Saturday, 22 October 2016

*ایک کپ کافی دیوار پر*

*ایک کپ کافی دیوار پر*
  
 ہم دونوں دوست ، پانیوں اور روشنیوں  کے شہر  وینس  کےایک  نواحی قصبے کی مشہور کافی شاپ پر بیٹھے ہوئے کافی سے لظف اندوز ہو رہے تھے کہ  اس کافی شاپ میں ایک گاہک داخل ہوا  جو  ہمارے ساتھ والی  میز کو خالی پا کر یہاں  آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی بیرے کو آواز دیکر بلایا اور اپنا آرڈر یوں  دیا؛  دو کپ کافی لاؤ، اور اس میں سے ایک وہاں دیوار پر۔ ہم نے اس  شخص کےاس انوکھے  آرڈر کو دلچپسی سے سنا۔  بیرے نے آرڈر کی تعمیل کرتے ہوئے  محض ایک کافی کا کپ اس کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اس صاحب نے کافی  کا  وہ ایک کپ نوش کیا مگر پیسے دو کے ادا کئے۔ اس گاہک کے جاتے ہی بیرے(ویٹر) نے دیوار پر جا کر ایک کاغذ چسپاں کر دیا   جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔  ہمارے وہاں بیٹھے بیٹھے دو اور گاہک آئے جنہوں نے تین کپ کافی کا آرڈر دیا، دو ان کی میز پر اور ایک دیوار پر، پیئے تو انہوں نے دو ہی کپ، مگر ادائیگی تین کپ کی اور چلتے بنے۔ ان کے جانے کے بعد بھی بیرے نے ویسا ہی کیا، جا کر دیوار پر ایک اور ورقہ چسپاں کردیا جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔ایسا لگتا تھا یہاں ایسا ہونا معمول کی بات ہے مگر ہمارے لئے انوکھا اور ناقابل فہم تھا۔ خیر، ہمیں کونسا اس معاملے سے کچھ لینا دیا تھا، ہم نے اپنی کافی ختم کی، پیسے ادا کیئے  اور چلتے بنے۔چند دنوں کے بعد ہمیں ایک بار پھر اس کافی شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم بیٹھے کافی سے لطف اندوز ہو  رہے تھے کہ یہاں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے کپڑے اس کافی شاپ کی حیثیت اور یہاں کے ماحول سے قطعی میل نہیں کھا رہے تھے۔ غربت اس شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس شخص نے بیٹھتے ہی  پہلے دیوار کی طرف دیکھا اور پھر بیرے کو بلایا اور کہا؛ ایک کپ کافی دیوار سے لاؤ۔ بیرے نے اپنے روایتی احترام اور عزت کے ساتھ اس شخص کو کافی پیش کی جسے پی کر یہ شخص بغیر پیسے دیئے چلتا بنا۔ ہم یہ سب  کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ بیرے نے  دیوار  پر لگے ہوئے ورقوں میں سے ایک ورقہ اتار کر کوڑے دان میں پھینک دیا۔  اب ہمارے لئے اس بات میں کچھ چھپا نہیں رہ گیا تھا، ہمیں سارے معاملے کا پتہ چل گیا تھا۔اس قصبے کے باسیوں کی اس عظیم الشان  اور اعلیٰ انسانی قدر نے ہمیں حیران کر دیا اور اس عمل سے ہم کافی متاثر ہوئے ۔کافی نا تو ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے اور نا ہی ہمارے لئے واجبات زندگی کی طرح  کوئی اہم چیز۔ بات تو صرف اس سوچ کی ہے کہ کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آپ  ان لوگوں کا تصور ہی  کرلیں جو اس نعمت  کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا کہ آپ مگر وہ اس کے حصول  سے محروم ہیں۔اس بیرے کے کردار کو دیکھیئے جو صاحب حیثیت لوگوں اور ضرورت مندوں کے درمیان رابطے کا کردار نہایت خندہ پیشانی اور کھلے دل کے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کر رہا ہے۔اس ضرورت مند کو دیکھیئے جو اس کافی شاپ میں اپنی عزت نفس کو مجروح کیئے بغیر ہی داخل ہوتا ہے، اور اسے یہ پوچھنے کی قطعی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آیا اس کو ایک کپ کافی مفت میں مل سکتا ہے یا نہیں۔ اس نے دیوار پر دیکھا، کافی کا آرڈر موجود پا کر،  یہ پوچھے اور جانے بغیر ہی، کہ یہ کپ کس کی طرف سے اس کو دیئے جانے کیلئے موجود ہے، اپنے لئے ایک کپ کا آرڈر دیا،  کافی کو مزے کے ساتھ پیا اورخاموشی سے چلتا بنا۔جب ہم اس مذکورہ بالا کہانی کی جزئیات کو جانیں گے تو ہمیں اس کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ اس دیوار کے کردار کو بھی یاد رکھنا پڑے گا  جو اس قصبے کے درد دل رکھنے والے باسیوں کی عکاس بنی ہوئی ہے۔
اس مضمون کے توسط سے ہماری مراد ان غریبوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو غربت و افلاس کی وجہ سے ایک وقت کا پیٹ بهر کهانا کهانے سے بهی محروم ہیں-
  ارشاد باری تعالٰی ہے: اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعَفُ لَہُمْ وَلَہُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (الحدید ۱۸)مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں، اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دیاہے،ان کو یقیناکئی گنابڑھاکر دیا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
    قرآنِ کریم میں استعمال ہوئی اس اصطلاح (قرضِ حسن) سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا، یتیموں اور بیواوٴں کی کفالت کرنا، مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی کرنا ، غرضیکہ انسانیت کے کام آنے والی تمام شکلیں اس میں داخل ہیں، جیسا کہ مفسرین نے اپنی تفسیروں میں تحریر فرمایا ہے۔ اسی طرح قرضِ حسن میں یہ شکل بھی داخل ہے کہ کسی پریشان حال شخص کو اس نیت کے ساتھ قرض دیا جائے کہ اگر وہ اپنی پریشانیوں کی وجہ سے واپس نہ کرسکا تو اس سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
   مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرضِ حسن سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے بندوں کی مدد کرنا یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی کُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَن یَّشَاءُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (سورہٴ البقرہ ۲۶۱)
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بڑھاکردے اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔
نجی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ بہت محبت کرتا ہے․․․․ ان میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جو کسی شخص کی اس طرح مدد کرے کہ اللہ تعالیٰ اور سائل کے علاوہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔ (ترمذی ، نسائی)
نیز رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سات لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اس طرح صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (بخاری، مسلم)
وَاَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَّعَلانِیَةً یَرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ (الفاطر ۲۹)
جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں،وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں؛ جو کبھی خسارہ میں نہیں ہوگی۔
  اعلانیہ اور چهپ کر دونوں صورتوں میں خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن چهپ کر خرچ کر زیادہ بہتر اور افضل ہے- قرض حسن یا صدقات کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم بڑی رقم ہی خرچ کریں یا اسی وقت لوگوں کی مدد کریں جب ہمارے پاس دنیاوی مسائل بالکل ہی نہ ہوں بلکہ تنگ دستی کے ایام میں بھی حسب استطاعت لوگوں کی مدد کرنے میں ہمیں کوشاں رہنا چاہیے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ..... (آل عمران۱۳۴)
جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں-
مفہوم: محض خوشحالی میں ہی نہیں بلکہ تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں ان کے رب کی طرف سے اس کے بدلہ میں گناہوں کی معافی ہے اورجنتیں ہیں-
نبی اکرم ﷺ  سے سب سے بہتر صدقہ کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ ﷺ  نے فرمایا : اس حال میں بھی خرچ کرو کہ تم صحیح سالم ہو اور زندگی کی توقع بھی ہو، اپنے غریب ہوجانے کا ڈر اور اپنے مالدار ہونے کی تمنا بھی ہو۔ یعنی تم اپنی ضرورتوں کے ساتھ دوسروں کی ضرورتوں کوپورا کرنے کی فکریں کرو۔ (بخاری، مسلم)
 اللہ تعالیٰ نے محتاج بندوں کی ضرورتوں میں خرچ کرنے کو اللہ تعالیٰ کو قرض دینا قرار دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، وہ نہ صرف مال ودولت اور ساری ضرورتوں کا پیدا کرنے والا ہے ، بلکہ وہ تو پوری کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے،ہم سب اسی کے خزانے سے کھا پی رہے رہیں، تاکہ ہم بڑھ چڑھ کر انسانوں کے کام آئیں ، یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کی کفالت کریں، غریب محتاجوں کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کے انتظام کے ساتھ ان کی دینی وعصری تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ایک دوسرے سے مسابقت کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ، دونوں جہاں میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور اپنے مہمان خانہ جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
(کافی والا واقعہ عربی سے مترجم و منقول)
www.dawatetohid.blogspot.com

 *ماں کی بدعا*

 *ماں کی بدعا*

ویسے تو میری ساری زندگی ہی لوگوں سے اُن کی زندگی کے قصے اور کہانیاں سنتے گزری ہے مگر جو قصہ مجھے کبھی نا بھول پائے گا ایک ایسے شخص کا ہے جو میرے پاس بہت ہی دل شکستہ  و دل گرفتہ  آیا، کہنے لگا؛ میری گھریلو  زندگی برباد ہو گئی ہے، نا پہلی بیوی سے بن پائی اور نا اب دوسری بیوی سے نباہ ہو رہا ہے، میرے بچے  میرا  احترام نہیں کرتے، گھر میں میری  کوئی قدر نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ میں  اپنے بچوں کو بالکل ایسے ہی کھو چکا ہوں  جیسے میرے  سارے کاروباری پروجیکٹس گھاٹوں کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں، لگتا ہے اب اس  دُنیا کا ہر دروازہ میرے  منہ پر بند ہوتا جا رہا ہے، زندگی کی اب کوئی ایسی راہ باقی نہیں رہی  جو میرے  لئے کھلی رہ گئی ہو۔میں نے اُس سے کئی سوالات کرنا چاہے تاکہ پتہ چلا سکوں کہ اُس کی ان ساری ناکامیوں کے پیچھے کیا اسباب ہیں مگر اس شخص پر اتنی مایوسی طاری تھی کہ وہ میری کسی بات کا سیدھا جواب ہی نہیں دے پاتا تھا۔ پھر  اچانک اُس نے میری باتوں کو کاٹتے ہوئے خود ہی کہا؛ میں آپ کا وقت بچانا چاہتا ہوں اور مختصراً بتائے دیتا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ میری ان ساری ناکامیوں کا سبب میری ماں کی بد دعائیں ہیں۔ میں ہمیشہ اُس کی ہر بات کو ٹالتا ٹھکراتا اور نا فرمانی کیا کرتا تھا، اُس کا احترام تو بالکل ہی نہیں کرتا تھا بلکہ کبھی کبھی اُس پر ہاتھ بھی اُٹھاتا تھا۔ بیوی کو ہمیشہ ماں پر ترجیح دیتا تھا۔ میری ماں کو ویسے تو چپ سی لگی ہوئی تھی مگر میں جب بھی گھر آتا تو ایسے لگتا جیسے وہ زیر لب کچھ بڑبڑا رہی ہو۔ اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ اُس کا بڑبڑانا در اصل  مجھے بد دعائیں دینا ہوتا تھا۔ بس جان لیجیئے کہ میری  ساری مشکلات کو واحد سبب  بس یہی ہے۔میں نے کہا؛ بات تو تیری بالکل ٹھیک ہے کہ وہ  واحد گناہ جس کی سزا  دینے کی جلدی اسی دنیا میں ہی کی جاتی ہے وہ  ماں باپ کی نافرمانی ہے۔ لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، میں تو  بس یہی کہتا ہوں کہ فورا جا کر اپنی ماں سے معافی مانگ لو، بس ایک بار اس کے پاؤں پڑو گے اور اس کے سر پر پیار کرو گے تو اُس نے تیری ساری کوتاہیاں بھول کر تجھے گلے لگا لینا ہے۔  میری یہ بات سُن کر اس شخص کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے ،  روتے ہوئے کہنے لگا؛  اب یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ وہ  تو مر چکی ہے۔ میری اس سے بڑی بد نصیبی یہ بھی رہی کہ میں نے اس کے جنازے میں بھی شرکت  کرنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔موقعے کی مناسبت سے آپ کو اپنے ایک عزیز  دوست کا قصہ سناتا چلوں؛   یہ زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں تھا، اس کا  ایک بہت ہی چھوٹا سا کاروبار تھا مگر صاف ستھرا گھر ،  راضی بازی گھر والی اور سکول پڑھتے پیارے بچے۔ میں نے ایک بار اُس سے اُس کی خوشیوں کا راز اور کامیابی کے اسباب پوچھے تو کہنے لگا یہ سب میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ کہتا ہے میں جب میری ماں حیات تھی اور گھر جاتا تو جاتے ہی اپنی ماں کے سر پر بوسہ دیتا، وہ مجھے دعا دیتی اللہ تیرے سر کو ہمیشہ بُلند رکھے۔ بس یہی سبب ہے کہ میں اس دعا کے طفیل آج برکتوں کے میلے میں گھرا رہتا ہوں۔  میں ایک ایسے کاروباری شخص کو بھی جانتا ہوں جو اس دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔ اُس نے ایک دن خود مجھے بتایا تھا میری ساری ترقی اور مال و دولت کے پیچھے  میری والدین سے محبت و عقیدت ، اُن کی رضا اور  دعائیں ہیں۔یہ ایسے قصے ہیں جنہیں میں کبھی بھی نہیں بھلا پاتا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کئی والدین کی اُن کی اولاد کے ساتھ ناراضگی اور اُن کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات اور بد دعاؤں کا  بھی مشاہدہ کیا ہے۔  جیسے ایک بار میں جہاز پر سفر میں تھا۔ مجھ سے چند نشستوں کے فاصلے پر بیٹھی ایک ماں اپنے ایک ایسے بچے کو کوسنے دے رہی تھی جس کی عمر بمشکل چار سال بھی نہیں تھی۔ اُس کے کوسنے اس نوعیت کے تھے کہ میرا دل ڈوبنے لگا، مجھے لگا کہ آج تو یہ جہاز گرے ہی گرے۔ میں بھاگ کر اس ماں کے پاس گیا اور اُسے نہایت شفقت سے سمجھاتے ہوئے کہا؛ بہن یہ تو کیسی باتیں کر رہی ہے؟ کیا تجھے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول مبارک یاد نہیں ہے کہ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک ہی نہیں؛ مظلوم کی بددعا ، مسافر کی دعا ، اور والد کی دعا اولاد کے حق میں۔پس یہ بات تو طے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بارے میں واضح موقف موجود ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ہمیشہ خیر کی دعا دیں نا کہ اُن کی بربادی اور برائی کے درپیش رہیں۔  ایک اور حدیث مبارک کا مفہوم کچھ  یوں ہے کہ: اپنی ذات پر اوراپنی اولاد پراوراپنے مال پر بد دعا مت کرو ،اللہ کی طرف سے ایسی گھڑی نہ آجائے جس میں کسی نوازش کا سوال ہو اور تمھارے حق میں قبول ہو جائے۔والدین کیلئے  اپنے غصے پر قابو رکھنا اور خاص طور پر غصے کے دوران  اپنے الفاظ پر قابو رکھنا بہت ضروری چیز ہے۔  ہو سکتا ہے ایسے لمحات میں اُن کے منہ سے نکلے الفاظ اُن کی اولاد کی زندگیوں کو برباد کر دیں۔ کویت میں چند قصے بہت مشہور ہیں اور ہر زبان پر زد عام رہتے ہیں، اں میں سے ایک قصہ یہ بھی ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے پر ناراض ہوئی تو اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے کہا جا تجھے اللہ کبھی بھی بیٹے نا دے۔ اللہ پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس کی یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں پیدا ہوئیں اور وہ بیٹے کے رزق سے ہمیشہ محروم رہا۔اولاد سے غصے  کے وقت بد دعاؤں اور کوسنوں کے بھی کئی متبادل ہیں۔  ہم اُن کیلئے یوں کہہ دیا کریں؛ اے اللہ میرے ان بچوں کو ہدایت دیدے، ان کو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور راحت بنا دے، میری مدد فرما کہ میں ان کی اچھی اور بہتر تربیت کر سکوں، ان کو عزت دار بنا، ان کا اخلاق اچھا بنا دے، ان کو نیک اور صالح دوستوں کی صحبت عطا فرما دے، ان کو قرآن کا حافظ بنا دے، ان کو بری صحبت سے محفوظ رکھیو، ان کے سینوں کو کھول دے ، ان کے سارے کاموں کو آسان بنا دے، ان کو ہدایت دیئے رکھنا، شیطان کے مکر و فریب سے پناہ میں رکھنا۔ یا اللہ میرے بچوں کو مؤمنین، صالحین، تائبین، قانتین، عابدین، طائعین میں سے بنا دے، انہیں اپنے دین کا خدمت گزار بنا دے۔ اے اللہ ان کا اخلاق اچھا ہو، ان کی عبادت مقبول ہو، ان کی زندگی خوشیوں سے بھر پور ہو، ان پر حلال رزق کی فراوانی ہو، حرام سے محفوظ رہیں، تیرے سوا کسی کے محتاج نا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔میں نے ایک بار ایک ماں کو ایسی خوبصورت دعا کرتے ہوئے بھی سنا؛ کہہ رہی تھی: اے اللہ میرے بچوں کو ایسا بنا دے کہ ان میں  سیدنا یوسف علیہ السلام  کا حسن جھلکتا ہو، لقمان جیسے دانائی ہو، سیدنا ایوب علیہ السلام جیسا صبر ہو اور آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اخلاق پایا جاتا ہو۔حضرتمیں نے تفسیر ابن کثیر میں یہ بھی پڑھا ہے  کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے لطف اور تحمل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ ان کی وہ بد دعائیں،  جو انہوں نے  ایسے وقت میں، اپنے آپ پر کی ہوں  یا اپنے مال مویشی پر یا اپنی آل اولاد پر، جب کہ وہ پراگندہ ذہن اور غصے کی حالت میں تھے اور اُن کا دلی مقصد  ایسی ایذا اور نقصان مقصود نہیں تھا قبول نہیں فرماتا۔ اللہ تبارک و تعالٰی وہ دعائیں یا بد دعائین قبول فرماتے ہیں جو ان کی رضا اور سکون کی حالت میں مانگی ہوں۔  یہ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر بہت ہی لطف اور احسان ہے۔ یہ باتیں مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تفسیر سے لی گئی ہیں: اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں (سورة يونس – 11)
دعا اور بد دعا کے  قبول کیئے جانے یا رد کیئے جانے میں  نیت اہم کردار ادا کیا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہماری اولاد کی بہتری فرمائیں اور ہمیں اس فریضے سے سبکدوش ہونے میں مدد فرما دیں۔ آمین
مندرجہ بالا مضمون  ڈاکٹر جاسم الکویتی کا مقالہ ہے ایک عربی اخبار میں چھپا تھا۔ فائدے کیلئے  اسے ترجمہ کر کے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔
(انتباہ:جس کی ماں زندہ نہ ہو تو وہ اپنی،خالہ ،پهوپهو، دیگر عزیز و اقارب اور اپنی ماں کی سہلیوں سے صلہ رحمی کرے-تو ان کی دعائیں ماں کی متبادل ہوں گی)

www.dawatetohid.blogspot.com

*پانچ گناہ گاروں کو انوکھی سزا*

*پانچ گناہ گاروں کو انوکھی سزا*

    
آج بادشاہ کو بیٹھے بٹھائے ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے وزیر اعظم کو حکم دیا کہ ریاست کے بڑے بڑے پانچ گناہ گار پکڑ کر دربار میں پیش کیے جائیں، یہ ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ اب بھلا یہ تعین کیسے ہوتا کہ سب سے بڑا خطا کار کون ہے اور وہ بھی ایک نہیں پانچ۔وزیر اعظم نے بادشاہ سے دو یوم کی مہلت طلب کی جو اس نے بخوشی دے دی۔ وزیراعظم اپنی رہائش گاہ کو لوٹ آیا۔ پہلا دن تو سوچ بچار میں گزر گیا، وہ جتنا سوچتا اس قدر پریشان ہو جاتا۔ اب بھلا وہ کسے بڑا گناہ کار سمجھ کر گرفتار کروادیتا۔ بالآخر سوچتے سوچتے اسے ایک نکتہ مل گیا، بس اسی نکتے کو ذہن میں رکھ کر اس نے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا شروع کردیا۔دو دن جھٹ پٹ گزر گئے، پانچ بڑے گناہ گاروں والی بات اب ریاست کی عوام تک پہنچ چکی تھی، ہر شخص پارسائی کا دعویدار تھا۔ گناہ گار بھی خود کو نیک ظاہر کررہے تھے، آخر وزیر اعظم کا حکم تھا، چنانچہ کوتوال نے شہر بھر سے پانچ بڑے گناہ گار پکڑ لیے، ان پانچ گناہ گاروں کو دیکھنے کے لیے ایک جم غفیر امڈ آیا۔ ہر کوئی یہ دیکھنے کو بے تاب تھا کہ آخر ریاست کی نظر میں کون بڑا گناہ گار ہے اور اس کا حشر کیا ہوگا، شاہی دربار کے اندر اور محل کے باہر ہجوم تھا، بادشاہ تخت پر براجمان تھا، بادشاہ کے اشارے پر پانچ بڑے گناہ گاروں میں سے پہلے شخص کو پیش کیا گیا۔عالم پناہ، یہ بہت بڑا گناہ گار ہے، یہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرتا ہے، ناجائز منافع کمانے کے لیے یہ کچھ بھی کرسکتا ہے، اسے موت یاد نہیں اور ہر لحظہ دولت کمانے کے نت نئے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ اس کی دولت کا شمار نہیں اور یہ بہت بڑا گناہ گارا ہے، وزیر اعظم نے اس کا تعارف کروایا۔ بادشاہ نے غصے سے اسے دیکھا اور جیل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ اس کے ساتھ حکم دیا کہ جیل میں اسے سونے اور اوڑھنے کے لیے نوٹ دیے جائیں، اس قدر دولت دے دی جائے کہ اسے ہر طرف نوٹ ہی نوٹ دکھائی دیں۔ اس کے علاوہ ہر روز اسے ملاوٹ والا کھانا دیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور جیل میں پہنچادیا گیا۔عالم پناہ، یہ دوسرا بڑا گناہ گار ہے، یہ غیبت، چغلی اور حسد میں مصروف رہتا ہے، ساری دنیا بری ہے بس یہ اچھا ہے۔ دوسروں کی خوشی، ترقی اور خوشحالی سے جلتا رہتا ہے، زبان زیادہ چلاتا ہے اور کام کم کرتا ہے، معاشرے میں فساد پھیلاتا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک شخص کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ جاﺅ اسے قید خانے میں ڈال دو، اس کی سزا یہ ہے کہ یہ ہر وقت زبان سے بک بک کرتا رہے، تاکہ اسے فضول بولنے کی سزا مل سکے۔ جب یہ خاموش ہو تو کوڑے مار مار کر اس کی زبان کھولی جائے، حتیٰ کہ سوائے اچھی بات کے کوئی اور بات اس کے منہ سے نہ نکلے۔ بادشاہ کے حکم پر اسے بھی قید میں ڈال دیا گیا۔عالی جاہ، یہ تیسرا بڑا گناہ گار ہے، یہ راشی ہے، حالاں کہ اسے اچھی بھلی تنخواہ ملتی ہے لیکن اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں سے جائز کام کے بھی پیسے بٹورتا ہے۔ یہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خوف سے عاری ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات پر بادشاہ کا پارہ چڑھ گیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے، اس کو اس قدر دولت دی جائے کہ ویہ ہر وقت نوٹ گنتا رہے، جب اس کے ہاتھ نوٹ گنتے ہوئے تھک جائیں تو ہاتھوں پر ضرب لگائی جائے، اس کو اتنا تھکادو کہ آئندہ جائز دولت کے علاوہ یہ کوئی ناجائز پیسہ نہ پکڑسکے۔ چنانچہ حکم کی تعلیم کی گئی۔اب چوتھے کی باری آگئی۔ بادشاہ سلامت یہ چوتھا گناہ گار ہے، یہ والدین کا نافرمان ہے، لوگوں پر رحم نہیں کرتا، بچوں پر شفقت نہیں کرتا۔ جواب کھیلتا ہے اور ناجائز کام کرتا ہے، اس مرتبہ بھی بادشاہ سخت برہم ہوا۔ حکم کے مطابق اسے جیل پہنچادیا گیا۔ اس کو سزا ملی کہ روزانہ اس کے والدین اسے قید خانے میں ملاقات کریں گے اور یہ ان کی خدمت کرے گا، روزانہ ایک ہزار بچے اس سے ملیں گے، جن کے ساتھ یہ شفقت سے پیش آئے گا اور روزانہ لاکھوں روپے اسے دے کر رات کو واپس لے لیے جائیں تاکہ جواری کی حیثیت سے اسے دولت کا غم دیا جاسکے۔پانچواں گناہ گار دربار میں پیش کیا گیا تو ہر طرف ہو کا عالم تھا، کیوں کہ یہ ملک کا مشہور عالم تھا۔ لوگ اس کے علمی جاہ و جلال کے باعث اس کی بہت عزت کرتے تھے، مجرموں اور گناہ گاروں کی فہرست میں اس کو دیکھ کر لوگ دم بخود رہ گئے۔ وزیر اعظم نے کہا عالی جاہ، یہ پانچواں بڑا گناہ گار ہے، یہ اسلامی علوم کا ماہر ہے۔ لوگوں کو اسلام اور فقہی طرز زندگی کے بارے میں بتاتا ہے۔  کتابیں شوق سے پڑھتا ہے، رات دن مطالعہ میں غرق رہتا ہے، لوگوں کو اچھی اچھی باتیں بتاتا ہے، لوگ اس کی زبان دانی سے بہت مرعوب ہوتے ہیں، اب تک وزیر اعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی، جو اسے بڑا گناہ گار ثابت کرتی۔ بادشاہ حیرت سے ساری بات سن رہا تھا، وزیر اعظم نے کہا۔ حضور! تمام تر اچھی باتوں کے باوجود یہ شخص خود اپنی روزمرہ زندگی میں کسی اسلامی اصول پر عمل نہیں کرتا۔ لوگوں کو درس دیتا ہے کہ آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز زندگی پناو، لیکن خود اس کے خلاف عمل کرتا ہے، گویا اس عالم کا علم بے عمل ہے۔ بادشاہ اس مرتبہ تخت سے اٹھ کھڑا ہوا، بے شک یہ ہمارا اور ہماری قوم کا سب سے بڑا مجرم ہے۔ اگر عالم بے عمل ہو جائے تو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی، جوا، شراب، چوری، بدمعاشی اور ناجائز دولت کی ہوس کے ساتھ ساتھ والدین کی نافرمانی اور حقوق العباد سے بے اعتنائی کی شکایت تبھی پیدا ہوتی ہے کہ جب کسی معاشرے کا استاد قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو جائے، بادشاہ کی نگاہیں قہر آلود ہو رہی تھیں۔ وزیر اعظم نے پوچھا۔عالی جاہ، اس کے لیے کیا حکم ہے۔بادشاہ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کہا۔دوسرے گناہ گاروں کو چھوڑ دو اور اس عالم کا سر قلم کر دو تاکہ آئندہ اس معاشرے میں بے عمل لوگ باقی نہ رہ سکیں۔بادشاہ کی طرف سے سزا کے اعلان پر دربار پر سکتہ طاری ہو گیا۔ محل کے اندر اور باہر پہلی بار اس بات کو محسوس کیا گیا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے لیے استاد کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ سزا ملتے ہی عالم کا رنگ زرد پڑ گیا۔ وہ التجا کرنے لگا، عالی جاہ رحم، مجھ پر اس قدر سزا کا حکم نہ لاگو کیا جائے، مجھے مہلت دی جائے، لیکن بادشاہ ٹس سے مس نہ ہوا، بادشاہ کے جاہ و جلال کے سامنے کسی کو بولنے کی جرات نہ تھی، یقینی تھا کہ بے عمل کا سر قلم کردیا جاتا لیکن اس دوران قاضی بول پڑا، بادشاہ سلامت آپ نے درست فیصلہ صادر فرمایا، لیکن میری ایک درخواست ہے کہ پروردگار عالم بھی گناہ گار کو توبہ کی مہلت ضرور دیتا ہے، اگر یہ اور اس طرح کے دوسرے اساتذہ بے عملی چھوڑ کر راہ راست پر آجائیں تو کیا خوب ہو جائے۔ خطاکار کو اصلاح کی گنجائش کا فائدہ ضرور دینا چاہیے، لہٰذا سزا پر نظر ثانی کی جائے۔ قاضی کی بات میں وزن تھا، چنانچہ بادشاہ نے عالم کو پانچ سال کا وقت دے دیا کہ وہ اپنے علم و عمل سے معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔اسلام محض ایک لفظ نہیں طرز حیات ہے، اس انداز فکر کی عملی تصویر آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے اور اس کے عمل کی تصویر قرآن کا حکیم ہے۔
حاصل کلام:جو لوگ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام تو بڑے ذوق و شوق سے کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے یہ صاحبان اللہ تعالٰی اور معاشرے کے مجرم ہیں-
www.dawatetohid.blogspot.com

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...