Sunday, 23 October 2016

تصوف اور ناقدین'تقابلی مطالعہ

*تصوف اور ناقدین' تقابلی مطالعہ
(قسط نمبر 3 )
تصوف کی اصطلاحات
مناسب ہو گا کہ آگے بڑھنے سے پہلے ہم اہل تصوف کی چند اصطلاحات کا معنی بیان کر دیں تاکہ بعد کی بحثوں میں ان کا مفہوم سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
سیر: سفر ، نقل و حرکت یا پراگریس۔ اہل تصوف کے نزدیک "سیر" انسان کی اس سفر میں پراگریس کا نام  ہے، جو اللہ تعالی کی جانب ہو۔ اسی کو "راہ سلوک" بھی کہا جاتا ہے۔ تصوف وہ فن ہے جس کی مدد سے یہ سفر طے کیا جاتا ہے۔
سالک: راہ سلوک پر چلنے والا۔ وہ شخص جو اللہ تعالی کی جانب سفر کرنے کا عزم کرے۔
مرشد: راہ سلوک میں راہنما۔ اسے ہماری عام زبان میں "پیر" یا "شیخ" بھی کہا جاتا ہے۔
مرید: وہ شخص جو راہ سلوک پر چلنے کے لیے کسی  مرشد کی راہنمائی حاصل کرنے کے اس کے ہاتھ پر بیعت کرے۔ اسے تصوف کی زبان میں "مسترشد" بھی کہا جاتا ہے جس کا معنی ہے ہدایت کا طالب۔
بیعت: بیعت کا لفظی معنی ہے بیچنا۔ اصطلاحی مفہوم میں اس کا مطلب ہوتا ہے کسی کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا جس میں  اس کی حمایت کا عزم کیا گیا ہو۔ اہل تصوف کی اصطلاح میں بیعت اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں ایک مرید، اپنے پیر کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کی پیروی کرے گا جبکہ پیر اس سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ راہ سلوک میں اس کی راہنمائی کرے گا۔ اس طرح مرید ، گویا خود کو پیر کے ہاتھوں بیچ دیتا ہے۔
صحبت: ساتھ رہنا۔ اہل تصوف کے نزدیک اس کا مطلب صوفی حضرات کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔
خانقاہ: یہ ایک تربیت گاہ یا ادارہ ہوتا ہے جہاں ایک صوفی شیخ اپنے مریدین اور سالکین کی تربیت کرتا ہے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں جو خانقاہیں بنیں، ان میں مسجد، مزار اور  رہائشی کمرے موجود ہوتے تھے۔ ہر خانقاہ کا خاص حصہ لنگر ہوا کرتا تھا جو کہ ہر خاص و عام کے لیے جاری ہوتا اور کوئی بھی  شخص یہاں آ کر کھانا کھا سکتا تھا۔ اب بھی متعدد خانقاہیں پائی جاتی ہیں  مگر ان میں تربیت کا وہ سلسلہ اور معیار نہیں رہا جو قرون وسطی کی صوفی خانقاہوں میں ہوا کرتا تھا۔ عربوں کے ہاں خانقاہ کو "رباط" کہا جاتا ہے جبکہ شمالی افریقہ میں اس کا نام "زاویہ" ہے۔
شریعت: دین کے وہ احکام جو ظاہر و باطن دونوں کے لیے ہیں۔
طریقت: شریعت کے علاوہ وہ اضافی طریقے جن کے ذریعے  اللہ تعالی تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ان میں اذکار و اوراد، وظائف، مراقبہ وغیرہ شامل ہے۔
حقیقت: دل پر بعض اعمال اور اشیاء سے متعلق حقائق کے انکشاف کو حقیقت کہا جاتا ہے۔
معرفت: خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا ادراک۔
ان کے علاوہ اہل تصوف کی متعدد اصطلاحات ہیں، جن کی تفصیل ہم اپنے اپنے مقام پر بیان کریں گے۔
تصوف کا مقصد:
اہل تصوف ، تصوف کا مقصد وہ بیان کرتے ہیں جو قرآن کریم کی ان آیات کریمہ میں بیان ہوا ہے:
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (7) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (8) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10)
نفس کی قسم اور اس [اللہ] کی جس نے اسے سنوارا۔ پھر اس نے اس کی برائی اور اس کا تقوی اس کی جانب الہام کر دیا۔ جس نے اسے پاکیزہ کر لیا، وہ فلاح پا گیا اور جس نے اسے دبا دیا، وہ نامراد ہوا۔  (الشمس)
اہل تصوف کا کہنا یہ ہے کہ اسی نفس انسانی کو سنوارنے اور اس کا تزکیہ کرنے کا نام تصوف ہے۔ تمام دینی احکام کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ مثال کے طور پر زکوۃ کو لیجیے۔ ایک اس کا ظاہری پہلو ہے جس میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کب دینی ہے؟ کتنی دینی ہے؟ کس مال پر زکوۃ عائد ہو گی اور کس پر نہیں؟ ان سب سوالات کا جواب "علم الفقہ" میں ملتا ہے۔ زکوۃ کا باطنی پہلو یہ ہے کہ زکوۃ خالصتاً اللہ تعالی کے لیے دی جائے۔ اس میں دکھاوا نہ ہو اور نہ ہی جس شخص کو مال دیا جائے، اسے ذلیل کیا جائے۔  اہل تصوف کا کہنا یہ ہے کہ اس باطنی پہلو کی اصلاح "علم التصوف" کا کام ہے۔ اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے صوفی بزرگ سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
حقیقت میں کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو ظاہراً کرنے کے ہوتے ہیں جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ۔ اور کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو کہ دل کے اعمال ہوتے ہیں جن کا پتہ کسی اور کو نہیں چلتا اس کا پتہ صرف اللہ تعالیٰ کو یا کرنے والے کو ہوتا ہے اور ان ہی اعمال پر ظاہری اعمال منحصر ہوتے ہیں۔اگر کسی کے یہ دل والے اعمال درست نہ ہوں تو چاہے اس کے ظاہر کے اعمال کتنے ہی درست ہوں وہ قبولیت کا درجہ نہیں پاتے۔ یا بعض دفعہ یہ ظاہری اعمال ان باطنی اعمال کی خرابی کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ان باطنی یعنی دل کے اعمال کا درست کرنا بھی ضروری بلکہ اشد ضروری ہوا۔ پس وہ طور طریقے اختیار کرنا جن سے یہ دل والے اعمال درست ہوجائیں تصوف کہلاتا ہے۔ شریعت کے طور طریقوں کو چونکہ فقہ بھی کہتے ہیں لہٰذا ان معنوں میں تصوف کو فقہ الباطن بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس کو کوئی زہد کہہ دے یا تقویٰ، احسان کہہ دے یا تصوف، اس میں کام دلوں کی صفائی کا کیا جاتا ہے۔دل میں کان ،زبان ،ناک اور ذہن کے ذریعے ہر دم جو آلودگیاں آتی ہیں ان کا تدارک اور تلافی کی جاتی ہے ،انسان کو انسان اور مسلمان کو مسلمان بنایا جاتا ہے۔دلوں سے تکبر ،عجب، حسد ،کینہ ، ریا ء،بدگمانی ،خود پسندی وغیرہ کو نکال کر اس میں تواضع ،مسکینی ،اخلاص، نیک گمانی، تفویض، توکل اور خو د احتسابی پیدا کی جاتی ہے۔دوسرے لفظوں میں انسان کے دل کو مادہ پرستی سے نکال کر خداپرستی کی طرف ڈالا جاتا ہے۔اس کو ہر دم یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تو کہاں سے آیا ہے اور کہاں جانا ہے؟ اور جہاں جانا ہے وہاں کیا ہوگا اور اس کے لئے کیا کرنا ہے ؟بس کرنا تو وہی شریعت کی اتباع ہے کہ ہمیں اسی کے لئے تو پیداکیا گیا ہے لیکن تصوف میں اس پر زور دیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا ہے۔
سادہ الفاظ میں فاضل مصنف کے نزدیک تصوف کا معنی ہے، انسانی شخصیت میں موجود چھپی ہوئی برائیوں سے اسے پاک کرنا اور اس میں موجود نیکیوں کو نشوونما دینا۔ اسے قرآن مجید میں "تزکیہ نفس" کا نام دیا گیا ہے اور اسی کو دین اسلام  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔
تزکیہ نفس کے مفہوم  میں غیر صوفی اور صوفی علماء کے مابین کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ غیر صوفی علماء کے نزدیک "تزکیہ نفس" سے مراد اپنی اصلاح کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کو برائیوں سے پاک کر کے ان میں نیکیوں کو نشوونما دے۔ اس کے برعکس  صوفی بزرگوں کے نزدیک ، "تزکیہ نفس" صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں آگے ہے۔
صوفیاء  کے نزدیک تصوف ایک سفر ہے جو کہ اللہ تعالی کی طرف ہے۔ اسے وہ "سیر الی اللہ" کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں جس کا مطلب ہے "اللہ کی جانب سفر"۔  عربی میں "سیر" نقل و حرکت، سفر  یا آگے بڑھنے (Progression) کو کہتے ہیں۔ اس سیر کے دوران سالک (یعنی سفر کرنے والا) اپنے مرشد کی نگرانی میں اپنا تزکیہ نفس کرتا ہے اور  ایسا کرتے ہوئے  وہ ایک خاص مقام پر  پہنچ جاتا ہے تو پھر یہ "سیر فی اللہ" کہلاتی ہے یعنی "اللہ میں سفر"۔ اس کی کوئی حد ان کے نزدیک مقرر نہیں ہے۔اس مقام پر پہنچ کرسفر کرنے والا، جو کہ "سالک" کہلاتا ہے، اللہ تعالی کے انوار و تجلیات کا براہ راست مشاہدہ کرتا ہے۔   یہ سیر، صوفی حضرات کے نزدیک تزکیہ نفس کے مفہوم میں داخل ہے۔سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
سیر الی اللہ کے بعد قلب کے اندر تزکیہ اور تقویٰ سے ایک خاص جلاء اور نور پیدا ہوتا ہے اور سالک برابر قلب کو ماسواء اللہ [یعنی جو کچھ اللہ کے سوا ہے] سے فارغ کرتا رہتا ہے تو حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال نیز حقائق کونیہ [یعنی کائنات کی حقیقتیں] اور حقائق اعمال شرعیہ [یعنی شرعی احکام کی حقیقتیں] سالک کے دل پر منکشف ہوجاتے ہیں، جس سے اس کا خالق کے ساتھ قرب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ عین الیقین [یعنی دیکھ کر یقین کرنا] سے حق الیقین [یعنی تجربہ کر کے یقین کرنا] تک سفر کرتا رہتا ہے۔ اس کو سیر فی اللہ کہتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں جتنا حصّہ جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی استعداد کے مطابق پایا وہ اس کا حصّہ ہے۔موت تک سالک کی یہ سیر جاری رہتی ہے اور تفرید [کسی چیز کو اپنی طرف منسوب نہ کرنا] اور تجرید [دنیاوی و اخروی اغراض کو ترک کر دینا] کے ذریعے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے۔اس میں چاہے شیخ سے مرُید بڑھ جائے،یہ بھی ممکن ہے۔
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"

تصوف اور ناقدین، تقابلی مطالعہ


*تصوف اور ناقدین *
(قسط نمبر 1)
"تصوف اور ناقدین 'تقابلی مطالعہ'،مصنف محمد مبشر نذیر کی کتاب سے حذف و ترمیم کے ساتھ-تالیف عمران شہزاد تارڑ"
بشکریہ:اسرا اسلامک اسٹڈیز اینڈ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
سوال: تقابلی مطالعہ پروگرام کا مقصد کیا ہے؟
جواب: اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ جو طالب علم مسلم دنیا کے مختلف مکاتب فکر کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا چاہیں، انہیں ایک منظم (Systematic) انداز میں مطالعہ کے وسائل اور طریق کار فراہم کر دیا جائے اور ان کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوں، ان کا بروقت جواب دے دیا جائے۔ ہر ہر مکتب فکر کے نقطہ نظر اور ان کے دلائل کو نہایت ہی غیر جانبداری کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا جائےاور بغیر کسی تعصب کے ہر مسلک کے نظریات اور دلائل کا مطالعہ کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔
اس پروگرام میں ہم نے  یہ کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو، جیسا کہ وہیں ہیں، بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دیے جائیں۔ ہم نے کسی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے کہ کون سا نقطہ نظر درست اور کون سا غلط ہے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔
سوال: یہ پروگرام کن لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو:
*وسیع النظر ہوں-
*مثبت انداز میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہتے ہوں-
*منفی اور تردیدی ذہنیت کی رو سے مطالعہ نہ کرتے ہوں-
*دلیل کی بنیاد پر نظریات بناتے ہوں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر-
*اپنے سے مختلف نظریہ کو کھلے ذہن سے پڑھ سکتے ہوں اور اس میں کوئی تنگی اپنے سینے میں محسوس نہ کرتے ہوں-
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ  آپ میں یہ خصوصیات موجود ہیں، تو آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو، آپ اس پروگرام میں شامل سلسلہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ خصوصیات آپ میں موجود نہیں ہیں، تو پھر یہ سلسلہ ہائے "اسلام اور تصوف" آپ کے لیے نہیں ہے۔
آپ ہمارا گروپ چهوڑ سکتے ہیں-
سوال: اس پروگرام کو کون لوگ چلا رہے ہیں اور ان کا مسلک کیا ہے؟
جواب: اس پروگرام  کی ذمہ داری راقم الحروف کی ہے۔میں کسی مخصوص مسلک سے وابستہ نہیں ہوں اور خود کو صرف اسلام سے وابستہ سمجھتا ہوں۔ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں  اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہتا ہوں تاکہ اپنی اصلاح کر سکوں۔
 سوال: کیا یہ پروگرام کسی خاص مذہب یا مسلک کے لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: جی نہیں۔ اس پروگرام سبھی مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے قارئین کے لیے ہے۔ کسی معاملے میں ہم آپ سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، ہماری کوشش یہ ہو گی کہ تمام کتب اور ای میل رابطے میں آپ کے نقطہ نظر کا پورا احترام کیا جائے  اور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔
 سوال: اس پروگرام میں آپ نے کس مسلک کی حمایت کی ہے؟
جواب: اس پروگرام میں ہم نے نہ تو کسی مسلک کی حمایت کی ہے اور نہ مخالفت۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم مکمل غیر جانبداری کے ساتھ تمام مسالک کے نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کا مطالعہ کریں۔ ہم نے دانستہ طور پر یہ کوشش کی ہے کہ طلباء کو کسی مسلک کی طرف مائل نہ کیا جائے بلکہ صحیح و غلط کا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔  تمام مسالک کے دلائل کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ خود رائے قائم کریں کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے؟
*تقابلی مطالعہ کا طریق کار*
ہمارے ہاں عام طور پر تقابلی مطالعہ کے طریق کار کی تربیت نہیں دی جاتی ہے۔ اگر یہ تربیت فراہم کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقابلی مطالعہ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن سے آپ کو تقابلی مطالعہ میں مد دمل سکے گی۔
*جب آپ کسی فرقہ کے نقطہ نظر کا مطالعہ کر رہے ہوں تو کچھ دیر کے لیے خود کو اسی میں شامل سمجھ لیجیے۔ خود کو اس فرقہ کے لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس مسلک کو مان لیں مگر اس طریقے سے آپ کو ان کے استدلال (دلائل پیش کرنا) سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے گی۔
*اس کے بعد جب آپ مختلف رائے رکھنے والے دوسرے فرقے کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی یہی طریقہ اختیار کیجیے کہ آپ ان میں شامل ہیں۔
*فریقین کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اب خود کو غیر جانبدار کر لیجیے۔ غور کیجیے کہ پہلے فریق نے کیا دلائل پیش کیے اور دوسرے فریق نے ان کا جواب کیا دیا۔ پھر اس پر غور کیجیے کہ دوسرے فریق کے دلائل کیا تھے اور پہلا فریق ان کا کیا جواب پیش کرتا ہے۔
*فریقین کے دلائل میں مضبوط اور کمزور نکات نوٹ کر لیجیے۔
*آخر میں جس فریق کے دلائل مضبوط نظر آئیں، اس کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیجیے۔
*کوئی نقطہ نظر اختیار کر لینے کے بعد بھی اپنا ذہن کھلا رکھیے اور اس بات کے لیے تیار رہیے کہ اگر مستقبل میں آپ کے سامنے درست بات واضح ہو گئی تو آپ اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ اپنی وابستگی حق کے ساتھ رکھیے نہ کہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ۔
*اگر دونوں فریقوں کے دلائل آپ کو مضبوط نہ لگیں تو اس ضمن میں توقف کیجیے اور کسی تیسرے نقطہ نظر کی تلاش کیجیے۔
جاری ہے. ...

Saturday, 22 October 2016

*خاتون کو ایام حیض کے غیر منظم ہونے کی شکایت ہے۔*


*خاتون کو ایام حیض کے غیر منظم ہونے کی شکایت ہے۔*
الحمد للہ:
اول:حیض کا خون  سیاہ رنگ کا ہوتا ہے، خواتین اس کی امتیازی صفات جانتی ہیں، رنگت میں سیاہ، ماہیت میں گاڑھا،اور  بد بو دار ہوتا ہے، اس کی بو عام خون کی بو سے الگ ہوتی ہے۔چنانچہ جب مذکورہ صفات کا حامل خون دیکھیں تو یہ حیض کا خون ہے، چاہے  یہ 7 دن آئے یا 8 دن، یا اس سے کم ہو یا زیادہ، تاہم یہ خون 15 دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔دوم:بادامی رنگ  کی رطوبت جسے خاکی یا زردی مائل   رنگت والی رطوبت کہا جاتا ہے، یہ اس وقت حیض ہی میں شمار ہو گی جب طہر کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کا خروج ہو، اگرچہ یہ حیض کے خون سے مماثلت  نہیں  رکھتی لیکن پھر بھی یہ حیض میں ہی شامل ہے۔بالکل اسی طرح اگر کسی عورت کی عادت بن چکی ہو کہ حیض کے شروع میں اسی قسم کی رطوبت خارج ہوہے، اور ساتھ میں  درد بھی ہو، یا دوران حیض ایسی رطوبت آئے تو یہ بھی حیض کے خون میں شمار ہوگی۔" الموسوعة الفقهية الكويتية" (18/295) میں ہے کہ:"جمہور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ حیض کے ایام میں خاکی یا پیلی رطوبت بھی حیض ہی شمار ہوگی؛ کیونکہ اصول یہ ہے کہ حیض کے ممکنہ دنوں میں کسی طرح کی رطوبت کو عورت دیکھے تو وہ حیض ہوگا، اسی کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہاکی وہ روایت بھی ہے کہ ان  کے پاس کچھ خواتین  کپڑے میں مٹیالے یا پیلے دھبوں والی روئی [حکم پوچھنے کیلئے]ارسال کرتیں، تو آپ انہیں کہتیں: "جلد بازی مت کرو، یہاں تک کے سفید رطوبت دیکھ لو"عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہوتا کہ حیض سے طہارت اسی وقت ہو گی جب سفید رطوبت خارج ہو ،جبکہ  مٹیالی اور پیلی رطوبت دونوں پیپ کی طرح ہوتی ہیں" انتہیابن عابدین رحمہ اللہ کہتے ہیں:"ابو یوسف نے حیض کی ابتدا میں مٹیالی رطوبت  کو حیض میں شمار نہیں کیا، تاہم حیض کے آخری ایام میں اسے حیض میں شمار کیا ہے، جبکہ کچھ فقہائے کرام نے سبز رنگ کی رطوبت کو بھی  حیض میں شمار نہیں کیا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حائضہ  خواتین  کیلئے اسے حیض ہی شمار کیا جائے گا، اور جن خواتین کو عمرہ رسیدہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا ہے، ان خواتین کیلئے حیض شمار نہیں ہوگا" انتہی"رد المحتار" (1/289)شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:"حیض سے طہارت حاصل ہونے کے بعد خارج ہونے والی رطوبت وغیرہ  کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، اور نہ انکی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ  ایام طہارت میں مٹیالا اور پیلا پانی  کچھ  نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے حیض شمار کیا جاتا ہے، بلکہ یہ  پیشاب کے حکم میں  ہے، اگر کسی خاتون کو ایسا ہی معاملہ در پیش ہے تو استنجا کے بعد ہر نماز کیلئے وضو کرے، اور جب بھی نماز کا وقت داخل ہو تو  ایسے پانی کو صاف کر لے۔اور اگر یہ  ایامِ حیض کے فوراً بعد آئے، یا حیض کی ابتدا  میں ، یا پھر دوران حیض آئے تو اسے حیض ہی شمار کیا جائے گا، لہذا  ایسی عورت کو چاہیے کہ پاک ہونے تک نماز، طواف وغیرہ سے رک جائے" انتہی"مجموع فتاوى ابن باز" (29/116)شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ہی سوال کیا گیا  کہ :"ماہواری کے  شروع ہونے سے پہلے کچھ دن مٹیالا اور خاکی رنگ کا سیال مادہ خارج ہوتا ہے، اور یہ پانچ دن تک جاری رہتا ہے، اس کے بعد پھر  حیض کا طبعی  خون جاری  ہوتا ہے جو کہ آٹھ دن  یعنی پانچ دن کے بعد آٹھ دن جاری رہتا ہے، متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ: میں ان پانچ ایام میں نماز پڑھتی ہوں، لیکن میرا سوال ہے کہ کیا ان دنوں میں نماز روزہ  فرض ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مجھے بتلائیں، اللہ تعالی آپکو اچھا بدلہ دے"تو انہوں نے جواب دیا:"اگر پہلے پانچ دنوں میں  آنے والا مٹیالا پانی  خون سے بالکل الگ تھلگ ہوتا ہے ، تو یہ حیض نہیں ہے، اور آپ پر نماز روزے کی پابندی کرنا ضروری ہوگا، آپ ہر نماز کیلئے وضو کرینگی؛ کیونکہ اس کا حکم پیشاب والا ہے، حیض والا نہیں ہے، چنانچہ اس کی وجہ سے نماز روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، لیکن جب تک یہ ختم نہ ہو جائے اس وقت تک ہر نماز کیلئے وضو کرنا لازمی ہے، جیسے استحاضہ کیلئے وضو کیا جاتا ہے۔اور اگر یہ مٹیالا پانی  حیض کے ساتھ ہی آتا ہے، تو یہ بھی حیض میں شمار ہوگا، اور اسے ماہواری کے ایام میں شامل کیا جائے گا، چنانچہ آپ ان ایام میں نماز نہیں پڑھیں گی، اور نہ ہی روزے رکھیں گی۔اسی طرح اگر مٹیالا یا پیلا پانی حیض سے فراغت کے بعد طہر میں آئے تو اسے حیض شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسکا حکم استحاضہ والا ہوگا، چنانچہ  آپ ہر نماز کیلئے استنجا کریں، اور وضو کر کے نمازیں پڑھیں اور روزے رکھیں، اسے آپ حیض شمار مت کریں، اس دوران آپ اپنے خاوند کیساتھ تعلقات بھی قائم کر سکتی ہیں؛ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "ہم طہر کے بعد مٹیالے اور پیلے سیال مادے کو کچھ بھی شمار نہیں کرتی تھیں" اسے بخاری نے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا ان جلیل  القدر صحابیات میں سے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرتی ہیں۔ اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے" انتہی" مجموع فتاوى ابن باز" (10/207-208)خلاصہ یہ ہے کہ:  حیض کے وقت  آنے والے  خون اور رطوبت  کا حکم حیض والا ہی ہے، چاہے یہ حیض  کے  خون سے فوراً پہلے  آئے، یا حیض سے پاک ہونے کی علامات واضح ہونے سے پہلے آخری ایام میں۔اس سے آپکو علم ہو گیا کہ حیض کی پوری مدت میں نماز روزے سے رکنا آپ پر ضروری ہے، چاہے  سات دن ہو یا دس دن، آپ جب تک پاک صاف نہیں ہو جاتیں ، اور طہارت کی علامات واضح  نہیں ہوتی اس وقت تک آپ حیض کی حالت میں ہو؛ چنانچہ اگر آپ کا  حیض 17 ویں تاریخ کو  ختم ہوا تو آپ پر طہارت و غسل ، نماز روزہ  پاک ہوتے ہی واجب ہو جائے گا، اسی طرح اگر آپ کا حیض 18 ویں دن ختم ہو تب بھی و ہی حکم ہے، آپ ہر ماہ اسی طرح کرینگی۔سوم:اگر طہارت حاصل کرنے کے بعد خون دو ہفتے کے بعد دوبارہ  آ جائے، جیسے کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے، اور خون کی ماہیت حیض کے خون والی نہیں تھی، تو یہ استحاضہ کا خون ہے، حیض کا خون نہیں ہے؛ کیونکہ اس خون میں حیض کی علامات نہیں پائی جاتیں، اور نہ ہی یہ خون آپکی عادت کے مطابق مقررہ وقت پر آیا ہے، اس لئے ایسے خون کے آنے کی وجہ سے آپ پر نماز روزے کی  ممانعت نہیں ہے، بلکہ آپ اس خون سے پاک صاف رہنے کی کوشش کریں، اور ہر  نماز  کیلئے وضو کر کے  نماز ادا کریں۔آپ اسی طرح  عمل جاری رکھیں گی، اور  نماز ، روزے کی پابندی کرینگی، یہاں تک کہ حیض کا خون آ جائے، جسے آپ حیض کی علامات سے پہچان  سکتی ہیں، یا گزشتہ تفصیل کی روشنی میں اپنی ماہواری کے وقت سے بھی پہچان سکتی ہیں۔چہارم:اگر آپکو  اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے، اور آپکو حیض کے وقت ، مدت، امتیازی صفات کسی بھی چیز کا علم نہیں ہے، تو  آپ سات دن حیض کے شمار کریں، کیونکہ یہ تعداد آپکی سابقہ ماہواری کے مدت کے قریب تر ہے، اور یہ سات دن انہیں دنوں میں آپ شمار کریں جن دنوں میں آپ کو ماہواری کا نظام خراب  ہونے سے پہلے حیض آیا کرتا تھا، سات دن گزرنے کے بعد آپ غسل کریں، اور نماز پڑھیں، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو  یہی حکم دیا تھا، انہیں بھی بہت زیادہ خون جاری رہتا تھا: آپ نے فرمایا :(یہ شیطان کے چوکے میں سے ایک چوکا ہے، اس لئے تم چھ یا سات دن حیض کے گزارو، اور پھر غسل کرو، اس کے بعد 23 یا 24 دن رات طہر کے گزارو، اور ان میں نماز روزے کی پابندی کرو، یہ تمہارے لئے کافی ہے، تم ہر ماہ ایسے ہی کرو، جیسے دیگر خواتین  اپنے حیض اور طہر کے ایام میں کرتی ہیں)احمد :(27474) ، ابو داود (287) وغیرہ نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے " مشكاة المصابیح "(561) میں حسن قرار دیا ہے۔.·          حیض کے وقت میں آپکو آنے والا خون یا رطوبت  سب کا حکم حیض والا ہے، چاہے  یہ حیض کے خون سے فوراً پہلے یا طہر کی علامات ظاہر ہونے  سے پہلے حیض کے آخری ایام میں آئے۔·          اگر طہر کے دو ہفتے بعد خون آئے، اور اس میں حیض کے خون کی صفات نہ پائی جائیں تو اسکا حکم حیض کے خون والا نہیں ہے، لہذا یہ خون نماز روزے کیلئے ممانعت کا باعث نہیں بن سکتا، یہاں تک کہ حیض آنا شروع ہو جائے۔·          اگر ماہواری کی عادت بالکل  غیر منظم ہو، اور آپ کو خونِ حیض کی امتیازی  صفات کے بارے میں بھی علم نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کو دکھا کر آپ حیض  کے بارے میں معلومات لے سکتی  ہیں، تو آپ حیض کے لئے سات دن مقرر کر لیں، کیونکہ یہ تعداد آپکی گزشتہ  عادت کے قریب تر ہے، ان دنوں کو آپ  اس وقت شمار کرنا شروع کریں جب  آپکی ماہواری منظم انداز سے آتی تھی، جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کر کے نمازیں ادا کرنا شروع کریں۔. https://islamqa.info/ur/220644
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

*کیا حیض کی حالت میں عورت عمرہ کااحرام باندھ لے ؟*


*کیا حیض کی حالت میں عورت عمرہ کااحرام باندھ لے ؟*
ہم عنقریب عمرہ کی ادائيگی کےلیے جائيں گے اوریہ سفر دس یوم پرمشتمل ہوگا پہلے تومدینہ شریف جائيں گے اورپھرمکہ ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میری ماہواری مدینہ سے مکہ جاتے وقت شروع ہوگي لھذا ہم مکہ جاتے وقت ابیارعلی ( ذوالحلیفہ ) سے احرام باندھیں گے توکیا میرا حالت حیض میں ان کےساتھ احرام باندھنا صحیح ہے ؟ میری ماہواری مکہ میں ختم ہوگي لھذا میں مکہ کس مقام سے احرام باندھوں؟
الحمد للہ :
حائضہ عورت جب حج یا عمرہ کے ارادہ سے میقات سے گزرے تواس پرمیقات سے احرام باندھنا واجب اورضروری ہے ، اس کےلیے جائزنہيں کہ وہ احرام میں تاخیرکرے اورپاک صاف ہوکرمکہ مکرمہ جاکراحرام باندھے ۔سنت نبویہ اوراجماع اس پردلالت کرتے ہیں کہ حیض احرام کے منافی نہیں ، لھذا حائضہ عورت احرام باندھے گي اورپاک صاف ہونے اورغسل کرنے کے بعد عمرہ کی ادائیگي کرے گي ۔امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے جابربن عبداللہ رضي اللہ تعالی عنہما نے اسماء بنت عمیس رضي اللہ تعالی عنہا کے بارہ میں بیان کیا ہے کہ :جب انہوں نے ذوالحلیفہ میں بچہ جنم دیا تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کوفرمایا تھا کہ اسے حکم دو کہ وہ غسل کرے اوراحرام باندھ لے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1210 ) ۔امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :نفست یعنی انہوں نے بچہ جنم دیا ۔اس حدیث میں حا‏ئضہ اورنفاس والی عورت کےاحرام کے صحیح ہونےاور احرام کےلیے غسل کرنے کے استحباب کی دلیل پائي جاتی ہے ۔اھـنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المؤمنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔۔ میں مکہ پہنچی تومجھے ماہواری شروع ہوچکی تھی لھذا میں نے بیت اللہ کا طواف اورصفامروہ کی سعی نہ کی ، تومیں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :اپنا سرکھولو اورکنگھی کرواورحج کا احرام باندھ لو ۔۔۔ الحدیثدیکھیں : صحیح بخاری باب باب کیف تھل الحائض والنفساء حدیث نمبر ( 1556 ) یعنی حائضہ اورنفاس والی عورت حج کا احرام کیسے باندھے ، صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1211 ) ۔امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :اس حدیث میں دلیل ہے کہ حائضہ اورنفاس والی عورت اوربے وضوء اورجنبی شخص کے طواف اورطواف کی دورکعتوں کے علاوہ باقی سارے اعمال حج اوراقوال صحیح ہیں ، لھذا اس کا عرفات میں وقوف وغیرہ صحیح ہوگا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے ، اوراسی طرح حج میں مشروع غسل کرنا بھی حائضہ عورت اوردوسروں کےلیے مشروع ہوگا جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں ، اوراس حدیث یہ بھی دلیل پائي جاتی ہے کہ حائضہ عورت کا طواف صحیح نہيں ہوگا ، اس پرسب کا اتفاق ہے ۔ اھـابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :جب حائضہ اورنفاس والی عورت میقات پرپہنچے تووہ غسل کرکے احرام باندھیں اوربیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی سارے مناسک پورے کریں ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1744 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ابوداود میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ اورنفاس والی عورت کواحرام باندھنے اورتلبیہ کہنے کا حکم دیا ہے ، اوراس میں جوکچھ اللہ تعالی کا ذکر ہے اسے بھی کرنے کا کہا ہے اورانہيں میدان عرفات میں وقوف کرنے اوردعا اوراذکار کرنے ، اوراللہ تعالی کے ذکر کےساتھ رمی جمرات کرنے کا بھی حکم دیا ہےحالانکہ ان سب میں اللہ تعالی کا ذکربھی پایاجاتا ہے ، یہ سب کچھ ان کےلیے مکروہ نہيں بلکہ اس پرایسا کرنا واجب ہے ۔ اھـ دیکھیں : الفتاوی الکبری ( 1 / 447 ) ۔اورشيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :جب حائضہ اورنفاس والی عورت میقات پرپہنچے تواگرحج یا عمرہ فرضی ہوتوان کے لیے احرام باندھنا واجب ہے ، اوراگرانہوں نے فرضي حج اورعمرہ کی ادائيگي کرلی ہو اورنفلی کرنا چاہتی ہوں توپھربھی دوسروں کی طرح ان کےلیے میقات سے احرام باندھنا مشروع ہے جس طرح دوسری پاک صاف عورتیں حج یا عمرہ کا احرام میقات سے باندھتی ہیں ۔اھـدیکھیں : مجموع الفتاوی ( 16 / 126 ) ۔اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :وہ عورت جسے احرام باندھنے سے قبل ہی ماہواری شروع ہوجائے اس کے لیے حالت حیض میں ہی احرام باندھنا ممکن ہے کیونکہ جب ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضي اللہ تعالی عنہانے ذوالحلیفہ میں بچہ جنم دیا تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں غسل کرکے لنگوٹ باندھ کراحرام باندھنے کا حکم دیا تھا ، اورحیض والی عورت بھی اسی طرح احرام باندھے گی ، اوروہ پاک صاف ہوکرغسل کرنے تک احرام کی حالت میں ہی رہے گی اورپھربیت اللہ کا طواف اورسعی کرے گی ۔ اھـدیکھیں : رسالۃ 60سؤالا فی احکام الحیض ۔واللہ اعلم . https://islamqa.info/ur/49992
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

*حالت حیض اورنفاس میں بیوی سے جماع کی حرمت میں حکمت*


*حالت حیض اورنفاس میں بیوی سے جماع کی حرمت میں حکمت*
نفاس اورحیض کی حالت میں بیوی سے ہم بستری کی حرمت میں کیا حکمت ہے ؟ اوراگرحرمت کا سبب خون ہے کیونکہ وہ خون پلید اورنجس ہے توپھر کیا کنڈوم ( غبارہ ) استعمال کرکے ہم بستری کرنا جائز ہوگا کہ نہیں ؟
الحمدللہ:
اللہ سبحانہ وتعالی نے مردوں پر بیویوں سے حالت حیض میں ہم بستری کرنا حرام کی ہے ، قرآن مجید نے حرمت کی علت بھی بیان کی ہے اورحیض کوگندگی کہا ہے فرمان باری تعالی ہے :{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو } البقرۃ ( 222 ) ۔اوراس کے بارہ میں علمی ریسرچ بھی ہمارے لیے اس میں سے کچھ گندگي کا انکشاف کرتی ہے جس کا آیت کریمہ میں اشارہ کیا گيا ہے ، لیکن وہ بھی پوری طرح اس گندگی تک نہیں پہنچ سکے جوآيت قرآنی بیان کرتی ہے ۔ڈاکٹر محیی الدین العلبی کا کہنا ہے :حیض والی عورت سے حالت حيض میں جماع کرنے سے رکنا واجب اور ضروری ہے ، اس لیے کہ اس سے جماع اورہم بستری کرنے کی بنا پرحيض کے خون مین شدت اورتیزي پیدا ہوتی ہے ، کیونکہ رحم کی رگیں دباؤ کا شکاراوررکیں ہوئي ہوتی ہیں ان کا پھٹنا آسان اورجلدی خراب ہوجاتی ہیں ۔اوراسی طرح اندرونی پردے میں خراشیں پیدا ہونا بھی آسان ہوتی ہيں جس کی بنا پر جلن اورخارش کے پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جو رحم کے اندر بھی سوجن اورجلن پیدا کرنے کا با‏عث بنتے ہیں ، اوراسی طرح مرد کے عضو تناسل میں بھی جلن اورخارش پیدا ہوتی ہے جس کا سبب عورت سے اثناء جماع خراش وغیرہ کا پیدا ہونا ہے ۔اوراسی طرح حا‏ئضہ عورت سے جماع کرنا خاوند اوربیوی کے مابین نفرت کا باعث بنتا ہے جس کا سبب گندے خون کی موجودگی اوراس کی بدبو ہے ، جوہوسکتا ہے مرد پر اثرانداز ہواور اسے روک ( جنسی کام نہ کرنے کی ) کی بیمار لگ جائے ۔ڈاکٹر محمد البار حیض کی گندگی کے بارہ میں بات کرتے ہوئے کچھ اس طرح کہتے ہیں :رحم کے اندر کا پردہ مکمل طور پر حیض کے دوران الٹ دیا جاتا ہے ۔۔۔ اوراس کے نتیجہ میں پورا رحم مکمل طور پرخارش زدہ ہوجاتا ہے جس طرح کہ جلد اتری ہوئي ہو اوراس میں آسانی سے بے حسی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے حملہ کے لیے تیار ہوجاتا ہے ، اوراس صورت میں مرد کے عضو تناسل پر موجود جراثیم آسانی سے رحم میں داخل ہوجاتے ہیں جوکہ رحم کے لیے بہت ہی خطرناک ہيں ۔اس لیے حيض کی حالت ميں عورت سے ہم بستری توصرف ایسے جراثیم اورمیکروباٹ کوایسے وقت میں داخل کرنا ہے جبکہ اندرونی دفاعی نظام ان سے دفاع کی طاقت نہیں رکھتا ۔اورڈاکٹر بار کا یہ بھی خیال ہے کہ : یہ اذیت اورگندگی یہاں تک ہی نہیں رہتی کہ رحم اورشرمگاہ سے لیکر رحم تک کی نالی میں بھی وہ جراثیم داخل ہوتے ہيں جن کا علاج کرنا بھی مشکل ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت ساری بمیاریاں لگتی ہيں :1 – التھابات اورجلن اورسوجن رحم کے منہ تک پہنچ کراسے بند کردیتی ہے ، جوکہ بعض اوقات بانجھ پن تک لے جاتی ہے اوریا پھر رحم کے باہر ہی حمل ہوجاتا ہے ، ایسا حمل مطلق طور پر سب میں سے خطرناک حمل ہے ۔2 - پیشاب کی نالی تک جلن اورسوزش جاپہنچتی ہے اورپھر اس سے بھی آگے مثانہ اورگردوں میں بھی چلی جاتی ہے ، اور پیشاب کے نظام میں امراض کا پیدا ہونا بہت ہی خطرناک اورپرانی بیمای بن جاتی ہے ۔3 - حیض کے خون میں جراثیم کی کثرت اورخاص کر سیلان کے مرض کے جراثيم بہت زيادہ پیدا ہوجاتے ہيں ۔اورپھر عورت بھی حالت حیض میں جسمانی اورنفسیاتی طور پر ایسی حالت میں ہوتی جوہم بستری کی اجازت نہیں دیتی ، اوراگرایسا ہوجائے تویہ اسے بہت ہی زيادہ اذیت دیتا ہے ، اوراس کے ساتھ ساتھ اسے دوران حیض بہت سے دردوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ڈاکٹر بار کا کہنا ہے :1 - حیض کی حالت میں بہت قسم کی دردیں ہوتی ہیں جس کی شدت بھی عورتوں میں مخلف ہوتی ہے ، اوراکثر عورتیں تو حالت حيض میں کمراور پیٹ کے نچلے حصہ میں درد محسوس کرتی ہیں ، اورکچھ عورتوں کوتو اتنی شدت کی درد ہوتی ہے کہ انہيں اس تکلیف کی کمی کے لیے ادویات اورسکون والی اشیاء استعمال کرنی پڑتی ہیں ۔2 - اکثرعورتیں حیض کے ابتدائي ایام میں توبہت کی شدید قسم کی تنگی اورتکلیف محسوس کرتی ہیں ، اور اسی طرح اس کی عقلی اورفکری حالت بھی بہت ہی زيادہ پتلی ہوچکی ہوتی ہے ۔3 - بعض عورتوں کو تو آدھے سر کی درد ہوتی ہے ، اوریہ دردیں تھکا دینے والی ہوتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ پانی کا اخراج اورقئی بھی ہوتی ہے ۔4 - عورت میں جنسی رغبت کی کمی واقع ہوجاتی ہے ، بلکہ اکثر عورتیں تو دوران حيض مکمل طور پر ہم بستری سے بے رغبت ہوتی ہیں ، اورسارے کے سارے تناسلی اجزاء تقریبا بیماری کی حالت کے مشابہ ہوتے ہیں ، توان حالات میں ہم بستری ( جماع ) کوئي طبعی چيز نہیں اورنہ ہی اس کا کوئي فائدہ ہی ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس بہت سی بیماریاں لگنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔5 - دوران حیض عورت کا درجہ حرارت سوفیصدی نیچے گرجاتا ہے ، اوردرجہ حرارت گرنے کی بنا پر نبض بھی آہستہ ہوجاتی ہے ، اورپھر خون کا دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سستی و کاہلی اورسردرد اورچکر سے آنے لگتے ہیں ۔ڈاکٹر بار کا یہ بھی کہنا ہے کہ :حائضہ عورت سے ہم بستری کرنے کی بنا پر صرف تکلیف اورگندگی اوربیماری اس عورت تک ہی محدود نہيں رہتی بلکہ اس سے جماع کی وجہ سے آدمی میں بھی منتقل ہوتی ہے ، جس کی بنا پر تناسلی اجزا میں سوزش اورجلن وغیرہ پیدا ہو کر بعض اوقات بانجھ پن پیدا کردیتا ہے ۔اوراسی طرح وہ تھکا دینے والی دردیں مریض جن کا اس سوزش اورجلن کی بنا پر سامنا کرتا ہے وہ اس سوزش اورجلن سےبھی بڑھ کر بانجھ پن تک لے جاتی ہیں ۔اوراس کے علاوہ بھی بہت ہی زیادہ نقصانات ہیں جن کا ابھی تک انکشاف نہیں ہوسکا ، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں صرف گندگی سے تعبیر کیا ہے جوکہ اس فرمان باری تعالی میں ہے :{ آپ کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے توحالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ، اورپاک صاف ہونے سے قبل ان کے قریب نہ جاؤ } ۔تواللہ تعالی نے یہاں پر اسے گندگي کا وصف دیا ہے کہ یہ بیوی کے لیے گندگی اوراذیت ہے ، اوراسی طرح خاوند کے لیے بھی وہ ایک گندگي اوراذيت کے علاوہ اوربھی بہت سے نقصانات ہیں جنہیں صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے ۔تواس طرح یہ پتہ چلا کہ عورت سے حالت حيض میں ہم بستری کرنا صرف اس کے خون کی وجہ سے نہیں بلکہ اوربھی بہت سے اسباب کی بنا پر ہے جو کہ اوپر کی سطور میں بیان ہو چکے ہیں ۔اوراسی طرح مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی اطاعت کرے کیونکہ وہ خالق ہے اوراسے یہ علم ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کون سی چيز اچھی ہے اوراس میں ان کی مصلحت ہے اوران کے لیے کیا نقصان دہ ہے ، اسی نے یہ فرمایا ہے :{ حالت حيض میں عورتوں سے الگ رہو } البقرۃ ( 222 ) ۔حتی کہ اگر کسی شخص کو اس کی حرمت کی کوئي حکمت نہ بھی معلوم ہو پھر بھی اس پرضروری اورواجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم کو تسلیم کرے اوراس کی اطاعت کرتا ہوا اپنی بیوی سے اس مدت میں ہم بستری کوچھوڑ دے ۔دیکھیں کتاب : الحیض والنفاس والحمل بین الفقہ والطب ۔ تالیف ڈاکٹر عمر الاشقر ۔اورکتاب توضیح الاحکام ۔ تالیف البسام ( 1 / 362 ) https://islamqa.info/ur/43028
لیکن اس کے باوجو مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی سے شرمگاہ کے علاوہ مباشرت اورکھیل سکتا ہے-
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

*رمضان كے آخرى عشرہ ميں مانع حيض گولياں استعمال كرنا*

*رمضان كے آخرى عشرہ ميں مانع حيض گولياں استعمال كرنا*
اگر كسى عورت كو رمضان المبارك كے آخرى عشرہ ميں حيض آنا ہو تو كيا وہ مانع حيض گولياں استعمال كر سكتى ہے تا كہ ان افضل ايام ميں عبادت كر سكے ؟
الحمد للہ:
يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ كے سامنے پيش كيا گيا تو ان كا جواب تھا:
ہمارى رائے ميں اللہ تعالى كى اطاعت ميں معاونت كے ليے وہ يہ گولياں استعمال نہ كرے؛ كيونكہ حيض ايك ايسى چيز ہے جو اللہ تعالى نے آدم كى بيٹيوں پر مقرر كر ديا ہے.حجۃ الوداع كے موقع عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے عمرہ كا احرام باندھا اور مكہ پہنچنے سے قبل ہى انہيں حيض آگيا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس آئے تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا رو رہى تھيں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:تم كيوں رو رہى ہو؟ تو انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو بتايا كہ انہيں حيض شروع ہو گيا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ ايك ايسى چيز ہے جو اللہ تعالى نے آدم عليہ السلام كى بيٹيوں پر لكھ دى ہے.چنانچہ حيض اس كے اختيار ميں نہيں، اگر ماہوارى رمضان كے آخرى عشرہ ميں آ جائے تو اسے اللہ تعالى كى تقدير پر مطمئن رہنا چاہيے، اور وہ يہ گولياں استعمال مت كرے، كيونكہ ميرے علم ميں آيا ہے كہ ميرے معتبر ڈاكٹر نے بتايا ہے كہ يہ گولياں عورت كے رحم اور خون كے ليے نقصان دہ ہيں، اور بعض اوقات بچے كى بدصورتى كا باعث بھى بنتى ہيں، اس ليے ميرى رائے يہى ہے كہ ان گوليوں سے اجتناب كيا جائے، اور اگر حيض آ جائے تو وہ نماز اور روزہ ترك كر دے، كيونكہ يہ اس كے اپنے ہاتھ ميں نہيں، بلكہ اللہ تعالى كى تقدير كے ساتھ ہے.واللہ اعلم . https://islamqa.info/ur/13738
الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

*فیس بک اور واٹس اپ کی پوسٹیں اور کہاں جمع ہوتی ہیں؟*

*فیس بک اور واٹس اپ کی پوسٹیں اور کہاں جمع ہوتی ہیں؟*

(ازقلم عمران شہزاد تارڑ)

جی ہاں عزیز دوستو-!
کیا آپ جانتے ہیں کہ فیس بک اور واٹس اپ پر آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں وہ ایک اور جگہ پوسٹ ہوکر سیو ہوجاتی ہیں اور وہ جگہ ایسی ہے جہاں سے انہیں ریموو کرنا بھی آسان نہیں۔وہ بھی ایک بک (کتاب) ہے جس کا نام “نامہء اعمال"ہے۔لہذا پوسٹ کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ یہ پوسٹ صرف فیس بک یا واٹس اپ پر نہیں بلکہ آپ کے نامہء اعمال میں  بهی پوسٹ ہو رہی ہے۔ یہ پوسٹ آپ کے لئے ثواب جاریہ بھی بن سکتی اور عذاب جاریہ بھی۔ثواب جاریہ اس صورت میں کہ آپ کوئی اسلامی یا اصلاحی بات کوئی نیکی کی بات دوسروں کو بتائیں کوئی مستند  اقوال و حدیث لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجیں تو جب تک اسے لوگ پڑھتے,شئیر کرتے اور اس پر عمل کرتے رہیں گے آپ کو ثواب ملتا رہے گا خواہ آپ دنیا میں ہوں یا نہ ہوں ۔اور عذاب جاریہ اس صورت میں کہ معاذﷲ.کوئی فحش تصاویر،وڈیوز، آڈیوز، یا کوئی غیر مصدقہ من گھڑت جھوٹی کہانی قصہ یا کسی بات کو حدیث بنا کر یا اسلام کی طرف منسوب کر کے بھیجا جائے تو یہ سب گناہ جاریہ کے کام ہیں جب تک لوگ اسے فاورڈ اور پڑهتے رہیں گے تو اس پوسٹ کرنے والے کے نامہ اعمال میں گناہ جمع ہوتے جائیں گے چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ- اور ساتھ میں  معاذﷲ اس گناہ میں آپ کا بھی حصہ شامل رہے گا جیسا کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دنیا میں ہر ناحق قتل کا گناہ اس کے قاتل کے علاوہ قابیل پر بھی ڈالا جاتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل ناحق کی بنیاد رکھی۔تو میرا گروپ *میری کہانی*کے پیارے اور محترم بھائیوں اور بہنوں۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ,کوئی نہیں جانتا کہ کب ہمیں موت کی آغوش میں جانا پڑے لہذا موت سے پہلے موت تیاری کریں ۔دیگر فرائض و واجبات,سنن و نوافل کی ادائیگی کے ساتھ اپنی فیس بک اور واٹس اپ کی پوسٹوں کو بھی اس لائق رکھیں کہ ہمارے بعد یہ ہمارے لئے کسی عذاب کا باعث نہ بنیں۔اگر کم علمی کی بنا پر کوئی غلط قسم کی پوسٹیں کر چکے ہیں تو ان کو فوراً ریموو کرکے سچے دل سے توبہ کریں۔ عاجزی، انکساری، توبہ واستغفار اور گریہ زاری یہ وہ صفات ہیں جو بندگی کے مقام کو بلندی اور رفعت عطا کرتی ہیں۔ بندہ ہے ہی وہ جو اپنے رب کی بارگاہ میں ہر لمحہ اپنی خطاؤں پر نادم رہے اور اس کے فضل و احسان سے امید رکھتے ہوئے اس کی بارگاہ میں عرض کرتا رہے۔اور ان پوسٹس کی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے لوگوں کو آگاہ کر دیں کہ ماضی کی میری غلط  پوسٹس یا تحریروں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے-یہی طریقہ تمام اہل علم کا رہا ہے-
اللہ سبحانہ وتعالی اس پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین، احباب سے گزارش ہے کہ تحریر کو شیئر کرنے میں اپنا حصہ ڈال کر اسے اپنے اور میرے لیے صدقہ جاریہ بنائیں- جزاک اللہ خیرا
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ،نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ…...
.اس مضمون کا اگلا حصہ *توبہ و استغفار کی خیر وبرکت* ضرور پڑھیں-

www.dawatetohid.blogspot.com

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...