چہرے کے ساتھ آسٹرالوپتھیکس اور انسانوں کے درمیان گمشدہ کڑی تھی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ KNM-ER 1470 کی انسانی شکل نما کھوپڑی جو کہ اب تک کئی سائنسی جریدوں اور مشہور سائنسی رسالوں کے سرورق پر چھپ چکی تھی دراصل کھوپڑی کی ہڈیوں کی شاید جان بوجھ کر کی گئی غلط ترتیب کا نتیجہ تھی۔ انسانی شکل کی تشریح الاعضاءپر تحقیق کرنے والے پروفیسر ٹم بروماج نے ۲۹۹۱ءمیں کمپیوٹر کے ذریعے بنائے گئے خاکوںکے ذریعے اس معاملے کی دھوکہ دہی سے پردہ اٹھایا:

گوریلوں اور انسانوں کے اندرونی کان کی تین قوسی مائع دار نالیوں کے درمیان موازناتی جانچ نے ثابت کردیا ہے کہ جس مخلوق کوانسان کا پرکھا سمجھا جاتارہا ہے وہ گوریلے ہی تھے۔ آسٹرالوپیتھییکس اور ہوموہابلس نسلوں میں گوریلوں کے اندرونی کان کی ساخت موجود تھی جبکہ ہومو ارکٹس نسل کے کان انسانی تھے۔
امیج میں تصویر نمبر3 دیکھیں ۔

”جب KNM-ER 1470 کو سب سے پہلے بنایا گیا تھا تو اس کے چہرے کو کھوپڑی پر تقریباً عمودی طور پر بٹھایا گیا تھا جس طرح جدید انسانوں کی شکلیں ہوتی ہیں لیکن حالیہ تشریح البدن کی تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چہرہ زندہ KNM-ER 1470 کی زندگی کے دوران کافی حد تک باہر کی طرف نکلا ہوا ہوگا جس طرح گوریلوں کا چہرہ ہوتا ہے۔ یہ چہرہ ہر طور پر آسٹرالوپتھیکس کے چہرے سے مشابہ ہے۔“ ۶۷

ارتقائی ماہرِ قدیم بشری رکازیات جے۔ ای۔ کرونن اس معاملے پر کہتا ہے:

”اس کا مضبوطی سے بنا ہوا چہرہ، ناک کی چپٹی ہڈی، (جس طرح اسٹرالوپتھیسین کی ہوتی ہیں) گری ہوئی کھوپڑی کی چوڑائی، مضبوط آگے کے دانتوں اور داڑھوں کے درمیان نکلے دانت اور بڑے بڑے داڑھ (جس کی نشاندہی بچی ہوئی جڑوں سے ہوتی ہے) سب کافی قدیم خصوصیات ہیں جو کہ جنس آسٹروپتھیکس افریکا نس سے مشترک ہیں۔“ ۷۷

مشیگن یونیورسٹی کا سی۔ لورنگ بریس بھی اسی نتیجے پر پہنچا تھا۔ 1470 کی کھوپڑی کے جبڑے اور دانتوںکی ساخت پر کی جانے والی تحقیق کے بعد اس کا بیان تھا کہ ”جبڑے کی پیمائش اور داڑھوں کی جگہ کی سطح کے ناپ سے لگتا ہے کہ ER-1470 کا ایک مکمل طورپر آسٹرالوپتھیکس کے ناپ کی شکل اور جبڑا تھا۔“ ۸۷

جان ہاپکنز یونیورسٹی کا پروفیسر ماہرِ قدیم بشری رکازیات ایلن والکرے نے بھی KNM-ER 1470 پر اتنی ہی تحقیق کی ہے جتنی لیکی نے کی اور اس کا بھی یہی بیان ہے کہ اس مخلوق کو کسی بھی طور پر ہومویا انسان کی درجہ بندی میںنہیں ڈالاجاسکتا بلکہ اس کی صحیح جگہ آسٹرالوپتھیکس زمرے میں ہی ثابت ہوتی ہے۔“ ۹۷

خلاصہ کے طور پر یہ کہ ہوموہابلس اور ہومو روڈالفنسس جن کو آسٹرالو پتھیسینز اور ہومو ارکٹس کے درمیان عبوری کڑیاں بناکر پیش کیا گیا ہے وہ دراصل خیالی مخلوق کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ کئی تحقیق دانوں نے سالوں پر محیط تحقیق سے ثابت کردیا ہے کہ تمام مخلوق دراصل آسٹرالو پتھیکس سلسلے کی ہی ارکان ہیں۔اس سچائی کی تصدیق مزید دوا ور ارتقائی ماہرِ بشریات برنارڈوڈ اور مارک کولارڈ نے کی جن کا اس موضوع کے اوپر مضمون ۹۹۹۱ءمیں رسالہ ”سائنس“ میں چھپا۔ وڈ اور کولارڈ کا تفصیلی بیان تھا کہ ہوموہابلس اور ہوموروڈالفنسس (کھوپڑی ۰۷۴۱) سراسر خیالی مخلوق ہیں اور ان کے نام پر دکھائے گئے سارے فوصل جنس آسٹرالوپتھیکس کی درجہ بندی کے فوصل ہیں:

”حالیہ دور میں جنس ہومو کی درجہ بندی میں ڈالے گئے فوصل، ان کے بھیجے کی پیمائش، ان کی بات کرنے کی صلاحیت اور ہاتھوں کا استعمال کہ اگر وہ ہاتھوں سے پتھر کے اوزار بنانے کے قابل تھے یا نہیںجےسی تمام خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ کچھ استثنائیوں کے علاوہ انسانی ارتقاءمیں جنس ہومو کی تعریف اور استعمال بغیر کسی مسئلے کے رہا ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق، تمام ثبوت کی تازہ تشریح اور علمِ قدیم بشری رکازیات کے ریکارڈ کی محدود نوعیت ہومو سے وابستہ تمام ثبوت کو کافی حد تک ناقص بنادیتے ہیں۔

عملی طور پر ہومینن نسل سمجھے جانے والے فوصل ہومو درجہ بندی میں چار میں سے ایک یا زائد شرائط کے پورا ہونے پرڈ الے جاتے ہیں لیکن اب یہ واضح ہے کہ چاروں میں سے ایک بھی وجہ تسلی بخش نہیں ہے۔ کھوپڑی کا ناپ مسئلہ پیش کرتاہے کیونکہ کھوپڑی کی حتمی پیمائش کا اندازہ لگانا علمِ بشریات کے حساب سے ایک کافی ناممکن فعل ہے۔ اسی طرح قوتِ گوےائی کا اندازہ محض دماغ کے ناپ سے نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ دماغ کے وہ حصے گوےائی کی صلاحیت کے ذمہ دار ہیں وہ اتنے واضح طور سے قابل شناخت نہیں ہیں جتنا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔دوسرے الفاظ میں ، ہومو ہابلس اور ہومو روڈالفنسس کی مخصوص خصوصیات کے ساتھ یہ تاثر ملتا ہے کہ ہومو کوئی اچھا جنس نہیں ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہومو ہابلس اور ہومو روڈالفنسس کو ہومو کی درجہ بندی سے نکال دیا جائے۔ بظاہر انقسامی متبادل یہ ہے کہ ایک یا دونوں نسلوں کو کسی ایک قدیم انسانی درجہ بندی میں ضرورجذب کردیا جائے۔ گو کہ ایسا کرنا مشکل نہےں ہو گا لیکن فی الحال ہماری رائے یہ ہے کہ ہومو ہابلس اور ہومو روڈالفنسس کو جنس آسٹرالوپتھیکس میں منتقل کردیا جائے۔“ ۰۶

“ قدیم انسان ہمارے اندازوں سے زیادہ عقلمند تھے ”
۸۹۹۱ ءمیں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق ارتقاءپسندوں کی طرف سے نام دئے گئے ہوموارکٹس انسان ، رسالہ ”نیوسائنٹسٹ“ میں مارچ ۴۱ ۰۰۷ ہزار سال پہلے بھی جہاز اور کشتی رانی کی مہارت رکھتے تھے۔ ان انسانوں میں اتنا شعور، عقل اور تکنیکی صلاحیت تھی کہ وہ عمدہ سمندری کشتیاں بناتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تہذیب و ثقافت کسی بھی طور سے قدیم نہیں کہلائی جاسکتی۔ امیج میں تصویر نمبر 4 دیکھیں ۔

وڈ اور کالارڈ کا حتمی نتیجہ بھی وہی ہے جس کے اوپر شروع سے زوردیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ قدیم انسانی پرکھا جیسی کوئی مخلوق تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ جس مخلوق کے بارے میں ازروئے دعویٰ یہ خیال کیا جاتا بھی ہے تو وہ مخلوق دراصل جنس آسٹرالوپتھیکس کا حصہ ہے۔ فوصلی ریکارڈ کے مطابق معدوم گوریلوں اور ہومو یعنی انسانی نسلوں میں کسی قسم کا ارتقائی تعلق نہیں ہے۔ انسانی نسلیں بھی دوسرے تمام جانداروں کی طرح اچانک فوصلی ریکارڈ میں نمودار ہوئیں۔

ہوموارکٹس اور ان کے بعد: انسان

ارتقاءپسندوں کے وہم و خیال پر مبنی منصوبے کے مطابق جنس ہومو کااندرونی ارتقاءاس طرح ہے کہ پہلے ہوموارکٹس آتا ہے، اس کے بعد قدیم ہوموسیپین اور نیانڈر تھال آدمی ہے (ہوموسیپین نیانڈر تھالنسس) اور سب سے آخر میں کروماگنون آدمی (ہوموسیپینز سیپینز) ۔ حقےقت تو ےہ ہے کہ ےہ ساری درجہ بندی صرف ایک ہی خاندان کی مختلف اشکال اور نسلیں ہیں۔ ان سب کے درمیان اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ایک افریقن، ایک بالشتیا او رایک یورپی ملک کے رہنے والے کے درمیان ہوسکتا ہے۔

سب سے پہلے ہوموارکٹس کا معائنہ کیا جاتا ہے جس کو سب سے قدیم انسانی نسل کہا جاتا ہے۔ اس کے نام کے لفظی معنوں کی طرح ےہ وہ آدمی ہے جو بالکل سیدھا چلتا ہے۔ سیدھا چلنے کی خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ارتقاءپسندوں کو یہ فوصل تمام پرانے فوصلوں سے الگ کرنا پڑا کیونکہ ہوموارکٹس کے سارے فوصل اس حد تک سیدھے تھے کہ جس کا مشاہدہ کسی بھی آسٹرالوپتھیسینز یا نام نہاد ہومو ہابلس کے نمونوںمیں نہیں کیا گیا تھا۔ دورِحاضر کے انسان کے ڈھانچے اور ہومو ارکٹس کے ڈھانچے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ارتقاءپسندوں کا ہوموارکٹس کو قدیم کہنے کی بنیادی وجہ کھوپڑی کی پیمائش ہے (CC۰۰۱,۱۔۰۰۹) جو کہ دورِ حاضر کے انسان کی کھوپڑی سے چھوٹی ہے اور اس کی گھنی باہر کو نکلی ہوئی بھنویں ہیں۔ لیکن آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں ہومو ارکٹس سے ملتی ہوئی کھوپڑی کے پیمائش والے لوگ مثلاً بالشتیئے اور گھنی باہر کو نکلی ہوئی بھنوﺅں کے لوگ موجود ہیں جیسے کہ آسٹریلیا کے مقامی باشندے۔

اس بات پر تو سب ہی سائنسدان متفق ہیں کہ کھوپڑی میں پیمائش کا فرق عقل اور صلاحیتوں پر کسی طرح سے اثر انداز نہیں ہوتا۔ عقلمندی دماغ کی اندرونی کارکردگی پر منحصر ہے ناکہ اس کی پیمائش اور ناپ پر۔ ۱۸ ہوموارکٹس کو دنیا بھر میں مقبول کرنے والے فوصل ایشیاءکے جاوامین اور پیکنگ مین ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ ثابت ہوگیا کہ یہ دونوں فوصل ناقابل اعتبار ہیں۔ پیکنگ مین فوصل کے کئی حصے پلاسٹر سے بنائے گئے تھے اور جاوا مین کی ترتیب میں کھوپڑی کے ٹکڑے اور کولہو کی وہ ہڈی بھی شامل ہے جو کہ کھوپڑی سے اتنی دور ملی تھی کہ اس کا اس مخلوق کے جسم کا اصل حصہ ہونے پر بھی شک ہے۔

اسی وجہ سے ایشیاءکی نسبت افریقہ سے ملنے والے ہوموارکٹس فوصلوں کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ (یہاں پر اس نقطے کو اجاگر کرنا ضروری ہے ہوموارکٹس کہلائے جانے والے کئی فوصل کچھ ارتقاءپسندوں نے ایک او ر ’ ہوموارگاسٹر‘ نامی نسل کے اندر ڈال دیئے ہےں۔ اس معاملے میں چونکہ ماہروں کی رائے میں اختلاف ہے اسی لئے عمومی طور پر ان تمام فوصلوں کو ہوموارکٹس کی درجہ بندی کے اندر ہی ڈالا جاتا ہے۔)

افریقہ سے ملنے والا سب سے مشہور ہوموارکٹس کا نمونہ ’ناریکوٹومی ہوموارکٹس یا ترکانہ بوائے ‘ کا فوصل ہے جو کہ کینیا کی ترکانہ جھیل کے نزدیک دریافت ہوا۔ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ یہ فوصل ایک ۲۱ سالہ لڑکے کا ہے جس کا قد نوجوانی میں ۳۸۱ میٹر ہوجاتا۔ ڈھانچے کی سیدھی عمودی ساخت اس کو ایک دورِ حاضر کا انسان ظاہر کرتی ہے۔ امریکہ کا ماہرِ قدیم بشری رکازیات ایلن والکر کہتا ہے کہ اس کو اس بات پربھی شک ہے کسی اوسط درجے کے ماہرِ جسمانی عوارض کے لئے یہ ممکن بھی ہے کہ وہ کسی فوصلی ڈھانچے اور جدید انسان کے درمیان امتیاز کرسکے۔“ ۲۸

والکر لکھتا ہے کہ ترکانہ بوائے کی کھوپڑی دیکھ کر اس کو ہنسی آگئی کیونکہ وہ نیا نڈرتھال سے بےحد مشابہ تھی۔ (۳۸) آگے ثابت کیا جائے گاکہ کےونکہ نیانڈر تھال بھی ایک انسانی نسل ہے ،اس لئے ہومو ارکٹس بھی ایک انسانی نسل ہی ہے۔ ارتقاءپسند رچرڈ لیکی بھی اعتراف کرتا ہے کہ:

”ہوموارکٹس اور جدید انسان کے درمیان معمولی ہےتی فرق سے بڑھ کر کوئی اور فرق نہیںمثلاََ کھوپڑی کی ساخت کا فرق، چہرے کے ابھارکافرق ، بھنوﺅں کی مضبوطی کا فرق اور اسی طرح کے دوسرے معمولی امتیازات جو کہ اتنے ہی غیر اہم ہیں جتنے کہ دورِ حاضر میں مختلف جغرافیائی خطوں میں رہنے والے لوگوں کے درمیان فرق نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے حیاتیاتی فرق اس وقت رونما ہوتے ہیں جب آبادیاں ایک دوسرے سے لمبے عرصے کے لئے مختلف جغرافیائی علاقوں میں رہائش پذیر ہوجائیں۔“ 84

وموارکٹس: ایک حقیقی انسانی نسل
امیج میں تصویر نمبر5 دیکھیں ۔

ہوموارکٹس کا لفظی معنی ہے ”کھڑے قد کا آدمی“ یا ”عمودی آدمی“۔ اس نسلی گروہ میں شامل تمام فوصل خاص انسانی نسلوں کے ہیں ۔کیونکہ اس گروہ میں شامل کئی فوصلوں میں کوئی ایک بھی قدر مشترک نہیں ہے اسی لئے ان آدمیوں کی کھوپڑیوں کی بنیاد پر وضاحت کافی مشکل ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ارتقائی تحقیق دانوںنے ان کی مختلف درجہ بندیاں کردی افریقہ کے کوبی )Left( ہیں اور ان کو کئی الگ الگ القابات دے دئے ہیں۔ اوپر الٹے ہاتھ کی طرف فورا علاقے سے ۵۷۹۱ ءمیں ملنے والی ایک کھوپڑی ہے جوکہ بظاہر ہوموارکٹس کے زمرے میں نامی ایک کھوپڑی ہے جس KNM-ER ہومو ارگاسٹر 3733 )Right( آتی ہے۔ سیدھے ہاتھ کی طرف کی تشخیص قدرے مشکل ہے۔

۰۰۱۱ کے درمیان ہے CC ان تمام مختلف ہوموارکٹس فوصلوں کی دماغی گنجائش ۰۰۹ سے جوکہ دورِ حاضر کے انسان کی دماغی گنجائش کے لگ بھگ ہے۔

۰۰۰۵۱ یا ترکانہ کے بچے KNM-WT سیدے ہاتھ پر نظر آنے والا کا ڈھانچہ آج تک ملنے والے تمام انسانی فوصلوں میں سب سے مکمل اور پرانا انسانی فوصل ہے۔ اس فوصل پر تحقیق اس کی عمر ۶۱ لاکھ سال بتاتی ہے۔ یہ ایک ۲۱ سال کے بچے کا فوصل ہے جوکہ نوجوانی لمبے قد کا ہوجاتا۔ یہ فوصل نیانڈرتھال نسل سے بے حد M میں ۰۸۱ مشابہ ہے اور انسانی ارتقاءکی فرضی کہانی کی تردید کرتا ہوا سب سے اہم ثبوت ہے۔ارتقاءپسند ڈونلڈ جانسن اس فوصل کے بارے میں کہتا ہے:

”یہ ل مبا ا ور دبلات ھا۔ ا س کے جسم کی ظاہری ہیئت اور اعضاءکا تناسب موجودہ وقت کے خط استوا کے قریب رہنے والے افریقی باشندوں کی طرح ہے۔ اس کے اعضاءکا ناپ دورِ حاضر کے سفید شمالی امریکی جوان لوگوں کی طرح ہے“۔

(ڈونلڈ جانسن اور ایم۔اے۔ اڈی: ”لوسی: انسانی نسل کی شروعات، نیویارک، سائمن اینڈشوسٹر، ۸۹ )امیج میں تصویر نمبر 6 دیکھیں ۔

کنکٹیکٹ ےونیورسٹی کے پروفیسر ولیم لوکلن نے شمالی امریکہ کے اسکیمو باشندوں اور الےوٹ کے جزیرے پر رہنے والوں کے اوپر تفصیلی تشریح البدن کی تحقیق کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ یہ سب لوگ غیر معمولی طور پر ہوموارکٹس سے مشابہ ہیں۔ لوکلن کا حتمی نتیجہ یہ تھا کہ یہ تینوں مخصوص نسلیںجدید انسانی نسل یعنی ہوموسیپین ہی کے مختلف قبےلے ہیں۔

”جب ہم اسکیمو اور آسٹریلیا اور افریقہ کے بشمین کے درمیان وسیع فرق کا معائنہ کرتے ہیں جبکہ دونوں ہی ہومو سیپین نسل کا حصہ ہیں تو یہ بات قابل انصاف ہوجاتی ہے کہ سینانتھروپس (جو کہ ارکٹس نمونہ ہے) بھی اسی متنوع نسل کا حصہ ہے۔“ 85

سائنسی حلقوں میں یہ حقیقت اب اور بھی واضح ہوگئی ہے کہ ہومو ارکٹس ایک فاصل برادری ہے اور وہ تمام فوصل جو کہ ہوموارکٹس گروہ کا حصہ سمجھے جاتے تھے وہ جدید ہومو سیپین سے ہرگز اتنی حد تک مختلف نہیں تھے کہ ان کو ایک الگ ہی نسل سمجھ لےا جائے۔ رسالہ امریکن سائنٹسٹ میں اس موضوع کے اوپر بحث اوراےک ۰۰۰۲ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے نتائج کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

”سینکنبرگ کی کانفرنس میں شریک ہونے والے بہت سے لوگ ہومو ارکٹس کی برادری کے سائنسی مقام پر شروع ہوجانے والی ایک گرماگرم بحث میں ملوث ہوگئے جس کو یونیورسٹی آف مشی گن کی ملفورڈ والپوف، یونیورسٹی آف کانبیرہ کے ایلن تھارپ اور اس کے ہم پیشہ لوگوں نے ہوادی۔ انہوں نے سختی کے ساتھ اس نقطے پر زوردیا کہ ہوموارکٹس کا ایک الگ نسل کے طور پر کوئی وجود نہیں ہے اور اس کو مکمل طور پر سائنس سے خارج کردینا چاہئے۔ جنس ہومو کے تمام ارکان ۲ لاکھ سال سے لے کر دورِ حاضر تک ایک اونچی سطح کی تبدل پذیر اور بہت بڑے رقبے پرپھیلی ہوئی ایک ہی نسل ہوموسیپین کا حصہ ہےں جس کے اندر کوئی قدرتی غیر ہم آہنگی یا ذیلی نسلیں نہیں ہیں۔ اسی لئے بحث کے موضوع ہوموارکٹس کا کوئی وجود نہیں ہے۔“ ۶۸

وہ تمام سائنسدان جو اس مقالے کی حمایت میں بول رہے تھے ان کا مشترکہ نتیجہ یہ تھا کہ ”ہوموارکٹس ہوموسیپین سے مختلف نسل نہیں ہے بلکہ ہومو سیپین کے اندر ہی موجود ایک نسل ہے۔“ یہ نقطہ بھی اٹھانا ضروری ہے کہ انسانی نسل ہومو ارکٹس اور ان سے پہلے رہنے والے ارتقاءکے خیالی منظر نامے کے گوریلوں کے درمیان ایک بہت بڑا خلا ہے۔ گوریلوں کی نسلیں آسٹرالوپتھیکس، ہوموہابلس، اور ہومو اور ڈالفنسس ہیں۔ اس کا صرف یہ مطلب نکلتا ہے کہ زمین پر پہلا آدمی فوصلی ریکارڈ میں اچانک کسی بھی طرح کی ارتقائی تارےخ کے بغیر نمودار ہوا۔ یہ تخلیق کا وزنی ثبوت ہے۔

لیکن اس حقیقت کا اعتراف کرنا ارتقاءپسندوں کے ہٹ دھرم فلسفے اور طرزِ فکر کے خلاف ہے۔ نتیجتاً وہ ہوموارکٹس کو ایک گوریلا نما مخلوق کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک خالصتاً انسانی نسل ہے۔ ہوموارکٹس کی نوتعمیرات کرتے ہوئے وہ بے انتہا پرعظم طریقوں سے ان کو انسانوں جیسی خصوصیات کا حامل بنادیتے ہیں۔ اسی طرح کے نوتعمیراتی طریقوں سے وہ آسٹرالوپتھیکس اور ہومو ہابلس جیسے گوریلوں کو انسانی اشکال دے دیتے ہیں ۔اپنی ان چالبازیوں سے وہ انسانوں کو گوریلے اور گوریلوں کو انسان بناکر ان کے درمیان موجود خلاکو پر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
جاری ہے۔۔
اگر آپ یہ سلسلہ ویب سائٹ،بلاگز،پیجز، گروپس یا کسی رسالہ و مجلہ وغیرہ پر نشر کرنے کے خواہش مند ہیں تو رابطہ کریں۔
whatsApp:00923462115913
یا الحاد سے متعلقہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو ہمیں ای میل کریں!
fatimapk92@gmail.com

سابقہ اقساط پڑھنے یا اپنے موبائل میں سیو کرنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں ۔
https://drive.google.com/folderview?id=0B3d1inMPbe7WQktUQmdBb1phMlU
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیلی کی بنیاد پر اقساط کے مطالعہ کیلئے فیس بک یا بلاگ وزٹ کریں۔
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
یا
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

مکمل تحریر >>