Sunday, 30 July 2017

اتنی بڑی کائنات کا خالق کون؟

اتنی بڑی کائنات کا خالق کون؟

سلسلہ:الحاد کا علمی تعاقب#81حصہ اول

(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

اس سے پہلے کہ ہم اپنے سلسلہ کو مزید آگے بڑھائیں قارئین کے استفادہ کے لیے کائنات کتنی بڑی ہے پر مختصر ضمیمہ پیش خدمت ہے۔جس سے اللہ سبحانہ وتعالی کی قدرت عیاں ہوتی ہے کہ وہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔۔

یہ کائنات کتنی بڑی ہے ؟ شاید اتنی بڑی کہ لفظ ” بڑا ” بھی بہت چھوٹا ہے۔اب تک سب سے طاقتور دوربین ہبل صرف3 ہزار کہکشائیں دیکھ پائی ہے جو12 ارب نوری سال کے دائرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔

اللہ کی اس وسیع کائنات میں انسان کی کیا حثیت ہے یہ اسے تب ہی پتہ چل سکتا ہے جب وہ اس کائنات کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرے پھر اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کی تخلیق اور پھر اسے دنیا میں بھیج کر موت دینا اور موت کے بعد دوبارہ اٹھانا اللہ پاک کی قدرت کے آگے ایک کُن کا فاصلہ ہے۔ آئیے آپ کواپنی اس کائنات سے روشناس کراتے ہیں۔

ہم جس زمین پر رہتے ہیں وہ ایک عام آدمی کے حجم سے 30ارب گنا بڑی ہے۔ہماری اس زمین سے ہمارا سورج دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ سورج سے بھی بڑے بڑے سیارے کائنات میں موجود ہیں۔ ہم جس کہکشاں میں رہتے ہیں اس کا نام ملکی وے  ہے ۔ ہماری اس کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے تین سو ارب سے زائد سورج موجود ہیں۔ یہ کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ اگر ہم کسی ایسی چیز پر سوار ہوں جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہو یعنی ایک سیکنڈ میں ہماری اس زمین کے سات چکر لگا سکتی ہو تو اس کو بھی ہماری کہکشاں کو پار کرتے کرتے ایک لاکھ سال لگ جائیں گے۔

اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم جس کہکشاں میں رہتے ہیں وہ کتنی بڑی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کائنات میں صرف ایک ہماری کہکشاں ہی نہیں ہماری کہکشاں کے پڑوس میں ایک دوسری کہکشاں بھی موجود ہے جس کو سائنسدانوں نے انڈرومیڈا گلیکسی  کا نام دیا ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں سے دگنی ہے یعنی دولاکھ نوری سال وسیع و عریض ہے مگر یہ بھی چھوٹی ہے  

کہکشاؤں سے اندازہ ہوا کہ یہ کائنات کتنی بڑی ہے مگر یوں سمجھئے کہ کہکشاؤں سے بھی آگے بہت کچھ ہے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔ جیسے بڑے سیاروں سے مل کر کہکشاں بنتی ہے اسی طرح ان کہکشاؤں سے مل کر کلسٹر  بنتے ہیں اور جس کلسٹر میں ہماری کہکشاں موجود ہے اسے ورگو کلسٹر  کا نام دیا گیا ہے اور ایک کلسٹر میں سینتالیس ہزار(47000) کہکشائیں ہیں۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ کائنات میں صرف ایک کلسٹر نہیں ہے ۔

کئی کلسٹر ہیں۔ایک سو کلسٹر آپس میں مل کر سپر کلسٹر بناتے ہیں۔جس سپر کلسٹر میں ہم رہتے ہیں اس کا نام لوکل سپر کلسٹر ہے۔ اس سپر کلسٹر جیسے کم و بیش ایک کروڑ سپر کلسٹر کائنات میں موجود ہیں جو ایک عظیم جال میں بنے ہیں اور معمولی نکتوں کی مانند نظر آتے ہیں۔اب ذرا سوچئے اس کائنات میں انسان کیا چیز ہے؟

انسان بھی عجیب ہے اپنی کامیابیوں کو اس طرح بڑھا چڑھا کے پیش کرتا ہے جیسے اس نے کوئی عظیم کارنامہ کر لیا ہواور اس نے ساری کائنات تسخیر کر لی ہو۔چاند پر اترنے اور مریخ پر بغیر پائلٹ کے شٹل بھیجنے کو تو عظیم کامیابی ٹھہرایا جاتا ہے۔لیکن انسان کی اس کامیابی پر ہنسی آتی ہے اور حضرت اقبالؒ کے شعر کا وہ مصرع یاد آتا ہے۔ ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔‘‘ اس کائنات کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھ کر ذرا سوچئے انسان اس کائنات میں کیا حیثیت رکھتاہے اور ہم جس زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتے ہیں اور چاند و مریخ کو تسخیر کرنے کے جو کارنامے دہراتے رہتے ہیں ان کی اس کائنات میں کیا حیثیت ہے۔

اس سے بھی اہم بات کہ ہم جب لفظ کائنات استعمال کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چائیے کہ یہ کائنات کیا ہے اور پھر جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے تو پھر اس کو بنانے والے کی شان اور قدرت کا ادراک کر سکتے ہیں کہ اس عظیم رب نے ایک کُن سے یہ بنا دئیے۔انسان اپنے مالک کی قدرت کا جان گیا تو پھر اس کے سامنے ساری حقیقت کھل جائے گی اور انسان کے لئے اس حقیقت کا جاننا بے حد ضروری ہے۔

 سائنسدانوں کی یہ تحقیق ابھی ادھوری ہے شائد وہ قیامت تک لگے رہیں اور انہیں اس کائنات میں نئے سیارے ملتے رہیں،نئی کہکشائیں دریافت ہوتی رہیں  اور کئی کلسٹر اور سپر کلسٹر وجود میں آتے رہیں لیکن وہ پھر بھی کائنات کی اصل وسعت تک نہیں پہنچ پائیں گے۔میر ے رب کی ذات عظیم ہے اس کی قدرت ہمارے اندازوں سے بھی کہیں زیادہ ہے جسے شائد ہم ماپنے سے قاصر ہیں۔
(بشکریہ زیڈ بی پسروری)

کائنات کی تخلیق اور اس کے اسرار و رموز انسانی جستجو کا محور رہے ہیں اسی فکرِ میں سرگرداں انسان کا ہزاروں سال پہلے شروع ہونے والا سفر منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ جدید سائنسی نظریات اور تحقیقات کے ذریعے وہ فلکیاتی حقائق سامنے آرہے ہیں جن کا چند سوسال پہلے تک تصور بھی محال تھا۔ مختلف قسم کی کہانیاں زدِ عام تھیں۔ مختلف مذاہب نے چاند، سورج اور زمین سے متعلق مختلف باتیں کی جو وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوئیں لیکن حیرت انگیز طور پر تقریباً 1500 سال پہلے قرآن میں اﷲ نے کائنات سے متعلق جو حقائق بیان کیے وہ تمام من وعن سائنسی تجربات کی کسوٹی پر پورا اُترے۔ قرآن پاک نے خود کہا، ’’ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دُنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں یہاں تک کہ اِن پر کُھل جائے کہ بے شک وہ (قرآن) سچائی ہے۔‘‘ اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عقل مند کہا جو کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کرتے ہیں بلکہ انہیں دعوت دی کہ وہ تحقیق کریں جس کی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ’’بے شک زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں‘‘۔ کائناتی وسعت یا پھیلائو سے متعلق کا یہ تَصوّراب تجرباتی طور پر صحیح ثابت ہوگیا ہے کہ ہر کہکشاں دوسری کہکشاں سے دُور ہٹتی جارہی ہے۔اس طرح کائنات کی جسامت بڑھ رہی ہے اور جس قدر کہکشائیں دورہٹتی جارہی ہیں ان کی جگہ دوسری کہکشائیں بنتی جائیں گی۔ جس کا انکشاف 1948ء میں کوہ پلومر(امریکا کی ایک بڑی دوربین) نے کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے جس کا تذکرہ قرآن مجیدمیں اس طرح ہے، ’’ہم نے آسمان کو قوّت سے بنایا اور ہم اس میں توسیع کرتے رہیں گے۔‘‘ فلکیاتی ماہرین کی تحقیق بتاتی ہے کہ ستاروں کابننا دراصل مختلف گیسوں ہیلیئم اور ہائیڈروجن کا آمیزہ ہے جس کا نتیجہ ستاروں کی پیدائش ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ’’پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا۔‘‘اﷲ تعالیٰ نے ایک جگہ ستاروں کو چراغوں سے تشبیہہ دیتے ہوئے فرمایا، ’’اور ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا۔‘‘(سورۃ السجدہ) زمین اور دوسرے سیاروں سے متعلق مختلف ادوار میں مختلف باتیں سامنے آتی رہیں لیکن جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ زمین سمیت ہمارے نظام شمسی کے تمام سیارے کشش کے تحت مستقل کائنات کی وسعتوں میں تیررہے ہیں۔ ایسے کروڑ ہا نظام شمسی موجود ہیں جس میں سے ایک نظام ہمارا بھی ہے جہاں نہ تو زمین اپنے محور سے نکل کر سورج میں گھس سکتی ہے اور نہ ہی چاند زمین میں، اس طرح دوسرے تمام سیارے بھی اپنے اپنے محور میں گردش کررہے ہیں۔ اس نظامِ کشش کا مرکز سورج ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اے سُننے والے! کیا تونے نہ دیکھا کہ اﷲ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے ہر ایک مقرر معیاد تک چلتا ہے۔‘‘ جس بات کی تصدیق آج سائنس کرتی نظر آتی ہے کہ 1500 سال پہلے اﷲ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے اس کا واشگاف اعلان اس طرح کیا،’’سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک گھیرے میں تیر رہا ہے۔‘‘(سورۂ یٰسین) کتنی بڑی حقیقت کا انکشاف ڈیڑھ ہزار سال پہلے کردیا گیا کہ یہ سیارے ہر ایک مختلف یعنی اپنے محور میں محوِحرکت ہے اور سورج اور چاند کو مثال بنا کر دوسرے سیاروں کو بھی اپنے اپنے محور میں گردش کرنے کا جواز دے دیا۔ نا صرف سیاروں کی حرکت بلکہ لامحدود فاصلے پر واقع ستاروں کی حرکت کاثبوت بھی اس آیت میں ملتا ہے، ’’تو قسم ہے ان کی جو اُلٹے پھریں۔ سیدھے چلیں۔ تھم رہیں۔‘‘ مغربی ذرائع ابلاغ میں خاص طور پر اسلام مخالف طاقتیں اِس بات پر مُصر ہیں کہ زمین کہ حرکت سے متعلق ابہام ہے کہ قرآن میں زمین کے سکوت کا ذکر ہے جب کہ زمین تو حرکت کررہی ہے اور اِس بات کو جواز بنا کر طرح طرح کا پروپیگنڈہ انٹرنیٹ کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ قرآن پاک میں سورج اور زمین کے ذیلی سیارے چاند کی گردش کا ذکر موجود ہے لیکن یہ حقیقت نظر انداز کی جاتی ہے حالاں کہ زمین کے سکوت سے متعلق تو خود بائبل میں کہا گیا ہے،’’اس نے زمین کو قائم کیا بنیادوں پر، یہ کبھی حرکت نہیں کرسکتی۔‘‘ حرکت کے قوانین اور حرکت کی تشریح کے مطابق حرکت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ حرکت جو کسی کے تابع نہ ہو یعنی خود ارادی حرکت کرنا یا حرکت دینا اور پھر خود رُک جانا یا روک دینا جب کہ دوسری تابع حرکت ہے۔ جو کسی نظام کے تحت ہو جو کوئی ساکن جسم بھی کرسکتا ہے جیسا کہ ایک ہواباز(پیراٹروپر) جب فضاء سے زمین کی طرف آتا ہے تو وہ بظاہر ساکن ہے لیکن وہ کشش ِثقل کے تحت حرکت میں ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر اُتر جائے گا (یعنی زمین پر)۔ بالکل اسی طرح سمندر میں تیرتی کشتی جس میں انجن یا چَپو بھی نہیں ہے۔ بظاہر وہ ساکت ہے مگر لہروں کی حرکت پر ڈول رہی ہے اب نا تو وہ مخالف سمت میں جاسکتی ہے اور نہ ہی اِدھر اُدھر ہوسکتی ہے۔ بس جس طرف لہریں لے جائیں اسی طرف جائے گی، بالکل اِسی طرح زمین اور دوسرے سیاروں کی حرکت تابع ہے ۔یہ اجسام بظاہر ساکت ہیں لیکن نظام شمسی کے تحت اپنے اپنے دائروں میں محو گردش ہیں۔ جہاں زمین ناتو خود رُک سکتی ہے، نامخالف حرکت کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنے گھیرے یا مدار سے نکل سکتی ہے۔ جس کا ذکر قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے متعدد جگہ فرمایا، ’’سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک ایک گھیرے میں تیر رہا ہے۔‘‘ (سورۂ یٰسین) اسی طرح زمین کے توازن سے متعلق فرمایا، ’’اور اُس نے آسمان بنائے ایسے بے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں لنگر ڈالے کہ تمہیں لے کر نہ کانپے۔‘‘ مفسرین کے مطابق لنگر سے مُراد پہاڑ ہیں۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ لنگر سے تشبیہہ کیوں دی، لفظ پہاڑ بھی استعمال کیا جاسکتا تھا لیکن اِس میں بھی اﷲ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ لنگر اور کشتی کا گہرا تعلق ہے جو اسے اونچی نیچی لہروں میں بھی توازن قائم رکھتا ہے۔ بالکل اِسی طرح پہاڑ مختلف موسمی تغیرات، زلزلوں یا شہاب ثاقب کے ٹکرانے کی صورت میں زمین کو توازن دیتے ہیں کہ وہ اپنے محو ر سے باہر نہ نکل سکے ،جس کا تذکرہ کچھ اس طرح ملتا ہے، ’’بے شک اﷲ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اﷲ کے سوا۔‘‘ بلیک ہول(جیسا کہ نام سے ظاہر ہے تاریک دائرہ) ایک ایسا گھیرا جو بے انتہا کشش رکھتا ہے اور بڑے سے بڑے جسم کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ بلیک ہول کے بارے میں کچھ اشارے معروف سائنس دان آئزک نیوٹن نے بھی دیئے اور گزرتے زمانے کے ساتھ اس کے حوالے سے مختلف نظریات سامنے آتے رہے۔ جدید سائنس بلیک ہول کے بارے میں بتاتی ہے کہ یہ ایسے سیاہ دائرے ہیں جو ایک بڑا کششی میدان رکھتے ہیں اور بڑے بڑے ستارے جو سورج سے بھی کئی گنا بڑے ہیں جیسے ہی اِسی کششی میدان(Field) میں داخل ہوتے ہیں Singnatury کی طرف کھینچ جاتے ہیں اور ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ تقریباً دو سو سال پہلے ایک انگلش جیولوجسٹ جون مائیکل نے اِن تاریک دائروں پر تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ روشنی جو 186,000 میل فی گھنٹہ سے سفر کررہی ہے وہ بھی اگر اِسی کششی میدان میں داخل ہوجائے تو Singnatury کی طرف کھینچ جاتی ہے۔ ناسا(NASA) اِن بلیک ہول کے بارے میں کچھ اِس طرح انکشاف کرتا ہے،’’جب کوئی ستارہ سورج سے تقریباً 25 گنا زیادہ بڑا ہوجاتا ہے تو ستارے کا بیرونی حصہ اندرونی کو ر کے مسلسل پھیلنے کے باعث بیرونی حصے سے ٹکرائو کا باعث بنتا ہے ،جس کے نتیجے میں ایک بھیانک دھماکے کے بعد اس سیارے کی موت ہوجاتی ہے۔ اسے سُپر نورا کہتے ہیں اور پھر ایک بڑا خلاء پیدا ہوتا ہے جسے بلیک ہول کہتے ہیں ۔اِس عمل کے نتیجے میں نئے ستاروں کی تشکیل بھی ہوتی ہے اور پرانے ستارے اگر اس میدان میں داخل ہوجائیں تو مردہ ہوجاتے ہیں۔ یہ تحقیق جاری ہے اور جسے طفلِ مکتب کہنا مناسب ہوگا ۔اس کے بارے میں 1960ء میں سائنسی ماہرین نے یہاں تک کہہ دیاتھا کہ بلیک ہول ایک ایسا معمہ ہے جو سائنس دانوں کے مختلف نظریات و قوانین کو کھا رہا ہے یعنی نظریات مفروضے بنتے جارہے ہیں لیکن اِن تمام ادھوری تحقیقات کے باوجود قرآن پاک میں بلیک ہولز کے بارے میں جو انکشاف کیا گیا وہ متعصب سائنسی ماہرین کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، ’’ تو مجُھے قسم ہے اِن جگہوں کی جہاںتارے ڈوبتے ہیں اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔‘‘ اﷲ رب العزت نے ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ کی ناصرف قسم فرمائی بلکہ اس کے بڑے ہونے کا بھی ذکر کیا اِسی طرح ایک جگہ اور تاروں سے ہی متعلق فرمایا’’پھر جب تارے محو کردیئے جائیں۔‘‘ نیبولا(Nebula) لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا بادل۔ نیبولا کی سائنسی ماہرین کے نزدیک کئی اقسام ہیں لیکن جو آج کل موضوع بحث ہے وہ (Planeetry Nebula) یعنی سیارچی نیبولا ہے۔ یہ ایک ایسا تین رنگوں (نیلا، سرخ اور سبز ) سے مزین سلفر، آکسیجن اور ہائیڈروجن کا آمیزہ ہے جو اپنے اندربڑی بڑی کہکشائیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی تصویر ہبل ٹیلی اسکوپ کے ذریعے NASA تک پہنچی تھی۔جس نے اِس کائنات سے متعلق نہ صرف مزید انکشاف کئے وہیں قرآن پاک کی ایک اور حیرت انگیز سچائی دُنیا کے سامنے آئی۔ یہ ایک کھِلتاہوا گلاب لگتا ہے جو تقریباً 3000 نوری سال کے فاصلے پر ہے ۔اس کا نام (Red Rose Nebula) ہے جسے سائنس اپنی زبان میں NGC-6543 NASA کہتی ہے۔ اِس سُرخ کھلتے گلاب کا تذکرہ قرآن پاک میں اس طرح ہے وہ ایک ایسی حقیقت کا انکشاف ہے جس پر بڑے بڑے سائنسی ماہرین انگشت بدنداں ہیں بلکہ کئی غیر ملکی ماہرین تو ان کا تذکرہ قرآن میں پڑھ کر مسلمان ہوگئے جو اسلام کی حقانیت اور سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ’’پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول جیسا ہوجائے گا جیسے سرخ نری(چمڑا)۔‘‘ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جن کائناتی حقائق سے پردہ سائنس آج اٹھارہی ہے ان کا تذکرہ تو 1500 سال پہلے بھی قرآن میں تھا تو مسلمان سائنسی ماہرین یہ حقائق دنیا کے سامنے کیوں نہ لائے۔ تو اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ قرآن کے ساتھ دوسری آسمانی کتابوں میں بھی کائناتی اسرار کے راز موجود ہیں لیکن انہیں پرکھنے کے لیے مسلمانوں کے پاس لیبارٹری، سیٹلائٹ، ہبل ٹیلی اسکوپ جیسی ٹیکنالوجی نہیں تھی اور تمام سائنسی آلات جو ابھی مزید جِدّت اختیار کریں گے تو یقینا مزید ایسے راز ئوں سے پردہ اٹھے گا لیکن ان کا تذکرہ کتاب المبین میں موجود ہے کیوں کہ اﷲ رب العزت نے خود فرمایاہے کہ،’’اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔‘‘ (سورۃ النحل)
(بشکریہ سید عادل اینڈ دنیا نیوز)
جاری ہے۔

اگر آپ یہ سلسلہ ویب سائٹ،بلاگز،پیجز، گروپس یا کسی رسالہ و مجلہ وغیرہ پر نشر کرنے کے خواہش مند ہیں یا الحاد سے متعلقہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو ہم سے رابطہ کریں۔

whatsApp:00923462115913

fatimapk92@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیلی کی بنیاد پر اقساط کے مطالعہ کیلئے فیس بک یا بلاگ وزٹ کریں۔
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter

www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

نظریہ ارتقاء کے حاملین کے لئے ایک بڑا دھچکا

نظریہ ارتقاء کے حاملین کے لئے ایک بڑا دھچکا

سلسلہ:الحاد کا علمی تعاقب،
قسط نمبر70 سے منسلک

(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

سابقہ تقریبا 150 سالوں سے عوام کو با ضابطہ طور پر ڈارون کی تھیوری پر یقین کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔دنیا کے لیے بالآخر لازمی ہو گیا ہے کہ اس باطل کو اب ختم کردیا جاۓ جس کا نام "ڈاروینیزم" ہے۔

سائنس نے آخر کار 1400 سال پرانی اس بات کو تسلیم کر ہی لیا ہے کہ انسان کی پیدائش زمین پر نہیں ہوئی بلکہ وہ کہیں اور سے اس سیارے پر آئے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانوں کی تخلیق ایسے عناصر سے ہوئی ہے جو زمین پر نہیں پائے جاتے بلکہ اربوں میل دور تیرنے والی کہکشاں (مِلکی وے) سے تعلق رکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہمارے ارگرد اور ملکی وے میں موجود سب کچھ ماورائے کہکشانی عناصر سے تخلیق پایا۔

اس تحقیق کے لیے کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کرکے جانا گیا کہ ہماری کہکشاں میں پائے جانے والے مادے کا نصف حصہ دور دراز واقع کہکشاﺅں سے تعلق رکھتا ہے۔

آسان الفاظ میں سائنسدانوں نے تسلیم کیا ہے کہ انسان جن عناصر سے بنے ہیں اور جس کے نتیجے میں زندگی کا آغاز ہوا، وہ کائنات میں کہیں دور دراز واقع ہے۔

اب سائنس نے جزوی حد تک اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے۔

ابھی سائنسدان چھپے اور دھبے دھبے الفاظ میں اقرار کر رہے ہیں  بعید نہیں ہے کہ عنقریب کھلے لفظوں میں تسلیم کر لیا جائے گا کہ انسان کی تخلیق اللہ وحد لا شریک نے کی ہے ۔

محققین کے مطابق ہماری تشکیل جن عناصر سے ہوئی وہ شاید دیگر کہکشاﺅں سے آئی، اس طرح ہم خود کو خلائی مہاجر بھی تصور کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج کہکشاﺅں کی تشکیل کے حوالے سے ہمارے علم کو بدلنے کا باعث بنی اور نئے ماڈل کے نتائج کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس اپنی کہکشاں سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ دیگر کہکشاﺅں سے یہاں آئے۔

یاد رہے یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی

(اس تحقیق کے نتائج جریدے منتھلی نوٹس آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی اور ڈاون نیوز پاکستان وغیرہ میں شائع ہوئے)

دوسری طرف ترک حکومت نے اسکول کے نئے تعلیمی نصاب میں مشہور سائنسدان چارلس ڈارون کے 'نظریہ ارتقاء' کو حذف کرتے ہوئے نئے تعلیمی نصاب کا اعلان کردیا جو 2017 کے آغاذ سے نافذ العمل ہو گا۔ جبکہ ملک میں بڑھتے ہوئے ’امام خطیب‘ اسکولوں میں بھی اس نصاب کو اپنانے کے پابند ہوں گے۔جس کو صدر رجب اردگان نے منظور کر لیا ہے۔
ترک وزیر تعلیم عصمت یلماز کا کہنا تھا کہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے کچھ عناصر کو پہلے ہی سائنسی نصاب سے الگ کیا جا چکا ہے لیکن اب یونیورسٹی تک چارلس ڈارون کے نظریے کو نہیں پڑھایا جائے گا۔
ترک وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارا فرض ہے کہ جو کچھ بھی آج تک طالب علموں کو غلط پڑھایا جا چکا ہے اسے ٹھیک کریں، لہٰذا اسلامی قوانین کی کلاسوں اور بنیادی مذہبی لیکچرز میں جہاد کا سبق بھی شامل کیا جائے گا‘۔

یاد رہے کہ دنیا کے دو بڑے مذہب اسلام اور عیسائیت چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو مسترد کر چکے ہیں کیونکہ دونوں مذاہب کا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات اور جانداروں کو تخلیق کیا۔
(حوالہ: ڈان اخبار،پاک آن لائن نیوز وغیرہ )

ڈراون ازم چاہے کتنے بھی جھوٹی اور فارمولوں سے بھری کتب لکھیں، کتنے بھی جعلی فوسلس پیدا کریں، تخلیق پر سائنسی شواہد کو جس طریقے سے بھی غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں اور ارتقاء کی جھوٹی وضاحتیں دینے
کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیں۔
پر ان میں سے کچھ بھی ان کی شکست کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔

اب جبکہ سائنس نے ارتقاء کے نظریہ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،جس کے مطابق زندگی اتفاقیہ از خود وجود میں آ گئی ہے، اور دوسری طرف اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فطرت میں ایک کامل تخلیق موجود ہے۔ خدا تعالیٰ کی تخلیق ہی تمام جانداروں کو وجود میں لانے کا سبب بنی۔
’’اے انسان! تجھے رب کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکے میں رکھا ہے۔ اس نے تجھے پید ا کیا ہے پھر برابر کر کے متوازن بنایا ہے، اس نے جس صورت میں چاہا تیرے اجزا کی ترکیب کی ہے۔‘‘(سورۃالانفطار . 6-8 )

اسی طرح سربیا کی حکومت نے بھی چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا کو سکولوں میں پڑھانے پر پابندی لگا دی ہے۔لیکن سائنسدانوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد دوبارہ نظریۂ ارتقاء پڑھانے پر عائد کردہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

یاد رہے سربیا کی وزیر تعلیم مِس کولچ نے ملک میں سکولوں کو ایک حکم جاری کیا تھا کہ انسانی ارتقاء کے بارے میں چارلس ڈارون کی تھیوری ارتقاء کو پڑھانا روک دیں۔

لیکن اب نائب وزیر تعلیم میلان بردار نے یہ پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کہ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ابھی زندہ ہے۔ 

سربیا کے وزیر نے مزید کہا کہ اب انسانی ارتقاء کے بارے میں چارلس ڈارون کی تھیوری کو الہامی کتاب تورات میں بیان کیے گئے جنمی نظریہ حیات کے ساتھ پڑھایا جائے گا۔

مزید امریکہ کی کئی ریاستوں میں بھی نظریہ ارتقاء پر پابندی کی کوشش کی گئی ہے لیکن وہاں بھی بعض سائنسدانوں کی مخالفت کی وجہ  کامیاب نہیں ہو سکے ۔ 
(سربیا کے اخبار’ گلاس جونوسی‘ اور بی بی سی وغیرہ Thursday, 09 September, 2004)

مزید معلومات کے لیے سابقہ 70 نمبر قسط کا مطالعہ کریں جو اس لنک پر موجود ہے۔
http://dawatetohid.blogspot.com/2017/07/blog-post_17.html?m=1

اگر آپ یہ سلسلہ ویب سائٹ،بلاگز،پیجز، گروپس یا کسی رسالہ و مجلہ وغیرہ پر نشر کرنے کے خواہش مند ہیں یا الحاد سے متعلقہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو ہم سے رابطہ کریں۔

whatsApp:00923462115913

fatimapk92@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیلی کی بنیاد پر اقساط کے مطالعہ کیلئے فیس بک یا بلاگ وزٹ کریں۔
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter

www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

Saturday, 29 July 2017

ہمعصر الحاد پر ایک نظر

ہمعصر الحاد پر ایک نظر

سلسلہ:الحاد کا علمی تعاقب#80

(مولف:عمران شہزاد تارڑ،ڈائریکڑ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان)

دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف، اس کے اقرار، اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً، مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصورِ خدا سے انکار بھی کر دیا جائے، تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں ”خدا“ ایک عقلی مسئلے کے طور پر پھر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو ”حل“ کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل ہی میں ایک ”مجہول الٰہ“ (deity) کا تصور دیا تھا جس کی حیثیت ایک فکشن سے زیادہ نہیں تھی۔ جدیدیت نے آدمی کو یہ مژدہ سنایا تھا کہ وہ اس مفروضہ ”خدا“ سے تعلق طے کرنے میں بھی آزاد ہے۔ جدیدیت نے خدا کے مذہبی تصور کا مکمل انکار کیا، لیکن ایک افسانوی اور عقل ساختہ ”خدا“ کا تصور پیش کر کے خدا پرستی اور آزاد روی کا التباس باقی رکھا۔ اس طرح جدیدیت نے انسان کو مذہب سے لاتعلق ہونے کا راستہ اور جواز فراہم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ صنعتی ترقی، صنعتی کلچر، جدید تعلیم، سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ، اور جدید سیاسی اور معاشی نظام نے اس سوال کو بالکل ہی غیر اہم بنا دیا۔ جدید دنیا میں مذہب کے مطابق خدا کو ماننے والوں کی حیثیت اب پسماندہ ذہن اور کلچر رکھنے والے ریڈ انڈینز کی طرح ہو گئی ہے۔

الحاد سے عام طور پر خدا کا انکار مراد لیا جاتا ہے، اور دہریت اس کی فکری تشکیلات اور تفصیلات پر مبنی ایک علمی مبحث اور تحریک ہے۔ آج کی دنیا میں الحاد فرد کی داخلیت میں مستحکم ہو گیا ہے اور دہریت ایک بڑی تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے جو خدا کو ماننے کے مذہبی عقیدے اور غیر مذہبی رویے کے خلاف جارحانہ لائحہ عمل رکھتی ہے۔ الحاد اور دہریت اب کوئی علمی یا عقلی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سماجی اور ثقافتی صورت حال بن گئی ہے، جس نے کہیں کہیں ایک تحریک کی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ اب دہریت اپنے پھیلاؤ اور دفاع کے لیے ”تحریکی“ ذرائع استعمال کر رہی ہے اور سیاسی طاقت اور سرمائے کی بڑی قوتیں اس کی پشت پر ہیں۔

جدیدیت نے خدا کے مذہبی تصور کا مکمل انکار کیا، لیکن ایک افسانوی اور عقل ساختہ ”خدا“ کا تصور پیش کر کے خدا پرستی اور آزاد روی کا التباس باقی رکھا۔ اس طرح جدیدیت نے انسان کو مذہب سے لاتعلق ہونے کا راستہ اورجواز فراہم کیا۔

مغربی تہذیب نے ”ترقی“ کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کاری (ویسٹرنائزیزشن) اور جدید کاری (ماڈرنائزیشن) کو عالمی سطح پر فروغ دیا۔ ان دوعوامل کے پیدا کردہ نئے سماجی اور ثقافتی حالات میں دنیا کے مذاہب بخارات کی طرح تحلیل ہو گئے۔ مسلم دنیا میں مغرب کاری اور جدید کاری کے منصوبوں کو جزوی کامیابی تو یقیناً ہوئی لیکن وہ اسلام کی بیخ کنی کرنے میں نہ صرف ناکام رہے، بلکہ انہیں ہر سطح پر مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جو الحادی اور اباحتی مقاصد معاشی ترقی، سیاسی پالیسی اور ثقافتی تبدیلی سے بالواسطہ حاصل نہ کیے جا سکے، دہریت کی تحریک اب انہیں جعلی علوم، سیاسی دھونس اور معاشی دباؤ سے براہ راست حاصل کرنا چاہتی ہے۔

الحاد کا مطلب فکری مرض اور نظری کوتاہی، یا صرف ہٹ دھرمی اور عناد و تکبر کی بنیاد پر خالق و مالک کی موجودگی کا انکار کرنا ہے۔ الحاد عقلی مرض، فکری بگاڑ، اور قلبی تاریکی کا نام ہے، جو مُلحِد کو کم عقل اور کم ظرف بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سوائے محسوسات میں آنے والے مادیات کے کسی اور چیز کے احساس یا ادراک کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، چنانچہ وہ مادیات پر مبنی افکار کو انسان اور اس کے عقائد پر لاگو کرنے پر اٹل رہتا ہے، لیکن وہ ناکام و نامراد رہ جاتا ہے، اور اس جیسے شخص کا یہ یقین ہوتا ہے کہ انسان تو صرف ایک مادی چیز ہے، جس پر مادیات سے متعلقہ سارے قانون لاگو کئے جاسکتے ہیں۔

اس جیسے ملحدانہ افکار محض مادّیت اور روحانیت سے عاری افکار پر منحصر عقلیات کی طرف انسانی جھکاؤ کی وجہ سے ساری انسانیت کے لئے باعثِ خطرہ ہیں؛ ملحد انسان چونکہ وہ کسی معبود و خالق کی موجودگی کا یقین ہی نہیں رکھتا ہے، اس لئے وہ جس وقت چاہے، اور جو چاہے بلاخوف و خطر کرلے گا، کیونکہ اس کے اندر کسی معبود کا ڈر ہی نہیں رہتا ہے، اور اس کی وجہ سے انسانی فطرت میں بگاڑ اور اس کے ہلاک و برباد ہونے کا خطرہ رہتا ہے، علاوہ اس کے الحاد اللہ تعالی کی ذات کا انکار، اور اس کے حق کو کسی دوسرے کے لئے استعمال کرنے کا نام ہے۔

تمام مذاہب  کو اس وقت فکری محاذ پر سب سے بڑا چیلنج لامذہبیت کا  درپیش ہے ۔ پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک منظم انداز میں   آسمانی مذاہب کے خلاف   شکوک و شبہات  کی   یلغار  کی گئی ہے  ، ملحدین وجود باری تعالیٰ،  تصوررسالت ،   عقیدۂ آخرت، کتاب اللہ اور  انبیاء کرام علیہم السلام کی تاریخی حیثیت کو جھٹلاتے  اورطرح طرح کے سوالات کے ذریعہ ذہنوں کو پراگندہ  کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ، جو مذاہب ان عقائد و مسائل میں  پہلے ہی تضاد کا شکار اور کمزور بنیادوں  پر کھڑے تھے  وہ  انکے فلسفیانہ  وساوس کی  یلغار   کے سامنے ذیادہ دیر نہ  ٹھہر سکے اور  الحاد انکے  معاشروں  میں بہت آسانی سے جڑ پکڑتا چلا گیا ۔ یہودیت، عیسائیت، ہندومت کا دہریت کے سامنےاتنی آسانی سے سجدہ ریز ہوجانا دہریوں کو اعتماد  بھی دلا گیا، وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ  شاید  تمام مذاہب ہی  ایسے  خودساختہ  اور متضادنظریات  کی بنیاد پر کھڑے اور مکرو فریب کے ذریعے پیروکار جمع کیے ہوئے ہیں  ،  لیکن  الحادی نظریات کو مسلم معاشروں میں سخت  مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پڑ رہا ہے،   ملحدین کے لیے قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرنا  علمی ، عقلی اور تاریخی طور پر ممکن نہ تھا، باقی عقائد توحید، آخرت وغیرہ  کا تعلق مابعد الطبیعات سے ہیں جنہیں مشاہداتی اور تجرباتی علم کی روشنی میں مکمل طور پر ثابت یا  رد نہیں کیا جاسکتا  اور اسلام ان مسائل میں دوسرے مذاہب کی نسبت بہت واضح اور محکم دلائل و براہین بھی رکھتا ہے اس لیے انہوں نے اسلام پر حملہ کرنے کی دوسری راہ نکالی  مثلا کمزور اور  من گھڑت روایات کا سہارا لے کر اکابرین اسلام  کی کردار کشی،  اسلام کا تمسخر، اسلامی سزاؤں کے خلاف پراپیگنڈہ، عقائد میں فلسفیانہ انداز میں  شکوک و شبہات پیدا کرنا، پیش گوئیوں پر اعتراضات کرنا۔مسلمانوں کے اختلافات کو ہوا دینا، مسلمان علماء کی کردار کشی کرنا وغیرہ۔ یہ ہر ملحد کے  خاص موضوعات ہیں، یہ  اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے  اور انکی دل آزاری کے لیے انتہائی  گری ہوئی حرکات کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ پرنٹ میڈیا میں یہ تجزیہ نگاروں ، کالم نگاروں، صحافیوں اور شاعروں کی شکل میں  موجود ہیں  جو مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات میں ڈالتے ، زہریلے مضامین ، جھوٹی کہانیاں  پیش کرتے اور معمولی قصے کو بڑھاچڑھا کر مذہبی منافرت پھیلا تے ہیں ، سوشل میڈیا دیکھیں تو اسلام کے خلاف ایک پورا  محاذ نظر آتا ہے، مختلف پیجز اور عجیب و غریب ناموں کی فیک آئی ڈیز سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ ، فریبی اور گمراہ کن تحاریر اور ان سے  بھی بڑھ کر گستاخانہ جملے، تصاویر تقریبا روز دیکھنے کو ملتی ہیں ۔

مجھے دینی راستے سے  بھٹک جانے والے حضرات  کی جو  سب سے بڑی  وجہ یا   وہ  کمی جس کی وجہ سے یہ مطالعہ اور تحقیق کے باوجود حق تک نہیں پہنچ سکے یا کنفیوزین کا شکار ہوئے  نظر آئی  ‘وہ  ایک صالح ، علم و عمل والے شخص کی صحبت، ایک امین ناصح  کے مشورے اور راہنمائی کا نہ ہونا  تھی ۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں  نے سینکڑوں بڑی اچھی اور تحقیقی کتابوں  کا مطالعہ کیا ،  لیکن ہدایت نہیں پا سکے بلکہ الٹا مزید  گمراہ ہوتے چلے گئے۔  ایک ایسے ماحول میں جہاں ایک طرف الحاد کی محنتیں عروج پر ہوں اور  جدید سیکولر تہذیب کی چمک دھمک آنکھیں خیرہ کر رہی ہو اور دوسری طرف خود مذہب کا یہ حال ہو کہ کئی قسم کے مسالک و مکاتب فکر پیدا ہوگئے ہوں، بانت بانت کی بولیاں بولی جارہی  ہوں    اور کتابیں تصنیف کی جارہی ہوں، اس افراتفری کے ماحول میں اپنی مرضی سے  چند  اچھے برے رائٹرز کی  اہم  دینی  موضوعات پر   کتابیں منتخب کرکے  انکا مطالعہ  شروع کردینا، ہر گری پڑی کتاب کو پڑھ لینا،   کتاب کا محض  ٹائٹل اور پرنٹنگ خوبصورت دیکھ کر اسے پڑھنے بیٹھ جانا، نا کتاب کے  انتخاب میں کسی مربی اصلاح،    اچھے  علم  والے سے مشورہ کرنا   اور نا شکوک و شبہات پیدا ہونے کی صورت میں کسی مصلح   کی  راہنمائی  کی سہی کرنا  ایسی خشکی اور بوریت  ہی پیدا کرسکتا ہے جو مذہب سے ہی  بددل یا بیزار کردے۔ یہ بے لگام مطالعہ کی عادت ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے حالانکہ غور کیا جائے تو یہی فتنوں کی اصل جڑ ہے۔
” آج کے دور میں بہت سے مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے مغرب میں پرورش پائی یا پھر اپنی تعلیم مغرب سے حاصل کی ۔یہ لوگ جو لٹریچر پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر غیر مسلم مصنفین کا ہوتا ہے۔اس لٹریچر میں بہت سے ایسے افکار بیان کئے جاتے ہیں جو بظاہر تو بہت مفید، بے ضرر اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق نہ سہی تو اسلامی اصولوں سے زیادہ دور بھی نظر نہیں آتے۔ لیکن اگر ان افکار کا بغور جائزہ لیا جائے اور ان کے پسِ پشت فلسفہ کو سمجھا جائے تو کسی بھی سلیم فطرت انسان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ انکا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بسااوقات یہ آپ کو گمراہی اور الحاد کی طرف لے جاتے ہیں۔
عیسائیت کی شکست و ریخت اور جدید تنویری الحاد کے غلبے کی تاریخ بتاتی ھے کہ لوگ یک دم مذھب ترک کرکے الحاد قبول نہیں کرلیتے بلکہ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ھوتا ھے جسکا آغاز تجدد پسندی سے ھوتا ھے۔ اسکا مختصر نقشہ کچھ یوں ھے:
الف: پہلے (ایک مخصوص تناظر میں) مذھب کی تاریخی تشریح و تعبیر کو رد کر کے مذھب کی انفرادی تعبیرات اختیار کرنے کا پلیٹ فارم فراھم کیا جاتا ھے
ب: یہ مذھب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرکے ذاتی زندگی تک محدود کرنے کی ابتداء ھوتی ھے کیونکہ تاریخی تناظر نظر انداز کردینے کے بعد محض الفاظ باقی رہ جاتے ہیں ہھر جن کی درجنوں تعبیرات ممکن ھوتی ھیں اور ان میں یہ طے کرنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں ھوتا کہ کونسی تشریح درست تشریح ھے، لہذا مذھب لازما ایک ذاتی شے بن جاتا ھے اور یہ اجتماعی زندگی سیکولرائز کرنے کا مذھبی جواز ھوتا ھے
ج) یہ جدید انفرادی تشریحات مذھب کی ایک معروضی (حاضروموجود) تناظر میں تفہیم وضع کرنے کی کوشش کرتی ھیں۔ کیونکہ حاضر و موجود تناظر مذھب سے نہیں بلکہ اس سے ماوراء کسی دوسرے تاریخی تناظر (مثلا تنویری تناظر) سے برآمد ھوکر آتا ھے لہذا اب مذھب کی تعبیر ایک دوسری تاریخ اور علمیت کے مطابق کی جانے لگتی ھے۔ گویا تجدد کے نتیجے میں فی الواقع جو تبدیلی رونما ہوتی ھے وہ یہ نہیں کہ اب مذھب کی ماورائے تاریخ کوئی آفاقی عقلی تشریح پیش کردی جاتی ھے (جیسا کہ یہ متجدیدین دعوی کرتے ھیں) بلکہ صرف اتنی تبدیلی آتی ھے کہ مذھب کا معتبر حوالہ خود اسکی اپنی تاریخ کے بجاۓ ایک غیر مذہبی تاریخ کی طرف منتقل کردیا جاتا ھے، اور بس۔ یہ مذھب کو غیر معتبر بنانے کی ابتداء ہوتی ھے
د) اس غیر مذھبی تاریخ اور علمیت میں جب مذھب کو سمونے کی کوشش کی جاتی ھے تو یہاں مذھب کی حیثیت انتہائی کمزور ھوتی ھے، یہاں مذھب کو انفرادی شناخت کے حوالے سے تاریخی تقدس بھی حاصل نہیں ھوتا۔ لہذا مذھب یہاں کبھی قول فیصل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک تابع مہمل بن کر رہتا ھے، ہر وہ مقام جہاں خدا کی بات (چاھے وہ کتنی ہی قطعی کیوں نہ ھو) معروضی تناظر کے خلاف ھو لازما اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس معاملے میں خدا اپنا ذہن تبدیل کرے بصورت دیگر یہ بات رد کردینے لائق ھے (اور جدید تناظر میں خدا کی ایسی بے شمار باتیں ھوتی ہیں)
ھ) اگر خدا کو بالآخر وہی کہنا اور ماننا پڑتا ھے جو معروضی تناظر طے کرتا ھے تو ایسے خدا سے راہنمائی لینے کی ضرورت ہی کیا ھے، اس مقام پر پہنچ کر لوگ مذھب کا نفسیاتی قلادہ بھی اتار پھینکتے ہیں۔ یہ الحاد کی مذھبی تابوت میں آخری میخ ھوتی ھے۔

لہذا خوب یاد رھنا چاھیے کہ مذھب کو سمجھنے کا درست طریقہ اسکی تاریخیت (historicism) سے جڑے رہنا ہوتا ھے نہ کہ معروضی (objective) پیمانے اختیار کرتے چلے جانا، کیونکہ جنہیں معروضی حقائق سمجھ کر قبول کیا جارہا ھوتا ھے وہ درحقیقت غیر اقداری و نیوٹرل نہیں بلکہ ایک ماوراۓ مذھب تاریخ، تہذیب و علمیت سے برآمد ہو رھے ہوتے ہیں اور جن کے بذات خود ٹھیک ھونے کی کوئی گارنٹی موجود نہیں ھوتی چہ جائیکہ ان کی بنیاد پر مذہب کی مرمت شروع کردی جاۓ۔ ایسی تقریبا ہر جدوجہد کا نتیجہ تجدد کے ذریعے الحاد کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ھوتا ھے۔ عیسائیت کی شکست چلا چلا کر یہ سبق سنا رہی ھے اور اسلامی دنیا کے معاملات بھی اس تاریخ سے کچھ مختلف عندیہ نہیں دے رھے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

انہی معنی میں ھم کہتے ھیں کہ احیاۓ اسلام کا اصل مطلب خیرالقرون کی طرف مسلسل مراجعت ھے، اسکے علاوہ احیاۓ اسلام کا کوئی دوسرا معنی نہیں۔ جدید معروضی تناظر میں وضع کیا جانے والا احیاۓ اسلام کا ہر معنی اسلام کو تنویری تاریخ، علمیت و تہذیب میں ضم کردینے کا ھم معنی ھے۔

”ہرشبہہ کا جواب دینے سے شبہات رفع نہیں ہوسکتے ، بلکہ منشاء کا علاج کرنا چاہئے۔جیسے ایک گھر کے اندر  رات کو اندھیرے میں  چوہے، چھچھوندر کودتےپھرتے تھے۔ گھر والا ایک ایک کو پکڑ کر نکالتا مگر پھر وہ سب کے سب دوبارہ اندر آجاتے۔ ایک عاقل نے کہا کہ میاں! یہ سب اندھیرے کی  وجہ سے کودتے پھرتے ہیں، تم لیمپ  روشن کردو، یہ سب خود ہی بھاگ جائیں گے ، چنانچہ لیمپ روشن کیا گیا تو  وہ سب اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھو کہ یہ وساوس و شبہات جو آپ کو پیش آتے ہیں ، ان کا منشاء ظلمت قلب ہے، جس کا علاج  یہ ہے کہ دل میں علم کی شمع روشن کی جائے،ایمان میں پختگی پیدا کی جائے ۔جب انسان کا ایمان مضبوط ہو جائے تو پھر کسی اور کا حکم اور کسی قول و فعل میں کوئی شبہ و سوسہ نہیں پیدا ہوتا۔
 میں نہایت پختگی سے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ جن مسلمانوں کو آج کل مذہب میں شکوک و اوہام پیدا ہوتے ہیں ، انکے اس مرض کا منشاء قلت ایمان ہے، ان کو اللہ و رسول کے ساتھ محبت نہیں اور  محض برائے نام تعلق کو تعلق کہا جاتا ہے  ۔
تعلق  مع اللہ کے حاصل ہونے کا واحد طریق صرف یہ ہے کہ اہل اللہ کی صحبت حاصل کی جائے ، اہل محبت کی صحبت میں یہ خاصیت ہے کہ اس سے بہت  جلد محبت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ اہل غفلت کی صحبت سے غفلت پیدا ہوتی ہے، پھر جب محبت اور تعلق مع اللہ حاصل ہوجائے گا ، یہ لم و کیف  باطل اور وساوس و شبہات سب جاتے رہیں گے۔
اگر آپ یہ سلسلہ ویب سائٹ،بلاگز،پیجز، گروپس یا کسی رسالہ و مجلہ وغیرہ پر نشر کرنے کے خواہش مند ہیں یا الحاد سے متعلقہ آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو ہم سے رابطہ کریں۔

whatsApp:00923462115913

fatimapk92@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیلی کی بنیاد پر اقساط کے مطالعہ کیلئے فیس بک یا بلاگ وزٹ کریں۔
https://www.facebook.com/fatimaislamiccenter

www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...