Monday, 5 December 2016

مسلم دنیا میں ذہنی، فکری و نفسیاتی غلامی


مسلم دنیا میں ذہنی ،فکری ونفسالتی غلامی

(ازقلم:محمدمبشر نذیر،ترتیب:عمران شہزاد تارڑ)
(مضمون نمبر:1)
انسان نے انسان پر جو ظلم کیے ہیں، ان میں سب سے بڑا ظلم غلامی ہے۔ نسل انسانیت پر اتنے ظلم کسی اور مخلوق نے نہ کیے ہوں گے جتنے خود انسانوں نے دوسرے انسانوں پر کیے ہیں۔ دور قدیم ہی سے انسان کو غلام بنانے کا رواج رہا ہے۔ ایک گروہ جب طاقت اور توانائی کے نئے ذخائر دریافت کر بیٹھتا تو وہ اپنے بھائیوں ہی کے دوسرے گروہوں پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیتا۔ جہاں طاقت کام نہ آتی، وہاں مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے ہی بھائیوں کو ذہنی اور نفسیاتی غلام بنا لیا جاتا۔
موجودہ دور میں اگرچہ جسمانی غلامی کی لعنت کا خاتمہ ہو چکا ہے مگر ذہنی اور نفسیاتی غلامی کا معاملہ اب بھی موجود ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا میں یہ مسئلہ اتنی گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے کہ مذہبی اور غیر مذہبی مسلمانوں کا بڑا حصہ اس لعنت کا شکار نظر آتا ہے۔ 
اس تحریر کے پہلے مضمون میں نفسیاتی غلامی سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین کا طرز عمل بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے مضمون میں نفسیاتی غلامی کے تاریخی ارتقاء پر بحث کی گئی ہے۔ تیسرے مضمون میں موجودہ دور میں نفسیاتی غلامی کی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھا مضمون نفسیاتی غلامی کے خاتمے سے متعلق ہے۔ 
ان مضامین  میں بھرپور کوشش کی  گئی ہے کہ ہر قسم کی معلومات کا تجزیہ بالکل غیر جانبداری سے کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کے بارے میں بھی ناانصافی سے کام نہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مقامات پر ہم نے مسلمانوں کی تاریخ اور قوانین پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور جہاں جہاں غیر مسلم اقوام کے ہاں کوئی مثبت اقدام ملا ہے تو اس کی تعریف بھی کی ہے۔ یہ چاروں مضامین کسی قوم، مذہب یا نقطہ نظر کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس کا مقصد معروضی طور (Objectively) پر چند سوالات کا جواب حاصل کرنا ہے۔
جو احباب ان مضامین کو پڑھیں، وہ بلا تکلف اس سلسلے میں اپنے تاثرات، آراء اور سوالات لکھ کر بھیج سکتے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں ان مضامین کو مزید بہتر بنا دیا جائے،اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اسلام اور نفسیاتی آزادی:

نفسیاتی غلامی: اسلام سے پہلے
اسلام سے پہلے بھی دنیا بھر میں مذہبی طبقے کو اقتدار حاصل تھا۔ دنیا کے کم و بیش تمام ممالک ہی میں مذہبی طبقہ اس درجے میں موجود تھا کہ وہ حکومتی اور معاشرتی معاملات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرز حکومت کو تھیو کریسی کہا جاتا تھا۔ اس دور میں دنیا کا غالب مذہب "شرک" تھا۔ کم و بیش دنیا بھر کے ممالک میں دیوی دیوتاؤں کی دیو مالا (Mythology) تخلیق کی گئی تھی۔ ریاست کے ہر شہری کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس دیو مالا پر ایمان لائے۔ اگر کوئی شخص مخصوص مذہبی عقائد سے مختلف نظریہ رکھنا چاہتا تو اسے مذہبی جبر کا شکار ہونا پڑتا اور اسے اس کے انحراف کے درجے اور شدت کے مطابق کوئی بھی سزا دی جا سکتی تھی۔
دین شرک کے مقابلے میں دین توحید کے علمبردار اہل کتاب تھے جو یہودیوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھے۔ یہ لوگ اگرچہ توحید ہی کے پیروکار تھے اور شرک کو ایک برائی ہی قرار دیا کرتے تھے لیکن غیر محسوس طریقے پر شرک ان کے اندر شخصیت پرستی کی صورت میں سرایت کر چکا تھا۔ یہودیوں نے سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو اور عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کو اپنے مذہبی عقائد میں جگہ دے رکھی تھی۔
اہل کتاب کے ہاں بھی ان کے مذہبی علماء اور صوفیاء کو وہی مقام حاصل ہو چکا تھا جو کہ اہل شرک کے ہاں ان کے مذہبی راہنماؤں کو حاصل تھا۔ ان کے ہاں مذہبی راہنماؤں کا یہ مقام اب بھی برقرار ہے البتہ ان کی سیاسی قوت کمزور پڑ چکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں اس ذہنی غلامی کی کیا صورت موجود تھی، اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے:
حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي حدثنا عبد السلام بن حرب عن غطيف بن أعين عن مصعب بن سعد عن عدي بن حاتم قال :  أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي عنقي صليب من ذهب فقال يا عدي اطرح عنك هذا الوثن وسمعته يقرأ في سورة براءة { اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله } قال أما إنهم لم يكونوا يعبدونهم ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئا حرموه. (ترمذی؛ کتاب التفسیر؛ حدیث 3095)
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا تومیرے گلے میں سونے کی ایک صلیب لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا، "اے عدی! اس بت کو اتار دو۔" میں نے آپ کو سورۃ توبہ کی یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، "ان (اہل کتاب نے) اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور صوفیاء کو اس کا شریک بنا لیا تھا۔" اور فرمایا، "یہ لوگ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے مگر جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو اسے حلال سمجھنے لگتے اور جب حرام قرار دیتے تو اسے حرام سمجھنے لگتے۔"
اگر یہودی اور عیسائی حضرات کے اپنے مذہبی لٹریچر، خاص طور پر ان کے اولیاء کرام (Saints) کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو بعینہ یہی تصویر سامنے آتی ہے۔
فکری آزادی  کے معاملے میں اسلام کی اصلاحات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ذہنی آقا و غلام کے تعلق کی بجائے دوستانہ تعلق قائم فرمایا۔ جن معاملات میں اللہ تعالی کی جانب سے وحی نازل ہو جایا کرتی تھی، اس میں تو صحابہ سنتے اور اطاعت کرتے لیکن جہاں معاملہ دین کے کسی حکم کا نہ ہوتا، وہاں ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذاتی رائے سے مختلف رائے پیش کرنا بھی کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔

غور و فکر کی قرآنی دعوت:

اللہ تعالی کی جانب سے نازل کردہ وحی کے معاملے میں بھی یہ معاملہ نہ تھا کہ لوگ اندھا دھند اس حکم کی پیروی میں لگ جائیں بلکہ انہیں اس پر کھلے ذہن سے غور و فکر کرنے کا حق حاصل تھا۔ قرآن مجید بار بار مسلمانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اللہ کے احکامات کی حکمتیں جاننے کی تلقین کرتا ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمّاً وَعُمْيَاناً. (الفرقان؛ 25:73)
جب انہیں اللہ کی آیات سے نصیحت دلائی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ۔  الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (اٰل عمران 3:190-191)
آسمان و زمین کی تخلیق اور شب و روز کے فرق میں اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیں۔ (اہل عقل وہ ہیں جو ان نشانیوں کو دیکھ کر) کھڑے، بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، "اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے کار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔"
قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر یہ بیان ہوا ہے کہ نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو "اولوا الباب" یعنی صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے لوگ ہیں۔
آزادی اظہار سے متعلق رسول اللہ کا طرز عمل
اختلاف رائے کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا طرز عمل یہ ہوا کرتا تھا کہ آپ مختلف رائے کو دبانے کی بجائے اس پر مثبت انداز میں غور و خوض فرماتے اور کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ اپنی رائے کی بجائے کسی صحابی کی رائے کو ترجیح دے دیا کرتے تھے۔ اگر آپ صحابہ کی رائے سے متفق نہ ہوتے تو انہیں مثبت انداز میں متفق کرنے کی کوشش فرماتے۔ اظہار رائے کی اس آزادی کی کچھ مثالیں ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہ کو یہ واضح طور پر بتا دیا کہ صرف اور صرف دینی احکام سے متعلق ان پر آپ کی پیروی کرنا لازم ہے۔ دنیاوی امور میں وہ اپنے معاملات جیسے چاہے چلا سکتے ہیں بشرطیکہ اس سے دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔
حدثنا عبدالله بن الرومي اليمامي وعباس بن عبدالعظيم العنبري وأحمد بن جعفر المعقري. قالوا: حدثنا النضر بن محمد. حدثنا عكرمة (وهو ابن عمار). حدثنا أبو النجاشي. حدثني رافع بن خديج قال:  قدم نبي الله صلى الله عليه وسلم المدينة. وهم يأبرون النخل. يقولون يلقحون النخل. فقال "ما تصنعون؟". قالوا: كنا نصنعه. قال "لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا" فتركوه. فنفضت أو فنقصت. قال فذكروا ذلك له فقال "إنما أنا بشر. إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به. وإذا أمرتكم بشيء من رأي. فإنما أن بشر، انتم أعلم بأمر دنياكم" (مسلم، کتاب الفضائل، حديث 6127)
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجوروں کی پیوند کاری کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا، "تم لوگ یہ کیا کرتے ہو۔" وہ بولے، "ہم تو یہی کرتے آ رہے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "اگر تم یہ نہ کرو تو ہو سکتا ہے کہ بہتر ہو۔" انہوں نے پیوند کاری چھوڑ دی جس کے نتیجے میں پیداوار کم ہو گئی۔ انہوں نے جب آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا، "میں تو ایک انسان ہوں (مگر اللہ کا رسول ہوں۔) اگر میں تمہیں دین سے متعلق کوئی حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور اگر اپنی رائے سے تمہیں کوئی بات کہوں تو میں انسان ہی ہوں۔ تم اپنے دنیاوی امور کو خود بہتر جانتے ہو۔"
اس سے اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ بات محض عجز و انکسار کی وجہ سے ارشاد فرمائی۔ بہت سے دیگر واقعات سے یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ اور آپ کے صحابہ کا یہی معمول رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جنگی پلاننگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے کیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن مجید میں آپ کو اسی کا حکم دیا گیا تھا۔
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ۔ (آل عمران 3:159)
ان سے درگزر کرتے رہیے، ان کی بخشش کی دعا کرتے رہیے اور معاملات میں ان سے مشورہ کرتے رہیے۔
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ۔  (شوری 42:38)
(اہل ایمان تو وہ ہیں) جو اپنے رب کی پکار کا جواب دیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات کو مشورے سے چلاتے ہیں۔
جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک مقام پر قیام کرتے ہوئے ایک جنگی حکمت عملی ترتیب دی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک صحابی سیدنا حباب بن  منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر اس جنگی حکمت عملی میں تبدیلی فرمائی۔
قال الحباب بن المنذر يا رسول الله إن هذا المكان الذي أنت به ليس بمنزل انطلق بنا إلى أدنى ماء إلى القوم فإني عالم بها وبقلبها بها قليب قد عرفت عذوبة مائه لا ينزح ثم نبني عليه حوضا فنشرب ونقاتل ونعور ما سواه من القلب فنزل جبريل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الرأي ما أشار به الحباب فنهض رسول الله صلى الله عليه وسلم ففعل ذلك۔ (طبقات ابن سعد، غزوہ بدر)
حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، "یا رسول اللہ! جس مقام پر آپ ٹھہرے ہوئے ہیں، مناسب نہیں ہے۔ ہمیں نیچے پانی کی طرف چلنا چاہیے۔ میں اس جگہ سے واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ میٹھا پانی ہے۔ ہم پانی کا بہاؤ تبدیل کر کے اسے ایک حوض کی شکل دے لیں گے اور اس سے پانی پئیں گے، جنگ کریں گے اور صرف ہم ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جبریل اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس اترے اور کہنے لگے کہ حباب کی رائے درست ہے۔ آپ اٹھے اور آپ نے اسی رائے پر عمل کیا۔
جنگ احد کے موقع پر آپ نے اپنی رائے کے خلاف نوجوان صحابہ کی رائے کے مطابق شہر سے باہر نکل کر مقابلہ فرمایا۔
فكان رأي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا يخرج من المدينة لهذه الرؤيا فأحب أن يوافق على مثل رأيه فاستشار أصحابه في الخروج فأشار عليه عبد الله بن أبي بن سلول أن لا يخرج وكان ذلك رأي الأكابر من المهاجرين والأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم امكثوا في المدينة واجعلوا النساء والذراري في الآطام فقال فتيان أحداث لم يشهدوا بدرا فطلبوا من رسول الله صلى الله عليه وسلم الخروج إلى عدوهم ورغبوا في الشهادة وقالوا اخرج بنا إلى عدونا فغلب على الأمر الذي يريدون الخروج۔ (طبقات ابن سعد، غزوہ احد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ نہ کیا جائے۔ آپ کے خواب کے مطابق یہی رائے پسندیدہ تھی۔ آپ نے اپنے صحابہ سے نکلنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ عبداللہ بن ابی کا مشورہ یہ تھا کہ باہر نکل کر مقابلہ نہ کیا جائے اور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کی رائے بھی یہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "مدینہ میں ٹھہرے رہو اور بچوں اور خواتین کو محفوظ مقام پر چھوڑ دو۔
نئے نوجوان لڑکے جنہوں نے بدر کی جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ لوگ شہادت کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ بولے، "ہم دشمن کی طرف نکل کر چلیں۔" باہر نکل کر مقابلہ کرنے والوں کی رائے (کثرت رائے کے باعث) غالب ہو گئی (اور باہر نکل کر ہی مقابلہ کیا گیا۔)
جنگ خندق میں ایک سابقہ غلام، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ جنگ کا یہ طریق کار سن کر صحابہ بہت حیران ہوئے کیونکہ جنگ کرنے کا یہ طریقہ عرب میں رائج نہیں تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے صحابہ کو اظہار رائے کی آزادی کس حد تک حاصل تھی  اور اس میں آزاد، غلام اور مولی ہر شخص کو رائے دینے کا برابر حق حاصل تھا۔
آپ نے جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک فوجی مہم کا امیر بنا کر بھیجا تو اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا۔ آپ نے انہیں کافر و مشرک یا گستاخ رسول قرار دینے کی بجائے انہیں مثبت انداز میں قائل فرمایا۔
حدثنا إسماعيل: حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا، وأمر عليهم أسامة بن زيد، فطعن الناس في إمارته، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (إن تطعنوا في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل، وايم الله إن كان لخليفا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس لي، وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده). (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3730)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنا کر بھیجا۔ لوگوں نے ان کے امیر ہونے پر اعتراض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، "تم لوگ ان کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو جبہ تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم وہ امارت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پسند تھے اور ان کے بعد اسامہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کیا تو اس موقع پر انہیں اسلامی قانون کی حیثیت سے یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے خاوند سے علیحدگی حاصل کر لیں۔ وہ اپنے خاوند کو سخت ناپسند کرتی تھیں جبکہ ان کے خاوند ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے شادی کو باقی رکھنے کی سفارش کی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
حدثنا محمد: أخبرنا عبد الوهاب: حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن زوج بريرة عبد أسود يقال له مغيث، كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليهوسلم  لعباس: (يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا). فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (لو راجعته). قالت يا رسول الله تأمرني؟ قال: (إنما أنا أشفع). قالت: لا حاجة لي فيه. (بخاری، کتاب الطلاق، حديث 5283)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ کے خاوند ایک سیاہ فام غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ میں گویا اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے ہیں اور ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا، "عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ مغیث بریرہ سے کس قدر محبت کرتا ہے اور وہ اس سے کتنی نفرت کرتی ہے۔" آپ نے بریرہ سے فرمایا، "کاش تم علیحدگی کا یہ فیصلہ بدل دو۔" وہ پوچھنے لگیں، "یا رسول اللہ! کیا یہ آپ کا حکم ہے؟" آپ نے فرمایا، "نہیں میں تو سفارش کر رہا ہوں۔" وہ بولیں، "پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔"
بعض افراد نے قرآن مجید کی ایک آیت سے یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم زیادہ غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ وہ آیت یہ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ. (المائدہ؛ 5:100)
اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو جو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں، لیکن اگر تم ایسے وقت میں یہ سوالات کرو گے تو وہ تم پر واضح کر دی جائیں گی۔ اب تک جو تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کر دیا اور وہ معاف کرنے والا اور بردبار ہے۔
اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ دین اسلام میں غور و فکر ممنوع ہے، بالکل ہی غلط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث سے یہ بالکل ہی واضح ہے کہ اس آیت میں جن سوالات سے روکا گیا ہے، وہ ایک مخصوص نوعیت کے سوالات ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ: حدثنا سعيد: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (إن أعظم المسلمين جرماً، من سأل عن شيء لم يُحرَّم، فحُرِّم من أجل مسألته). (بخارى؛ كتاب الاعتصام؛ حديث 7289)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جو حرام نہیں تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔"
وعن أبي ثعلبة الخشني قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحرم حرمات فلا تنتهكوها وحد حدودا فلا تعتدوها وسكت عن أشياء من غير نسيان فلا تبحثوا عنها . (مشکوۃ؛ كتاب الاعتصام؛ حديث 197)
سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اللہ نے کچھ فرائض لازم کئے ہیں، انہیں ضائع مت کرو۔ اس نے کچھ کام حرام قرار دیے ہیں، ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان کی خلاف ورزی مت کرو۔ لیکن اس نے کچھ چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے، ان کے بارے میں تفتیش میں نہ پڑو سوائے اس کے کہ بھول کر کچھ کر گزرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مثبت غور و فکر سے کبھی نہیں روکا۔ قرآن مجید کے نزول کے وقت ایسے سوالات سے منع فرمایا گیا جن کے نتیجے میں کوئی کام حرام ہو جائے اور امت مشکل میں پڑ جائے۔ اللہ تعالی نے جہاں خاموشی اختیار کی ہے، اس میں خاموش ہی رہنا چاہیے تاکہ لوگوں کے لئے انتخاب (Choice) کی آزادی برقرار رہے اور وہ اللہ تعالی کے ہاں اس معاملے میں مسئول نہ ہوں۔
رہے مثبت سوالات، تو ان کے بارے میں قطعی کوئی ممانعت نہ تھی۔ احادیث کے پورے ذخیرے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حلال و حرام کے مخصوص دائرے کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے بکثرت سوال کیا کرتے تھے اور آپ انہیں ہر طرح سے مطمئن کر دیا کرتے تھے۔
آزادی اظہار سے متعلق خلفاء راشدین کا طرز عمل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد آپ کے خلفاء راشدین کا طرز عمل بھی یہی رہا۔ اس کی تفصیل کے لئے خلفاء راشدین کے طرز عمل کی کچھ مثالیں ہم بیان کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے پہلے خطبے میں اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
أخبرنا عبيد الله بن موسى قال أخبرنا هشام بن عروة قال عبيد الله أظنه عن أبيه قال لما ولي أبو بكر خطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد أيها الناس قد وليت أمركم ولست يخيركم ولكن نزل القرآن وسن النبي صلى الله عليه وسلم السنن فعلمنا فعلمنا اعملوا أن أكيس الكيس التقوى وأن أحمق الحمق الفجور وأن أقواكم عندي الضعيف حتى آخذ له بحقه وأن أضعفكم عندي القوي حتى آخذ منه الحق أيها الناس إنما أنا متبع ولست بمبتدع فإن أحسنت فأعينوني وإن زغت فقوموني. (طبقات ابن سعد، ذکر ابوبکر)
جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اس میں انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا، "اے انسانو! مجھے آپ کے امور کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے اور میں اس کی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ قرآن نازل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سنت قائم فرمائی تو ہمیں دین کا علم ہوا۔ جان رکھیے کہ سب سے بہترین لباس، اللہ سے خبردار رہنے کا لباس ہے۔ تمام بے وقوفیوں میں سے سب سے بڑی بے وقوفی گناہ کرنا ہے۔
آپ میں سے جو شخص سب سے زیادہ طاقتور ہے، وہ میرے نزدیک اس وقت تک سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے (اس کے ذمے عائد) حق وصول نہ کر لوں۔ آپ میں سے جو شخص سب سے زیادہ کمزور ہے وہ میرے نزدیک اس وقت تک سب سے زیادہ طاقتور ہے جب تک میں اسے اس کا حق پہنچا نہ دوں۔ اے انسانو! میں تو (دین کی) پیروی کرنے والا ہوں نہ کہ کوئی بدعت پیدا کرنے والا۔ اگر میں اچھا کام کروں تو آپ میری مدد کیجیے گا اور اگر غلط راستہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دیجیے گا۔"
اس خطبے کی آخری بات محض عجز و انکسار ہی نہ تھی بلکہ صحابہ کا عمل یہی تھا۔ ارتداد کے خلاف جنگی کاروائی ہو یا لشکر اسامہ کی روانگی، روم و ایران سے جنگ کا معاملہ ہو یا اپنے بعد آنے والے خلیفہ کی تقرری، ہر ہر معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کے مشورے سے ہی معاملات چلایا کرتے تھے اور تمام صحابہ کو کھلے عام اپنی رائے کے اظہار کی آزادی حاصل تھی۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی مثال قائم فرمائی۔ لوگوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جمعے کے خطبے کے دوران کھڑے ہو کر بھرے مجمع میں آپ کا احتساب کر سکیں۔ مشہور واقعہ ہے کہ آپ دو چادروں پر مشتمل لباس پہن کر جمعہ کے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ کے پاس دو چادریں کہاں سے آ گئیں جبکہ ہم سب کو تو مال غنیمت میں سے ایک ایک چادر ملی ہے۔ آپ نے خود جواب دینے کی بجائے اپنے بیٹے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے اٹھ کر بتایا کہ میں نے اپنے حصے کی چادر اباجان کو دے دی ہے۔ آپ نے اعتراض کرنے والوں کو گستاخ قرار نہیں دیا۔
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے خواتین کے حق مہر کی رقم کی ایک حد مقرر کرنے کا ارادہ کیا۔ نماز جمعہ میں ایک خاتون نے اس سے سخت اختلاف کیا اور ان کی رائے کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ آپ نے ان خاتون کو بھی گستاخ قرار نہیں دیا۔
زمینوں کا انتظام کرنا ہو، جنگی تیاریاں کا معاملہ ہو، عوام کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کرنا ہو، مال غنیمت کی تقسیم ہو، ہر معاملے میں لوگوں کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق حاصل تھا۔ جو شخص صاحبین مجلس کی اکثریت کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا، اسی کی رائے پر حکومتی فیصلہ نافذ ہو جاتا۔ آپ دوسروں کو اپنا احتساب کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
أخبرنا محمد بن عمر قال حدثني قيس بن الربيع عن عطاء بن السائب عن زادان عن سلمان أن عمر قال له أملك أنا أم خليفة فقال له سلمان إن أنت جبيت من أرض المسلمين درهما أو أقل أو أكثر ثم وضعته في غير حقه فأنت ملك غير خليفة فاستعبر عمر. (طبقات ابن سعد، ذکر عمر)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "کیا میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟" سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "اگر آپ مسلمانوں کی زمین میں سے ایک درہم یا اس سے کم یا زیادہ وصول کرے اور اسے ناحق خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں ہیں۔" عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رونے لگے۔
أخبرنا محمد بن عمر قال حدثني عبد الله بن الحارث عن أبيه عن سفيان بن أبي العوجاء قال قال عمر بن الخطاب والله ما أدري أخليفة أنا أم ملك فإن كنت ملكا فهذا أمر عظيم قال قائل يا أمير المؤمنين إن بينهما فرقا قال ما هو قال الخليفة لا يأخذ إلا حقا ولا يضعه إلا في حق فأنت بحمد الله كذلك والملك يعسف الناس فيأخذ من هذا ويعطي هذا فسكت عمر۔ (طبقات ابن سعد، ذکر عمر)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مجھے یہ پتہ نہیں چلتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ۔ اگر تو میں بادشاہ ہوں تو یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔" کسی شخص نے کہا، "اے امیر المومنین! ان دونوں میں فرق ہے۔ خلیفہ وہ ہے جو سوائے حق کے (ٹیکس) وصول نہیں کرتا اور نہ ہی اسے ناحق خرچ کرتا ہے۔ الحمد للہ آپ ایسے ہی ہیں۔ بادشاہ تو لوگوں پر ظلم کر کے ٹیکس لیتا ہے اور اسے اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے۔" عمر یہ سن کر خاموش ہو گئے۔
خلیفہ بننے کے بعد طویل عرصے تک آپ نے تنخواہ نہیں لی بلکہ اپنے مال سے خرچ کرتے رہے۔ جب آپ کا اپنا مال ختم ہو گیا تو پھر صحابہ سے مشورہ کیا کہ میں اپنے گھر کے خرچ کا کیا کروں؟ سیدنا عثمان اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کے مشورے کے مطابق آپ نے کھانے اور لباس کے لئے رقم بیت المال سے لینا شروع کی۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ اپنے دور خلافت میں عمر روزانہ دو درہم تنخواہ لیتے تھے اور میری تنخواہ ایک سو اسی درہم ہوا کرتی تھی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انہی کے مقرر کردہ جج قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر دعوی کر دیا۔ آپ نے اپنے حق میں دو گواہ سیدنا حسن و قنبر رضی اللہ عنہما کو پیش کیا۔ جج نے ان دونوں کی گواہی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ایک ان کا بیٹا تھا اور دوسرا آزاد کردہ غلام اور فیصلہ یہودی کے حق میں سنا دیا۔ یہودی نے یہ فیصلہ سن کر اسلام قبول کر لیا کہ انصاف کا یہ عالم ہے کہ قاضی ایک غیر مسلم کے حق میں خلیفہ وقت کے خلاف فیصلہ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب خلیفہ وقت کے معاملے میں آزادی رائے کا یہ عالم تھا تو پھر دیگر بزرگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟
اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام نے آباء پرستی، شخصیت پرستی اور فکری غلامی کے دیگر تمام بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو نفسیاتی غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ تین چار سو سال کے بعد امت مسلمہ اسی نفسیاتی غلامی کا بڑے پیمانے پر شکار ہو گئی جس سے نکالنے کی کوشش اسلام نے کی تھی۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔
جاری ہے...
پی ڈی ایف اور ورڈ فائل لوڈ کرنے کے لیے لنک وزٹ کریں

https://www.dropbox.com/sh/eic0n34arpjeaoz/AAAoD2nG9ubMqaezgtPxlOHDa?dl=0

www.dawatetohid.blogspot.com

Friday, 2 December 2016

پہلا امپریشن ڈالنے کے پچاس طریقے

پہلا امپریشن ڈالنے کے پچاس طریقے
(انتخاب:عمران شہزاد تارڑ)
کیا آپ جانتے ہیں؟؟
* آپ کا پہلا اِمپریشن آپ کے لئے ترقی کے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔
* اور اس موقع کو ضائع کر کے آپ خوش قسمتی کا کوئی بہترین چانس بھی مِس کر سکتے ہیں۔
* کیا آپ کے خیال میں صرف شخصیت کی ظاہری خوبصورتی ہی یک اچھے اِمپریشن کی ضمانت
ہے؟؟
* کیا کوئی بھی انسان اپنے پہلے اِمپریشن کو کامیاب اور مثبت بنا سکتا ہے؟
* کیا تمام صلاحیتیں رکھنے کے باوجود بھی آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ آپ کو وہ اہمیت نہیں
دیتے جس کے آپ حقدار ہیں؟
ایک سروے کے مطابق:
*باڈی لینگوئج آپ کے پہلے امپریشن میں93%کردار ادا کرتی ہے۔
*ظاہری حلیے کا کردار% 55ہوتا ہے۔
*گفتگو کے دوران مخاطب کے نام کا استعمال مثبت تاثر پیدا کرنے میں 36%کردار ادا کرتا ہے۔
*مثبت تاثر پیدا کرنے میں پرکشش لہجے کا کردار 38%تک ہوتا ہے۔
*الفاظ کا انتخاب 7% اثر ڈالتا ہے۔
دلچسپ حقائق:
پرِنسٹن ریسرچرز(Princeton Researchers)کی ایک ٹیم کی ریسرچ کے مطابق لوگ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں آپ کے قابلِ اعتبار ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ڈنمارک میں ظاہری حلیے پر ہونیوالی ایک تحقیق کے مطابق برانڈڈ لباس پہننے والے افراد دوسروں کی نسبت زیادہ ہائی سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے تصور کیے جاتے ہیں۔پنسلوانیا یونیورسٹی(University of Pennsylvania)کے ایک سروے کے مطابق گنجے سر والے افراد بالوں والے افراد کی نسبت زیادہ اثرورسوخ کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔ایک برطانوی سروے کے مطابق اپنے سائز کے مطابق کپڑے سلوانے والے افراد سٹینڈرڈسائز کا لباس پہننے والوں کی نسبت زیادہ کامیاب مانے جاتے ہیں۔ٖ2011میں کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگوں نے خوش لباس نظر آنیولے لوگوں کے متعلق یہ خیال ظاہرٖٖ کیا کہ یہ لوگ زیادہ دولت کما سکتے ہیں اور دوسروں کی نسبت تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔
پہلا امپریشن کیا ہے؟ What is first impression?
سائیکالوجی کے مطابق:
In psychology, a first impression is the event when one person first encounters another person and forms a mental image of that person.
یعنی ایک فرد دوسرے فرد سے ملنے کے بعد اس کے بارے میں جو رائے یا ذہنی تصور قائم کرتا ہے اسے پہلا امپریشن کہا جاتا ہے۔ کہ ایک شخص پہلی ملاقات میں دوسرے شخص کو رد وقبولیت کے کس درجے پر فائز کرتا ہے۔ اس امپریشن کاصیح یا غلط اور منفی یا مثبت ہونا افراد،وقت اور جگہ سمیت دیگر کئی عوامل پر منحصر ہے۔اکثر آپ کو ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو تقریب یا میٹنگ میں آتے ہی سب کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ان لوگوں کو کاروباری انویسٹمنٹ اور جابز جیسی پرکشش آفرز ہوتی ہیں۔ایسے لوگوں میں کچھ خاص قسم کی خوبیاں اور صلاحیتیں ہوتی ہیں جنھیں نفسیاتی اصولوں کی بنیاد پر ثابت کیا جا سکتا ہے اور انھیں کوئی بھی اپنا سکتا ہے یا سیکھ سکتا ہے۔فرسٹ امپریشن کے اہم نفسیاتی اصول: i
یہ ایک اہم نفسیاتی اصول ہے اور حقیقت بھی کہ لوگ آپ کو اپنی ضروریات کے پیمانے میں تول کر آپ کے اہم یا غیر اہم ہونے کا معیار طے کرتے ہیں۔مثلاً ایک غریب یا ضرورت مند آدمی پر ہر امیر آدمی کا پہلا امپریشن زیادہ تر اچھا ہی ہوتا ہے ۔کیونکہ وہ اس کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔لوگ آپ کے اندر اُن چیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے پاس نہیں ہوتیں۔یہی تلاش آپ کی اہمیت طے کرتی ہے۔ii: لوگ آپ کی موجودگی میں جو کچھ محسوس کرتے ہیں اسے آپ کی شخصیت سے جوڑتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی آپ کی موجودگی میں بے اطمینانی محسوس کرتا ہے تو اس کی وجہ کوئی بیرونی عنصر نہیں آپ خود ہو سکتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی آپ کو مغرور سمجھتا ہے اور آپ ایسے نہیں ہیں تو شاید اس کی وجہ آپ کی کم گوئی یا تنہائی پسندی ہو۔iii: وقت، موقع اور جگہ یہ اہم عناصر ہیں جو آپ کے پہلے امپریشن کا تعین کرتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص غصے یا پریشانی میں مبتلا ہے تو وہ آپ کے پہلے امپریشن پر قطعاً توجہ نہیں دے گا۔iv: زیادہ تر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بظاہر خوبصورت نظر آنیوالے لوگ یقیناًبہت سی صلاحیتوں کے مالک بھی ہوتے ہیں جو اکثر غلط ثابت ہوتا ہے۔اور پھر خوبصورتی کا معیار بھی ہر کلچر میں مختلف ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو تو لوگ اکثر اس کی شخصیت کا پہلا تاثر درست نہیں لیتے۔مگر یہ خیال ایک سطحی سوچ کی عکاسی ہے۔
فرسٹ امپریشن کے اہم اجزاء:
ہماری شخصیت کے یہ چند ٹکڑے مل کر پوری شخصیت بناتے ہیں۔یہ ٹکڑے جتنی مظبوطی اور درستگی سے جڑے ہوں شخصیت کا اتنا ہی مکمل اور جاندار تاثر پیدا کرتے ہیں۔
 خود اعتمادی:
خود اعتمادی ایک انسان کا اپنی ذات سے وہ رابطہ ہے جو اسے کسی مخصوص صورتحال میں خود کو پرکھنا،صورتحال کا مقابلہ کرنا اور صورتحال کے مطابق ڈھلنا سکھاتا ہے۔
 اندازِگفتگو:
انسانی شخصیت کا یہ انتہائی شفاف آئینہ ہے جو نہ صرف کسی انسان کے اندر چھپے ہوئے جوہر اور اس کی صلاحیتوں کا پتہ دیتا ہے بلکہ اس کی سوچ تک بھی رسائی فراہم کرتا ہے۔
 الفاظ کا انتخاب:
موقع ،جگہ اور اپنی اور اپنے مخاطب کی شخصیت کے لحاظ سے مناسب الفاظ کا استعمال انسانی شخصیت کے پہلے تاثر کو نہایت متاثر کن بنا دیتا ہے۔
 لباس:
کسی انسان کا لباس اس کی سوچ ،رویے اور مزاج کا بہترین عکاس ہوتا ہے۔دیکھنے والے کے ذہن میں جو چیز سب سے پہلے اثرانداز ہوتی ہے وہ لباس ہی ہے۔
 باڈی لینگوئج:
انسانی شخصیت کے مطالعے میں باڈی لینگوئج اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنا کہ کسی کتاب کا پہلا چیپٹر۔کسی شخص کی باڈی لینگوئج اس کی پوری شخصیت اور سوچ کی ڈائریکشن سے آگاہ کر دیتی ہے۔
1:  خود اعتمادی
اپنے ماحول اور معاشرے میں اپنی اہمیت وکردار کا درست تعین نہ صرف اپنے فرائض سے آگاہ کرتا ہے بلکہ ان فرائض کو نبھانے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے اور یہی حوصلہ خود اعتمادی کہلاتا ہے۔آپ خواہ جتنے بھی قابل ہوں،آپ کی شخصیت خواہ کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو اور آپ کا لباس خواہ کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر آپ میں خود اعتمادی کا فقدان ہے تو آپ کا پہلا امیج کسی بھی صورت میں متاثر کن نہیں ہو سکتا۔
2: اپنی قدروقیمت کا احساس
اگرآپ خود اپنی قدروقیمت سے آگاہ نہ ہوں تو دوسروں کو بھی اس کا احساس نہیں دلا سکیں گے۔ہر انسان میں کچھ خوبیاں اور صلاحیتیں ضرور ایسی ہوتی ہیں جو آس پاس کے لوگوں میں موجود نہیں ہوتیں۔اور یہی خوبیاں اور صلاحیتیں اس کی اصل قدرو قیمت طے کرتی ہیں اور اسے دوسروں سے الگ مقام دیتی ہیں۔اپنی قدروقیمت کا یہ احساس پہلے امپریشن میں آپ کی شحصیت کواپنے مطلوبہ معیار سے کبھی نیچے نہیں آنے دیتا۔
3: دوسروں سے بہتر ہونے کا ثبوت دیں۔  (Be Superior)
پہلے امپریشن کا یہ ایک انتہائی اہم عنصر ہے اور اپنی خود اعتمادی کا بہترین استعمال بھی۔یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ آپ وہ سب کچھ جانتے ہیں جوآپ کے مخاطب کو جاننا چاہیے۔اس طرح آپ اپنی اہمیت کا زیادہ احساس دلا سکیں گے۔مگر ضرورت سے زیادہ چالاک بننے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔کیونکہ چالاکی اور سمجھداری میں بہت فرق ہے۔سمجھداری شخصیت کا انتہائی مثبت پہلو ہے جبکہ چالاکی منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔
4: ضرورت سے زیادہ خوش لباس نظر آنے سے گریز کریں
ماحول اور موقع کی مناسبت سے لباس کا انتخاب ایک باشعور انسان ہونے کی پہلی نشانی ہے۔یہ آپ کو اردگرد موجود لوگوں کی سطح پر لے آتا ہے اور آپ کو باآسانی ماحول میں ایڈجسٹ کر دیتا ہے اور دوسرے لوگ یا آپ خود اپنے آپ کو دوسروں سے الگ تھلگ محسوس نہیں کرتے اور کسی شخص یا اشخاص سے پہلی ملاقات میں اجنبیت کا احساس کم ہو جاتا ہے۔
5: اپنی اہمیت پر یقین رکھیں
اگر آپ کو خود اپنی اہمیت کا احساس نہیں تو آپ دوسروں کو بھی ہرگز یہ احساس نہیں دلا سکتے۔اس کردار کو سمجھیں جس کا سوسائیٹی آپ سے تقاضا کرتی ہے،ان حدود کو جانیں معاشرہ آپ کو جن کا پابند بناتا ہے۔اپنے کردار اور حدود کا یہ تعین اپنی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔جبکہ اپنے کردارسے انحراف انسانی شخصیت کو معاشرے میں بے وزن کر دیتا ہے۔اپنے کردار و حدود سے منحرف ایک شخص کسی بھی جگہ پہلی اپنا مثبت تاثر نہیں بنا پاتا اور بن بھی جائے تو اس کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔
6: یہ ثابت کریں کہ آپ لوگوں کو سمجھتے ہیں۔
لوگوں کو صرف اپنی بات سمجھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ ان کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ آپ ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔زیادہ بولنے کی بجائے سننے کو ترجیح دیں تو آپ ایک بھروسے کی فضا پیدا کر سکتے ہیں جو نہ صرف آپ کے پہلے امپریشن کو خوشگوار بنا دیتی ہے بلکہ ایک دیر تک قائم رہنے والا با اعتماد رشتے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
7: باڈی لینگوئج
لفظوں کی ادائیگی سے پہلے آپ کی حرکات و سکنات آپ کی شخصیت کے متعلق بہت کچھ سمجھا دیتی ہیں۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا ،چلنا پھرنا،ہاتھوں اور بازوؤں کی حرکات اور چہرے کے تاثرات ان سب باتوں کا کوئی مطلب اور مقصد ہوتا ہے جو آپ کی سوچ کی گہرائی سے جڑا ہوتا ہے۔لہٰذا اپنی باڈی لینگوئج کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کریں مگر اتنا نہیں کہ خود میں سمٹے نظر آئیں۔اپنی شخصیت کے صاف اور واضح ہونے کا تاثر دیں۔
8: مسکراہٹ
پہلے امپریشن کا یہ ایک انتہائی اہم عنصر ہے اور آپ کی شخصیت کے قابلِ بھروسا ہونے کی علامت بھی۔مسکراہٹ اگر ایک حد سے تجاوز نہ کرے تو شخصیت کا نہایت عمدہ پہلو ثابت ہوتی ہے۔اور ایک خوشگوار تعلق کی بنیاد میں پہلی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
9: آئی کونٹیکٹ
ٓآئی کونٹیکٹ اپنے مخاطب کی بات کو سمجھنے اور ایک بہتر ذہنی رابطہ قائم کرنے میں مدد دیتا ہے اور آپ کو توجہ کے ارتکاز میں مدد دیتا ہے۔یہ آپ کو زیادہ بااعتماد بنا کر پیش کرتا ہے۔جب آپ بات کرتے ہوئے اپنے مخاطب کی طرف دیکھنے سے گریز کرتے ہیں تو آپ کے پوری طرح متوجہ نہ ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ مگر پہلے امپریشن کی اس تیکنیک کا استعمال بھی نہایت مناسب انداز میں کریں اور گھور گھور کر دیکھنے سے گریز کریں کیونکہ یہ طریقہ کار آپ کا امیج بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔
10: مصافحہ (Hand Shake)
مصافحہ کا مضبوط اور مناسب انداز آپ کی شخصیت کا چھپا اعتماد ظاہر کرنے کا سب سے پہلا اور بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔اس اعتماد کا اظہار آپ کے لفظوں اور قابلیت پر بھی اعتماد کی مہر ثابت ہو سکتا ہے۔اس طریقہ کار کا بہتراستعمال کر کے آپ کسی شخص یا اشخاص پر پہلی ہی ملاقات میں نہایت اچھا تاثر چھوڑ سکتے ہیں یاایک خوشگوار تعلق قائم کر سکتے ہیں جس کی شروعات اعتماد سے ہو۔
11: وقت کی پابندی (Be on time)
اہم میٹنگز یا تقریبات میں لیٹ پہنچنے کی رسم ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔مگر اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ یہ روش ہماری شخصیت کا کیا امیج بناتی ہے۔کسی تقریب یا میٹنگ میں ٹائم پر پہنچنا نہ صرف آپ کے ایک بااعتماد شخصیت ہونے کی علامت ہے بلکہ لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ آپ ان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
12: اپنی حدود کا تعین (Be in your limits)
ہمارے معاشرے میں رائج گھریلو نظام میں چونکہ اخلاق و آداب سکھانے کا مناسب انتظام موجود نہیں ہے اس لئے اپنی حدود کے تعین کا شعور بھی بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔آپ کو کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے اورکس کے ساتھ کس رویے کا اظہار کرنا ہے اور کس حد تک کرنا ہے۔یہ عوامل آپ کو ایک معقول اور باشعور انسان کے درجے پر فائز کرتے ہیں۔لہٰذا اپنی حدود اور حیثیت کا تعین کسی بھی شخص سے پہلی ملاقات میں آپ کو ایک متوازن شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
13: کوالٹی آف وائس
ایک صاف اور اوریجنل آواز آپ کی شخصیت کو بھی کوالٹی عطا کرتی ہے۔نہ صرف ایک حد سے زیادہ بلند بلکہ ایک حد سے زیادہ آہستہ آواز بھی آپ کی شخصیت کا نیگیٹو امیج بناتی ہے۔دورانِ گفتگو اپنی آواز کو اعتدال کی سطح پر رکھنا پہلے امپریشن کے دوران مثبت تاثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔لہٰذا دورانِ انٹرویو یا تقریب اس نقطے کو نظرانداز نہ ہونے دیں۔
14: بناوٹی لہجہ (Fake tone)
لہجے کا بناوٹی پن انسانی شخصیت کا نہایت برا تاثر پیدا کرتا ہے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آجکل ہمارے معاشرے میں اس کا فروغ بہت زیادہ ہے۔یاد رکھیے آپ کی قدروقیمت آپ کی اصلیت میں پوشیدہ ہے۔لہٰذا وہ نظر آنے کی کوشش نہ کریں جو آپ نہیں ہیں۔آپ کی حقیقی ویلییو وہی شخصی عناصر ہیں جو قدرت نے آپ کو عطاکیے ہیں۔ان عناصر کو بناوٹ کا لبادہ نہ اوڑھائیں تو آپ زیادہ بہتر تاثر دے سکیں گے۔
15: ویژوایلائزیشن (Visualization)
کسی میٹنگ ،تقریب یاانٹرویومیں جانے سے پہلے آپ جیسے نظر آنا چاہتے ہیں یاجیسا خود کو پیش کرنا چاہتے ہیں ذہن میں اس کا تصور قائم کریں۔اپنی فیلڈ میں کامیاب لوگ ایک بہترین تصور قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مثلاً ایک پلیئر اپنے تصور میں خود کو جیتتے ہوئے دیکھتا ہے،دوسروں سے آگے نکلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ان باتوں کو تصور میں لانے سے گریز کریں جو آپ حقیقی زندگی میں نہیں چاہتے۔
16: ارتکازِ توجہ (Centering)
ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ارتکازِتوجہ ایک بہت بڑا آرٹ ہے۔دورانِ گفتگو گھبراہٹ اور غیر ضروری خیالات کا شکار ہو کر توجہ کو بٹنے نہ دیں تو آپ ایک نہایت پراثر تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔توجہ کا یہ ارتکاز نہ صرف شخصیت کو اعتماد عطا کرتا ہے بلکہ موقع کی مناسبت سے بہتر الفاظ کیانتخاب میں بھی مدد کرتا ہے۔
17: قوتِ ارادی کو ڈائریکشن فراہم کریں (Direct your will power)
کسی بھی اہم کام کو بہترین انداز میں سرانجام دینے کے لئے قوتِ ارادی ایک بنیادی ضرورت ہے۔کسی معاملے پراپنی پوری توجہ مبذول کر کے آپ اپ اپنی قوتِ ارادی کو اپنی ضرورت کے مطابق ایک درست سمت فراہم کر سکتے ہیں۔اپنی شخصیت کا متاثر کن فرسٹ امپریشن ڈالنے کے لئے صلاحیت کا استعمال نہایت جاندار اثر کا حامل ہے۔
18: مرکزی نقطہ (Pivot Point)
میٹنگ یا انٹرویو کے دوران یہ تصور کریں کہ آپ سب سے اہم ہیں ۔آپ ہی مرکزی نقطہ ہیں جس کے گرد پورا ماحول گردش کر رہا ہے۔آپ کی یہ سٹرونگ ذہنی کیفیت ارد گرد موجود لوگوں پر خواہ بہت کم ہی صیح مگر اثرانداز ضرور ہوگی۔کیونکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک ہی ماحول میں موجود انسانوں کی شخصیت ایک دوسرے پر اثر ضرور ڈالتی ہے۔مگر یاد رہے اس کوشش میں دوسروں کی اہمیت کو نظرانداز نہ ہونے دیں۔
19: ظاہری حلیہ (Appearance)
کہا جاتا ہے کہ ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر عکاسی کر سکتی ہے۔اسی طرح آپ کا ظاہری حلیہ آپ کے الفاظ،زبان اور باڈی لینگوئج سے پہلے ہی آپ کی شخصیت کا معیار طے کر دیتا ہے۔آپ کی شخصیت کتنی شوخ یا کتنی سادہ حتیٰ کہ آپ ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ نہیں ان سب باتوں کا تعین ایک ہی نظر میں ہو جاتا ہے۔
20: موقع کی مناسبت سے لباس پہنیں
وقت ،موسم اور موقعے کی ڈیمانڈ کو سمجھ مناسب لباس کا انتخاب پہلی ہی ملاقات میں آپ کے باشعور اور قابلِ قبول شخصیت ہونے کی ایک نشانی ہے۔مثلاً اگر آپ کسی پارٹی میں جا رہے ہیں تو انٹرویو کی ڈریسنگ اچھا امپریشن نہیں ڈال سکتی۔اسی طرح خوشی کی کسی تقریب میں ایک مناسب وضع قطع اور بہتر رنگوں کا لباس ہی آپ کی شخصیت کو نہ صرف اعتماد دیتا ہے بلکہ آپ کو باآسانی ماحول میں گھل مل جانے میں بھی مدد دیتا ہے ۔
21: صفائی
آپ کی شخصیت اورلباس خواہ کتنا ہی پرفیکٹ کیوں نہ ہواگر صفائی کے بنیادی معیار سے عاری ہے تو آپ کسی بھی صورت میں ایک پر اثر شخصیت نہیں کہلا سکتے۔لباس کا صاف ستھرا ہونا اس کی ڈیزائننگ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک اچھا امپریشن ڈالنے کی تمام تیکنیکس کے استعمال کے باوجود آپ اس میں ناکام نہ ہوں تو اس اہم نقطے کو نظر انداز نہ کریں۔ٖ
22: سادگی (Be Simple)
اپنی شخصیت میں سادگی کا عنصر برقرار نہ صرف انٹرویو میں بلکہ تقریبات میں بھی ایک مثبت تاثر پیدا کرتا ہے یہ لوگوں کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ آپ ایک مشکل شخصیت نہیں ہیں اور آپ کو سمجھنا ،اپنی بات سمجھانا اور آپ سے ایک بہتر تعلق بنانا ان کی پہنچ میں ہے۔اپنے ہیئرسٹائل ،لباس اور جوتوں کے انتخاب میں سادگی مگر صفائی ستھرائی کا بہتر معیار آپ کی شخصیت کو پراثر بنا دیتا ہے۔
23: جیسے آپ ہیں ویسے ہی نظر آئیں (Be real)
اپنی شخصیت میں بناوٹ پیدا نہ ہونے دیں ۔ویسا بننے کی کوشش نہ کریں جیسے آپ ہیں ہی نہیں۔یاد رکھیے آپ کی اپنی شخصیت ہی آپ کی پہچان بن سکتی ہے۔بناوٹ کا لبادہ اوڑھ کر آپ محض اپنا امیج کمزور کرتے ہیں۔خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں کہ آپ ہی سب سے بہتر ہیں تو آپ زیادہ موثر امیج قائم کر سکتے ہیں۔
24: چلنے کا انداز
بہت تیز یا بہت آہستہ چلنے کی نسبت چلنے کاایک مناسب انداز آپ کے پر اعتماد اور سوچ وفکر کے متناسب ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔کسی شخص کے محض چلنے کے انداز سے اس کی شخصیت کو کافی حد تک سٹڈی کیا جا سکتا ہے۔شخصیت کے اس اہم پہلو کو اگنور نہ ہونے دیں۔
25: غیر لفظی رابطہ (Non verbal communication)
لوگ جو لفظ بولتے ہیں اور ہم ان کا جو مطلب لیتے ہیںیہ پروسیس ایک غیر لفظی رابطے سے جڑا ہے۔جی ہاں! چہرے کے تاثرات اس ضمن میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثلاً اگر آپ کسی کو سنجیدگی سے کوئی لطیفہ سنا دیں تو آپ اپنی بات میں مزاح کا عنصر ہی پیدا نہیں کر سکتے اگر آپ کے چہرے سے اس کا اظہار نہ ہو۔لہٰذا گفتگو کے دوران اس تیکنیک کا مناسب اور درست استعمال آپ کو ایک متوازن شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
26: بولنے کا انداز  (Speach)
دورانِ گفتگو آواز کی بلندی کو اعتدال پر قائم رکھنا اور اور ٹہر ٹہر کر پرسکون لہجے میں بات کرناایک انتہائی مثبت فرسٹ امپریشن ڈال سکتا ہے۔یہ انداز لوگوں کو باور کراتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ایک پراعتماد شخصیت کے مالک ہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی قابلِ اعتبار ہیں۔گفتگو کے دوران سمجھنے اور سمجھانے کا یہ انداز آپ کے بہتر ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
27: اندرونی کیفیات (Internal Feelings)
ہماری باڈی لینگوئج ،الفاظ کا انتخاب اور چہرے کے تاثرات ہماری اندرونی کیفیات کا اظہار کرتے ہیں ۔ان کی مدد سے لوگ باآسانی جان لیتے ہیں کی آپ ذہنی طور پر کس قسم کی کیفیات کا شکار ہیں۔پر اعتماد ہیں یا نروس اورمتوجہ ہیں یا غیر حاضر۔لہٰذا انٹرویو کے دوران ایک متاثر کن اثر ڈالنے کے لئے سب سے پہلا اور اہم مرحلے اپنی اندرونی کیفیات پر کنٹرول ہے۔اس ضمن میں ہمارے آرٹیکل (گھبراہٹ میں پرسکون کیسے رہا جائے)کا مطالعہ ضرور کریں۔
28: مثبت سوچ (Be Positive)
مثبت سوچ ایک مضبوط کردار کی ضمانت ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں مثبت سوچ بہت پراثر اور جاندار کردار ادا کرتی ہے۔مثبت سوچ کی یہی طاقت آپ کے فرسٹ امپریشن کو بھی سٹرونگ بنا سکتی ہے۔لہٰذا زندگی کے ہر معاملے میں مثبت سوچ نہ صرف ناکامی سے بچاتی ہے بلکہ کسی بھی مرحلے میں آپ کی شخصیت کو کمزور نہیں پڑنے دیتی۔
29: ذہنی تیاری (Mental Preparation)
آنیوالے وقت کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کرناآپ کو ہر معاملے اور ہر مرحلے پر ایک بہتر کردار ادا کرنے میں مدد کرتا ہے۔آپ کسی تقریب میں جا رہے ہیں یا انٹرویو کے لئے جا رہے ہیں تو پہلے سے خود کو ذہنی طور پر تیار کر کے آپ اپنی شخصیت کو مطلوبہ معیار کے مطابق پیش کر سکتے ہیں۔
30: اہم اور غیر اہم کا تعین
ہر معاملے میں کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں اور کچھ غیر اہم ایک سمجھدار شخص اس فرق کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔اور اسی لحاظ سے اپنی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔آپ میٹنگ میں جارہے ہیں یا کسی تقریب میں اہم اور غیراہم نقاط کا یہ تعین آپ کو ایک واضح سوچ عطا کرتا ہے۔مگر یہ قابلِ غور بات ہے کہ ذاتی ترجیحات کا یہ تعین کسی ماحول یا کسی دوسرے کی ترجیحات سے متصادم نہ ہو۔
31: پاور آف مینجمنٹ کا استعمال
پاور آف مینجمنٹ کا استعمال آپ کو ہر مرحلے پر ذہنی افراتفری سے بچاتا ہے۔اپنی سوچوں کو ترتیب کے پیرائے میں ڈھال کر آپ اپنی پاور آف مینجمنٹ کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ خواہ کسی شخص سے ملاقات کے لئے جا رہے ہیں یا کسی تقریب میں یا انٹرویو کے لئے جا رہے ہیں اپنے ذہن کے خانوں میں چیزوں کو ایک ترتیب سے رکھنا بنا کسی الجھن کے آپ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔
32: لوگوں کو بولنے کا موقع دیں
صرف اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرنا اور دوسروں کو بولنے کا موقع ہی نہ دینا نہ صرف شخصیت کا نیگیٹو تاثر پیدا کرتا ہے بلکہ یہ ضرورت سے زیادہ خود اعتماد ہونے کی بھی نشانی ہے۔یہ ایک بہتر تعلق بنانے میں دوسروں کے لئے حوصلہ شکنی کا عنصر پیدا کرتی ہے۔
33: جملوں میں طویل وقفہ نہ آنے دیں (No dead air in sentences)
ٹہر ٹہر کر گفتگو کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے لیکن جملوں میں ایک مناسب حد سے زیادہ وقفہ یہ تاثر دیتا ہے کہ یا تو آپ یا تو آپ ذہنی طور پر غیر حاضر ہیں یا گفتگو کا مفہوم درست طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔یاد رکھیے اگر کسی بات یا سوال کو روجہ سے سن کر سمجھ لیا جائے تو ایک نارمل ذہن اس کا جواب تلاشنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔لہٰذا جملوں میں طویل وقفے سے گریز کریں۔
34: سوفٹ سکِلز کا استعمال
دورانِ گفتگو سوفٹ سکلز کا استعمال نہایت پراثر تیکنیک ہے۔یہ تیکنیک آپ کو ایک ویل گرومڈ پرسنیلٹی کے طور پر پیش کرتی ہے۔مثلاً اگر آپ کو کسی کی بات سے اتفاق نہیں تو ایک دم یہ نہ کہیں کہ’ نہیں یہ بات ایسے نہیں ہے ‘۔ بات کو ڈائریکٹ رد کرنیکے بجائے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’جی آپ نے ٹھیک کہا لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے‘۔اسی طرح اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو فوراً اپ مطلب کی بات بیان کرنے کی بجائے آپ کہہ سکتے ہیں کہ’میرا پوائنٹ آف ویو یہ ہے کہ‘ یا ’میں کہنا چاہتا ہوں؍عرض کرنا چاہتا ہوں‘۔سوفٹ سکلز کا استعمال آپ کے پہلے امپریشن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
35: فِلرز کا استعمال (Use of sentence fillers)
ٖاگر اپنے مخاطب سے گفتگو کے دوران آپ کو کچھ اہم کام بھی نمٹانے ہیں تو ان کاموں کی انجام دہی کے دوران اپنے مخاطب کو اگنور نہ ہونے دیں بلکہ اس دوران آ پ وقفے وقفے سے مختلف جملوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔مثلاً’جی میں ابھی آپ سے بات کرتا ہوں‘یا موسم کے متعلق کوئی بات کر سکتے ہیںیا جو کا م آپ کر رہے ہیں اس کے متعلق کوئی جملہ کہہ سکتے ہیں۔اس طرح آپ گفتگو کے دوران اپنا کام بھی بہتر طریقے سے نمٹا سکیں گے اور اپنے مخاطب کو اپنے اور ماحول کے ساتھ اٹیچ بھی رکھ سکیں گے۔
36: زیادہ بولنے سے گریز کریں
زیادہ بولنے کی بجائے سننے کو ترجیح دیں۔اور بغیر سوچے کوئی بات نہ کریں نہ کوئی ایسی بات کہیں جس کی ضرورت نہ ہو۔بات کو توجہ سے سنیں اوراپنے جواب میں ضرورت کیمطابق جملوں کا استعمال کریں۔واضح رہے کہ غیر ضروری بات کرنے سے خاموشی بہتر ہوتی ہے کہ یہ کم ازکم آپ کے ایک معقول شخص ہوتے کا تاثر پیدا کر سکتی ہے۔
37: تہذیب و ثقافت کی نمائندگی
فرسٹ امپریشن کو بہترین بنانے کا یہ ایک انتہائی اہم نقطہ ہے۔وقت چاہے کتنا ہی بدل جائے اپنی تہذیب وثقافت سے محبت انسان کی فطرت کا خاصہ رہتی ہے۔اپنے لباس اور اندازو اطوار کو تہذیب و ثقافت سے عاری نہ ہونے دیں کیونکہ یہ آپ کے ایک سمجھدار اور متناسب شخصیت ہونے کی علامت ہے۔ضرورت سے زیادہ غیر ملکی الفاظ اور اندازو اطوار کا مظاہرہ نہ کریں کہ آپ کسی اور ہی دنیا کے باسی لگیں۔اس کی بجائے اپنی تہذیب وثقافت کی نمائندگی آپ کو اپنے ماحول اور افراد کے لیول پر لے آتی ہے اور آپ باآسانی گھل مل جاتے ہیں۔ فرسٹ امپریشن میں اپنے پن کا یہ احساس پیدا کرنے کے لئے اپنی گفتگو اور انداز واطوار سے تہذیب وثقافت کی نمائندگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
38: کھلکھلا کر ہنسنے سے گریز کریں
کھل کر ہنسنا یا قہقہے لگانا دوستوں کے درمیان تو قابلِ قبول ہو سکتا ہے مگر میٹنگ ،تقریب یا انٹرویو میں یہ آپ کے غیر مہذبانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ آپ کی خوش مزاجی کی۔کھل کر ہنسنے کی بجائے مسکراہٹ ایک بہت اچھا تاثر پیدا کرتی ہے ۔
39: اپنی بے جا تعریف نہ کریں
اکثر لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔اپنی تعریف کرنے کی یہ تیکنیک استعمال کرنے کا مقصد دوسروں کی نظر میں اپنی اہمیت بنانا ہوتا ہے۔دوسرا رخ دیکھیں تو ہمارا معاشرتی مائنڈ سیٹ کسی دوسرے کی تعریف سننے کی بجائے صرف اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے۔لہٰذا اپنی اہمیت بنانے کے لئے اس تیکنیک کا ہرگز استعمال نہ کریں۔اس نقطے کو ذہن میں رکھیں کہ زیادہ تر لوگوں کے لئے آپ کی اہمیت ان کی ضرورتوں کے تابع ہوتی ہے۔
40: لاتعلقی کا تاثر پیدا نہ ہونے دیں
ضرورت سے زیادہ خاموشی اختیار نہ کریں اور نہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھیں۔لوگوں سے گھلنے ملنے کی کوشش کریں اور اپنائیت کا مظاہرہ کریں۔لوگوں کو یہ احساس دلائیں کہ آپ ایک کھلے دل اور کھلے ذہن کے مالک ہیں نہ کہ ایک ایسے انسان جسے سمجھنا مشکل ہو۔
41: ضرورت سے زیادہ اپنائیت کا مظاہرہ نہ کریں
یہاں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ خوش مزاجی یا اپنائیت کا اظہارایک حد سے زیادہ نہ ہوکہ یہ بناوٹ کا تاثر پیدا کرتا ہے۔نہ صرف اپنی ظاہری شخصیت بلکہ اپنے مزاج اور رویے کو بھی معیاری حدود کا پابند رکھنا ایک انتہائی مہذبانہ تاثر دیتا ہے۔تو اگر دوسروں سے الگ تھلگ نظر آنا بھی مقصود ہے تو اعتدال کا رویہ ایک موثر طریقہ کار ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد معتدل رویے کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
42: بیٹھنے کا انداز
آپ کے بیٹھنے کا انداز آپ کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔آپ کی عادات و مزاج اور آپ کے سوچنے کا انداز آپ کے بیٹھنے کے انداز سے بہت حد تک ظاہر ہو جاتا ہے۔لہٰذا ڈھیلے پن سے یا جھک کر نہ بیٹھیں کہ تھکاوٹ یا ضرورت سے زیادہ عاجزی کا اظہار ہو۔او نہ اکڑ کر بیٹھیں کہ آپ کے انداز سے غرور یا بناوٹ جھلکتی نظر آئے۔
43: بار بار گھڑی نہ دیکھیں
کسی بھی تقریب ،میٹنگ یا انٹرویو کے دوران یہ حرکت نہایت منفی تاثر پیدا کرتی ہے ۔یہ لوگوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ خود کو کوئی بہت ہی مصروف شخصیت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اگر آپ واقعی وقت کی کمی کا شکار ہیں تب بھی لوگوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش نہ کریں بلکہ کوئی اور طرح سے اپنی گفتگو یا میٹنگ کو مختصر کرنے کی کوشش کریں۔
44: اِدھر اُدھر دیکھنے سے گریز کریں
دورانِ گفتگو بلا ضرورت ادھر اُدھر دیکھنے سے گریز کریں اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ آپ پوری طرح متوجہ نہیںیا یہ کہ دوسرے کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔اس حرکت سے ایک بہت برا تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ غیر ضروری معاملات میں دلچسپی لینے کے عادی ہیں۔لہٰذا اس عمل سے جتنا ممکن ہو سکے اجتناب برتیں۔
45: اپنے مخاطب کا نام استعمال کریں
تحقیق سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ لوگوں سے گفتگو کے دوران ان کا نام استعمال کر نا ان سے بہتر تعلق بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ نہ صرف اجنبیت کا احساس ختم کردیتا ہے بلکہ آپ کے پہلے امپریشن کو بہتر بنانے میں بھی اہم ہے۔
46: کسی کا بغور جائزہ نہ لیں
کسی فرد سے ملاقات کے دوران سر سے پاؤں تک اس کی شخصیت کا بغور جائزہ لینے کی عادت ہمارے معاشرے میں اتنی رچ بس چکی ہے کہ لوگوں کو اپنی اس انتہائی معیوب حرکت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔اپنی آنکھوں کے ترازو سے دوسروں کا وزن کرنے کی اس قابلِ افسوس تیکنیک کے استعمال سے کسی دوسرے کا امپریشن آپ پر تو اچھا پڑ سکتا ہے لیکن آپ اس کی گُڈبک میں ہرگز شامل نہیں ہو سکتے اور آپ کا اپنا اِمیج تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔اس لئے میٹنگ یا تقریب کے دوران جتنا ممکن ہو اس عمل سے گریز کریں۔
47: فولڈِنگ آرمز (Folding Arms)
آپ خواہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں بازوؤں کو فولڈکر کے ہرگز بات نہ کریں۔اس سے آپ کے اپنی ذات میں سمٹے ہونے کا تاثر ملتا ہے۔گفتگو کے دوران ہاتھوں کی مناسب حرکات کے ذریعے اپنی باڈی لینگوئج کااستعمال کریں۔لیکن اس بات کا بھی خیال رہے کہ ہاتھوں کی یہ حرکات غیر ضروری نہ ہوں ورنہ یہ تا ثر ملے گا کہ آپ ایک معتدل شخصیت کے مالک نہیں ہیں۔جبکہ اسی تیکنیک کا مناسب استعمال آپ کو ایک سمجھدار شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
48: مستند حوالاجات کا استعمال (Use of authentic references)
دورانِ گفتگو اپنی بات کی وضاحت کے لئے یا اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے ضرورت کے مطابق مستند حوالاجات کا استعمال آپ کوایک باعلم اور وسیع سوچ کی حامل شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔اس تیکنیک کا استعمال آپ کے پہلے امپریشن کو ایک جاندار تاثر دیتا ہے۔
49: ریسرچ
ٓآپ کسی ایک شخص یاافرادسے ملنے جا رہے ہیں،کسی میٹنگ یا تقریب میں جارہے ہیںیا کسی ادارے میں انٹرویو کے لئے جا رہے ہیں تو ان کے بارے میں جتنی زیادہ ممکن ہو معلومات حاصل کریں۔لوگوں کو ان کی دلچسپیوں سے آگاہ کر کے آپ ان کے ساتھ پہلے ہی امپریشن میں ایک بہت اچھے تعلق کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
50: ایک جملہ جو بہت برا تاثر دیتا ہے۔
’جی کیا نام بتایا آپ نے؟‘یہ جملہ آپ کی غیر حاضر دماغی کا واضح ثبوت ہے۔یا یہ کہ دوسروں کے جملے آپ کے لئے قابلِ توجہ نہیں ۔لہٰذا گفتگو کے دوران توجہ سے سنیں اور اپنے مخاطب کا نام ذہن میں رکھیں۔اور احترام کے ساتھ اسے نام لے کرمخاطب کریں تو آپ زیادہ بہتر تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔
51: تیز پرفیوم کا استعمال
تیز خوشبوکا استعمال انتہائی ناگوار تاثر دیتا ہے بلکہ کم عقل اور کم تعلیم یافتہ ہونے کی بھی نشانی ہے۔ایک مناسب اور ہلکے پرفیوم کا استعمال ایک خوشگوار تاثر دیتا ہے۔اس لئے پرفیوم کے استعمال میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔
52: بات کو توجہ سے سنیں (Active Listening)
بات کو پوری توجہ سے سنیں تاکہ کسی بات کو دوبارہ کنفرم کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔بات کو دوسری بار کنفرم کرنے سے آپ اپنی لاپروائی کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔اس طرح کے جملوں سے گریز کریں’جی کیا کہا آپ نے؟‘یا ’سوری میں نے سنا نہیں‘۔
53: سنجیدگی
سنجیدگی کسی انسان کی شخصیت کا نہایت اہم پہلو ہے۔بات بات پر ہنسنے سے آپ کی غیر سنجیدہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔جبکہ لوگوں کے لئے ایک سنجیدہ شخصیت ہی قابلِ بھروسہ ہوتی ہے۔
54: حاضر دماغی
دورانِ گفتگوحاضر دماغی کا ثبوت دیں۔بات کو توجہ سے سنیں اور سوچ سمجھ کر بولیں۔حاضر دماغی ایک انتہائی مثبت تاثر پیدا کرتی ہے۔اور آپ کے ذہین اور سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔محترم قارئین!پہلا اِمپریشن آپ کو کسی موقعے کو استعمال یا ضائع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔آرٹیکل میں بیان کی گئی ان چند تیکنیکس کا استعمال کر کے آپ اپنے پہلے اِمپریشن کو مزید موثر بنا سکتے ہیں۔آرٹیکل کو مزید بہتر بنانے کے لئے ادارہ آپ کے مشورے کا منتظر رہے گا۔شکریہ!
بشکریہ فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...