Saturday, 22 October 2016

*سرسوں کا بیج*

*سرسوں کا بیج*

 کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت،  اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن،  خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کیلئے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی  گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے  جس کے عوض بس  ایسا کوئی  نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت  اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کیلئے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس  گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔  عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں  ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں  لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال  کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں  کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا   گھر ہی تو  ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح  سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی  یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں  تھا۔آجکل وہ  گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب  تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں  ایک اور صدمہ اُس کےلئے  یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔  گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود  ہی نہیں تھا  بلکہ یہ بچے  اس وقت بھوکے بھی تھے۔  عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ  کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے  دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے  جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا  منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں  کا ایک  حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب  میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔  وہ یہ تک بھولتی چلی گئی  کہ  اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی  جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ  لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا  بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔  بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے  ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا  جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس   کے غموں پر قابو پانے کا  جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔جی ہاں،
 یہ  قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا  نسخہ نہیں ہے،  بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرنے سے  خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور  ہر دلعزیز شخصیت بن جائیں گے،  بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔
عربی سے ترجمہ و تلخیص کر کے حاصل مضمون تبصرے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا-

www.dawatetohid.blogspot.com

جادو جنات اور علاج قسط نمبر21A


(جادو جنات اور علاج قسط نمبر21)

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

۔ سحر جنون
حضرت خارجہ بن صلت کہتے ہیں کہ ان کا چچا نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام  قبول کرلیا، پھر جب واپس جانے لگا تو ایک بستی سے اس کا گزر ہوا جہاں لوگوں نے  ایک پاگل کو زنجیر سے باندھ  رکھا تھا، اس کے گھر والوں نے اس سےکہا: ہم نے سنا ہے کہ تمہارا نبی خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا تم اس مجنون کا علاج کر سکتے ہو؟ تو اس نے اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی جس سے اسے شفا مل گئی، اس کے گھر والوں نے اسے سو بکریاں بطورِ انعام دیں، اس نے یہ سارا واقعہ رسول اللہﷺ کو آکر سنایا، تو آپﷺ نے پوچھا : تم نے کچھ اور بھی پڑھا تھا؟ ا س نے کہا: نہیں، تو آپﷺ نے فرمایا:“وہ بکریاں قبول کر لو، کیونکہ تم نے برحق دم کیا ہے اور لوگ تو ناجائز دم کر کے لوگوں کا مال بٹورتے ہیں۔”
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نےتین دن تک اسے سورۂ فاتحہ پڑھ کر صبح وشام دم کیا اور ہر مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اپنی لعاب بھی پھونک میں ملا لیتا تھا۔ (یہ حدیث سنن ابوداود کتاب الطب میں موجود ہے، امام نوویؒ نے الاذکار (۸۷) میں اورشیخ البانی نے صحیح  ابو داود (ج2،ص737) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
سحر جنون کی علامات
1۔پریشان خیالی، حواس باختہ اور شدید نسیان
2۔بے تکی باتیں کرنا۔
3۔ٹکٹکی باندھ کر اور ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنا۔
4۔ایک جگہ پر نہ ٹھہرنا۔
5۔کسی کام کو جاری نہ رکھنا۔
6۔اپنی ظاہری شکل وصورت کا کوئی خیال نہ رکھنا۔
7۔اگر  سحر جنون زیادہ ہو تو منہ اٹھا کر چلتے رہنا اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں جارہا ہے۔
8۔غیر آباد جگہوں پر سو جانا۔
سحر جنون کیسے ہو جاتا ہے؟
جادوگر سحر جنون کےلئے جس جن کی ڈیوٹی لگاتا ہے وہ سب سے پہلےاس شخص میں داخل ہوتا ہے جس پر جادو کرنا مقصود ہوتا ہے، پھر اس کے دماغ میں مورچہ بندی کر لیتا ہے اور پھر دماغ کے ان حصوں پر شدید دباؤ ڈالتا ہے جو سوچ و فکر اور یادداشت کےلئے خاص ہوتے ہیں، اس کے بعد سحر جنون کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
سحر جنون کا علاج
1۔جس شخص پر سحر جنون کیا گیا ہو اس پر قرآنی آیات والا وہ دم کریں جس کا ذکر میں جادو کی پہلی قسم (سحر تفریق) میں کر چکا ہوں۔
2۔اگر اس دوران مریض پر مرگی کا دورہ پڑے تو اس سے اُسی طرح نمٹیں جیسا کہ میں پہلی قسم میں بیان کر چکا ہوں۔
3۔اگر اس پر مرگی کا دورہ نہ پڑے تو کم از کم تین بار اس پر دم کریں، پھر بھی دورہ نہ پڑے تو مندرجہ ذیل سورتیں ریکارڈ کر کے مریض کو دےدیں اور اسے ایک ماہ  روزانہ دو تین مرتبہ سننے کی تلقین کریں، سورتیں یہ ہیں:
پہلی قسم میں جو دَم ذکر کیا گیا ہے، اس کی آیات و سورتیں، اسی طرح البقرۃ، ہود،  الحجر، الصافات، ق، الرحمٰن، الملک، الجن، الاعلیٰ، الزلزلہ، الہمزہ، الفلق،الناس۔ (یاد رہے کہ ان آیات اور سورتوں کی پابندی ضروری نہیں، ان میں مناسب کمی بیشی ہو سکتی ہے) اس مدت میں مندرجہ ذیل سورتوں کو سنتے وقت مریض کو شدید گھٹن کا احساس ہو سکتا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ا س دوران اسے مرگی کا دورہ پڑ جائے اور اس کی زبان سے جن بولنے لگ جائے، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ابتدائی پندرہ دنوں میں اسے شدید تکلیف محسوس ہو، پھر آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے اور مہینے کے آخر تک وہ نارمل ہو جائے، اگر ایسا ہو تو آخر میں اس پر ایک بار پھر دم کریں تاکہ اگر جادو کا کوئی اثر باقی ہو تو وہ بھی ختم ہو جائے۔
4۔مریض اس مدت میں سکون پہنچانے والی گولیاں استعمال نہ کرے۔
5۔اس دوران اگر وہ بجلی کی روشنیوں میں بیٹھے گا تو یقیناً جن کو ایذا پہنچے گی اور جلد شفا نصیب ہو گی۔
6۔سحر جنون کے علاج کی مدت ایک ماہ بھی ہو سکتی ہے، تین ماہ بھی ہو سکتی ہے اور اس سے زیادہ بھی۔
7۔مدتِ علاج میں مریض اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرے  اور ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچے، مثلاً گانے سننا، سگریٹ نوشی کرنا، نمازوں کی ادائیگی میں سستی کرنا، مریض اگر عورت ہے تو اسے پردہ کرنا چاہیے۔
8۔اگر مریض کو معدے کا درد محسوس ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے جادو کھلایا پلایا گیا ہے، اس صورت میں آپ دم والی مذکورہ آیات پانی پر پڑھیں، پھر اسے اس سے پینے کی تلقین کریں تاکہ پیٹ میں موجود جادو ٹوٹ جائے یا اسے الٹی آجائے۔

سحر جنون کے علاج کا عملی نمونہ
میرے پاس کچھ لوگ آئے جنہوں نے اپنے ساتھ ایک نوجوان کو زنجیر میں جکڑ کر پکڑا ہوا تھا، اس نے مجھے دیکھا تو دوڑ لگا دی اور پاؤں میں لگی زنجیر توڑ دی، اس کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں نے اسے پکڑ لیا تو میں نے اس پر قرآن مجید کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہ میرے منہ پر بار بار تھوکتا رہا، آخر کار میں نے انہیں چند کیسٹیں دیں اور نوجوان کو انہیں سننے کی تلقین کر کے 45 دن کے بعد دوبارہ آنے کا کہا۔
اس مدت کے بعد وہ خود چل کر میرے پاس آیا، وہ دماغی طور پر بالکل ٹھیک ہو چکا تھا، اس نے آتے ہی مجھ سے معذرت کی کہ لاشعوری طور پر اس سے میرے منہ پر تھوکنے کی غلطی ہو گئی تھی، میں نے اس پر دوبارہ دم کیا تو کوئی چیز ظاہر نہ ہوئی اور اس طرح وہ شفایاب ہو کر واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا شفایاب ہونے پر صدقہ کرنا یا روزے رکھنا ضروری ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ ضروری تو نہیں، البتہ شکرانے کے طور پر اگر وہ صدقہ کرنا چاہے یا نفلی روزے رکھنا چاہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔
دوسرا نمونہ: میرے پاس ایک نوجوان آیا جو پاگل ہو چکا تھا اور اپنےمعمولات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ میں نے اس پر دم کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو سحر جنون کیا گیا ہے، اور ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یہ شادی کرنے والا تھا۔ میں نے اسے چند کیسٹیں سننے کیلئے دیں اور پانی پر دم کر کے اسے دیا اور ایک ماہ کے بعد اس کاایک رشتہ دار آیا اور اس نے مجھے خوشخبری دی کہ اب وہ نوجوان بالکل تندرست ہے اور شادی کر چکا ہے، اس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جس کی توفیق سے اسے شفا نصیب ہوئی۔
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

جادو جنات اور علاج قسط نمبر17A

(جادو جنات اور علاج قسط نمبر17

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
سحر تفریق کے علاج کے عملی نمونےپہلا نمونہ: ایک خاتون اپنے خاوند کو سخت ناپسند کرتی تھی اور اس سے اور اس کے گھر سے بددل ہو چکی تھی اور جب بھی اسے دیکھتی تھی تو اس کے سامنے ایک خوفناک منظر سامنے آجاتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک بھیڑیا ہے انسان نہیں۔ اس کا خاوند اسے کسی قرآنی علاج کرنے والے کے پاس لے گیا، چنانچہ جب اس نے عورت پر قرآن مجید کو پڑھا تو اس کی زبان سے جن بولنے لگا اور اس نے بتایا کہ وہ جادوگر کے ذریعے اس عورت پر مسلط ہوا ہے، اور اس کا مشن یہ ہے کہ وہ اس عورت اور اس کے خاوند میں جدائی ڈال دے، سو معالج نے اسے مارا بھی، لیکن جن اس کی جان چھوڑنے پر تیار نہ ہوا، ایک ماہ تک اس کا خاوند اسے اس معالج کے پاس بار بار لے کر آتا رہا، بالآخر جن نے خاوند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عورت کو طلاق دے دے گو ایک طلاق ہی کیوں نہ ہو۔ خاوند نے اس کا مطالبہ مان لیا اور اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، اور ایک ہفتے بعد اس سے رجوع کر لیا، اور وہی ایک ہفتہ تھا جب عورت جن کے شر سے بچی رہی، لیکن اس کے بعد وہ پھر لوٹ آیا، تو خاوند اپنی بیوی کو لے کر میرے پاس آ گیا، میں نے اس پر قرآن مجید کو پڑھا تو اس پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور میرے اور جن کے درمیان جو مکالمہ ہوا وہ مندرجہ ذیل ہے:٭ تمہارا نام کیا ہے؟جن: “شتوان”٭ اور تمہارا دین کیا ہے؟جن: “نصرانی”٭ تم اس عورت میں کیوں آئے ہو؟جن: اس میں اور اس کے خاوند میں جدائی ڈالنے کےلئے۔٭ میں تمہیں ایک پیشکش کرتا ہوں،اگر تم نے قبول کر لی تو ٹھیک ہے، ورنہ تجھے اختیار ہے!جن: آپ خواہ مخواہ تکلف کر رہے ہیں، میں اس عورت سے ہر گز نہیں نکلوں گا، اس کا خاوند اسے لے کر فلاں فلاں شخص کے پاس جا چکا ہے۔٭ میں نے تم سے یہ مطالبہ ہی نہیں کیا تم ا سے نکل جاؤ۔جن: تو آپ کیا چاہتے ہیں؟٭ میں تجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں، اگر تو نے اسلام قبول کر لیا تو اس پر میں اللہ کا شکر ادا کروں گا، ورنہ دین میں کوئی زبردستی نہیں، پھر میں نے اسے اسلام لانے کی پیشکش کی تو لمبے سوال و جواب کے بعد بالآخر اس نے اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے اس سے کہا: تم نے واقعتاً اسلام قبول کر لیا ہے یا ہمیں دھوکہ دے رہے ہو؟اس نے کہا: آپ مجھے کسی کام لےلئے مجبور نہیں کر سکتے، میں تو دل سے مسلمان ہو چکا ہوں، لیکن۔۔۔۔۔٭ میں نے پوچھا: کیا؟اس نے بتایا کہ میں اپنے سامنے نصرانی جنوں کو دیکھ رہا ہوں جو مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں۔٭ میں نے کہا یہ پریشانی کی بات نہیں ہے، اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ تم دل سے مسلمان ہو چکے ہو تو ہم تمہیں طاقتور اسلحہ مہیا کریں گے، جس کی وجہ سے اس نصرانی جنوں میں سے کوئی تمہارے قریب نہیں آسکے گا۔جن: آپ مجھے ابھی دیں۔٭ نہیں، جب تک ہماری یہ مجلس ختم نہیں ہوتی، تب تک تمہیں وہ اسلحہ نہیں دیا جائے گا۔جن: اس کے بعد آپ اور کیا چاہتے ہیں؟٭ اگر تم واقعی مسلمان ہو چکے ہو تو کفر سے تمہاری توبہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو گی جب تک تم ظلم کرنا نہیں چھوڑتے اور اس عورت سے نہیں نکل جاتے۔جن: ہاں میں مسلمان ہو چکا ہوں، لیکن جادوگر سے کس طرح میری جان چھوٹے گی۔٭ یہ بھی پریشانی کی بات نہیں ہے، لیکن تب جبکہ تم ہماری بات مان لو گے۔جن: جی، میں آپ کی بات مانتا ہوں۔٭ تو بتاؤ جادو کہاں رکھا ہے؟جن: عورت کے گھر کے صحن میں، البتہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ صحن میں کس جگہ پر ہے، کیونکہ اس کی حفاظت کےلئے ایک جن کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے، اگر اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق بتا دیا ہے تو وہ اسے کسی اور جگہ پر منتقل کر دے گا۔٭ کتنے سال سے تم جادوگر کے ساتھ کام کر رہے ہو؟جن: گزشتہ دس یہ بیس برس سے (یہ مجھے شک ہے) اور اس دوران میں تین عورتوں میں داخل ہو چکا ہوں، جبکہ یہ چوتھی عورت ہے، پھر اس نے پہلی تین عورتوں کے قصے بھی سنا دئیے۔٭ اب جب مجھے اس کی سچائی کا یقین ہو گیا تو میں نے اسے کہا: لو، یہ اسلحہ پکڑ لو جس کا ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا۔جن: وہ کیا ہے؟٭ وہ اسلحہ آیت الکرسی ہے، جب بھی کوئی جن تمہارے قریب ہو، اسے پڑھ لینا، وہ جن بھاگ جائے گا۔۔۔۔ کیا تمہیں آیت الکرسی یاد ہے؟جن: جی ہاں مجھے یاد ہوگئی ہے، کیونکہ میں اس عورت سے کئی بار سن چکا ہوں، پھر اس نے پوچھا کہ میں جادوگر سے کیسے نجات پاؤں گا۔٭ تم اس عورت کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں چلے جاؤ جہاں تم مؤمن جنوں کے ساتھ رہ سکو گے۔جن: لیکن کیا اللہ تعالیٰ مجھے ان تمام گناہوں کے باوجود قبول کر لے گا۔ میں نے اس عورت کو اور اس سے پہلے دوسری عورتوں کو بہت تنگ کیا ہے؟٭ ہاں! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾ (الزمر:۵۳)“کہ دیجئے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے! تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش اور بڑی رحمت والا ہے۔”جن یہ سن کر رونے لگا، اور کہا: میں جب چلا جاؤں تو اس عورت سے میری طرف سے گزارش کرنا کہ وہ مجھے معاف کر دے، پھر وہ واپس نہ آنے کا وعدہ کر کے نکل گیا، اس کے بعد میں نے پانی منگوایا، اس پر قرآنی آیات کو پڑھا اور خاوند کو یہ کہہ کر دے دیا کہ اسے گھر کے صحن میں انڈیل دے، اس طرح اس عورت کو شفا نصیب ہوئی۔ اور کچھ مدت کے بعد خاوند نے مجھے خبر دی کہ اب اس کی بیوی ٹھیک ہے۔۔۔۔ ایسا یقیناً اللہ کے فضل سے ہوا، اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔جاری ہے.....ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-whatsApp:00923462115913whatsApp: 00923004510041fatimapk92@gmail.comwww.facebook.com/fatimaislamiccenterhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348http://www.dawatetohid.blogspot.com/) 

جادو جنات اور علاج قسط نمبر20A

جادو جنات اور علاج قسط نمبر20)

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

سحر محبت کے علاج کا ایک عملی نمونہ:
ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے اپنی صورت حال کچھ اس انداز سے بیان کی:
“میں اپنی بیوی کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی بسر کر رہا تھا، لیکن چند ماہ سے عجیب وغریب صورتحال سے دو چار ہوں، اور وہ اس طرح کہ میں لمحہ بھر کیلئے بھی اپنی بیوی سے صبر نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اپنے کام پر جاتا ہوں تو وہاں بھی اسی کے متعلق سوچتا رہتا ہوں،  گھر میں واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے اپنی بیوی کو دیکھتا ہوں، اور جب مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہوں تو بار بار اٹھ کر بیوی کو دیکھنے چلا جاتا ہوں، غیر معمولی طور پر مجھے اس پر غیرت آتی ہے، وہ کچن میں جاتی ہے تو میں اس کے پیچھے ہوتا ہوں، سونے کے کمرے میں جاتی ہے تو میں بھی اس کے ساتھ سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں، گھر کی صفائی کیلئے جاتی ہے تو تب بھی میں اس کے پیچھے پیچھے ہوتا ہوں،  اور یوں لگتا ہے جیسے میری نکیل اس کے ہاتھ میں ہے، وہ جب بھی کوئی مطالبہ کرتی ہے تو اسے فوراً پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔”
اس شخص کی صورتحال کو سن کر میں نے پانی پر دم کیا اور تین ہفتے تک اسے پینے اور اس سے غسل کرنے کی تلقین کی بشرطیکہ اس کی بیوی کو اس کا علم نہ ہو، وہ مدتِ مذکورہ کے بعد میرے پاس آیا، اور اس نے بتایا کہ کچھ اِفاقہ ہے، مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔ میں نے اس کا دوبارہ علاج کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔

۳۔ سحر تخیل (وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
فرمانِ الٰہی ہے:
﴿ قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى (٦٥)قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعٰی (٦٦) ﴾ (طہ:65،66)
“کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا توتو پہلے ہمیں ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں، جواب دیا کہ نہیں، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب موسیٰؑ کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔”
سحر تخیل کی علامات
1۔ منجمند چیز کو متحرک اور متحرک کو منجمند دیکھنا۔
2۔ چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا سمجھنا۔
3۔ مختلف چیزوں کو ان کی حقیقت سے ہٹ کر دیکھنا، جیسے کہ لوگوں نے دیکھا کہ رسیاں اور لکڑیاں دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔
سحر تخیل کیسے ہوتا ہے؟
جادوگر ایک ایسی چیز لوگوں کے سامنے رکھتا ہے جسے وہ خوب اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں، پھر وہ شرکیہ وِرد پڑھتا ہے اور شیطانوں سے مدد طلب کرتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اسی چیز کو اس کی اصل حقیقت سے ہٹ کر ایک دوسری  چیز تصور کر لیتے ہیں۔۔۔۔ مجھے ایک شخص نے بتایا ہے کہ اس نے جادوگر کو لوگوں کے سامنے ایک انڈا  رکھتے ہوئے دیکھا،  پھر اس نے کفریہ طلسم پڑھے تو وہ انڈا انتہائی تیزی کے ساتھ ان کے سامنے گھومنے لگا۔ اسی طرح ایک اور شخص نے بتایا کہ ایک جادوگر نے دو پتھر آمنے سامنے رکھے، پھر جادو والاطلسم پڑھا تو وہی دو پتھر دو بکریوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑنے لگ گئے۔ اِس طرح کے حیران کن کام یقینی طور پر جادوگر لوگوں سے مال بٹورنے کےلئے ہی کرتا ہے۔
اور یوں بھی ہوتا ہے کہ جادوگر اس طرح کے جادو کو جادو کی دوسری قسموں میں شامل کر دیتا ہے، چنانچہ وہ سحر تفریق کے ساتھ اگر اس جادو کو بھی شامل کر دے تو خاوند کو اس کی  خوبصورت بیوی بدصورت نظر آتی ہے، اور اگر سحر محبت میں اسے شامل کر دے تو خاوند کو اس کی بد صورت بیوی  خوبصورت نظر آتی ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ جادو کی یہ قسم اس کی دوسرئ قسم (شعوذۃ) سے بالکل محتلف ہے جس میں جادوگر ہاتھ کی صفائی سے کام نکالتا ہے۔
سحر تخیل کا توڑ
اس جادو کا توڑ ہر اس دعا اور ہر اس ذکر سے ہوتا ہے جس سے شیطان بھاگ جاتا ہے، مثلاً: اذان، آیت الکرسی، بسم اللہ اور دیگر مسنون اذکار بشرطیکہ ان کو وضو کی حالت میں پڑھا جائے۔
اگر یہ اَذکار پڑھنے سے  جادوگر کی چالیں ختم نہ ہوں تو یقین کر لیں کہ یہ وہ جادوگر ہے جو صرف ہاتھ کی صفائی سے کام لیتا ہے۔
سحر تخیل کے توڑ کا عملی نمونہ
ایک بستی میں ایک جادوگر رہائش پذیر تھا،  وہ لوگوں کے سامنے اپنی مہارت یوں ثابت کرتا کہ قرآنِ مجید کو لاتا، پھر سورۂ یٰسین کے صفحات کے ساتھ ایک دھاگہ باندھ دیتا، پھر اس دھاگے کے دوسرے سرے کو ایک چابی سے باندھ دیتا اور چابی کوفضا میں یوں بلند کر دیتا کہ قرآن مجید دھاگے کے ساتھ لٹکا ہوا نظر آتا، پھر کفریہ طلسم پڑھ کر قرآن مجید سے مخاطب ہو کر کہتا: دائیں گھومو، چنانچہ قرآن مجید دائیں طرف انتہائی تیزی کے ساتھ گھومنے لگ جاتا، پھر کہتا: بائیں گھومو، تو قرآن مجید بائیں طرف بہت تیزی سے گھومنے لگ جاتا، لوگوں نے اسے یہ حرکت کرتے ہوئے کئی بار دیکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ شیطان قرآنِ مجید کو ہاتھ  نہیں لگا سکتا، اس لئےیہ اسی جادوگرہی کی مہارت ہے۔
مجھے اس کے بارے میں معلوم ہوا تو میں اپنے ایک دوست کو لے کر اس کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس وقت میں ایف۔اے کا طالب علم تھا۔  میں نے وہاں پہنچتے ہی اس جادوگر کو لوگوں کے سامنے چیلنج کر دیا  کہ اب وہ یہ حرکت کر کے دکھائے، چنانچہ وہ ایک قرآن مجید اور ایک دھاگہ لے کر آ گیا، اب اس نے سورۂ یٰسین کے صفحات اس دھاگے سے باندھے،  پھر دوسرے سرے پر ایک چابی باندھ دی اور چابی کو فضا میں بلند کر دیا اور قرآن مجید اس دھاگے کے  ساتھ لٹک گیا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ وہ مجلس کی ایک جانب بیٹھ کر آیت الکرسی پڑھتا رہے اور خود میں دوسری جانب بیٹھ کر آیت الکرسی بار بار پڑھنے لگ گیا۔  لوگ یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے،  اِدھر جادوگر جب اپنے کفریہ طلسم پڑھ کر فارغ ہوا تو قرآن مجید سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: دائیں گھومو، تو قرآنِ مجید نے کوئی حرکت نہ کی، اس نے اپنے کفریہ طلسم دوبارہ پڑھے اور قرآن مجید سے بائیں گھومنے کو کہا، لیکن پھر بھی قرآنِ مجید نے کوئی حرکت نہ کی، اس طرح وہ لوگوں کے سامنے رسوا ہو گیا اور اس کا رعب و دبدبہ خاک میں مل کر رہ گیا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿ وَلَیَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ﴾
“اور اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اس کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے”
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...