Friday, 2 September 2016

ننهیال ، ددهیال اور بچے

ننهیال ، ددهیال اور بچے

ہمارے معاشرے میں ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے کھنچاؤ کا شکار رہا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ وہ جب اپنی ماں اور دادی کو جھگڑتا یا ماں کو دادی سے خائف دیکھیں گے، تو ان کی نفسیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنے سسرال سے نالاں ہونے کی وجہ سے بہت سی مائیں اپنے بچوں کو ان کی دادی، پھپھو اور چچا سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس انہیں ننھیالی رشتوں سے زیادہ قریب کیا جاتا ہے۔ بچے ددھیال اور ننھیال کی اس تفریق سے مبرا ہوتے ہیں۔ ان کی پرکھ صرف اور صرف پیار و محبت اور رویوں کی کسوٹی پر ہوتی ہے۔

جوں جوں وہ باشعور ہونے لگتے ہیں، تو اکثر مائیں ان کے کچے اذہان میں یہ بات ڈالنے لگتی ہیں کہ دادی اچھی نہیں، تمہیں ڈانٹتی ہیں یا پھپھو ہم سے پیار نہیں کرتیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں ان کے ذہن میں گھر کر جاتی ہیں اور پھر بڑے ہونے تک وہ اپنے ددھیال سے کھنچے کھنچے اور الگ تھلگ سے ہو جاتے ہیں۔ یوں بچے اپنے ان خونی رشتوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات مائیں بچوں کو اپنے سسرال والوں کے ناروا رویوں سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں، جس سے بچے خود ہی اپنی دادی پھوپھی سے بدظن ہو جاتے ہیں۔

اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو بعض گھرانوں میں بہو اور بھاوج کے بچوں کو وہ پیار و توجہ نہیں دی جاتی، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اگر ساس اپنی بہو کو ناپسند کرتی ہے یا نند اپنی بھاوج سے نالاں ہے، تو وہ بچوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ قطعاً بھول جاتے ہیں کہ یہ بچے بہو یا بھاوج اپنے میکے سے نہیں لے کر آئی، بلکہ ان کا اپنے بیٹے اور بھائی کی اولاد ہیں۔ اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں، تو زیادہ تر بچوں کا جھکائو اپنے ننھیال والوں کی طرف ہوتا ہے۔ دل چسپ بات ہے کہ بچوں کے روایتی گیتوں، کہانیوں اور کھیل کود میں بھی زیادہ تر ہمیں نانی اماں اور چندا ماما کا ہی تذکرہ ملتا ہے، ددھیال کا ذکر کم ہی رہا۔

اسی بنا پر مائیں اپنے بچوں کے رشتے سسرال میں کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کا شکوہ ہوتا ہے کہ ’’میں نے جس آگ میں ساری عمر گزارا کیا، وہاں میں اپنی بیٹی کو کیوں جھونکوں؟‘‘ دوسری جانب پھوپھیاں اپنی بھتیجی کو گھر لانے سے بچتی ہیں ان کے بقول ’’جیسی ماں تھی، ویسی ہی بیٹی ہوگی!‘‘ ایسی صورت حال میں بعض اوقات بچے بہت زیادہ مشکل صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں۔۔۔ جب وہ کسی چچا زاد یا پھوپھی زاد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں، تو یہی بڑے ان کی راہ کی دیوار بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ اگر یہ شادی ہو بھی گئی تو ساس بہو بن کر پھر وہی کہانی دُہرائی جانے لگی۔ بہو کو اپنی پھوپھی، ماں کی ظالم نند دکھائی دی اور ساس صاحبہ کو بہو میں بھتیجی کے بہ جائے بھاوج نظر آئی، جس نے پہلے اس کے بھائی کو اپنی مٹھی میں کر لیا اور اب بیٹے کو!

ہمارے یہاں زیادہ تر گھرانے ایسے ہیں، جہاں ساس بہو اور نند بھاوج کے رشتوں کے درمیان تلخی و ترشی پائی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے معاشرے میں انتشار و اضطراب کی ایک بڑی وجہ ان رشتوں کی تلخیاں ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ اگر ہم ان رشتوں میں مصلحت، حقیقت پسندی اوردرگزر سے کام لیں، تو بہت سے گمبھیر مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

بھولے بھالے بچے فقط محبت کے پیاسے ہوتے ہیں۔ بڑوں کی طرح کے منفی جذبات اور مفاد پرستی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ اگر ہم ان شفاف ذہنوں کو بڑوں کی کدورتوں سے آلودہ کرنا شروع کر دیں، تو یہ نہایت غلط بات ہے۔ ایسا کرنا ان کی اچھی تربیت ہرگز نہیں۔ ہر ماں کے نزدیک اس کا ہر فعل بہتر ہی ہوتا ہے، لیکن کسی کے صحیح غلط کا فیصلہ اس مسئلے کا فریق کیسے کر سکتا ہے۔ بعض جگہوں پر بہوؤیں اپنی ساس، نندوں، دیورانی یا جٹھانیوں کے شدت پسند رویوں کے ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے متنفر کرتی ہیں، کیوں کہ بھرے پرے سسرال میں اکیلی بہو کی نہیں چل پاتی، لہٰذا وہ ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے پرے کرنے لگتی ہے۔

بعض بہوؤں کا موقف ہوتا ہے کہ ساس، نندیں ان سے تو کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتیں، جب کہ ان کے بچوں سے بڑی انسیت جتاتی ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کو بھی ان سے دور کرنے لگتی ہیں۔
اگر آپ ایک ماں ہیں تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ رشتوں میں جانب داری کا تو مظاہرہ کر کے بچے کے رشتوں کو تقسیم تو نہیں کر رہیں۔ دوسری طرف سے بھی اپنے رویوں کا محاسبہ کیا جائے۔ اگر ساس، بہو میں مثالی ہم آہنگی نہیں ہو پا رہی، تو کم سے کم وہ بچوں کو تو اس کھینچا تانی سے دور رکھیں۔

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter

بہو رانیاں

بہو رانیاں

(تحریر: بشری امیر.انتخاب عمران شہزاد تارڑ)

بیٹے کی بیوی کو ’’بہو رانی‘‘ کہتے ہیں جب بیٹے کی شادی کی جاتی ہے تو وہ دلہن بیاہ کر لاتا ہے، گھر والے اس کی دلہن کے لئے پھولوں والی گاڑی بڑے اہتمام سے لے کر جاتے ہیں، تاکہ بہو کو عزت اور پیار سے اپنے گھر لایا جائے، گھر کا ایک کمرہ خوب اچھی طرح سجایا جاتا ہے، پہلے نقلی پھول لگتے تھے اب اصلی گلاب کے پھولوں سے مسہری بنائی جاتی ہے، بہو رانی کے استقبال کے لئے پھول نچھاور کئے جاتے ہیں اس کے بیڈ پر پھولوں کی برسات برس رہی ہوتی ہے۔ شادی کا دن دلہن کے لئے خوشیوں کے رنگ لئے ہوتا ہے۔ ایک لڑکی کے بہت سے ارمان ہوتے ہیں، وہ اپنے ارمان اور خواہشیں دل میں سجائے اپنے شوہر کے آنگن میں اترتی ہے، بابل کا گھر، پیار کرنے والی ماں، ہردلعزیز بہن، بھائی، ہمجولیاں اور بچپن سے جڑی سب باتیں پیچھے چھوڑ آتی ہے۔ والدین کی طرف سے نصیحتوں کا چارٹ لئے سسرال کو اپنا مسکن بناتی ہے، اسے اب اس گھر میں شوہر کے ساتھ رہنا ہے۔چنددن تو سسرال میں خوب آؤ بھگت ہوتی ہے، ساس کہتی ہے یہ کپڑے پہن لو۔ نند کہتی ہے بھابھی یہ جیولری اور جوتا اس سوٹ کے ساتھ بڑی میچنگ کرتا ہے، فلاں کے گھر دعوت ہے، ان کے گھر اچھا سوٹ پہن کر جانا ہے، تاکہ شریکنیاں باتیں نہ کریں۔ بہو رانی بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے، کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے ہر کام ساس اور نندوں کی مشاورت سے کرتی ہے۔ ساس سے تو وہ جھجکتی بھی بہت ہے اور اس کا احترام بھی بہت کرتی ہے، کیونکہ اسے میکے میں ہوتے ہوئے ہی اس کی ہمجولیوں نے کہہ دیا تھا کہ ساس کا خیال کرو گی تو گھر میں اچھا وقت گزرے گا، اس لئے شادی سے پہلے لڑکیاں یہ دعا کرتی ہیں -میریا ربا سس چنگی ہووے نئیں تے صرف دیوار تے تصویر ٹنگی ہووے-اب گھر میں اچھی بہو کہلانے کے لئے وہ ہر وقت گھر والوں کا کہا مانتی ہے، کیسے اٹھنا ہے ؟کیسے بیٹھنا ہے؟ گھر میں آنے والے رشتہ داروں سے کس طرح ملنا ہے؟ کس سے بات کرنی ہے اور کس سے بات نہیں کرنی؟ اب بہو رانی کی پریکٹیکل یعنی عملی زندگی شروع ہو گئی۔ اب اسے امور خانہ داری سونپے جانے ہیں، لو جی بہو رانی نے کچن سنبھالنا ہے تو پہلی ڈش جو اسے بنانی ہے، وہ ہے ’’میٹھا‘‘ یعنی بہو نے شروعات کرنی ہے تو زردہ یا کوئی اور میٹھی چیز بنائے، تاکہ محلے اور رشتے داروں میں بانٹیں، لوگوں کا منہ میٹھا کروائیں، کہ ان کی بہو نے کچن کا کام شروع کر دیا ہے۔اب بہو کھانا پکاتی ہے تو گھر والیاں اسے چیک کر رہی ہوتی ہیں کہ دیکھتے ہیں کیسے پکاتی ہے۔ بہو ڈرتے ڈرتے کھانا پکاتی ہے تو گھر میں کسی کو پسند نہیں آتا، ساس ، نندیں اور دیور کوئی نہ کوئی نقص نکالتے ہیں۔ خاوند اچھا ہے تو چپکے سے کھا لیتا ہے، کیونکہ اس کی بیوی ہے اسے تو ناراض نہیں کرنا۔ وہ ماں اور دوسرے گھر والوں کو کہتا ہے کہ کھانا اچھا بھلا تو ہے۔ اس کے گھر میں ایسا ہی پکتا ہو گا۔ ہر گھر کا ایک علیحدہ ذائقہ ہوتا ہے، اب سب گھر والے سارے اس کے پیچھے پڑ گئے۔ تو تو ابھی سے رن مرید بننے لگا ہے، ایک دن ہی میں بھول گیا کہ ہم کیسا کھانا کھاتے ہیں، اس نے تو کان لپیٹے اور باہر بھاگ گیا۔ اب بہو کو وہ سننی پڑیں کہ تیری ماں نے تو تجھ کو کچھ نہیں سکھایا، کپڑے دھوتی ہے تو اس میں نقص نکالا جاتا ہے، کپڑے تہہ کرتی ہے تو تب بھی باتیں۔ استری کرنے لگتی ہے تو استری کیا ہوا سوٹ پھینک دیا جاتا ہے۔ سلوٹیں اور شکنیں تو نکلی نہیں، وہ اب بہو رانی سے زیادہ گھر بھر کی نوکرانی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اس سے تو اچھی نوکرانی ہے جو کام کرتی ہے اور کام کے پیسے لے کر چلی جاتی ہے۔ ادھر وہ ہے کہ گھر بھر کا کام کرتی ہے، سب کو وقت پر کھانا دیتی ہے، جب خود کھانے بیٹھتی ہے تو آواز آتی ہے، بہو رانی دو کپ چائے تو بنا دو مہمان آئے ہیں، وہ تھکی ہوئی کمر پر ہاتھ رکھتی ہے، ہائے کی آواز منہ سے نکلتی ہے، آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو گرتے ہیں اور چائے بنانے کے لئے کچن کا رخ کرتی ہے۔میں اور میری سہیلی عظمیٰ اس موضوع پر بات کر رہے تھے، عظمی کہنے لگی باجی یہ ضرور لکھنا کہ ساس اپنی بہو کو گھر کی نوکرانی کیوں سمجھ لیتی ہے، وہ یہ کیوں چاہتی ہے کہ وہ موم کی گڑیا بن جائے جدھر کو ڈھالیں ڈھل جائے۔ جدھر کو موڑیں مڑ جائے۔ آخر کیوں نہیں اسے مہلت دیتیں کہ وہ ان کے طور طریقے سمجھ لے، آخر دوسرے گھر کے طریقے اور ریت و رواج کو سمجھنے کے لئے وقت تو لگتا ہے نا۔ میں نے کہا کیوں نہیں، اب وہ کوئی روبوٹ تو ہے نہیں، مشینی انسان کہ بٹن دبایا ہدایات دیں اور روبوٹ نے کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ ایک مشینی روبوٹ کی طرح بے حس و جذبات کے بغیر تو نہیں، وہ جذبات و احساسات رکھتی ہے، لیکن اس کو دباتی رہتی ہے کہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو، وہ ایک نئے گھر میں آتی ہے جہاں اس کی ماں نہیں ایک ساس ہے۔ میکے نہیں سسرال والے ہیں، جس کے بارے میں وہ تقریباً کئی بار اخبارات میں خبریں پڑھ چکی ہے کہ ساس نے بہو کو جلا دیا، وہ ڈرتے ڈرتے بہت سارے کام سیدھے کرنا چاہتی ہے لیکن وہ پھر بھی سسرال کی نظر میں غلط ہو جاتے ہیں، وہ روز کمرے میں گھس کر روتی ہے، اسے اپنے گھر والے یاد آتے ہیں، اپنی من پسند ہر چیز اسے یاد آتی ہے، بطور خاص کہ ابو امی کس طرح اس کی خواہشات پوری کیا کرتے تھے۔اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، اس نے تہیہ کر لیا ہے کہ جو ہونا ہے ہو جائے، میرا کام کسی کو پسند نہیں آتا تو نہ آئے اب مجھے منہ توڑ جواب دینا ہے، اللہ جانتا ہے کہ نہ تو اس کے والدین نے اسے بھڑکایا اور نہ کسی سہیلی نے۔ یہ سب اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ردعمل تھا، اس کا خاوند اچھا تو تھا ہی لیکن کسی بات میں بھی وہ اپنی ماں بہنوں اور گھر والوں کو نہ کہتا۔ اپنی بیوی کا ذرا ساتھ نہ دیتا، چنانچہ بہو نے گھر والوں سے برابری کی ٹھان لی، ساس کے سامنے آکھڑی ہوئی، زبان چلنے لگی، بس جی پھر تو جنگ شروع ہو گئی، ویسی جسے عرف عام میں ساس اور بہو کی لڑائی کہا جاتا ہے، یہ تو تھی اچھی بہو جسے سسرال کے رویے نے بولنے پر مجبور کر دیا۔ زیادہ تربہو رانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں تاہم کچھ کیسز مختلف بھی ہیں اور اب ڈرامے دیکھ دیکھ کر زیادہ بھی ہو رہے ہیں۔آیئے اس ضمن میں اب ایک ایسی بہو کا تذکرہ کرتے ہیں جس نے آتے ہی اپنا آپ دکھانا شروع کر دیا۔ یہ بہو رانی سے زیادہ اپنے آپ کو مہارانی سمجھنے لگی، جتنا دلہن بننے پر اسے پروٹوکول دیا گیا اس نے اپنے آپ کو مہارانی کے درجے پر فائز کر کے گھر بار کے لوگوں کو اپنا خدمت گزار بنا لیا۔ ساس کے سامنے اکڑ کر چلتی ہے، نندوں کو ایسے رعب سے بلاتی کہ جیسے اس کی خادمائیں ہیں، دیور کے کئی بار بازار کے چکر لگواتی ہے، اب گھر والے سب اس کو اس لئے برداشت کر رہے ہیں کہ وہ ان کے بیٹے کی پسند ہے اس نے اسے بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے، اب وہ اس کا غلام بنا ہوا ہے۔ ساس ڈرتی ہے کہ اگر بہو کو کچھ کہا تو بیٹا ناراض ہو جائے گا، ماں اپنے بیٹے کی ناراضی کی وجہ سے بہو کی حاکمیت سہہ رہی ہے۔ایک اور بہو کو دیکھتے ہیں جس کا اپنا دماغ ہی نہیں وہ ہر طرح کی ڈکٹیشن اپنے میکے سے لیتی ہے، میکے والے اس کو خوب مشورے دیتے ہیں کہ دب کر نہیں رہنا، پہلے دن جو دب گئی تو وہ تجھے دبا کر رکھیں گے، رعب کے ساتھ رہنا، سسرالیوں کو سر پر چڑھا نہ لینا اپنے خاوند کو ہاتھ میں رکھنا، ایسی بہو اپنے گھر میں کبھی سکون نہیں لا سکتی۔ایک بہو ایسی ہے کہ وہ اپنے خاوند کی کمائی چھپا کر میکے بھیجتی ہے، فوراً علیحدہ گھر کا مطالبہ کرتی ہے اور خاوند کو ایک پیسہ بھی اپنی والدہ اور والد پر خرچنے نہیں دیتی، خاوند کا بھی خیال نہیں رکھتی، بازار سے پکا پکایا منگوا کر کھا لیتی ہے، سارا سارا دن لیٹی سٹار پلس کے ڈرامے دیکھتی رہتی ہے یا ناول پڑھتی رہتی ہے، اب تو واٹس اپ کا زمانہ آ گیا ہے،بوڑھی ساس نے پانی مانگا تو تڑخ سے جواب دیتی ہے کہ جا بڈھی اٹھ کر پی لے۔ میرے ڈرامے کا ٹائم ہو چکا ہے۔ پانی مانگتی بڑھیا کے پیاسے لب ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاتے ہیں۔ سین ہی اس بڑھیا نے خراب کر دیا۔ خاوند اگر کبھی اپنی ماں کے پاس بیٹھ جائے تو طوفان کھڑا کر دیتی ہے کہ پتہ نہیں بڑھیا تجھے کیا میرے خلاف بھڑکا رہی تھی۔ ایسی بہو سب سے خطرناک ہے جو گھر کی ایک ایک بات میکے والوں کو بتلاتی ہے اور وہ میکے والے بھی غلط ہیں جو اسے غلط ہدایات دیتے ہیں۔
بہرحال! اچھی بہو وہ ہے جو اپنے سسرال والوں کا خیال رکھے، اپنے ساس سسر کو اپنے والدین کی طرح عزت و احترام دے، خاوند کی بہنوں کو بھی محبت و پیار دے، یہ سمجھے کہ وہ بھی میری طرح اڑ جانے والے پنچھی ہیں، انہوں نے اگلے گھر چلے جانا ہے، اس طرح ساس بھی بہو کو اس کا مقام دے، اسے گھر کی عزت جانتے ہوئے اس کوشفقت دے، ساس اس بات کو سمجھ لے کہ بہو سارے رشتے چھوڑ کر اس کے گھر میں آئی ہے اور خاص طور پر اس کے بیٹے کی بیوی بن کر، اس لئے رقابت و حسد کو ذرا بھی جگہ نہ دے۔ بیٹے اور بہو کو آزادانہ ماحول دے کیونکہ وہ ان کا حلال و شرعی حق ہے اور بہو رانی تب ہی گھر بھر کی رانی بنے گی جب اپنے خاوند کو اس کی ماں کے پاس بیٹھنے اور اس کی خدمت کرنے سے نہیں روکے گی۔ اپنے خاوند کو اس کی بہنوں سے گپ شپ کرنے سے منع نہیں کرے گی اور حسد و جلاپے کا شکار نہیں ہو گی۔ سسرال کی خدمت اگر فرض نہیں تو انسانیت اور صلہ رحمی کرتے ہوئے ان سے تعلقات اچھے رکھے گی کیونکہ اس طرح خود بھی خوش گھر والے بھی خوش، آخر میں علامہ اقبال کا ایک مصرعہ پیش کرتی ہوں:جذب باہم نہیں تو محفل انجم بھی نہیں یعنی اگر دونوں طرف ایک دوسرے کے درمیان الفت و محبت کی کشش نہیں تو گھر میں ستاروں جیسی چمک کی حامل محفل بھی سج نہیں سکتی۔

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
-------------------------

سسرال کا دل جیتنا کیا ناممکن ہے

سسرال کا دل جیتنا کیا ناممکن ہے

(فرزانہ چوہدری، فیصل آباد)

جانے کیوں بعض رشتوں میں کڑواہٹ بھری رہتی ہے۔ یہ کڑواہٹ کبھی تو اپنی ہی وجہ سے بھر جاتی ہے اور کبھی دوسرے بھرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ نازک رشتے مثلاً ساس، بہو ، نند ،بھاوج اور میاں بیوی کے ہوتے ہیں اگر ہر معاملے میں عقلمندی اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ نازک رشتے خونی رشتوں سے بھی زیادہ پیارے لگنے لگتے ہیں۔ ان رشتوں میں خرابیاں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی پڑ جاتی ہیں اور سنگین صورتحال اختیار کر لیتی ہیں اور معاملہ طلاق علیحدگی اور الگ گھر تک پہنچ جاتا ہے اور بعض اوقات شوہر کسی ایک جانب جھکاﺅ کر دیتا ہے تو دوسرا فریق ناراض ہو جاتا ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی انسان جو خلاﺅں میں گھوم رہا ہے۔ اتنی عقل سلیم کا مالک ہوتے ہوئے ان معاملات میں اتنا بے بس کیوں ہے؟ کیا یہ کسی جنگ کو جیتنے سے زیادہ سنگین معاملہ ہے؟ بات صرف اپنی غلطی کے اعتراف کی ہے اگر انسان غلطی کا اعتراف کرنا سیکھ جائے تو اسی فیصد معاملات سلجھ سکتے ہیں مثلاً بعض اوقات اس بات پر جھگڑا ہو جاتا ہے کہ کھانا ٹائم پر نہیں بنا اب بیوی کہتی ہے کہ میں مشین ہوں جو سارے کام بھی کروں اور ٹائم پر کھانا بھی بناﺅں پھر بچوں کی دیکھ بھال میں کون میرا ساتھ دیتا ہے۔ آپ تو بس حکم چلاتے رہتے ہیں۔ یہ بات بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے اور بیچ میں ساس نند کی دخل اندازی بہو کو اور گرم کردیتی ہے اگر شوہر کے وقت پر کھانا نہ بننے کے جواب میں بیوی یہ کہے کہ غلطی ہوگئی وقت کا احساس نہیں ہوا یا میں مصروف تھی، کہہ دے تو بات لمبی ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ساس اگر کوئی کام کر رہی ہے تو بہو کا حق بنتا ہے کہ وہ کہے امی لایئے میں کر دوں۔ آپ نے ساری عمر کام کیا اب ہمیں کام کا موقع دیں تو ساس کو بھی بہو بیٹی لگے گی اور بہو کو بھی اچھا لگے گا۔ بہو کھانا بناتی ہے۔ کھانے میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو بجائے ڈانٹ ڈپٹ کے پیار سے کہے بیٹی نمک کم ہے یا مرچ تیز ہے تو جواب میں بہو بھی پیار سے غلطی مانتے ہوئے یہ کہے کہ ذہن میں نہیں رہا یا کچھ بھی پیار سے کہہ دے لیکن اگر بہو لال پیلی ہو کر یہ کہنے لگے کہ آپ خود اپنا کھانا بنا لیا کریں مجھے تو ایسا ہی بنانا آتا ہے تو ساس کو وہ بیٹی نہیں لگے گی جو ماں کی بات ہنس کر سن لے، بہو ہی لگے گی جو کبھی بیٹی نہیں بن سکتی۔ اس طرح کے اور بھی واقعات زندگی میں رونما ہوتے ہیںجس میں غلطی اپنی ہی ہوتی ہے مگر ماننے سے انکاری ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اگر والدین بیٹی کو اچھی تربیت، اچھے طور طریقے سکھا کر رخصت کریں تو لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آتی اور بیٹی ہر رشتے کو نبھاتی ہے چاہے وہ بیوی کا ہو، بہو کا ہو، بھابی کا ہو یا دیورانی جیٹھانی کا۔ یہ ضروری نہیں کہ اچھے خاندان اور اچھے جہیز سے ہی بہو سسرال کے دل جیت سکتی ہے بلکہ اچھے طور طریقوں سے وہ سسرال میں نام پیدا کر لیتی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں ساس بہو کے رشتے کیلئے طرح طرح کی سوچیں ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے، کوئی کہتا ہے ماں بیٹے کی محبت کو تقسیم نہیں کر سکتی، کوئی بہو کو کہتا ہے کہ یہ جھگڑے پیدا کرنے کی ماہر ہے۔ آخر لوگ گھروں کے معاملات دوسروں تک کیوں پہنچاتے ہیں؟ دوسرے تماشا دیکھتے ہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ بات بہو کے میکے میں نہ جائے کہ وہ اصل حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ قصور بیٹی کے سسرال والوں کا ہے یا بیٹی کا ہے۔ وہ بیٹی کے سسرال کو ہی برا بھلا کہیں گے اور اپنی بیٹی کو لے جائیں گے اور اس کے سسرال والوں کو مجبور کریں گے کہ گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئیں اور اپنی بہو کو لے جائیں۔ اس کا ردعمل یہ نکلے گا کہ وہی بہو سسرال میں بیٹی کی بجائے بہو ہی کہلائے گی اگر گھر کے معاملات گھر میں ہی نبٹا لئے جائیں تو رشتے بھی برقرار رہتے ہیں اور زندگی بھی خوشگوار رہتی ہے۔ سسرال والوں کو چاہئے کہ بہو کے جہیز کو لیکر جھگڑا نہ کریں ۔کم جہیز ہے یا نکما ہے، یہ باتیں بہو کو آپ سے دور کر سکتی ہیں بلکہ سوچئے کہ خاندانی بہو نصیب والوں کو ملتی ہے اور زندگی کی خوشیاں سازوسامان سے یا دھن دولت سے نہیں ملتیں بلکہ لب ولہجے ،طور طریقوں، آداب واطوار کے حسن سے ملتی ہیں۔ گھر کے بڑوں کا حق ہے کہ بہو اور بیٹی میں فرق روانہ رکھیں بلکہ بہو کو بیٹی کا درجہ دیں اور محبت کی برابر تقسیم کریں۔ بہو بیٹی کا حق ہے کہ اگر غلطی ان کی نکلے تو ان کا مسئلہ نہ بنائیں، معافی مانگیں اور بہو کی غلطی ہے تو وہ شرمندگی کا اظہار کرے۔ بیٹی کی غلطی ہے تو وہ غلطی کا اعتراف کرے اور معافی مانگے۔ اس سے انصاف کے تقاضے بھی پورے ہونگے۔ ایک اہم مسئلہ جو تقریباً بیٹیوں کے والدین کو لاحق ہے کہ ان کی دو، تین، یا پانچ بیٹیاں ہیں مگر وہ اپنے اپنے سسرال میں خوش نہیں ہیں کیا وجہ ہے کہ سب الگ الگ گھروں میں ہیں مگر سب کو یہی مسئلہ ہے کہ سسرال والے اچھے نہیں ہیں والدین بھی بجائے یہ دیکھنے کے کہ غلطی ان کی اپنی بیٹیوں کی کتنی ہے؟ سسرالی رشتے داروں کی کتنی ہے ؟ قصور سسرالی رشتے داروں کا نکالتے ہیں حالانکہ کچھ ان کے اپنے ہی خاندانی لوگ ہیں وہ بھی غلط کہلواتے ہیں اگر معاملات کو ٹھنڈے دماغ سے دیکھئے تو آپ ان معاملات کو سلجھا سکتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو سمجھایئے۔ انہیں بتایئے کہ جس طرح ہم تمہارے والدین ہیں اسی طرح ساس سسر تمہارے والدین ہیں، جس طرح ہمارے بیٹے بیٹیاں تمہارے بھائی بہن ہیں اسی طرح دیور، جیٹھ، نندیں تمہارے بھائی بہن ہیں، جس طرح ہم تمہیں ڈانٹ سکتے ہیں وہ بھی تمہیں ڈانٹ سکتے ہیں، جس طرح تمہارے بھائی بہن تم سے روٹھ جاتے تھے تو تم منا لیتی تھی اسی طرح تمہاری نندیں ، تمہارے دیور بھی تم سے روٹھ سکتے ہیں، تم انہیں بھی منایا کرو۔ یہ باتیں ایک طرف تو بیٹی کو سسرال میں رشتوں کی پہچان سکھاتی ہیں تو دوسری طرف وہ بیٹی سسرال میں بیٹی ہی رہتی ہے بہو نہیں بنتی۔ خدارا ان رشتوں میں نفرت بھی ہم ہی بھرتے ہیں اور محبت بھی ہم ہی بھرتے ہیں اب سوچئے کہ زندگی جنت بنانا چاہتے ہیں یا جہنم؟ والدین کو چاہئے کہ بیٹیوں کو اچھی تربیت دیں تاکہ وہ آپ کیلئے بوجھ نہ بنیں۔ شاید اسی لئے لوگ بیٹیوں کو بوجھ کہتے ہیں۔ شادی سے پہلے بھی والدین انہیں لوگوں کی گندی نظروں سے بچاتے ہیں اور شادی کے بعد انہیں سسرال میں بسانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بات نہ بنے تو وہ قسمت کا رونا روتے ہیں۔بہو جو ایک خاندان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے اس کے اختیار میں ہے کہ وہ چاہے تو شوہر کو اس کے عزیزوں سے جوڑے رکھے اور چاہے تو ڑ ڈالے اگر وہ شوہر پر حق جما سکتی ہے تو شوہر پہلے ایک ماں باپ کا بیٹا، بہن بھائیوں کا بھائی ہے اسکے بعد اس کا شوہر ہے۔-
ہم یہ بهی نہیں کہتے کہ صرف بہو ہی غلط ہوتی ہے..بعض دفعہ ساس بهی اپنی بہو کے ساتھ منفی رویہ رکهتی ہے...
اور کچھ مرد بهی غیر ذمہ دار ضرور ہوتے ہیں
مثلاً نشہ کرنا.کسی دوسری عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم رکھنا، کام نہ کرنا اور گهر کی ذمہ داری نہ اٹهانا-یا صرف ایک طرفہ بات سن کر دوسرے کو بغیر سوچے سمجھے برا کہنا-
ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ جن چهوٹی چهوٹی حرکتوں رشتہ توڑنے میں پل نہیں لگتا اگر تهوڑا صبر اور عقل مندی سے کام لیا جائے تو گهر کو توڑنے سے بچایا جا سکتا  ہے...

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
-------------------------

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...