تلاش پوسٹس

Sunday, 13 May 2018

*سوشل ویلفیئر*

*سوشل ویلفیئر* 

(تالیف:عمران شہزاد تارڑ ڈائریکٹر  فاطمہ اسلامک سنٹر )

رفاہ عامہ اور معاشرتی فلاح وبہبود کا مطلب، اجتماعی مسائل اور کوششوں کو اس طرح بروئے کار لانا ہے کہ سب کی زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوں۔
آج جب کہ پوری دُنیا، غربت و افلاس، جہالت و جاہلیت اور بدامنی و عدم سکون کا شکار ہے، مادیت کا غلبہ ہے جب کہ روحانیت مفقود ہے، ایسے حالات میں سماجی خدمت اور فاہِ عامہ کی بدولت انسانیت کی فلاح کے لئے کوشش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ 
’’نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو .......۔(سورۃ مائدہ :آیت۲) 
اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں سے اس امر کا تقاضا کر تا ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید نے ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت کی وعید سنائی ہے جو نماز کو رکوع وسجدہ تک محدود رکھتے ہیں اور انسانیت کو حاجات و دکھوں سے نجات دلانے میں تعاون نہیں کرتے۔ارشاد ہوتا ہے: ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں اور جوریا کاری کرتے ہیں اور اشیاء ضرورت کو روکتے ہیں‘‘۔(سورۃ ماعون: آیت ۷۔۴)
اسی طرح سورۃ البقر ہ کی آیت نمبر ۱۷۷، اسلامی عقائد ، عبادات، معاشرتی فلاح وبہبود اور رفاہِ عامہ کا عالمگیر چار ٹر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : 
’’نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب کی طرف اپنا منہ کر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائیں، اور اس کی محبت پر اپنا مال عزیزوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں‘‘۔(سورۃ البقرہ: آیت ۱۷۷) 
انسانی فلاح و بہبود کے اس چارٹر کے مطابق اصلی نیکی اور بھلائی یہ ہے کہ انسان ایمانیات کے نتیجے میں اپنے مال و دولت کے ساتھ محبت اورر غبت کے باوجودا سے معاشرتی بہبود اور رفاہی کاموں پر خرچ کرے۔ اسلام کے معاشرتی بہبود ورفاہِ عامہ کے نظام اور اسلام کی روحانی اور اخلاقی اقدار میں گہرا تعلق ہے۔ اسلام کی یہ اقدار انسان کو ایثار، قربانی اور بے لوث خدمت خلق پر آمادہ کرتی ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے ضرورت مند بھائیوں کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے پر روحانی خوشی محسوس کرتا ہے۔ اور اس کی واضح مثالیں عہد نبوی، عہد خلفاء راشدین اور اموی اور عباسی دور میں بکثرت موجود ہیں۔ 
معاشرتی فلاح و بہبود کے بنیادی اصول سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۱۷۷ میں بیان ہوئے ہیں۔ انہی اصولوں کو عہد رسالت ﷺ خلافت راشدہ ، عہد اموی و عباسی میں قانونی حیثیت دے کرحکومت اسلامیہ کی باضابطہ حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے کہ: 
’’صدقات (زکوٰۃ) تو فقر اء، مساکین ، کارکنانِ صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیفِ قلب منظور ہو، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے (قرض ادا کرنے میں) اور اللہ کی راہ میں مسافروں کی مدد میں (یہ مال خرچ کرنا چاہئے)‘‘۔(سورۃ توبہ: ۴۰) 
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر 
www.dawatetohid.blogspot.com
03462115913
مکمل تحریر >>

ایمانداری

ایمانداری

(مصنف نا معلوم،انتخاب عمران شہزاد تارڑ )

اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بہت سے اصول ہیں۔ان میں سے ایک ایمانداری ھے۔

ایک ایماندار شخص کو ہمیشہ کامیاب شخص سمجہا جاتا ھے۔ کیونکہ یہ اصول اسکی رہنمائ صحیح اور درست رستے کی طرف کرتا ھے۔ اور اسے دنیا کے غم و آلام سے محفوظ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اسے اخروی زندگی میں بھی سکھھ اور آرام پہنچاتا ھے۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری کو اختیار کرکے انسان ایک محفوظ راستے کا انتخاب کرتا ھے۔ کیونکہ اگر ہم روزمرہ زندگی کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ھے کہ ایمانداری کا ہمیشہ اچھا صلہ ملتا ھے۔ ایک ایماندار شخص کی ہمیشہ قدر کی جاتی ھے۔ اور اسے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔ ارد گرد کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ اسکے ساتھھ رابطے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ایک ایماندار شخص مینارہ نور کی طرح ھوتا ھے جو زندگی کے اندھیرے اور تنہائ میں رہنمائ کرتا ھے۔ لوگ اپنی مشکلات اور پریشانیاں اسکے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص ہی انکی مشکلات حل کر سکتا ھے۔ اور وہ اس پوزیشن میں ھوتا ھےکہ انکی مشکلات اور پریشانیوں کا صحیح اور درست حل تجویز کر سکے۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری نہ صرف اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے بہترین پالیسی ھے بلکہ آخرت کے لیے بھی ھے۔

ایک ایماندار آدمی کو آخرت میں عزت و احترام سے رکھا جائے گا۔ اللہ تعالٰی ایسے شخص کو جنت الفردوس میں داخل کرے گا۔ اور روز قیامت اسے اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اس خاص دن کسی بھی چیز، عمارت یا درخت کا سایہ نہ ھو گا۔ کیونکہ تمام عمارتیں اور پہاڑ ھوا میں اڑا دئے جائیں گے۔ اور زمین کو برابر کر دیا جائے گا۔ لوگ بہت عظیم تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ھوں گے۔ سورج عین سر پہ چمک رہا ھو گا۔ اس دن عرش کے سایہ کے سواء کوئی سایہ نہ ھو گا۔ ایماندار اور نیک آدم زاد اور آدم زادیاں، مرد جن اور جننیاں عرش کے سایہ تلے ھوں گے۔ وہ تمام کے تمام بے خوف اور بے غم ھوں گے۔ انکے علاوہ باقی تمام مخلوق روز قیامت بہت پریشان اور مفلوک الحال ھو گی۔ اللہ تعالٰی اس دن سب پر رحم فرمائے۔

اب ہم اس نقطے پہ بحث کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص ایمانداری کو چھوڑ کے بے ایمانی اور بد دیانتی کو اختیار کرے تو کیا ھوگا۔

میں سمجھتا ھوں کہ دنیا کی بنیاد اللہ تعالٰی نے نیکی اور خیر پر رکھی ھے۔ کیونکہ بدی ہمیشہ دنیا سے مٹ جاتی ھے۔ یہ قانون قدرت ھے۔ اور اللہ تعالٰی کا اصول ھے۔  مختلف اقوام کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نیکی اور خیر کو برقرار رکھتا ھے۔ اور بدی اور برآئی کو مٹا دیتا ھے۔ بے ایمان اور بد دیانت شخص کو ہمیشہ سزا ملتی ھے۔ ملکی قانون کے تحت یا قدرت کے اصول کے تحت۔ کیونکہ بنی نوع انسان کی اجتماعی دانش اس بات کا تقاضا کرتی ھے کہ انہیں برائی اور برے طور طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے تاکہ دنیا میں امن و آشتی کو فروغ حاصل ھو۔ اور امن پسند لوگ اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ معاشرے کے لیئے ٹھیک نہیں وہ بغیر کسی خوف کے کام کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ تم برے کام اور برے طور طریقے چھوڑ دو اور امن و اخوت سے رھو۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ روز بروز طاقتور اور مظبوط بھی ھوتے چلے جاتے ہیں۔

دراصل یہ صورتحال کا اصل رخ نہیں ھے۔ ایسے لوگ درحقیقت خوف اور غم میں مبتلا ھوتے ھیں۔ ان کا ضمیر ہمیشہ انکے برے طور طریقوں اور برے اعمال کی وجہ سے انہیں ہر وقت ملامت کرتا رہتا ھے۔ وہ اپنے برے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ بےچین اوربے کیف رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھہ ساتھہ انکا اندرونی خلفشار اور پریشانی بڑھتی رہتی ھے۔ ایک وقت ایسا آتا ھے کہ  ملکی قانون اور قانون قدرت ان پر لاگو ھوتا ھے۔ اور بالآخر وہ قادر مطلق کے سامنے جھک جا تے ہیں۔ اور برے کاموں اور طور طریقوں سے توبہ کر لیتے ہیں۔ یا باز نہ آنے پر سزا پاتے ہیں۔

زندگی ایک آیئنے کی طرح ھے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے صاف ستھرا اور شفاف رکھیں۔ ایمانداری

 کا ئنات کا حسن ھے۔ ہمیں اس حسن میں مزید نکھار اور خوبصورتی پیدا کرنا چاہئیے۔ ہمیں زندگی کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ جو ہمیں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔

دوسری طرف اگر ہم قوانین قدرت اور اقدار پر عمل نہ کریں تو اس سے ہماری زندگی مشکل اور تکلیف دہ ھو جائے گی۔

ایمانداری کو ہم بعض اوقات ایمان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ھے کہ اگر آپ میں ایمان ھے تو آپ ایماںدار ھوں گے۔ کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہی ھے جو ہمیں زندگی میں ایمانداری اور دیانتداری سے رہنا سکھاتا ھے۔ اگر آپ ایک ایماندار شخص ہیں تو یہ بات آپکے شعوراور لاشعور میں ھو گی کہ خدا مجھے دیکھہ رہا ھے۔ اور میں ہر وقت اسکی نگاھوں کے سامنے ھوں۔ یہ عقیدہ آپکو ایک ایماندار شخص بنادے گا۔ آپ ہر وقت اسی عقیدے کو سامنے رکھیں گے۔ اور یہی عقیدہ آپکو بدی کی طاقتوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ آپکو نافرمانی ، سرکشی اور بےایمانی سے محفوظ رکھے گا۔

اب ہم ایمانداری کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

پہلے پم انفرادی زندگی کو لیتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص ہمیشہ خوش و خرم رہتا ھے۔ اسکے والدین، بیوی، بچے اور بہن بھائی اس سے خوش رہتے ہیں۔ اور اسکا احترام کرتے ہیں۔ وہ اسکی خوبیوں اور اسکی ایماندار فطرت کی تحسین کرتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص اپنے خاندان اور تمام دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ھے۔

اپنی انفرادی زندگی میں وہ اپنے بیوی بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور آسانی بہم پہنچاتا ھے۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھاتا ھے۔ تاکہ وہ اچھے اور کارآمد شہری بن سکیں۔ اورملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ اور اسکا بھی بڑھاپے میں سہارا بنیں۔

اور اگر اسکے خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑ جائے تو وہ فوراً اچھے ڈاکٹر سے اسکا علاج کراتا ھے۔ اسکے علاوہ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالتا ھے۔ اور ہوم ورک میں انکی مدد کرتا ھے۔ اپنی بیوی اور بچوں کا بھی خیال رکھتا ھے۔

ان تمام اقدامات سے اسکی زندگی خوشی اور آرام سے گزرتی ھے۔

اجتماعی حوالے سے وہ مقامی، ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پرتمام بنی نوع کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتا ھے۔ مثلا" خیراتی کاموں اور اداروں کے ساتھہ وابستہ ھونا اور انکی مثبت سرگرمیوں میں شامل ھونا۔ وقت پڑنے پر رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔

یہ تمام امور اور سرگرمیاں اسکی اجتماعی زندگی کو بھی خوبصورت اور ہر کشش بنا دیتی ہیں۔

ایمانداری وقت میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں وقت کی پابندی کرنا چاہیئے۔ اور باقاعدگی سے اپنے دفتر یا کام پر جانا چاہیئے۔ اور وقت پر گھر واپس آنا چاہیئے۔ اسی طرح ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہیئے۔ بے شک فی زمانہ وقت ایک دولت ھے۔

ایمانداری روپے پیسے میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں روپیہ حلال اور جائز ذرائع سے کمانا چاہیئے۔ اور حلال اور جائز جگہ اور مواقع پر ہی خرچ کرنا چاہیئے۔ اسکے ساتھہ ساتھہ ہمیں بچت بھی کرنا چاہیئے تاکہ آڑے اور مشکل وقت میں کام آئے۔

ایمانداری کام میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں اپنا کام وقت پر اور درست طریقے سے کرنا چاہیئے۔ اور اس طرح سے کام کرنا چاہیئےکہ آجر ہم سے خوش اور ہمارے کام سے مطمئن ھو۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری زندگی کا ایک بہترین طریقہ اور روشن راستہ ھے۔ ہمیں اسی روشن راستے پر چلنا چاہیئے۔ تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ھوں۔ 
Islamic services
www.dawatethid.blogspot.com

we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>

Saturday, 12 May 2018

آن لائن کاروبار: کم سے کم سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ منافع

آن لائن کاروبار: کم سے کم سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ منافع

(از:مزمل شیخ بسمل)

آن لائن دنیا ایک بہت ہی وسیع جہاں ہے۔ صرف اسی لحاظ سے نہیں کہ یہاں آپ کو ہر قسم کی معلومات اور ہر طرح کی انٹرٹینمنٹ کا سامان میسر آتا ہے، بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی کاروبار کی مارکیٹ بھی ہے۔

دنیا کی کُل آبادی کا 50 فیصد حصہ اس وقت انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کتنے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں؟ ہمیں دراصل غرض اس بات سے ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اگر ایک جگہ جمع ہو جائے تو کون سا ایسا کام ہے جو ممکن نہیں؟ کون سی ایسی چیز ہے جو یہاں بیچی نہیں جا سکتی؟ کون سا ایسا ہنر ہے جس کے بدلے میں اجرت اور معاوضہ حاصل نہیں کیا جاسکتا؟ اگر فہرست ترتیب دی جائے تو غالباً ایسی بہت کم ہی چیزیں مل سکیں گی جنہیں انٹرنیٹ پر نہیں بیچا جا سکتا۔

اگر آپ اس بات کو سمجھ جائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری آف لائن دنیا کے مقابلے میں آن لائن انٹرنیٹ کی دنیا کا پھیلاؤ کس قدر زیادہ ہے اور آمدنی کو فروغ دینے یا آمدنی کی نئے سرے سے شروعات کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا اہمیت رکھتا ہے۔

جو لوگ آن لائن پیسہ کمانے کی طرف آنا بھی چاہتے ہیں تو وہ ایک ویب سائٹ بنا کر سمجھتے ہیں کہ بس اب پیسے کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ درست مارکیٹنگ حکمت عملی کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے۔ بہر حال اس وقت کا موضوع یہ ہے کہ آخر آن لائن کاروبار شروع ہی کیوں کیا جائے؟ ذیل میں چند بنیادی اور انتہائی اہم وجوہات کا ذکر کروں گا جو کسی بھی کاروبار کے لیے آن لائن موجودگی کو ضروری بناتی ہیں۔

کاروبار کا وسیع پھیلاؤ

یہ سب سے پہلا اور سب سے اہم فائدہ ہے جو آپ کو روایتی طرز کاروبار سے کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی دکان کے مالک ہیں، یا دکان کھولنے کا سوچ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ ایک دکان کی رسائی کہاں اور کس حد تک ہو سکتی ہے؟

ایک بات تو طے ہے کہ آپ کی دکان ایک محدود علاقے کے خریداروں کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ اب فرض کیجیے کہ اگر آپ کی دکان کسی بڑے اور چلتے ہوئے علاقے میں ہے، اور علاقے کی کُل آبادی پانچ لاکھ ہے (اتنی بڑی تعداد عمومی طور پر ممکن نہیں ہوتی) آپ کیا گمان کر سکتے ہیں کہ ان پانچ لاکھ میں سے آپ کے ماہانہ خریدار کتنے ہو سکتے ہیں؟

ایک بہت ہی معمولی سا عدد فرض کریں تو جواب آتا ہے "ایک فی صد" جو کہ پانچ ہزار افراد پر مبنی ہوگا۔ لیکن یہ ایک آئیڈیل حالت ہے جو ہزاروں میں سے کسی بھی کامیاب دکان کو نصیب نہیں ہوتی۔ تاہم جب آپ آن لائن مارکیٹ میں آتے ہیں تو آپ کے خریدار اب کسی علاقے تک محدود نہیں رہتے۔ اس لیے خریداروں کی شرح کئی گنا تک بڑھ جاتی ہے۔

اسے یوں سمجھیے کہ آپ کی کاروباری ویب سائٹ پر ایک ماہ میں 10 لاکھ لوگ آتے ہیں، اب اگر ان 10 لاکھ لوگوں میں سے 5 لاکھ لوگ آپ کے خریدار بنتے ہیں تو یہ کسٹمر کنورژن کی شرح کہلائے گی۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آف لائن کاروبار چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اس کی رسائی بہت محدود ہوتی ہے۔

منافع کے تناسب میں حیران کن زیادتی

آن لائن کاروبار کا دوسرا اور اتنا ہی اہم تر فائدہ یہ ہے کہ آف لائن کاروبار کے مقابلے میں منافع کا تناسب سیکڑوں گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

اگر آپ ایک آف لائن کاروبار کرتے ہیں جو کہ ماہانہ قریب دس لاکھ روپے کے سرمائے سے ایک لاکھ روپے کا منافع دے رہا ہے تو اس میں سرمایہ کاری کا معمولی سے معمولی حساب کیجیے۔ سب سے پہلی چیز دکان کا خرچہ، جو یا تو کرائے پر ہوگی یا اپنی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں یہ ایک مستقل اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔

اس کے بعد بجلی یا گیس کا ممکنہ خرچہ۔ گھر سے لے کر دکان تک آنے اور جانے کا روزانہ کا خرچ اور دیگر اخراجات کو جمع کیا جائے تو مثالی صورتحال میں ماہانہ ہزاروں روپے کی سرمایہ کاری کے بعد آپ کے منافع کی شرح کبھی بھی پچاس فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکتی۔

مطلب اگر آپ نے ایک لاکھ روپے کا سرمایہ لگایا ہے تو حد سے زیادہ کامیاب کاروبار بھی آپ کو پچاس ہزار روپے سے زیادہ منافع نہیں دے سکتا، اور اگر دے بھی رہا ہے تو کسٹمر کنورژن ریٹ اتنا کم ہوگا کہ آپ دولت مندی کے خواب کو کبھی پورا نہیں کرسکیں گے کیونکہ آپ کی رسائی بہت کم ہے۔

اس کے برعکس آن لائن کاروبار میں منافع کی شرح سینکڑوں فی صد تک ہوسکتی ہے، کیونکہ نہ تو آپ کا کوئی مستقل دکان کا خرچہ ہے، نہ دیگر اخراجات جو ایک آف لائن کاروبار میں ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ مارکیٹنگ اپنے کاروبار کے پھیلاؤ کا ایک سستا اور مؤثر ترین راستہ ہے۔ جب کہ آف لائن مارکیٹنگ کی تاثیر انتہائی کم اور خرچہ انتہائی زیادہ ہے۔ دوسری طرف یہ کہ کاروبار کے پھیلاؤ کی کوئی حد مقرر نہیں۔

وقت کی قید سے آزادی

یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ آن لائن کاروبار میں وقت کی آزادی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ آپ کے کاروبار کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہی ہوتا۔ آپ گھر بیٹھ کر بھی کاروبار چلا سکتے ہیں، اور کہیں کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ سے بھی۔

رات کو دو بجے بھی آپ کے گاہک آپ کو ڈھونڈتے ہوئے آپ کے آن لائن کاروبار تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور صبح ناشتے سے پہلے بھی۔ گویا 24 گھنٹے کا کاروبار اور کسٹمر کنورژن کے انتہائی مؤثر طریقے آن لائن مارکیٹ میں آپ کے کاروبار کے لیے مؤثر ہیں جنہیں اگر آپ نظر انداز کر رہے ہیں تو یقیناً آپ خود ہی اپنے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ جو لوگ ابھی تک اپنے کاروبار کو آن لائن جہان میں نہیں لائے وہ لوگ اب جلد از جلد آن لائن دنیا سے اسفادہ کریں تاکہ حالیہ معاشی بحران سے لڑنے کے لیے اور گھروں کے چولہے جلائے رکھنے کے لیے آمدنی اور وسائل کے وسیع تر امکانات علم میں آئیں۔

www.dawatethid.blogspot.com
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>

Friday, 11 May 2018

وہ 5قربانیاں جو اپنا کاروبار چلانے والے افراد کو ہر صورت دینا پڑتی ہیں

وہ 5قربانیاں جو اپنا کاروبار چلانے والے افراد کو ہر صورت دینا پڑتی ہیں

(انتخاب و ترمیم:عمران شہزاد تارڑ )

ہر کاروبار کرنے والا شخص بڑے بڑے خوابوں کے ساتھ کاروبار کا آغاز کرتا ہے ۔کاروبار میں کامیابی ہم سب کی خواہش بھی ہوتی ہے لیکن اسے کامیاب بنانے کے لئے کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔آئیے آپ کو ان پانچ قربانیوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو کاروبار چلانے والے افراد کو ضرور دینی پڑتی ہیں۔

 مستحکم اگر آپ ایک مستحکم نوکری کررہے ہیں لیکن آپ کو کاروبار کا شوق ہے تو پھر آپ کو اپنی اچھی نوکری کی قربانی ضرور دینی ہوگی۔یاد رکھیں کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ نوکری چھوڑ کر بھی آپ کا کاروبار کامیاب بھی ہوگا کہ نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ آپ کو یہ مستحکم نوکری چھڑنی پڑے گی ورنہ آپ کاروبار پر اچھے طریقے سے توجہ نہیں دے پائیں گے۔اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اگر آپ لگن کے ساتھ اپنے کام پر توجہ دیں گے تو کامیابی ضرور آپ کے قدم چومے گی۔
ذاتی زندگی جب آپ اپنا کاروبار شروع کریں گے تو آپ کو ایک مشکل یہ بھی پیش آئے گی کہ آپ کے دفتر اورگھر کے اوقات کار ایک ہوجائیں گے یعنی آپ کو اپنے وقت کی بہت زیادہ قربانی دینی ہوگی۔یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کاروبار چلانا چاہیں اور ساتھ ہی آپ اسے پورا وقت نہ دیں۔اگر کوئی اہم ای میل یا ٹیلی فون کال آگئی ہے تو آپ کو اس کا فوراً جواب دینا ہوگا لہذا اس بات کو بھول جائیں کہ آپ اپنی ذاتی زندگی کو کاروبار سے الگ کرسکیں گے۔آمدن جب تک آپ نوکری کرتے رہے تو آپ کو علم تھا کہ ہر ماہ آپ کو ایک رقم مل ہی جانی ہے لیکن جب کاروبار کا آغاز ہوتا ہے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ کو ایک مخصوص رقم ملے گی۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں آپ کو کوئی پیسہ ہی نہ ملے لیکن کٹھن دنوں کے بعد زندگی آسان بھی ہوجائے گی۔نیند چاہے آپ جتنی مرضی کوشش کریں کہ آپ کو اپنی نیند نہیں چھوڑنی لیکن کاروبار کے لئے آپ کو یہ قربانی تو ضرور دینی ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی پرپوزل ایسا بنانا پڑے جس پر کام کرنے کے لئے راتوں کی بھی ضرورت ہو لیکن اس کی وجہ سے آپ کے کاروبار کو چار چاند لگ جائیں گے تو آپ یقیناًراتیں جاگنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔یعنی نیند کی قربانی تو کامیاب کاروبار کرنے والے افراد کو دینی ہی پڑتی ہے۔لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ اپنے کاروبار میں اتنی مدہوش ہو جائیں کہ آپ نہ تو عبادت کے لئے وقت نکال سکیں اور نہ ہی اپنے بیوی بچوں کے لیے۔۔بلکہ ایک کامیاب انسان کی یہ پہلی علامت ہوتی ہے   کہ عبادت الہی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی فیملی سمیت دیگر عزیز و اقارب کو بھی وقت دیتا ہے۔۔۔

آرام و سکون اگر کہا جائے کہ کاروبار کانٹوں کی سیج سے کم نہیں تو غلط نہ ہو گا۔کاروبار کرنے والے افراد کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جن لوگوں کو انہوں نے نوکری پر رکھا ہے ان کی تنخواہیں،بجلی کے بل، مہنگائی اور ہر طرح کے مسائل کی وجہ سے آرام وسکون غارت ہو کر رہ جاتا ہے لیکن ایک کامیاب کاروباری شخص ان تمام مسائل سے خوش اسلوبی سے نبردآزما ہوتا ہے۔
جب ان سب مسائل کا تندہی سے مقابلہ کر لیتا ہے تو پھر مستقبل میں سکون ہی سکون بشرطیکہ ایمانداری کو ملحوظ خاطر رکھا ہو گا۔۔۔۔

www.dawatethid.blogspot.com
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>

Thursday, 10 May 2018

300روپے کی پاکستانی کمپنی 300کروڑ تک کیسے پہنچی ؟ اتنی ترقی کے دس راز،جو آپ کو بھی ضرور پڑھنے چاہیں

300روپے کی پاکستانی کمپنی 300کروڑ تک کیسے پہنچی ؟ اتنی ترقی کے دس راز،جو آپ کو بھی ضرور پڑھنے چاہیں

(انتخاب:عمران شہزاد تارڑ )

منیر بھٹی کے بقول مستقل مزاجی کا اصل امتحان یہ ہے کہ آپ فائدے اور نقصان کو سوچے بغیر دس سال تک مسلسل محنت کریں‘ دس سال300 روپے کی پاکستانی کمپنی 300 کروڑ تک کیسے پہنچی منیر بھٹی لاہور میں ٹیکسٹائیل کا بزنس کرتے ہیں‘ یہ ڈینم پتلونیں بنا کر یورپ اور امریکا میں فروخت کرتے تھے‘ منیر بھٹی کی دو فیکٹریاں ہیں‘ ملازمین کی کل تعداد 6 ہزارہے‘ منیر بھٹی نے آج سے 35 برس قبل 300 روپے سے کمپنی رجسٹر کرائی‘ یہ 300 روپے کی کمپنی دس سال میں 300 کروڑ کی فرم بن گئی منیر بھٹی نے یہ ترقی کیسے کی اور پاکستان کے نوجوان اس مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ آپ منیر بھٹی کی ترقی کے 10 پوائنٹ ملاحظہ کیجئے۔

محنت کا مطلب یہ ہے کہ آپ10 سال تک دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھیں ‘کام سے محبت کریں اور کام کو ہی عبادت سمجھیںمنیربھٹی کے والد صوفی منش انسان تھے‘ منیر بھٹی نے ان کی بہت خدمت کی‘ کاروبار شروع کرنے سے پہلے ان کے والد کہا کرتے تھے کہ ’’تیری فیکٹریاں دیکھنے لوگ دور دور سے آیا کریں گے‘‘ اور وقت نے یہ بات100فیصد سچ کر دکھائی‘ کامیابی کیلئے والدین کی دعا بہت اہم ہےکوئی بھی ادارہ تب ترقی کرتا ہے جب ٹیم کے لوگ اسے اپنا ادارہ یا کمپنی سمجھیں ‘ ون مین آرمی ہمیشہ ناکام ہو جاتی ہے‘ چھوٹا کاروبار چلانے کیلئے ٹیم اتنی اہم نہیں ہوتی لیکن بڑے بزنس کیلئے آپ کوبہترین ٹیم درکار ہوتی ہے‘ بہترین لوگوں کی ٹیم کو ٹاسک دینے کے بعد آپ کو اس ٹیم پر پورا اعتماد بھی کرنا چاہئے ‘دیکھا جائے تو ہزاروں لوگوں کو ایک مقصد اور ایک کام پر لگا دینا بذات خود بہت بڑی صلاحیت ہے یہ خواب انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا ہاں جی کھلی آنکھوں سے۔ نوکری کرنے کے بجائے نوکری دینے والے کا خواب اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے انہیں دن رات محنت کرنا پڑی۔ منیر بھٹی کی زندگی کی داستان کو اگر کامیاب انسان کی کہانی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ اندرون شہر لاہور سے زندگی کا سفر شروع کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ مضبوط بیک گراؤنڈ اور لمبی چوڑی تعلیم کے بغیر بھی کاروباری کامیابی ممکن ہے۔ یہ جینز کا کاروبار تھا اور اسے مسٹر ڈینم(Mr. Denim) کے نام سے شروع کیا۔ ان کے پاس ملازمین کی تعداد ہزاروں میں ہے اور تین بار بیسٹ ایکسپورٹر کا ایوارڈبھی جیت چکے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ انہوں نے کاروبار بغیر کسی سرمائے کے شروع کیا بلکہ شروع میں لیٹر ہیڈ پرنٹ کروانے کے پیسے بھی نہیں تھے لیکن دنیا کی سب سے قیمتی چیز’’آگے بڑھنے کا جذبہ‘‘ ان کے پاس تھا۔ دس سال کیلئے انہوں نے اپنے ٹارگٹ وضع کر لیے اور دن رات محنت شروع کر دی۔ بھٹی صاحب کے بقول ان کو پیسہ کمانے کا اتنا شوق نہیں تھا جتنا ترقی کرنے کا اور کچھ کر دکھانے کا ۔10 سال کیلئے انہوں نے اپنا نفع نقصان نہیں دیکھا صرف محنت کی۔ بھٹی صاحب کا یقین ہے کہ اگر آپ کسی کام کیلئے10سال کا ٹارگٹ سیٹ کر کے چل پڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی ضرور کرتا ہے ‘ اگر آپ نیک نیتی سے کام کررہے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو انعام ضرور دے گا۔ منیر بھٹی کی کاروباری کہانی نوجوانوں کیلئے بطور مثال ہے ‘ بے شمار تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں بھٹی صاحب کو لیکچر کیلئے دعوت دیتی ہیں اور بھٹی صاحب خوشدلی سے اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے طالب علموں کو نوکری لینے والا بننے کے بجائے نوکری دینے والا بننے کی تحریک دیتے ہیں ۔ ان کے لیکچر سے ہزاروں لوگ فائدہ اٹھا چکے ہیں‘ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اور باہر کے ملکوں کے وفود ان کی خوبصورت فیکٹری کاوزٹ کرنے آتے ہیں‘ آج ہم آپ کے ساتھ وہ سیکریٹس (Secrets) شیئر کریں گے جو بھٹی صاحب نے اپنے انٹرویو اور لیکچررز میں طالب علموں کے ساتھ شیئر کئے۔ بھٹی صاحب کی کامیاب زندگی اور کاروباری راز

بتانے کے دو مقاصد ہیں‘ ایک یہ کہ کامیاب لوگوں کی کہانیاں زیادہ تر امریکا اور برطانیہ کی بتائی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ملک میں بے شمار ہیروز چھپے پڑے ہیں جن کی داستان بتاتی ہے کہ پاکستان میں رہ کر بھی کامیاب زندگی گزارنا ممکن ہے ۔دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل کو کچھ کر گزرنے کا جذبہ ملے‘ ہر بڑے کام کے پیچھے کوئی جذبہ اور تحریک ہوتی ہے‘ کیا پتایہ کامیابی کی کہانی کتنے لوگوں کی کامیابی کو ممکن بنا دے۔آئیے منیر بھٹی سے کامیابی کے گر سیکھیں ‘یہ سب گر کتابی باتیں نہیں بلکہ ایک پریکٹیکل انسان کے سیکھے اور سمجھے ہوئے اصول ہیں۔ایک- منیر بھٹی کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے سب سے زیادہ اہم کردار ان کی خوش اخلاقی کا ہے ‘یہ سچ بھی ہے اور اس سچ کا پتا تب چلتا ہے جب آپ منیر بھٹی سے ملاقات کرتے ہیں۔ مسکراتا چہرہ میٹھی زبان اور شائستہ انداز ان کی ذات کی پہچان بن چکا ہے۔ منیربھٹی کے بقول مشکل سے مشکل حالات میں بھی انہوں نے اپنی خوش اخلاقی کبھی نہیں چھوڑی۔ چائنیز جملہ کہ ’’ جس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں اور جس کا اخلاق اچھا نہیں اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے‘‘ منیر بھٹی کے نزدیک سو فیصد درست ہے ۔ ان کا کہنا ہے خوش اخلاق انسان اچھے دوست اور بہترین مواقع زیادہ حاصل کرتا ہے‘ اگر آپ کو کاروبار شروع کرنا ہے اور اس میں کامیاب بھی ہونا ہے تو آپ کو بہت زیادہ خوش اخلاق ہونا پڑے گا۔

دو- منیربھٹی کے بقول کاروبار میں کامیاب ہونے کے لئے آپ کو ایک پروڈکٹ یعنی ایک آئٹم پر کام کرنا ہوتاہے ‘اگر آپ ایک آئٹم کو بہت کامیاب طریقے سے مارکیٹ کر سکتے ہیں تو باقی آئٹمز خوبخود آگے بڑھنے لگتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ بہت سے پروڈکٹس پر اکٹھے کام کررہے ہوتے ہیں تو آپ کا فوکس ختم ہو جاتا ہے اور ترقی کیلئے آپ کو فوکس کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ہر فن مولابھی نہیں بننا چاہئے‘ایک کام کریں مگر کمال کا کریں‘ باقی کاموں کیلئے ایکسپرٹ لوگ ہائیر کریں اور اپنی انرجی ضائع ہونے سے بچائیں۔

تین- منیربھٹی کا کہنا ہے کہ قدرت مستقل مزاج اور محنتی انسان پر ضرور مہربان ہوتی ہے‘ بے شمار لوگ اس لئے کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ ان میں استقامت نہیں ہوتی۔ مستقل مزاج انسان دراصل اس یقین کااظہار بھی کررہا ہوتا ہے کہ قدرت اس کی محنت کو ضائع نہیں کر سکتی اور ایک وقت آئے گا جب اسے شاندار انعام ضرور ملے گا۔ منیر بھٹی کے بقول مستقل مزاجی کا اصل امتحان یہ ہے کہ آپ فائدے اور نقصان کو سوچے بغیر دس سال تک مسلسل محنت کریں‘ دس سال محنت کا مطلب یہ ہے کہ آپ10 سال تک دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھیں ‘کام سے محبت کریں اور کام کو ہی عبادت سمجھیں۔

چار- تھامس ٹینلے نے ہزاروں کروڑ پتی لوگوں پر ریسرچ کی اور ان سب کی کامیابی کا نمایاں ترین فیکٹر’’ ایمانداری‘‘ کو پایا۔ منیر بھٹی کا بھی یہی ماننا ہے کہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جن کی ایمانداری کی قسمیں ان کے دشمن بھی کھائیں۔ ایمانداری آپ دوسرے کیلئے نہیں کررہے ہوتے‘ یہ دراصل آپ کا اپنا فائدہ ہوتاہے۔ کاروبار شروع کرنے کے بعد ان کو بے شمار دفعہ قرضہ لینا پڑا لیکن شدید مشکل حالات کے باوجود انہو ں نے وہ بروقت واپس کیا۔ ابتدا میں کئی کاروباری ڈیلز میں انہیں نقصان اٹھانا پڑا لیکن انہوں نے کبھی بھی ایمانداری پر کمپرومائز نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری مارکیٹ میں آپ کا امیج انتہائی ایماندار شخص کے طورپر برقرار رہنا بہت ضروری ہے۔ ایمانداری آپ کی شخصی خوبیوں میں سب سے اہم خوبی ہے۔

پانچ- منیربھٹی کا ماننا ہے کہ امید ہی وہ طاقت ہے جو ہمیں قدم اٹھانے اور آگے بڑھنے پر اکساتی ہے‘مایوسی کو گناہ سمجھیں‘ مایوسی آپ کے خواب چھین لیتی ہے اور کامیابی کیلئے خواب کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے۔ منیربھٹی کہتے ہیں ان کے راستے میں ہزار رکاوٹیں اور مشکلات آئیں لیکن انہوں نے کبھی بھی امید ترک نہیں کی۔ وہ مسائل کو ہمیشہ ایک چیلنج کے طورپر قبول کرتے رہے‘ بے شمار دفعہ ایسا محسوس ہوتاتھا کہ اب راستہ رک گیا لیکن وہیں سے ایک نیا دروازہ کھل جاتا اور اس دروازے کے کھلنے کی وجہ وہ امید تھی جس کی شمع انہوں نے روشن کی ہوئی تھی۔

چھ- انہوں نے ایک کمال کا راز بتایا کہ لوگ بہت سا پیسہ کمانا چاہتے ہیں اور کامیاب بھی ہونا چاہتے ہیں لیکن کوئی بھی معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کا نہیں سوچتا۔ منیر بھٹی کا کہناہے کہ ترقی کرنے کا چانس تب زیادہ ہوتا ہے جب آپ عزت دار مقام حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں کیونکہ عزت ہمیشہ اس کو ملتی ہے جو اہل ہوتا ہے‘ جب آپ اہلیت کے لئے محنت کرتے ہیں تو کامیابی خودبخود آپ کے قدم چومتی ہے۔ آپ کا پیسہ ہی آپ کی کمائی نہیں بلکہ عزت بھی کمائی ہی کا حصہ ہے۔ دوسروں کا احترام کرنے والے کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ منیربھٹی کہتے ہیں کہ کبھی کبھی خود سے سوال بھی کریں کہ کیا آپ اپنا احترام بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ عزت اور احترام کا سفر خود اپنے آپ سے شروع ہوتا ہے۔

سات- منیربھٹی کے بقول کاروبار کی کامیابی یا ناکامی میں آپ کی ٹیم کا بہت بڑا کردارہے‘ کوئی بھی ادارہ تب ترقی کرتا ہے جب ٹیم کے لوگ اسے اپنا ادارہ یا کمپنی سمجھیں ۔ ون مین آرمی ہمیشہ ناکام ہو جاتی ہے۔ چھوٹا کاروبار چلانے کیلئے ٹیم اتنی اہم نہیں ہوتی لیکن بڑے بزنس کیلئے آپ کوبہترین ٹیم درکار ہوتی ہے۔ دراصل ٹیم بھی وہی شخص بنا سکتا ہے جس میں لیڈر شپ پائی جاتی ہے۔ ایک اچھا ٹیم لیڈر باصلاحیت لوگوں کو پہچان لیتا ہے اور ان کو اس مقام پر تعینات کرتا ہے جہاں وہ بہترین نتائج دے سکیں۔ بہترین لوگوں کی ٹیم کو ٹاسک دینے کے بعد آپ کو اس ٹیم پر پورا اعتماد بھی کرنا چاہئے ‘دیکھا جائے تو ہزاروں لوگوں کو ایک مقصد اور ایک کام پر لگا دینا بذات خود بہت بڑی صلاحیت ہے جو منیربھٹی میں موجود ہے۔

آٹھ- کامیابی میں بہت بڑا رول والدین کی دعاؤں کابھی ہے۔منیربھٹی کے والد محترم ایک صوفی اوردرویش انسان تھے‘ ان کی زندگی میں منیر بھٹی ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کی دعائیں انہیں ترقی کی منازل طے کراتی رہیں۔ کاروبار شروع کرنے سے بہت پہلے ان کے والد محترم ان کو کہا کرتے تھے کہ ’’تیری فیکٹریاں دیکھنے لوگ دور دور سے آیا کریں گے‘‘ اور وقت نے یہ بات100فیصد سچ کر دکھائی۔ کامیابی کیلئے والدین کی دعا بہت اہم ہے۔

نو- لوگ جو قیمت ادا کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں لیکن آپ کے پروڈکٹ کی کوالٹی کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ منیر بھٹی نے کبھی بھی اپنے پروڈکٹس کی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔ کوالٹی بھی ایک دم نہیں بنتی بلکہ یہ کئی برسوں کی انتھک محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کاروباری سفر کی شروعات میں کئی دفعہ انہوں نے کوالٹی کو برقرار رکھنے کیلئے بہت سے نقصانات برداشت کئے‘ یہ ان کی کوالٹی کا کمال ہی تھا کہ ان کے برینڈ نے تین بار بیسٹ ایکسپورٹر کا ایوارڈ جیتا۔ کوالٹی اور کام کا معیار پیسے اورخوشحالی کو خودبخود کھینچ لیتا ہے۔

دس- کامیاب ہونے کیلئے آپ کو لوگوں کی توقع سے زیادہ کام کرنا ہوتا ہے‘ نہ صرف زیادہ کام بلکہ بہتر اور خوش دلی سے بھی کرنا ہوتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنے پسندیدہ پیشے اور شعبے میں ہوں ‘کامیاب لوگوں کو اپنے کام سے محبت ہوتی ہے اور یہ محبت ان کو تھکنے نہیں دیتی۔

منیر بھٹی کی کامیاب سٹوری اور ان کے بتائے ہوئے راز بے شمار نوجوانوں کے کام آ سکتے ہیں‘ ان کے مطابق تعلیم سے انقلاب تب ہی ممکن ہے جب تعلیم آپ کے اندر خوبیاں پیدا کرے‘ صرف ڈگری سے امیر نہیں ہوا جا سکتا۔
(یہ آرٹیکل معروف صحافی جاوید چوہدری کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔)
www.dawatethid.blogspot.com
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>