Saturday, 8 October 2016

*آپ کے دوست آپ کے دانتوں کی مانند ہوتے ہیں*


*آپ کے دوست آپ کے دانتوں کی مانند ہوتے ہیں*

مضمون کا  عنوان دیکھ کر آپ کو  حیرت ہو رہی ہو گی  یہ کیسی مشابہت  پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اب آپ کے دوست آپ کے دانتوں کی مانند  ہو گئے ؟  اصل میں یہ تشبیہ ایک حکیم صاحب نے بنائی ہے جو اپنے پوتے کو نصیحت کرتے ہوئے فرما  رہے تھے: اے میرے بیٹے، مجھے زندگی نے یہ سکھلایا ہے کہ تیرے دوست تیرے دانتوں کی مانند ہوتے ہیں، ہمیشہ تیرے ساتھ رہنے والے، کہیں تیری مدد و معاونت پر کمر بند تو کہیں تجھے درد کی  شدت سے چیخیں نکلوانے پر آمادہ۔ بس تجھ پر لازم ہے کہ  اپنے دوستوں کی ویسی ہی  نگہداشت اور صفائی ستھرائی رکھا کر جس طرح تو اپنے دانتوں کو صاف ستھرا کر کے رکھتا ہے۔  ان کا اہتمام اور حفاظت کیا کر  تاکہ تجھے ان سے فائدہ ملتا رہے۔ جس دوست سے  تجھےدکھ و  تکلیف پہنچے   اس دوست  کی مثال کیڑا لگے دانت کی سی ہے پس تجھ پر واجب ہے کہ اس کی اصلاح کیلئے کچھ کر یا  اسے خاص توجہ دیکر مضبوط اور مفید بنا۔ اور تیرا وہ  دوست جو تجھ سے پیار سے پیش آئے یا تجھ سے محبت رکھے وہ تو تیرے چمکدار سفید دانتوں کی مانند ہے، پس اس کی مزید حفاظت کر اور اسے اچھا بنا کر رکھ۔جو دانت ٹوٹ گیا وہ  ایک بچھڑ جانے والے دوست کی مانند ہے  جس کے فراق کا غم کچھ عرصہ تو درد اور اذیت دیتا  ہے مگر پھر یہ درد جاتا رہتا ہے ۔ مگر جس طرح  ٹوٹ جانے والے دانت کا فراغ  اور خول تجھے ہمیشہ اس کے نا ہونے کا احساس  ، اور اس سے گزشتہ حاصل ہونے والے فوائد کا احساس یاد دلاتا رہتا ہے بالکل اُسی طرح بچھڑ جانے والے دوست کے فراق کا غم اور دل میں اس کی خالی  جگہ بھی  ہمیشہ ہمیں اُس کی  یاد دلاتی رہتی ہے۔ویسے تو یہ مذکورہ بالا حکمت مجھے واٹساپ کے ذریعے سے ایک دوست نے بھیجی ہے،  کہنے والا کون تھا مجھے پتہ نہیں ہے مگر نصیحت کی بات ہے تو  میں نے سوچا کیوں ناں آپ سے بھی شیئر کر لوں ۔  اس  بات میں حکمت اور  عبرت  کے ساتھ ساتھ  وفادار اور مخلص دوستوں سے اچھے  برتاؤ اور رکھ رکھاؤ کے بارے میں مہارت کا بھی  بتایا گیا ہے، تاہم ایسے دوست جو صرف مطلب براری کیلئے تعلق بنا کر رکھتے ہوں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیڑے لگے دانتوں کی مانند ہوتے ہیں؛ اگر ان کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ دانتوں میں تھوڑے خول یا سوراخ سے بڑے سے بڑے ہوتے جائیں گے، اس طرح ان سے ملنے والا ضرر یا نقصان اور اس ضرر کے نتیجے میں ہونے والا درد بھی زیادہ سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ ایسی صورت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ یا تو اس کا علاج کرائیں، اس کا نقص دور کرنے کی کوشش کریں یا پھر اسے  جتنا جلدی ہو سکے باہر نکال پھینکیں۔  اچھے دوست تو موتیوں کی طرح چمکتے اور صحتمند دانتوں کی مانند ہوتے ہیں۔ دوستی کی ساری تشبیہات میں سب سے بڑھ کر اچھی تشبیہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان جس کا مفہوم کچھ یوں ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوست دو قسم کے ہوتے ہیں: پہلی قسم اچھے دوستوں کی ہے  جو عطر اُٹھائے پھرتے ہوں، یا تو وہ تمہیں اپنے  عطر میں سے کچھ عطا کریں گے، یا  تمہیں کوئی عطر  فروخت کریں گے، اگر کچھ تم نے ان عطور میں سے کچھ بھی نا لیا یا کچھ بھی نا خریدا تب بھی اُن عطور میں سے نکلی خوشبو ہی تمہیں معطر کر دے گی۔ اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ تم اپنے اس دوست سے سچی محبت پاؤ گے، اُس کی مخلص مسکراہٹ سے اپنے دل کو خوش کرو گے یا پھر اُس کی اچھی باتوں سے کچھ فیض پاؤ گے۔دوستوں کی دوسری قسم ان برے دوستوں (دانتوں کو کیڑا لگے جیسے دوست) کی ہے جن کو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کی بھٹی دھونکنے والے لوہار سے دی ہے۔ جس کے پاس جا کر بیٹھو تو یا تمہارے کپڑے جلیں گےیا تم کوئلوں کی گندی بد بو سونگھو گے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بنتا ہے کہ برے دوست لوہے جیسے سخت دل والے، مطلب برار، بری باتیں کہنے اور کرنے والے ہوتے ہیں ۔پس اپنے لیئے اچھے دوستوں کا انتخاب کیجیئے جو با وفا ہوں، مخلص ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج کے زمانے میں ایسے دوستوں کی قلت ہے  مگر ایسے جب مل جائیں تو ہمیں چاہیئے کہ ان سے بنا کر رکھیں۔  برے دوستوں سے اگر تعلقات رکھنا اتنا ہی ناگزیر ہوں تو ہمیں چاہیئے کہ ایک فاصلہ رکھ کر تعلقات بنائیں۔ ان بُرے دوستوں میں سب سے بد تر وہ دوست ہیں جن کی باتوں سے دل دُکھے اور جن کی حرکتوں سے کوفت اور اذیت ہو۔

www.dawatetohid.blogspot.com

*اسلام اور تصوف*تقابلی مطالعہ (قسط نمبر 1A)

*اسلام اور تصوف*
(قسط نمبر 1A)

سوال: تقابلی مطالعہ پروگرام کا مقصد کیا ہے؟

جواب: اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ جو طالب علم مسلم دنیا کے مختلف مکاتب فکر کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا چاہیں، انہیں ایک منظم (Systematic) انداز میں مطالعہ کے وسائل اور طریق کار فراہم کر دیا جائے اور ان کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوں، ان کا بروقت جواب دے دیا جائے۔ ہر ہر مکتب فکر کے نقطہ نظر اور ان کے دلائل کو نہایت ہی غیر جانبداری کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا جائےاور بغیر کسی تعصب کے ہر مسلک کے نظریات اور دلائل کا مطالعہ کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔
اس پروگرام میں ہم نے  یہ کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو، جیسا کہ وہیں ہیں، بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دیے جائیں۔ ہم نے کسی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے کہ کون سا نقطہ نظر درست اور کون سا غلط ہے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔

سوال: یہ پروگرام کن لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو:
·      وسیع النظر ہوں-
·      مثبت انداز میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہتے ہوں-
·      منفی اور تردیدی ذہنیت کی رو سے مطالعہ نہ کرتے ہوں-
·      دلیل کی بنیاد پر نظریات بناتے ہوں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر-
·      اپنے سے مختلف نظریہ کو کھلے ذہن سے پڑھ سکتے ہوں اور اس میں کوئی تنگی اپنے سینے میں محسوس نہ کرتے ہوں-
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ  آپ میں یہ خصوصیات موجود ہیں، تو آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو، آپ اس پروگرام میں شامل سلسلہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ خصوصیات آپ میں موجود نہیں ہیں، تو پھر یہ سلسلہ ہائے *اسلام اور تصوف* آپ کے لیے نہیں ہے۔
آپ ہمارا گروپ چهوڑ سکتے ہیں-

سوال: اس پروگرام کو کون لوگ چلا رہے ہیں اور ان کا مسلک کیا ہے؟
جواب: اس پروگرام  کی ذمہ داری راقم الحروف کی ہے۔میں کسی مخصوص مسلک سے وابستہ نہیں ہوں اور خود کو صرف اسلام سے وابستہ سمجھتا ہوں۔ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں  اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہتا ہوں تاکہ اپنی اصلاح کر سکوں۔

 سوال: کیا یہ پروگرام کسی خاص مذہب یا مسلک کے لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: جی نہیں۔ اس پروگرام سبھی مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے قارئین کے لیے ہے۔ کسی معاملے میں ہم آپ سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، ہماری کوشش یہ ہو گی کہ تمام کتب اور ای میل رابطے میں آپ کے نقطہ نظر کا پورا احترام کیا جائے  اور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

 سوال: اس پروگرام میں آپ نے کس مسلک کی حمایت کی ہے؟
جواب: اس پروگرام میں ہم نے نہ تو کسی مسلک کی حمایت کی ہے اور نہ مخالفت۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم مکمل غیر جانبداری کے ساتھ تمام مسالک کے نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کا مطالعہ کریں۔ ہم نے دانستہ طور پر یہ کوشش کی ہے کہ طلباء کو کسی مسلک کی طرف مائل نہ کیا جائے بلکہ صحیح و غلط کا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔  تمام مسالک کے دلائل کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ خود رائے قائم کریں کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے؟

*تقابلی مطالعہ کا طریق کار*

ہمارے ہاں عام طور پر تقابلی مطالعہ کے طریق کار کی تربیت نہیں دی جاتی ہے۔ اگر یہ تربیت فراہم کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقابلی مطالعہ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن سے آپ کو تقابلی مطالعہ میں مد دمل سکے گی۔

·جب آپ کسی فرقہ کے نقطہ نظر کا مطالعہ کر رہے ہوں تو کچھ دیر کے لیے خود کو اسی میں شامل سمجھ لیجیے۔ خود کو اس فرقہ کے لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس مسلک کو مان لیں مگر اس طریقے سے آپ کو ان کے استدلال (دلائل پیش کرنا) سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے گی۔

·اس کے بعد جب آپ مختلف رائے رکھنے والے دوسرے فرقے کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی یہی طریقہ اختیار کیجیے کہ آپ ان میں شامل ہیں۔

·فریقین کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اب خود کو غیر جانبدار کر لیجیے۔ غور کیجیے کہ پہلے فریق نے کیا دلائل پیش کیے اور دوسرے فریق نے ان کا جواب کیا دیا۔ پھر اس پر غور کیجیے کہ دوسرے فریق کے دلائل کیا تھے اور پہلا فریق ان کا کیا جواب پیش کرتا ہے۔

·فریقین کے دلائل میں مضبوط اور کمزور نکات نوٹ کر لیجیے۔

·آخر میں جس فریق کے دلائل مضبوط نظر آئیں، اس کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیجیے۔

·کوئی نقطہ نظر اختیار کر لینے کے بعد بھی اپنا ذہن کھلا رکھیے اور اس بات کے لیے تیار رہیے کہ اگر مستقبل میں آپ کے سامنے درست بات واضح ہو گئی تو آپ اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ اپنی وابستگی حق کے ساتھ رکھیے نہ کہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ۔

·اگر دونوں فریقوں کے دلائل آپ کو مضبوط نہ لگیں تو اس ضمن میں توقف کیجیے اور کسی تیسرے نقطہ نظر کی تلاش کیجیے۔
پروگرام تشکیل و مرتب:ڈاکٹر مبشر نذیر صاحب
سوشل میڈیا معاون:عمران شہزاد تارڑ
www.mubashirnazir.org
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:اسرا اسلامک اسٹڈیز اینڈ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
 واٹس اپ *اسلام اور تصوف*
(قسط نمبر 1)

سوال: تقابلی مطالعہ پروگرام کا مقصد کیا ہے؟

جواب: اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ جو طالب علم مسلم دنیا کے مختلف مکاتب فکر کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا چاہیں، انہیں ایک منظم (Systematic) انداز میں مطالعہ کے وسائل اور طریق کار فراہم کر دیا جائے اور ان کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوں، ان کا بروقت جواب دے دیا جائے۔ ہر ہر مکتب فکر کے نقطہ نظر اور ان کے دلائل کو نہایت ہی غیر جانبداری کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا جائےاور بغیر کسی تعصب کے ہر مسلک کے نظریات اور دلائل کا مطالعہ کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔
اس پروگرام میں ہم نے  یہ کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو، جیسا کہ وہیں ہیں، بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دیے جائیں۔ ہم نے کسی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے کہ کون سا نقطہ نظر درست اور کون سا غلط ہے۔ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔

سوال: یہ پروگرام کن لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو:
·      وسیع النظر ہوں-
·      مثبت انداز میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہتے ہوں-
·      منفی اور تردیدی ذہنیت کی رو سے مطالعہ نہ کرتے ہوں-
·      دلیل کی بنیاد پر نظریات بناتے ہوں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر-
·      اپنے سے مختلف نظریہ کو کھلے ذہن سے پڑھ سکتے ہوں اور اس میں کوئی تنگی اپنے سینے میں محسوس نہ کرتے ہوں-
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ  آپ میں یہ خصوصیات موجود ہیں، تو آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو، آپ اس پروگرام میں شامل سلسلہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ خصوصیات آپ میں موجود نہیں ہیں، تو پھر یہ سلسلہ ہائے *اسلام اور تصوف* آپ کے لیے نہیں ہے۔
آپ ہمارا گروپ چهوڑ سکتے ہیں-

سوال: اس پروگرام کو کون لوگ چلا رہے ہیں اور ان کا مسلک کیا ہے؟
جواب: اس پروگرام  کی ذمہ داری راقم الحروف کی ہے۔میں کسی مخصوص مسلک سے وابستہ نہیں ہوں اور خود کو صرف اسلام سے وابستہ سمجھتا ہوں۔ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں  اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہتا ہوں تاکہ اپنی اصلاح کر سکوں۔

 سوال: کیا یہ پروگرام کسی خاص مذہب یا مسلک کے لوگوں کے لیے ہے؟
جواب: جی نہیں۔ اس پروگرام سبھی مسالک سے تعلق رکھنے والے کھلے ذہن کے قارئین کے لیے ہے۔ کسی معاملے میں ہم آپ سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، ہماری کوشش یہ ہو گی کہ تمام کتب اور ای میل رابطے میں آپ کے نقطہ نظر کا پورا احترام کیا جائے  اور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

 سوال: اس پروگرام میں آپ نے کس مسلک کی حمایت کی ہے؟
جواب: اس پروگرام میں ہم نے نہ تو کسی مسلک کی حمایت کی ہے اور نہ مخالفت۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم مکمل غیر جانبداری کے ساتھ تمام مسالک کے نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کا مطالعہ کریں۔ ہم نے دانستہ طور پر یہ کوشش کی ہے کہ طلباء کو کسی مسلک کی طرف مائل نہ کیا جائے بلکہ صحیح و غلط کا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔  تمام مسالک کے دلائل کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ خود رائے قائم کریں کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے؟

*تقابلی مطالعہ کا طریق کار*

ہمارے ہاں عام طور پر تقابلی مطالعہ کے طریق کار کی تربیت نہیں دی جاتی ہے۔ اگر یہ تربیت فراہم کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقابلی مطالعہ سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں جن سے آپ کو تقابلی مطالعہ میں مد دمل سکے گی۔

·جب آپ کسی فرقہ کے نقطہ نظر کا مطالعہ کر رہے ہوں تو کچھ دیر کے لیے خود کو اسی میں شامل سمجھ لیجیے۔ خود کو اس فرقہ کے لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ کے لئے اس مسلک کو مان لیں مگر اس طریقے سے آپ کو ان کے استدلال (دلائل پیش کرنا) سے صحیح آگاہی حاصل ہو سکے گی۔

·اس کے بعد جب آپ مختلف رائے رکھنے والے دوسرے فرقے کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی یہی طریقہ اختیار کیجیے کہ آپ ان میں شامل ہیں۔

·فریقین کا اس طریقے سے مطالعہ کرنے کے بعد اب خود کو غیر جانبدار کر لیجیے۔ غور کیجیے کہ پہلے فریق نے کیا دلائل پیش کیے اور دوسرے فریق نے ان کا جواب کیا دیا۔ پھر اس پر غور کیجیے کہ دوسرے فریق کے دلائل کیا تھے اور پہلا فریق ان کا کیا جواب پیش کرتا ہے۔

·فریقین کے دلائل میں مضبوط اور کمزور نکات نوٹ کر لیجیے۔

·آخر میں جس فریق کے دلائل مضبوط نظر آئیں، اس کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیجیے۔

·کوئی نقطہ نظر اختیار کر لینے کے بعد بھی اپنا ذہن کھلا رکھیے اور اس بات کے لیے تیار رہیے کہ اگر مستقبل میں آپ کے سامنے درست بات واضح ہو گئی تو آپ اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ اپنی وابستگی حق کے ساتھ رکھیے نہ کہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ۔

·اگر دونوں فریقوں کے دلائل آپ کو مضبوط نہ لگیں تو اس ضمن میں توقف کیجیے اور کسی تیسرے نقطہ نظر کی تلاش کیجیے۔
پروگرام تشکیل و مرتب:ڈاکٹر مبشر نذیر صاحب
سوشل میڈیا معاون:عمران شہزاد تارڑ
www.mubashirnazir.org
www.dawatetohid.blogspot.com
بشکریہ:اسرا اسلامک اسٹڈیز اینڈ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان
 واٹس اپ منتظمین:
0096176390670
00923004510041

Friday, 7 October 2016

جادو جنات اور علاج قسط نمبر19A

(جادو جنات اور علاج قسط نمبر19 )
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
                 2 سحر محبت
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: (إِن الرُّقی والتمائم ویلتِوَلۃ شرک)
“بے شک دم، تعویذات اور خاوند کے دل میں بیوی کی محبت ڈالنے والی چیز شرک ہے۔” (الصحیحۃ للألبانی:۳۳۱ )

التولۃ کا جو معنی یہاں کیا گیا ہے، حافظ ابن کثیر نے اس کو النھایۃ میں ذکر کیا ہے، اور رسول اکرمﷺ نے اسے اس لئے شرک قرار دیا ہے کہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ از خود مؤثر ہوتا ہے اور اللہ کی مرضی کے بر خلاف کام کرتا ہے۔
یہاں ایک تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ حدیثِ مذکور میں جس دَم کو شرک کہا گیا ہے اس سے مقصود وہ دم ہے جس میں جنات و شیاطین سے مدد طلب کی جائے۔ رہا قرآنی دم اور وہ جو مسنون ادعیہ اور اذکار پر مشتمل ہو تو وہ بالاجماع جائز ہے۔
رسول اکرمﷺ کا فرمان ہے: (لا بأس بالرُّقی مالَم تکُنْ شرکا)
“ہر دم جائز ہے جب تک اس میں شرک نہ ہو۔” (مسلم:کتاب السلام:ج14،ص187)
سحر محبت کیسے ہوتا ہے؟
میاں بیوی کے درمیان اکثر و بیشتر اختلافات پیدہ ہو جاتے ہیں، لیکن بہت جلدی ختم بھی ہو جاتے ہیں اور زندگی فطری انداز کے مطابق رواں دواں رہتی ہے۔۔۔۔۔ مگر کچھ عورتیں بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور بہت جلد جادوگروں(عاملوں) کا رخ کر لیتی ہیں اور ان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ ان کے خاوندوں پر جادو کر دیں تاکہ وہ ان سے محبت کریں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دین سے ناواقفیت اور ان کی کم عقلی کی دلیل ہے۔
چنانچہ جادوگر عورتوں کے اس مطالبے پر خاوند کا وہ کپڑا منگواتا ہے جس سے اس کے پسینے کی بو آ رہی ہو، پھر وہ اس کے کچھ دھاگے نکال کر اس پر دم کرتا ہے اور بعد ازاں اسے گرہ لگا دیتا ہے، اس کے بعد عورت کر حکم دیتا ہے کہ وہ اسے غیر آباد جگہ پر پھینک دے۔ یا وہ کھانے پینے کی ایسی چیز پر دم کرتا ہے جس میں نجاست یا خونِ حیض کی ملاوٹ ہوتی ہے، پھر اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اسے اپنے خاوند کے کھانے پینے کی چیزوں میں ملا دے۔
سحر محبت کے اُلٹے اثرات
1۔سحر محبت کا ایک الٹا اثر یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات خاوند اِس جادو کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا ہے۔ اور میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو تین سال تک اسے وجہ سے بیمار پڑا رہا۔
2۔اس کا ایک منفی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند خود اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔
3۔ایک اور الٹا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بیوی دوہرا جادو کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا خاوند خود اپنی ماں، بہن اور دوسری رشتہ دار عورتوں سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔
4۔دوہرے جادو کا ایک منفی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند دنیابھر کی تمام عورتوں سے حتیٰ کہ اپنی بیوی سے بھی شدید نفرت شروع کر دیتا ہے۔ اور میں ایک ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں جس نے اس جادو کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر وہی بیوی بھاگم بھاگ جادوگر کے پاس پہنچی تاکہ اس سے سحر محبت توڑنے کا مطالبہ کرے لیکن اسے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ وہ جادوگر مر چکا ہے۔ (جو اپنے بھائی کےلئے گڑھا کھودتا ہے خود اس میں گر جاتا ہے)
سحر محبت کے اسباب
1۔خاوند بیوی میں اختلافات کا پھوٹ پڑنا۔
2۔خاوند اگر مالدار ہو تو اس کے مال میں لالچ کرنا۔
3۔بیوی کا یہ احساس کہ اس کا خاوند عنقریب دوسری شادی کر لے گا، گو شرعاً دوسری شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اس دور کی، خاص کر وہ عورتیں جو ذرائع اَبلاغ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوتی ہیں،  یہ گمان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند اگر دوسری شادی کر لیں گے  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ان سے محبت نہیں ہے۔
عورت کی یہ سوچ انتہائی سنگین غلطی ہے کیونکہ خاوند باوجود یہ کہ اپنی پہلی بیوی سے محبت کرتا ہے،  اسے دیگر کئی اسباب دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مثلاً کثرتِ اولاد کی رغبت، یا حالتِ حیض و نفاس میں قوتِ جماع پر کنٹرول نہ کر پانا، یا خاندانی تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش رکھنا وغیرہ۔
جائز سحر محبت
عورت جائز طریقے سے اپنے خاوند پر جادو کر سکتی ہے اور وہ یہ ہے:
خاوند کی خاطر ہر وقت خوبصورت بن کے رہنا، اچھی خوشبو لگانا، خاوند سامنے آئے تو مسکراہٹ اور اچھے الفاظ سے اس کا استقبال کرنا، اچھے ساتھ کا ثبوت دینا، خاوند کے مال کی حفاظت کرنا، اس کے بچوں کی خوب دیکھ بھال کرنا، خاوند جب تک اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی فرمانبرداری کرتے رہنا۔
لیکن اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں عجیب تضاد سا محسوس ہوتا ہے،  عورت کو جب کسی محفل میں شرکت کرنا ہوتی ہے،  یا اپنی کسی سہیلی سے ملنے جانا ہوتا ہے تو  خوب میک اپ کر کے، خوشبو لگا کر اور اپنے سارے زیورات پہنے ہوئے گھر سے گویا دلہن بن کر نکلتی ہے۔ اور جیسے ہی گھر میں واپس لوٹتی ہے تو  اپنا میک اپ صاف کر دیتی ہے، زیورات اُتار دیتی ہے اور پرانے کپڑے پہن لیتی ہے، اور خاوند جس نے اس کےلئے یہ سب کچھ خریدا ہوتا ہے وہ اس سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہتا ہے اور ہمیشہ اپنی بیوی کو پرانے کپڑوں میں دیکھتا ہے جبکہ اس سے پیاز اور لہسن کی بدبو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔
اگر عورت میں کچھ عقل ہوتی تو ایسا نہ کرتی بلکہ اپنے خاوندکو زیب و زینت کا زیادہ حقدار تصور کرتی، لہٰذا اے میری مسلمان بہنو! تمہارا خاوند جب کام کےلئے گھر سے باہر چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں گھر کے سارے کام کاج ختم کر لیا کرو، پھر غسل کر کے خاوندکی رضا کی خاطر جس سے یقیناً اللہ بھی راضی ہو گا خوب زیب و زینت اختیار کیا کرو، چنانچہ وہ جب گھر واپس آئے تو اسے اپنے سامنے خوبصورت بیوی، تیارشدہ کھانا  اور صاف ستھرا گھر نظر آئے تاکہ تمہارے ساتھ اس کی محبت میں مزید اضافہ ہو، اور تمہارے علاوہ کسی اور پر اس کی نظر نہ پڑے۔ اللہ کی قسم یہی وہ جائز جادو ہے جو ہر بیوی اپنے خاوند پر کر سکتی ہے۔ (انتباہ'یہاں جادو کا لفظ بطور کہاوت استعمال کیا گیا ہے)
سحر محبت کا علاج
1۔مریض پر قرآنی دم کریں جس  کا ذکر ہم نے “سحر تفریق” میں کر دیا ہے، البتہ اس میں سورۃ البقرۃ کی آیت 102 کی بجائے سورۃ التغابن کی آیات 14 تا 16 کی تلاوت کریں۔
2۔جس پر سحر کیا گیا ہو، دم کے دوران  اس پر عموماً مرگی کا دورہ نہیں پڑتا، البتہ اس کے ہاتھ پاؤں سن ہو جاتے ہیں یا سر درد یا سینے کا درد یا معدے کا درد شروع ہو جاتا ہے، خاص کر اس وقت جب اس کو جادو پلایا گیا ہو تو اسے شدید معدے کا درد اٹھ سکتا ہے اور قے بھی آ سکتی ہے۔ لہٰذا اگر اسے معدے کا درد شروع ہو جائے اور وہ قے کرنا چاہے تو درج ذیل آیات پڑھ کر پانی پر دم کریں:
1۔ سورۂ یونس کی آیات 81 تا 82۔
2۔ سورۃ الاعراف کی آیات 117 تا 122۔
3۔ سورۂ طہ کی آیت 69۔
4۔ آیت الکرسی۔
پھر وہ پانی مریض کو پینے کےلئے دے دیں، اس کے بعد  اسے زرد یا سرخ یا سیاہ رنگ کی الٹی آ جائے تو سمجھ لیں کہ اس کا جادو ٹوٹ گیا ہے، ورنہ تین ہفتے تک اسے یہ پانی پینے کی تلقین کریں یا اس وقت تک جب تک اس کا جادو ٹوٹ نہ جائے۔
خاوند کا علاج کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کی بیوی کو اس کا علم نہ ہو کیونکہ اگر اسے علم ہو جائے تو وہ دوبارہ اس پر جادو کر سکتی ہے۔
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

Thursday, 6 October 2016

*بڑها ہوا پیٹ اور موٹاپا کم کرنے کے گهریلو نسخے*

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں وہی (اللہ )مجھے شفاء دیتا ہے(القرآن)
*بڑها ہوا پیٹ اور موٹاپا کم کرنے کے گهریلو نسخے*
How to lose belly fat naturally ?     
                (جمع و ترتیب:عمران شہزاد تارڑ،
                  ڈائریکٹر فاطمہ اسلامک سنٹر)  
                   whatsApp:00923462115913      
               whatsApp:00923004510041                                  
نوٹ:یہ تمام نسخے یا ٹوٹکے محض عام معلومات عامہ کے لیے ہیں۔اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
منجانب:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان ،چھوہرانوالہ منڈی بہاؤالدین پاکستان
             بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا (متفق علیہ)

Monday, 3 October 2016

جادو جنات اور علاج قسط نمبر18A

(جادو جنات اور علاج قسط نمبر18)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
دوسرا نمونہ: میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بتایا:

جب سے میری شادی ہوئی ہے، میری بیوی سے میرےشدید اختلافات ہیں، وہ مجھے انتہائی ناپسند کرتی ہے، میرا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتی اور مجھ سے الگ ہونا چاہتی ہے، میں جب تک گھر میں نہیں رہتا وہ راحت محسوس کرتی ہے، لیکن جونہی گھر میں داخل ہوتا ہوں  تو اس کا جسم گویا غضب کی آگ میں بھڑک اٹھتا ہے۔
میں نے اس کی بیوی پر دم کیا، دم کے دوران اس کے ہاتھ پاؤں سن ہوگئے، اسے گھٹن اور سر درد محسوس ہونے لگا، البتہ اس پر مرگی کا دورہ نہ پڑا، میں نے اسے چند سورتیں کیسٹوں میں ریکارڈ کر کے دے دیں اور اسے 45 دن تک انہیں روزانہ سننے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ دوبارہ میرے پاس آئیں۔
اس مدت کے گزرنے کے بعد اس کا خاوند دوبارہ آیا، اور آتے ہی کہنے لگا: ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا ہے۔
میں نے کہا: خیر تو ہے۔۔۔۔ کیا ہوا؟
اس نےبتایا: جب 45 دن کی مدت گزر گئی اور ہم دونوں نے آپ کے پاس آنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو میری بیوی پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور اس کی زبان سے جن بولنے لگا، اور اس نے بتایا کہ میں تمہیں ہر بات بتانےکیلئے تیار ہوں بشرطیکہ مجھے شیخ (صاحبِ کتاب) کے پاس نہ لے جاؤ، میں جادو کے ذریعے اس عورت میں داخل ہوا تھا اور اگر آپ کو میری بات پر یقین نہ آ رہا ہو تو یہ تکیہ لے کر آؤ، چنانچہ وہ تکیہ کھولا گیا تو اس میں چند کاغذ موجود تھے جن پر جادو کے اَلفاظ و حروف لکھے گئے تھے، پھر اس نے کہا: ان کاغذات کو جلا دو، اب اس پر کیا گیا جادو  بے اثر ہو گیا ہے اور میں بھی اس عورت سے نکل کر جا رہا ہوں، اور دوبارہ کبھی بھی اس کے پاس نہیں آؤں گا بشرطیہ کہ میں اس سے ہاتھ ملاؤں، خاوند نے اس کی اجازت دے دی، جن عورت سے نکل گیا، اور عورت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور جن سے مصافحہ کیا۔
میں نے اس کے خاوند کو بتایا کہ  تم نے جن کو مصافحہ کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی ہے، کیونکہ ایسا کرنا حرام ہے، اور رسول اکرمﷺ نے غیر محرم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے منع فرمایا ہے۔
ابھی ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ وہ عورت پھر بیمار پڑ گئی، اس کا خاوند اسے لے کر میرے پاس آ گیا، اور ابھی میں نے اَعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ہی پڑھا تھا کہ اسے مرگی کا دورہ پڑ گیا،  اور جن کے ساتھ میری گفتگو کچھ یوں ہوئی:
٭اے جھوٹے! تم کیوں دوبارہ آگئے ہو؟
جن:میں آپ کو ہر بات بتاؤں گا بشرطیکہ آپ مجھے مارنا نہیں۔
٭بتاؤ۔
جن:ہاں، واقعی میں نے ان سے جھوٹ بولا تھا،  اور میں نے ہی تکیے میں وہ کاغذ رکھے تھے تاکہ وہ میری بات مان لیں۔
٭تو تم نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے؟
جن:میں کیا کروں، مجھے تو اس کے جسم کے ساتھ قید کر دیا گیا ہے۔
٭کیا تم مسلمان ہو؟
جن:جی ہاں۔
٭کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جادوگر کے ساتھ کام کرے، یہ حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیا تمہیں جنت نہیں چاہئے؟
جن:جی ہاں، مجھے جنت چاہئے۔
٭تب جادوگر کو چھوڑ دو، اور مؤمن جنوں کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ جادوگر کا راستہ دنیا میں تجھے بد بخت بنا دے گا اور آخرت میں جہنم میں لے جائے گا۔
جن:لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ تو مجھے قابو کئے ہوئے ہے؟
٭اس نے تمہیں اس لئے قابو کر رکھا ہے کہ تم گناہ کرتے ہو، اور اگر تم سچی توبہ کر لو تو وہ کبھی تم پر قابو نہیں پا سکتا، فرمانِ الٰہی ہے:
﴿ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلا ﴾
“اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر غلبہ ہر گز نہ دے گا۔”
جن:میں توبہ کرتا ہوں اور اس عورت کو چھوڑ دینے کا پختہ عہد کرتا ہوں، اور دوبارہ اس کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔
اس طرح اس عورت کو اللہ تعالیٰ نے شفا دی، اس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں، کچھ عرصہ بعد اس کا خا وند میرے پاس آیا اور اس نے خوشخبری دی کہ اب اس کی بیوی خیریت سے ہے۔
تیسرا نمونہ: ایک عورت کا خاوند میرے پاس آیا اور کہنے لگا: وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے اور میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، اور یہ ناپسندیدگی بغیر اسباب کے اچانک سامنے آ گئی ہے، جبکہ میں اس  سے محبت کرتا ہوں، میں نے اس کے خاوند کے سامنے اس پر قرآن پڑھا تو اس پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور اس  میں جو جن تھا اس کے ساتھ میری یہ گفتگو ہوئی:
٭کیا تم مسلمان ہو؟
جن:جی ہاں! میں مسلمان ہوں۔
٭اس عورت میں تم کیوں داخل ہوئے؟
جن:میں جادو کے ذریعے اس میں داخل ہوا تھا جو فلاں عورت نے اس پر کیا تھا، اور اسے اس نے خوشبو کی شیشی میں بند کر دیا تھا، اس میں داخل ہونے کے لئے مجھے ایک عرصے تک اس کا پیچھا کرنا پڑا، ایک دن ایک چور اس کے گھر کی چھت پر چڑھ گیا تو یہ گھبرا گئی تھی، اور یہی وہ وقت تھا جب میں اس میں داخل ہو گیا۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جادوگرجب کسی پر جادو کرنا چاہتا ہے تو ایک جن اس کی طرف روانہ کرتا ہے، یہ جن فوراً اس میں داخل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کےلئے وہ مناسب موقع تلاش کرتا ہے جو درج ذیل ہیں:
1۔شدید خوف
2۔شدید غصہ
3۔شدید غفلت
4۔شہوت میں مشغول ہونا
چنانچہ جس شخص پر جادو کرنا مقصود ہوتا ہے، وہ جب ان چار حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے تو شیطان (جن) کو اس میں داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے، الا یہ  کہ وہ وضو کی حالت میں ہو اور اللہ کا ذکر اس کی زبان سے جاری ہو تو وہ اس میں داخل نہیں ہو سکتا، اور مجھے خود کئی جنوں نے بتایا ہے کہ جس لمحے میں جن انسان میں داخل ہوتا ہے، اگر وہ اسی لمحے میں اللہ کا ذکر کرے تو جن جل کر راکھ ہو جاتا ہے، اسی لئے انسان میں داخل ہونے کا لمحہ اس کےلئے زندگی کا مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے۔
جن نے کہا:اور یہ عورت تو بھولی بھالی اور بہت اچھی ہے۔۔
میں نے کہا:تب تمہیں اس سے نکل جانا چاہئے اور پھر دوبارہ اس کی طرف نہیں آنا چاہئے۔
جن:اس کی شرط یہ ہے کہ اس کا خاوند اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے دے۔
میں نے کہا:تمہاری شرط قبول نہیں، اور اگر تم نے نکلنا ہے تو ٹھیک ورنہ ہم تمہیں ماریں گے۔
جن:میں نکل جاؤں گا۔
پھر وہ جن نکل گیا جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ اس کے بعد میں نے اس کے خاوند سے کہا کہ یہ جو جن نے بتایا ہے کہ فلاں عورت نے اس کی بیوی پر جادو کیا ہے، تو یہ غلط ہے کیونکہ جنوں کا مقصدمحض یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان نفرت پیدہ کردیں، لہٰذااس کی بات کی تصدیق نہ کریں۔
چوتھا نمونہ: ایک شخص اپنی بیوی کو لے کر میرے پاس آیا اور اس نے بتایا کی اس کی بیوی اسے انتہائی ناپسند کرتی ہے، اور جب وہ گھر میں موجود نہیں ہوتا تو اسے راحت محسوس ہوتی ہے۔ جب میں نے اس کی بیوی سے بیماری کی علامات پوچھیں تو مجھے معلوم ہوا کہ اس پر سحر تفریق کیا گیا ہے،  اور جب اس نے قرآنی آیات سنیں تو اس کی زبان سے جن گویا ہوا،اور میرے اور اس کے درمیان درج ذیل مکالمہ ہوا:
٭تمہارا نام کیا ہے؟
جن:میں اپنا نام ہر گز نہین بتاؤں گا۔
٭آپ کا دین کیا ہے؟
جن:اسلام۔
٭تو کیا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مسلمان عورت کو پریشان کرے؟
جن:میں تو اس سے محبت کرتا ہوں، اسے پریشان نہیں کرتا، اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کا خاوند اس سے دور ہو جائے۔
٭تم ان دونوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہو؟
جن:جی ہاں۔
٭یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے، اس لئے اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اس سے نکل جاؤ۔
جن:نہیں نہیں میں اس سے محبت کرتا ہوں!
٭وہ تم سے نفرت کرتی ہے۔
جن:نہیں، وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔
٭تم جھوٹے ہو، وہ تمہیں ناپسند کرتی ہے اور اسی لئے یہاں آئی ہے ہے کہ تمہیں اپنے جسم سے نکال سکے۔
جن:میں ہر گز نہیں نکلوں گا۔
٭تب میں تمہیں قرآن کے ذریعے جلا کر راکھ کر دوں گا۔
پھر میں نے اس پر قرآنِ مجید کو پڑھا تو وہ چیخنے لگا، میں نے پوچھا: کیا تم نکلنے کےلئے تیار ہو؟
جن:ہاں، میں نکل جاؤں گا، لیکن ایک شرط ہے۔
٭وہ کیا؟
جن:میں اس سے نکل کر آپ میں داخل ہو جاؤں گا۔
٭یہ شرط قبول ہے، اس سے نکلو اور اگر تمہارے اندر طاقت ہے تو مجھ میں داخل ہو کے دکھاؤ۔
پھر کچھ دیر بعد جن رونے لگا، میں نے اس سے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟
جن:کوئی جن آج آپ کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔
٭وہ کیوں؟
جن:اس لئے کہ آپ نے آج صبح سو بار لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَریْکَ لَہٗ ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ پڑھا تھا۔
٭رسول اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ:
“جو شخص سو مرتبہ یہ کلمہ پڑھتا ہے اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اس کےلئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، سو گناہ اس  سے مٹا دیئے جاتے ہیں اور شام سونے تک یہ کلمات اسے شیطان سے بچائے رکھتے ہیں۔” (البخاری:ج6،ص338،مسلم:ج17،ص17)
اس کے بعد جن اس عورت سے نکل گیا اور اس بات کا پختہ وعدہ کر کے گیا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

*تفسیر احسن البیان*سبق نمبر:26*

*بســـــــــــــــمِ ﷲِالرحمٰنِ الرَّحِيم* 
            
         *تفسیر احسن البیان*
*سبق نمبر:26*
(تفسیر: مولانا حافظ صلاح الدین یوسف،
ترجمہ:مولانا محمد جونا گڑھی)
*پارہ نمبر 2،سورةالبقرۃ آیات215تا230*
          *2:سورةالبقرۃ:آیات286*
📖يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴿٢١٥﴾

Saturday, 1 October 2016

*محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور صومِ عاشوراء*


*محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور صومِ عاشوراء*
               تخریجی انداز میں بحث
*انتخاب عمران شہزاد تارڑ،ماخوذ از محدث میگزین*
محرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی اکرمﷺکے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتدا محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کے جو فضائل 

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...