Sunday, 28 August 2016

(جادو جنات اور علاج قسط نمبرA10)

(جادو جنات اور علاج قسط نمبرA10)

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان* دوسرا طریقہ:
جادوگر کوئی پرندہ (فاختہ وغیرہ) یا کوئی جانور (مرغی وغیرہ) جنوں کی بتائی گئی خاص شکل و صورت کے مطابق منگواتا ہے جس کا رنگ غالباً سیاہ ہوتا ہے، کیونکہ  جن سیاہ رنگ کو دوسرے رنگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ پھر وہ اسے ‘بسم اللہ’ پڑھے بغیر ذبح کر دیتا ہے اور اس کا خون مریض کے جسم پر ملتا ہے، پھر اسے کھنڈرات میں یا کنوؤں میں یا غیر آباد جگہوں میں پھینک دیتا ہے جو کہ عموماً جنوں کے گھر ہوتے ہیں، اور اسے ان میں پھینکتے ہوئے بھی ‘بسم اللہ’ نہیں پڑھتا، پھر اپنے گھر چلا جاتا ہے اور شرکیہ تعویذات پڑھنے کے بعد جو چاہتا ہے جنوں کو حکم جاری کر دیتا ہے۔
مندرجہ طریقے میں دو طرح سے شرک پایا جاتا ہے:
1۔ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جنوں کے لئے جانور ذبح کرنا حرام بلکہ شرک ہے، کیونکہ یہ ذبح لغیراللہ ہے، چنانچہ ایسےجانور کا گوشت کھانا بھی کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اسے غیر اللہ کیلئے ذبح کرے، جبکہ جاہل لوگ ایسا ناپاک فعل ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر کرتے رہتے ہیں۔
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھے وہب نے بیان کیا ہے کہ ایک خلیفۂ وقت کے دور میں ایک چشمہ دریافت ہوا، اس نے اسے عام لوگوں کے لئے کھول دینے کا ارادہ کیا اور  اس پر جنوں کیلئے جانور ذبح کیا تاکہ وہ اس کا پانی بہت گہرائی تک نہ پہنچا دیں، پھر اس کا گوشت لوگوں کو کھلا دیا، یہ بات امام ابن شہاب زہری تک پہنچی تو وہ فرمانے لگے:
“خبردار! ذبح شدہ جانور حرام ہےاور خلیفۂ وقت نے لوگوں کو حرام کھلایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے اُس جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے  جسے جنوں کےلئے ذبح کیا گیا ہو۔” (آکام المرجان:ص78)
اور صحیح مسلم میں حضرت علی بن ابی طالبؓ سے مروی ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیراللہ کےلئے کوئی جانور ذبح کیا” (صحیح مسلم:1978)
2۔ شرکیہ تعویذات جنہیں جادوگر جنوں کو حاضر کرنے کیلئے پڑھتا ہے، ان میں واضح طور پر شرک موجود ہوتا ہے اور اس کی وضاحت شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کئی کتابوں میں کی ہے۔
تیسرا طریقہ:
یہ طریقہ جادوگروں میں انتہائی گھٹیا طریقے کے طور پر مشہور ہے اور اس طریقے کو اپنانے والے جادوگر کی خدمت کے لیے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کیلئے شیطانوں کا بہت بڑا گروہ اس کے پاس موجود رہتا ہے، کیونکہ ایسا جادوگر کفر والحاد کے اعتبار سے بہت بڑا جادوگر تصور کیا جاتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
یہ طریقہ مختصر طور پر کچھ یوں ہے:
جادوگر۔۔۔۔۔ اس پر اللہ کی ڈھیر لعنتیں ہوں۔ قرآن مجید کو جوتا بنا کر اپنے قدموں میں پہن لیتا ہے، پھر بیت الخلاء میں جا کر کفریہ طلسموں کو پڑھتا ہے، پھر باہر آ کر اپنے کمرے میں بیٹھ جاتا ہےاور جنوں کو حکامات جاری کرتا ہے، چنانچہ جن بہت جلدی اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حکامات نافذ کرتے ہیں، کیونکہ وہ مندرجہ بالا طریقے پر عمل کر کےکافر اور شیطانوں کا بھائی بن چکا ہوتا ہے، سو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
یاد رہے کہ ایسا جادوگر مندرجہ بالا کفریہ کام کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی کرتا ہے، مثلاً محرم عورتوں سے زنا کرنا، لواطت کرنا اور دین اسلام کو گالیاں بکنا وغیرہ۔ اور  یہ سب وہ اس لئے کرتا ہے کہ تاکہ شیطان اس پر راضی ہو جائیں۔
چوتھا طریقہ:
ملعون جادوگر قرآنِ  مجید کی کوئی سورت حیض کے خون سے  یا کسی اور ناپاک چیز سے لکھتا ہے پھر شرکیہ طلسم پڑھتا ہے۔ اور اس طرح جنوں کو اپنی فرمانبرداری کےلئے حاضر کر لیتا ہے اور جو چاہتا ہے انہیں حکم دیتا ہے۔
اس طریقے میں بھی کفرِ صریح موجود ہے کیونکہ قرآن مجید کی  ایک آیت کے ساتھ استہزاء کرنا بھی کفر ہے، چہ جائیکہ اسے ناپاک چیز کے ساتھ لکھا جائے۔
پانچواں طریقہ:
ملعون جادوگر قرآن مجید  کی کوئی سورت الٹے حروف میں لکھتا ہے، پھر شرکیہ تعویذ پڑھ کر جنوں کو حاضر کر لیتا ہے۔
یہ طریقہ بھی حرام ہے، کیونکہ قرآن مجید کو الٹے حروف میں لکھنا کفر اور شرکیہ تعویذات کو پڑھنا شرک ہے۔
چھٹا طریقہ:
جادوگر ایک خاص ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے، اور جب وہ طلوع ہو جاتا ہے تو جادوگر اس سے مخاطب ہوتا ہے۔ پھر جادو والے وِرد پڑھتا ہے جن میں کفر اور شرک موجود ہوتا ہے، پھر چند ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ اس کے خیال کے مطابق ان حرکتوں سے اس ستارے کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی ان حرکات سے اس ستارے کی پوجا کر رہا ہوتا ہے، اور جب وہ غیراللہ کی پوجا شروع کرتا ہے تو شیطان اس ملعون کے اَحکامات پر لبیک کہتے ہیں، جبکہ جادوگر یہ سمجھتا ہے کہ اس ستارے نے اس کی مدد کی ہے، حالانکہ ستارے کو تو اس کی کسی حرکت کا علم ہی نہیں ہوتا۔
اور جادوگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا طریقے سے کیا گیا جادو اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک یہ ستارہ دوبارہ طلوع نہ ہو۔ اور ایسے ستارے بھی ہیں جو سال میں صرف ایک مرتبہ طلوع ہوتے ہیں،  چنانچہ وہ سال بھر  اس ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں، پھر ایسے ورد پڑھتے ہیں جن میں اس ستارے کو مدد کےلئے پکارا جاتا ہے تاکہ جادو کا اثر ختم ہو جائے، بہرحال یہ تو جادوگروں کا خیال ہے جبکہ قرآنی علاج کرنے والے لوگ اس ستارے کا انتظار کیے بغیر کسی بھی وقت اس جادو کو توڑ سکتے ہیں۔
اس طریقے میں بھی شرک واضح طور پر موجود ہےکیونکہ اس میں غیر اللہ کی تعظیم اور غیر اللہ کو مدد کےلئے پکارنا جیسے قبیح افعال موجود ہیں۔

جاری ہے.......

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

(جادو جنات اور علاج قسط نمبرA8 )

(جادو جنات اور علاج قسط نمبرA8 )

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

تیسرا حصہ:

جادو کی اقسام:
امام رازیؒ کے نزدیک جادو کی اقسام
امام راغبؒ کے نزدیک جادو کی اقسام
اقسامِ جادو کی وضاحت
امام رازیؒ کے نزدیک جادو کی اقسام
امام عبداللہ رازیؒ کہتے ہیں کہ جادو کی آٹھ قسمیں ہیں:
1۔ ان لوگوں  کا جادو  جو سات ستاروں کی پوجا کرتے تھے اور اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہی ستارے کائنات کے امور کی تدبیر کرتے ہیں اور خیر و شر کے مالک ہیں، اور یہی وہ لوگ تھے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو نبی بنا کر بھیجا۔
2۔ اصحابِ اوہام اور نفوسِ قویہ کا جادو:
الرازی کے نزدیک وہم موثر ہوتا ہے، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک درخت کا تنا جب زمین پر پڑا ہو تو انسان اس پر چل سکتا ہے، لیکن اگر اسی تنے کو کسی نہر پر پل بنا کر گاڑ دیا جائے تو وہ اس پر نہیں چل سکتا، اسی طرح ڈاکٹروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص کی  ناک سے خون بہ رہا ہو وہ سرخ رنگ کی چیزوں کی طرف نہ دیکھے، اور جس شخص کو مرگی کا دورہ پڑ گیا ہو وہ چمکیلی اور گھومنے والی چیزوں کی طرف نہ دیکھے، اور یہ تصورات صرف اس لئے اختیار کئے گئے ہیں کہ نفسِ انسانی فطری طور پر ان توہمات کو قبول کر لیتا ہے۔
3۔ جادو کی تیسری قسم یہ ہے کہ گھٹیا اَرواح یعنی شیطان قسم کے جنوں سے مدد حاصل کر کے جادو کا عمل کیا جائے۔ اور جنات کو قابو میں لانا چند آسان کاموں کی مدد سے ممکن ہے بشرطیکہ ان میں کفر و شرک پایا جاتا ہو۔
4۔ چند کام شعبدہ بازی اور برق رفتاری سے کرکے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنا، چنانچہ ایک ماہر شعبدہ باز ایک عمل کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے، اور جب لوگ مکمل طور پر اپنی نظریں اس عمل پر ٹکائے ہوئے ہوتے ہیں، تو وہ اچانک اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ ایک اور عمل کرتا ہے جس کی لوگوں کو ہر گز توقع نہیں ہوتی، سو وہ حیران رہ جاتے ہیں، اور لوگوں کی اسی حیرانی میں وہ اپنا کام کر جاتا ہے۔
5۔ وہ عجیب و غریب چیزیں جو بعض آلات کی فٹنگ سے سامنے آتی ہیں، مثلاً وہ بگل جوایک گھڑ سوار کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور وقفے وقفے سے خود بخود بجتا رہتا ہے، اور اسی طرح ٹائم پیس وغیرہ ہیں جو وقتِ مقررہ پر خود بخود بجنے لگ جاتے ہیں۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ اس کو در حقیقت جادو میں شمار نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اس  کا ایک خاص طریقۂ کار ہوتا ہے اور جو بھی اسے معلوم کر لیتا ہے اس کے بعد وہ ایسی چیزوں کو ایجاد کر سکتا ہے۔ اور ہمارہ خیال بھی یہی ہے کہ سائنسی ترقی کے بعد اس زمانے میں تو یہ چیزیں عام ہو گئی ہیں، لہٰذا اسے جادو کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
6۔ بعض دوائیوں کے خواص سے مدد لے کر عجیب و غریب بیماریوں کے علاج دریافت کرنا۔
7۔ دل کی کمزوری، اور یہ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جادوگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے “اسم اعظم” معلوم ہے، جنات اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی ہر بات پر عمل کرتےہیں۔ اس کا یہ دعویٰ جب کمزور دل والا انسان سنتا ہے تو اسے درست تسلیم کر لیتا ہے اور خواہ مخواہ اس سے ڈرنے  لگ جاتا ہے، اسی حالت میں جادوگر جو چاہتا ہے اسے کر گزرنے کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔
8۔ چغل خوری کرکے لوگوں میں نفرت کے جذبات بھڑکا دینا اور ان میں سے کچھ کو اپنے قریب کر لینا اور ان سے اپنے مطلب کا کام نکالنا۔
حافظ ابن کثیرؒ ان آٹھ اقسام کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
“ان اقسام میں سے بہت ساری قسموں کو امام رازیؒ نے فن جادو میں اس لیے شامل کر دیا ہے کہ ان کو سمجھنے کیلئے انتہائی باریک بین عقل درکار ہوتی ہے، اور ‘سحر’ عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو باریک بین ہو اور اس کا سبب مخفی ہو۔”
امام راغب کے نزدیک اقسامِ جادو
امام راغب کہتے ہیں:
‘سحر’ کا اطلاق کئی معنوں پر ہوتا ہے:
1۔ جو لطیف اور انتہائی باریک ہو، اور لطافت اور باریکی کی وجہ سے اس میں دھوکہ دہی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
2۔ جو بے حقیقت توہمات سے واقع ہو۔
3۔ جو شیطانوں کی مددومعاونت سے حاصل ہو۔
4۔ جوستاروں کو مخاطب کرنے سے ہو۔ (المفردات للراغب(سحر))
اقسامِ جادو کے متعلق ایک وضاحت
امام رازی اور راغب کی  تقسیماتِ جادو میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فن جادو میں وہ چیزیں داخل کر دی ہیں جن کا جادو سے کوئی تعلق نہیں، اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے عربی زبان میں لفظ ‘سحر’ کے معنی کو سامنے رکھا ہے، اور عربی میں سحر ہر اس پر بولتے ہیں جو لطیف  (باریک) ہو اوراس کا سبب مخفی ہو۔ چنانچہ انہوں نے نئی نئی ایجادات اور ہاتھ کی صفائی سے برآمد ہونے والے اُمور کو بھی جادو میں شامل کر دیا، اور اسی طرح چغل خوری وغیرہ کرکے کام نکالنے کو بھی جادو قرار دیا ہے کیونکہ ان سب کے اسباب مخفی ہوتے ہیں، جبکہ ان سب چیزوں کا ہماری بحث سے کوئی تعلق نہیں، ہماری گفتگو کا دارومدار صرف حقیقی جادو پر ہے جس میں جادوگر جنات اور شیاطین کا سہارا لیتا ہے۔
پھر ایک اور حقیقت کا بیان بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ رازیؒ اور راغبؒ نے ستاروں کے ذریعے جادو کا عمل کرنے کا ذکر کیا ہے، جبکہ ہمارہ عقیدہ یہ ہے کہ ستارے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہیں اور اللہ ہی کے احکامات کے پابند ہیں اور نہ ان کی کوئی روحانیت ہے اور نہ کوئی تاثیر ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کئی جادوگر ستاروں کے نام لے کر ان سے مخاطب ہوتے نظر آتے ہیں اور اس کے بعد ان کا جادو مکمل ہوتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیز جادو کہ تاثیر  کی وجہ سے نہیں شیطانوں کی تاثیر کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ خود شیطانوں نے جادوگروں کو یہ تعلیمات  دے رکھی ہوتی ہیں کہ وہ ستاروں کو پکارہ کریں، چنانچہ وہ جب ایسا کرتے ہیں تو شیطان جادو کے سلسلے میں ان سے تعاون کرتے ہیں، لیکن اس کا پتہ جادوگروں کو نہیں لگنے دیتے، جیسا کہ کافر پتھر کے بنے ہوئے بتوں کو جب پکارتے تھے تو شیطان بتوں کے اندر سے ان کو جواب دیتے تھے، اور کافروں کو یقین ہو جاتا تھا کہ یہی بت ان کے معبود ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ تھا، یہ تو صرف شیطانوں کی طرف سے ان کافروں کو گمراہ کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

ایسے 5 مشروبات جو وزن میں کمی کے ساتھ آپ کو سمارٹ بھی بنائیں

 ایسے 5 مشروبات جو وزن میں کمی کے ساتھ آپ کو سمارٹ بھی بنائیں

سافٹ ڈرنکس اور شکر سے بھرپور مشروبات اگرچہ زبان پر تو اچھے لگتے ہیں لیکن صحت پر ان کے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ یہ موٹاپے کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ ان شربتوں میں موجود کیمیائی اجزا ذیابیطس اور امراضِ قلب کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ اگر آپ وزن کم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو رمضان المبارک کے روزے اس میں بہت مدد کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ آپ وزن کم کرنے والے مشروبات کے استعمال سے بدن میں چکنائی کم کرکے موٹاپے سے نجات کی جانب بڑھ سکتے ہیں کیونکہ غذا کے ساتھ کے ساتھ مشروبات بھی صحت پر یکساں اثر انداز ہوتےہیں۔ اب غذائی ماہرین ایسے مشروبات پینے کا مشورہ دے رہے ہیں جو ذائقے میں عمدہ ، پیاس بجھانے میں لاجواب اور پورا دن آپ کو تروتازہ رکھتے ہیں۔
*تربوز کا شربت تربوز ایک جادوئی پھل ہے جو بلڈ پریشر، دل کے امراض سے بچانے کے ساتھ ساتھ وزن بھی کم کرتا ہے۔ تربوز میں پانی کی غیرمعمولی مقدار جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ اس میں موجود امائنوایسڈ صحت پر بہت مثبت طور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس میں موجود ایک جزو لائسوپین کینسر پیدا ہونے سے روکتا ہے۔تربوز میں موجود اجزا وزن کم کرتے ہیں لیکن صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ہوتا۔
*پودینے کی چائے پودینہ بہت سے فائدہ مند اجزا کا ایک خزانہ ہے اور پیٹ کم کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ معدے کو طاقت دیتا ہے اور ہاضمے کو مو¿ثر بناتا ہے جس کے بعد معدہ غذا کو اچھی طرح ہضم کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ پودینے کی چائے میں اگر اگر دارچینی بھی شامل کی جائے تو اس سے شوگر ہونے کا خطرہ بہت حد تک ٹل جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال پھولے ہوئے پیٹ کو کم کرتا ہے۔ اگر گرم چائے کا ذائقہ اچھا نہ لگے تو اس میں برف شامل کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
*نناس کا جوس انناس کو جوسر میں ڈال کر اس کا بغیر دودھ کا شیک بنالیجئے جسے ’اسمودی‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں موجود اینزائم بروملین پیٹ میں موجود غذا کو فوری طور پر ہضم کرتے ہیں اور پیٹ کے گھیر کو کم کرتے ہیں۔ اگر کسی طرح اس میں السی (فلیکس سیڈ) کا چمچہ بھر تیل شامل کردیا جائے تو اس کا فائدہ دو چند ہوسکتا ہے۔
*پانی کونظر انداز نہ کیجئے پانی میں جسم کے سیکڑوں افعال کو منظم اور انسان کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ اگر ہر کھانے سے قبل ایک گلاس پانی پیا جائے تو اس کے حیرت انگیز نتائج برامد ہوتے ہیں اور اگر میز پر ایک جانب کئی سافٹ ڈرنکس رکھی ہوں اور دوسری جانب سادہ پانی ہو تو اپ پانی کی جانب ہاتھ بڑھائیے۔ یاد رکھئے ٹھنڈا پانی بھی جسم کے اندر کئی مثبت اثرات کا باعث بنتا ہے اسی لیے بہت پانی پیجئے اور پورا دن اس کا استعمال رکھئے۔
لیکن زیادہ ٹهنڈا نہ معتدل ہو
*سبز چائے سبز چائے دل کے امراض، کینسر اور وزن کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے اور طویل تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اجزا چربی گھلاتے ہیں اور وزن کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سبز چائے میں کئی معدنیات اور جسم کے لیے انتہائی مفید اجزا موجود ہوتے ہیں۔
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
-------------------------

ایسے 5 مشروبات جو وزن میں کمی کے ساتھ آپ کو سمارٹ بھی بنائیں

 ایسے 5 مشروبات جو وزن میں کمی کے ساتھ آپ کو سمارٹ بھی بنائیں

سافٹ ڈرنکس اور شکر سے بھرپور مشروبات اگرچہ زبان پر تو اچھے لگتے ہیں لیکن صحت پر ان کے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ یہ موٹاپے کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ ان شربتوں میں موجود کیمیائی اجزا ذیابیطس اور امراضِ قلب کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ اگر آپ وزن کم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو رمضان المبارک کے روزے اس میں بہت مدد کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ آپ وزن کم کرنے والے مشروبات کے استعمال سے بدن میں چکنائی کم کرکے موٹاپے سے نجات کی جانب بڑھ سکتے ہیں کیونکہ غذا کے ساتھ کے ساتھ مشروبات بھی صحت پر یکساں اثر انداز ہوتےہیں۔ اب غذائی ماہرین ایسے مشروبات پینے کا مشورہ دے رہے ہیں جو ذائقے میں عمدہ ، پیاس بجھانے میں لاجواب اور پورا دن آپ کو تروتازہ رکھتے ہیں۔
*تربوز کا شربت تربوز ایک جادوئی پھل ہے جو بلڈ پریشر، دل کے امراض سے بچانے کے ساتھ ساتھ وزن بھی کم کرتا ہے۔ تربوز میں پانی کی غیرمعمولی مقدار جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ اس میں موجود امائنوایسڈ صحت پر بہت مثبت طور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس میں موجود ایک جزو لائسوپین کینسر پیدا ہونے سے روکتا ہے۔تربوز میں موجود اجزا وزن کم کرتے ہیں لیکن صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ہوتا۔
*پودینے کی چائے پودینہ بہت سے فائدہ مند اجزا کا ایک خزانہ ہے اور پیٹ کم کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ معدے کو طاقت دیتا ہے اور ہاضمے کو مو¿ثر بناتا ہے جس کے بعد معدہ غذا کو اچھی طرح ہضم کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ پودینے کی چائے میں اگر اگر دارچینی بھی شامل کی جائے تو اس سے شوگر ہونے کا خطرہ بہت حد تک ٹل جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال پھولے ہوئے پیٹ کو کم کرتا ہے۔ اگر گرم چائے کا ذائقہ اچھا نہ لگے تو اس میں برف شامل کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
*نناس کا جوس انناس کو جوسر میں ڈال کر اس کا بغیر دودھ کا شیک بنالیجئے جسے ’اسمودی‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں موجود اینزائم بروملین پیٹ میں موجود غذا کو فوری طور پر ہضم کرتے ہیں اور پیٹ کے گھیر کو کم کرتے ہیں۔ اگر کسی طرح اس میں السی (فلیکس سیڈ) کا چمچہ بھر تیل شامل کردیا جائے تو اس کا فائدہ دو چند ہوسکتا ہے۔
*پانی کونظر انداز نہ کیجئے پانی میں جسم کے سیکڑوں افعال کو منظم اور انسان کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ اگر ہر کھانے سے قبل ایک گلاس پانی پیا جائے تو اس کے حیرت انگیز نتائج برامد ہوتے ہیں اور اگر میز پر ایک جانب کئی سافٹ ڈرنکس رکھی ہوں اور دوسری جانب سادہ پانی ہو تو اپ پانی کی جانب ہاتھ بڑھائیے۔ یاد رکھئے ٹھنڈا پانی بھی جسم کے اندر کئی مثبت اثرات کا باعث بنتا ہے اسی لیے بہت پانی پیجئے اور پورا دن اس کا استعمال رکھئے۔
لیکن زیادہ ٹهنڈا نہ معتدل ہو
*سبز چائے سبز چائے دل کے امراض، کینسر اور وزن کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے اور طویل تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اجزا چربی گھلاتے ہیں اور وزن کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سبز چائے میں کئی معدنیات اور جسم کے لیے انتہائی مفید اجزا موجود ہوتے ہیں۔
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
-------------------------

عرق گلاب کے دس فوائد جن کے بارے میں ہر کوئی نہیں جانتا

  عرق گلاب کے دس فوائد جن کے بارے میں ہر کوئی نہیں جانتا

گلاب کے پھولوں کو اکثر حسن اور خوبصورتی سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔ مشرق میں گلاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسے کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چاہے خوشی کا موقع ہو یا غم کا گلاب کے پھولوں کا ہونا لازمی ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت پھول ہے جس کی خوشبو سکون اور تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ قیمت میں زیادہ مگر خصوصیات کے اعتبار سے انمول ہے۔ اس کی پتیوں کی طرح اس میں سے نکلنے والا عرق بھی بڑے کام کی چیز ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال جلد کو خوبصورت اور دلکش بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
عرق گلاب کو مندرجہ ذیل 10مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:
1۔ آنکھوں کی سوجن دور کرنے کے لیے اکثر صبح اٹھ کر آپ کی آنکھیں سوج جاتی ہیں۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسے کے جسم میں پانی کی کمی، ذہنی دباو¿ یا بادی غذا کا استعمال۔ صبح اٹھ کہ اگر آپ کی آنکھیں سوجی ہوئی لگیں تو ان پر عرق گلاب چھڑکنے سے سوجن چلی جائے گی۔ اس کے علاوہ آپ روئی کے ٹکڑوں کو عرق گلاب میں بھگو کر بھی آنکھوں پر رکھ سکتے ہیں۔ اس عمل سے آنکھوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
2۔ کلیزر کے طور پر روئی کو عرق گلاب میں بھگو کر اس سے چہرہ صاف کرنے سے جلد میں موجود گرد اور میل کچیل صاف ہوجاتا ہے اور آپ کا چہرہ تروتازہ لگنے لگتا ہے۔ یہ ایک بہترین اینٹی سیپٹک بھی ہے۔ عرق گلاب چہرے کو نرم و ملائم کرتا ہے اور اسے صاف اور چمکدار بناتا ہے۔
3۔ فیس پیک بنانے کے لیے عرق گلاب فیس پیک بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیسن کو عرق گلاب میں گھول کر چہرے پر لگائیں۔ خشک ہونے پر دھولیں۔ یہ فیس پیک چکنی جلد والوں کے لیے مفید ہے۔ رات کو سونے سے پہلے ملتانی مٹی اور عرق گلاب کا پیسٹ بنا کر چہرے پر لگانے سے چہرے کا سارامیل کچیل صاف ہو جاتا ہے۔ دونوں مکسچر سے ہی چہرے کو ٹھنڈک پہنچتی ہے اور چہرہ چمکدار ہوجاتا ہے۔ اگر آپ کی جلد خشک ہو تو آپ ایلوویرا اور عرق گلاب کا پیک بھی استعمال کر سکتی ہیں۔
4۔ چہرے میں مناسب نمی برقرار رکھنے کے لیے خشک جلد والوں کی جلد پر عرق گلاب مواسچرائزر کا کام کرتا ہے اور جلد کی کھچاوٹ دور کرتا ہے۔ جبکہ چکنی جلد والوں کے چہرے پر عرق گلاب کے استعمال زائد چکناہٹ اور تیل ختم ہوجاتا ہے۔ یہ آپ کی جلد میں مناسب نمی برقرار رکھتا ہے۔
5۔ رات میں میں بطور ٹونر استعمال ایک چھوٹا چمچ عرق گلاب اور ایک چھوٹا چمچ دودھ ملا کہ روئی کی مدد سے چہرے اور ہاتھوں پر لگائیں۔ اس سے آپ کی جلد کی رنگت ایک سی رہتی ہے۔ مستقل استعمال سے چہرے کی ٹین نیس یا جھلساہٹ اور سیاہ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
6۔ جلد کی خشکی دور کرنے کے لیے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، ایلوویرا کے ساتھ عرق گلاب کا استعمال چہرے کی نمی بحال کرتا ہے۔ دن بھر وقفے وقفے سے عرق گلاب کا اسپرے کرنے سے خشک جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے۔
7۔ چہرے کے دھبے اور جھریاں مٹانے کے لیے دہی، میں کھیرااور سندل کی لکڑی پیس کر ملالیں اس میں عرق گلاب شامل کرکے ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اسے چہرے پر بطور ماسک لگانے سے دھبوں اور جھریوں کے علاوہ کیل مہاسے اور چوٹ کے نشان بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
8۔ شیمپو کے بعداستعمال شیمپو کرنے کے بعداکثر بال خشک ہوجاتے ہیں۔ اگر بال دھونے کے بعد بالوں کی جڑوں پر عرق گلاب لگا لیا جائے تو بال خشک نہیں ہونگے۔
9۔ ایک بہترین کنڈشنر یہ ایک بہترین کنڈشنر کا کام کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ سر پر خشکی پیدا کرنے والے فنگس کو بھی ختم کرتا ہے۔
10۔ چہرہ دھونے کے لیے عرق گلاب کو فیس واش میں ملا کر لگانے سے فیس واش کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ عرق گلاب میں موجود وٹامن بی تھری، سی، ڈی اور ای چہرے کی شادابی برقرار رکھتے ہیں۔ گلاب چہرے اور جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے بے حد مفید ہے۔ یہ نہ صرف اس کی دلکشی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اسے صحت مند بھی بناتا ہے۔
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
-------------------------

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...