تلاش پوسٹس

Sunday, 13 May 2018

بغیر سرمائے کے اپنا کام کیسے شروع کریں؟


بغیر سرمائے کے اپنا کام کیسے شروع کریں؟

یہ انٹرپرینیورشپ کی اہمیت کے بارے میں تین مضامین کی سیریز میں دوسرا مضمون ہے۔ پہلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ کریں۔
http://dawatetohid.blogspot.com/2018/05/blog-post_97.html?m=1

اس مضمون کے پہلے حصے کی اشاعت کے بعد بہت سے قارئین کا سوال یہ تھا کہ ہم بھی انٹرپرینیورشپ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے درکار سرمایہ کہاں سے آئے گا، ہم کون سا کاروبار کریں اور کیسے کریں؟ اس طرح کے سوالات کا کوئی قطعی جواب نہیں ہوتا کیونکہ اس کا تعلق ہر شخص کی انفرادی زندگی سے ہوتا ہے، اور چونکہ ہر شخص کے وسائل اور مسائل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک شخص کا حل دوسرے کے کسی کام نہیں آسکتا۔

انٹرپرینیورشپ میں کسی شخص کی کامیابی کے لیے صرف ’’جذبے‘‘ کا ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی شخص میں جذبہ موجود ہے تو وہ خود ہی ترقی کے لیے درکار تمام وسائل پیدا کر لے گا۔

انٹرپرینیورشپ کے بارے میں روایتی سوچ:

انٹرپرینیورشپ کے بارے میں ہمارے معاشرے میں عام خیال، اور روایتی سوچ یہ ہے کہ انٹرپرینیورشپ میں کامیاب صرف خاص خاندانی پس منظر کے لوگ ہوتے ہیں، بغیر سرمائے یا اتنہائی کم فنانس سے کامیاب انٹرپرینیورشپ ممکن نہیں، خوشحالی کا ذریعہ صرف اور صرف اچھی سرکاری نوکری، یا بیرون ملک جا کر نوکری ہے، انٹرپرینیورشپ نہیں، یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین سے میں نے خود سنا ہے کہ ’’نہ ہمارے خاندان میں سے کسی نے کاروبار کیا نہ ہم کاروبار کرسکتے ہیں‘‘۔

پہلی بات تو یہ کہ ہمیں ایک روایتی کاروبار اور انٹرپرینیورشپ میں فرق کرنا ہوگا۔ کاروبار یعنی بزنس، اور انٹرپرینیورشپ میں فرق یہ ہے کہ کاروبار اپنا کام ہوتا ہے، مگر ایسا جو پہلے بھی بہت لوگ کر چکے ہیں اور جو مارکیٹ میں عام طور پر رائج ہوتا ہے، جیسے کپڑوں کی دکان کھول لینا۔ ہم یہاں پر اس کاروبار کی بات نہیں کریں گے۔ اگر آپ اسی کپڑوں کی دکان کو انٹرنیٹ پر لے جائیں، لوگوں کو گھر بیٹھے کپڑے پسند کرنے اور سلائی کا آرڈر دینے کی سہولت دے دیں، تو یہ انٹرپرینیورشپ کہلائے گی، یعنی ایک ایسا کام، جس کا مارکیٹ میں پہلے تصور موجود نہیں تھا اور آپ نے اسے شروع کر کے ایک جوکھم اٹھایا کیونکہ پہلے سے مثال نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ آئیڈیا پسند کیا جائے گا یا نہیں۔

دنیا کے چند کامیاب انٹرپرینیورز:

اب بات کرتے ہیں سرمائے کی۔ آج کی دنیا میں ایسی بہت سے مثالیں موجود ہیں جو ’’انتہائی کم سرمائے‘‘ کے باوجود انٹرپرینیور بننے میں کامیاب ہوئے۔ بل گیٹس کی مثال تمام دنیا کے سامنے ہے۔ ایک شخص لوگوں کے لیے کمپیوٹر کا استعمال آسان بنانے کے لیے ایک سوفٹ ویئر (ونڈوز آپریٹنگ سسٹم) تیار کرتا ہے اور چند سالوں میں ہی دنیا کا امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔ دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک شخص مسلسل گیارہ سال تک دنیا کا امیر شخص رہا ہو۔

ذرا غور کریں۔ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ چند سو مربع فٹ جگہ پر تیار شدہ چیزوں کا منافع ہزاروں ایکڑ پر تعمیر شدہ صنعتوں سے زیادہ ہو، یا چند افراد کی مدد سے تیار شدہ ایک چیز کی کامیابی کا مقابلہ لاکھوں کی تعداد میں افرادی قوت والی فیکٹریاں نہیں کرسکتی ہوں۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ہزاروں ایکڑ کی فیکٹری میں جو چیز تیار ہوتی ہے، وہ وہی چیزیں ہیں جن کی مارکیٹ میں پہلے سے مثالیں موجود ہیں، کوئی جدت نہیں، اور اگر ہے بھی تو کوئی ایسی نہیں کہ دنیا بدل دے۔ یہ کاروبار ہے۔ اس کے مقابل ونڈوز انٹرپرینیورشپ کی ایک عمدہ مثال ہے۔

اسی طرح سے اور کئی مثالیں موجود ہیں: فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ جنہوں نے اپنا کام شروع کیا اور کمال ترقی کی۔ انسٹا گرام، واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ وہ اسمارٹ فون ایپلیکیشنز ہیں جو دنیا میں تہلکہ مچائے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب دو دو چار چار لوگوں کے گروپس نے صرف آئیڈیا کی بنیاد پر تیار کی تھیں اور چند گھنٹوں میں ہی اینڈرائیڈ کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار ہوگئی تھیں؟

مشہور ریسٹورنٹ کے ایف سی کے مالک کرنل سینڈرز نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی چکن پکانے کی ترکیب فروخت کرنے کی کوشش کی، جس کے لیے انہوں نے اپنی پرانی سی کار میں امریکا کی کئی ریاستوں کا سفر کیا۔ کئی دفعہ وہ رات اپنی کار میں گزارتے تھے۔ مگر جب ان کو شراکت دار سے کامیابی ملی تو ملتی چلی گئی۔ آج دنیاکے اکثر ممالک میں کے ایف سی کے ریسٹورنٹ قائم ہیں۔

ذرا غور کریں، بوڑھا آدمی، سرمایہ صفر۔ پاس کیا ہے؟ صرف کھانے پکانے کی ایک ترکیب۔ اگر کرنل سینڈرز ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کسی اور جگہ جاب کر لیتے تو کیا آپ ان کی شکل سے واقف ہوتے؟

ان تمام مثالوں سے یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے امیر ترین اور نامور ترین افراد میں شامل ہونے کے لیے آپ کے کام کو بہت زیادہ ابتدائی سرمائے کی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت ہے تو صرف تخلیقی سوچ کی، جو ایسی چیز مارکیٹ میں لائے جو اس سے پہلے کوئی نہ لایا ہو۔ صرف تب ہی آپ کی چیز ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی اور دنیا بدل دینے والی چیزوں میں شامل ہوگی۔

پاکستان میں بہت سے نوجوان انٹرپرینیورز نے بہت زبردست کام کیا اور سالوں کا سفر ہفتوں میں طے کیا ہے۔ پاکستان میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

حکیم سعید صاحب مرحوم نے اسکول کی نوکری چھوڑی اور اپنا خود کا چھوٹا سا بزنس شروع کیا۔ شروع میں حکیم سعید کا بزنس دکان سے دکان تک نونہال گرائپ واٹر کی فروخت تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ کاروبار ترقی کرتے ہوا ایک دن ہمدرد لیبارٹری بن جاتا ہے۔ غور کریں۔ اگر حکیم سعید صاحب اپنا بزنس شروع نہ کرتے تو کیا ہمدرد لیبارٹری قائم ہوتی؟ ہمدرد یونیورسٹی/اسکول کا منصوبہ بن سکتا تھا؟ کیا 132 ایکڑ پر پھیلا ہوا حکمت کا شہر نوکری سے حاصل ہو سکتا تھا؟

تعلیمی ویب سائٹ ’’علم کی دنیا‘‘ ایک نوجوان غلام علی نے اپنے ذاتی کمپیوٹر سے شروع کی اور آج پاکستان کے بڑی تعلیمی ویب سائٹ ہے۔ اب غلام علی صاحب کی ٹیم میں کئی افراد جاب کرتے ہیں۔ آج غلام علی کا شمار پاکستان کے بڑے ویب انٹرپرینیورز میں ہوتا ہے۔ بڑی اور اہم ویب سائٹ ہونے کی وجہ سے وہ فیس بک کی جانب سے شروع کیے گئے مفت انٹرنیٹ کے منصوبے Internet.org میں بھی شامل ہے۔

انٹرپرینیورشپ کے لیے جذبے کی اہمیت:

میرے خیال میں انٹرپرینیورشپ کی کامیابی کے لیے پیسے کی حیثیت ثانوی ہے۔ پیسے، افرادی قوت، مہارت، تعلیم، وغیرہ بطور اوزار استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی اہمیت نہیں۔ لیکن اگر آپ کے اندر کامیابی کے لیے درکار جذبہ موجود نہیں تو سرمایہ، تعلیم، مہارت، افرادی قوت کے باوجود آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

کیا وجہ ہے کہ ایک بینک/فنانس کمپنی کسی انٹرپرینیور کو اس کے منصوبے کے لیے قرضہ دیتا ہے یا اس کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں۔ تو ان کے پاس اس تیار منصوبے کی تمام جزویات موجود ہوتی ہیں۔ ان کو نہ صرف یہ معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ منصوبہ قابل عمل ہے اور کچھ سالوں میں ان کا سرمایہ اصل زر+منافع واپس مل جائے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ انٹرپرینیور کو ہوگا۔ تو وہ کیوں خود اس منصوبے پر عمل نہیں کرتے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ بینک/فنانس کمپنی اس سے بہتر منصوبہ سازی کرسکتی ہیں، سرمایہ ان کے پاس پہلے سے موجود ہے، افرادی قوت یا خام مال مارکیٹ میں موجود ہے، لیکن ان کے پاس جس چیزیں کی کمی ہے وہ ہے کامیابی کا جذبہ۔ چونکہ ان کے پاس جذبہ رکھنے والے لوگ موجود نہیں ہوتے، اس لیے ان کو ناکامی کا اندیشہ ہوتا ہے اور سرمایہ کار عموماً خطرہ مول نہیں لیتے۔

جذبہ کیسے حاصل کیا جائے:

جذبہ، خواہش، آرزو، تمنا، طلب، انسان کے اندر خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہی وہ آگ ہے جو کسی انسان کی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔ میرے خیال میں اس کو کسی دوسرے کے اندر پیدا کرنا نہایت ہی مشکل اور تقریباً نامکمل کام ہے۔ یہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں کہ کسی میڈیکل اسٹور سے خرید کر استعمال کر لی جائے۔ ہاں اگر کسی شخص کے اندر جذبہ کی آگ دھیمی ہے تو اس کی مقدار کو زیادہ کیا جاسکتا ہے۔

اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کامیاب افراد کی کامیابیوں کی داستانوں کا مطالعہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر کافی سارے آڈیو/ویڈیو لیکچر بھی دستیاب ہیں جس میں ماہرِ نفسیات ڈاکٹر صداقت علی اور قاسم علی شاہ کے لیکچرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں انگریزی زبان میں اس موضوع پر بہت سی کتب موجود ہیں، جبکہ اردو زبان میں بھی مشہور انگریزی کتب کے ترجمے اور خود لکھی ہوئی کتب بھی عام دستیاب ہیں۔ ڈیل کارنیگی، اسٹیفن آر کووے، ڈاکٹر رابرٹ ایچ شلر کی انگریزی زبان یا اردو ترجمہ میں، اور اردو زبان میں ڈاکٹر ارشد جاوید کی کتب کو میں نے بہت مفید پایا ہے۔
تیسرا حصہ بہت جلد پیش کیا جائے گا۔۔
(بشکریہ حسن اکبر ڈاٹ کم)

قارئین کے استفادہ کے لئے اس تحریر پر کیے گئے تبصرے بھی پیش کر رہے ہیں :
عائشہ بحش;
بہت اچھا مضمون ہے ۔ یہ سب ٹھیک ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ کاروبار کرنے کے بارے میں مزید معلومات بھی ہونی ضروری ہیں۔ خاص کر خواتین کے لئے کہ وہ آن لائن کاروبار کیسے کریں۔ یعنی گھر سے اپنی آمدنی میں اضافہ کیسے کریں؟ میں نے ابھی تک آن لائن کاروبار پر کوئی سنجیدہ تحریر نہیں پڑھی۔ میرے کچھ جاننے والے آن لائن بزنس کر رہے ہیں۔ لیکن وہ بھی شاید حسد کی وجہ سے میری مدد نہیں کرتے ۔ باقی سوشل میڈیا اور اخبار میں جو آن لائن بزنس کے اشہتار شائع ہوتے وہ تو سب فراڈ ہیں۔ رجسٹریشن کے نام پر ہزاروں روپے اکھٹے کر رہے ہیں۔اور سب پلیز منصف صاحب کچھ اس طرح بھی توجہ دیں۔

حافظ؛
امازان ڈاٹ کام کے مالک نے گھر سے آن لائن کتب فروخت کرنا شروع کیں اور تین سال میں سٹاک مارکیٹ تک پہنچ گیا۔ آج وال مارٹ سے بڑی کمپنی ہے۔ جیف وال سٹریٹ میں فنانس کی نوکری کرتا تھا- مارک، فیس بک مالک، ایم آئی ٹی کے ٹرینڈ سیٹنگ ماحول میں تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کامیاب لوگوں نے گھر بیٹھ کر صرف آن لائن ویب سائٹس نہیں بنائیں بلکہ انھیں مارکیٹ میں موجود مواقع کا علم تھا۔ جذبے ساتھ مارکیٹ کا علم ہونا بے حد ضروری ہے۔ اور وہ موٹیویشنل کتب پڑھ کر نہیں ہوتا۔

مدثر حمید:
@عائشہ بحش ، جیسا کے آرٹیکل کچھ آن لائن کاروبار کے متعلق بتایا ہوا ہے اگر آپ اُسے کچھ اس طرح دیکھیں کے آپ فی میل ہیں اور آپ ڈیکوریشن ، سلائی،کڑھائی وغیرہ کا کام اچھے سے جانتی ہیں تو آپ اپنی ویب سائٹ بنا کے اپنے پروڈکٹس خود آن لائن سیل کر سکتی ہیں۔اِسی طرح اور بھی کافی کاروبار ہیں فی میلز کے لیے، لیکن پھر سے وہی بات کی آپ کسی کے مشورے سے نہیں بلکہ اپنی مرضی اور سوچ سے کر سکتی ہیں۔

مدثر حمید؛
اسلام علیکم۔۔۔۔! بہت ہی اچھا اور معلوماتی آرٹیکل ہے، آپ سے آرٹیکل سے کافی بیروزگار نوجوانوں کو نئی سوچ اور حوصلہ ملے گا۔۔۔۔ امید ہے اگلی قسط میں مزید کچھ نئی معلومات ملیں گی۔

@عائشہ بحش آپ نے جو کچھ لکھا ہے میں اس کی حمایت کرتا ہوں، لیکن رہ گئی بات حسد کی تو وہ آپ نے غلط لفظ استمعال کیا ہے. لوگ حسد نہیں کرتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کے ہمارا کوئی بھی جاننے والا ہماری طرح ترقی نہ کر سکے. اس سلسلے میں میں آپ کی اور تمام ان لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں جو واقعی سنجیدہ ہیں اپنی آمدنی کے اضافے کے لئے. لیکن اس کے لئے ایک شرط ہے. شرط یہ کہ آپ نے مردوں کی طرح یہ ٹھان لینی ہے کہ آپ نے واقعی اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے. انٹرپرینیر شپ کے لئے آپ کو سخت محنت کی ضرورت ہے. اگر آپ نے کچھ پوچھنا ہے تو یہاں پہ ہی لکھ دیں. چونکہ میں خود انٹرنٹ پہ کام کرتا ہوں، میں آپ کو ایسے بہت سے طریقے بتاؤں گا جن سے آپ حقیقت میں اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں.

Islamic services;
Fatima Islamic centre
www.dawatethid.blogspot.com
fatimapk92@gmail.com

Visa services;
Best Future Travel & tourism
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913
*  *  *  *  *  *  *

مکمل تحریر >>

ایمانداری

ایمانداری

(مصنف نا معلوم،انتخاب عمران شہزاد تارڑ )

اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بہت سے اصول ہیں۔ان میں سے ایک ایمانداری ھے۔

ایک ایماندار شخص کو ہمیشہ کامیاب شخص سمجہا جاتا ھے۔ کیونکہ یہ اصول اسکی رہنمائ صحیح اور درست رستے کی طرف کرتا ھے۔ اور اسے دنیا کے غم و آلام سے محفوظ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اسے اخروی زندگی میں بھی سکھھ اور آرام پہنچاتا ھے۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری کو اختیار کرکے انسان ایک محفوظ راستے کا انتخاب کرتا ھے۔ کیونکہ اگر ہم روزمرہ زندگی کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ھے کہ ایمانداری کا ہمیشہ اچھا صلہ ملتا ھے۔ ایک ایماندار شخص کی ہمیشہ قدر کی جاتی ھے۔ اور اسے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔ ارد گرد کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ اسکے ساتھھ رابطے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ ایک ایماندار شخص مینارہ نور کی طرح ھوتا ھے جو زندگی کے اندھیرے اور تنہائ میں رہنمائ کرتا ھے۔ لوگ اپنی مشکلات اور پریشانیاں اسکے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص ہی انکی مشکلات حل کر سکتا ھے۔ اور وہ اس پوزیشن میں ھوتا ھےکہ انکی مشکلات اور پریشانیوں کا صحیح اور درست حل تجویز کر سکے۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری نہ صرف اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے بہترین پالیسی ھے بلکہ آخرت کے لیے بھی ھے۔

ایک ایماندار آدمی کو آخرت میں عزت و احترام سے رکھا جائے گا۔ اللہ تعالٰی ایسے شخص کو جنت الفردوس میں داخل کرے گا۔ اور روز قیامت اسے اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اس خاص دن کسی بھی چیز، عمارت یا درخت کا سایہ نہ ھو گا۔ کیونکہ تمام عمارتیں اور پہاڑ ھوا میں اڑا دئے جائیں گے۔ اور زمین کو برابر کر دیا جائے گا۔ لوگ بہت عظیم تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ھوں گے۔ سورج عین سر پہ چمک رہا ھو گا۔ اس دن عرش کے سایہ کے سواء کوئی سایہ نہ ھو گا۔ ایماندار اور نیک آدم زاد اور آدم زادیاں، مرد جن اور جننیاں عرش کے سایہ تلے ھوں گے۔ وہ تمام کے تمام بے خوف اور بے غم ھوں گے۔ انکے علاوہ باقی تمام مخلوق روز قیامت بہت پریشان اور مفلوک الحال ھو گی۔ اللہ تعالٰی اس دن سب پر رحم فرمائے۔

اب ہم اس نقطے پہ بحث کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص ایمانداری کو چھوڑ کے بے ایمانی اور بد دیانتی کو اختیار کرے تو کیا ھوگا۔

میں سمجھتا ھوں کہ دنیا کی بنیاد اللہ تعالٰی نے نیکی اور خیر پر رکھی ھے۔ کیونکہ بدی ہمیشہ دنیا سے مٹ جاتی ھے۔ یہ قانون قدرت ھے۔ اور اللہ تعالٰی کا اصول ھے۔  مختلف اقوام کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نیکی اور خیر کو برقرار رکھتا ھے۔ اور بدی اور برآئی کو مٹا دیتا ھے۔ بے ایمان اور بد دیانت شخص کو ہمیشہ سزا ملتی ھے۔ ملکی قانون کے تحت یا قدرت کے اصول کے تحت۔ کیونکہ بنی نوع انسان کی اجتماعی دانش اس بات کا تقاضا کرتی ھے کہ انہیں برائی اور برے طور طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے تاکہ دنیا میں امن و آشتی کو فروغ حاصل ھو۔ اور امن پسند لوگ اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ معاشرے کے لیئے ٹھیک نہیں وہ بغیر کسی خوف کے کام کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ تم برے کام اور برے طور طریقے چھوڑ دو اور امن و اخوت سے رھو۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ روز بروز طاقتور اور مظبوط بھی ھوتے چلے جاتے ہیں۔

دراصل یہ صورتحال کا اصل رخ نہیں ھے۔ ایسے لوگ درحقیقت خوف اور غم میں مبتلا ھوتے ھیں۔ ان کا ضمیر ہمیشہ انکے برے طور طریقوں اور برے اعمال کی وجہ سے انہیں ہر وقت ملامت کرتا رہتا ھے۔ وہ اپنے برے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ بےچین اوربے کیف رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھہ ساتھہ انکا اندرونی خلفشار اور پریشانی بڑھتی رہتی ھے۔ ایک وقت ایسا آتا ھے کہ  ملکی قانون اور قانون قدرت ان پر لاگو ھوتا ھے۔ اور بالآخر وہ قادر مطلق کے سامنے جھک جا تے ہیں۔ اور برے کاموں اور طور طریقوں سے توبہ کر لیتے ہیں۔ یا باز نہ آنے پر سزا پاتے ہیں۔

زندگی ایک آیئنے کی طرح ھے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے صاف ستھرا اور شفاف رکھیں۔ ایمانداری

 کا ئنات کا حسن ھے۔ ہمیں اس حسن میں مزید نکھار اور خوبصورتی پیدا کرنا چاہئیے۔ ہمیں زندگی کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ جو ہمیں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔

دوسری طرف اگر ہم قوانین قدرت اور اقدار پر عمل نہ کریں تو اس سے ہماری زندگی مشکل اور تکلیف دہ ھو جائے گی۔

ایمانداری کو ہم بعض اوقات ایمان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ھے کہ اگر آپ میں ایمان ھے تو آپ ایماںدار ھوں گے۔ کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہی ھے جو ہمیں زندگی میں ایمانداری اور دیانتداری سے رہنا سکھاتا ھے۔ اگر آپ ایک ایماندار شخص ہیں تو یہ بات آپکے شعوراور لاشعور میں ھو گی کہ خدا مجھے دیکھہ رہا ھے۔ اور میں ہر وقت اسکی نگاھوں کے سامنے ھوں۔ یہ عقیدہ آپکو ایک ایماندار شخص بنادے گا۔ آپ ہر وقت اسی عقیدے کو سامنے رکھیں گے۔ اور یہی عقیدہ آپکو بدی کی طاقتوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ آپکو نافرمانی ، سرکشی اور بےایمانی سے محفوظ رکھے گا۔

اب ہم ایمانداری کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

پہلے پم انفرادی زندگی کو لیتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص ہمیشہ خوش و خرم رہتا ھے۔ اسکے والدین، بیوی، بچے اور بہن بھائی اس سے خوش رہتے ہیں۔ اور اسکا احترام کرتے ہیں۔ وہ اسکی خوبیوں اور اسکی ایماندار فطرت کی تحسین کرتے ہیں۔ ایک ایماندار شخص اپنے خاندان اور تمام دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ھے۔

اپنی انفرادی زندگی میں وہ اپنے بیوی بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور آسانی بہم پہنچاتا ھے۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھاتا ھے۔ تاکہ وہ اچھے اور کارآمد شہری بن سکیں۔ اورملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ اور اسکا بھی بڑھاپے میں سہارا بنیں۔

اور اگر اسکے خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑ جائے تو وہ فوراً اچھے ڈاکٹر سے اسکا علاج کراتا ھے۔ اسکے علاوہ وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالتا ھے۔ اور ہوم ورک میں انکی مدد کرتا ھے۔ اپنی بیوی اور بچوں کا بھی خیال رکھتا ھے۔

ان تمام اقدامات سے اسکی زندگی خوشی اور آرام سے گزرتی ھے۔

اجتماعی حوالے سے وہ مقامی، ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پرتمام بنی نوع کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتا ھے۔ مثلا" خیراتی کاموں اور اداروں کے ساتھہ وابستہ ھونا اور انکی مثبت سرگرمیوں میں شامل ھونا۔ وقت پڑنے پر رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔

یہ تمام امور اور سرگرمیاں اسکی اجتماعی زندگی کو بھی خوبصورت اور ہر کشش بنا دیتی ہیں۔

ایمانداری وقت میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں وقت کی پابندی کرنا چاہیئے۔ اور باقاعدگی سے اپنے دفتر یا کام پر جانا چاہیئے۔ اور وقت پر گھر واپس آنا چاہیئے۔ اسی طرح ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہیئے۔ بے شک فی زمانہ وقت ایک دولت ھے۔

ایمانداری روپے پیسے میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں روپیہ حلال اور جائز ذرائع سے کمانا چاہیئے۔ اور حلال اور جائز جگہ اور مواقع پر ہی خرچ کرنا چاہیئے۔ اسکے ساتھہ ساتھہ ہمیں بچت بھی کرنا چاہیئے تاکہ آڑے اور مشکل وقت میں کام آئے۔

ایمانداری کام میں۔ اسکا مطلب یہ ھے کہ ہمیں اپنا کام وقت پر اور درست طریقے سے کرنا چاہیئے۔ اور اس طرح سے کام کرنا چاہیئےکہ آجر ہم سے خوش اور ہمارے کام سے مطمئن ھو۔

میں سمجھتا ھوں کہ ایمانداری زندگی کا ایک بہترین طریقہ اور روشن راستہ ھے۔ ہمیں اسی روشن راستے پر چلنا چاہیئے۔ تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ھوں۔ 
Islamic services
www.dawatethid.blogspot.com

we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>

Saturday, 12 May 2018

آن لائن کاروبار: کم سے کم سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ منافع

آن لائن کاروبار: کم سے کم سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ منافع

(از:مزمل شیخ بسمل)

آن لائن دنیا ایک بہت ہی وسیع جہاں ہے۔ صرف اسی لحاظ سے نہیں کہ یہاں آپ کو ہر قسم کی معلومات اور ہر طرح کی انٹرٹینمنٹ کا سامان میسر آتا ہے، بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی کاروبار کی مارکیٹ بھی ہے۔

دنیا کی کُل آبادی کا 50 فیصد حصہ اس وقت انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کتنے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں؟ ہمیں دراصل غرض اس بات سے ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اگر ایک جگہ جمع ہو جائے تو کون سا ایسا کام ہے جو ممکن نہیں؟ کون سی ایسی چیز ہے جو یہاں بیچی نہیں جا سکتی؟ کون سا ایسا ہنر ہے جس کے بدلے میں اجرت اور معاوضہ حاصل نہیں کیا جاسکتا؟ اگر فہرست ترتیب دی جائے تو غالباً ایسی بہت کم ہی چیزیں مل سکیں گی جنہیں انٹرنیٹ پر نہیں بیچا جا سکتا۔

اگر آپ اس بات کو سمجھ جائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری آف لائن دنیا کے مقابلے میں آن لائن انٹرنیٹ کی دنیا کا پھیلاؤ کس قدر زیادہ ہے اور آمدنی کو فروغ دینے یا آمدنی کی نئے سرے سے شروعات کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا اہمیت رکھتا ہے۔

جو لوگ آن لائن پیسہ کمانے کی طرف آنا بھی چاہتے ہیں تو وہ ایک ویب سائٹ بنا کر سمجھتے ہیں کہ بس اب پیسے کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ درست مارکیٹنگ حکمت عملی کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے۔ بہر حال اس وقت کا موضوع یہ ہے کہ آخر آن لائن کاروبار شروع ہی کیوں کیا جائے؟ ذیل میں چند بنیادی اور انتہائی اہم وجوہات کا ذکر کروں گا جو کسی بھی کاروبار کے لیے آن لائن موجودگی کو ضروری بناتی ہیں۔

کاروبار کا وسیع پھیلاؤ

یہ سب سے پہلا اور سب سے اہم فائدہ ہے جو آپ کو روایتی طرز کاروبار سے کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی دکان کے مالک ہیں، یا دکان کھولنے کا سوچ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ ایک دکان کی رسائی کہاں اور کس حد تک ہو سکتی ہے؟

ایک بات تو طے ہے کہ آپ کی دکان ایک محدود علاقے کے خریداروں کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ اب فرض کیجیے کہ اگر آپ کی دکان کسی بڑے اور چلتے ہوئے علاقے میں ہے، اور علاقے کی کُل آبادی پانچ لاکھ ہے (اتنی بڑی تعداد عمومی طور پر ممکن نہیں ہوتی) آپ کیا گمان کر سکتے ہیں کہ ان پانچ لاکھ میں سے آپ کے ماہانہ خریدار کتنے ہو سکتے ہیں؟

ایک بہت ہی معمولی سا عدد فرض کریں تو جواب آتا ہے "ایک فی صد" جو کہ پانچ ہزار افراد پر مبنی ہوگا۔ لیکن یہ ایک آئیڈیل حالت ہے جو ہزاروں میں سے کسی بھی کامیاب دکان کو نصیب نہیں ہوتی۔ تاہم جب آپ آن لائن مارکیٹ میں آتے ہیں تو آپ کے خریدار اب کسی علاقے تک محدود نہیں رہتے۔ اس لیے خریداروں کی شرح کئی گنا تک بڑھ جاتی ہے۔

اسے یوں سمجھیے کہ آپ کی کاروباری ویب سائٹ پر ایک ماہ میں 10 لاکھ لوگ آتے ہیں، اب اگر ان 10 لاکھ لوگوں میں سے 5 لاکھ لوگ آپ کے خریدار بنتے ہیں تو یہ کسٹمر کنورژن کی شرح کہلائے گی۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آف لائن کاروبار چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اس کی رسائی بہت محدود ہوتی ہے۔

منافع کے تناسب میں حیران کن زیادتی

آن لائن کاروبار کا دوسرا اور اتنا ہی اہم تر فائدہ یہ ہے کہ آف لائن کاروبار کے مقابلے میں منافع کا تناسب سیکڑوں گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

اگر آپ ایک آف لائن کاروبار کرتے ہیں جو کہ ماہانہ قریب دس لاکھ روپے کے سرمائے سے ایک لاکھ روپے کا منافع دے رہا ہے تو اس میں سرمایہ کاری کا معمولی سے معمولی حساب کیجیے۔ سب سے پہلی چیز دکان کا خرچہ، جو یا تو کرائے پر ہوگی یا اپنی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں یہ ایک مستقل اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔

اس کے بعد بجلی یا گیس کا ممکنہ خرچہ۔ گھر سے لے کر دکان تک آنے اور جانے کا روزانہ کا خرچ اور دیگر اخراجات کو جمع کیا جائے تو مثالی صورتحال میں ماہانہ ہزاروں روپے کی سرمایہ کاری کے بعد آپ کے منافع کی شرح کبھی بھی پچاس فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکتی۔

مطلب اگر آپ نے ایک لاکھ روپے کا سرمایہ لگایا ہے تو حد سے زیادہ کامیاب کاروبار بھی آپ کو پچاس ہزار روپے سے زیادہ منافع نہیں دے سکتا، اور اگر دے بھی رہا ہے تو کسٹمر کنورژن ریٹ اتنا کم ہوگا کہ آپ دولت مندی کے خواب کو کبھی پورا نہیں کرسکیں گے کیونکہ آپ کی رسائی بہت کم ہے۔

اس کے برعکس آن لائن کاروبار میں منافع کی شرح سینکڑوں فی صد تک ہوسکتی ہے، کیونکہ نہ تو آپ کا کوئی مستقل دکان کا خرچہ ہے، نہ دیگر اخراجات جو ایک آف لائن کاروبار میں ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ مارکیٹنگ اپنے کاروبار کے پھیلاؤ کا ایک سستا اور مؤثر ترین راستہ ہے۔ جب کہ آف لائن مارکیٹنگ کی تاثیر انتہائی کم اور خرچہ انتہائی زیادہ ہے۔ دوسری طرف یہ کہ کاروبار کے پھیلاؤ کی کوئی حد مقرر نہیں۔

وقت کی قید سے آزادی

یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ آن لائن کاروبار میں وقت کی آزادی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ آپ کے کاروبار کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہی ہوتا۔ آپ گھر بیٹھ کر بھی کاروبار چلا سکتے ہیں، اور کہیں کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ سے بھی۔

رات کو دو بجے بھی آپ کے گاہک آپ کو ڈھونڈتے ہوئے آپ کے آن لائن کاروبار تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور صبح ناشتے سے پہلے بھی۔ گویا 24 گھنٹے کا کاروبار اور کسٹمر کنورژن کے انتہائی مؤثر طریقے آن لائن مارکیٹ میں آپ کے کاروبار کے لیے مؤثر ہیں جنہیں اگر آپ نظر انداز کر رہے ہیں تو یقیناً آپ خود ہی اپنے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ جو لوگ ابھی تک اپنے کاروبار کو آن لائن جہان میں نہیں لائے وہ لوگ اب جلد از جلد آن لائن دنیا سے اسفادہ کریں تاکہ حالیہ معاشی بحران سے لڑنے کے لیے اور گھروں کے چولہے جلائے رکھنے کے لیے آمدنی اور وسائل کے وسیع تر امکانات علم میں آئیں۔

www.dawatethid.blogspot.com
we provide the best visa services for all countries
www.bestfuturepk.blogspot.com
WhatsApp:+923462115913

مکمل تحریر >>