Sunday, 4 September 2016

جادو جنات اور علاج قسط نمبرA12

(جادو جنات اور علاج قسط نمبر:A12 )

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
             *مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

پانچواں حصہ:
شریعت اِسلامیہ میں جادو کا حکم
جادو سیکھنے کا شرعی حکم
جادوگر کے متعلق شرعی فیصلہ
اہل کتاب کے جادوگر کے متعلق شرعی حکم
کیا جادو کو جادو سے توڑا جا سکتا ہے؟
جادو، کرامت اور معجزے میں فرق
شریعت میں جادوگر کے متعلق فیصلہ
1۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں:
“جادوگر جو جادو کا عمل خود کرتا ہو اور کسی نے اس کےلئے یہ عمل نہ کیا ہو، تو اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
﴿ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرَاہٗ مَا لَہٗ فِیْ الْآ خِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ﴾
ترجمہ:“اور وہ  یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ جو ایسی باتوں کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔”
سو میری رائے یہ ہے کہ  وہ جب خود جادو کا عمل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔”
(الموطأ (627) کتابالعقول باب ماجاء فی الغیلۃ والسحر)
2۔ امام ابن قدامہؒ فرماتے ہیں:
“جادوگر کی سزا قتل ہے، اور یہ متعدد صحابۂ کرام (مثلاً عمرؓ، عثمانؓ، ابن عمرؓ، حفصہؓ، جندب بن عبداللہؓ، جندب بن کعبؓ، قیس بن سعدؓ )اور عمر بن عبدالعزیزؒ سے مروی ہے، اور یہی مذہب امام  ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کا بھی ہے۔” (المغنی:ج8،ص106)
3۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
“مسلم جادوگر اور ذمی جادوگر کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ امام مالکؒ کا مذہب یہ ہے کہ مسلم جادوگر جب ازخود ایسے کلام سے جادو کرے جس میں کفر پایا جاتا ہو تو اسے توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے، اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائےکیونکہ جادو کا عمل ایسا عمل ہےجسے وہ خفیہ طور پر سر انجام دیتا ہے، جیسا کہ زندیق اور زانی اپنا کام خفیہ طور پر کرتے ہیں، اور اس لئے بھی کہ اللہ نے جادو کو کفر کہا ہے ﴿ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلاَ اِنَّمَا نَحنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ﴾ اور یہی مذہب امام احمد بن حَنبلؒ، ابوثورؒ، اسحاقؒ، امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے۔” (تفسیر القرطبی:ج2،ص48)
یاد رہے کہ امام قرطبیؒ نےامام شافعیؒ کا یہی مسلک بیان کیا ہے جبکہ  ان کا مشہور مسلک یہ ہے کہ جادوگر کو محض جادو کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے، ہاں اگر وہ جادو کر کے کسی کو قتل کر دے تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جائے گا۔
4۔ امام بن منذرؒ فرماتے ہیں:
“کوئی شخص جب اس بات کا اعتراف کر لے کہ اس نے ایسے کلام کے ساتھ جادو کیا ہے جس میں کفر پایا جاتا ہو  اور وہ اس سے توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دینا واجب ہے۔ اور اسی طرح اگر دلیل سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس نے واقعتاً کفریہ کلام کے ساتھ جادو کا عمل کیا ہے تو اسےقتل کر دینا ضروری ہو گا۔ اور اگر اس نےایسے کلام کے ساتھ جادو کیا ہو جس میں کفر نہیں پایا جاتا تو اسے قتل کرنا جائز نہیں، ہاں اگر جادوگر نے جادو کا عمل کر کے جان بوجھ کر دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جس سے قصاص واجب ہو جاتا ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اور اگر اس نقصان سے قصاص لازم نہیں آتا تو اس سے دیت وصول کی جائے گی۔”
5۔ امام ابنِ کثیرؒ فرماتےہیں:
“اللہ تعالیٰ کے اس فرمان  ﴿وَلَو اَنَّھُمْ آمَنُوْا وَتَّقَوْا۔۔۔۔۔﴾ سے ان علماء نے دلیل لی ہے جو جادوگر کو کافر کہتے ہیں، اور وہ ہیں امام احمد بن حنبلؒ اور سلف صالحینؒ کا ایک گروہ۔ جبکہ امام شافعیؒ اور (دوسری روایت کے مطابق) امام احمدؒ کہتے ہیں کہ جادوگر کافر تو نہیں ہوتا البتہ واجبُ القتل ضرور ہوتا ہے۔
بَجالۃ بن عَبدۃ سے روایت ہےکہ حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے عاملین کو خط لکھا تھا کہ ہر جادوگر کو چاہے مرد ہو یا عورت، قتل کر دو، چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا۔ یہ اَثر صحیح بخاری میں مروی ہے۔ (البخاری: ج6، ص257۔الفتح)
اور اسی طرح امّ المومنین حضرت حفضہؓ کے متعلق بھی یہ مروی ہے کہ ایک لونڈی نے ان پر جادو کر دیا تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور امام احمدؒ کہتے ہیں کہ جادوگر کو قتل کر دینا تین صحابہ کرام سے صحیح ثابت ہے۔” (تفسیر ابن کثیر:ج1 ص144)
6۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:
“امام مالکؒ کا مسلک یہ ہے کہ جادوگر کا حکم زندیق کے حکم جیسا ہے، لہٰذا اگر اس کا جادو کرنا ثابت ہو جائے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے قتل کر دیا جائے گا، اور یہی مذہب امام احمدؒ کا بھی ہے، جبکہ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ صرف ثبوت سے اسے قتل نہیں کیاجائے گا، ہاں اگر وہ اعتراف کر لے کہ اس نے جادو کر کے کسی کو قتل کیا ہے، تو اسے  بھی قتل کر دیا جائے گا۔”
خلاصۂ   کلام
مندرجہ بالا اَقوالِ علماء وائمہ  سےمعلوم ہوا کہ اکثر علماء جادوگر کو قتل کر دینے کے قائل ہیں، جبکہ امام شافعیؒ صرف اِس شکل میں اس کے قتل کے قائل ہیں جب وہ جادو کے ذریعے کسی کو قتل کر دے، تو اس کو بھی قصاصاً قتل کر دیا جائے گا۔
جاری ہے.....
ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

whatsApp:00923462115913
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
www.facebook.com/fatimaislamiccenter
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
http://www.dawatetohid.blogspot.com/

میری امی مجھ سے پیار نہیں کرتی؟


*میری امی مجھ سے پیار نہیں کرتی

(ایک بیٹے کی ڈائری سے اقتباس)

صبح سے امی جان روئے جارہی تھیں، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا اور امی جان تھیں کہ بس روئے جارہی تھیں۔
”اے بہو.... کاہے کو ہلکان ہوئی جارہی ہو، شعیب نے کچھ کہا ہے تو بتلاﺅ“۔ ساس نے بہو سے اپنے بیٹے کے متعلق پوچھا کہ کہیں میاں بیوی میں ان بن نہ ہوگئی ہو۔
”نہیں اماں.... یہ تو میرا بہت خیال رکھتے ہیں، بس ایسے ہی رونا آرہا ہے“۔ امی جان نے بڑی بے بسی سے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔
”تو بیٹی یقین کرو کہ تمہیں روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آرہا ہے، تم جانتی ہو کہ میں نے تمہیں کبھی بہو نہیں سمجھا، ہمیشہ بیٹی جانا اور کہا بھی بیٹی ہے۔ کیا تمہیں مجھ سے کوئی شکایت ہوگئی ہو“؟ اما گھبرانے لگیں۔
نہیں اماں کیسی باتیں کرتی ہیں آپ، آپ سب لوگ تو بڑے اچھے انسان ہیں، بس بات یہ ہے“۔
امی جان کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔
”ہاں ہاں.... بولو بیٹی، کہہ دینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوگا، ہوسکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد بھی کرسکوں“۔ بوڑھی اماں بی نے بہو کو تسلی دی۔
وہ.... وہ اماں بی.... اماں بی.... میں نے زین کی ڈائری پڑھ لی ہے“۔ اتنا کہہ کر امی جان پھر زار و قطار رونے لگیں، ساتویں جماعت میں پڑھنے والے اپنے پوتے‘ زین کی ڈائری کا سن کر تو وہ نہال ہوگئیں، جلدی سے خوشی اور مسرت بھرے لہجے میں بولیں:
”اے بیٹی تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے، اللہ سلامت رکھے، پھلے پھولے، ساتویں جماعت کا بچہ اگر اپنا رونا پیٹنا (ڈائری) لکھ رہا ہے تو یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے اور تم ہو کہ روئے جارہی ہو“۔
اماں بی مستقبل میں اپنے پوتے کو اعلیٰ افسر کے روپ میں دیکھ رہی تھیں۔
”ارے اماں بی.... پہلے پوری بات تو سن لیجئے“۔
امی جان نے ان کی خوشی گویا چھین لی۔
”ہاں ہاں بتاﺅ ڈائری میں کچھ لکھا ہوا تھا، تم بتلارہی تھیں“۔
جی ہاں، میں نے ڈائری پڑھی، اتفاق سے زین اپنے تکیے کے نیچے بھول گیا، اس میں لکھا ہوا تھا....“ اتنا کہہ کر امی جان نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے۔
”اس میں لکھا تھا اماں بی.... کہ میں بڑا بدنصیب بچہ ہوں، میری امی مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتیں، حسیب کیا، حسیب کی امی، نادر کی امی، اختر کی امی.... میرے سارے دوستوں کی امیاں تو ان سے اتنا پیار کرتی ہیں لیکن افسوس کہ میری امی مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتیں، صبح سویرے مجھے اسکول جانے کے لیے اٹھا دیتی ہیں، میرا دل چھٹی کرنے کو چاہے بھی تو زبردستی بھیجتی ہیں۔ ظہر کی نماز سے تو بچ جاتا ہوں لیکن عصر، مغرب اور عشاءکی نمازیں تو مسجد میں مجھے بھیجے بغیر انہیں چین ہی نہیں آتا، میں نیند میں جھوم رہا ہوتا ہوں مگر امی مجھے ہوم ورک کرواتی رہتی ہیں، کہتی ہیں تم ڈبل پروموشن ہو یعنی چھٹی پڑھے بغیر ساتویں میں آگئے ہو اس لیے سخت محنت کرو تاکہ کسی سے پیچھے نہ رہ جاﺅ۔
میرے جوتے اور یونیفارم ذرا سے گندے ہوجائیں تو امی خواہ کتنی ہی تھکی ہوئی کیوں نہ ہوں ان چیزوں کو چمکا کر رکھ دیتی ہیں اور میں جو اسکول شوز پہن کر احمد اور اختر کے ساتھ فٹ بال میچ کھیلنے کا سوچ رہا ہوتا ہوں.... دل مار کر رہ جاتا ہوں، امی میری ایک ایک بات ابو کو بتلاتی ہیں، ابو ان سے بہت خوش ہیں، دادی جان بھی امی کو بہت پسند کرتی ہیں، چاچو تو ہر وقت بھابھی جان سلام.... بھابھی جان سلام.... آتے جاتے ان سے یوں ڈرتے ہیں جیسے وہ میری نہیں، ان کی امی ہیں، آج میں تھک گیا، اب کل امی کی بہت سی باتیں اور لکھوں گا“۔
امی جان نے بہتے ہوئے آنسوﺅں کے درمیان تمام بات اماں بی کو بتلادی۔ ”ہوں“۔
تجربہ کار دادی نے سرہلایا، لمحوں میں ساری بات سمجھ گئیں۔
”اولاد اپنے لیے کی گئی آسانیوں کو سختیاں سمجھتی ہیں بیٹی‘ فرخندہ تم فکر نہ کرو۔ یہ ڈائری اسی طرح زین کے تکیے کے نیچے رکھ آﺅ اور شام کو جب شعیب دفتر سے آئیں تو انہیں لے کر عشاءکے بعد میرے کمرے میں آنا“۔
دادی جان نے گویا حکم دیا، وہ بہت گہری سوچ میں تھیں۔ ”جی بہتر اماں بی“۔
رات کو عشاءکی نماز اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر زین ماں باپ اور دادی کو ”شب بخیر“ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور جاتے ہی ڈائری نکال لی، ابو نے دادی جان کے منہ سے تمام بات سن کر چپکے سے زین کے کمرے میں جھانکا۔ وہ تیزی سے ڈائری لکھے جارہا تھا اور آہستہ آہستہ بڑبڑا بھی رہا تھا، امی بہت گندی ہیں، امی مجھ سے ذرا بھی پیار نہیں کرتیں“۔
شعیب صاحب نے یہ منظر دیکھ کر سر تھام لیا، انہیں اپنے سر میں شدید درد محسوس ہورہا تھا۔
وہ اپنے کمرے کی طرف پلٹے ہی تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی:
”ہیلو“۔
”ہیلو.... کون شعیب میں افتخار بات کررہا ہوں“۔
”اوہ.... کب آئے پاکستان“۔
”آج بلکہ دو گھنٹے پہلے اور سناﺅ گھر میں خیریت ہے“۔
”ہاں آں.... نن.... نہیں.... ہاں ہاں سب خیریت ہے“۔ شعیب صاحب گڑبڑا گئے۔
”بھائی کیا بات ہے؟ بھابھی اور بچہ تو ٹھیک ہیں،جلدی بتلاﺅ -
میں ابھی قبرستان سے اماں ابا کی قبروں پر فاتحہ پڑھ کر آیا ہوں، قبروں کی حالت ذرا ابتر ہورہی تھی، ایک گورکن سے انہیں مرمت کرنے کو کہا ہے، یہاں ہمارے ملک میں قبرستان کی حالت تو انتہائی خراب ہوتی ہے، میں ایک عرصے بعد پاکستان یہ سوچ کر آیا کہ اماں اور ابا کی قبریں جو ٹوٹ پهوٹ کی شکار ہیں،ان کی مرمت کرواں-
لیکن یہاں آکر تو....“ شعیب خاموش رہے۔
”ہیلو.... کیا بات ہے شعیب تم مجھ سے کچھ چھپارہے ہو“۔
افتخار نے پوچھا.... جواب میں شعیب نے زین سے متعلق ساری بات بتلادی۔
دوسری جانب سے افتخار کے ہنسنے کی آواز آئی۔
”کل تم ایک کام کرنا“۔ افتخار نے ہنستے ہوئے کہا۔
”کون سا بھلا؟“ شعیب نے کہا۔
”کل تم اپنے لڑکے کو میرے ساتھ قبرستان جانے دینا میرے والدین کی قبروں پر“۔
”لیکن.... لیکن.... اس کا زین کے مسئلے سے کیا تعلق ہے؟“ شعیب صاحب حیران رہ گئے۔
”تعلق ہے ناں بھائی“۔
”اچھا.... تو پھر میں بھی ساتھ چلا چلوں“۔
”ہاں ہاں کیوں نہیں“۔
قبرستان میں بڑی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
افتخار نے ایک نظر ننھے زین کے چہرے پر ڈالی کہ کہیں وہ قبرستان میں آکر خوف زدہ تو نہیں ہے۔
”زین بیٹا.... آپ کو ڈر تو نہیں لگ رہا“۔
”جی نہیں انکل.... میں ابو کے ساتھ دادا جان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آتا رہتا ہوں اور پھر ہماری اسلامیات کی ٹیچر بتاتی ہیں کہ دنیا کی زندگی تو چند دنوں کی ہے، مرنے کے بعد تو سارے انسان ادھر ہی آئیں گے“
 شعیب اور افتخار اتنے سے بچے کے منہ سے ایسی عقل مندی کی بات سن کر حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔
”زین“۔ افتخار نے اسے پکارا۔
”جی انکل“۔
”زین.... تمہیں پتا ہے یہ قبر میری والدہ کی ہے“۔
”کون سی.... کون سی والی انکل“۔
”یہی جہاں سلیمہ بیگم لکھا ہے، یہ میری امی کا نام تھا“۔ افتخار صاحب نے اسے ایک قبر دکھلاتے ہوئے کہا۔ پھر نجانے ان کے دل میں کیا آئی کہ جیب سے ہزار ہزار کے نوٹوں کی گڈیاں نکالیں اور اپنی امی کی قبر پر رکھ دی۔
”لیجئے امی یہ میری تنخواہ میں سے تھوڑے سے پیسے آپ رکھ لیجئے!“ افتخار صاحب نے کہا۔
ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، زین اور شعیب انکل خاموش کھڑے تھے، تقریباً بیس پچیس ہزار روپے قبروں کی مٹی پر یوں ہی رکھے تھے اور افتخار صاحب برابر کہے جارہے تھے کہ ”لیجئے امی.... یہ پیسے لے لیجئے.... یہ آپ کا حق ہیں“۔
آخر  زین خاموش نہ رہ سکا۔
بولا، لیکن انکل آپ کی امی یہ پیسے کیوں کر لے سکتی ہیں؟ وہ تو.... وہ تو۔ زین کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ کچھ کہے۔
”کیوں بیٹا.... کیوں نہیں لے سکتیں؟ جب انہوں نے مجھے پال پوس کر جوان کیا، میری ہر خوشی اور آرام کا خیال رکھا، اپنے آپ کو تکلیف دی لیکن مجھے ہر لمحہ آرام دیا، بچپن میں مجھے کبھی کبھی یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ میرے لیے سختیاں بو رہی ہیں لیکن ان کی تربیت ہی تو آج میرے کام آرہی ہے، زین بیٹا! میری امی میری اس قدر خیال رکھا کرتیں کہ مجھے یوں لگتا کہ وہ مجھ سے بالکل بھی محبت نہیں کرتیں، نماز، اسکول، ہوم ورک، کھیل کود، غرض ہر موقع پر انہوں نے میری تربیت کی تاکہ عملی زندگی میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پھر.... پھر.... میری امی اپنی محنت کا صلہ کیوں نہیں لیتیں؟ انہوں نے مجھ پر جو اتنی محنت کی اس کا معاوضہ کیوں نہیں لیتیں.... آج میں ہزاروں لاکھوں ان ہی کی محنتوں اور اعلیٰ تربیت کی وجہ سے کما رہا ہوں نا۔ تم بتاﺅ زین میاں! کیا میری خوشیوں میں ان کا حصہ نہیں ہے“۔
افتخار انکل باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔
شعیب صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو تیرنے لگے۔ زین بالکل خاموش کھڑا تھا۔
وہ اتنا چپ تھا کہ شعیب صاحب کا دل چاہ رہا تھا کہ اس فتنے کا گلا دبادیں جس کی سوچیں اس کی عمر سے اتنی بڑی اور اتنی باغی تھیں جو اپنی ہی ماں کو اپنا دشمن سمجھ رہا تھا۔
ذرا دیر بعد زین بڑے شرمندہ لہجے میں بولا:
”نہیں افتخار انکل.... آپ کی امی واقعی آپ سے پیار کرتی ہوں گی، جب ہی تو آپ کا اتنا خیال کرتی تھیں، مجھے دیکھئے.... میری امی تو زندہ ہیں، مجھ سے اتنا پیار کرتی ہیں اور میں اتنا بدنصیب ہوں کہ اس نعمت کو اپنے پاس پاتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرتا“۔بلکہ انہیں برا سمجهتا ہوں-
٭....٭....٭
زین واپس گهر آ کر ماں کے پیٹ سے لگا زار و قطار رو رہا تھا، برابر ایک ہی بات کہے جارہا تھا۔
”مجھے معاف کردیجئے.... ”مجھے معاف کردیجئے.... امی جان میں افتخار انکل کی طرح پچھتانا اور افسوس کرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں جو آپ میری اس قدر خدمت کرتی ہیں“۔
فرخندہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں۔
”بیٹا.... ماں باپ کوئی صلے یا انعام کے لیے اولاد کی خدمت تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ یہ تو فرض ہے، اللہ تمہیں خوش رکھے کہ تمہیں احساس ہوگیا، صبح کو بھولا شامل کو گھر آجائے تو اسے کب کسی نے بھولا ہوا کہا ہے؟“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے کهینچ کر زین کو گلے لگالیا--

ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں
whatsApp:0096176390670
whatsApp: 00923004510041
fatimapk92@gmail.com
http://www.dawatetohid.blogspot.com/
www.facebook.com/fatimaislamiccenter

تفسیر احسن البیان سبق نمبر 7

*بســـــــــــــــمِ ﷲِالرحمٰنِ الرَّحِيم* 
            
         *تفسیر احسن البیان*
*سبق نمبر7*

( *ترجمہ:مولانا محمد جونا گڑھی*'
*تفسیر: مولانا صلاح الدین یوسف* )

*پارہ نمبر 1،سورةالبقرۃ آیات 16 تا24*

             *2:سورةالبقرۃ:آیات286*

��أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَ‌وُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَ‌بِحَت تِّجَارَ‌تُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت (١) نے ان کو فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔
ف۱ تجارت سے مراد ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا ہے۔ جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ منافقین نے نفاق کا جامہ پہن کر ہی گھاٹے والی تجارت کی۔ لیکن یہ گھاٹا آخرت کا گھاٹا ہے ضروری نہیں کہ دنیا ہی میں اس گھاٹے کا انہیں علم ہو جائے۔ بلکہ دنیا میں تو اس نفاق کے ذریعے سے انہیں جو فوری فائدے حاصل ہوتے تھے، اس پر وہ بڑے خوش ہوتے اور اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو بہت دانا اور مسلمانوں کو عقل فہم سے عاری سمجھتے تھے۔

 〰➖〰➖〰➖〰➖〰

��مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارً‌ا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِ‌هِمْ وَتَرَ‌كَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُ‌ونَ ﴿١٧﴾
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے۔ (١)
ف۱ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو کچھ لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر جلدی منافق ہوگئے۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول روشن ہو گیا اور مفید اور نقصان دہ چیزیں اس پر واضح ہوگئیں دفعتا وہ روشنی بجھ گئی اور حسب سابق تاریکیوں میں گِھر گئے۔ یہ حال منافقین کا تھا پہلے وہ شرک کی تاریکی میں تھے مسلمان ہوئے تو روشنی میں آ گئے۔ حلال و حرام کو پہچان گئے پھر وہ دوبارہ کفر و نفاق کی طرف لوٹ گئے تو ساری روشنی جاتی رہی (فتح القدیر)

 〰➖〰➖〰➖〰➖〰

��صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْ‌جِعُونَ ﴿١٨﴾
بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وہ نہیں جانتے
أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَ‌عْدٌ وَبَرْ‌قٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ‌ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّـهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِ‌ينَ ﴿١٩﴾
یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالٰی کافروں کو گھیرنے والا ہے۔
يَكَادُ الْبَرْ‌قُ يَخْطَفُ أَبْصَارَ‌هُمْ ۖ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِ‌هِمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٢٠﴾
قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں (١) اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی چاہے تو ان کے کان اور آنکھوں کو بیکار کر دے (۲) یقیناً اللہ تعالٰی ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
ف۱ یہ منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے۔ جس پر کبھی حق واضح ہوتا ہے اور کبھی اس کی بابت وہ شبہ و شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پس ان کے دل میں شک و شبہ اس بارش کی طرح ہے جو اندھیروں شکوک کفر اور نفاق میں اترتی ہے گرج چمک سے ان کے دل ڈر ڈر جاتے ہیں حتٰی کے خوف کے مارے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ لیکن یہ تدبیریں اور یہ خوف و دہشت انہیں اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا کیونکہ وہ اللہ کے گھیرے سے نہیں نکل سکتے۔ کبھی حق کی کرنیں ان پر پڑتی ہیں تو حق کی طرف جھک پڑتے ہیں لیکن پھر جب اسلام یا مسلمان پر مشکلات کا دور آتا ہے تو پھر حیران و سرگردان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) منافقین کا یہ گروہ آخر وقت تک تذبذب اور گومگو کا شکار اور قبول حق (اسلام) سے محروم رہتا ہے۔
ف۲ اس میں اس امر کی تنبیہ ہے کہ اگر اللہ تعالٰی چاہے تو وہ اپنی دی ہوئی صلاحیتوں کو سلب کرلے۔ اس لیے انسانوں کو اللہ تعالٰی کی اطاعت سے گریزاں اور اس کے عذاب اور مواخذے سے کبھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔

〰➖〰➖〰➖〰➖〰

��يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَ‌بَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾
اے لوگوں اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔

〰➖〰➖〰➖〰➖〰

��الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ فِرَ‌اشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَ‌اتِ رِ‌زْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٢٢﴾
جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو (١)۔
ف۱ ہدایت اور ضلالت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی دعوت تمام انسانوں کو دی جا رہی ہے۔ فرمایا جب تمہارا اور کائنات کا خالق اللہ ہے تمہاری تمام ضروریات کا مہیا کرنے والا وہی ہے پھر تم اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ دوسروں کو اس کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو اگر تم عذاب خداوندی سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اللہ کو ایک مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو جانتے بوجھتے شرک کا ارتکاب مت کرو ۔

〰➖〰➖〰➖〰➖〰
 
��وَإِن كُنتُمْ فِي رَ‌يْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾
ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔ (١)
ف ١ توحید کے بعد اب رسالت کا اثبات فرمایا جا رہا ہے ہم نے بندے پر کتاب نازل فرمائی ہے اس کے منزل من اللہ ہونے میں اگر تمہیں شک ہے تو اپنے تمام حمایتیوں کو ساتھ ملا کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر دکھا دو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سمجھ لینا چاہیے کہ واقع یہ کلام کسی انسان کی کاوش نہیں ہے کلام الہی ہی ہے اور ہم پر اور رسالت مآب پر ایمان لا کر جہنم کی آگ سے بچنے کی سعی کرنی چاہیے جو کافروں کے لئے ہی تیار کی گئی ہے۔

 〰➖〰➖〰➖〰➖〰

��فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ‌ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِ‌ينَ ﴿٢٤﴾
پس اگر تم نے نہ کیا۔ اور تم ہرگز نہیں کر سکتے (٢) تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں (۲) جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (۳)
ف۱ یہ قراَن کریم کی صداقت کی ایک اور واضح دلیل ہے کہ عرب و عجم کے تمام کافروں کو چیلنج دیا گیا لیکن وہ آج تک اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں اور یقینا قیامت تک قاصر رہیں گے۔
ف۲ پتھر سے مراد بقول ابن عباس گندگی کے پتھروں اور بعض حضرات کے نزدیک پتھر کے وہ اصنام (بت) بھی جہنم کا ایندھن ہوں گے جن کی لوگ دنیا میں پرستش کرتے رہے ہوں گے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ہے۔ (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ) 21۔ الانبیاء:98) تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہونگے۔
ف۳ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ جہنم اصل میں کافروں اور مشرکوں کے لیے تیار کی گئ ہے اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جنت اور دوزخ کا وجود ہے جو اس وقت بھی ثابت ہے یہی سلف امت کا عقیدہ ہے۔ یہ تمثیلی چیزیں نہیں ہیں جیسا کہ بعض متجدد دین اور منکرین حدیث باور کراتے ہیں۔

〰➖〰➖〰➖〰➖〰
تمام اقساط پڑهنے کے لیے بلاگ وزٹ کریں
www.dawatetohid.blogspot.com

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ

خانہ کعبہ/ بیت اللہ کا محاصرہ /حملہ (تالیف عمران شہزاد تارڑ) 1979 کو تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن سعودی عرب می...