Tuesday, 20 March 2018

ہائی بلڈ پریشر کا علاج آپ کے کچن میں

ہائی بلڈ پریشر کا علاج آپ کے کچن میں
(علینہ اسلام)

پاکستان میں جب کبھی بھی آپ کے گھرانے کا کوئی عمر رسیدہ شخص آپ سے کہے کہ آپ ان کا بلڈ پریشر بڑھا رہے ہیں تو تین میں سے ایک امکان ہے کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں اور یہ صرف ڈرامہ نہیں ہے۔

عالمی ادارہء صحت کی ڈائریکٹر مارگریٹ چین کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد بالغان اور 45 سال سے زیادہ عمر کے 33 فیصد لوگوں کو بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی بیماری لاحق ہے۔ بدقسمتی سے صرف 50 فیصد کیسز میں ہی تشخیص ہو پاتی ہے، اور ان میں سے بھی صرف آدھے کیسز میں علاج کروایا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف 12.5 فیصد کیسز کو باقاعدہ طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

آئیں سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ بلڈ پریشر ہے کیا۔ 120/80 mmHG کے بلڈ پریشر کو نارمل تصور کیا جاتا ہے جبکہ 135/85 mmHG باعثِ تشویش ہوتا ہے کیونکہ ریڈنگ اس سے زیادہ ہونا ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے۔

پیتھولوجی (یعنی آپ کے جسم کے اندر کیا ہو رہا ہے) کے نظریے سے دیکھیں تو ہائی بلڈ پریشر کا مطلب ہے کہ جب آپ کا دل جسم میں خون پمپ کرتا ہے، تو آپ کی شریانوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ یہ زیادہ دباؤ تب پڑتا ہے جب آپ کی شریانیں سکڑ کر چھوٹی ہوجائیں یا آپ کے جسم میں خون زیادہ ہوجائے۔

اس بارے میں سب ہی جانتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر نمک کے زیادہ استعمال اور ذہنی تناؤ سے منسلک ہے، اس لیے پڑھنے والوں کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ ہائی بلڈ پریشر معمولاتِ زندگی میں خرابی جیسے کھانے پینے میں بے اعتدالی، ورزش کی کمی، اور اسٹریس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور یہی اس بیماری سے نمٹنے کا حل بھی ہے۔

اگر آپ نے میرا پچھلا مضمون دواؤں سے دوری کیوں ضروری ہے پڑھا ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ میں صرف دواؤں پر انحصار کرنے کے بجائے بیماری کی جڑ تک پہنچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہوں۔ دواؤں سے آپ سامنے نظر آنے والی علامات کو ختم کر سکتے ہیں لیکن دوائیں انہیں واپس سر اٹھانے سے نہیں روک سکتیں۔

لہٰذا آئیں ہم ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات جانتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔

زیادہ کیلوریز کا استعمال

کھانے کے وقت ہر چیز حصوں میں کھائیں، خاص طور پر گوشت، روٹی، اور چاول۔ کھانے میں گوشت آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے (مردوں کے لیے دو) اور اجناس اور نشاستہ ایک ہاتھ سے زیادہ نہیں (مردوں کے لیے دو) ہونا چاہیے۔ باقی کی کیلوریز آپ کو سبزیوں سے حاصل کرنی چاہیئں۔

تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ وزن گھٹانے سے بلڈ پریشر اعتدال پر آتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر کے لیے تجویز کردہ دواؤں کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے۔

سوڈیم-پوٹاشیم کا بلند تناسب

پوٹاشیم اور سوڈیم ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور جسم میں پانی اور نمکیات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان دونوں کو متناسب رکھنا ضروری ہے۔ اگر ایک بڑھ جاتا ہے تو دوسرا لازماً کم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے جسم میں بہت زیادہ سوڈیم ہے، تو ڈاکٹرز آپ کو اکثر پوٹاشیم کی دوائیں دیں گے تاکہ آپ کا سوڈیم پیشاب کے ذریعے خارج ہوجائے۔ غذا میں پوٹاشیم شامل کرنے کے لیے کیلے، ٹماٹر، شکر قندی، پھلیاں، دالیں، کھجوریں، اور ناریل کا پانی زیادہ استعمال کریں۔

ٹیبل سالٹ کا استعمال ختم کر دیں اور جب بھی ضرورت ہو تو سمندری نمک یا ہمالیائی گلابی نمک کا استعمال کریں۔ پہلے میں صرف دو معدنیات سوڈیم اور کلورائیڈ ہوتے ہیں جبکہ دوسرے میں 70 سے زیادہ معدنیات مختلف مقدار میں ہوتے ہیں جو اعصاب اور نظامِ قلب کے درست کام کرنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اس میں سوڈیم کم ہوتا ہے۔ زیادہ سوڈیم سے آپ کے جسم میں پانی جمع رہتا ہے، نتیجتاً خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

کم فائبر، کیلشیئم، میگنیشیئم، اور وٹامن سی والی غذائیں

ہر کھانے کے وقت یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی آدھی پلیٹ سبزیوں سے بھری ہے۔

گہرے سبز رنگ کی سبزیاں ان معدنیات کا بہترین ذریعہ ہیں، خاص طور پر میگنیشیئم، کیونکہ یہ کلوروفل (پودوں کے خون) کا مرکزی جزو ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح آئرن انسانی خون کا مرکزی جزو ہوتا ہے۔

پراسس شدہ کھانے مثلاً بسکٹ، چپس، نمکو وغیرہ غذائیت اور فائبر سے خالی ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک اور چینی زیادہ ہوتی ہے۔ انہیں تازہ پھلوں اور سبزیوں سے بدل دیں جو بلاشبہ بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اومیگا 3 کے مقابلے میں سیر شدہ چکنائی کا زیادہ استعمال

60 سے زیادہ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ مچھلی کے تیل کی سپلیمنٹس بلڈ پریشر گھٹانے میں مددگار ہیں۔

ای پی اے اور ڈی ایچ اے کا 3000 ملی گرام روزانہ کھائیں (یہ مچھلی کے تیل کے 1 چمچ کے برابر ہوتا ہے)۔ اس سے آپ کا بلڈ پریشر 2 mmHG کم ہوگا۔

اپنی غذا میں زیادہ اومیگا 3 شامل کریں۔ مچھلی، اخروٹ، پیکن (امریکی اخروٹ)، صنوبری بادام، فلیکس، اور تخملنگے کا استعمال زیادہ کریں۔

ذہنی تناؤ

روزانہ 10 سے 15 منٹ صرف گہری سانسیں لینے کے لیے نکالیں (ایک منٹ میں تقریباً 6 سانس)۔ یہ آپ گھر پر بھی کر سکتے ہیں، اور اگر ناممکن ہو تو یوگا کلاس میں داخلہ لے لیں۔

تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ چھوٹے سانس لینے سے جسم میں سوڈیم جمع رہتا ہے جبکہ گہری اور آہستہ سانس لینے سے آکسیجن زیادہ مل پاتی ہے، ورزش کے لیے برداشت پیدا ہوتی ہے، اور بلڈ پریشر کی مانیٹرنگ بہتر ہوتی ہے۔

ورزش کی کمی

تحقیق بتاتی ہے کہ ہفتے میں 3 دفعہ 20 منٹ کی ہلکی یا درمیانی ورزش بلڈ پریشر گھٹانے میں مدد دیتی ہے۔

بلڈ پریشر کے مریضوں پر کیے گئے تجربات نے ورزش کو بلڈ پریشر کا بہترین علاج قرار دیا ہے۔

اوپر دی گئی ہدایات کے علاوہ یہ کچھ قدرتی علاج ہیں جو بلڈ پریشر کم کرنے میں کلینکلی ثابت شدہ ہیں۔

اجوائن میں ایک کمپاؤنڈ 3-n-butylphthalide ہوتا ہے جس کے بارے میں ثابت شدہ ہے کہ یہ بلڈ پریشر کم کرتا ہے۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق میں اس کمپاؤنڈ کی تھوڑی سی مقدار نے بلڈ پریشر 12 سے 14 فیصد گھٹانے میں مدد دی جو اجوائن کے 4 سے 6 ٹکڑوں کے برابر ہے۔ اجوائن جوس وغیرہ میں اچھا ذائقہ فراہم کرتی ہے اس لیے اسے اپنی غذا میں شامل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔

ہر کھانے کے ساتھ ادرک کا ایک ٹکڑا ضرور کھائیں۔ ادرک کے پاؤڈر کی کچھ مقدار (1.8 سے 2.7 گرام تازہ ادرک کے برابر) کے ساتھ کی گئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ سسٹولک بلڈ پریشر میں mmHG 11 جبکہ ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں 5 mmHG کمی صرف 2 سے 3 ماہ میں ہوئی۔

چقندر کے جوس میں l-arginine ہوتا ہے جو شریانوں کو نرم کرتا ہے۔ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ روزانہ چقندر کا ایک کپ جوس پینا اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا کہ بلڈ پریشر کی دوائیں، اور اس سے 9/5 mmHG بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد ملی۔

کئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گل خطمی (Hibiscus) کی چائے بلڈ پریشر گھٹاتی ہے۔ ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ 240 ml کے تین کپ روزانہ پینے سے صرف 6 ہفتوں میں سسٹولک بلڈ پریشر 7.2 mmHG کم ہوا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ بیسٹ فیوچر ٹراویل اینڈ ٹورازم
www.dswatetohid.blogspot.com
www.bestfuturepk.blogspot.com

Monday, 19 March 2018

میڈیکل سائنس اور یوگا:-


کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:9)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
میڈیکل سائنس اور یوگا:-
یوگا کے ماہرین جسمانی کسرت کے علاوہ اسے میڈیکل سائنسMedical Science  قرار دے کر امراض کے علاج کا ادعاء بھی پیش کر رہے ہیں۔
ماہرین یوگا کا یہ دعویٰ ہے کہ امراض کا علاج یوگا کی جسمانی ورزش اور مشقوں میں ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ یوگی، بی کے یس اینگر IYENGER  .K.S B.  نے اپنی کتاب( (light of yoga میں 182 ایسے امراض کی طویل فہرست شامل کی ہے۔ جس کا علاج یوگا آسنا کے ذریعہ ممکن ہے۔
سیوا آنند آشرم گجرات کے مہا گرو سوامی سری اریاتھا نندا جی مہاراج نے جنوری 2009ء میں 3431 ویں یوگا کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یوگا بے چینی، ڈپریشن، بے خوابی، منفی خیالات، ذیابطیس، کمر درد، دمہ اور پریشر وغیرہ کے لئے مفید ہے۔ لیکن دنیا کے بڑے بڑے با اختیار طبی تحقیقات کے اداروں وMedical Research Centres   سے اس بات کی توثیق ابھی نہیں ہونے پائی ہے کہ یوگا سے واقعی امراض کا علاج ممکن ہے یا نہیں ؟۔
 انڈین میڈیکل کونسل Medical Council of India  اور امریکہ و برطانیہ کے با اختیار میڈیکل کونسلوں نے بھی یوگا کے ذریعہ امراض کے علاج کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ یوگا میں بہت سے آسن ایسے ہیں جو علاج کے بجائے مریض کی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اور جوں جوں یوگا کرتے جائیں گے مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یوگا سے چند مریضوں کو بعض امراض کے علاج میں ہوسکتا ہے کہ فائدہ ہوا ہو۔ لیکن بحیثیت ایک مکمل سائنسی طریقہ علاج کے کوئی ادنیٰ ڈاکٹر بھی قبول نہیں کر سکتا کہ ’’یوگا امراض کے علاج کے لئے مؤثر ذریعہ ہے۔‘‘
ہمارے ضعیف بیمار مریض میڈیا میں پرکشش اشتہارات دیکھ کر اور یوگا کیندروں و پروگرامس ولکچرس فلمی ایکٹر سے متاثر ہو کر یوگا کلاسس کو جائن( Join) کر رہے ہیں۔ یوگا کلاسس میں تربیت حاصل کرنے کا ہر عمر کے لوگوں میں آئے دن شوق بڑھ رہا ہے۔ یہ تمام دعوے کھوکھلے، بے بنیاد اور بد عقیدگی پر مبنی ہیں۔ فیشن اور ٹرینڈ ایک متعدی مرض کی طرح ہوتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ جب شہرت پا جاتے ہیں تو کوئی پھر پلٹ کر دیکھنا گوارہ نہیں کرتا۔
تشبہ بالکفار
سوریہ نمسکار ہو یا بغیر سوریہ نمسکار کے یوگا ہو اس لئے بھی جائز نہیں کہ یہ دوسری قوموں کی مشابہت ہے، اور اسلام میں دوسروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ نے فرمایا :''مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ'جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا (سنن ابو داوٴد، کتاب اللباس، حدیث نمبر ۴۰۳۰)
پھر یہ کہ کفار کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے بہت سارے مفاسد پیدا ہوں گے۔
اسلام نے کفار کے مخصوص طرز زندگی، نہج اور طور طریقے کی تقلید کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہے۔تقلید کفر چاہے وہ کلی ہو یا جزوی تشبہ بالکفار میں شامل ہے۔
یوگا کی مشق کرتے وقت اگر بھگوت گیتا کے پاٹ نہ پڑھے جا رہے ہوں تو یقیناً فوری ایمان و عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن یوگا میں کفار کے مخصوص مذہبی طریقہ العاب Games اور یوگا کے گیرو رنگ کے لباس، سر پر جٹو اور دوران یوگا پراکٹس کرتے وقت دونوں ہاتھ جوڑ کر پرنام و نمستے کرنا اور رشیوں کی طرح آنکھیں بند کر کے دھیانا یا مراقبہ کرنا رشیوں و یوگیوں سے تربیت پانا تشبہ بالکفار میں شامل ہے۔کفر اور اسلام میں ظاہراً کوئی امتیاز نہیں رہے گا، اور امت مسلمہ دوسری باطل قوموں کے ساتھ ضم ہو جائے گی۔اس طرح ہندومت اور بدھ مت  کے کسی بھی جز یا کل کی تقلید تشبہ بالکفار میں شامل ہو گی۔ چاہے وہ کتنی ہی مفید اور منفعت بخش کیوں نہ ہو۔
چونکہ یوگا دوسرے مذاہب جیسے عیسائیت، یہودیت اور سکھ مت کے ماننے والے اس طرح بجا نہیں لاتے جس طرح ہندو لاتے ہیں۔ان کی مذہبی کتابوں اور معاشرہ کا یہ حصہ نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اب یہ بھی مسلمانوں کی طرح ہندو ازم کی تقلید کرتے ہوئے اپنے اپنے معاشرے میں یوگا کو عام کرنے میں کوشاں ہیں۔  
یوگا ہندو مت کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کی خاص تعلیم کے تحت  ایک ذہنی، جسمانی ورزش و روحانی پراکٹس ہے۔  یہ جسمانی ورزش کا طریقہ کار سکیولر نہیں ہے۔ بلکہ ہندو مذہب کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی لئے اس کے سکیولر ہونے کا احتمال باقی نہیں رہتا۔اگر یوگا کو جائز قرار دے دیا جائے تو کفر،معصیت و ذنوب کے باب الداخلے کھل جائیں گے اور اس کا بند کرنا مشکل ہو جائے گا۔اسی لئے یہ مکمل ناجائز کے درجے میں شامل ہے۔
نبی کریم ﷺ نے تین باتوں سے منع فرمایا ہے۔ ایک تشبہ بالکفار، دوسرے مردوں کا تشبہ بالنساء،  تیسرے عورتوں کا تشبہ بالرجال۔
 ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ  نے’’ ایک دفعہ ایک عورت کو دیکھا جس کی چادر میں صلیب کے نقش و نگار بنے تھے۔ دیکھنے کے ساتھ ڈانٹا کہ یہ چادر اتار دو آنحضرت ﷺ ایسے کپڑوں کو دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے۔‘‘(مسند احمد)
کفار کے طور طریقے، نہج اور رسم و رواج، مامولات، مخصوص مذہبی اسٹائل و انداز کی تقلید کرنا اور اس کی کفر سے بھری اصلی نوعیت کو بغیر تحلیل و زائل کئے کہ ایک یا کئی باتوں کی پیروی کرنا تشبہ بالکفار ہے۔
یوگیوں کے لباس کے رنگ، روپ اور طریقہ کار پر ہر کسی کو اعتراض کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ یہ ان کے اپنے مذہب کا اندرونی معاملہ ہے۔ لیکن  مسلمان جو محض یوگا جیسی جسمانی ورزش Physical Excercise   کی خاطر اس کی نقل و تقلید کرتے ہیں۔ ان پر تنقید کرنے، گرفت کرنے اور روک لگانے اور ان کی اصلاح کرنے کا پورا پورا استحقاق مسلم سوسائٹی کے مصلحین، مبلغین کو حاصل ہے کیونکہ یوگا کی مخصوص طرح کی جسمانی ورزش تشبہ بالکفار میں شامل ہے۔
کفار و مشرکین کے عقائد و افکار، عبادات،عادات و اطوار، تہذیب و تمدن اور رہن سہن کی نقل اور تقلید کی جائے تو یہ تشبہ بالکفار کہلائے گا۔ایک مثال سے یوگا کی ممانعت اور عدم ممانعت کی بحث کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
شریعت اسلامی اہل کتاب کی عورت سے نکاح کو جائز قرار دیتی ہے۔ اس اجازت کے تحت ایک شخص کتابیہ سے نکاح کرتا ہے اور خاندان کے تشکیل پا جانے کے بعد یہ اہلیہ گھر کے بڑے اور بچوں کے سامنے دستر پر ہر روز خنزیر کا گوشت اور حرام مشروبات رکھتی ہے اور شوہر مسلمان ہوتے ہوئے دوران طعام دستر پر ان محرمات کو رکھنے سے منع نہیں کرتا۔ معصوم مسلم بچے اگر بچپن ہی سے ان اشیاء کو دیکھتے رہیں تو پھر ان کے اندر حلال و حرام چیزوں کی تمیز،ان سے دوری، اجتناب اور نفرت کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔یہ برادر اسلام اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ میں اور میرے بچے شراب تو نہیں پیتے اور نہ خنزیر کا گوشت تناول کرتے ہیں۔ لہذا ہر گناہ سے پاک ہیں۔ لیکن جب اس مسئلہ کو کسی اہل علم اور فقہی کے پاس رجوع کیا جائے گا تو وہ نبی کریمﷺ ؑ کی یہ حدیث پیش کرے گا۔ جس میں آپؑ نے ’’اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو۔‘‘ (مسند احمد جلد۱/۲۱۰/ ۲۱۵)
اس حدیث نبوی ؑسے شریعت اسلامی کا راست حکم سامنے آ جائے گا اور اس شخص کے لئے لازم ہو جائے گا کہ وہ کتابیہ زوجہ کی فوری اصلاح کرے۔اور دسترخوان سے شراب کو برخواست کر دے۔ حدیث سننے کے بعد اصلاح کی جانب توجہ نہ دی گئی تو بندہ مومن گناہگار ہو گا۔کسی معاملے میں بغیر علم کے خوش فہمی میں رہنے سے جرم و گناہ ساقط نہیں ہوتا۔
 اس طرح اگر کوئی شخص بحیثیت مسلم شوہر اور گھر کے سربراہ کے اپنے اندر اتنی قوت و صلاحیت نہیں رکھتا ہے کہ وہ خود اپنے اہل خاندان کو حرام سے بچا لے۔اہل کتاب عورت سے نکاح کی اجازت کا غلط مفہوم اخذ کرنا اور اس کا استحصال کرنا قابل گرفت ہے۔ شریعت اسلامی میں ایک حلال کے لئے کئی حرام و غیر مرغوب کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ گھر کے رہن سہن اور تہذیب مسلم میں اہل کتاب، مشرکین و کفار کے طرز زندگی اور تہذیب سے خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی تشبہ بالکفار کا حصہ ہے۔فقہا اور اسلامی دانشور یہ مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں کہ ایک شئے کی عدم ممانعت و حلت سے کتنے حرمت اور ناجائز باتوں کے دروازے کھل جانے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں اور آگے چل کر یہ چھوٹی بدی و برائی کتنی بدیوں اور منکرات کو پروان چڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایک صحیح العقیدہ مومن کو مولانا صاحب اپنی لا علمی کی وجہ سے اس شرط کے ساتھ یوگا کی ورزش کی اجازت عنایت کر دیتے ہیں کہ یوگا کی ورزش میں ہری اوم کے بجائے اللہ کا ذکر اور سبحان اللہ و الحمد اللہ کا ورد کریں تو وہ جائز ہو جائے گا۔ مولانا صاحب کی اس اجازت سے شریف، پابند صوم و صلوٰۃ مسلم نوجوان اور خواتین میں یوگا سے دلچسپی بڑھ جائے گی اور اگر مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر اس کی رغبت پیدا ہو جائے اور وہ یوگا کی جماعتوں کے ماحول سے متاثر ہو کر یوگیوں کو دئیے جانے والے گیتا و ویدوں کے درس میں پابندی سے شامل ہونے لگیں تو آج نہیں تو کل نوخیز نسل کے صاف ستھرے ذہنوں پر مشرکانہ تعلیمات کے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی تعلیمات سے ناواقف بیشمار نوجوانوں کے قلب کی گہرائیوں اور دماغ کے گوشوں سے ایمان نکل جائے گا اور ان پر کفر کی تعلیمات کا گہرا اثر پڑھے گا۔ اس طرح یوگیوں و رشیوں کے کافرانہ و مشرکانہ واعظ و نصیحت نوجوانوں کو راہ حق اور صراط مستقیم سے مزید گمراہ کر سکتی ہے اور جس سے ایمان کی عظیم نعمت چھن جانے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک مومن کفر کی باریکیوں کو سمجھنے میں غلطی کر کے چند فائدوں کی خاطر قلب و ذہن کو بند کر کے دھوکہ کھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی نازک صورت حال میں اہل ایمان کو وارننگ دی ہے۔
"وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً...۔(سورہ النساء:۸۹)
ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وه ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہو جاؤ۔"
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:
"..إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ..(سورہ النساء؛140)
تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وه اس کے علاوه اور باتیں نہ کرنے لگیں، (ورنہ)تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو۔"
بعض اہل علم حضرات اس بات پر ایک بحث کرسکتے ہیں کہ قیاس Analogy  کی بنیاد پر کہ مستقبل میں، کفر و شرک کے دریچے کھلنے کے ڈر سے یوگا جیسی ورزش پر ہرگز پابندی عائد نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان حضرات کو اس بحث میں حصہ لینے سے پہلے اچھی طرح معلوم ہو جانا چاہئیے کہ کفر خفی اور اس کے اجزاء کی موجودگی کی ہندو مذہبی کتابوں سے کھلی دلیل کے بعد مزید نص صریح کی تلاش بے سود ثابت ہو گی۔
مائکروگرام کا جو تخم بویا جائے گا اس کے پودے اگیں گے اور درخت، پیڑ، شاخ اور پتے تیار ہوں گے اور اسی کے پھول اور پھل کی فصل بھی تیار ہو گی اسی طرح کفر کی تخم ریزی سے خیر کی فصل اگ نہیں سکتی، شرک کے جراثیم germs سے نیکی اور ثواب کے کام پنپ نہیں سکتے۔
 جس طرح باطل تہذیب و تمدن کے گارے سے اسلامی تہذیب و تمدن کی پر شکوہ عمارت تعمیر ہو نہیں سکتی۔ ٹھیک اسی طرح کفر کی کوکھ سے جنم لینے والا یوگا، مسلم یوگیوں کو رشد و ہدایت، نیکی و تقویٰ کی اور صراط مستقیم کی پرنور شاہراہ پر زیادہ عرصے تک گامزن رہنے نہیں دے گا۔
جو جس کی صحبت، معیت میں رہے گا اس کا معاملہ اور انجام بھی اسی کی طرح ہو گا۔
نبی کریم کی یہ حدیث  اسی ضمن میں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے روز) آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘(سنن ترمذی:2385،حکم البانی:صحيح)
{"قیامت کے روز:سنن ترمذی:3535 کے الفاظ ہیں حکم البانی:حسن}
 نوجوان اگر مدرسین کفر کے ساتھ پابندی سے اپنا قیمتی وقت گذاریں گے تو ان کی معیت اور صحبت میں شرک کا رنگ چڑھنا اور ان سے محبت ہونا ایک عام انسان کا فطری عمل ہے۔
قرآن کریم نے حرام کاموں کے تدارک کے لئے ابتدائی مراحل میں ہی بندش کی اور ڈانٹ کے ذریعہ پابندی عائد کی۔
کفر و شرک، حق و باطل ایمان کے درمیان حد فاصل اور اہل ایمان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز میں تحذیر اور انذار کے ساتھ مخاطب فرمایا:
ولا تقربوا، ’قریب مت پھٹکو،   وجتنبوا ’اور اجتناب کرو،
جو دعوت و ترغیب، ترہیب و تنبیہ اللہ نے اپنے پسندیدہ بندوں کو اور نداء کا ولولہ انگیز مشفقانہ انداز اختیار کیا۔لہو و لعب کی چھوٹی بڑی، لغو طاغوتی حرام بے فیض باتوں کا خاتمہ کرنے کا دو ٹوک فیصلہ فرمایا کہ ان کے قریب بھی مت پھٹکو۔
اسلام کے علمبرداروں کو چاہئے کہ خیر و شر کے تمام مراحل اور مراتب کو پوری سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔
(جاری ہے۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
کتاب ڈاونلوڈ کے لئے یہاں کلک کریں۔
http://dawatetohid.blogspot.com/2018/03/blog-post_15.html?m=1
Sponsor by: FATIMA ISLAMIC CENTRE 
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *
(بشکریہ : مسلم گرلز اسوسی ایشن، حیدر آباد جن کی تحریر میں حذف و ترمیم کے ساتھ ایک جامع تحریر قلم بند کی گئی۔)
*****

Saturday, 17 March 2018

سوریہ نمسکار (سوریا پراناما)

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:8)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
سوریہ نمسکار (سوریا پراناما):
یوگا کے مشق میں سوریا پراناماSurya Pranayama  یا نمسکار بہت اہم ہے۔ یوگی کے لئے ضروری ہے کہ مشق کی ابتداء یا اختتام پر مشرق کی جانب آنکھیں بندھ کر کے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سورج کو پراناما (آداب و سلام) بجا لائے۔یوگا اصل میں گیان اور دھیان کا ایک طریقہ ہے جس کا مقصد دیوی دیوتاؤں کے آگے خود سپردگی ہے۔ سوریہ نمسکار یعنی سورج کی پرستش یوگا کا ایک اہم عنصر ہے۔
یوگا کا پہلا آسن سوریہ آسن ہے جس میں سورج کو نمشکار کیا جاتا ہے اسکی ابتدا بھی اوم سے ہوتی ہے اور پھر اوم آدتیائے نمہ۔ اوم ساوترائے نمہ۔ اوم آرکائے نمہ۔ اوم بھاسکریائے نمہ۔ کا جاپ کیا جاتا ہے (ترجمہ: نمشکار اس کو جو آدیتی کا بیٹا ہے نمسکار اس کو جو زندگی کا مالک ہے نمسکار اس کو جو تعریفوں کا حقدار ہے، نمسکار اس کو جو تقدیر اور عقل کا دینے والا ہے) اور یہ بھی پڑھاجاتا ہے:
 اوم گروربرہمہ اوم گرورویشنو اوم گروردیومہیشور گرو ساکشت پر براہمہ
 (گرو برہما ہے گرو وشنو ہے گروشیو ہے میں ان گروئوں کے آگے جھکتا ہوں)
 بھونما یہ منتر اسمدرا وسنے دیوی پرور تھنہ نمستھوہیوم پدشپرسم کشما وسم۔ (یعنی بھو دیوی آپ کا لباس سمندر ہے پہاڑ آپ کا سینہ ہے میں آپ کے آگے جھکتا ہوں میرے گناہوں کو معاف کردیجئے) اتنے سارے منتر اور جاپ صرف سوریہ آسن کے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی جاپ ہیں جو سوریہ آسن میں پڑھے جاتے ہیں تب کہیں جاکر سوریہ آسن کا عمل پورا ہوتا ہے۔
اس طرح یوگا ایک مکمل مذہبی عمل اور ایک طریقہ عبادت اور بھکتی کی راہ ہے یوگ کی بنیاد میں کہیں بھی صحت اور حفظان صحت کی بات نہیں کی گئی ہے اور نہ دھارمک کتابوں میں یوگا کو صحت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
 ویدک عہد سے پہلے ہی یوگ کا عمل جاری تھا اور ویدک دور میں یہ ویدک کلچر کا بھی حصہ بن گیا پرانی مورتیاں موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے نقش و نگار بھی یوگ کے شہادت دیتے ہیں اور یوگ کے ایک اہم حصہ جنسیات کے آثار بھی مورتیوں اورنقش و نگار کی شکل میں ملتے ہیں اس طرح برہمنی دھرم کا اثر کلچر اور تہذیب پر نمایاں رہا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ یوگ برہمنی دھرم اور ویدک کلچر کا اہم حصہ ہے۔
بی کے ایس اینگر نے ویدوں کے حوالے سے اس کی تعریف میں لکھا ’’پراناما سے جسم اور عقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہو جاتی ہے اور مقدس آگ کے شعلے انہیں توانائی اور رعنائی کے ساتھ پاک کر دیتے ہے۔ تب ایک شخص دھرانا Concentration اور دھیاناDhyana Meditation   کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے طویل مدت درکار ہوتی ہے۔
(صفحہ:۴۶۱:Light of yoga )
" ہندو مذہب کے عقائد میں سوریا پوجا کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زندگی کے بیشتر کام طلوع شمس کے رخ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں۔ہر روز سورج کی پوجا و پرستش کی جاتی ہے۔ تمام مندروں کے دروازے مشرق کی طرف کھلتے ہیں۔ سورج، چاند،ستارے اور زمین، بحر،پہاڑوں و دریاؤں کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔
آج بھی بھارت میں دریائے جمنا،چندی گڑھ اور کئی دیگر شہروں میں ہر سال چیٹھ یا چھاتھ
کا تہوار مناتے ہیں اور اس دن طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت پانی میں پوجا کی جاتی ہے۔
یہ تہوار اس سے منسلک پوجا کا اہتمام خاص طور پر سورج دیوتا (سوریا)،آگ دیوتا (اگنی) اور دیوتا کرتیکیا کی پرتش اور ان سے منتیں مانگنے کے لیے کیا جاتا ہے۔دریاؤں کے علاوہ پورے بھارت کے مندروں میں بھی سورج کی پوجا کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔
تاریخ انسانی میں جن اقوام نے انبیاء و رسل کی لائی ہوئی نور ہدایت کا انکار کیا اور جہالت و گمراہی میں ڈوبے رہے ان میں کفر و شرک اپنی انتہاء کو تھا۔ وہ سورج کے علاوہ نظام شمسی میں پائے جانے والے تمام سیاروں اور ستاروں و کہکشاؤں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے۔
ہزاروں سال قبل ہندو مہاگروؤں میں مشہور ماہرین نجوم و فلکیات گذرے ہیں۔ عقل قدیمہ نے نظام شمسی کی کارکردگی کو دیکھ کر دھوکہ کھایا اور اسے اپنا رب اکبر سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور یہ ہندو عقیدہ کی بنیاد کا بڑا حصہ بن گیا۔جس کی تفصیلات مولف عمران شہزاد تارڑ  کی کتاب"رزق میں فراخی کے اسباب اور مشکلات کا حل"میں ملاحظہ کریں۔

 سوریہ نمسکار سورج کے طلوع و غروب ہوتے وقت اس کی پوجا کرنے کا قدیم طریقہ ہے،اور یوگا کے آسنوں میں سے ایک آسن ہے، صبح کے وقت ہندودھرم کے ماننے والےمردو خواتین کھڑے ہو کر سورج کی پوجا کرتے ہیں،اور مختلف آسنوں کے ذریعہ سورج کو سلام اور سجدہ کیا جاتا ہے، سوریہ نمسکار ہزار تاویلات کے باوجود بنیادی طور پر سورج کی عبادت کرنا ہے،جیسا کہ سناتن دھرم یعنی ہندو مذہب کی مقدس کتابیں اس کے اعتراف سے بھری پڑی ہیں اور موجودہ دور کےہندو مذہبی رہنما اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں، لیکن چونکہ اس شرکیہ عبادت کو علی الاعلان مسلط کرنا ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ممکن نہیں ہے اس لئے فرقہ پرست تنظیموں نے مختلف گمراہ کن حیلے بہانے تراشتے ہوئےاور اس حقیقت کو چھپانے کےلئے یہ کہا کہ سوریہ نمسکار کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب یاجسمانی ورزش سے ہے اور ہر آدمی کو اپنی تہذیبی اقدار نیز صحت کا خیال رکھتے ہوئے سوریہ نمسکار کرنا چاہئے۔
 سوریہ نمسکار ہو یا یوگا قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے،یوگا کے سلسلے میں ہندو مذہبی کتابوں میں مستند مواد میں نصوص صریحہ موجود ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یوگا کی بنیاد خالص کفر و شرک پر ہے،
یوگا اور سوریہ نمسکار کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کا تعلق مذہب سے نہیں ہے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے ،شیطان نے ہر زمانے میں لوگوں کو سورج کی عبادت کی طرف دعوت دی ہے ، اور انسانوں کے مابین سورج کے بارے میں عجیب و غریب قسم کے تصورات دلوں میں پیوست کیے ،جبکہ سورج کی حقیقت بس اتنی سی ہے کہ وہ اللہ کی من جملہ مخلوقات میں سے ایک ہے،
اللہ نے اس کو پیدا کیا اور اس کے لئے ایک متعینہ رفتار رکھی ،
قرآن مجید میں ہے
''وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُون۔
وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔"(سورہ الانبياء۳۳ )
سورج کاطلوع ہونا اور غروب ہونا اور روزانہ کی مسافت کا طے کرنا یہ سب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے،وہ اپنے رب کا غلام ہے لیکن ہر زمانے میں انسانوں نے اسے رب کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے،
حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قوم میں بھیجے گئے تھے اس قوم میں سورج چاند اور ستاروں کی پوجا ہوتی تھی،قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ۔
 إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(سورہ الانعام:78،79)
پھر جب سورج کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہو گیا تو آپ نے(اپنی قوم) فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ میں اپنا رخ اس(اللہ تعالی) کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
 اسی طرح قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام واقعہ بیان کیا گیا ہے، جن کو اللہ نے ایسی بادشاہت عطا کی تھی کہ ان کے بعد کسی دوسرے کو ویسی بادشاہت نہ مل سکی، اللہ نے انس وجن اور سارے پرندوں کو ان کے تابع کیا تھا،ایک دن ہدہد نامی پرندہ نے آکر کہا:
وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ۔(سورہ النمل۲۴)
میں نے اسے(ملکہ سبا) اور اس کی قوم کو، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجده کرتے ہوئے پایا، شیطان نے ان کے کام انہیں بھلے کرکے دکھلا کر صحیح راه سے روک دیا ہے۔ پس وه ہدایت پر نہیں آتے۔"
 اسی طرح سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بھی لوگوں میں سورج کے بارے میں کچھ ناقابل فہم تصورات پائے جاتے تھے، ان میں سے ایک تصور یہ تھا کہ کسی بڑے شخص کی پیدائش اور موت پر سورج متاثر ہوتا ہے اور اسے گہن لگ جاتا ہے،اور اس تصور کا اظہار اس وقت ہوا جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا، اسی دن سورج کو گہن لگ گیا،بعض صحابہ کے دل میں آیا کہ یہ واقعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی موت کی وجہ سے پیش آیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی کہ کوئی ایسا غلط تصور مسلمانوں کے ذہن میں بیٹھ جائے جس سے ان کے ایمان و عقیدہ کو ٹھیس پہنچے یا یہ تصور ان کے ذہنوں میں بیٹھ جائے کہ ایک انسان اللہ کی کسی دوسری مخلوق میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اگرچہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت مغموم تھے لیکن آپ نے وقت پر اس غلط عقیدے کا حل ضروری سمجھا، آپ نے تمام صحابہ کو جمع کر کے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اے لوگو ! سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں
 میں سے ہیں، اور بے شک ان دونوں میں
 کسی آدمی کے مرنے سے گہن نہیں لگتا
ہے۔(صحیح مسلم:2102)
 مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر زمانے میں شیطان نے سورج کے بار ے میں کچھ ایسے لغو اور فضول تصورات اور غلط افکار کو لوگوں کے درمیان ترویج دی ہے ، جس کی وجہ سے لوگ سورج کی عبادت و بندگی کرنے لگے ،اور اس کو مخلوق کے بجائے خالق ، مربوب کے بجائے رب کا درجہ دینے لگے؛ لیکن ہر زمانے میں اللہ اپنے نبیوں اور رسولوں ، امت کی فکر کرنے والےنیک و صالح بندوں کے ذریعہ ایسے بے جا تصورات و توہمات کا خاتمہ کیا اور لوگوں کو سورج کی عبادت وبندگی کے بجائے اللہ کی عبادت و نیاز مندی کی طرف پھیرا ،اور نزول ِ قرآن کے وقت صاف طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ سورج بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے،ہر گز اس کی عبادت نہیں کی جائے گی ارشاد  فرمایا :
'' وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۔اور دن رات اور سورج چاند بھی [اسی کی] نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو۔"(سورۃ فصلت ۳۷)
اس آیت کی روشنی میں سورج سے نفع و نقصان کا عقیدہ رکھنا بندہ کو کافرو مشرک بنا دیتا ہے۔ سورج اور چاند کی جانب احتراماً جھکنا، رکوع کرنا یا سجدہ کرنا،نمسکار و سلام بجا لانا سب سخت ممنوع اور حرام ہیں۔
اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع ، استواء اور غروب کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج خوب ظاہر ہو جائے یعنی (ایک نیزے کے بقدر بلند ہو جائے) نیز جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو مطلقاً کوئی بھی نماز خواہ فرض ہو یا نفل چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ بالکل غروب ہو جائے اور آفتاب کے طلوع و غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو اس لئے کہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے" (صحیح بخاری: ۳۲۷۲)
اگر سوریہ نمسکار اور یوگا کا تعلق مذہب سے نہ جوڑ کر صرف ہندوستانی تہذیب سے جوڑا جائے تب بھی یہ ناجائز اور حرام ہے ، اس لئے کہ اسلام میں کسی دوسری قوم کی تہذیب جو اسلام کے خلاف ہو اختیار کرنا گناہ ہے ، کیونکہ اسلام کی ایک الگ تہذیب اور منفرد شناخت ہے ، جو دنیا کے تمام مذاہب کے لئے قابل اتباع ہے، اس لئے اسلامی تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر دوسری تہذیب کو اختیار کرنا کسی بھی مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہے۔
 سوریہ نمسکارکے بجائے نماز کا اہتمام کرنے میں بے شمار روحانی وجسمانی، شخصی واجتماعی ، فوائد وحکمتیں پوشیدہ ہیں ، روحانی فوائد تو یہ ہیں کہ نماز کے واسطے سے بندہ کا اپنے رب سے رشتہ استوار ہوتا ہے، اس کی رحمت ومغفرت کا وہ امیدوار اور اس کے الطاف وعنایات کا طلب گار ہوتا ہے ، اپنے مالک ومولی سے بندہ کا یہ جذباتی تعلق اس کی کامیابی وفلاح کا ضامن ہے، سستی، کاہلی اور تعطل کے اس دور میں صرف نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر اس کو صحیح طرز پر ادا کیا جائے تو دنیا کے تمام دکھوں کا مداوا بن سکتی ہے ، نماز جہاں بیرونی اعضاء کی خوشنمائی وخوبصورتی کا ذریعہ ہیں وہاں اندرونی اعضاء مثلاً دل، گردے، جگر ، پھیپھڑے ، دماغ ، آنتیں ، معدہ ، ریڑھ کی ہڈی ، گردن ، سینہ ، اور تمام قسم کےGIANDS کی نشونما کرتی ہے۔
اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ نماز کوئی ورزش نہیں بلکہ وہ خالص اللہ کی بندگی کا ایک طریقہ ہے،لیکن اس کا ایک ذیلی اور ضمنی فائدہ یہ ہے کہ جو اس کا اہتمام کرے گا وہ صحت مند رہے گا ۔ اس کا مشاہدہ ہم ہر روز اپنے اطراف میں کرتے ہیں۔جیسا کہ اسلام کے کئی قانون کو جزوی طور پر ہی قبول کرکے قومیں ترقی کے مدارج طےکر رہی ہیں اور ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ذلت ہمارا مقدر ہوئی۔(بشکریہ:محمد غیاث الدین حسامی/حذف و ترمیم کے ساتھ)
اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کے مطابق سوریا پراناما  Surya Pranayama یا نمسکار  ناجائز اور حرام قرار پاتا ہے۔ اس کے جائز ہونے کی کوئی گنجائش ہمیں شریعت میں نہیں ملتی۔ یہ سو فیصد کافرانہ عمل ہے۔ اس کی حرمت مدلل اور مبین ہے۔ اس میں تبدیلی اور آزادی کی کوئی راہ نہیں نکالی جاسکتی۔
بے شک زمین پر زندگی کو ممکن بنانے میں سورج کا سب سے اہم کردار ہے اسی طرح انسان کی زندگی اور صحت پر بھی اس کے گہرے اثرات ہیں۔اس کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق اور مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہوتی ہے۔ عبادات و معاملات اور حقوق کی باقاعدہ ادائیگی ہوتی ہے۔اسی طرح سورج جتنا انسانوں کے لئے ضروری ہے اتنا ہی جمادات و نباتات اور جانوروں کی زندگی کے لیے ضروری ہے۔لیکن یہ سب فائدے سورج کے خود بخود کے نہیں ہیں بلکہ واحد اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں۔جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔(جاری ہے۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
کتاب ڈاونلوڈ کے لئے یہاں کلک کریں۔
http://dawatetohid.blogspot.com/2018/03/blog-post_15.html?m=1
Sponsor by: FATIMA ISLAMIC CENTRE 
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *
(بشکریہ : مسلم گرلز اسوسی ایشن، حیدر آباد جن کی تحریر میں حذف و ترمیم کے ساتھ ایک جامع تحریر قلم بند کی گئی۔)
*****

Thursday, 15 March 2018

کتاب:یوگا کی حقیقت

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:7)
(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
مراقبہ، دھیانا Meditation:- 
یوگا میں مراقبہ کی بڑی اہمیت ہے۔ یوگا کے ماہرین بغیر مراقبہ کے یوگا کی مشقوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا یہ استدلال ہے کہ مراقبہ کے ذریعہ آپ میں اور آپ کے نفس میں ایسا روحانی تعلق پیدا ہو جاتا ہے جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور یہ جسمانی اور روحانی نظام کے توازن کو بگڑنے نہیں دیتا بلکہ ہم آہنگی پیدا کر کے آپ کو بے پناہ سکون اور توانائی ملتی ہے۔یوگا (دھیانا و مراقبہ) کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی ایک جگہ بیٹھ کر روزانہ مقررہ وقت پر کیا جائے،مشرق کی جانب آنکھیں بند کر کے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سورج کو پرنام و آداب بجا لائے۔ صبح کا وقت سب سے بہتر ہوتا ہے،اس کی ابتداء دس تا پندرہ منٹ سے کریں۔ اس کے بعد انھیں قوت اور برداشت کے مطابق بڑھاتے چلے جائیں۔
بی کے ایس اینگر نے ویدوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ پرانیاما سے جسم اور عقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہو جاتی ہیں اور مقدس آگ کے شعلے انھیں توانائی اور رعنائی کے ساتھ پاک کر دیتے ہیں، تب ایک شخص دھرانا اور دھیانا کے قابل ہوتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے طویل مدت درکار ہوتی ہے۔ (لائٹ آف یوگا صفحہ ۴۶۱)
مہا یوگیوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے علاوہ یوگا سے مدرا (گہراسکون) اور یوگا ندرا(جسمانی و ذہنی، جذباتی سکون) ملتا ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کو ان مراقبوں کی کبھی ضرورت رہی ہے؟
اسلام کی عبادتیں خود اس طرح کی ہیں کہ ہر مومن لازمی طور پر روزانہ اور سال میں کئی مرتبہ مراقبہ یعنی عبادات کرتا ہے۔ صوم و صلوٰۃ، قیام الیل، حج و عمرہ، اعتکاف میں بندہ اللہ سے لو لگاتا ہے۔۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر دن فرض، سنت اور نفل نمازوں میں قیام، رکوع و سجود و قاعدہ میں نمازی دھیان لگاتا ہے اور عقل کے مطابق گیان بھی کرتا رہتا ہے۔ نماز کا پابند شخص روزانہ فرض، سنت، نفل نمازوں میں ایک گھنٹے سے زیادہ تک اسلامی مراقبہ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ماہ صیام کے فرض روزوں اور اعتکاف مسجد، اور حج و عمرہ میں جو تلاوت اور تسبیح و اذکار پڑھے جاتے ہیں وہ بہترین اسلامی مراقبہ ہے۔ اس کے علاوہ احتساب نفس، توبہ و اوستغفار، اذکار اسمائے حسنیٰ کا ورد اور رجوع الیٰ اللہ کی کوشش، قرآن کریم کی تلاوت، کتاب اللہ و سیرت رسول  ؑ پر غورو فکر وغیرہ تمام خالص اسلامی مراقبہ و مراجعہ میں شامل ہیں۔
انبیاء ورسل اور اولیاء اللہ، سلف صالحین مراقبہ یعنی عبادات کیا کرتے تھے۔ لیکن و ہ مراقبے حب اللہ کے لئے کئے جاتے تھے۔اسلام نے مراقبہ کو کھیل کود اور لہو لعب سے پاک رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
:وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ
(سورہ الاعراف:۲۰۵)
اور اے شخص!اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ،صبح و شام اور اہل غفلت میں شمار مت ہونا۔"
مومن کا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے۔ دنیا کی تمام آلائشوں اور تعلقات کو منقطع کر کے صرف اس کی طرف رخ اور توجہ کرنا مسلمان کا اولین کام ہے۔
"قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الأنعام:162)
 آپ فرمادیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اورمیرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جوسارے جہان کا مالک ہے۔"
پچھلے صفحات میں اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ یوگا کا اصل مقصد جسمانی ورزش سے روحانی ارتقاء حاصل کرنا ہے۔ اس کی کرشنا نے ارجن کو تعلیم گوتم بدھ نے سادھوں کو تعلیم دی اس بات پر زور دیا کہ روحانی ارتقاء کے لئے یوگا کرتے رہو۔اسی میں روح کی نجات ہے۔
بنیادی طور پر ہندو ازم کا بنیادی فلسفہ جس میں آتما (روح) ‘ پرماتما (بھگوان) اور شریر (جسم) کو مراقبے کے ذریعے ایک ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہمارے بعض مسلمان عقلمند یوگی مراقبہ میں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ انھوں نے شرک کو ترک کیا ہے۔ یہ حضرات الٹے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اسلام میں مراقبہ نہیں ہے؟
اسلام کا مراقبہ کا تصور بھگوت گیتا اور یوگا کے مراقبہ کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار اہل عقل، اولو الالباب، اور دانشمند لوگوں کو انفس و آفاق، خالق و کائنات اور ان کے پیدا کردہ نظام کائنات پر غور و فکر و تدبر کرنے کا بار بار حکم دیتا ہے۔
بندہ مومن آخرت کے خوف اور اپنے رب کی رحمت کی امید میں راتوں کو اٹھ کر قیام اور سجدہ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
"أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ...(سورہ الزمر:۹)
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں [عبادت میں] گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو۔"
رہبانیت اور اسلام:-
یوگا ان رشیوں اور راہبوں کی خصوصی، لازمی ورزش و کسرت کا نام ہے۔ جس کے ذریعہ وہ دنیا داری کے معاملات سے الگ رہ کر روحانی ارتقاء کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
جبکہ اسلام نے رہبانیت، ترک دنیا، اور تپسیا والی زندگی کا خاتمہ کیا اور عائلی و دنیوی زندگی کو اسلام کا لازمی حصہ قرار دیا۔
رہبانیت کا نقطہ نظر قدیم زمانے میں بیشتر مذاہب ، خاص طور پر مسیحیت اور بدھ مت سے متعلق رہا ہے۔ اسلام اس کو ناپسند کرتا ہے ۔
قرآن کی رو سے یہ طرزِ زندگی، حق کے متلاشیوں نے خود اختیار کیا تھا، ان پر فرض نہیں کیا گیا تھا۔
ارشاد ربانی ہے :
"وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ.‘( الحديد:27)
"اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی)۔"
اِلَّا ابْتِغَآ ءَ رِضْوَانِ اللہ۔ کا مطلب ہے۔ کہ یہ رہبانیت ہماری فرض کی ہوئی نہ تھی بلکہ اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے اسے خود اپنے اوپر فرض کر لیا تھا۔
اس صورت میں یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے اور یہ کبھی دین حق میں شامل نہیں رہی ہے ۔
اس کا مطلب صاف ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے علم و عمل کا جو نظام بنی آدم کو مذہب،دین،دھرم وغیرہ کے ناموں سے ملتا رہا ہے اس میں اس غیر فطری نظریہٴ حیات کا کبھی مطالبہ نہیں کیا گیا۔یقینا اس آیت سے صرف اسلام ہی کی براءت رہبانیت سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ مذہب کی پوری تاریخ سے اس کی بے تعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔
قرآن کی اس آیت کی بنیاد پر ہر مسلمان اس بات کے ماننے اور یقین کرنے پر مجبور ہے کہ عیسائی مذہب ہو یا یہودی دین، ابراہیمی ملت ہو یا نوحی دعوت کسی کا رہبانیت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔
جیسا کہ ایک حدیث میں واقعہ ہے۔کہ
جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے عورتوں کے ترک کرنے والا معاملہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا:اے عثمان!مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا۔کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی اختیار کر لی ہے؟انھوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔(سنن الدارمی:2169)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی زبانِ حال سے پکار پکار کر پوری امت کو یہ درس دے رہا ہے کہ اسلام جیسا مکمل اور جامع نظامِ حیات مل جانے کے بعد اس کے پیرو کاروں کو رہبانیت جیسی بے جا مشقتوں کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ کا اسوۃ اور زندگی دنیا کے تمام انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے جو رہبانیت سے دور ایک عائلی، معاشرتی، اجتماعی زندگی اور مکمل کامیاب نظام حیات ہے۔ اب اس میں سنیاسیوں اور رشی منی اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے تعلیمات اور روایت و طور طریقوں کو کسی بھی عنوان سے اہل اسلام کے درمیان داخل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
(جاری ہے۔۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
کتاب ڈاونلوڈ کے لئے یہاں کلک کریں۔
http://dawatetohid.blogspot.com/2018/03/blog-post_15.html?m=1
معاون:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *
(بشکریہ : مسلم گرلز اسوسی ایشن، حیدر آباد جن کی تحریر میں حذف و ترمیم کے ساتھ ایک جامع تحریر قلم بند کی گئی۔)
*****

یوگا کی حقیقت

Tuesday, 13 March 2018

Royal Cosmetic Surgery

Royal Cosmetic Surgery

Director Mr.Shahid Munir

☆Address : Third Floor, Ammar Arcade, Jinnah Super Market, F-7 Markaz, Islamabad. Landmarks : Ammar Arcade, Jinnah Super Market City : Islamabad Phone : +92-51-2656491, 2656492Fax : +92-51-2656493 Mobile : 0301-5500906 info@royalaesthetichealth.pk
http://www.royalaesthetichealth.pk/
https://www.facebook.com/royalcosmeticsurgeryislamabadpakistan/
•••••
☆Business Hours
Monday-Saturday [9 am - 8 pm]
•••••
☆Welcome To Pakistan's Best Plastic Surgery Clinic in Islamabad - Royal Aesthetic Health Do you want to become more beautiful, gorgeous, attractive and confident? Royal Aesthetic Health is your destination. Step in our islamabad's best clinic, get desired aesthetic results and end up with improved appearance. We will be more than happy to see you fulfill your dreams through wide range of our most advanced surgical as well as non-surgical cosmetic procedures. Your satisfaction is our top primacy and we are keen to help you achieve your goals by providing best services using state of the art equipment to produce best possible results.
•••••
☆Our Services
We are providing an extensive range of surgical, minimal invasive and non-surgical cosmetic procedures. This range includes Hair transplant procedures, Plastic surgeries, Cosmetic surgeries like breast surgeries, Liposuction, facial cosmetic surgeries, laser treatments, skin care treatments,
Laser Hair Removing, and dental services.
•••••
Surgeons and Aesthetic Dermatologists of Pakistan Royal Cosmetic surgery Pakistan is blessed with expert Cosmetic Surgeons and Dermatologists who have been serving the society for last 15 years. They turned our client into satisfied customers who strongly believe that no other surgeon can treat them better than our proficient team. They have treated well-known celebrities and bureaucrats who feel a big positive change in their lifestyle after treatment. They give more priority to your aesthetic and well-being than money. They keep themselves updated with the latest innovative and development in the cosmetic surgery field and thereby bring advanced and most-effective treatments just to deal with customer’s issues and problem. They are experienced enough to guarantee you natural, undetectable and positive results of both surgical and non-surgical treatments. They promise to direct you toward the best and the most appealing lifestyle through their treatments. Book your appointment now.
* Dr. Naveed Azhar (Plastic Surgeon)
* Dr. Tayyaba Iqbal Qazi (Dermatologist)
* Dr. Abida Sardar (Dermatologist)
* Dr A Hameed Plastic (Surgeon)
* Dr. Parisa Naeem (Dermatologist)
* Dr. Sumaira Abdullah (Dermatologist)
* Dr. Umair Farrukh Raja،
   Dr Adil Shahnawaz
(Dentist)
* Dr. Adnan Aslam (Surgeon)
* Dr. Afeef Umar Zia Dental Surgeon)
•••••

فقہ اسلامی کے چند اہم اصول

کتاب:یوگا کی حقیقت
(قسط نمبر:5)
(مولف: عمران شہزاد تارڑ ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)
فقہ اسلامی کے چند اہم اصولوں کو سامنے رکھ کر اگر استنباط کیا جائے تو "یوگا" کی ممانعت اور عدم ممانعت کی باتیں سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
1۔مبادیات کی تحقیق:-  
یوگا کے مبادیات کی تحقیق کریں تو اس کی دو بنیادی باتیں راست کفر اور ہندو (ویدی یا برہمنی) مذہب سے جا ملتے ہیں۔ اس کا مصدر گیتا کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ دوسرے یہ کہ یوگا پر رشیوں  اور آچاریوں کا مکمل کنٹرول ہے اور بطور عبادت اس کی مشق کی جاتی ہے۔ یوگا کے مبادیات کی تحقیق(تخریج مناط)   Means to derivation of the basis or   pacification of the basic Characteristics سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب یوگا بدھ مت مذھب کی تعلیمات کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔
اسی طرح یوگا کے اشلوکوں میں توحید، رسالت، کتاب ﷲ اور یوم آخرت کا انکار ہے۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ ہے۔ کفار کے ساتھ مشابہت ہے۔ غرض اس تخریج مناط کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یوگا ہندو تہذیب کے عقائد کا اہم حصہ ہے۔
اسی طرح اگر آپ یو ٹیوب میں یوگا پرے(yoga pray)لکھیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں ہندو اور بدھ مت میں "یوگا"ایک باقاعدہ پوجا و پرستش کے طور پر کی جاتی ہے۔
ہم یہاں صرف ایک اقتباس پیش کر کے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔۔
بدھ  مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان(مراقبہ) میں مصرف ہو گئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت و مراقبہ  کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی۔
اس طرح روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کی خاطر ریاضت کا اہم طریقہ "يوگا" ایجاد کیا گیا جس پر ہندو مت، بدھ مت اور جین مت کے پیروکار عمل پیرا ہیں۔( مقدمہ ارتھ شاستر:129)
اجمالي طور پر اگر ديکھا جائے تو بدھ متوں کے نظريات ہندو مت سے مختلف نہيں کيونکہ يہ بھی قانون‘ جزاوسزا اور تناسخ ارواح کے قائل ہيں ۔ بار بار کی پيدائش اور جزاوسزا سے نجات پانے کی خاطر برائی اور بھلائی سے رکنے اورخواہشات پر قابو پانے کی مراقبہ کی کوشش کرتے ہيں
اس مذہب کی بنیاد ’’حصولِ نروان‘‘ ہے
بدھ مت ميں نروان مذہبی زندگی کا مقصود ہے۔ گوتم بدھ زندگی کے مسئلہ کا جو شافی وکافی حل تلاش کر رہا تھا‘وہ اسے درخت کے نيچے مراقبہ کی حالت ميں نروان کی صورت ميں ملا۔نروان ايک ايسی حالت ہے جو عام ذہنی سانچوں سے بالاتر ہو۔
گوتم بدھ کے با قول نروان ہی ميں انسان کو دکھوں سے مکمل چھٹکارا اور ابدی مسرت حاصل ہو سکتی ہے اور وہی انسان کا حقيقی مطلوب ہو سکتا ہے۔
نروان کی حقيقت گوتم بدھ کے اپنے الفاظ ميں
بھکشوؤ(پيروکارو)!ايسي کيفيت موجود ہے جہاں نہ تو خاک ہے نہ پانی‘ نہ آگ ہے نہ ہوا‘نہ لامکانيت ہے‘نہ شعور کی لا محدوديت‘ نہ تو عدم شعور ہے اور نہ شعور‘ نہ تو يہ دنيا ہے اور نہ دوسری دنيا‘ نہ سورج ہے وہاں اور نہ چاند، اور ہاں بھکشوؤ! ميں کہتا ہوں وہاں نہ آنا اور نہ جانا‘ نہ ٹھہرنا ‘نہ گزر جانا اور نہ وہاں پيدا ہونا ہے ۔بغير کسی سہارے‘ کسی حرکت يا کسی بنياد کے ہے۔ بے شک يہی دکھوں کاخاتمہ (نروان)ہے۔‘‘
(دنياکے بڑے مذاہب… عمادالحسن فاروقی)
گوتم بدھ کے اس بيان سے يہی سمجھ ميں آتا ہے کہ ايسی کيفيت کا نام ہے جہاں انسان دنيا سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن ميں کوئی دوسرا نقطۂ نہيں ہوتا۔ سوائے اس کے جو وہ اپنے ذہن ميں لے کر سوچتا ہے۔ اسے حالت ’’استغراق‘‘بھی کہتے ہيں ۔ ہميں زيادہ تفصيل ميں جانے کي ضرورت نہيں ۔ان کا يہ نظريہ جيسے بھی ہو اور جيسی کيفيت بھی ہو‘يہ اسلام کے فطری مزاج کے خلاف ہے۔ اس طريقہ سے خدا کی معرفت حاصل کرنا اور دنيا کے غموں سے نجات حاصل کرنا ۔ کوئی شريعت کا معاملہ نہيں ہے۔ دين اسلام نے ايسی تمام جاہلانہ حرکات وکيفيات کا سختی سے رد فرمايا ہے۔
دين اسلام نے دين کے ساتھ ساتھ دنيا بہتر بنانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی ترغيب بھی دی ہے۔
فرمايا:
رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْآَخِرَۃِ حَسَنَۃً۔(سورۃ البقرہ:201)
’’ا ے اللہ ہميں دنيا اور آخرت ميں بھلائی عطا فرما۔‘‘
مزيد فرمايا:وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَکَ مِنَ الدُّنْيَا۔(سورۃ القصص۔77)
’’اور دنيا سے اپنا حصہ لينا مت بھولو۔‘‘8
2۔ سدباب الذرائع :-
  الف: شریعت ہر دو زاویوں سے مسئلہ کا تجزیہ کرتی ہے ایک اگر کسی امر کے سلسلے میں اس کے سد باب ذرائع  closing of the gate of mean سے کفر و شرک، برائی و منکرات اور لادینیت اور طواغیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے ان ذرائع کے باب الداخلہ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ تا کہ بندہ مومن اللہ کی فرمانبرداری، اطاعت، اور تقویٰ و پرہیزگاری میں کوئی خلل نہ پیدا کرے اور نہ وہ کفر کے قریب پہنچ سکے۔
ب: فتح الباب ذرائع  
  Opening of the gate of means
اگر کسی مسئلہ میں ایسے ذرائع کے ابواب کھول دئیے جائیں۔جن سے توحید، حق، خیر، ثواب،نیکی و تقویٰ کو تقویت ملے اور شرک، شر،برائی کے پیدا ہونے کا کوئی خدشہ باقی نہ رہے اور تمام بند دروازوں کو کھول دینا جس سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر مستفید ہوں اور اپنی ضرورت کے مطابق منفعت حاصل کریں اور کوئی گناہ اور برائی ہونے کا خدشہ نہ ہو تو وہ فتح الباب ذرائع کہلاتا ہے۔جبکہ یوگا کے تمام ذرائع ہندو مذہب کی تعلیمات کفر و شرک سے بھرپور اور عقیدہ اسلامی کے خلاف ہیں اور یوگا کی بنیادی تعلیمات سے راست ٹکراتے ہیں اور ان ذرائع کے ابواب کھولنے سے اسلامی عقائد، ایمانیات اور تہذیب و تمدن پر راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کسی بھی نیکی اور خیر کی آخری امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یوگا کی اجازت سے ہندو مذہبی بنیادی تعلیمات سے راست تعلق یا بالواسطہ تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔؟اگر پیدا ہو بھی رہا ہے تو اس کی مقدار اس کی گہرائی کہاں تک پہنچے گی؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
3۔گناہ وجرم سے مُبرّا ہونا:
ایسے تمام افعال جس کے ظاہر وباطن میں کوئی ممنوع اور خلاف شرع بات نہ ہو اور اس کے کرنے سے کسی گناہ، شر اور منکر کے پیدا ہونے اور پھیلنے کاشبہ نہ ہو، فقہ میں ایسے اعمال کو گناہ سے مبرا قرار دیا جاتا ہے، جسے فقہ کی اصطلاح میں ارتفاع المسؤلیہ الجنائیہِ کہتے ہیں۔
عام کھیل کود اور تندرستی کے لیے ورزش وکسرت اصل کے اعتبار سے جائز اور مباح ہے۔ جب تک کہ کوئی منکر، شر اور گناہ کی چیز اس میں شامل نہ ہو اور کوئی دلیل ِحرمت اس میں نہ پائی جائے، مباح رہے گا۔
کسی شئے کو مباح قرار دینے سے قبل حسب ذیل چند سوالات کے تشفی بخش جوابات کا حاصل کرنا ضروری ہے۔
 ۱۔  جائز قرار دینے والی اصل شئے کون سی ہے؟۔
 ۲۔  اسے مباح قرار دینے کے لئے کن باتوں پر انحصار کیا جا رہا ہے؟۔
 ۳۔ کیا تحقیق و تجزیہ کے تمام مراحل طئے کئے جا چکے ہیں ؟جو مشروع قرار دینے کے لئے لازمی ہے۔
 ۴۔ کیا صرف قیاس analogy ، مفروضاتassumption ، ظاہر پسندیFormalism  کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی شئے کی عدم ممانعت کا فیصلہ کر لیں ؟
یوگا کا مسئلہ عام کھیلوں اور ورزش سے مختلف ہے۔ یوگا کو کھیلوں کے عام زمرے میں شامل رکھ کر اسے جائز قرار دینے سے کئی تقعدی مسائل پیدا ہوں گے۔ کیونکہ اس طریقہ ورزش میں ایسی کفریہ و مشرکانہ باتیں شامل ہیں جو اسے ناجائز قرار دینے کے لئے کافی ہے۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ نجی، عائلی، اجتماعی زندگی کو آفاقی دستور، روحانی، قانونی و اخلاقی ڈسپلن سے جوڑ رکھا ہے۔ ہر قدم اور موڑ پر چک اینڈ کنٹرول قائم ہے۔ شریعت اسلامی کی وسعت و آسانیوں کا استحصال کرنے یا تاویلات کے ذریعہ زندگی کے بڑے حصے کو اسلامی احکامات سے مستثنیٰ کر لینے کی کوئی عقل مند آدمی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا۔
بعض دانشور اور آزاد خیال تہذیب غیر سے متاثر حضرات کا یہ اصرار ہے کہ ’’ تمام اسپورٹس اور گیمس اور تفریحات کو بشمول یوگا کے مستقل طور پر مستثنیٰ قرار دینا چاہئیے تاکہ مبرا عام کے تحت مسلمان اپنے تعقد پسندی کے مطابق حصہ لیں۔ غیر ضروری کی پابندیاں روک ٹوک ان لوگوں کے نجی فیصلوں اور زندگی کی لذتوں و مشغولیات میں رکاوٹ نہ بنے۔‘‘
5۔   نصوص صریحہ  Clear text
یوگا کے سلسلے میں ہندو مذہبی(ویدی اور برہنمی) کتابوں میں مستند مواد میں نصوص صریحہ  clear text موجود ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یوگا کی بنیاد خالص کفر و شرک پر ہے۔ بھگوت گیتا میں یوگا کی سند موجود ہے اور یوگا میں پڑھے جانے والے سنسکرت کے اشلوک اس بات کی دلیل کے لئے کافی ہیں۔
خالق کائنات کا انکار، خودی، زندگی، عبادت وجود، کون و مکاں کا انکار، انسانی خداؤں کا اقرار یہ سب یوگا میں شامل ہے۔یوگا کے متعلق ارجن و سری کرشنا نے جو تعلیم دی ہے کہ ’’روحانی ارتقاء اور خواہشات ورگیا vargiya سے چھٹکارا و آزادی کے لئے یوگا ضروری ہے۔‘‘(ملاحظہ ہو صفحہ نمبر: light of yoga 1)
اسی طرح یوگا کے متعلق اگر شریعت اسلامی نصوص صریحہ کے متعلق سوال کیا جائے تو اس کی حرمت کا کوئی واضح حکم اصلین میں ہمیں نہیں ملتا اور نہ ہی  فقہاء نے کسی دور میں اس پر تحدیدات عائد کی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گذشتہ صدیوں میں یہ مسائل ملت کے سامنے درپیش نہ تھے اور لوگ یوگا سے لا علم تھے۔
ایک مرتبہ کفر کی مقدس کتابوں سے دلیل ثابت ہو جانے کے بعد یوگا کے خلاف شریعت اسلامی میں واضح نصوص صریحہclear text  کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بلا کسی اختلاف کے مذکورہ حقائق کی موجودگی میں ’’یوگا‘‘ جسمانی ورزش کے طریقہ کار کا بڑا حصہ غیر اسلامی قرار پاتا ہے۔ اس میں راست کفر اور انکار رب و اللہ جل شانہ پایا جاتا ہے۔
اگر یوگا کے متعلق من حیث کل شریعت اسلامی کا حکم معلوم کریں تو پھر یہ ناجائز اور ممنوع قرار پاتا ہے۔کیونکہ یہ ورزش و کسرت ایک مخصوص مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اس طریقہ ورزش کا نہج اور طریقہ کار اور اجزاء ترکیبی کفر خفی سے بھرے ہوئے ہیں۔ یوگا کی کسرت محض صحت کی تندرستی کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ روحانی و ہندو تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے کی جاتی ہے۔یوگا دراصل کفر و شرک کا علمبردار ہے۔
یوگا کی تمام بنیادی باتیں اور اصول راست اسلامی عقائد سے ٹکراتے ہیں۔
  ۱۔توحید، رسالت، کتاب اللہ اور یوم آخرت کا انکار۔
 ۲۔ مخلوق کا خالق میں حلول کر جانے کا عقیدہ و یقین۔
 ۳۔ تشبہ بالکفار۔
 ۴۔ہندو مذہبی کتابوں اور انسانی خداؤں کے ارشادات کی اطاعت اور فرمانبرداری۔
 ۵۔اپنے وجود و مخلوق کی پیدائش موت کا سراسر انکار۔
یوگا میں ہندو عقائد کے مطابق روحانی و جسمانی تربیت دی جاتی ہے۔ یوگا کی کسرت کا اصل نصب العین و مقصد ’’پر ماتما ‘‘خالق کل کی ذات میں اپنے آپ کو ضم کر دینا ہے۔ جسمانی صحت و تندرستی کا حصول ذیلی و ثانوی ہے۔
ایک مومن کا مضبوط عقیدہ یہ ہے کہ تمام صفات و کمالات، قدرت، طاقت اور کائنات کا مالک حکمراں و فرمانروا اللہ جل شانہ ہے۔ وہ زمین و آسمان، مشرق و مغرب کا رب ہے۔ وہ ابتداء سے ابد تک رہے گا۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کا کوئی ہمعصر اور نائب اور جز ہے۔
انسان کو ہدایت دینے کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔ نہج و ضابطے حیات، طریقہ زندگی کا اختیار صرف اللہ و رسول ؑ کو حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک اس کی اتباع و اطاعت کی جائے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت و قوت جمادات و نباتات اور کسی شئے و مافوق الفطرت ذات اور مخلوق پر عقیدہ رکھنا سراسر کفر ہے۔ یوگیوں کا عقیدہ اور فکر اسلام کے عقائد و تعلیمات کے خلاف ہے۔
یوگا کی افادیت کو اگر قبول بھی کر لیا جائے تو یوگا کیندر و کیمپوں کے موقع و محل کو دیکھیں تو  ماحول Atmosphere غلبہ کفر Domination of kufr  اور کافرانہ اعمال حرکات و سکنات سے بھرا نظر آئے گا۔
یوگی گرو مہاراج زعفرانی کپڑوں میں ملبوس جٹو و بٹو کے ساتھ تربیت کا آغاز پرنام و نمسکار سے کرتے ہیں۔ یوگا کرنے والے افراد کا ڈریس کوڈ زعفرانی ہوتا ہے۔ تدریب کروانے والے گرو جی منتر اور اشلوکوں کو پڑھنے کے بعد دوران مشق بار بار اوم ہری اوم کی آوازیں حلق کی گہرائیوں سے نکالتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقفہ وقفہ سے کئی طرح کے سری طور پر اشلوک INCANTATI   ONپڑھے جاتے ہیں۔ جس سے کفر کا ایک سماں بن جاتا ہے اور پھر سانس کو بار بار روک کر گیان و مراقبہ کروایا جا تا ہے۔
 یوگا کے متعلق سنجیدگی سے تین سوالات پوچھے جائیں تو اس کے جوابات سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جائے گی۔
  ۱۔یوگا کی تعلیمات اورسند کس مذہب کی ہیں ؟؟
 ۲۔یوگا کے مدرس اور داعی کون ہیں ؟
 ۳۔یوگا کی تحریک کے علمبردار اور اصل محرک و زعماء کون ہیں ؟
ان تینوں سوالات کے جوابات واضح ہیں۔ یوگا کے علوم، اس کے مدرس اور دعوت دینے والے علمبرداروں کی بنیادیں خالص ہندو شاستروں اور ویدوں پر ہے اور وہ سری کرشنا کی تعلیمات کے مطابق یوگا کی تبلیغ کا کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
جو بنیادی باتیں ایمان سے ٹکراتی ہیں وہ یوگا پر کفر کا غلبہ ہے۔یوگا کے عقیدہ اور تصورات میں صرف شرک کی ہی آمیزش نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر یوگا کی تمام تعلیمات کی عمارت کفر و باطل پر کھڑی ہیں۔
اضطراری و استثنائی صورتحال:-
  جن باتوں میں شدید جان و مال کے نقصانات کا خطرہ لاحق ہو۔ بھوک، افلاس، امراض شدید، غربت، ظلم و بربریت یا آفات سماوی جیسے طوفان، زلزلے، سیلاب، آتش فشاں اور متعدی امراض کا پھوٹ پڑنا، مصائب، ایمرجنسی میں ظالمانہ قوانین  و دہشت گردی، نقل مقامی کی اگر صورتحال پیدا ہو جائے تو ان حالات میں شریعت اسلامی میں اضطراری و استثنائی صورتحال میں فرائض، محرمات، ممنوعات اور ناجائز باتوں میں ضرورتوں کے مطابق کسی قدر چھوٹ دی جاتی ہے۔ اور کئی احکامات، اصول و ضوابط وقتی طور پر غیر نافذ اور غیر عمل ہوتے ہیں۔
عصری اور جدید بعض امور جو شرعی اعتبار سے مشتبہ ہوں جس میں ہلکے سے فرق سے جائز اور ناجائز کے احکام تبدیل ہو سکتے ہیں۔ فقہاء مصلحت  عامہInterest of the common good کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ شرعی فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
ایسی کوئی اضطراری و استثنائی صورتحال نہ ہی درپیش ہے اور نہ ہی مصلحت عامہ کے تحت یوگا کو جائز قرار دیا  جا سکتا ہے۔ کیونکہ عامۃ الناس کو کوئی بڑا فائدہ یا نقصان اس ورزش کو کرنے یا نہ کرنے سے ہونے والا نہیں ہے۔ صرف چند لوگوں کے شوق اور عادت کی خاطر یوگا کو مباح قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ کبھی مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت نہیں رہی۔
14صدیوں سے امت اسلامیہ الحمد للہ بغیر یوگا کی ورزش کے صحت مند ہشاش بشاش، فعال اور متحرک ہے۔ تاریخ میں کبھی نہ یوگا کی ضرورت پڑی اور نہ مستقبل کبھی پڑھے گی۔
معروف و معترف علماء دین اپنے اختیار شرعی کو اختیار کر کے اس ورزش کو جائز قرار نہیں دے سکتے۔ جس میں کفر کی قدم قدم پر ملاوٹ و رہبری ہو۔
اسلام نے بنیادی باتوں میں پسند، ناپسند اور رد کا اختیار مومن کو نہیں دیا۔بلکہ خود پسند اور من مانی زندگی کے راستوں کو کاٹ دیتا ہے۔ جو کوئی نفس کی خواہشات کی پیروی کرے گا اس کے لئے ہدایت کی تمام راہیں ختم ہو جائیں گی۔ کسی بھی زمانے کے رائج کردہ ایسے العاب sports & games  یا کسی بھی فیلڈ میں حصہ لینا جو اسلامی عقائد کے منافی ہیں۔ اسلام میں اس سے احتیاط اور اجتناب کو ترجیح دی گئی ہے۔
".. وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ۔(قصص: ۵۰)
اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔"
    
کسی خاص قسم کی ورزش سے جسمانی قوت حاصل بھی ہو جائے تو کل اس کا زوال اور کمزوری و بڑھاپے سے دوچار ہونا فطری و یقینی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یوگا کی پراکٹس محض صحت مندی، بلڈ پریشر، ذیابطیس وغیرہ جیسے امراض کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے تو ایک بندہ مومن کے لئے یہ سزاوار نہیں کہ وہ مشکوک عمل اور مشرکانہ طریقہ علاج کو اختیار کرئے۔بلکہ وہ کسی متبادل علاج کو اختیار کرے۔ توکل اور صبر سے کام لے اور اللہ پر کامل یقین رکھے۔
"وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ۔(شعراء: ۸۰)
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو (اللہ) مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔"
"وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔(العنکبوت ۶۴)
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔"
 مومن کی زندگی کا مقصد دنیا میں کھیل تماشہ اور تفریح نہیں ہے بلکہ ایک نصب العین کے تحت دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔
دنیا میں انسان کی زندگی عارضی ہے۔ انسان دنیا میں لازوال بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ پیدائش سے لے کر موت تک کی مدت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ پیڑیوں پر پیڑیاں، نسلوں پر نسلیں تیزی سے گذرتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن زندگی کے ان چند سالوں میں ہی  ’’بماقدًمت لغد ‘‘ کل یعنی آخرت کے لئے زاد راہ (توشہ) تیار کرنا ہوتا ہے۔
 مومن کا مقصدِ زندگی صرف کسرت اور ورزش کے ذریعہ بہت بڑے Body Builder  بننا یا عظیم کھلاڑی بننا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے ایک طاقتور امت بنانا چاہتا ہے جو اللہ کی رضاء کے لئے حق کو غالب کرئے،کفر و شرک، باطل سؤ و منکرات کا خاتمہ کرئے اور اصلین، کتاب و سنت کے مطابق مضبوط معاشرہ تیار کرے۔  
جسمانی بیماری سے زیادہ مہلک کفر و شرک اور تشکیک قلب کی بیماری ہوا کرتی ہے۔
 جب کسی پر کفر کا رعب چھا جائے اور ان کے دل و دماغ میں مشرکانہ دلکش باتیں جاگزیں ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے قلب و ذہن کو نفاق،  کفر و شرک کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔
جسمانی ظاہری امراض کے کئی طرح کے علاج ممکن ہیں۔لیکن تعقدی امراض کا علاج ممکن نہیں ان کے دل و بدن میں ٹیڑھ پیدا ہونے لگتی  ہے۔ لوگ باوجود افہام و تفہیم کے اسے غیر اسلامی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق سورہ بقرہ آیت ۱۰میں فرمایا:
"فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا..۔البقرہ:۱۰)
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا۔"

 کفر،طغیان، شرک اور سوء و شر کے منظم و غیر منظم دائروں، اداروں، کیندروں اور کیمپوں و مندروں میں کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کے لئے بار بار جانا بھی دل کے مرض کی علامت ہے۔ حق و خیر سے دور باطل و شرک  سے زیادہ قریب ہونا ایمان و عمل صالح کو خطرہ میں ڈالنا اور اللہ کی ناراضگی کو مول لینا ہے۔
ہر فن اور علم کے پیمانوں کا تعین اس کے مستند قوانین، اس کے شارحین، اس کی ماہیت، دائرہ کار اور ہدف سے ہوتا ہے۔ یوگا پر تحقیقاتی نظر ڈالیں تو تمام دلائل و شواہد ہمیں مل جاتے ہیں۔
لیکن ہمیں سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئیے کہ کیا یوگا ہندو مت(ویدی یا برہنمی) کا حصہ ہے؟ اور کیا یوگا ہندو مذہبی عقیدہ کے مطابق ایک مقدس مذہبی عمل(عبادت)ہے یا نہیں ہے؟۔۔۔
ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے چھٹا باب فلسفہ یوگا میں سری کرشنا نے ارجن کو یوگا کے سلسلے میں تفصیل سے سمجھایا اور کہا کہ یوگا درد و الم سے چھٹکارہ دلاتا ہے۔ اور یوگا کی مشق کرنے والا یوگی روحانی الٰہیہ کی نعمت سے نفس کا اطمینان پا لیتا ہے۔
 ’’کرشنا آپ نے کہا کہ یوگا برہمن (آفاقی روح) کے ساتھ اپنے خیالات و احساسات کا تبادلہ ہے۔
ارجن نے سری کرشنا سے پوچھا تم نے یوگا کے متعلق بتایا،روح کے متعلق بتایا۔لیکن انسان کی عقل ہمیشہ بے چین اور مضطرب رہتی ہے۔ عقل مضبوط، ضدی اور پر مقصد ہوتی ہے۔اس کو ہوا کی طرح نہیں خارج کیا جا سکتا ہے۔کرشنا نے جواب دیا یقیناً عقل مضطرب ہوتی ہے اور اس پر گرفت مشکل ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تربیت ابھیاسا (Abhyasa) کے ذریعہ کی جا سکتی ہے اور خواہشات اور ورگیا Vargayaسے چھٹکارا اور آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘ (صفحہ نمبر light of yoga 20)
ہندو نظریات کے مطابق اگر ایک شخص اپنی عقل پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا ہے تو وہ خالق و آفاق میں ضم نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ نفس پر کنٹرول کرنے اور صحیح رخ پر سخت جدوجہد کرنے والا ہو تو اس کو پا لیتا ہے۔
 پتنگلیpatangali  کے مطابق یوگا کے 8  مدارج ہیں۔
۱۔یاماYAMA  عمومی اخلاقی احکامات
۲۔نیاماNIYAMA  ذاتی نفس کی تطھیر اور ڈسپلن
۳۔آسناASNA  جسم کی ساخت
۴۔پرانیماPRANAYAMA روح پر گرفت
۵۔پرتیھاراPRATYAHARA  احساسات کے غلبہ سے اجتناب کرنا
۶۔دھراناDHARANA  توجہ مرکوز کرنا
۷۔دھیانا DHAYANA  مراقبہ
۸۔سمادھیSAMADHI  گہرے غورو فکر اور مراقبہ جس کا مقصد پرماتما  آفاقی روح میں ضم ہو جانا۔
یوگا کی تشریح میں بھگوت گیتا میں ایک اور مقام پر لکھا ہے کہ :   ’’کرما یعنی یوگا وہ جو عمل کے ساتھ ہو۔یوگا ذاتی خواہشات و  خود غرضی سے چھٹکارا دلاتا ہے۔کامیابی و ناکامی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
مذکورہ بالا فقہ کے ان اصولوں کی روشنی میں یوگا کے مبادیات کفر وشرک سے ملتے ہیں۔ گناہ وشر سے مبرا بھی نہیں ہے۔ یوگا کے نصوص بھگوت گیتا سے ملتے ہیں۔ یوگا کے ذرائع کے دروازے کو کھول دینے سے اعتقادی کمزوریاں اور ایمانیات پر برے اثرات پیدا ہوں گے۔ تو صرف اصل کے اعتبار سے یوگا کی ورزشی والی کیفیت پر نظر رکھتے ہوئے اسے مباح اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے؛ بلکہ سد باب ذرائع کے پیش نظر یوگا کو بالکلیہ ممنوع اور مسلمانوں کے لیے ناجائز قرار دیا جائے گا۔(جاری ہے۔۔)
نوٹ:-
یہ مختصر کتابچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں شائع کرنے سے قبل ایک بار قارئین کے سامنے تبصرہ و تنقید اور تجاویز کے لیے  قسط وار پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ پی ڈی ایف فارمیٹ (PDF ) میں تبدیل (convert) کرنے سے پہلے کر لی جائے۔ اس لیے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی تبصرے و تنقید، اصلاح و آراء سے آگاہ فرمائیں تاکہ ضروری ترامیم کی جا سکے۔ خاص طور پر ان لوگوں سے گذارش ہے جو اس کتاب کو ایک عالم کی نگاہ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ البتہ کوشش کیجئے گا کہ تمام تبصرے 31 مارچ 2018ء تک ارسال کر دیں۔تاکہ اس کے بعد اس کی پی ڈی ایف فارمیٹ کا اہتمام کیا جا سکے،جزاکم اللہ خیرا۔
whatsapp: 00923462115913
fatimapk92@gmail.com
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر اینڈ
BEST FUTURE  TRAVEL & TOURISM
https://www.facebook.com/bestfuturepk/
* * * * *

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...